صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2220 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ آل عمران ۲۶۔ قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآء ُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآء ُ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,224

سوال (Question):

تفسیر سورہ آل عمران ۲۶۔ قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآء ُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآء ُ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

یہودونصاری اورمنافقین کاحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ساتھ بغض وحسدرکھنااوراللہ تعالی کااپنے حبیب کریم ﷺکادفاع کرنا

{قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآء ُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآء ُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآء ُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآء ُ بِیَدِکَ الْخَیْرُ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیْرٌ}(۲۶) ترجمہ کنزالایمان :یوں عرض کر: اے اللہ! ملک کے مالک تو جسے چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے بے شک تو سب کچھ کرسکتا ہے۔ ترجمہ کنزالایمان: اے حبیب کریم ﷺ! آپ یوں عرض کریں : اے اللہ ! ملک کے مالک توجسے چاہے سلطنت دے اورجس سے چاہے سلطنت لے لے اورجسے چاہے توعزت دے اورجسے چاہے ذلت میں مبتلاء کردے ، ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے ،بے شک توسب کچھ کرسکتاہے ۔ شان نزول رُوِیَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ افْتَتَحَ مَکَّۃَ وَعَدَ أُمَّتَہُ مُلْکَ فَارِسَ وَالرُّومِ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ وَالْیَہُودُ:ہَیْہَاتَ ہَیْہَاتَ مِنْ أَیْنَ لِمُحَمَّدٍ مُلْکُ فَارِسَ وَالرُّومِ، وَہُمْ أَعَزُّ وَأَمْنَعُ مِنْ ذَلِکَ،وَرُوِیَ أَنَّہُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ لَمَّا خَطَّ الْخَنْدَقَ عَامَ الْأَحْزَابِ،وَقَطَعَ لِکُلِّ عَشَرَۃٍ أَرْبَعِینَ ذِرَاعًا،وَأَخَذُوا یَحْفِرُونَ خَرَجَ مِنْ بَطْنِ الْخَنْدَقِ صَخْرَۃٌ کَالتَّلِّ الْعَظِیمِ لَمْ تَعْمَلْ فِیہَا الْمَعَاوِلُ،فَوَجَّہُوا سَلْمَانَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَخَبَّرَہُ،فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ مِنْ سَلْمَانَ فَلَمَّا ضَرَبَہَا ضَرْبَۃً صَدَّعَہَا وَبَرَقَ مِنْہَا بَرْقٌ أَضَاء َ مَا بَیْنَ لَابَتَیْہَا کَأَنَّہُ مِصْبَاحٌ فِی جَوْفِ لَیْلٍ مُظْلِمٍ، فَکَبَّرَ وَکَبَّرَ الْمُسْلِمُونَ،وَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ:أَضَاء َتْ لِی مِنْہَا قُصُورُ الْحِیرَۃِ کَأَنَّہَا أَنْیَابُ الْکِلَابِ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّانِیَۃَ، فَقَالَ:أَضَاء َتْ لِی مِنْہَا الْقُصُورُ الْحُمْرُ مِنْ أَرْضِ الرُّومِ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ:أَضَاء َتْ لِی مِنْہَا قُصُورُ صَنْعَاء َوَأَخْبَرَنِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَنَّ أُمَّتِی ظَاہِرَۃٌ عَلَی کُلِّہَا فَأَبْشِرُوافَقَالَ الْمُنَافِقُونَ:أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ نَبِیِّکُمْ یَعِدُکُمُ الْبَاطِلَ وَیُخْبِرُکُمْ أَنَّہُ یُبْصِرُ مِنْ یَثْرِبَ قُصُورَ الْحِیرَۃِ وَمَدَایِنَ کِسْرَی،وَأَنَّہَا تُفْتَحُ لَکُمْ وَأَنْتُمْ تَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ مِنَ الْخَوْفِ لَا تَسْتَطِیعُونَ أَنْ تَخْرُجُوا فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ۔ ترجمہ :جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے مکہ مکرمہ فتح فرمایاتوآپ ﷺنے اپنی امت سے فارس اورروم کی سلطنتوں کی فتح کاوعدہ فرمایاتومنافقین اوریہودی کہنے لگے کہ یہ عقل سے ماوراء باتیں ہیں ،فارس اورروم کی سلطنتیں کیسے ان کو مل سکتی ہیں، وہ لوگ توبڑے مضبوط اوربڑادفاع کرنے والے ہیں ۔ اوریہ بھی منقول ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے جب غزوہ احزاب کے موقع پر خندق کھودنے کے لئے نشان لگائے اورہر دس دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چالیس چالیس ہاتھ کھودنے کاحکم دیاتوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خندق کھودناشروع کی تو ایک ایسی سخت چٹان آئی جس میں کدال نے کام کرناچھوڑدیاتوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت سیدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی خدمت میں بھیجا، انہوں نے جاکرحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی بارگاہ اقدس میں معاملہ عرض کیاتوآپﷺ نے حضرت سیدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے کدال لی اورجب آپ ﷺنے اس چٹان کو ضرب لگائی توچورہ چورہ ہوگئی اوراس سے ایسی روشنی نکلی جس سے شہرمدینہ منورہ کی دونوں حدیں ایسے روشن ہوگئیں جیسے تاریک رات میں چراغ روشن ہوجاتاہے ۔ تو آپ ﷺنے اللہ تعالی کی بڑائی بیان کی اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی تکبیرکہی ،آپ ﷺنے فرمایا: ’’حیرۃ ‘‘شہرکے محلات روشن ہوئے ہیں ، پھرحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے دوسری ضرب لگائی اورفرمایاکہ روم کے سرخ محلات بھی میرے لئے روشن ہوگئے ، پھرآپ ﷺنے تیسری ضرب لگائی ، فرمایا: میرے لئے صنعاء کے محلات روشن ہوگئے ہیںا ورجبریل امین علیہ السلام نے مجھے اطلاع دی ہے کہ میری امت ان تمام پرغلبہ حاصل کرے گی ۔ اے میرے صحابہ !تمھیں بشارت ہو! منافقین کہنے لگے ، مسلمانو! تم کو اپنے نبی (ﷺ) پر تعجب نہیں ہورہا، یہ تم سے جھوٹے وعدے کرتے ہوئے خبردے رہے ہیں کہ میں یثرب سے حیرہ کے محلات اورکسری کے شہردیکھ رہاہوں اوریہ تمھارے لئے فتح ہوجائیں گے حالانکہ تم خوف کی وجہ سے خندق کھود رہے ہو ، جس سے تم نکل نہیں سکتے تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۸:۱۸۵)

