صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2222 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ آل عمران آیت ۳۱۔۳۲۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,436

سوال (Question):

تفسیر سورہ آل عمران آیت ۳۱۔۳۲۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی اتباع کے فرض ہونے کابیان اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺپرمنافقین کے شرک کے الزام لگانے کابیان

{قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ}(۳۱){قُلْ اَطِیْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَ}(۳۲) ترجمہ کنزالایمان :اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔تم فرمادو کہ حکم مانو اللہ اور رسول کا پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کو خوش نہیں آتے کافر ۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اے حبیب کریم ﷺ!آپ ﷺفرمادیں کہ لوگو! اگرتم اللہ تعالی سے محبت رکھتے ہوتومیرے فرمانبرداربن جائو، اللہ تعالی تم سے محبت فرمائے گااورتمھارے گناہ بھی معاف فرمادے گااوراللہ تعالی بخشنے والامہربان ہے ۔ اے حبیب کریم ﷺ! آپﷺ فرمادیں تم اللہ تعالی اوراس کے رسول کریم ﷺکاحکم مانو،پھراگروہ اطاعت سے منہ پھیریں تواللہ تعالی دوست نہیں رکھتاکفرکرنے والوں کو ۔ شان نزول کے متعلق پہلاقول وَالْآیَۃُ نَزَلَتْ فِی وَفْدِ نَجْرَانَ إِذْ زَعَمُوا أَنَّ مَا ادَّعَوْہُ فِی عِیسَی حُبٌّ لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ،قَالَہُ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ۔ ترجمہ :امام محمدبن جعفربن زبیررحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ نجران کے وفد کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوںنے یہ گمان کیاکہ انہوںنے جوحضرت سیدناعیسی علیہ السلام کے بارے میں (غلط عقائد ونظریات ) کہے ہیں وہ اللہ تعالی کی محبت کی وجہ سے ہیں ۔ (اللباب فی علوم الکتاب:أبو حفص سراج الدین عمر بن علی بن عادل الحنبلی الدمشقی النعمانی (۵:۱۵۷) دوسراقول وَقَالَ الْحَسَنُ وَابْنُ جُرَیْجٍ:نَزَلَتْ فِی قَوْمٍ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ قَالُوا:نَحْنُ الَّذِینَ نُحِبُّ رَبَّنَا۔ ترجمہ :امام حسن اورامام ابن جریج رحمہمااللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ اہل کتاب کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، انہوںنے کہاتھاکہ ہم ہیں وہ لوگ جو اپنے رب تعالی سے محبت کرتے ہیں ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۴:۶۰) تیسراقول وَرُوِیَ أَنَّ الْمُسْلِمِینَ قَالُوا:یَا رَسُولَ اللَّہِ،وَاللَّہِ إِنَّا لَنُحِبُّ رَبَّنَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ:قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّہَ فَاتَّبِعُونِی۔ ترجمہ :اوریہ روایت کیاگیاہے کہ اہل اسلام نے حبیب کریم ﷺکی بارگاہ اقدس میں عرض کی : یارسول اللہ ﷺ! خداتعالی کی قسم ! ہم اپنے رب تعالی سے محبت کرتے ہیں، تب اللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (التفسیر الوسیط:مجموعۃ من العلماء بإشراف مجمع البحوث الإسلامیۃ بالأزہر(۱:۵۵۲) چوتھاقول وَیُرْوَی أَنَّہُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَی قُرَیْشٍ وَہُمْ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ یَسْجُدُونَ لِلْأَصْنَامِ فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ وَاللَّہِ لَقَدْ خَالَفْتُمْ مِلَّۃَ إِبْرَاہِیمَ، فَقَالَتْ قُرَیْشٌ: إِنَّمَا نَعْبُدُ ہَذِہِ حُبًّا لِلَّہِ تَعَالَی لِیُقَرِّبُونَا إِلَی اللَّہِ زُلْفَی، فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ۔ ترجمہ :ایک مرتبہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺمسجد الحرام میں تشریف لائے توقریش وہاں بتوں کو سجدے کررہے تھے، آپ ﷺنے فرمایا: اے قریش ! اللہ تعالی کی قسم ! تم ملت ابراہیمی کی مخالفت کررہے ہو۔ توقریش نے کہا: ہم ان بتوں کی عبادت اللہ تعالی کی محبت کی خاطرکررہے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ تعالی کے خوب قریب کردیں ۔ تواس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ (زاد المسیر فی علم التفسیر:جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی (ا:۲۷۳)

علامات محبت

وَقَالَ سَہْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ:عَلَامَۃُ حُبِّ اللَّہِ حُبُّ الْقُرْآنِ،وعلامۃ حب الْقُرْآنِ حُبُّ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،وَعَلَامَۃُ حُبِّ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُبُّ السُّنَّۃِ،وَعَلَامَۃُ حُبِّ اللَّہِ وَحُبِّ الْقُرْآنِ وحب النبی وَحُبِّ السُّنَّۃِ حُبُّ الْآخِرَۃِ،وَعَلَامَۃُ حُبِّ الْآخِرَۃِ أن یجب نَفْسَہُ،وَعَلَامَۃُ حُبِّ نَفْسِہِ أَنْ یُبْغِضَ الدُّنْیَا، وَعَلَامَۃُ بُغْضِ الدُّنْیَا أَلَّا یَأْخُذَ مِنْہَا إِلَّا الزَّادَ وَالْبُلْغَۃَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناسہل بن عبداللہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کی محبت علامت قرآن کریم کی محبت ہے ، اورقرآن کریم کی محبت کی علامت حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی محبت کی علامت ہے اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی محبت کی علامت سنت کریمہ کی محبت ہے ۔ اوراللہ تعالی کی محبت اورقرآن کریم کی محبت ،حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی محبت اورسنت کی محبت کی علامت آخرت کی محبت ہے اورآخرت کی محبت کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے آپ سے محبت کرے اوراپنے نفس سے محبت کی علامت یہ ہے کہ دنیاسے بغض رکھے اوردنیاکے بغض کی علامت یہ ہے کہ وہ اس سے صرف زاد راہ اورگزارہ کی مقدارحاصل کرے ۔ (الجامع لتفسیر ابن رجب الحنبلی:زین الدین عبد الرحمن بن أحمد بن رجب الحنبلی (۱:۴۳۹)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی اتباع سے انکارکرنے والامومن نہیں

وَبِالْجُمْلَۃِ فَکُلُّ وَاحِدٍ مِنْ فِرَقِ الْعُقَلَاء ِ یَدَّعِی أَنَّہُ یُحِبُّ اللَّہَ،وَیَطْلُبُ رِضَاہُ وَطَاعَتَہُ فَقَالَ لِرَسُولِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:قُلْ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ فِی ادِّعَاء ِ مَحَبَّۃِ اللَّہِ تَعَالَی فَکُونُوا مُنْقَادِینَ لِأَوَامِرِہِ مُحْتَرِزِینَ عَنْ مُخَالَفَتِہِ، وَتَقْدِیرُ الْکَلَامِ:أَنَّ مَنْ کَانَ مُحِبًّا لِلَّہِ تَعَالَی لَا بُدَّ وَأَنْ یَکُونَ فِی غَایَۃِ الْحَذَرِ مِمَّا یُوجِبُ سَخَطَہُ، وَإِذَا قَامَتِ الدَّلَالَۃُ الْقَاطِعَۃُ عَلَی نُبُوَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ مُتَابَعَتُہُ،فَإِنْ لَمْ تَحْصُلْ ہَذِہِ الْمُتَابَعَۃُ دَلَّ ذَلِکَ عَلَی أَنَّ تِلْکَ الْمَحَبَّۃَ مَا حَصَلَتْ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ الغرض ان اہل عقل فرقوں میں سے ہرکوئی یہی دعوی کرتاہے کہ وہ اللہ تعالی سے محبت کرتاہے اوراس کی رضاکاطلب گارہے ، تواللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم ﷺسے فرمایا: انہیں بتادیںاگرتم اللہ تعالی کے ساتھ محبت کے دعوے میں سچے ہوتواس کے احکام ماننے والے بن جائواوراس کی مخالفت سے بچنے والے بن جائو۔ اب پوری عبارت یوں ہوگی ’’جواللہ تعالی سے محبت کرنے والاہے اس کے لئے لازم وضروری ہے کہ وہ ہر اس کام سے بچے جو اللہ تعالی کی ناراضگی کاسبب بنتاہو، چونکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی نبوت پر قطعی دلائل قائم ہیں ، اس لئے ان کی اتباع لازم ہے ، اگریہ اتباع حاصل نہیں تواس سے واضح ہوجائے گاکہ اللہ تعالی کی محبت بھی حاصل نہیں ہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۸:۱۹۷) جب تک اپنی خواہشات سنت کے تابع نہ کرے ۔۔۔ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍوقَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَنْ یَسْتَکْمِلَ مُؤْمِنٌ إِیمَانَہُ حَتَّی یَکُونَ ہَوَاہُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُکُمْ بِہِ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: کہ مومن کاایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوگاجب تک اس کی خواہش نفس اس پیغام حق کے تابع نہ ہوگی جو میں تمھارے پاس لایاہوں۔ (المدخل :أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی:۱۸۸)

منکرسنت کے متعلق پیشین گوئی

عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَا أُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ مُتَّکِئًا عَلَی أَرِیکَتِہِ یَأْتِیہِ الْأَمْرُ مِنْ أَمْرِی مِمَّا أَمَرْتُ بِہِ أَوْ نَہَیْتُ عَنْہُ فَیَقُولُ:مَا نَدْرِی،مَا وَجَدْنَا فِی کِتَابِ اللَّہِ اتَّبَعْنَاہُ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:میں تم میں سے کسی کو نہ پائوں کہ وہ اپنے تکیہ پرٹیک لگائے ہوئے ہواوراس کے پاس میراحکم پہنچے جس کامجھے حکم دیاگیایااس سے منع کیاگیاہوتووہ کہے کہ ہم کچھ نہیں جانتے ، ہم توصرف اسی پرعمل کریں گے جو ہمیں قران پاک میں ملے گا۔ (المسند:الشافعی أبو عبد اللہ محمد بن إدریس بن العباس:۱۵۱) {قُلْ اَطِیْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَ}(۳۲) شان نزول یُرْوَی أَنَّہُ لَمَّا نَزَلَ قَوْلُہُ قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّہَ الْآیَۃَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ:إِنَّ مُحَمَّدًا یَجْعَلُ طَاعَتَہُ کَطَاعَۃِ اللَّہِ، وَیَأْمُرُنَا أَنَّ نُحِبَّہُ کَمَا أَحَبَّتِ النَّصَارَی عِیسَی،فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ۔ ترجمہ: جب یہ آیت{قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّہَ فَاتَّبِعُونِی یُحْبِبْکُمُ اللَّہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِیمٌ}نازل ہوئی تو عبداللہ بن ابی منافق نے کہاکہ محمد(ﷺ) نے اپنی اطاعت کو اللہ تعالی کی اطاعت قراردے دیاہے اورہمیں کہتے ہیں کہ ہم ان سے ایسے محبت کریں جس طرح نصرانی حضرت سیدناعیسی علیہ السلام سے کرتے ہیں تواللہ تعالی نے ان کے رد میں یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔ (تفسیر البغوی:محیی السنۃ، أبو محمد الحسین بن مسعود البغوی(۲:۲۷)

امام رازی رحمہ اللہ تعالی کازبردست کلام

وَتَحْقِیقُ الْکَلَامِ أَنَّ الْآیَۃَ الْأُولَی لَمَّا اقْتَضَتْ وُجُوبَ مُتَابَعَتِہِ،ثُمَّ إِنَّ الْمُنَافِقَ أَلْقَی شُبْہَۃً فِی الدِّینِ، وَہِیَ أَنَّ مُحَمَّدًا یَدَّعِی لنفسہ مثل مَا یَقُولُہُ النَّصَارَی فِی عِیسَی،ذَکَرَ اللَّہُ تَعَالَی ہَذِہِ الْآیَۃَ إِزَالَۃً لِتِلْکَ الشُّبْہَۃِ، فَقَالَ:قُلْ أَطِیعُوا اللَّہَ وَالرَّسُولَ یَعْنِی إِنَّمَا أَوْجَبَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ مُتَابَعَتِی لَا کَمَا تَقُولُ النَّصَارَی فِی عِیسَی بَلْ لِکَوْنِی رَسُولًا مِنْ عِنْدِ اللَّہِ، وَلَمَّا کَانَ مُبَلِّغُ التَّکَالِیفِ عَنِ اللَّہِ ہُوَ الرَّسُولَ لَزِمَ أَنْ تَکُونَ طَاعَتُہُ وَاجِبَۃً فَکَانَ إِیجَابُ الْمُتَابَعَۃِ لِہَذَا الْمَعْنَی لَا لِأَجْلِ الشبہۃ الَّتِی أَلْقَاہَا الْمُنَافِقُ فِی الدِّینِ ثُمَّ قَالَ تَعَالَی:فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّہَ لَا یُحِبُّ الْکافِرِینَ یَعْنِی إِنْ أَعْرَضُوا فَإِنَّہُ لَا یَحْصُلُ لَہُمْ مَحَبَّۃُ اللَّہِ، لِأَنَّہُ تَعَالَی إِنَّمَا أَوْجَبَ الثَّنَاء َ وَالْمَدْحَ لِمَنْ أَطَاعَہُ، وَمَنْ کَفَرَ اسْتَوْجَبَ الذِّلَّۃَ وَالْإِہَانَۃَ، وَذَلِکَ ضِدُّ الْمَحَبَّۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ کلام کی تفصیل یہ ہے کہ پہلی آیت کریمہ کاتقاضاحضورتاجدارختم نبوتﷺکی اتباع کافرض ہوناہے اس پرمنافق نے دینی لحاظ سے شبہ پیداکردیاکہ محمدﷺاپنی ذات کے لئے اسی شئی کی دعوت دے رہے ہیں ، جس کی نصاری نے حضرت سیدناعیسی علیہ السلام کے بارے میں دعوت دی ۔تواللہ تعالی نے اس منافق کے شبہ کے ازالے کے لئے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔{قُلْ اَطِیْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَ}اے حبیب کریم ﷺ!آپ فرمادیں تم اللہ تعالی اوراس کے رسول کریم ﷺکاحکم مانو۔ یعنی اللہ تعالی نے میری اتباع لازم کی ہے نہ کہ اس طرح جونصاری حضرت سیدناعیسی علیہ السلام کے بارے میں کہتے ہیں بلکہ یہ اس لئے ہے کہ میں اللہ تعالی کی طرف سے رسول (ﷺ) ہوں ، جب اللہ تعالی کی طرف سے احکام پہنچانے والارسول ہی ہوتاہے تواس رسول کی اطاعت یقینالازم ہوگی ۔ تواب متابعت کے لزوم کی وجہ یہ ہوگی نہ کہ وہ شبہ جو رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ذلیل نے دین میں پیداکرنے کی کوشش کی ۔ { فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَ}یعنی اگرانہوںنے اعراض کیاتوانہیںاللہ تعالی کی محبت راس نہیں آئے گی ، اس لئے کہ اللہ تعالی نے مدح کامستحق اسے ہی بنایاہے جو اس کی اطاعت کرے اورجو انکارکرے وہ ذلت واہانت کامستحق ہے جومحبت کی ضدہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۸:۱۹۷)

معارف ومسائل

(۱)ایک مسلمان کو جس طرح قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ضروری ولازمی ہے، اسی طرح سنت کی اتباع بھی ضروری ہے، کسی شخص کے لیے اس سے مفر نہیں کہ وہ سنت کو چھوڑ کر صرف اور صرف قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرے، برصغیر پاک و ہند میں جہاں دین کے خلاف اور بہت سارے فتنے وجود میں آئے وہاں انکار حدیث اور انکار سنت کا فتنہ بھی وجودمیں آیا اور اس کی بنیاد ان لوگوں نے رکھی جن کے نزدیک عقل ہی معیار زندگی ہے اور جو چیز عقل میں نہ آتی ہو اس کا انکار کردیتے، اس طرح ان لوگوں نے معجزات وغیر ہ کا بھی انکار کیا اور آپﷺکی سنت کا بھی انکار کیا، جس کی وجہ سے ایک بڑا طبقہ اس کی زد میں آیا اور حدیث رسول کا انکار کر بیٹھا۔ (۲)شریعت کے قوانین وضوابط اپنی جگہ، مگر فطرت کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں ،محبت کے کچھ اصول ہوتے ہیں ۔ انسانی فطرت ہے کہ جو جتنا بڑا محسن ہوتا ہے طبیعت اس کی جانب مائل ہوتی اور اس کے رنگ میں رنگنے کا جی چاہتا ہے۔محب ہمہ تن اسی جستجو میں رہتا ہے کہ محبوب کی محبت میں اضافہ ہی ہوتا چلاجائے ۔امت محمد یہ میں کوئی فرداس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتاجب تک حضور تاجدارختم نبوت ﷺکی محبت سب محبتوں پر غالب نہ ہو ،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا{النَّبِیُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أَنفُسِہِمْ }(احزاب:۶) مسلمانوں نے آپﷺ کی محبت میں ایسے ایسے کارنامے سر انجام دیے ہیں کہ دنیا ان جیسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ہر زمانے کے مسلمانوں نے اپنا تن ،من ،دھن آپﷺکی ناموس عصمت پرنچھاورکیا ہے۔ محب تو محب رہا، محبوب کے کیا کہنے !ہر وقت وہر گھڑی اپنی امت ہی کی فکر میں ہیں عرش ہویا فرش ،دن ہویا رات ،گرمی ہویا سردی، صحت ہویا مرض،خوشی ہویاغمی، مرض الموت ہویا قیامت،حشر ہویا نشر ،ہر وقت ایک ہی صدا، ایک ہی ندا،ایک ہی پکار اور ایک ہی التجاہے ،یارب امتی، امتی!آپﷺہم سے اتنی محبت کرتے ہوں اور حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ہم پراتنے احسانات ہوں ،اس کے باوجود بھی ہم سنتوں کو سنت کہہ کر چھوڑدیں تو کہاں کا انصاف ہے؟یقینا ہم کچھ بھول رہے ہیں۔ (۳)صحا بہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں منکر ِسنت کی سزا قتل ہے ۔ اب وہ لوگ اپنے انجام پر غور کریں جو اپنی زندگی کے مختلف مو اقع میں سنت رسول کو جاننے کے باوجود تر ک کردیتے ہیں اور عملاً گویا منکر ہوتے ہیں، وہ اگر دنیا وی سزا سے بچ جا ئیں گے تو کیا وہ آخری عذاب سے بھی بچ جائیں گے ؟ ترک سنت سے اللہ تعالیٰ کا غضب، قہر اور غصہ نازل ہو تا ہے اور زندگی کے خوب صورت پہلو مر جاتے ہیں ،حضورتاجدارختم نبوت ﷺ نے تارکِ سنت کو اپنی شفاعت سے محروم فرما دیا۔ (۴)آج سے ایک صدی قبل لارڈ میکا لے نے کہا تھا کہ میں ایسا نصاب اور پرو گرام تشکیل دوں گا ، جس سے یہ مسلمان اگر یہودی اور عیسائی نہ بن سکے تو مسلمان بھی نہیں رہیں گے۔ آج اس شاطر دماغ کا دعوی سچ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلمان آباد ہیں ، فرد ہو یا جماعت ، ایک گھر ہو یا پورا خاندان ،ایک چھوٹی سی بستی ہو یا بڑے سے بڑاشہر، غیر مسلم ممالک میں رہنے والی مسلم اقلیت ہو یا مسلم ممالک کی غالب اکثریت ، ہر فرد مسلمان ہونے کا دعویٰ تو کرتا ہے، مگر شکل و صورت اور وضع قطع سے وہ کہیں سے بھی مسلمان نہیں لگتا ۔ سنت کو سنت کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ ہرطرف، ہر جانب اتباع سنت کا فقدان ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ جہاں ایک طرف مسلمان مغلوب ہیں، ان کا خون ندی نالو ں کی طرح بہہ رہاہے، مسلمانوں کی بستیاں روئی کے گا لو ں کی طرح اُ ڑ رہی ہیں اور لمحہ بھر میں سینکڑوں مسلمان لقمہ اجل بن جاتے ہیں ، وہاں دوسری طرف اسلام پر نزع کا عالم طاری ہے ، ہر طرف فحاشی و عریانی کا طوفان برپا ہے ، مادیت کا سیلاب رواں ہے ۔ ہر طرف مغربیت کی گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں، بدکاری اور شراب نوشی عام ہے ، رب کی نا فرمانیاں حد سے تجاوز کر چکی ہیں، ہر کوئی الحاد، زندقہ،بد دینی اوربے دینی میں مبتلا ہے، اخلاقی اقدار، روحانی بصیرت اور ایمانی جوہر کھو چکا ہے۔انٹر نیٹ، کمپیوٹر ، ٹیلی ویژن اور میڈیا کی تباہ کاریاں عام ہیں ، مساجد اور خانقاہیں ویران، جب کہ سینما گھر اور نیٹ کلب آباد ہیں۔ (۵)حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی سنت پر کار بند رہنا واجب ہے، اس عمل پر آپکو اگر کوئی طعنے بھی سننے پڑیں تو اس کی پرواہ نہ کریں، اور اگرحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی سنت کا تعلق واجبات سے ہو تو پھر ان کی پابندی واجب ہو جائے گی، جبکہ مستحبات کی پابندی مستحب ہی رہے گی، اور اگر معاملہ تشدد تک پہنچ جائے تو آپ تشدد سے گریز کریں، اس لیے آپ میانہ روی اور اعتدال پسندی کی روش اختیار کرتے ہوئے غلو اور تشدد کے بغیر سنتوں پر عمل پیرا رہیں، اس کیلئے سستی اور زیادتی کا شکار مت ہوں، آپ اسی ڈگر پر گامزن رہیں۔بہر حال آپ کو ان شاء اللہ ثواب ملے گا، اور آپ سنت نبوی ﷺپر سختی سے عمل پیرا رہیں۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh