صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2219 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۵ تا ۲۲ ۔

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,118

سوال (Question):

تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۵ تا ۲۲ ۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۵ تا ۲۲ ۔

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْؕ-لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ(15)
ترجمہ: کنزالعرفان
(اے حبیب!) تم فرماؤ، کیا میں تمہیں ان چیزوں سے بہتر چیز بتادوں ؟ (سنو، وہ یہ ہے کہ) پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور (ان کیلئے) پاکیزہ بیویاں اور اللہ کی خوشنودی ہے اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔
اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ(16)
ترجمہ: کنزالعرفان
وہ جو کہتے ہیں :ا ے ہمارے رب! ہم ایمان لائے ہیں ،تو تو ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔
اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(17)
ترجمہ: کنزالعرفان
صبر کرنے والے اور سچے اور فرمانبردار اور راہِ خدا میں خرچ کرنے والے اور رات کے آخری حصے میں مغفرت مانگنے والے(ہیں )۔
شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىٕمًۢا بِالْقِسْطِؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُﭤ(18)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور عالموں نے انصاف سے قائم ہوکر اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا۔
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ۫-وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ(19)
ترجمہ: کنزالعرفان
بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اورجنہیں کتاب دی گئی انہوں نے آپس میں اختلاف نہ کیا مگر اپنے پاس علم آجانے کے بعد،اپنے باہمی حسد کی وجہ سے۔ اور جواللہ کی آیتوں کاانکار کرے تو بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِؕ-وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْؕ-فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْاۚ-وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُؕ-وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ(20)
ترجمہ: کنزالعرفان
پھر اے حبیب!اگر وہ تم سے جھگڑا کریں تو تم فرمادو :میں تواپنا منہ اللہ کی بارگاہ میں جھکائے ہوئے ہوں اور میری پیروی کرنے والے بھی۔ اور اے حبیب ! اہلِ کتاب اور اَن پڑھوں سے فرمادو کہ کیا تم (بھی) اسلام قبول کرتے ہو؟ پھر اگر وہ اسلام قبول کرلیں جب تو انہوں نے بھی سیدھا راستہ پالیا اور اگر یہ منہ پھیریں تو تمہارے اوپر تو صرف حکم پہنچا دینا لازم ہے اور اللہ بندوں کودیکھ رہا ہے۔
انبیاء کرام علیہم السلام کے گستاخوں کے نیک اعمال عنداللہ قبول نہیں ہیں
{اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّیَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ}(۲۱){اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمٰلُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ}(۲۲)
ترجمہ کنزالایمان:وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو دردناک عذاب کی ۔یہ ہیں وہ جن کے اعمال اکارت گئے دنیا و آخرت میں اور اُن کا کوئی مددگار نہیں ۔ ترجمہ ضیاء الایمان: وہ لوگ جو اللہ تعالی کی آیات کریمہ کے منکرہیں اورانبیاء کرام علیہم السلام کو ناحق شہید کرتے ہیں اورانصاف کاحکم کرنے والوں کو بھی قتل کردیتے ہیں اوراے حبیب کریم ﷺ! ان کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنادیں۔ اوریہی ہیں وہ لوگ جن کے اعمال بربادہوگئے اوردنیاوآخرت میں ان کاکوئی مددگارنہیں ہے۔