توگستاخوں کو ذلیل کرنے والاہے

وَقَالَ أَہْلُ الْإِشَارَاتِ:کَانَ أَبُو جَہْلٍ یَمْلِکُ الْمَالَ الْکَثِیرَ،وَوَقَعَ فِی الرَّسِّ یَوْمَ بَدْرٍ،وَالْفُقَرَاء ُ صُہَیْبٌ وَبِلَالٌ وَخَبَّابٌ لَمْ یَکُنْ لَہُمْ مَالٌ،وَکَانَ مُلْکُہُمُ الْإِیمَانَ،قُلِ اللَّہُمَّ مالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشاء ُ تُقِیمُ الرَّسُولَ یَتِیمَ أَبِی طَالِبٍ عَلَی رَأْسِ الرس حتی ینادی أبدانا قد انقلبت إِلَی الْقَلِیبِ:یَا عُتْبَۃُ، یَا شَیْبَۃُ تُعِزُّ مَنْ تَشَاء ُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاء ُ أَیْ صُہَیْبُ، أَیْ بِلَالُ،لَا تَعْتَقِدُوا أَنَّا مَنَعْنَاکُمْ مِنَ الدُّنْیَا بِبُغْضِکُمْ. ترجمہ :اہل اشارات نے کہاہے کہ ابوجہل بہت زیادہ مال پر ملکیت رکھنے والاتھا، اوروہ غزوہ بدرکے دن کنویں میں گرگیا، حضرت سیدناصہیب رضی اللہ عنہ ، حضرت سیدنابلال رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناخباب رضی اللہ عنہ فقراء تھے ان کے پاس کوئی مال نہ تھااوران کی ملکیت میں صرف اورصرف ایمان تھا{قُلِ اللَّہُمَّ مالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشاء }توحضورتاجدارختم نبوت ﷺان کو کھڑاکرتے ہیں کنویں کے کنارے پر ، یہاں تک کہ وہ ان ابدان کو ندادیتے ہیں جوکنویں میں پھینک دئیے گئے ہیں : اے عتبہ ، اے شیبہ ۔ اے اللہ ! توجسے چاہتاہے عزت وغلبہ عطافرماتاہے اورجسے چاہتاہے ذلیل ورسواکردیتاہے ۔اے صہیب ! اے بلال ! تم یہ اعتقاد نہ رکھوکہ ہم نے تمھیں تمھارے بغض کے سبب دنیاسے روک دیاہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۴:۵۵)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ساتھ منافقین اوریہودیوں کی دشمنی

الْمُرَادُ مِنْہُ:مُلْکُ النُّبُوَّۃِ وَالرِّسَالَۃِ، کَمَا قَالَ تَعَالَی:فَقَدْ آتَیْنا آلَ إِبْراہِیمَ الْکِتابَ وَالْحِکْمَۃَ وَآتَیْناہُمْ مُلْکاً عَظِیماً (النِّسَاء ِ:۵۴)وَالنُّبُوَّۃُ أَعْظَمُ مَرَاتِبِ الْمُلْکِ لِأَنَّ الْعُلَمَاء َ لَہُمْ أَمْرٌ عَظِیمٌ عَلَی بَوَاطِنِ الْخَلْقِ وَالْجَبَابِرَۃُ لَہُمْ أَمْرٌ عَلَی ظَوَاہِرِ الْخَلْقِ وَالْأَنْبِیَاء ُ أَمْرُہُمْ نَافِذٌ فِی الْبَوَاطِنِ وَالظَّوَاہِرِ، فَأَمَّا عَلَی الْبَوَاطِنِ فَلِأَنَّہُ یَجِبُ عَلَی کُلِّ أَحَدٍ أَنْ یَقْبَلَ دِینَہُمْ وَشَرِیعَتَہُمْ، وَأَنْ یَعْتَقِدَ أَنَّہُ ہُوَ الْحَقُّ،وَأَمَّا عَلَی الظَّوَاہِرِ فَلِأَنَّہُمْ لَوْ تَمَرَّدُوا وَاسْتَکْبَرُوا لَاسْتَوْجَبُوا الْقَتْلَ، وَمِمَّا یُؤَکِّدُ ہَذَا التَّأْوِیلَ أَنَّ بَعْضَہُمْ کَانَ یَسْتَبْعِدُ أَنْ یَجْعَلَ اللَّہُ تَعَالَی بَشَرًا رَسُولًا فَحَکَی اللَّہُ عَنْہُمْ قَوْلَہُمْ أَبَعَثَ اللَّہُ بَشَراً رَسُولًا(الْإِسْرَاء ِ:۹۴)وَقَالَ اللَّہُ تَعَالَی:وَلَوْ جَعَلْناہُ مَلَکاً لَجَعَلْناہُ رَجُلًا(الْأَنْعَامِ:۹)وَقَوْمٌ آخَرُونَ جَوَّزُوا مِنَ اللَّہِ تَعَالَی أَنْ یُرْسِلَ رَسُولًا مِنَ الْبَشَرِ، إِلَّا أَنَّہُمْ کَانُوا یَقُولُونَ:إِنَّ مُحَمَّدًا فَقِیرٌ یَتِیمٌ، فَکَیْفَ یَلِیقُ بِہِ ہَذَا الْمَنْصِبُ الْعَظِیمُ عَلَی مَا حَکَی اللَّہُ عَنْہُمْ أَنَّہُمْ قَالُوا لَوْلا نُزِّلَ ہذَا الْقُرْآنُ عَلی رَجُلٍ مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیمٍ (الزُّخْرُفِ:۳۱)وَأَمَّا الْیَہُودُ فَکَانُوا یَقُولُونَ النُّبُوَّۃُ کَانَتْ فِی آبَائِنَا وَأَسْلَافِنَا، وَأَمَّا قُرَیْشٌ فَہُمْ مَا کَانُوا أَہْلَ النُّبُوَّۃِ وَالْکِتَابِ فَکَیْفَ یَلِیقُ النُّبُوَّۃُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟وَأَمَّا الْمُنَافِقُونَ فَکَانُوا یَحْسُدُونَہُ عَلَی النُّبُوَّۃِ، عَلَی مَا حَکَی اللَّہُ ذَلِکَ عَنْہُمْ فِی قَوْلِہِ أَمْ یَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلی مَا آتاہُمُ اللَّہُ مِنْ فَضْلِہِ (النِّسَاء ِ:۳۷) وَأَیْضًا فَقَدْ ذَکَرْنَا فِی تَفْسِیرِ قَوْلِہِ تَعَالَی: قُلْ لِلَّذِینَ کَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلی جَہَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِہادُ (آلِ عِمْرَانَ:۱۲)أَنَّ الْیَہُودَ تَکَبَّرُوا عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِکَثْرَۃِ عَدَدِہِمْ وَسِلَاحِہِمْ وَشِدَّتِہِمْ، ثُمَّ إِنَّہُ تَعَالَی رَدَّ عَلَی جَمِیعِ ہَؤُلَاء ِ الطَّوَائِفِ بِأَنْ بَیَّنَ أَنَّہُ سُبْحَانَہُ ہُوَ مَالِکُ الْمُلْکِ فَیُؤْتِی مُلْکَہُ مَنْ یَشَاء ُ، فَقَالَ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشاء ُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشاء ُ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں ملک سے مراد ’’ملک نبوت ورسالت ‘‘ ہے ۔ جیسے اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے {اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ اٰتٰیہُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ فَقَدْ اٰتَیْنَآ اٰلَ اِبْرٰہِیْمَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاٰتَیْنٰہُمْ مُّلْکًا عَظِیْمًا }(سورۃ النساء :۵۴)لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا ۔ نبوت ملک کے اعظم مراتب سے ہے ، اس لئے کہ علماء کرام کو مخلوق کے باطن پر امرعظیم حاصل ہوتاہے ، ظالم وجابرحکمرانوں کو مخلوق کے ظاہرپر کنٹرول حاصل ہوتاہے ، مخلوق کے باطن پر اس طرح کہ ہر ایک پر انبیاء کرام علیہم السلام کے دین اورشریعت کو قبول کرنالازم اوراس کے حق ہونے کاعقیدہ رکھنالازم ہوتاہے ،مخلوق کے ظاہرپر یوں کہ اگروہ سرکشی اوربغاوت کریں تو وہ قتل کے مستحق قرارپاتے ہیں ، اس آیت کریمہ کی تاویل اورمعنی میںجوباتیں پختگی پیداکرتی ہیں ان میں سے یہ ہے کہ کچھ لوگ اللہ تعالی کے انسان کو رسول بنانے کو غلط جانتے ہیں ، اللہ تعالی نے ان کایہ قول نقل فرمایا، { اَبَعَثَ اللہُ بَشَرًا رَّسُوْلًا }(سورۃ الاسراء:۹۴)ترجمہ کنزالایمان:کیا اللہ نے آدمی کو رسول بناکر بھیجا ۔؟اوراللہ تعالی کافرمان ہے کہ {وَلَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلًا }(سورۃ الانعام : ۰)ترجمہ کنزالایمان :اور اگرہم نبی کو فرشتہ کرتے جب بھی اسے مرد ہی بناتے ۔کچھ لوگ اللہ تعالی کی طرف سے انسان کو رسول بنانے کو مانتے ہیں مگروہ یہ کہتے ہیں کہ محمدﷺفقیرویتیم ہیں (نعوذ باللہ من ذلک ) اتنابڑامنصب ان کے لائق کیسے ہوگیا؟ اللہ تعالی نے ان کایہ قول بھی نقل کیا{وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ }(سورۃ الزخرف :۳۱)ترجمہ کنزلایمان:اور بولے کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن ان دو شہروں کے کسی بڑے آدمی پر ۔یہودی کہتے تھے کہ نبوت ہمارے آبائواجدادمیں ہے ، رہے قریش تویہ اہل نبوت اورکتاب نہیں ہیںتومحمدﷺکے لئے نبوت کیسے مناسب ہے ؟ منافقین حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے نبی ہونے پر حسدکرتے تھے ۔ اللہ تعالی نے ان سے نقل کیا{اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ اٰتٰیہُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ فَقَدْ اٰتَیْنَآ اٰلَ اِبْرٰہِیْمَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاٰتَیْنٰہُمْ مُّلْکًا عَظِیْمًا }(سورۃ النساء : ۵۴)ترجمہ کنزالایمان :یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا ۔ہم نے اس سے پہلے اللہ تعالی کے اس فرمان شریف {قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَتُحْشَرُوْنَ اِلٰی جَہَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِہَادُ}( سورۃ آل عمران : ۱۲)ترجمہ کنزالایمان:فرما دو کافروں سے کوئی دم جاتا ہے کہ تم مغلوب ہو گے اور دوزخ کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ بہت ہی برُا بچھونا ۔کے تحت نقل کیاہے کہ یہودی کثرت تعداد اوراسلحہ اورمضبوط ہونے کی وجہ سے حضورتاجدارختم نبوت ﷺپر تکبرکرتے تھے تواللہ تعالی نے ان تمام گروہوں کاردکرتے ہوئے واضح کردیاکہ اللہ تعالی مالک الملک ہے اوروہ اپناملک جسے چاہے عطافرمادے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۸:۱۸۵)

