Fatwa #2242
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۵۹۔فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَہُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,609
سوال (Question):
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۵۹۔فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَہُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
امیرالمجاہدین کی نرم مزاجی عنداللہ محبوب ہے
{فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَہُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمْ وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ }(۱۵۹) ترجمہ کنزالایمان:تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لئے نرم دل ہوئے اور اگر تم مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ اور ان کی شفاعت کرو اور کاموں میں ان سے مشورہ لو اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو بے شک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان:تو اے حبیب کریم ﷺ! اللہ تعالی کی کتنی بڑی مہربانی ہے کہ آپﷺ اپنے صحابہ کرام لئے نرم دل ہیں اور اگر آپ ﷺتُرش مزاج ، سخت دل ہوتے تو یہ لوگ ضرورآپ ﷺکی بارگاہ سے بھاگ جاتے توآپ ﷺان کو معاف فرماتے رہیںاوران کے لئے مغفرت کی دعا کرتے رہیں اور کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہیں پھرجب آپ ﷺکسی بات کا پختہ ارادہ کرلیں تواللہ تعالی پر بھروسہ کرو بیشک اللہ تعالی توکل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے ۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوت ْﷺکی مدح فرمائی
وَاعْلَمْ أَنَّ الْقَوْمَ لَمَّا انْہَزَمُوا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ عَادُوا لَمْ یُخَاطِبْہُمُ الرَّسُولُ صَلَّی اللہ علیہ وسلم بالتغلیط وَالتَّشْدِیدِ،وَإِنَّمَا خَاطَبَہُمْ بِالْکَلَامِ اللَّیِّنِ،ثُمَّ إِنَّہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی لَمَّا أَرْشَدَہُمْ فِی الْآیَاتِ الْمُتَقَدِّمَۃِ إِلَی مَا یَنْفَعُہُمْ فِی مَعَاشِہِمْ وَمَعَادِہِمْ، وَکَانَ مِنْ جُمْلَۃِ ذَلِکَ أَنْ عَفَا عَنْہُمْ، زَادَفِی الْفَضْلِ وَالَإِحْسَانِ بِأَنْ مَدَحَ الرَّسُولَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی عَفْوِہِ عَنْہُمْ، وَتَرْکِہِ التَّغْلِیظَ عَلَیْہِمْ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب لوگ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی بارگاہ سے احد شریف کے دن دورچلے گئے اورپھرلوٹ کرآئے توآپ ﷺنے ان سے سخت وشدیدخطاب نہیں فرمایابلکہ ان سے نرم گفتگوفرمائی ۔ اللہ تعالی نے سابقہ آیات کریمہ میں ان چیزوں کی طرف راہنمائی فرمائی جوانہیں دنیاوآخرت میں نفع دیں ، ان میں سے یہ بھی تھاکہ اللہ تعالی نے ان کو معاف فرمادیاتواپنے فضل واحسان میں اضافہ فرماتے ہوئے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو معاف کرنے اوران پر سختی نہ کرنے پرمدح فرمائی ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۹:۴۰۵)حضورتاجدارختم نبوت ﷺکاغزوہ احد میں جلال کااظہارنہ فرمانا
فَقَوْلُہُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ:مَنْ عَرَفَ سِرَّ اللَّہِ فِی الْقَدَرِ ہَانَتْ عَلَیْہِ الْمَصَائِبُ فَإِنَّہُ یَعْلَمُ أَنَّ الْحَوَادِثَ الْأَرْضِیَّۃَ مُسْتَنِدَۃٌ إِلَی الْأَسْبَابِ الْإِلَہِیَّۃِ، فَیَعْلَمُ أَنَّ الْحَذَرَ لَا یَدْفَعُ الْقَدَرَ،فَلَا جَرَمَ إِذَا فَاتَہُ مَطْلُوبٌ لَمْ یَغْضَبْ،وَإِذَا حَصَلَ لَہُ مَحْبُوبٌ لَمْ یَأْنَسْ بِہِ، لِأَنَّہُ مُطَّلِعٌ عَلَی الرُّوحَانِیَّاتِ الَّتِی ہِیَ أَشْرَفُ مِنْ ہَذِہِ الْجُسْمَانِیَّاتِ، فَلَا یُنَازِعُ أَحَدًا مِنْ ہَذَا الْعَالَمِ فِی طَلَبِ شَیْء ٍ مِنْ لَذَّاتِہَا وَطَیِّبَاتِہَا، وَلَا یَغْضَبُ عَلَی أَحَدٍ بِسَبَبِ فَوْتِ شَیْء ٍ مِنْ مَطَالِبِہَا، وَمَتَی کَانَ الْإِنْسَانُ کَذَلِکَ کَانَ حَسَنَ الْخُلُقِ، طَیِّبَ الْعِشْرَۃِ مَعَ الْخَلْقِ، وَلَمَّا کَانَ صَلَوَاتُ اللَّہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ أَکْمَلَ الْبَشَرِ فِی ہَذِہِ الصِّفَاتِ الْمُوجِبَۃِ لِحُسْنِ الْخُلُقِ، لَا جَرَمَ کَانَ أَکْمَلَ الْخَلْقِ فِی حُسْنِ الْخُلُقِ. ترجمہ :حضورتاجدارختم نبوت ﷺکافرمان عالی شان ہے کہ جو شخص تقدیرمیں اللہ تعالی کے راز سے آگاہ ہوگیااس پر مصائب آسان ہوجاتے ہیں ۔ کیونکہ وہ جان لیتاہے کہ زمینی حوادثات اسباب الہی کی طرف سے ہیں ، تویہ جان چکاکہ اس کی تدبیرتقدیرکو دورنہیں کرسکتی تووہ لازماًمطلوب کے فوت ہونے پر غمناک نہیں ہوگا۔ اگراسے مقصود اورمحبوب حاصل ہوجائے تواس سے مانوس ہوگاکیونکہ وہ ان روحانیات سے مطلع ہے جوان جسمانیات سے اعلی ہیں تووہ اس کائنات کی لذتوں اورطیبات کی طلب میں کوئی تنازع نہیں کرتا، اوراس کے مطالب فوت کرنے پر کسی سے ناراض نہیں ہوتا، جب انسان اس شان پر چلاجائے تووہ اب حسن خلق اورمخلوق کے ساتھ اعلی معاشرت والاہوگا۔ جب آپ ﷺحسن خلق کے ان صفات موجبہ میں سب سے کامل انسان ہیں تو لازماً آپ ﷺحسن خلق میں سب سے زیادہ کامل ہوں گے۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۹:۴۰۵)اگرحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے مزاج مبارک میں نرمی نہ ہوتی ۔۔۔
إِنَّ الْمَقْصُودَ مِنَ الْبِعْثَۃِ أَنْ یُبَلِّغَ الرَّسُولُ تَکَالِیفَ اللَّہِ إِلَی الْخَلْقِ، وَہَذَا الْمَقْصُودُ لَا یَتِمُّ إِلَّا إِذَا مَالَتْ قُلُوبُہُمْ إِلَیْہِ وَسَکَنَتْ نُفُوسُہُمْ لَدَیْہِ، وَہَذَا الْمَقْصُودُ لَا یَتِمُّ إِلَّا إِذَا کَانَ رَحِیمًا کَرِیمًا، یَتَجَاوَزُ عَنْ ذَنْبِہِمْ، وَیَعْفُو عَنْ إِسَاء َتِہِمْ، وَیَخُصُّہُمْ بِوُجُوہِ الْبِرِّ وَالْمَکْرُمَۃِ وَالشَّفَقَۃِ، فَلِہَذِہِ الْأَسْبَابِ وَجَبَ أَنْ یَکُونَ الرَّسُولُ مُبَرَّأً عَنْ سُوء ِ الْخُلُقِ،وَکَمَا یَکُونُ کَذَلِکَ وَجَبَ أَنْ یَکُونَ غَیْرَ غَلِیظِ الْقَلْبِ،بَلْ یَکُونُ کَثِیرَ الْمَیْلِ إِلَی إِعَانَۃِ الضُّعَفَاء ِ، کَثِیرَ الْقِیَامِ بِإِعَانَۃِ الْفُقَرَاء ِ،کَثِیرَ التَّجَاوُزِ عَنْ سَیِّئَاتِہِمْ، کَثِیرَ الصَّفْحِ عَنْ زَلَّاتِہِمْ، فَلِہَذَا الْمَعْنَی قَالَ: وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِکَ وَلَوِ انْفَضُّوا مِنْ حَوْلِکَ فَاتَ الْمَقْصُودُ مِنَ الْبَعْثَۃِ ۔ ترجمہ :حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی بعثت سے مقصود یہ ہے کہ آپ ﷺمخلوق تک اللہ تعالی کے احکامات اورذمہ داریاں پہنچائیں اوریہ مقصود تبھی مکمل ہوسکتاہے جب لوگوں کے دل آپ ﷺکی طرف مائل ہوں اوران کے نفوس اس سے سکون پائیں اوریہ مقصود تب تام ہوگاجب حضورتاجدارختم نبوت ﷺکریم ہوں ، ان کے گناہوں سے درگزرکریں ، ان کی غلطیوں کو معاف کریں اورانہیں شفقت اورمہربانی اورعزت سے نوازیں، ان اسباب کی وجہ سے لازم ہے کہ آپ ﷺکامزاج نرم ہواورکمزوروں کی مددکاخوب خیال رکھیں ، محتاجوں کی مددکے ذریعے ان کی غلطیوں سے کثرت کے ساتھ درگزرکریں اوران کی لغزشوں سے کثرت کے ساتھ چشم پوشی کریں۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۹:۴۰۵)جب حقوق اللہ کی بات ہوتونرمی جائز نہیں
اللِّینُ وَالرِّفْقُ إِنَّمَا یَجُوزُ إِذَا لَمْ یُفْضِ إِلَی إِہْمَالِ حَقٍّ مِنْ حُقُوقِ اللَّہِ، فَأَمَّا إِذَا أَدَّی إِلَی ذَلِکَ لَمْ یَجُزْ، قَالَ تعالی:یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ جاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنافِقِینَ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ (التَّوْبَۃِ: ۷۳)وَقَالَ لِلْمُؤْمِنِینَ فِی إِقَامَۃِ حَدِّ الزِّنَا: وَلا تَأْخُذْکُمْ بِہِما رَأْفَۃٌ فِی دِینِ اللَّہِ (النُّورِ:۲) وَہَاہُنَا دَقِیقَۃٌ أُخْرَی:وَہِیَ أَنَّہُ تَعَالَی مَنْعَہُ مِنَ الْغِلْظَۃِ فِی ہَذِہِ الْآیَۃِ، وَأَمَرَہُ بِالْغِلْظَۃِ فی قولہ: وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ فہہنا نَہَاہُ عَنِ الْغِلْظَۃِ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ، وَہُنَاکَ أَمَرَہُ بِالْغِلْظَۃِ مَعَ الْکَافِرِینَ،فَہُوَ کَقَوْلِہِ:أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکافِرِینَ(الْمَائِدَۃِ:۵۴)وَقَوْلِہِ:أَشِدَّاء ُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَماء ُ بَیْنَہُمْ (الْفَتْحِ:۲۹)وَتَحْقِیقُ الْقَوْلِ فِیہِ أَنَّ طَرَفَیِ الْإِفْرَاطِ وَالتَّفْرِیطِ مَذْمُومَانِ، وَالْفَضِیلَۃُ فِی الْوَسَطِ،فَوُرُودُ الْأَمْرِ بِالتَّغْلِیظِ تَارَۃً، وَأُخْرَی بِالنَّہْیِ عَنْہُ، إِنَّمَا کَانَ لِأَجْلِ أَنْ یَتَبَاعَدَ عَنِ الْإِفْرَاطِ وَالتَّفْرِیطِ، فَیَبْقَی عَلَی الْوَسَطِ الَّذِی ہُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِیمُ، فَلِہَذَا السِّرِّ مَدَحَ اللَّہُ الْوَسَطَ فَقَالَ:وَکَذلِکَ جَعَلْناکُمْ أُمَّۃً وَسَطاً (الْبَقَرَۃِ:۱۴۳) . ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ نرمی اورشفقت وہاں جائز ہے جب اللہ تعالی کے کسی حق کو چھوڑنے کاسبب نہ ہواگراس سے اللہ تعالی کاحق ضائع ہوتاہے تونرمی جائز نہیں ہے ۔ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے کہ {یا أَیُّہَا النَّبِیُّ جاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنافِقِینَ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ }ترجمہ : اے حبیب کریم ﷺ! کافروں اورمنافقوں پرجہاد فرمائواوران پر غضب و سختی کرو۔اہل ایمان پر حد زناپرحدزناکاحکم دیتے ہوئے فرمایا: {وَلا تَأْخُذْکُمْ بِہِما رَأْفَۃٌ فِی دِینِ اللَّہ}اورتمھیں اللہ تعالی کے دین کے معاملے میں ان پر ترس نہ آئے ،اگرتم ایمان لاتے ہواللہ تعالی پر اورقیامت کے دن پر ۔۔ یہاں ایک اوردقیقہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں سختی سے منع فرمایاہے اور{وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ }میں سختی کرنے کاحکم دیاتویہاں اہل ایمان سے سختی کرنے سے منع فرمایااوروہاں کافروں کے ساتھ سختی کرنے کاحکم دیاجیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا: {أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکافِرِینَ }ترجمہ : مسلمانوں پر نرم اورکافروں پرسخت ۔ اورفرمایاکہ {أَشِدَّاء ُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَماء ُ بَیْنَہُم}ترجمہ : اوران کے ساتھ والے کافروں پرسخت ہیں اورآپس میں نرم دل ہیں ۔ توانہیں دیکھیں گے رکوع کرتے ہوئے اورسجدہ کرتے ہوئے ۔ تحقیقی بات یہ ہے کہ افراط وتفریط دونوں اطراف مذموم ہیں اوروسط میں فضیلت ہے ۔ کسی جگہ سختی کرنے کاحکم اوردوسرے مقام پر اس سے منع فرمانااسی لئے ہے اوریہی صراط مستقیم ہے اوراسی وجہ سے اللہ تعالی نے اعتدال کی تعریف فرمائی ہے۔{وَکَذلِکَ جَعَلْناکُمْ أُمَّۃً وَسَطاً} (الْبَقَرَۃِ:۱۴۳}ترجمہ : اوریونہی ہے کہ ہم نے تم کو سب امتوں میں افضل بنایا۔ ( التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۹:۴۰۵)درجہ بدرجہ عظمت وشان کابڑھنا
قَالَ الْعُلَمَاء ُ:أَمَرَ اللَّہُ تَعَالَی نَبِیَّہُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِہَذِہِ الْأَوَامِرِ الَّتِی ہِیَ بِتَدْرِیجٍ بَلِیغٍ،وَذَلِکَ أَنَّہُ أَمَرَہُ بِأَنْ یَعْفُوَ عَنْہُمْ مَا لَہُ فِی خَاصَّتِہِ عَلَیْہِمْ مِنْ تَبِعَۃٍ،فَلَمَّا صَارُوا فِی ہَذِہِ الدَّرَجَۃِ أَمَرَہُ أَنْ یَسْتَغْفِرَ فِیمَا لِلَّہِ عَلَیْہِمْ مِنْ تَبِعَۃٍ أَیْضًا، فَإِذَا صَارُوا فِی ہَذِہِ الدَّرَجَۃِ صَارُوا أَہْلًا لِلِاسْتِشَارَۃِ فِی الْأُمُورِ۔ ترجمہ :علماء کرام رحمہم اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو ان کاموں کاحکم فرمایاجوانتہائی تدریج کے ساتھ اورآہستہ آہستہ ہیں ، وہ اس طرح کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺکو حکم دیاکہ آپ ﷺان کو معاف فرمادیں جوخاص کرآپ ﷺکے متبعین کی طرف سے آپ ﷺکواذیت پہنچی ہے ، پس جب وہ اس درجہ تک پہنچ گئے تواللہ تعالی نے آپ ﷺکوحکم دیاکہ آپ ﷺاللہ تعالی سے اس بارے میں مغفرت طلب کریں جومتبعین سے صادرہوا، اورجب وہ اس درجہ تک پہنچ گئے تواس کے اہل ہوگئے امورمیں ان سے مشورہ لیاجائے۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۴:۲۴۸) امیر کاحلم وحوصلے والا ہونالازمی ہےسربراہ حلم والاہوناچاہئے
وَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ:لَا حِلْمَ أَحَبُّ إِلَی اللَّہِ تَعَالَی مِنْ حِلْمِ إِمَامٍ وَرِفْقِہِ وَلَا جَہْلَ أَبْغَضُ إِلَی اللَّہِ مِنْ جَہْلِ إِمَامٍ وَخَرَقِہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناسلمہ بن شہاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: اللہ تعالی کو کسی سربراہ کے حلم ونرمی سے بڑھ کرکوئی چیز محبوب نہیں ہے اوراللہ تعالی کو سربراہ کی جہالت اورسختی سے بڑھ کر کوئی چیز ناپسندنہیں ہے ۔ (کنز العمال:علاء الدین علی بن حسام الدین ابن قاضی خان القادری(۵:۷۷۰)حسن خلق فرائض کی طرح لازم اورضروری ہے
عَنْ عَائِشَۃَرَضِیَ اللَّہُ عَنْہَاقَالَتْ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إن اللہ أمرنی بمداراۃ الناس کما أمرنی بإقامۃ الفرائض . ترجمہ :حضرت سیدتناعائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: اللہ تعالی نے مجھے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کاحکم اسی طرح ارشادفرمایاجس طرح اس نے مجھے فرائض کی ادائیگی کاحکم دیا۔ (کنز العمال :علاء الدین علی بن حسام الدین ابن قاضی خان القادری الشاذلی(۳:۴۰۷)حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی عظمت وشان
وَعَنْ کَعْبِ الْأَحْبَارِ أَنَّہُ قَالَ:یَقُولُ اللَّہُ تَعَالَی لِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَبْدِیَ الْمُتَوَکِّلُ الْمُخْتَارُ لَیْسَ بِفَظٍّ وَلا غَلِیظٍ وَلا صَخَّابٍ فِی الأَسْوَاقِ،وَلا یَجْزِی بِالسَّیْئَۃِ السَّیْئَۃَ، وَلَکِنْ یَعْفُو وَیَغْفِرُ، مَوْلِدُہُ بِمَکَّۃَ، وَہِجْرَتُہُ بِطَابَۃَ، وَمُلْکُہُ بِالشَّامِ، وَأُمَّتُہُ الْحَمَّادُونَ یَحْمَدُونَ اللَّہَ عَلَی کُلِّ حَالٍ۔ ترجمہ :حضرت سیدناکعب الاحباررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے بارے میںفرمایاکہ وہ میرے بندے اورمجھ پربھروسہ کرنے والے اورمیرے پسندیدہ ہیںوہ سخت مزاج نہیں ہیں اور نہ ہی ترش روہیں اورنہ ہی بازاروں میں شورکرنے والے ہیں اورنہ ہی برائی کابدلہ برائی سے دینے والے ہیں ۔ ہاں معاف کرنے والے ہیں اوربخش دینے والے ہیں ، ان کی میلاد گاہ مکہ مکرمہ ہوگی اورہجرت ان کی مدینہ منورہ کی طرف ہوگی اوران کی حکومت شام میں ہوگی اوران کی امت ہرحال میں اللہ تعالی کی حمدکرنے والی ہوگی۔ تفسیر القرآن العظیم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس بن المنذر التمیمی، الحنظلی، الرازی ابن أبی حاتم (۱۰:۳۳۵۴)حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی امت پرکرم نوازی کاایک عظیم پہلو
وَرُوِیَ عَنْ بَعْضِ الصَّحَابَۃِ أَنَّہُ قَالَ:لَقَدْ أَحْسَنَ اللَّہُ إِلَیْنَا کُلَّ الْإِحْسَانِ،کُنَّا مُشْرِکِینَ، فَلَوْ جَاء َنَا رَسُولُ اللَّہِ بِہَذَا الدِّینِ جُمْلَۃً،وَبِالْقُرْآنِ دُفْعَۃً لَثَقُلَتْ ہَذِہِ التَّکَالِیفُ عَلَیْنَا،فَمَا کُنَّا نَدْخُلُ فِی الْإِسْلَامِ، وَلَکِنَّہُ دَعَانَا إِلَی کَلِمَۃٍ وَاحِدَۃٍ،فَلَمَّا قَبِلْنَاہَا وَعَرَفْنَا حَلَاوَۃَ الْإِیمَانِ،قَبِلْنَا مَا وَرَاء َہَا کَلِمَۃً بَعْدَ کَلِمَۃٍ عَلَی سَبِیلِ الرِّفْقِ إِلَی أَنْ تَمَّ الدِّینُ وَکَمُلَتِ الشَّرِیعَۃُ. ترجمہ :حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ہم پراحسان کامل فرمایاکہ ہم مشرک تھے ، اگرحضورتاجدارختم نبوت ﷺیہ دین تمام کاتمام اورقرآن کریم یکبارگی ہی لے آتے توہم پر تکلیف دہ اوربوجھل ہو جاتا اوراسلام میں داخل نہ ہوتے توآپ ﷺنے ہم کو ایک کلمہ کی دعوت دی ، ہم نے اسے قبول کیااورایمان کی حلاوت پائی توہم نے اس کے بعد ایک کلمہ کے بعد دوسرے کلمہ کو بطریق رفق اورنرمی سے قبول کیایہاں تک کہ دین تام اورشریعت مبارکہ مکمل ہوگئی ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۹:۴۰۵)کمال شفقت
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِنَّمَا أَنَا لَکُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ، فَإِذَا ذَہَبَ أَحَدُکُمْ إِلَی الْغَائِطِ فَلَا یَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ وَلَا یَسْتَدْبِرْہَا بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ، وَلْیَسْتَنْجِ بِثَلَاثَۃِ أَحْجَارٍ وَنَہَی عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّۃِ، وَأَنْ یَسْتَنْجِیَ الرَّجُلُ بِیَمِینِہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: میں تمھارے لئے والد کی مثل ہوں ، جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء جائے وہ قبلہ کی طرف منہ نہ کرے اورنہ ہی اس کی طرف پیٹھ کرے اورچاہئے کہ تین پتھروں کے ساتھ استنجاء کرے اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے لیداورہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایااوردائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع فرماہے ۔ (المسند:الشافعی أبو عبد اللہ محمد بن إدریس بن العباس بن عثمان بن شافع:۱۳)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9