انبیاء کرام علیہم السلام اوران کی عزت کادفاع کرنے والوں کو شہیدکردیاگیا

وَعَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجِرَاحِ قَالَ:قُلْتُ:یَا رَسُولَ اللَّہِ، أَیُّ الشُّہَدَاء ِ أَکْرَمُ عَلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ؟قَالَ:رَجُلٌ قَامَ إِلَی إِمَامٍ جَائِرٍ فَأَمَرَہُ بِمَعْرُوفٍ وَنَہَاہُ عَنْ مُنْکَرٍ فَقَتَلَہُ قِیلَ:فَأَیُّ النَّاسِ أَشَدُّ عَذَابًا؟قَالَ:رَجُلٌ قَتَلَ نَبِیًّا أَوْ قَتَلَ رَجُلًا أَمَرَہُ بِمَعْرُوفٍ وَنَہَاہُ عَنِ الْمُنْکَرِ ثُمَّ قَرَأ(وَیَقْتُلُونَ النَّبِیِّینَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَیَقْتُلُونَ الَّذِینَ یَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ أَلِیمٍ)(آل عمران:۲۱)ثُمَّ قَالَ:یَا أَبَا عُبَیْدَۃَ،قَتَلَتْ بَنُو إِسْرَائِیلَ ثَلَاثَۃً وَأَرْبَعِینَ نَبِیًّا فِی سَاعَۃٍ وَاحِدَۃٍ، فَقَامَ مِائَۃُ رَجُلٍ وَاثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْ عُبَّادِ بَنِی إِسْرَائِیلَ فَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ فَقُتِلُوا جَمِیعًا ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ عرض کرتے ہیں کہ یارسول اللہ ﷺ! قیامت کب آئے گی؟اورسب سے زیادہ عذاب کسے ہوگا؟ توحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: جس نے کسی نبی کو شہیدکیایاکسی ایسے شخص کوشہیدکیاجونیکی کاحکم کرتاہے یابرائی سے منع کرتاہے ، پھرحضورتاجدارختم نبوت ﷺاس آیت کریمہ کی تلاوت کی اورفرمایا: اے ابوعبیدہ ! بنی اسرائیل نے صبح کے وقت تینتالیس نبی شہید کئے توبنی اسرائیل سے ایک سوبارہ آدمی کھڑے ہوئے ان انبیاء کرام علیہم السلام کے گستاخوں اورقاتلوں کو اس پرملامت کی اوران کو برائی سے منع کیاتودن کے آخری حصے میں ان تمام لوگوں کوشہیدکردیاگیا۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:أبو الحسن نور الدین علی بن أبی بکر بن سلیمان الہیثمی (۷:۲۷۲)
ایک سوال اوراس کاجواب السُّؤَالُ الْأَوَّلُ: إِذَا کَانَ قَوْلُہُ إِنَّ الَّذِینَ یَکْفُرُونَ بِآیاتِ اللَّہِ فِی حُکْمِ الْمُسْتَقْبَلِ، لِأَنَّہُ وَعِیدٌ لِمَنْ کَانَ فِی زَمَنِ الرَّسُولِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ وَلَمْ یَقَعْ مِنْہُمْ قَتْلُ الْأَنْبِیَاء وَلَا الْقَائِمِینَ بِالْقِسْطِ فکیف یصح ذلک؟. والجواب مِنْ وَجْہَیْنِ الْأَوَّلُ:أَنَّ ہَذِہِ الطَّرِیقَۃَ لَمَّا کَانَتْ طَرِیقَۃَ أَسْلَافِہِمْ صَحَّتْ ہَذِہِ الْإِضَافَۃُ إِلَیْہِمْ، إِذْ کَانُوا مُصَوِّبِینَ وَبِطَرِیقَتِہِمْ رَاضِینَ،فَإِنَّ صُنْعَ الْأَبِ قَدْ یُضَافُ إِلَی الِابْنِ إِذَا کَانَ رَاضِیًا بِہِ وَجَارِیًا عَلَی طَرِیقَتِہِ الثَّانِی:أَنَّ الْقَوْمَ کَانُوا یُرِیدُونَ قَتْلَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وقتل المؤمنین إِلَّا أَنَّہُ تَعَالَی عَصَمَہُ مِنْہُمْ، فَلَمَّا کَانُوا فی غایۃالرَّغْبَۃِ فِی ذَلِکَ صَحَّ إِطْلَاقُ ہَذَا الِاسْمِ عَلَیْہِمْ عَلَی سَبِیلِ الْمَجَازِ، کَمَا یُقَالُ:النَّارُ مُحْرِقَۃٌ،وَالسُّمُّ قَاتِلٌ،أَیْ ذَلِکَ مِنْ شَأْنِہِمَا إِذَا وُجِدَ الْقَابِلُ،فَکَذَا ہَاہُنَا لَا یَصِحُّ أَنْ یَکُونَ إِلَّا کَذَلِکَ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ { إِنَّ الَّذِینَ یَکْفُرُونَ بِآیاتِ اللَّہ}مستقبل کے حکم میں ہے کیونکہ یہ ان لوگوں پروعیدہے جو حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی ظاہری حیات مبارکہ میں تھے ، ان سے نہ توانبیاء کرام علیہم السلام کاقتل واقع ہوااورنہ کسی امرباالمعروف کرنے والوں کاقتل واقع ہواتویہ کہناکیسے درست ہے؟ الجواب اس کاجواب دوطرح سے ہے (پہلاجواب ) چونکہ یہ طریقہ ان کے اسلاف کاطریقہ تھالھذاان کی طرف ان کی نسبت کردی کیونکہ یہ ان کو درست جانتے تھے اوران کے طریقے پرخوش تھے ۔ اسی لئے باپ کے عمل کو بعض اوقات بیٹے کی طرف منسوب کردیاجاتاہے،جب وہ اس عمل پر راضی ہواوراس کے طریقے پر چل رہاہو۔(دوسراجواب )یہ لوگ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے قتل اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے قتل کاارادہ رکھتے مگراللہ تعالی نے ان کوان سے محفوظ رکھا۔ جب اس عمل میں ان کی انتہائی رغبت تھی تواس عمل کی نسبت بطورمجاز ان کی طرف کردی گئی جیساکہ محاورہ ہے کہ النارمحرقۃ یعنی آگ جلاتی ہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین الرازی( ۷:۱۷۶)