حقیقی عزت دینی عزت ہے

قَالَ الْقَاضِی:الْإِعْزَازُ الْمُضَافُ إِلَیْہِ تَعَالَی قَدْ یَکُونُ فِی الدِّینِ،وَقَدْ یَکُونُ فِی الدُّنْیَا أَمَّا الَّذِی فِی الدِّینِ فَہُوَ أَنَّ الثَّوَابَ لَا بُدَّ وَأَنْ یَکُونَ مُشْتَمِلًا عَلَی التَّعْظِیمِ وَالْمَدْحِ وَالْکَرَامَۃِ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ،وَأَیْضًا فَإِنَّہُ تَعَالَی یَمُدُّہُمْ بِمَزِیدِ الْأَلْطَافِ وَیُعْلِیہِمْ عَلَی الْأَعْدَاء ِ بِحَسَبِ الْمَصْلَحَۃِ،وَأَمَّا مَا یَتَعَلَّقُ بِالدُّنْیَا فَبِإِعْطَاء ِ الْأَمْوَالِ الْکَثِیرَۃِ مِنَ النَّاطِقِ وَالصَّامِتِ وَتَکْثِیرِ الْحَرْثِ وَتَکْثِیرِ النِّتَاجِ فِی الدَّوَابِّ، وَإِلْقَاء ِ الْہَیْبَۃِ فِی قُلُوبِ الْخَلْقِ. ترجمہ :حضرت قاضی بیضاوی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ دینی عزت یہ ہے کہ ثواب حاصل ہوکہ دنیاوآخرت میں تعظیم ، مدح اورعزت نصیب ہوجائے اوریہ بھی کہ اللہ تعالی مزید مہربانیوں میں اضافہ کرے اورانہیں دشمنوں پر مصلحت کی وجہ سے غالب کردے لیکن جن چیزوں کاتعلق دنیاسے ہے وہ کثرت مال ، جانورکی کثرت اورلوگوں کے دلوں میں ہیبت کاپیداکرناہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۸:۱۸۵)

معارف ومسائل

(۱) اس سے معلوم ہواکہ اس آیت کریمہ میں مناجات اوردعاکے پیرائے میں قوموں کے عروج وزوال اورملکوں کے انقلاب میں اللہ تعالی کی قدت کاملہ کابیان ایک نہایت ہی بلیغ انداز سے کیاگیاہے اورفارس وروم کی فتوحات کے بارے میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی پیشین گوئی کے پوراہونے کی طرف اشارہ کیاگیا، اس میں دنیاکے انقلابات سے بے خبرقوموں کے عروج وزوال کی تاریخ سے ناواقف قوم نوح وعادوثمود کے واقعات سے غافل اورجاہل دشمنان اسلام کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تم ظاہری شان وشوکت کے پجاری یہ نہیں جانتے کہ دنیاکی ساری طاقتیں اورحکومتیں سب ایک ذات پاک کی قدرت میں ہیں ، جس کاصرف امرکن سارے جہان کے وجودوبقاء کے لئے کافی ہے ۔ اورہروہ مشکل سے مشکل کام جسے تم قابل حل نہیں جانتے اس کے صرف ارادہ سے حل ہوگا، عزت وذلت اسی کے ہاتھ میں ہے ، وہ بلاشبہ اس پر قادرہے کہ غریبوں اورفقیروں کوتخت وتاج کامالک بنادے اوربڑے بڑے بادشاہوں سے تخت وتاج چھین لے ، یہ سب کچھ اس کے لئے آسان ہے اوراس کے لئے کوئی بھی بڑے سے بڑاکام مشکل نہیں ہے کہ آج کے بے سروسامان خندق کھودنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کل شام وعراق ویمن کی حکومت عطافرمادے ،چنانچہ ایساہی ہوگیاکہ عرب کے امی قوم جن کاگزربسراونٹوں کے دودھ پرہوتاتھا، شتربانی ان کی فطرت کامایہ ناز پیشہ تھاحکمرانی کاذوق ان کے خمیرمیں بھی نہیں تھاوہ ملک گیری اورسیاست سے سراسربیگانہ اورناواقف تھے ، وہ نان شبینہ کے محتاج تھے ، انھوں نے دنیاکی رونقوں اورزینتوں کو بیداری کیاخواب میں نہیں دیکھاتھا، مگرحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی تعلیمات نے انہیں کندن بنادیا، تمام آلائشوں سے انہیں پاک کیااورانہیں حکمت وشجاعت اورعدالت کاتاجداربناکروہ بہادری اورحوصلے دیئے کہ جنگل کے بادشاہ شیر بھی ان کی قدم بوسی کرتے رہے ۔ مٹھی بھرفوجیوں کے ذریعے دنیاکی دوہزراسالہ سلطنتوں کو پاش پاش کرکے رکھ دیا، ان کی چھتیس ہزارفوج نے میدان یرموک میں قیصرروم کے نولاکھ ساٹھ ہزارفوجیوں کولوہے کے چنے چبوانے پر مجبورکیا، ان کے جنگی معرکوں کااگرمطالعہ کیاجائے تو شایدہوش وحواس ناکارہ ہوجائیں ، نہ باقاعدہ منظم تربیت یافتہ فوجی تھے نہ ہی کیل وکانٹے سے لیس تھے ، نہ ان کی فوجی چھائونی تھی، نہ تنخواہ ومراعات اورنہ ہی پینشن کے دلدادہ تھے ،نہ کسی کالج ویونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے ، وہ صرف اورصرف ایمان وتقوی اوردیانت کے زیوراوراسلحہ سے لیس تھے ، وہ دن کو مجاہد لڑنے والے تھے ، رات کو اللہ تعالی کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہونے والے تھے ۔ دنیاکی زینتوں اورراحتوں نے انہیں ہرچنداپنی جانب کھینچنے کی کوشش کی ، مگروہ اوربھی دنیاسے دوراوربیزاررہے ۔ وہ کسی کے سپاہی نہ تھے ، صرف اورصرف اسلام کے فوجی تھے ۔ پہاڑوں سے ٹکراکرانہیں خاکستربنادیا، قیصروکسری سے ٹکراکرانہیں زیروزبرکردیا۔ رضی اللہ عنہم اجمعین ۔ (۲) اس سے معلوم ہواکہ جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایاکہ فارس وروم فتح ہوگئے توآپ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی اعتراض نہیں کیاسوائے منافقین کے وہ کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتاہے کہ یہ لوگ جو ابھی خندق کھودکھود کراپنادفاع کررہے ہیں وہ فارس وروم پر غلبہ پالیں گے ، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ منافق ہمیشہ زمینی حقائق کی طرف نظرکرتاہے جبکہ بندہ مومن اللہ تعالی اوراس کے حبیب کریمﷺ کے کلام کی طرف دیکھتاہے ،کیونکہ زمینی حقائق کچھ بھی ہوں مگراللہ تعالی کے حکم کے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں ۔ ہوناوہی ہے جو اللہ تعالی کی مشیت ہوگی ۔ (۳) اس سے یہ معلوم ہوگیاکہ اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے فرمان پراعتراض کرنامنافقین اوریہودونصاری کاکام ہے ، اہل ایمان اللہ تعالی اوراس کے حبیب کریم ﷺکے فرمان شریف کوہی سب سے بڑی چیز جانتے ہیں اوربس ۔ (۴)سلطنت و حکومت بلکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی ملک ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔ کتنی بڑی بڑی سلطنتیں گزریں جن کے زمانے میں کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ یہ بھی کبھی فنا ہوں گی لیکن اللہ، مالکُ الملک کی زبردست قوت وقدرت کا ایسا ظہور ہوا کہ آج ان کے نام و نشان مٹ گئے۔ یونان کا سکندرِ اعظم، عراق کا نمرود، ایران کا کسریٰ ونوشیرواں ، ضحاک، فریدوں ، جمشید، مصر کے فرعون، منگول نسل کے چنگیز اور ہلاکو خان بڑے بڑے نامور حکمران اب صرف قصے کہانیوں میں رہ گئے اور باقی ہے تو ربُّ العالَمین کا نام اور حکومت باقی ہے اور اسی کو بقا ہے۔ یونہی عزت و ذلت دینا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے۔ دور دراز کے گاوں ، بستیوں سے ، چھوٹے اور غریب خاندانوں سے اٹھا کرتخت ِ حکومت پر بٹھا دینا، غلاموں کو بادشاہت عطا کردینا اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے اور معاشرے کے معزز ترین بلکہ دوسروں کو عزتیں اور خلعتیں بخشنے والوں کو ذلت و گمنامی کے عمیق گڑھوں میں پھینک دینا اُسی اَحکَم ُالحاکمین مولیٰ تعالیٰ کی قدرت ہے۔ تفسیرصراط الجنان(۱:۴۵۷)

شریعت پر کسی طرح کااعتراض منع ہے اوراعتراض کرنے والازندیق ہے

برصغیر پاک و ہند میں حضرت سیدناشاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالی سے علومِ حدیث و سنت کے احیاء کی جو تحریک شروع ہوئی تھی وہ مختلف اَدوار سے گزرتی رہی ۔اسی تحریک کی وجہ سے علماء نے حدیث،تاریخ اورسیر تِ رسول ﷺ و صحابہ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے متعلقہ سینکڑوں کتب کے تراجم کیے تاکہ عامۃ الناس حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی حدیث،سیرت ،حیاتِ صحابہ اور تاریخ اسلام سے واقف ہو سکیں۔ بلاشبہ علماء کا یہ کام ایک علمی اور نفع بخش کام تھا۔لیکن جہاں ایک کام میں خیر کے پہلو ہوتے ہیں وہاں کچھ مفاسد بھی اس سے متعلق ہوجاتے ہیں ۔مصادرِ اسلامیہ سے متعلق ان سینکڑوں کتب کے تراجم کا ایک بڑا نقصان جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سامنے آیا، وہ یہ ہے کہ عامۃ ا لناس میں بعض افراد نے ان مترجم کتب کے جزئی مطالعہ کے بعد اپنے آپ کو درجۂ اجتہاد و افتاء پر فائز سمجھا اور مفکرا سلام کی نشست سنبھالتے ہوئے اسلام کی چودہ صد سالہ علمی تاریخ و روایت کو کارِ عبث قرار دیا ۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی سنت و حدیث کے حوالے سے بھی معاصر معاشروں میں ہمیں سینکڑوں ایسے افکار و نظریات نظرآتے ہیں جو کہ راہِ اعتدال سے بہت دُور ہیں مثلاً قادیانی،سرسیدنیچری،پرویزی اور جماعت المسلمین اورموجودہ دور میں محمدعلی مرزاوغیرہ۔ ایک مثبت رویہ تو یہ ہے کہ ایک شخص اگر حدیث کی مترجم کتابوں سے استفادہ کرتا ہے اورا س دوران اسے کچھ اشکالات پیش آتے ہیں تو وہ {فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ}کے قرآنی حکم کے مطابق علماء سے رجوع کر کے ان سے رہنمائی حاصل کرے۔اگر معاصر علماء سے وہ مطمئن نہیں ہے تو ٹھوس علمی بنیادوں پر علومِ اسلامیہ کی تعلیم حاصل کرے ۔قرآن،حدیث ،فقہ ،اصول فقہ،اصول حدیث،اصول تفسیر،عقیدہ،علومِ بلاغت اورعلومِ لغت وغیرہ میں پختگی حاصل کرے اور عربی زبان میں موجود ائمہ سلف کے علمی ذخیرے سے براہِ راست استفادہ کرے۔لیکن اگر کوئی شخص ان بنیادی دینی علوم سے ناواقف ہو اور پھر بھی دین کے معاملات میں اپنی رائے پیش کرے تو ایسے شخص کے بارے میں حضورتاجدارختم نبوتﷺ کا فرمان ہے کہ ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جس میں اللہ تعالیٰ علماء کو اٹھا لے اور لوگوں کی صورت حال یہ ہوگی :لوگ جہلاء کو اپنا بڑا بنالیں گے اور ان جاہلوں سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتوے جاری کریں گے۔پس خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ اس بحث میں ہم یہ ثابت کریں گے کہ جب ایک امتی کو علم ہوجائے کہ رسول اللہ ﷺنے اس باب میں یہ فرمایاہے تو پھروہ چونکہ چنانچہ نہ کرے بلکہ سرتسلیم خم کرے ۔

ہمارے ذمے شریعت کو تسلیم کرناہے

حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ قَالَ مِنَ اللَّہِ تَعَالَی التَّنْزِیلُ وَعَلَی رَسُولِہِ التَّبْلِیغُ وَعَلَیْنَا التَّسْلِیمُ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناالولید بن مسلم حضرت سیدناامام اوزاعی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوںنے فرمایا: ہماری شریعت اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوئی ہے اوررسول اللہ ﷺکے ذمہ تبلیغ تھی وہ آپ ﷺنے فرمادی اورہمارے ذمے اسے بلاچوں چراتسلیم کرناہے ۔ (التمہید:أبو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمری القرطبی (۶:۱۴)

حدیث شریف کے سامنے گونگے بن جائو

قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ:إِذَا أَخَذْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاخْرَسُوا۔ ترجمہ:حضرت سیدناالنضر بن شمیل رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب تم رسول اللہ ﷺکی حدیث شریف لے لو تو پھرگونگے بن جائو۔یعنی کسی طرح کااعتراض نہ کرو۔ (تعظیم قدر الصلاۃ:أبو عبد اللہ محمد بن نصر بن الحجاج المَرْوَزِی (۲:۶۷۱)

ہم کو شریعت پر اعتراض کرنے کی اجاز ت نہیں ہے

ثَنَا الْحُمَیْدِیُّ، قَالَ:ثَنَا سُفْیَانُ، قَالَ:قَالَ رَجُلٌ لِلزُّہْرِیِّ:یَا أَبَا بَکْرٍ،حَدِیثُ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ،وَلَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یُوَقِّرْ کَبِیرَنَا ،وَمَا أَشْبَہَ مِنَ الْحَدِیثِ؟قَالَ سُفْیَانُ: فَأَطْرَقَ الزُّہْرِیُّ سَاعَۃً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ، فَقَالَ:مِنَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ الْعِلْمُ،وَعَلَی الرَّسُولِ الْبَلَاغُ،وَعَلَیْنَا التَّسْلِیمُ۔ ترجمہ:حضرت سیدناامام سفیان رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ ایک شخص نے امام زہری رحمہ اللہ تعالی کی خدمت میں عرض کی : اے ابوبکر! یہ جو حدیث شریف ہے کہ جو شخص گالوں پر مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے اورجو شخص ہمارے بڑوں کااحترام نہ کرے وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے ، یہ کلام حدیث شریف کے کیسے مشابہ ہوگیا؟ حضرت سیدناامام سفیان رحمہ اللہ تعالی نے اپنے سرکوجھکالیا، پھرتھوڑی دیربعد اپنے سرکو اوپرکیااورفرمانے لگے کہ علم کانزول اللہ تعالی کی طرف سے ہے اوراس کی تبلیغ رسول اللہ ﷺکی طرف سے ہے اورہمارے ذمہ صرف اسے تسلیم کرناہے ۔ (السنۃ:أبو بکر أحمد بن محمد بن ہارون بن یزید الخَلَّال البغدادی الحنبلی (۳:۵۷۹)

سرتسلیم خم ہوناچاہئے

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ:أَخْبَرَنِی سُفْیَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ،عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ،أَنَّہُ ذَکَرَ ہَذَا الْحَدِیثَ: لَا یَزْنِی الزَّانِی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَقَالَ فِیہِ قَائِلٌ:مَا ہَذَا عَلَی مَعْنَی الْإِنْکَارِ،فَغَضِبَ ابْنُ الْمُبَارَکِ وَقَالَ:یَمْنَعُنَا ہَؤُلَاء ِ الْأَنَّانُ أَنْ نُحَدِّثَ بِحَدِیثِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،کُلَّمَا جَہِلْنَا مَعْنَی حَدِیثٍ تَرَکْنَاہُ،لَا بَلُ نَرْوِیہِ کَمَا سَمِعْنَا،وَنُلْزِمُ الْجَہْلَ أَنْفُسَنَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناسفیان بن عبدالمالک رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ حضرت سیدناعبداللہ بن مبارک ر ضی اللہ عنہ نے ایک باریہ حدیث شریف بیان کی کہ جو شخص زناکرتاہے وہ مومن نہیں رہتاتووہاں ایک شخص بیٹھاہواتھاوہ بول پڑا، کہنے لگاکہ زنابہت بڑاگناہ سہی مگراس میں انکارکامعنی تونہیں پایاجاتا،یہ سنتے ہی حضرت سیدناعبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ کو بہت زیادہ جلال آگیااورفرمانے لگے کہ یہ شکوک وشبہات ڈالنے والے ہم کو حدیث شریف بیان کرنے سے روکناچاہتے ہیں ، ہمارے لئے حکم یہ ہے کہ جب ہم کسی حدیث شریف کامعنی ناجانے تو اسے چھوڑ دیں ، لیکن اسے روایت ضرور کریں گے جیساکہ ہم نے سناہے اوراپنے آپ کوجاہل کہیں گے کہ ہم اس حدیث شریف کامعنی نہیں سمجھ سکے ، یہ نہیں کہ ہم حدیث شریف پر اعتراض کرناشروع کردیں۔ (تعظیم قدر الصلاۃ:أبو عبد اللہ محمد بن نصر بن الحجاج المَرْوَزِی (۱:۵۰۴)

ہارون الرشید رحمہ اللہ تعالی کاجلال

وقال عمرو بن محمد کان أبو معاویۃ الضریر یحدث ہارون الرشید فحدثہ بحدیث أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ:(احتج آدم وموسی)،فقال عیسی بن جعفر:کیف ہذا وبین آدم وموسی ما بینہما؟ قال: فوثب بہ ہارون وقال:یحدثک عن الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتعارضہ بکیف؟قال:فما زال یقول حتی سکن عنہ. ترجمہ :حضرت عمروبن محمدرحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیدناابومعاویہ الضریر رحمہ اللہ تعالی نے حضرت ہارون الرشید رحمہ اللہ تعالی کے سامنے رسول اللہ ﷺکی یہ حدیث شریف بیان کی کہ حضرت سیدناآدم علیہ السلام اورحضرت سیدناموسی علیہ السلام کاآپس میں مکالمہ ہواتھاتو عیسی بن جعفرنے کہا: حضرت سیدناآدم علیہ السلام اورحضرت سیدناموسی علیہ السلام میں کیسے مکالمہ ہوگیا؟ بس اتناسنتے ہی حضرت ہارون الرشید رحمہ اللہ تعالی کھڑے ہوگئے اورفرمایا: وہ تجھے رسول اللہ ﷺکی حدیث شریف بیان کررہے ہیں اورتم کہتے ہوکہ یہ کیسے ہوگیابہت دیر تک یہی بات کہتے رہے ۔ (الاعتقاد القادری: أَبُو طَاہِرٍ أَحْمَدُ بنُ الحَسَنِ البَاقِلاَّنِیُّ، البَغْدَادِیُّ :۲۱۹)

البدایہ والنہایہ کے دلنشین الفاظ

وحدثہ أَبُو مُعَاوِیَۃَ یَوْمًا عَنِ الْأَعْمَشِ،عَنْ أَبِی صَالِحٍ،عَنْ أَبِی ہریرۃ بحدیث احتجاج آدَمُ وَمُوسَی،فَقَالَ عَمُّ الرَّشِیدِ:أَیْنَ الْتَقَیَا یَا أَبَا مُعَاوِیَۃَ؟فَغَضِبَ الرَّشِیدُ مِنْ ذَلِکَ غَضَبًا شَدِیدًا،وَقَالَ:أَتَعْتَرِضُ عَلَی الْحَدِیثِ؟ علیَّ بِالنَّطْعِ وَالسَّیْفِ،فَأُحْضِرَ ذَلِکَ فَقَامَ النَّاسُ إِلَیْہِ یَشْفَعُونَ فِیہِ فَقَالَ الرَّشِیدُ:ہَذِہِ زَنْدَقَۃٌثُمَّ أمر بسجنہ وأقسم أن لَا یَخْرُجُ حَتَّی یُخْبِرَنِی مَنْ أَلْقَی إِلَیْہِ ہذا،فأقسم عمہ بالأیمان المغلظۃ ما قال ہذا لہ أحد، وإنما کانت ہذہ الکلمۃ بادرۃ منی وأنا أستغفر اللہ وأتوب إلیہ منہا.فأطلقہ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابومعاویہ رحمہ اللہ تعالی نے حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث شریف بیان کی کہ حضرت سیدناآدم علیہ السلام اورحضرت سیدناموسی علیہ السلام کے درمیان مکالمہ ہواتھا،توحضرت سیدناہارون الرشید رحمہ اللہ تعالی کے چچانے کہااے ابومعاویہ ! ان دونوں کی ملاقات کہاں ہوئی تھی ؟ اس بات سے حضرت سیدناہارون الرشید رحمہ اللہ تعالی سخت ناراض ہوکر کہنے لگے : کیاتوحدیث شریف پر اعتراض کرتاہے ؟ چمڑے کافرش اورتلوار میرے پاس لائو، یہ چیزیں حاضرکی گئیں تولوگوں نے امیرالمومنین رحمہ اللہ تعالی کے پاس جاکر اس کی سفارش کی ، توہارون الرشید رحمہ اللہ تعالی فرمانے لگے کہ یہ زندقہ ہے ، پھرامیرالمومنین رحمۃ اللہ تعالی نے اسے قید کرنے کاحکم دے دیااورقسم کھائی کہ اسے قید خانے سے اس وقت تک باہر نہیں نکالے گاجب تک وہ مجھے یہ نہ بتائے کہ اسے یہ بات کس نے بتائی ہے ، اوراس کے چچانے بہت زیادہ قسمیں کھائیں کہ مجھے یہ بات کسی نے بھی نہیں بتائی ، یہ بات میری بے وقوفی کی وجہ سے میرے منہ سے تیزی کے ساتھ نکل گئی ، میں اس سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ کرتاہوں ، پھرخلیفہ رحمہ اللہ تعالی نے اس کو چھوڑ نے کاحکم دیا۔ (البدایۃ والنہایۃ:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۱۰:۲۱۴) انتباہ : یاد رہے کہ موسی بن جعفر حضرت سیدناہارون الرشید رحمہ اللہ تعالی کاسگاچچاتھالیکن غیرت ایمانی ملاحظہ فرمائیں کہ جب بات رسول اللہ ﷺکی حدیث شریف کی آئی تو یہ نہیں دیکھاکہ یہ میرے باپ کابھائی ہے ۔

ہر معترض کے ساتھ ایساہی کیاجائے

ہکذا ینبغی للمرء أن یعظم أخبار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ویقابلہا بالقبول والتسلیم والتصدیق، وینکر أشد الإنکار علی من یسلک فیہا غیر ہذا الطریق الذی سلکہ ہارون الرشید رحمہ اللہ مع من اعترض علی الخبر الصحیح الذی سمعہ بکیف؛ علی طریق الإنکار والاستبعاد لہ۔ ترجمہ :ہر مسلمان کے لئے لازم ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺکی حدیث شریف کاادب اسی طرح کرے اورجب بھی اس کے سامنے رسول اللہ ﷺکی حدیث شریف بیان ہواسے قبول کرے ، تسلیم کرے اوراس کی تصدیق کرے ، اورجو کوئی شخص رسول اللہ ﷺکی حدیث شریف پر اعتراض کرے یہ اس کو سختی کے ساتھ ڈانٹے اوربالکل وہی معاملہ کرے جو حضرت سیدناہارون الرشید رحمہ اللہ تعالی نے کیاہے ۔جو شخص حدیث شریف کو سن کر اس پر انکارکرے یااس میں استبعاد جانے ۔ (شرح عقیدۃ السلف أصحاب الحدیث:ناصر بن عبد الکریم العلی العقل(۱۹:۱۴)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh