Fatwa #2226
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۸۱۔۸۲۔ وَ اِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثٰقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآء َکُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,860
سوال (Question):
تفسیر سورہ آل عمران آیت ۸۱۔۸۲۔ وَ اِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثٰقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآء َکُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے دین کے معاملے میں اورآپ ﷺکی عزت وناموس پرپہرہ دینے کے معاملے میں آپ ﷺکی مددکرنافرض ہے
{وَ اِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثٰقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآء َکُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہ قَالَ ء َاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْہَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰہِدِیْنَ}(۸۱){فَمَنْ تَوَلّٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ}(۸۲)
ترجمہ کنزالایمان:اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا فرمایاتو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوںتو جو کوئی اس کے بعد پھرے تو وہی لوگ فاسق ہیں ۔
ترجمہ ضیاء الایمان:اور یاد کرو جب اللہ تعالی نے انبیاء کرام علیہم السلام سے وعدہ لیا کہ میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کروں گا پھر تمہارے پاس وہ عظمت والارسول ﷺتشریف لائے گا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو گاتو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔ اللہ تعالی نے فرمایا :اے جماعت انبیاء کرام علیہم السلام کیا تم نے (اس حکم کا)اقرار کرلیا اور اس اقرارپر میرا بھاری ذمہ لے لیا؟ سب نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کی، ہم نے اقرار کرلیا ۔اللہ تعالی نے فرمایا: تواب ایک دوسرے پر بھی گواہ بن جاؤ اور میں خود (بھی)تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔ پھرجو کوئی اس اقرار کے بعدروگردانی کرے گاتو وہی لوگ نافرمان ہوں گے۔
اللہ تعالی نے میثا ق لیا
یُخْبِرُ تَعَالَی أَنَّہُ أَخَذَ مِیثَاقَ کُلِّ نَبِیٍّ بَعَثَہُ مِنْ لَدُنْ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ إِلَی عِیسَی عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمَہْمَا آتَی اللَّہُ أَحَدَہُمْ مِنْ کِتَابٍ وَحِکْمَۃٍ، وَبَلَغَ أَیَّ مَبْلَغٍ، ثُمَّ جَاء َہُ رَسُولٌ مِنْ بَعْدِہِ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ وَلَیَنْصُرَنَّہُ، وَلَا یَمْنَعْہُ مَا ہُوَ فِیہِ مِنَ الْعِلْمِ وَالنُّبُوَّۃِ مِنَ اتِّبَاعِ مَنْ بُعِثَ بَعْدَہُ وَنُصْرَتِہِ وَلِہَذَا قَالَ تَعَالَی وَتَقَدَّسَ وَإِذْ أَخَذَ اللَّہُ مِیثاقَ النَّبِیِّینَ لَما آتَیْتُکُمْ مِنْ کِتابٍ وَحِکْمَۃٍ أَیْ لَمَہْمَا أَعْطَیْتُکُمْ مِنْ کِتَابٍ وَحِکْمَۃٍ ثُمَّ جاء َکُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِما مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہِ وَلَتَنْصُرُنَّہُ قالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلی ذلِکُمْ إِصْرِی ۔
ترجمہ :امام بو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی المتوفی : ۷۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہاں یہ بیان کیاجارہاکہ حضرت سیدناآدم علیہ السلام سے لیکر حضرت سیدناعیسی علیہ السلام تک تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے وعدہ لیاکہ جب کبھی ان میں سے کسی کو بھی اللہ تعالی کتاب وحکمت دے اوروہ بڑے مرتبے تک پہنچ جائے پھراس کے بعد اسی کے زمانے میں حضورتاجدارختم نبوتﷺتشریف لے آئیں تو ان پر ایمان لانااوران کی مددکرنااس پرفرض ہوگا، یہ نہ ہوکہ اپنے علم ونبوت کی وجہ سے اپنے بعد والے نبی کی مدداوراتباع سے رک جائے ، پھران سے پوچھاکہ کیاتم اس بات کااقرارکرتے ہو؟ اوراسی عہد اورمیثاق پر مجھے ضامن ٹھہراتے ہو؟ سب نے کہاکہ ہاں ہمارااقرارہے تواللہ تعالی نے فرمایاکہ تم گواہ رہواورمیں خود بھی گواہ ہوں ، اب اس عہداورمیثا ق سے جو پھرجائے وہ قطعی نافرمان ہے ۔
(تفسیر ابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۲:۵۸)
امام احمدرضاحنفی الماتریدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
اس عہد ربانی کے مطابق ہمیشہ حضرات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء نشرمناقب وذکر مناصب حضور سید المرسلین صلٰوۃ اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین سے رطب اللسان رہتے اور اپنی پاک مبارک مجالس ومحافل ملائکہ منزل کو حضور کی یاد ومدح سے زینت دیتے ، اور اپنی امتوں سے حضورپرنورﷺپر درود، ایمان لانے اورمدد کرنے کا عہد لیتے ۔
(فتاوی رضویہ شریف لامام احمدرضاحنفی ( ۳۰:۱۳۵)
امیرکاعہدپیروکارکاعہدہے
وقیل معناہ أخذ اللہ میثاق اہل الکتاب ففی الکلام اما حذف مضاف تقدیرہ أخذ اللہ میثاق أولاد النبیّین وہم بنو إسرائیل اہل الکتاب واما سماہم نبیین تہکما لانہم کانوا یقولون نحن اولی بالنبوۃ من محمد لانا اہل الکتاب والنبیون کانوا مناواما اضافۃ المیثاق الی النبیین اضافۃ الی الفاعل والمعنی إذ أخذ اللہ المیثاق الذی وثقہ النبیون علی أممہم ویؤیدہ قراء ۃ ابن مسعود وابی بن کعب وإذ أخذ اللہ میثاق الّذین أوتوا الکتبوالصحیح ہو المعنی الاول المنطوق من القراء ۃ المتواترۃ فاخذ اللہ المیثاق من موسی ان یؤمن بعیسی ویأمر قومہ ان یؤمنوا بہ ومن عیسی ان یؤمن بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم ویأمر قومہ ان یؤمنوا بہ ومن ثم قال عیسی یبنی اسراء یل انّی رسول اللہ إلیکم مصدّقا لمّا بین یدیّ من التّوریۃ ومبشّرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد والقراء ۃ المتواترۃ لا ینافی قراء ۃ ابن مسعود لان العہد من المتبوع عہد من التابع۔
ترجمہ:حضرت سیدناقاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بعض علماء کرام نے یہ بھی لکھاہے کہ میثاق النبیین سے میثاق اہل کتاب مراد ہے یعنی بنی اسرائیل سے اللہ تعالی نے یہ عہدلیاتھا، اس صورت میں یامضاف محذوف ماناجائے گایعنی میثاق اولادالنبیین ۔ یابطوراستہزاء میثاق اہل کتاب کو میثاق انبیاء فرمایاکیونکہ اہل کتاب کاخیال تھاکہ ہم اہل کتاب ہیں اورہم ہی محمدﷺسے زیادہ نبوت کے مستحق ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ میثاق کی اضافت فاعل کی طرف ہے ۔ انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی امتوں سے عہدلیاتھا، اس توجیہ کی تائیدحضرت سیدناعبداللہ بن مسعو درضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرات سے ہوتی ہے ۔ ان دونوں حضرات کی قرات میں {میثاق الذین اوتوالکتاب }ہے (النبیین نہیں ہے )
مزیدفرماتے ہیں کہ صحیح مطلب وہی ہے جوہم نے پہلے بیان کیاہے اوروہی متواترقرات کے موافق ہے ، اللہ تعالی نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام سے عہدلیاتھاکہ آپ خود حضرت عیسی علیہ السلام کی تصدیق کرواوراپنی امت کو بھی حکم دوکہ وہ ان پر ایمان لائیں ۔ حضرت سیدناعیسی علیہ السلام سے بھی عہدلیاتھاکہ تم خود حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی تصدیق کرو اوراپنی امت کو بھی حکم دوکہ وہ بھی ان پر ایمان لائیں اوران کی مددکریں ۔ اسی لئے حضرت سیدناعیسی علیہ السلام نے فرمایاتھا:{وَ اِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْٓ اِسْرٰٓء ِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰیۃِ وَ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٓ اَحْمَدُ فَلَمَّا جَآء َہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا ہٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ }
ترجمہ کنزالایمان:اور یاد کرو جب عیسٰی بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوںجو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے پھر جب احمد ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تشریف لائے بولے یہ کُھلا جادو ہے ۔
پھرحضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات اورقرات متواترہ میں کوئی تضادبھی نہیں ہے کیونکہ امیرکاعہداس کے متبعین کاعہدہوتاہے ، جب انبیاء کرام علیہم السلام سے عہدلے لیاتوبس ان کی امتوں سے بھی لے لیا۔
(التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۱:۸۰)
حضرت سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ کافرمان شریف
عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:إِنَّمَا أَخَذَ اللَّہُ مِیثَاقَ النَّبِیِّینَ عَلَی قَوْمِہِمْ۔
ترجمہ :حضرت سیدناسعید بن جبیررضی اللہ عنہ حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالی کے میثاق کو انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی قوموں سے لیایعنی جب ان کی قوم کے پاس حضورتاجدارختم نبوت ﷺتشریف لے آئیں تووہ آپ ﷺکی تصدیق کریں اورآپ ﷺکی نبوت کااقرارکریں۔
(تفسیر الطبری :محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۵:۵۳۵)
خطاب امتوں کو ہے
عَنْ أَبِی أَیُّوبَ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ:فَمَنْ تَوَلَّی عَنْکَ یَا مُحَمَّدُ بَعْدَ ہَذَا الْعَہْدِ مِنْ جَمِیعِ الْأُمَمِ، فَأُولَئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ،ہُمُ الْعَاصُونَ فِی الْکُفْرِ۔
ترجمہ :حضرت سیدناابوایوب رحمہ اللہ تعالی حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا: اے حبیب کریم ﷺ!تمام امتوں میں سے جوشخص بھی اس عہدکو پکاکرنے کے بعد پورانہیں کرے گاتو وہ فاسق ہوگا۔
(تفسیر الطبری :محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۵:۵۳۵)
حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ کافرمان عالی شان
قَالَ عَلِیُّ بْنُ أبی طالب وابن عمہ ابن عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا:مَا بَعَثَ اللَّہُ نَبِیًّا مِنَ الْأَنْبِیَاء ِ إِلَّا أُخِذَ عَلَیْہِ الْمِیثَاقُ، لئن بَعَثَ اللَّہُ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وہوحی لیؤمنن بہ وینصرنہ، وَأَمَرَہُ أَنْ یَأْخُذَ الْمِیثَاقَ عَلَی أُمَّتِہِ لَئِنْ بُعِثَ مُحَمَّدٌ وَہُمْ أَحْیَاء ٌ لَیُؤْمِنُنَّ بِہِ وَلَیَنْصُرُنَّہُ۔
ترجمہ:حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالی نے ہر نبی سے عہد لیاکہ ان کی زندگی میں اگراللہ تعالی اپنے نبی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو بھیجے تواس پرفرض ہے کہ وہ آپ ﷺپرایمان لائے اورآپ ﷺکی مددکرے اوراپنی امت کو بھی یہی تلقین کرے کہ وہ بھی حضورتاجدارختم نبوت ﷺپر ایمان لائے اورآپ ﷺکی تابعداری میں لگ جائے۔
(تفسیر الإیجی جامع البیان فی تفسیر القرآن:محمد بن عبد الرحمن بن محمد بن الإِیجی الشافعیّ (۱:۲۶۸)
امام السدی رحمہ اللہ تعالی کاقول عَنِ السُّدِّیِّ:
(وَإِذْ أَخَذَ اللَّہُ مِیثَاقَ النَّبِیِّینَ لَمَا آتَیْتُکُمْ مِنْ کِتَابٍ وَحِکْمَۃٍ)(آل عمران:۸۱)الْآیَۃَ قَالَ:لَمْ یَبْعَثِ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِیًّا قَطُّ مِنْ لَدُنْ نُوحٍ إِلَّا أَخَذَ مِیثَاقَہُ:لَیُؤْمِنَنَّ بِمُحَمَّدٍ،وَلَیَنْصُرُنَّہُ إِنْ خَرَجَ وَہُوَ حَیُّ، وَإِلَّا أَخَذَ عَلَی قَوْمِہِ أَنْ یُؤْمِنُوا بِہِ،وَلَیَنْصُرُنَّہُ إِنْ خَرَجَ وَہُمْ أَحْیَاء ٌ۔
ترجمہ :حضرت سیدناامام السدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضرت سیدنانوح علیہ السلام سے لیکر تم تک جس نبی کو بھی بھیجااس سے یہ میثاق لیاکہ وہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺپرایمان لائے گااورآپ ﷺکی مددکرے گابہ شرطیکہ وہ اس وقت دنیامیں موجود ہوں ورنہ وہ اپنی امت سے عہدلیتے تھے کہ اگران کی زندگی میں وہ مبعوث ہوجائیں تووہ ان پر ایمان لائیں ان کی تصدیق کریںاوران کی مددکریں ۔
(تفسیر الطبری :محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۵:۵۳۵)
حضورتاجدارختم نبوت ﷺہی انبیاء کرام علیہم السلام میں امام اعظم ہیں
وَفِی بعض الأحادیث لَوْ کَانَ مُوسَی وَعِیسَی حَیَّیْنِ لَمَا وَسِعَہُمَا إِلَّا اتِّبَاعِی فَالرَّسُولُ مُحَمَّدٌ خَاتَمُ الْأَنْبِیَاء ِ صَلَوَاتُ اللَّہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ دَائِمًا إِلَی یَوْمِ الدِّینِ، ہو الْإِمَامُ الْأَعْظَمُ الَّذِی لَوْ وُجِدَ فِی أَیِّ عصر وجد، لکان ہو الواجب طاعتہ الْمُقَدَّمُ عَلَی الْأَنْبِیَاء ِکُلِّہِمْ، وَلِہَذَا کَانَ إِمَامَہُمْ لَیْلَۃَ الْإِسْرَاء ِ لَمَّا اجْتَمَعُوا بِبَیْتِ الْمَقْدِسِ، وَکَذَلِکَ ہو الشفیع فی المحشر فی إتیان الرب جل جلالہ لفصل القضاء بین عبادہ، وَہُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِی لَا یَلِیقُ إِلَّا لَہُ، وَالَّذِی یَحِیدُ عَنْہُ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الْأَنْبِیَاء ِ وَالْمُرْسَلِینَ حَتَّی تَنْتَہِیَ النَّوْبَۃُ إِلَیْہِ فَیَکُونَ ہو المخصوص بہ صلوات اللہ وسلامہ علیہ.
ترجمہ :امام بو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی المتوفی : ۷۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بعض احادیث شریفہ میں ہے کہ اگرموسی علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو میری پیروی کے سواان کے لئے کوئی چارہ کارنہ ہوتا، سوحضورتاجدارختم نبوت ﷺدائماً قیامت تک کے لئے رسول اورخاتم النبیین ہیں ، آپ ﷺجس زمانہ میں بھی مبعوث ہوتے توآپ ﷺہی امام اعظم ہوتے اورتمام انبیاء کرام علیہم السلام پر آپ ﷺکی اطاعت مقدم اورواجب ہے یہی وجہ ہے کہ جب سب انبیاء کرام علیہم السلام مسجد اقصی شریف میں جمع ہوئے توآپﷺنے ہی سب کی امامت فرمائی اورجب اللہ تعالی میدان محشرمیں اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائے گاتوآپ ﷺہی اللہ تعالی کے سامنے شفاعت کریں گے اورمقام محمود صرف اورصرف حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ہی لائق ہے ۔ تمام انبیاء کرام علیہم السلام اورکل رسول اس دن اس کام سے منہ پھیرلیں گے بالآخر آپ ﷺہی خصوصیت کے ساتھ اس مقام میں کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالی درودوسلام آپ ﷺپرہمیشہ بھیجتارہے قیامت کے دن تک ۔
(تفسیر ابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۲:۵۸)
حضورتاجدارختم نبوت ﷺ سے ختم نبوت کے اعلان کاعہدلیاگیا
أَیْ أَخَذَ عَلَیْہِمْ أَنْ یُعْلِنُوا أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،وَیُعْلِنُ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا نَبِیَّ بَعْدَہُ.
ترجمہ :حضرت امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی: ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انبیاء کرام علیہم السلام سے پختہ عہدلیاکہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام اعلان کریں گے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺاللہ تعالی کے رسول ہیں اورحضورتاجدارختم نبوتﷺیہ اعلان کریں گے کہ آپﷺکے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔
(تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۴:۱۲۶)
حضورتاجدارختم نبوتﷺہی مستقل شارع ہیں
ومن ہنا ذہب العارفون إلی أنہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہو النبی المطلق والرسول الحقیقی والمشرع الاستقلالی،وأن من سواہ من الأنبیاء علیہم الصلاۃ والسلام فی حکم التبعیۃ لہ صلّی اللہ علیہ وسلم.
ترجمہ :شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الحسینی الألوسی الحنفی المتوفی : ۱۲۷۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کے تحت عارفین فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺہی نبی مطلق ،رسول حقیقی اورمستقل شارع ہیںاورآپ ْﷺکے سواتمام انبیاء کرام علیہم السلام آپ ﷺکے تابع ہیں۔
(روح المعانی:شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الحسینی الألوسی (۲:۲۰۱)
اصل الاصول حضورتاجدارختم نبوت ﷺہیں
امام احمدرضاحنفی الماتریدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بالجملہ مسلمان بہ نگاہ ایمان اس آیہ کریمہ کے مفادات عظیمہ پر غور کرے ، صاف صریح ارشاد فرمارہی ہے کہ محمدﷺ اصل الاصول ہیں محمدﷺ رسولوں کے رسول ہیں ، امتیوں کو جونسبت انبیاء ورسل سے ہے وہ نسبت انبیاء ورسل کو اس سید الکل سے ہے ، امتیوں پرفرض کرتے ہیں رسولوں پر ایمان لاؤ ، اوررسولوں سے عہد وپیمان لیتے ہیں محمدﷺسے گروید گی فرماؤ۔ غرض صاف صاف جتارہے ہیں کہ مقصود اصلی ایک وہی ہیں باقی تم سب تابع وطفیلی
ع (مقصودذاتِ اوست دگرجُملگی طفیل)ترجمہ:مقصود ان کی ذات ہے باقی سب طفیلی ہیں۔
(فتاوی رضویہ شریف لامام احمدرضاحنفی ( ۳۰:۱۳۸)
جو عہدسے پھرجائے ؟
فَمَنْ شَرْطٌفَمَنْ تَوَلَّی مِنْ أُمَمِ الْأَنْبِیَاء ِعَنِ الْإِیمَانِ بَعْدَ أَخْذِ الْمِیثَاقِ (فَأُولئِکَ ہُمُ الْفاسِقُونَ)أَیِ الْخَارِجُونَ عَنِ الْإِیمَانِ وَالْفَاسِقُ الْخَارِجُ۔
ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ {فَمَن}میں ’’من‘‘شرطیہ ہے ۔ پس انبیاء کرام علیہم السلام کی امتوں میں سے وعدہ لئے جانے کے بعد جوحضورتاجدارختم نبوت ﷺپرایمان نہ لائے پس وہ ایمان سے خارج ہیں اورفاسق بمعنی خارج ہے ۔
(تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۴:۲۶)
آیہ لتؤمنن بہٖ ولتنصرنہ کے بعض لطائف
امام احمدرضاحنفی الماتریدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اقول:وباللہ التوفیق (میں اللہ تعالٰی کی توفیق کے ساتھ کہتاہوں۔)پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس مضمون کو قرآن عظیم نے کس قدر مہتم بالشان ٹھہرایا اورطرح طرح سے مؤکد فرمایا۔
اوّلاً: انبیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء معصومین ہیں۔ زنہار حکم الہٰی کاخلاف ان سے محتمل نہیں ۔ کافی تھا کہ رب تبارک وتعالٰی بطریق امر انہیں ارشادفرماتا اگر وہ نبی تمہارے پاس آئے اس پر ایمان لانا اوراس کی مدد کرنا، مگر اس قدر پر اکتفاء نہ فرمایا بلکہ ان سے عہد وپیمان لیا، یہ عہد عہد الست بربکم (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔)کے بعد دوسرا پیمان تھا، جیسے کلمہ طیبہ میں لاالہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔)کے ساتھ محمد رسول اللہ (محمد اللہ کے رسول ہیں۔)تاکہ ظاہر ہوکہ تمام ماسوائے اللہ پر پہلا فرض ربوبیت الہٰیہ کا اذعان ہے ۔
پھر اس کے برابر رسالت محمدیہ پر ایمان ، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وبارک وشرف وبجل وعظم۔
ثانیاً: اس عہد کو لامِ قسم سے مؤکد فرمایا: {لتؤمنن بہٖ ولتنصرنہ} ۔ تم ضرور اس کی مدد کرنا اورضروراس پر ایمان لانا۔
جس طرح نوابوں سے بیعتِ سلاطین پر قسمیں لی جاتی ہیں ۔ امام سُبکی فرماتے ہیں :شاید سوگندِ بیعت اسی آیت سے ماخوذ ہوئی ہے ۔ ثالثاً :نون تاکید۔
رابعاً: وہ بھی ثقیلہ لاکر ثقل تاکید کو اور دوبالا فرمایا۔
خامساً :یہ کمال اہتمام ملاحظہ کیجئے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام ابھی جواب نہ دینے پائے کہ خود ہی تقدیم فرما کر پوچھتے ہیں : {ء اقررتم }کیا اس امر پر اقرارلاتے ہو ؟یعنی کمال تعجیل وتسجیل مقصود ہے ۔
سادساً: اس قدر پر بھی بس نہ فرمائی بلکہ ارشاد ہوا : {واخذتم علٰی ذٰلکم اصری } خالی اقرار ہی نہیں بلکہ اس پر میرا بھاری ذمہ لو۔
سابعاً: علیہ یا علٰی ھٰذا کی جگہ علٰی ذٰلکم فرمایاکہ بُعد اشارت عظمت ہو۔
ثامناً: اورترقی ہوئی کہ{ فاشھدوا } ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ ۔ حالانکہ معاذ اللہ اقرار کر کے مُکر جانا ان پاک مقدس جنابوں سے معقول نہ تھا۔
تاسعاً :کمال یہ ہے کہ فقط ان کی گواہیوں پر بھی اکتفا نہ ہوا بلکہ ارشادفرمایا:{وانا معکم من الشاھدین} میں خود بھی تمہارے ساتھ گواہوں سے ہوں ۔
عاشراً: سب سے زیادہ نہایت کاریہ ہے کہ اس قدر عظیم جلیل تاکیدوں کے بعد بآنکہ انبیاء کو عصمت عطافرمائی ، یہ سخت شدیدتہدید بھی فرمادی گئی کہ :{فمن تولّی بعدذٰلک فاولٰئک ھم الفٰسقون} اب جو اس اقرار کے بعد پھرے گا فاسق ٹھہرے گا۔
(فتاوی رضویہ شریف لامام احمدرضاحنفی ( ۳۰:۱۳۸)
عظمتِ مصطفی ﷺکا بیان
اس سے ثابت ہوا کہ ہمارے آقا و مولا، حبیب ِ خدا، محمد مصطفی ﷺتمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں سب سے افضل ہیں۔اس آیت مبارکہ میں نبی کریم ﷺکے عظیم فضائل بیان ہوئے ہیں۔ علمائِ کرام نے اس آیت کی تفسیر میں پوری پوری کتابیں تصنیف کی ہیں اور اس سے عظمت ِ مصطفیﷺکے بے شمار نکات حاصل کئے ہیں۔ چند ایک نکات یہ ہیں :(۱)…حضور پرنور ﷺکی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ محفل قائم فرمائی۔ (۲)…خود عظمت ِ مصطفیﷺ کو بیان کیا۔(۳)…عظمت ِ مصطفی ﷺکے سامعین کیلئے کائنات کے مقدس ترین افراد انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو منتخب فرمایا۔ (۴)…کائنات وجود میں آنے سے پہلے حضور اقدسﷺکا ذکر جاری ہوا اور آپ ﷺکی عظمت کا بیان ہوا۔(۵)…آپﷺ کو تمام نبیوں کا نبی بنایا کہ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بطورِ خاص آپﷺپر ایمان لانے اور مدد کرنے کا حکم دیا۔(۶)…انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فرمانے کے بعد باقاعدہ اس کا اقرار لیا حالانکہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کسی حکمِ الٰہی سے انکار نہیں کرتے۔(۷)…انبیاء کرام علیہم السلام نے اس اقرار کا باقاعدہ اعلان کیا۔(۸)…اقرار کے بعد انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ایک دوسرے پر گواہ بنایا۔(۹)…اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ تمہارے اس اقرار پر میں خود بھی گواہ ہوں۔(۱۰)… انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اقرار کرنے کے بعد پھر جانا مُتَصَوَّر نہیں لیکن پھر بھی فرمایا کہ اس اقرار کے بعد جو پھرے وہ نافرمانوں میں شمار ہوگا۔ تفسیرصراط الجنان( ۱: ۵۰۷،۵۰۸)
معارف ومسائل
(۱) اس سے معلوم ہواکہ آج جتنے بھی یہودی ہیں وہ سب کے سب کافرہیں کیونکہ اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں فرمایاہے کہ جو بھی شخص حضورتاجدارختم نبو ت ﷺپر ایمان نہ لائے تو وہ فاسق ہے اوریہاں فاسق بمعنی کافرہے۔ لھذاوہ لوگ اپنے ایمان کی خیرمنائیں جو یہودونصاری کوبھی اہل ایمان مانتے ہیں ۔ اوریہ بات بدیہی ہے کہ جو شخص ہماری شرع مبارکہ میں سے کسی ایک بات کاانکارکرے وہ کافرہے توجو شخص ہماری شریعت مبارکہ میں سے کسی بھی بات کو نہ مانے وہ کیسے مسلمان ہوگیا؟۔
(۲)اوراس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اللہ تعالی نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے وعدہ لیاکہ جب میرے حبیب کریم ﷺتشریف لے آئیں تو تمام انبیاء کرام علیہم السلام اوران کی امتیں دین کی تبلیغ کے معاملے میں میرے حبیب کریم ﷺکی مددکریں۔توجب انبیاء کرام علیہم السلام اوران کی امتوں پر حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے دین کی اشاعت وتبلیغ اوردین متین کادفاع لازم کیاگیاتو حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی امت اگراس کام سے پیچھے رہے توان کاکیاحشرہوگا۔ کیاان پر لازم نہیں ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے دین کادفاع کریں ، کیاان پرلازم نہیں ہے کہ یہ لوگ دین کی حرمت کے لئے کام کریں اوردین کی اقامت کے لئے جدوجہد کریں ۔ اس معاملے میں ہمارے علماء ومشائخ بہت زیادہ سست روی کاشکارہیں یاپھرمداہنت سے کام لیتے ہیں۔ آج کل ہر پیرکو اپنی خانقاہ اورمولوی کو اپنے مدرسہ اورخطابت کی فکرہے ۔ ان کو دین کی فکرنہیں ہے چاہے دین متین پرحملے ہوتے رہیں اوردین متین کامذاق اڑایاجاتارہے ۔ اللہ تعالی حضرت امیرالمجاہدین شیخ الحدیث والتفسیرحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی کو صحت وسلامتی والی طویل عمرعطافرمائے اورجو مقصداقامت دین کالے کراٹھے ہیں اللہ تعالی ان کو اس میں کامیابی عطافرمائے۔
(۳) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اگردوسرے انبیا ء کرام علیہم السلام کی امتیں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے دین متین کو نہ مانیں اوراس دین کے معاملے میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی مددنہ کریںوہ فاسق بمعنی کافرہیںتوجو شخص خودکوپیرطریقت اورپیرمغاں بھی کہے اورپھردین دشمنوں کے ساتھ بھی کھڑاہوجائے اوران کے قصیدے پڑھے تواس کاکیاحال ہوگا؟
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9