یہودیوں کی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکوشہیدکرنے کی سازشیں

فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ:الَّذِینَ وُعِظُوا بِہَذَا لَمْ یَقْتُلُوا نَبِیًّافَالْجَوَابُ عَنْ ہَذَا أَنَّہُمْ رَضُوا فِعْلَ مَنْ قَتَلَ فَکَانُوا بِمَنْزِلَتِہِ، وَأَیْضًا فَإِنَّہُمْ قَاتَلُوا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَہُ وَہَمُّوا بِقَتْلِہِمْ، قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ:وَإِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِیُثْبِتُوکَ أَوْ یَقْتُلُوک۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگرکوئی یہ کہے مدینہ منورہ کے یہودی جنہیں یہ نصیحت کی گئی ہے انہوںنے کسی بھی نبی کوقتل نہیں کیاتھا؟تواس کاجواب یہ ہے کہ یہ یہودی ان یہودیوں کے اس فعل کے ساتھ راضی ہیں ،ان کے راضی ہونے کی وجہ سے یہ بھی انہیں کی طرح ہوگئے ۔ اوردوسرایہ کہ انہوںنے بھی حضورتاجدارختم نبوت ﷺاورآپ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ قتال کیااورانہوںنے ان کے قتل کاارادہ اورقصدکیااللہ تعالی نے ارشادفرمایا: {وَإِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِیُثْبِتُوکَ أَوْ یَقْتُلُوک}اوریادکروجب وہ خفیہ تدبیریں کررہے تھے ،آپ ﷺکے بارے میں وہ لوگ جنہوں نے کفرکیاتھاتاکہ آپ ﷺکو قیدکردیں یاشہیدکردیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۴:۴۶) بنی اسرائیل کے گستاخوں اورپاکستانی لبرل کامزاج ایک کیوں ؟ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ الْأَزْدِیِّ،عَنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:کَانَتْ بَنُو إِسْرَائِیلَ فِی الْیَوْمِ تَقْتُلُ ثَلَاثَمِائَۃِ نَبِیٍّ ثُمَّ تَقُومُ سُوقُ بَقْلِہِمْ مِنْ آخِرِ النَّہَارِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابومعمررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںکہ حضرت سیدناعبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے ایک دن میں سترانبیاء کرام علیہم السلام کو شہیدکردیااوردن کے آخرمیں ان کی سبزیوں کے بازارلگ گئے ۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم: أبو محمد عبد الرحمن بن محمد الحنظلی، الرازی ابن أبی حاتم (ا:۱۲۶) بنی اسرائیل کے یہودیوں نے ایک دن میں اتنے انبیاء کرام علیہم السلام کو شہید کردیااوران کو اس کاکوئی غم لاحق نہیں ہوااوراسی دن اپنے اپنے بازاروں میں اپنی سبزی کی دکانیں کھول کربیٹھے ہوئے اوراپناکاروبارچلارہے تھے بعینہ یہی مزاج پاکستان کے لبرل وسیکولر نیچری لوگوں کاہے کہ یہ بھی انبیاء کرام علیہم السلام اوربالخصوص حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی گستاخی کی پرجب اہل ایمان اپنے ایمان کااظہاکرنے کے لئے روڈ وغیرہ بندکردیں تو ان کو سب سے زیادہ فکراپنے کاروبارکی ہی ہوتی ہے ۔ عجب مزاج ہے لبرل کاہے پوراپورایہودیت کے تابع ہے ۔

محافظ ناموس رسالت کامقام

قَالَ الْحَسَنُ:ہَذِہِ الْآیَۃُ تَدُلُّ عَلَی أَنَّ الْقَائِمَ بِالْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیِ عَنِ الْمُنْکَرِعِنْدَ الْخَوْفِ، تَلِی مَنْزِلَتُہُ فِی الْعِظَمِ مَنْزِلَۃَ الْأَنْبِیَاء ِ،وَرُوِیَ أَنَّ رَجُلًا قَامَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فقال:أَیُّ الْجِہَادِ أَفْضَلُ؟فَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ: أَفْضَلُ الْجِہَادِ کَلِمَۃُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ۔ ترجمہ :حضرت سیدناحسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ نشاندہی کررہی ہے کہ خوف کے وقت امربالمعروف ونہی عن المنکرپرقائم شخص کادرجہ عظمت میں انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ متصل ہے ۔منقول ہے کہ ایک شخص نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی بارگاہ میں عرض کی : یارسول اللہ ﷺ! کونساجہاد افضل ہے ؟ تو حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہناہے۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین الرازی( ۷:۱۷۶)

حضرت سیدنایحی علیہ السلام کے قتل کاسبب

عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا،فِی قَوْلِہِ عَزَّ وَجَلَّ (وَیَقْتُلُونَ النَّبِیِّینَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَیَقْتُلُونَ الَّذِینَ یَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ)(آل عمران:۲۱)قَالَ:بُعِثَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ فِی اثْنَیِ عَشَرَ رَجُلًا مِنَ الْحَوَارِیِّینَ،یُعَلِّمُونَ النَّاسَ،فَکَانَ یَنْہَاہُمْ عَنْ نِکَاحِ ابْنَۃِ الْأَخِ،وَکَانَ مَلِکٌ لَہُ ابْنَۃُ أَخٍ تُعْجِبُہُ،فَأَرَادَہَا وَجَعَلَ یَقْضِی لَہَا کُلَّ یَوْمٍ حَاجَۃً، فَقَالَتْ لَہَا أُمُّہَا:إِذَا سَأَلَکِ عَنْ حَاجَتِکِ، فَقُولِی لَہُ:أَنْ تُقْتَلَ یَحْیَی بْنَ زَکَرِیَّافَقَالَ لَہَا الْمَلِکُ:حَاجَتُکِ؟فَقَالَتْ:حَاجَتِی أَنْ تُقْتَلَ یَحْیَی بْنَ زَکَرِیَّا فَقَالَ:سَلِی غَیْرَ ہَذَا فَقَالَتْ:لَا أَسْأَلُ غَیْرَ ہَذَا فَلَمَّا أَتَی أَمَرَ بِہِ، فَذُبِحَ فِی طَسْتٍ،فَبَدَرَتْ قَطْرَۃٌ مِنْ دَمِہِ،فَلَمْ تَزَلْ تَغْلِی حَتَّی بَعَثَ اللَّہُ بُخْتَنَصَّرَ فَدَلَّتْ عَجُوزٌ عَلَیْہِ،فَأُلْقِیَ فِی نَفْسِہِ أَنْ لَا یَزَالَ الْقَتْلُ حَتَّی یَسْکُنَ ہَذَا الدَّمُ،فَقَتَلَ فِی یَوْمٍ وَاحِدٍ مِنْ ضَرْبٍ وَاحِدٍ وَبَیْتٍ وَاحِدٍ سَبْعِینَ أَلْفًا ہَذَا حَدِیثٌ صَحِیحٌ عَلَی شَرْطِ الشَّیْخَیْنِ وَلَمْ یُخْرِجَاہ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعیسی علیہ السلام نے حضرت سیدنایحیی علیہ السلام کو اپنے بارہ حواریوں کے ساتھ لوگوں کوتعلیم دین دینے کے لئے بھیجا، آپ علیہ السلام بھتیجی کے ساتھ نکاح کرنے سے منع فرمایاکرتے تھے ، بادشاہ کو اپنی بھتیجی بڑی خوبصورت لگتی تھی ، بادشاہ نے اس لڑکی کے ساتھ نکاح کرنے کاارادہ کرلیا، ہرروز اس کی کوئی نہ کوئی خواہش پوری کرنے لگا، اس لڑکی کی والدہ نے اس لڑکی سے کہا: اگربادشاہ تجھ سے کسی کام کے بارے میں پوچھے تو کہناکہ میراکام یہ ہے کہ توحضرت سیدنایحیی بن زکریاعلیہماالسلام کو قتل کردے۔ بادشاہ نے پوچھاکہ کوئی کام ہوتو؟ تو اس لڑکی نے کہاکہ میراکام یہ ہے کہ توحضرت سیدنایحیی بن زکریاعلیہماالسلام کوقتل کردے ، بادشاہ نے کہاکہ اس کے علاوہ کوئی کام کہو، تولڑکی نے کہاکہ میں تجھے اس کے علاوہ کوئی کام نہیں کہوں گی ۔ جب لڑکی نے کوئی سوال کرنے سے انکارکردیاتوبادشاہ نے حضرت سیدنایحیی علیہ السلام کے قتل کرنے کاحکم دے دیاتوآپ علیہ السلام کو ایک ہاتھ دھونے والے برتن میں ذبح کردیاگیا، آپ علیہ السلام کے خون کاایک قطرہ جلدی سے نکلاوہ لگاتارجوش مارتارہایہاں تک کہ اللہ تعالی نے بخت نصرکوبھیجا، ایک بڑھیانے بخت نصرکی اس پررہنمائی کی توبخت نصرنے اپنے دل میں فیصلہ کرلیاکہ وہ لگاتارقتل عام کرتارہے گایہاںتک کہ خون جوش مارناچھوڑ دے ۔ تواس نے ایک دن میں ایک وار سے اورایک ہی تلوارسے سترہزارآدمی قتل کردیئے تووہ خون ساکن ہوگیا۔ (المستدرک علی الصحیحین:أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم(۲:۲۱۸)

انبیاء کرام علیہم السلام کی گستاخی اللہ تعالی کے جلال کاسبب ہے

عَنْ جَعْفَرٍ،عَنْ سَعِیدٍ،قَال:أَقْحَطَ النَّاسُ فِی زَمَانِ مَلِکٍ مِنْ مُلُوکِ بَنِی إِسْرَائِیلَ سِنِینَ،فَقَالَ الْمَلِکُ:لَیُرْسِلَنَّ عَلَیْنَا السَّمَاء َ أَوْ لَنُؤْذِیَنَّہُ،فَقَالَ لَہُ جُلَسَاؤُہُ:کَیْفَ تَقْدِرُ عَلَی أَنْ تُؤْذِیَہُ أَوْ تَغِیظَہُ، وَہُوَ فِی السَّمَاء ِ،قَالَ:أَقْتُلُ أَوْلِیَاء َہُ مِنْ أَہْلِ الأَرْضِ،فَیَکُونُ ذَلِکَ إِیذَاء ً لَہُ،قَالَ:فَأَرْسَلَ اللہُ عَلَیْہِمُ السَّمَاء َ ۔ ترجمہ:حضرت سیدناسعید بن جبیررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ کے دورمیں لوگوںپرقحط آگیا، بادشاہ نے کہاکہ اللہ تعالی ہم پر بارش برسائے وگرنہ ہم اللہ تعالی کو اذیت دیں گے ، اس کے ہمنشینو ں نے کہاکہ تواللہ تعالی کو کیسے اذیت دے گا؟ یااللہ تعالی پرکیسے ناراضگی کااظہارکرے گا؟جب کہ تیری اس تک کوئی رسائی نہیں ہے ۔ تواس نے کہاکہ میں زمین میں اس کے دوستوںکوقتل کردوں گاتویہ چیز اللہ تعالی کے لئے تکلیف کاباعث ہوگی۔ تواللہ تعالی نے ان پر بارش نازل فرمادی۔ (کتاب تفسیر القرآن:أبو بکر محمد بن إبراہیم بن المنذر النیسابوری (ا:۲۵۴)

معارف ومسائل

(۱) آج ہمارے زمانے میں یہی شرارت وفتنہ عروج پر ہے ، سینکڑوں جیدعلماء کرام اورمصلحین بے دردی کے ساتھ شہید کئے جارہے ہیں ، مساجد ومدار س اورخانقاہیں اورمراکزدینیہ کاتقدس پامال ہورہاہے اورجن حکمرانوں اورارباب حل وعقد کی رضامندی اوران کے اشاروں سے یہ سب کچھ ہورہاہے وہ سارے کے سارے یہودونصاری کے ایجنٹ اوران کے گماشتے ہیں ، انہیں ان کے آقائوں سے جو بھی حکم ملتاہے اس پر عمل کرنے میں دیرنہیں لگاتے ۔ (۲) ان کی اسلام دشمنی اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے گستاخوں کے ساتھ محبت کے سبب ان کے نیک اعمال ضائع ہوگئے ، دنیامیں بھی ان کی تمام کوششیں بے کارہوگئیں اورکوئی مفید نتیجہ برآمدنہیں ہوااورآخرت میں ان کے اچھے اعمال کاان کو کوئی پھل نہیں ملااورآخرت کے عذاب کے وقت ان کاکوئی حمائیتی اورکوئی مددگارنہیں نکلاجوان کی کچھ مددکرتااورہرکافرکے کفرکاانجام یہی ہواکرتاہے ۔ عذاب کی خبرکو بشارت تہکماً ذکرفرمایاہے جس طرح کوئی صاحب اقتدارسزادیتے وقت کہتاہے کہ میں تم کو مبارک باد دیتاہوں کہ تم کو جیل ہوگئی ہے ۔ یاعبرت ناک سزادی جانے والی ہے ۔ ظالم سمجھتاہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ دنیامیں قائم رہے گامگراللہ تعالی ہمیشہ کے لئے ان کو مٹادیتاہے ۔ یزیدپلیدکاواقعہ ہمارے سامنے ہے، وہ خاندان نبوت (ﷺ) کامکمل خاتمہ چاہتاتھا، صرف ایک فرد حضرت سیدناامام زین العابدین رضی اللہ عنہ بیماری کی وجہ سے بچ گئے ورنہ وہ بھی تلواروں کی زدمیں تھے ، آپ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اس ایک فرد سے حضرت سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ کی نسل پاک کو کس طرح چلایا، آج ہر ہر ملک اورہرہرملک کے ہرہرشہرمیں جگہ جگہ حسینی سادات کرام کثرت کے ساتھ موجودہیں اورجہاں ہوتے ہیں وہاں کی عوام وخواص میں قدرومنزلت سے دیکھے جاتے ہیںاورہردلعزیزہیں اوردوسری طرف یزیدپلید کے پندرہ بیٹے اورپانچ بیٹیاں تھیں علماء سیرلکھتے ہیں کہ ان میں سے ایک بھی زندہ نہیں رہا۔ (۳) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ انبیاء کرام علیہم السلام کے گستاخوں کے خلاف نبردآزماہونے والے کے ساتھ جنگ وجدال کرنایہودیوں کاکام ہے اورآج بھی جتنے لوگ علماء حق کے خلاف صرف اس لئے لڑتے ہیں کہ وہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی ختم نبوت یاآپ ﷺکی عزت وناموس کی بات کرتے ہیں یہ بھی سارے یہودیوں کے پیروکارہیں۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh