صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2244 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۶۴۔لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,821

سوال (Question):

تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۶۴۔لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

وہ محفل میلاد محفل میلاد نہیں جس میں جہاد کابیان نہ ہو

{لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ }(۱۶۴) ترجمہ کنزالایمان:بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پراس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب و حکمت سکھاتاہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلے گمراہی میں تھے ۔ ترجمہ ضیاء الایمان: بے شک اللہ تعالی کابہت بڑااحسان ہوااہل اسلام پرکہ ان میں انہیں میں سے ایک عظمت والارسول بھیجاجوان پر اس کی آیات کریمہ کو پڑھتے ہیں اورانہیں پاک فرماتے ہیں اورکتاب وحکمت سکھاتے ہیں اوروہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔

رب تعالی نے احسان فرمایاہے تم بھی توجہادکرو

بَیَّنَ اللَّہُ تَعَالَی عَظِیمَ مِنَّتِہِ عَلَیْہِمْ بِبَعْثِہِ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْمَعْنَی فِی الْمِنَّۃِ فِیہِ أَقْوَالٌ:مِنْہَا أَنْ یَکُونَ مَعْنَی (مِنْ أَنْفُسِہِمْ)أَیْ بَشَرٌ مِثْلُہُمْ فَلَمَّا أَظْہَرَ الْبَرَاہِینَ وَہُوَ بَشَرٌ مِثْلُہُمْ عُلِمَ أَنَّ ذَلِکَ مِنْ عِنْدِ اللَّہ وَقِیلَ:مِنْ أَنْفُسِہِمْ مِنْہُمْ فَشَرُفُوا بِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،فَکَانَتْ تِلْکَ الْمِنَّۃُ وَقِیلَ:مِنْ أَنْفُسِہِمْ لِیَعْرِفُوا حَالَہُ وَلَا تَخْفَی عَلَیْہِمْ طَرِیقَتُہُ وَإِذَا کَانَ مَحَلُّہُ فِیہِمْ ہَذَا کَانُوا أَحَقَّ بِأَنْ یُقَاتِلُوا عَنْہُ وَلَا ینہزموا دونہ۔ ترجمہ :اما م ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو مبعوث فرماکران پر اپنے احسان عظیم کو بیان فرمایااوراس میں احسان کرنے کے معنی میں کئی اقوال ہیں ۔ ان میں ایک قول یہ ہے کہ {مِنْ أَنْفُسِہِم}کامعنی ہوا{ بَشَرٌ مِثْلُہُمْ}یعنی آپ ﷺان کی مثل بشرہیں ۔ پس جب دلائل واضح ہیں کہ آپ ﷺان کی مثل بشرہیں تواس سے معلوم ہواکہ آپ ﷺاللہ تعالی کی جانب سے ہیں اوریہ بھی بیان کیاگیاہے {مِنْ أَنْفُسِہِمْ مِنْہُمْ}یعنی آپ ﷺان میں سے ہیں ۔ پس آپ ﷺمشرف ومکرم ہوئے ہیں ، پس یہ بھی ایک احسان ہے اوریہ قول بھی ہے کہ {مِنْ أَنْفُسِہِم} تاکہ وہ آپ ﷺکی حالت کو پہچان سکیں اوران پر آپﷺکاطریقہ اورسنت مخفی نہ رہے اورجب ان میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکامقام یہ ہے تو وہ زیادہ حق رکھتے ہیں کہ وہ آپ ﷺکی طرف سے قتال اورجنگ کریں اورقطعاًآپ ﷺسے دورنہ بھاگیں ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۴:۲۶۳)

کبھی توحضورتاجدارختم نبوتﷺکامیلادشریف یوں بھی بیان کرو

واعلم ان اللہ تعالی أرسل محمدا الی أقوام عتاۃ اشراس فذلل منہم کل من عتا وعاس ونکس بمولدہ الأصنام علی الرأس وانشق ایوان کسری وسقطت منہ اربع عشرۃ شرافۃ بعدد من سیملک من الناس وخمدت نار فارس وبحیرۃ ساوۃ غاضت علی غیر القیاس واختارہ مولاہ وقدمہ علی الخلق فہو بمنزلۃ العین من الرأس وایام دولتہ کایام التشریق ولیلات الأعراس فتعجبت قریش من غنی بالفضل بعد فقر الإفلاس فرماہم القرآن بسہام الجدل لاعن أقواس ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی الماتریدی المتوفی :۱۱۲۷ھ)رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺسرکش اوربے وقوف قوم میں مبعوث ہوئے لیکن آپ ﷺنے اپنی قوت نبوی ﷺسے ہرسرکش کی سرکشی کو توڑابلکہ آپ ﷺکی ولادت مبارکہ کے وقت ہی تمام کے تمام بت منہ کے بل گرگئے اورکسری کامحل ٹوٹااوراس کے چودہ کنگرے گرگئے ، اس میں اس طرف اشارہ تھاکہ کسری کے بعداس علاقہ پر اسلام کے قبضہ کرنے تک صرف چودہ بادشاہ بادشاہی کریں گے ، حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی ولادت شریفہ کی برکت سے فارس کی آگ بجھ گئی اوربحریہ ساوہ خشک ہوگیاحالانکہ ان کے بجھنے اورخشک ہونے کی کوئی وجہ نہیں تھی ، آپﷺکو آپ ﷺکے رب تعالی نے اپنی ذات کے لئے اختیارفرمایابلکہ اپنی تمام مخلوق پرآپ ﷺکوبرتراوراعلی بنایا، آپ ﷺتمام مخلوق میں ایسے ہی اعلی وبالاہیں جیسے سرمیں آنکھ ، آپ ﷺکے قیمتی دورکی مثال ایسے ہے جیسے مہینہ میں ایام تشریق اورآپ ﷺکی زندگی مبارکہ کی راتیں شادی کی راتوں جیسی تھیں ۔ خود قریش تعجب میں مبتلاء تھے کہ آپ ﷺفقروفاقہ اورافلاس کے باوجود اتنی بڑی ترقی کیسے کر گئے۔ قرآن کریم نے آپ ﷺکے مخالفین کو مقابلے کے لئے قدم بقدم چیلنج کیا، آپﷺکی فتحیابی تیروں اورتلواروں سے نہیں بلکہ انہیں قرآن کریم کے دلائل وبراہین سے ہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی (۲:۱۲۰)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی ناموس پر پہرہ دینافرض ہے

أَنَّہُ لَمَّا کَانَ فِی الشَّرَفِ وَالْمَنْقَبَۃِ بِحَیْثُ یَمُنُّ اللَّہُ بِہِ عَلَی عِبَادِہِ وَجَبَ عَلَی کُلِّ عَاقِلٍ أَنْ یُعِینَہُ بِأَقْصَی مَا یَقْدِرُ عَلَیْہِ، فَوَجَبَ عَلَیْکُمْ أَنْ تُحَارِبُوا أَعْدَاء َہُ وَأَنْ تَکُونُوا مَعَہُ بِالْیَدِ وَاللِّسَانِ وَالسَّیْفِ وَالسِّنَانِ، وَالْمَقْصُودُ مِنْہُ الْعَوْدُ إِلَی تَرْغِیبِ الْمُسْلِمِینَ فِی مُجَاہَدَۃِ الکفار (فی قَوْلُہُ تَعَالَی لَقَدْ مَنَّ اللَّہُ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ إِذْ بَعَثَ فِیہِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِہِمْ) ترجمہ:امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺشرف ومنقبت کے اس درجہ پرہیں تواللہ تعالی نے اپنے بندوں پر آپ ﷺکے ذریعے احسان فرمایاتوہرعقل مندپراپنی آخری طاقت کے مطابق حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی مددکرنالازم وضروری ہے اورتم پرلازم ہے کہ آپ ﷺکے دشمنوں اورگستاخوں کے خلاف جنگ کرواورآپﷺکے زبان ، تلواراورنیزوں کے ساتھ مددگاربن جائو۔ تواس آیت کریمہ سے مقصود کفارکے خلاف مسلمانوں کو دوبارہ شوق جہاد دلاناہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۹:۴۱۷)

معارف ومسائل

(۱) اس سے معلوم ہواکہ جس مجلس میلاد شریف میں بتوں کوتوڑنے کی بات نہ ہووہ مجلس کامل نہیں ہے کیونکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی آمدشریفہ کے وقت ہی بت منہ کے بل گرگئے تھے اوراس طرف اشارہ تھاکہ یہ حبیب کریم ﷺبتوں کو توڑنے والے ہیں اوران کی امت بھی بتوں کوتوڑے گی ۔ آج اگرکوئی میلاد شریف کی محفل سجائے اوراس میں عقیدہ توحیدکی محبت اورکفراورشرک اورمشرکین کی مخالفت کابیان نہ ہواوراس میں بتوں سے نفرت اوراللہ تعالی کی عبادت سے محبت کادرس نہ دیاجائے تو وہ غورکرلیں کہ ان کی محفل حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی آمدشریف والی رات والی محفل سے کتنی ہم آہنگ ہے ۔ (۲) اوراس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جو شخص میلاد شریف کی محفل کروائے اوراس میں کفارکے محلا ت کو فتح کرنے کی بات نہ ہواورکفارسے ٹکرلینے کی بات بیان نہ کی جائے اوراس میں تذکرہ جہاد نہ ہوتووہ محفل ناتمام ہے کیونکہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے جہاد کاذکرفرمایااوراس میں اللہ تعالی نے اہل اسلام کو فرمایاکہ میں نے تم پر اپنے حبیب کریم ﷺکی صورت میں احسان عظیم فرمایاتوتم پر بھی لازم ہے کہ تم میرے حبیب کریم ﷺکادفاع کرواورمیرے حبیب کریم ﷺکے ساتھ مل کردین حق کے لئے جہاد کرو۔ (۳) اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہواکہ اہل اسلام کاامیراپنی جماعت کے لئے تلاوت قرآن کریم ، تزکیہ نفس اورتعلیم قرآن وسنت کااہتمام کرنے والاہو۔ (جیسے آجکل دین دشمن ہیں اس طرح نہ ہو) (۴) اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہواکہ مجاہدین کو خصوصی طورپرچارچیزوں کااہتمام لازم ہے اورخود کو پوری طرح سے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ساتھ قلبی طور پرجوڑے رکھے۔ (۵) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو اس فرض عظیم کے انجام دینے کے لئے بھیجاگیالھذااسی کسوٹی پرآپ ﷺکے متبعین کو پرکھاجائے گایعنی جن لوگو ں میں تلاوت قرآن کریم ، تزکیہ نفس اورتعلیم کتاب وسنت کے اعمال زندہ ہوں گے وہی لوگ حضورتاجدارختم نبوت ْﷺکے سچے پیروکارہوں گے اورجو پیریاشیخ یاکوئی عالم ان میں سے بعض کو یاسب کو ترک کئے ہوئے ہووہ دین اورآپ ﷺکی بارگاہ سے دورہوجائیں گے ۔ (۶) آج ہمارے دورکے بہت سے مشائخ کاطریقہ کاراس نبوی طریقہ سے بالکل ہٹ کرہے ، جہاد کی بات تو کبھی ان کے منہ سے نہیں سنی اورنہ ہی ان کے دلوں میں کبھی جذبہ جہاد پیداہوا۔ یہ لوگ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے اس طریقہ مبارکہ سے کتنے ہٹے ہوئے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں ، ان کے منہ سے دین میں جہاد ، دین کادفاع ، اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی عزت وناموس کے دفاع کی کوئی بات نہیں ہے ۔ (۷) علماء جب بھی خطاب کریں گے تویہی آیت تلاوت کرکے میلاد کاقصہ سناکرنذرانہ لیکرروانہ ہوجائیں گے مگرآج تک ہم نے کسی بھی مولوی کے منہ سے یہ آیت کریمہ تلاوت کرکے جہاد بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔ تو جہاد سے دوری کاسبب علماء ومشائخ ہی ہیں کیونکہ انہوںنے اپنی عوام کوجان بوجھ کرجہاد سے دوررکھاہے ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh