Fatwa #2254
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۸۶۔لَتُبْلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوٰلِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْرً
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,987
سوال (Question):
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۱۸۶۔لَتُبْلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوٰلِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْرً
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
یہودی ، نصرانی اورمشرک حضورتاجدارختم نبوت ﷺاورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخ ہیں
{لَتُبْلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوٰلِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْرًا وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ }(۱۸۶) ترجمہ کنزالایمان : بے شک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں اور بے شک ضرور تم اگلے کتاب والوں اورمشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبرکرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان : بے شک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں اور بے شک ضرور تم سے پہلے جن کو کتاب دی گئی ( یہودی ونصرانی )اورمشرکوں سے بہت گستاخیاںسنو گے اور اگر تم صبرکرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم ﷺکو تسلی دی اعْلَمْ أَنَّہُ تَعَالَی لَمَّا سَلَّی الرَّسُولَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِہِ:کُلُّ نَفْسٍ ذائِقَۃُ الْمَوْتِ (آل عمران: ۱۸۵)زَادَ فِی تَسْلِیَتِہِ بِہَذِہِ الْآیَۃِ، فَبَیَّنَ أَنَّ الْکُفَّارَ بَعْدَ أَنْ آذَوُا الرَّسُولَ وَالْمُسْلِمِینَ یَوْمَ أُحُدٍ،فَسَیُؤْذُونَہُمْ أَیْضًا فِی الْمُسْتَقْبَلِ بِکُلِّ طَرِیقٍ یُمْکِنُہُمْ، مِنَ الْإِیذَاء ِ بِالنَّفْسِ وَالْإِیذَاء ِ بِالْمَالِ،وَالْغَرَضُ مِنْ ہَذَا الْإِعْلَامِ أَنْ یُوَطِّنُوا أَنْفُسَہُمْ عَلَی الصَّبْرِ وَتَرْکِ الْجَزَعِ،وَذَلِکَ لِأَنَّ الْإِنْسَانَ إِذَا لَمْ یَعْلَمْ نُزُولَ الْبَلَاء ِعَلَیْہِ فَإِذَا أُنْزِلَ الْبَلَاء ُ عَلَیْہِ شَقَّ ذَلِکَ عَلَیْہِ،أَمَّا إِذَا کَانَ عَالِمًا بِأَنَّہُ سَیَنْزِلُ،فَإِذَا نَزَلَ لَمْ یَعْظُمْ وَقْعُہُ عَلَیْہِ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ جب اللہ تعالی نے {کُلُّ نَفْسٍ ذائِقَۃُ الْمَوْتِ}کے ذریعے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو تسلی دی تواس آیت کریمہ کے ذریعے آپ ْﷺکی تسلی میں مزیداضافہ کرتے ہوئے فرمایا: کفارنے احدکے دن حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اذیت دی اوروہ مستقبل میں ہر ممکن طریقے سے ان کو تکلیف دینے کی کوشش کریں گے خوا ہ ا ن کے نفوس میں ایذاہویاان کے مالوں میں اوراس سے غرض یہ اطلاع ہے کہ وہ اپنے نفوس کو صبراورترک جزع کے لئے تیارکریں ، اس لئے کہ جب انسان مصیبت کاسامنانہ جانتاہوتواچانک مصیبت کاسامناکرنااس پردشوارہوجاتاہے لیکن جب وہ مصیبت آنے کوجانتاہوتوجب وہ آئے گی تواس کوزیادہ پریشان نہیں کرے گی ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۹:۴۵۳)جس کو گستاخیاں سن کردکھ نہ ہووہ مومن نہیں ہے
وَأَمَّا قَوْلُہُ:وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِینَ أَشْرَکُوا أَذیً کَثِیراً فَالْمُرَادُ مِنْہُ أَنْوَاعُ الْإِیذَاء ِ الْحَاصِلَۃِ مِنَ الْیَہُودِ وَالنَّصَارَی وَالْمُشْرِکِینَ لِلْمُسْلِمِینَ،وَذَلِکَ لِأَنَّہُمْ کَانُوا یَقُولُونَ عُزَیْرٌ ابْنُ اللَّہِ، وَالْمَسِیحُ ابْنُ اللَّہِ، وَثَالِثُ ثَلَاثَۃٍ،وَکَانُوا یَطْعَنُونَ فِی الرَّسُولِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ بِکُلِّ مَا یَقْدِرُونَ عَلَیْہِ، وَلَقَدْ ہَجَاہُ کَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ،وَکَانُوا یُحَرِّضُونَ النَّاسَ عَلَی مُخَالَفَۃِ الرَّسُولِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ. وَأَمَّا الْمُشْرِکُونَ فَہُمْ کَانُوا یُحَرِّضُونَ النَّاسَ عَلَی مُخَالَفَۃِ الرَّسُولِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیَجْمَعُونَ الْعَسَاکِرَ عَلَی مُحَارَبَۃِ الرَّسُولِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیُثَبِّطُونَ الْمُسْلِمِینَ عَنْ نُصْرَتِہِ، فَیَجِبُ أَنْ یَکُونَ الْکَلَامُ مَحْمُولًا عَلَی الْکُلِّ إِذْ لَیْسَ حَمْلُہُ عَلَی الْبَعْضِ أَوْلَی مِنْ حَمْلِہِ عَلَی الثانی. ترجمہ :اس آیت کریمہ {وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِینَ أَشْرَکُوا أَذیً کَثِیراً }سے مراد تکالیف کی وہ اقسام ہیں جویہودونصاری اورمشرکین کی طرف سے اہل اسلام کو پہنچتیں تووہ کہتے تھے حضرت سیدناعزیرعلیہ السلام ابن اللہ ہیں ،حضرت سیدناعیسی علیہ السلام ابن اللہ اورثالث ثلثہ ہیں ، حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ہرممکن گستاخی کرتے تھے ، کعب بن اشرف یہودی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی گستاخیاں کرتااوردوسروں کو بھی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی مخالفت پرابھارتا ،مشرکین لوگوں کو آپ ﷺکی مخالفت پرابھارتے ، حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ساتھ جنگ کے لئے لوگوں کو ابھارتے اوراہل اسلام کو آپ ﷺکی مددکرنے سے روکتے ہوئے ورغلاتے تھے اورلازم ہے کہ کلام کو ان تمام پر محمول کرلیاجائے کیونکہ بعض پر محمول کرنادیگرپرمحمول کرنے سے اولی نہیں ہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۹:۴۵۳) یہ آیت کریمہ اس بارے میں نص ہے کہ اہل ایمان کو اللہ تعالی اوراس کے حبیب کریم ﷺکی گستاخیاں سن کر تکلیف ہوگی اورآج جس شخص کو یہ گستاخیاں سن کردکھ نہیں ہوتااوراس دکھ کامداوانہیں کرتاوہ یقین کرلے کہ اس کاایمان واسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اوراسی طرح آج توکتنے مسلمان ہیں جن کو اسلام اوردین کی خاطرزندگی بھرکوئی دکھ نہیں آتااس کی وجہ ظاہرہے کہ نہ وہ دین کاکام کریں گے اورنہ ان کو کوئی تکلیف آئے گی ۔ اسی طرح آجکل بہت مشائخ اورپیر اس دکھ سے بری ہیں یعنی ان کے سامنے اللہ تعالی اوراس کے حبیب کریم ﷺکی گستاخیاں ہوتی رہیں ، ختم نبوت پرحملہ ہوتارہے ، مساجدپراذانوں پر پابندی لگتی رہے ، پورے ملک میں بے حیائی اورفحاشی پھیلتی رہے اورخداتعالی اوراس کے حبیب کریم ﷺکامذاق اڑانے والی فلمیں بنتی رہیں اوردنیابھرمیں چلتی رہیں ان کو کوئی فکرنہیں ، ان کو صرف اورصرف اپنے نذرانوں کی فکرہے ۔ اوریہ بات بھی بڑی قابل غورہے انہوں نے اپنالقب پیرطریقت اوررہبرشریعت منتخب کیاہواہے توجو شخص خود کو رہبرشریعت کہتاہووہ بھی شریعت کی کوئی فکرنہ کرے تورہبرشریعت کی بجائے اس کو رہزن شریعت کہاجائے تومناسب ہوگا۔ پھرجب ہم دیکھتے ہیں توہمیں تواس آیت کریمہ کامصداق اس دورمیں سوائے امیرالمجاہدین مولاناحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی اوران کی جماعت کے کوئی نظرنہیں آتا۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی گستاخیوں کامعاملہ ہو، ختم نبوت کامعاملہ ہو، ہالینڈ کے خنزیرکے گستاخانہ خاکوں کامعاملہ ہو، زندگی تماشہ فلم کامعاملہ ہو، پاکستان میں قادیانیوں کو مشیررکھنے کامعاملہ ہواورپاکستان میں حج فارم میں تبدیلی کرکے قادیانیوں کو حج پربھیجنے کامعاملہ ہوہمیں توسوائے حضورامیرالمجاہدین حفظہ اللہ تعالی کے کوئی اورمیدان میں نظرنہیں آتا۔ اورپھردین کی وجہ سے ان کی جان ومال اوررشتہ داروں کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ، آپ کے سارے خاندان کو پکڑکرجیل ڈال دیاجاتاہے اورچارہزارسال سے بھی زیادہ قیدکی سزاسنائی جاتی ہے اوران کی ساری جائیدادیں منقولہ وغیرمنقولہ بحق انگریزحکومت ضبط کرلی جاتی ہیں مگروہ ہے کہ مردمجاہددفاع دین سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹتا۔تم پرآزمائش آئے گی
ہَذَا الْخِطَابُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتِہِ وَالْمَعْنَی:لَتُخْتَبَرُنَّ وَلَتُمْتَحَنُنَّ فِی أَمْوَالِکُمْ بِالْمَصَائِبِ وَالْأَرْزَاء ِبِالْإِنْفَاقِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَسَائِرِ تَکَالِیفِ الشَّرْعِ وَالِابْتِلَاء ُ فِی الْأَنْفُسِ بِالْمَوْتِ وَالْأَمْرَاضِ وَفَقْدِ الْأَحْبَابِ وَبَدَأَ بِذِکْرِ الْأَمْوَالِ لِکَثْرَۃِ الْمَصَائِبِ بِہَا۔ ترجمہ:امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺاورآپ ﷺکی امت کو خطاب ہے اورمعنی یہ ہے کہ تم آزمائے جائوگے اوریقیناتمھاراامتحان لیاجائے گا، اپنے مالوں میں مصائب کے ساتھ اوراللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرنے کی تکلیف کے ساتھ اورتمام شرعی پابندیاں لگانے کے ساتھ ، اورجانوروں میں آزمائش موت ، امراض میں مبتلاء کرنے کے ساتھ آتی ہے چونکہ مالوں کے سبب مصائب زیادہ ہوتے ہیں اس لئے پہلے ذکرہی مال کاکیا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۴:۳۰۳) دوسراقول الزُّہْرِیُّ:ہُوَ کَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ نَزَلَتْ بِسَبَبِہِ،وَکَانَ شَاعِرًا،وَکَانَ یَہْجُو النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَہُ،وَیُؤَلِّبُ عَلَیْہِ کُفَّارَ قُرَیْشٍ،وَیُشَبِّبُ بِنِسَاء ِ الْمُسْلِمِینَ حَتَّی بَعَثَ (إِلَیْہِ)رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَۃَ وَأَصْحَابَہُ فَقَتَلَہُ الْقِتْلَۃَ الْمَشْہُورَۃَ فِی السِّیَرِ وَصَحِیحِ الْخَبَرِ۔ ترجمہ :امام الزہری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ کعب بن اشرف یہودی کے بارے میں نازل ہوئی اوریہ شاعرتھااورحضورتاجدارختم نبوت ﷺاورآپ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخیاں کیاکرتاتھااوروہ آپ ﷺکے خلاف کفارِ قریش کو جمع کرتاتھا، اوراہل اسلام کی خواتین کاذکراپنے قصیدوں میں کیاکرتاتھایہاںتک کہ حضورتاجدارختم نبوت ْﷺنے اس کی طرف حضرت سیدنامحمدبن مسلمہ رضی اللہ عنہ اورآپ کے ساتھیوں کو روانہ فرمایااورانہوںنے اس کو قتل کردیا۔ کتب سیراورصحیح احادیث شریفہ میں اس کاقتل مشہورہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۴:۳۰۳) تیسراقول عَنْ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکِبَ عَلَی حِمَارٍ عَلَی قَطِیفَۃٍ فَدَکِیَّۃٍ وَأَرْدَفَ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ وَرَاء َہُ یَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ فِی بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَبْلَ وَقْعَۃِ بَدْرٍ قَالَ حَتَّی مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِیہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ ابْنُ سَلُولَ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یُسْلِمَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ فَإِذَا فِی الْمَجْلِسِ أَخْلَاطٌ مِنْ الْمُسْلِمِینَ وَالْمُشْرِکِینَ عَبَدَۃِ الْأَوْثَانِ وَالْیَہُودِ وَالْمُسْلِمِینَ وَفِی الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَوَاحَۃَ فَلَمَّا غَشِیَتْ الْمَجْلِسَ عَجَاجَۃُ الدَّابَّۃِ خَمَّرَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ أَنْفَہُ بِرِدَائِہِ ثُمَّ قَالَ لَا تُغَبِّرُوا عَلَیْنَا فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاہُمْ إِلَی اللَّہِ وَقَرَأَ عَلَیْہِمْ الْقُرْآنَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ ابْنُ سَلُولَ أَیُّہَا الْمَرْء ُ إِنَّہُ لَا أَحْسَنَ مِمَّا تَقُولُ إِنْ کَانَ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا بِہِ فِی مَجْلِسِنَا ارْجِعْ إِلَی رَحْلِکَ فَمَنْ جَاء َکَ فَاقْصُصْ عَلَیْہِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَوَاحَۃَ بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ فَاغْشَنَا بِہِ فِی مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِکَ فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِکُونَ وَالْیَہُودُ حَتَّی کَادُوا یَتَثَاوَرُونَ فَلَمْ یَزَلْ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُخَفِّضُہُمْ حَتَّی سَکَنُوا ثُمَّ رَکِبَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَابَّتَہُ فَسَارَ حَتَّی دَخَلَ عَلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ یُرِیدُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أُبَیٍّ قَالَ کَذَا وَکَذَا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ یَا رَسُولَ اللَّہِ اعْفُ عَنْہُ وَاصْفَحْ عَنْہُ فَوَالَّذِی أَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ لَقَدْ جَاء َ اللَّہُ بِالْحَقِّ الَّذِی أَنْزَلَ عَلَیْکَ لَقَدْ اصْطَلَحَ أَہْلُ ہَذِہِ الْبُحَیْرَۃِ عَلَی أَنْ یُتَوِّجُوہُ فَیُعَصِّبُوہُ بِالْعِصَابَۃِ فَلَمَّا أَبَی اللَّہُ ذَلِکَ بِالْحَقِّ الَّذِی أَعْطَاکَ اللَّہُ شَرِقَ بِذَلِکَ فَذَلِکَ فَعَلَ بِہِ مَا رَأَیْتَ فَعَفَا عَنْہُ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہُ یَعْفُونَ عَنْ الْمُشْرِکِینَ وَأَہْلِ الْکِتَابِ کَمَا أَمَرَہُمْ اللَّہُ وَیَصْبِرُونَ عَلَی الْأَذَی قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنْ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنْ الَّذِینَ أَشْرَکُوا أَذًی کَثِیرًا الْآیَۃَ وَقَالَ اللَّہُ وَدَّ کَثِیرٌ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ لَوْ یَرُدُّونَکُمْ مِنْ بَعْدِ إِیمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِہِمْ إِلَی آخِرِ الْآیَۃِ وَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَأَوَّلُ الْعَفْوَ مَا أَمَرَہُ اللَّہُ بِہِ حَتَّی أَذِنَ اللَّہُ فِیہِمْ فَلَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَدْرًا فَقَتَلَ اللَّہُ بِہِ صَنَادِیدَ کُفَّارِ قُرَیْشٍ قَالَ ابْنُ أُبَیٍّ ابْنُ سَلُولَ وَمَنْ مَعَہُ مِنْ الْمُشْرِکِینَ وَعَبَدَۃِ الْأَوْثَانِ ہَذَا أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّہَ فَبَایَعُوا الرَّسُولَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْإِسْلَامِ فَأَسْلَمُوا۔ ترجمہ :حضرت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر علاقہ فدک کی بنی ہوئی موٹی چادر ڈالی گئی تھی اور مجھے بھی اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ آپﷺ قبیلہ حارث بن خزرج کے محلے میں حضرت سیدناسعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ واقعہ غزوہ بدر سے پہلے کا ہے۔ راستے میں آپ ﷺایک مجلس سے گزرے جس میں ملے جلے لوگ، یعنی مسلمان، مشرکین اور یہودی موجود تھے۔ ان میں عبداللہ بن ابی سلول (رئیس المنافقین)بھی موجود تھا، اور اسی مجلس میں حضرت سیدناعبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ جب سواری کی گردوغبار ان لوگوں پر پڑی تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک پر چادر ڈالی اور کہنے لگا: ہم پر گردوغبار نہ اڑاؤ۔ تب حضورتاجدارختم نبوتﷺنے السلام علیکم کہا اور ٹھہر گئے۔ اپنی سواری سے اتر کر آپ ﷺنے انہیں اسلام کی دعوت دی اور قرآن پڑھ کر سنایا تو عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا:اے نوجوان!آپﷺ کی باتیں بہت اچھی ہیں، تاہم آپﷺ جو کچھ کہتے ہیں اگر سچ بھی ہو تب بھی آپﷺ ہماری مجالس میں آ کر ہمیں تکلیف نہ دیا کریں بلکہ اپنے گھر واپس چلے جائیں، پھر جو شخص آپ ﷺکے پاس آئے آپﷺ اسے اپنی باتیں سنائیں۔ اس پر حضرت سیدناعبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!آپ ضرور ہماری مجالس میں تشریف لا کر ہمیں یہ باتیں سنایا کریں کیونکہ ہم ان باتوں کو پسند کرتے ہیں۔ آخر کار بات اس حد تک بڑھ گئی کہ مسلمان، مشرک اور یہودی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺمسلسل ان کو خاموش کراتے رہے یہاں تک وہ خاموش ہو گئے۔ بعد ازاں حضورتاجدارختم نبوتﷺاپنی سواری پر بیٹھ کر حضرت سیدناسعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے اور حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ان سے فرمایا:اے سعد!ابوحباب، یعنی عبداللہ بن ابی نے جو کچھ کہا ہے کیا تم نے سن لیا ہے؟ اس شخص نے یہ یہ باتیں کی ہیں۔حضرت سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی:یارسول اللہ ﷺ!اسے معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ ﷺپر کتاب نازل فرمائی ہے! اللہ کی طرف سے آپﷺ پر جو کچھ نازل ہوا ہے وہ برحق اور سچ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس بستی والوں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اس شخص کی تاج پوشی کریں اور اس کے سر پر سرداری کی پگڑی باندھیں، لیکن جب اللہ تعالٰی نے یہ منصوبہ اس حق کے ذریعے سے مسترد کر دیا جو آپﷺ کو عطا فرمایا ہے تو وہ اس وجہ سے جل بھن گیا ہے اور جو کچھ اس نے کہا ہے اس حسد کا نتیجہ ہے، چنانچہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اسے معاف کر دیا۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺاور آپ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی یہ عادت رہی ہے کہ بت پرستوں اور یہودیوں کی ناشائستہ حرکات کو معاف کر دیا کرتے تھے جیسا کہ اللہ تعالٰی نے انہیں حکم دیا تھا اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر کیا کرتے تھے۔ ارشاد باری تعالٰی اسی سے متعلق ہے:اور یقینا تم اپنے سے پیشتر اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں ضرور سنو گے (اور اگر تم صبر سے کام لو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑے حوصلے اور دل گردے کی بات ہے)۔اللہ تعالٰی نے مزید فرمایا:بہت سے اہل کتاب تو اپنے دلوں کے حسد و بغض کی بنا پر یہ تمنا رکھتے ہیں کہ تمہیں ایمان سے پھیر کر دوبارہ کافر بنا ڈالیں۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اللہ تعالٰی کے حکم کے مطابق عفو و درگزر کو اپنا وطیرہ بنائے رکھا یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے اہل کفر کی بابت جہاد کی اجازت دے دی، پھر جب آپﷺ نے جنگ بدر لڑی اور اس جہاد کی وجہ سے اللہ تعالٰی نے قریش کے بڑے بڑے سرداروں کو مار ڈالا تو عبداللہ بن ابی ابن سلول اور اس کے ساتھی جو مشرک اور بت پرست تھے، کہنے لگے: اب یہ امر، یعنی اسلام ظاہر و غالب ہو چکا ہے، تب انہوں نے (بادل نخواستہ) حضورتاجدارختم نبوتﷺسے بیعت کر لی اور مسلمان ہو گئے۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۸:۴۵) چوتھاقول وذکر عبد الرزاق عن الزہری عن عبد اللہ بن کعب بن مالک انہا نزلت فی کعب بن الأشرف۔ ترجمہ: امام عبدالرزاق رحمہ اللہ تعالی امام الزہری رحمہ اللہ تعالی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدناعبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ کعب بن اشرف یہودی کے بارے میں نازل ہوئی ۔ (زاد المسیر فی علم التفسیر:جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی (ا:۳۵۶)کعب بن اشرف یہودی کاقتل
حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ،حَدَّثَنَا سُفْیَانُ،قَالَ عَمْرٌو:سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا،یَقُولُ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ لِکَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ، فَإِنَّہُ قَدْ آذَی اللَّہَ وَرَسُولَہُ،فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ فَقَالَ:یَا رَسُولَ اللَّہِ، أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَہُ؟ قَالَ:نَعَمْ، قَالَ:فَأْذَنْ لِی أَنْ أَقُولَ شَیْئًا، قَالَ:قُلْ،فَأَتَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ فَقَالَ:إِنَّ ہَذَا الرَّجُلَ قَدْ سَأَلَنَا صَدَقَۃً،وَإِنَّہُ قَدْ عَنَّانَا وَإِنِّی قَدْ أَتَیْتُکَ أَسْتَسْلِفُکَ،قَالَ:وَأَیْضًا وَاللَّہِ لَتَمَلُّنَّہُ، قَالَ:إِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاہُ،فَلاَ نُحِبُّ أَنْ نَدَعَہُ حَتَّی نَنْظُرَ إِلَی أَیِّ شَیْء ٍ یَصِیرُ شَأْنُہُ، وَقَدْ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَیْنِ وحَدَّثَنَا عَمْرٌو غَیْرَ مَرَّۃٍ فَلَمْ یَذْکُرْ وَسْقًا أَوْ وَسْقَیْنِ أَوْ:فَقُلْتُ لَہُ:فِیہِ وَسْقًا أَوْ وَسْقَیْنِ؟ فَقَالَ:أُرَی فِیہِ وَسْقًا أَوْ وَسْقَیْنِ فَقَالَ:نَعَمِ، ارْہَنُونِی،قَالُوا:أَیَّ شَیْء ٍ تُرِیدُ؟ قَالَ:ارْہَنُونِی نِسَاء َکُمْ، قَالُوا:کَیْفَ نَرْہَنُکَ نِسَاء َنَا وَأَنْتَ أَجْمَلُ العَرَبِ،قَالَ:فَارْہَنُونِی أَبْنَاء َکُمْ، قَالُوا:کَیْفَ نَرْہَنُکَ أَبْنَاء َنَا، فَیُسَبُّ أَحَدُہُمْ، فَیُقَالُ:رُہِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَیْنِ، ہَذَا عَارٌ عَلَیْنَا،وَلَکِنَّا نَرْہَنُکَ اللَّأْمَۃَ قَالَ سُفْیَانُ:یَعْنِی السِّلاَحَ فَوَاعَدَہُ أَنْ یَأْتِیَہُ، فَجَاء َہُ لَیْلًا وَمَعَہُ أَبُو نَائِلَۃَ،وَہُوَ أَخُو کَعْبٍ مِنَ الرَّضَاعَۃِ،فَدَعَاہُمْ إِلَی الحِصْنِ، فَنَزَلَ إِلَیْہِمْ،فَقَالَتْ لَہُ امْرَأَتُہُ:أَیْنَ تَخْرُجُ ہَذِہِ السَّاعَۃَ؟فَقَالَ إِنَّمَا ہُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ، وَأَخِی أَبُو نَائِلَۃَ، وَقَالَ غَیْرُ عَمْرٍو،قَالَتْ:أَسْمَعُ صَوْتًا کَأَنَّہُ یَقْطُرُ مِنْہُ الدَّمُ،قَالَ:إِنَّمَا ہُوَ أَخِی مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ وَرَضِیعِی أَبُو نَائِلَۃَ إِنَّ الکَرِیمَ لَوْ دُعِیَ إِلَی طَعْنَۃٍ بِلَیْلٍ لَأَجَابَ،قَالَ:وَیُدْخِلُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ مَعَہُ رَجُلَیْنِ قِیلَ لِسُفْیَانَ: سَمَّاہُمْ عَمْرٌو؟قَالَ:سَمَّی بَعْضَہُمْ قَالَ عَمْرٌو:جَاء َ مَعَہُ بِرَجُلَیْنِ،وَقَالَ:غَیْرُ عَمْرٍو:أَبُو عَبْسِ بْنُ جَبْرٍ، وَالحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ،وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ عَمْرٌو:جَاء َ مَعَہُ بِرَجُلَیْنِ، فَقَالَ:إِذَا مَا جَاء َ فَإِنِّی قَائِلٌ بِشَعَرِہِ فَأَشَمُّہُ،فَإِذَا رَأَیْتُمُونِی اسْتَمْکَنْتُ مِنْ رَأْسِہِ،فَدُونَکُمْ فَاضْرِبُوہُ،وَقَالَ مَرَّۃً:ثُمَّ أُشِمُّکُمْ،فَنَزَلَ إِلَیْہِمْ مُتَوَشِّحًا وَہُوَ یَنْفَحُ مِنْہُ رِیحُ الطِّیبِ،فَقَالَ:مَا رَأَیْتُ کَالیَوْمِ رِیحًا،أَیْ أَطْیَبَ،وَقَالَ غَیْرُ عَمْرٍو:قَالَ:عِنْدِی أَعْطَرُ نِسَاء ِ العَرَبِ وَأَکْمَلُ العَرَبِ،قَالَ عَمْرٌو:فَقَالَ أَتَأْذَنُ لِی أَنْ أَشُمَّ رَأْسَکَ؟قَالَ:نَعَمْ، فَشَمَّہُ ثُمَّ أَشَمَّ أَصْحَابَہُ، ثُمَّ قَالَ:أَتَأْذَنُ لِی؟قَالَ:نعَمْ، فَلَمَّا اسْتَمْکَنَ مِنْہُ، قَالَ:دُونَکُمْ، فَقَتَلُوہُ،ثُمَّ أَتَوُا النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوہُ۔ ترجمہ:حضرت سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے سناکہ حضورتاجدارختم نبوت ْﷺنے فرمایاکہ کون ہے جو کعب بن اشرف کو قتل کرے ؟ کیونکہ اس نے اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دی ہے ، اس پر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے ،اور عرض کرنے لگے یارسول اللہ ﷺ کیاآپ چاہتے ہیںکہ میں اس کوقتل کردو ں ؟تو حضورتاجدارختم نبوت ْﷺنے فرمایاکہ ہاں ،پھر عرض کیایارسول اللہ ﷺ !آپ مجھے اجازت دیں تاکہ میں کچھ کہہ سکوں ،توحضورتاجدارختم نبوت ْﷺنے فرمایاکہ اجازت ہے ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب بن اشرف کے پاس آئے اور کہایہ شخص ہم سے صدقات مانگتاہے اس نے ہم کو تکلیف میں ڈال رکھاہے ،میں تیرے پا س قرض طلب کرنے آیاہوں ، اس نے کہاخداکی قسم! تم اس سے اور بھی دکھ اٹھائوگے ، حضرت سیدنامحمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہاکہ ہم اسکی اتباع کرچکے ہیں یہ پسند نہیں کرتے کہ اس کو چھوڑ دیں ، دیکھتے ہیں کہ یہ معاہدہ کیارخ اختیارکرتاہے ،ہماراارادہ ہے کہ تم ہم کو ایک ،دووسق قرض دو ،(ایک وسق ساٹھ صاع کاہوتاہے اور ایک صاع تقریباچار کلو کاہوتاہے لھذاایک وسق تقریباچھے من کاہوا)کعب بن اشرف نے کہا: ہاں قرض لے لو مگر میرے پاس کچھ رہن رکھ دو ( تو محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھیوں رضی اللہ عنہم )نے کہا:کس چیز کاارادہ کرتے ہو؟ کعب بن اشرف نے کہاکہ تم اپنی عورتوں کو رہن رکھو، انہوں نے کہاکہ ہم اپنی عورتوں کو تمھارے پاس کیسے رہن رکھیں ؟حالانکہ تم سارے عرب میں خوبصورت اور حسین ہو ، اس نے کہاکہ اپنے بیٹے رہن رکھو، انہوں نے کہاہم اپنے بیٹے تمھارے پاس کیسے رہن رکھ دیں جوکوئی ان کے ساتھ لڑے گاان کوگالی دے گا ، ایک یادو وسق میں گروی رکھے ہوئے یہ ہمارے لئے بہت شرمندگی اور ندامت کی بات ہے البتہ ہم تمھارے پاس ہتھیار رہن رکھ سکتے ہیں ،اس سے پھر دوسری بار آنے کاوعدہ کیا،چنانچہ حضرت سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ رات کے وقت اس کے پاس آئے ابونائلہ جو کہ کعب بن اشرف کارضاعی بھائی بھی ان کے ساتھ تھادوسری روایت کے مطابق حارث بن اوس ، ابوعبس بن جبیر اور عباد بن بشیر کو بھی ساتھ لانے کاوعدہ کیا ، غرضیکہ کعب نے قلعہ میں بلالیا، ان کی طرف نیچے اترنے لگا،اس کی بیوی بولی اس وقت کہاں جارہے ہو؟ میں اسوقت ایسی آواز سن رہی ہوں گویاکہ اس سے خون ٹپک رہاہے ، کعب نے کہاکہ محمد بن مسلمہ اور میرارضاعی بھائی ابونائلہ ہے کوئی فکر کی بات نہیں ہے ،خاندانی شریف آدمی کو رات کے وقت بھی نیزہ زنی کے لئے بلایاجائے تواس کو قبول کرلیناچاہئے ،ادھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہاجب کعب بن اشرف آئے گاتو میں اس کے سر کے بال پکڑ کر سونگھوں گا ، جب تم دیکھوکہ میں نے اسکاسر مضبوطی سے پکڑلیاہے تو تم اس کے قریب ہوکر اسکو قتل کردینا ، چنانچہ کعب بن اشرف کپڑااوڑھے ہوئے ان کے پاس آیااس حال میں کہ اس سے خوشبو مہک رہی تھی ،محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہامیں نے آج کے دن کی طرح خوشبودار ہواکبھی بھی محسوس نہیں کی ، کعب بن اشرف نے کہامستورات عرب کی سردار زیادہ خوشبووالی میرے پاس ہے ،محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیامیں تمھاراسر سونگھ سکتاہوں ؟ کعب نے کہاکہ سونگھ لو، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کوسونگھااور اپنے ساتھیوں کو بھی اس کی دعوت دی ، ایک بار دوبار ہ خواہش کرتے ہوئے کہا: کیامیں ایک بار پھر سونگھ سکتاہوں ؟ کعب بن اشرف نے کہاکہ اجازت ہے ،جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اسکو پوری طرح قابو کرلیاتو اپنے ساتھیوں کو کہاکہ قریب آجائواور اسکوقتل کردو ،توانہوں نے ایساہی کیاپھر رسول اللہ ﷺکی بارگاہ میں حاضرہوئے تورسول اللہ ﷺکو پورے قصے کی اطلاع دی ۔ (المستدرک علی الصحیحین:أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم(۳:۴۹۲)یہودی گھبراگئے
ثُمَّ انْتَہَوْا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صلّی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ:أَفْلَحَتِ الْوُجُوہُ فقَالُوا:وَوَجْہُکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ، وَرَمَوْا بِرَأْسِہِ بَیْنَ یَدَیْہِ فَحَمِدَ اللَّہَ عَلَی قَتْلِہِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ:مَنْ ظَفَرْتُمْ بِہِ مِنْ رِجَالِ یَہُودٍ فَاقْتُلُوہُ، فَخَافَتِ الْیَہُودُ فَلَمْ یَطْلُعُ مِنْہُمْ أَحَدٌ وَلَمْ یَنْطِقُوا وَخَافُوا أَنْ یُبَیَّتُوا کَمَا بُیِّتَ ابْنُ الْأَشْرَفِ. ترجمہ :امام ابن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کعب بن اشرف یہودی کو قتل کرکے آئے توحضورتاجدارختم نبوت ﷺان کے انتظارمیں تشریف فرماتھے ، ان کو دیکھتے ہی حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: یہ چہرے کامیاب ہوگئے ، آنے والوں نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ!آپ ﷺ کاچہرہ مبارک بھی بامراد ہو، آنے والوں نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے سامنے کعب بن اشرف کاکٹاہواسرڈال دیاتوآپ ﷺنے اس کے قتل پراللہ تعالی کاشکراداکیا، لوگوں نے اپنے ساتھی حارث رضی اللہ عنہ کو پیش کیاتوحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ان کے زخم پراپنالعاب دہن لگایاجس کی وجہ سے پھرزخم نے تکلیف نہیں دی اورلوگ اپنے گھروں کولوٹ گئے ۔ صبح کے وقت حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: جویہودی مردتمھارے ہاتھ لگے اس کوقتل کردو۔اس کے بعد سارے یہودی گھبراگئے ، پھران کے بڑے لوگوں میں سے کسی نے گردن نہیں اٹھائی اورکچھ نہ بولے ۔ان کو اندیشہ ہوگیاکہ کہیں ہم بھی کعب ابن الاشرف کی طرح رات کوقتل نہ کردئیے جائیں۔ (الطبقات الکبری:أبو عبد اللہ محمد بن سعد بن منیع البغدادی المعروف بابن سعد(۲:۳۳)اہم مسئلہ
احتج الشافعی بہذہ القصۃ علی جواز قتل من سبّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من الکفار او انتفصہ او أذاہ سواء کان بعہد او بغیر عہد۔ ترجمہ :کعب بن اشرف یہودی کے قصہ سے امام الشافعی رضی اللہ عنہ نے استدلال کیاہے اگرکوئی کافرحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی گستاخی کرے یاآپ ﷺکی توہین کرے یاآپ ﷺکو دکھ پہنچائے تواس کوقتل کردیناجائز ہے خواہ وہ معاہدہویاغیرمعاہد۔ (التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۱:۱۹۱)اس کو غداری کہنے والابھی واجب القتل ہے
لا یجوز ان یقال ان ہذا کان غدرا من محمد بن مسلمۃ وابو نائلۃ رضی اللہ عنہما وقد قال ذلک رجل فی مجلس امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ فضرب عنقہ وانما یکون الغدر بعد أمان ولم یؤمنہ محمد بن مسلمۃ ولا رفقتہ رضی اللہ عنہم بحال وانما کلمہ فی امر البیع والرہن الی ان تمکن من ترجمہ :امام قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ کعب بن اشرف کے قتل کوحضرت سیدنامحمدبن مسلمہ رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناابونائلہ رضی اللہ عنہ کی غداری کہناجائز نہیں ہے کیونکہ ایک شخص نے حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ کی مجلس میں ایساہی کہاتھاتوآپ رضی اللہ عنہ نے اس کوقتل کردیاتھا، غداری توامان دینے کے بعد ہوسکتی ہے مگرحضرت سیدنامحمدبن مسلمہ رضی اللہ عنہ اورآپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوںنے کعب بن اشرف کو امان نہیں دی تھی ۔ صرف بیع اوررہن کی گفتگوکرتے ہوئے اس پرقابوپالیاتھا۔ (التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۱:۱۹۱)گستاخوں کو قتل کرنااس آیت کریمہ کے منافی نہیں ہے
قلت والمراد بالصبر عدم الجزع والانقیاد عند ابتلاء اللہ العبد وترک الاعتراض علیہ وذا لا ینافی الانتقام من الکفار إذا آذوا المسلمین کما دل علیہ قصۃ ابن الأشرف لعنہ اللہ واللہ اعلم۔ ترجمہ :امام قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ صبرسے مراد ہے آزمائشوں کے وقت بے قرارنہ ہوجانااورفرمانبرداررہنااورمصائب نازلہ پر اعتراض نہ کرنالیکن اگرکفارمسلمانوں کو ایذادیں تو ان سے انتقام لیناصبرکے منافی نہیں ہے جیساکہ کعب ابن اشرف لعنتی کے قصہ سے واضح ہورہاہے۔ (التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۱:۱۹۱)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9