صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2295 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ النساء آیت ۱۰۲۔۱۰۳۔وَ اِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَاَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ مَّعَکَ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,492

سوال (Question):

تفسیر سورہ النساء آیت ۱۰۲۔۱۰۳۔وَ اِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَاَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ مَّعَکَ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حالت نماز میں بھی ہتھیارتھامے رکھیں

{وَ اِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَاَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ مَّعَکَ وَلْیَاْخُذُوْٓا اَسْلِحَتَہُمْ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِکُمْ وَلْتَاْتِ طَآئِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ وَلْیَاْخُذُوْا حِذْرَہُمْ وَاَسْلِحَتَہُمْ وَدَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِکُمْ وَاَمْتِعَتِکُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْکُمْ مَّیْلَۃً وّٰحِدَۃً وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ کَانَ بِکُمْ اَذًی مِّنْ مَّطَرٍ اَوْکُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَنْ تَضَعُوْٓا اَسْلِحَتَکُمْ وَخُذُوْا حِذْرَکُمْ اِنَّ اللہَ اَعَدَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّہِیْنًا }(۱۰۲){فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰبًا مَّوْقُوْتًا }(۱۰۳) ترجمہ کنزالایمان:اور اے محبوب جب تم ان میں تشریف فرما ہو پھر نماز میں ان کی امامت کرو تو چاہئے کہ ان میں ایک جماعت تمہارے ساتھ ہواور وہ اپنے ہتھیار لیے رہیں پھر جب وہ سجدہ کرلیں تو ہٹ کر تم سے پیچھے ہوجائیں اور اب دوسری جماعت آئے جو اس وقت تک نماز میں شریک نہ تھی اب وہ تمہارے مقتدی ہوں اور چاہئے کہ اپنی پناہ اور اپنے ہتھیار لیے رہیں کافروں کی تمنا ہے کہ کہیں تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے اسباب سے غافل ہو جاؤ تو ایک دفعہ تم پر جھک پڑیں اور تم پر مضائقہ نہیں اگر تمہیں مینھ کے سبب تکلیف ہو یا بیمار ہو کہ اپنے ہتھیار کھول رکھو اور اپنی پناہ لیے رہو بیشک اللہ نے کافروں کے لئے خواری کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو اللہ کی یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے پھر جب مطمئن ہو جاؤ تو حسبِ دستور نماز قائم کرو بے شک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور اے حبیب کریمﷺ!جب آپﷺ ان میں تشریف فرما ہوں پھر نماز میں ان کی امامت کرو ائیں تو چاہئے کہ ان میں ایک جماعت آپ ﷺکے ساتھ ہو اور وہ اپنے ہتھیار اٹھائے رہیں پھر جب وہ سجدہ کرلیں تو ہٹ کرآپﷺ سے پیچھے ہوجائیں اور اب دوسری جماعت آئے جو اس وقت تک نماز میں شریک نہ تھی اب وہ آپﷺکے ساتھ نماز پڑھیں اوران کوبھی چاہئے کہ اپنی حفاظت کا سامان اور اپنے ہتھیار اٹھائے رہیں۔ کافر چاہتے ہیں کہ اگرتم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے غافل ہو جاؤ تو ایک ہی دفعہ تم پرحملہ کردیں اور اگر تمہیں بارش کے سبب تکلیف ہو یا بیمار ہو توتم پرکوئی مضائقہ نہیں کہ اپنے ہتھیار کھول رکھو اور اپنی حفاظت کا سامان اٹھائے رہو۔ بیشک اللہ تعالی نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار فرما رکھا ہے۔پھر جب تم نماز پڑھ لوتو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے ہوئے بھی اللہ تعالی کو یاد کرو پھر جب تم مطمئن ہو جاؤ توحسب ِ معمول نماز قائم کرو بیشک نماز مسلمانوں پر مقررہ وقت میں فرض ہے۔ شان نزول عَنْ أَبِی عَیَّاشٍ الزُّرَقِیِّ، قَالَ:کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ، فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِکُونَ عَلَیْہِمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ وَہُمْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ، فَصَلَّی بِنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الظُّہْرَ،فَقَالُوا:قَدْ کَانُوا عَلَی حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَہُمْ، فَقَالُوا:یَأْتِی عَلَیْہِمُ الْآنَ صَلَاۃٌ ہِیَ أَحَبُّ إِلَیْہِمْ مِنْ أَبْنَائِہِمْ وَأَنْفُسِہِمْ، قَالَ:فَنَزَلَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ بِہَذِہِ الْآیَاتِ بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ(وَإِذَا کُنْتَ فِیہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلَاۃَ) ترجمہ :حضرت سیدناابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایاکہ ہم حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ساتھ عسفان میں تھے کہ مشرکین کے ساتھ ہمارامقابلہ ہواتوان کے جرنیل حضرت سیدناخالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے(جوابھی اسلام نہیں لائے تھے) وہ ہمارے اورقبلہ کے درمیان تھے ، ہمیں حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ظہرکی نماز پڑھائی ، مشرکین نے کہاکہ مسلمان اس حالت پر ہیں کہ ہم ان پر حملہ کردیں ، فرمایا: پھرکہاکہ ابھی مسلمانوں پرایسی نماز کاوقت آنے والاہے جوانہیں اپنے بیٹوں اوران کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیزہے ۔ فرمایا:حضرت سیدناجبریل امین علیہ السلام ظہراورعصرکے درمیان یہ آیت کریمہ لے کرحضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ اقدس میں حاضرہوگئے۔ (المعجم الکبیر:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (۵:۲۱۳) حضرت سیدناخالدبن ولید رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کاسبب وَہَذَا کَانَ سَبَبَ إِسْلَامِ خَالِدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَدِ اتَّصَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ بِمَا سَبَقَ مِنْ ذِکْرِ الْجِہَادِوَبَیَّنَ الرَّبُّ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَّ الصَّلَاۃَ لَا تَسْقُطُ بِعُذْرِ السَّفَرِ وَلَا بِعُذْرِ الْجِہَادِ وَقِتَالِ الْعَدُوِّ، وَلَکِنْ فِیہَا رُخَصٌ عَلَی مَا تَقَدَّمَ فِی (الْبَقَرَۃِ)وَہَذِہِ السُّورَۃُ، بَیَانُہُ مِنَ اخْتِلَافِ الْعُلَمَاء ِوَہَذِہِ الْآیَۃُ خِطَابٌ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَہُوَ یَتَنَاوَلُ الْأُمَرَاء َ بَعْدَہُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی :۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہی آیت کریمہ حضرت سیدناخالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کاسبب بنی ، یہ آیت کریمہ سابقہ جہادکے ذکرسے متصل ہے ۔ اللہ تعالی نے بیان فرمایاکہ نماز سفراورجہاد اوردشمن کے ساتھ قتال کے وقت بھی معاف نہیں ہے لیکن اس میں رخصت ہے جیساکہ سورۃ البقرہ اوراس سورہ میں علماء کرام کے اختلاف کابیان گزرچکاہے ، یہ خطاب حضورتاجدارختم نبوتﷺکو ہے اورقیامت تک آنے والے بعد کے تمام امراء کو شامل ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۵:۳۶۴) حضورتاجدارختم نبوتﷺنے کتنی بارصلوۃ خوف ادافرمائی ؟ قَالَ ابْنُ الْعَرَبِیِّ:رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ صَلَّی صَلَاۃَ الْخَوْفِ أَرْبَعًا وَعِشْرِینَ مَرَّۃً۔ ترجمہ :القاضی محمد بن عبد اللہ أبو بکر بن العربی المعافری الاشبیلی المالکی المتوفی : ۵۴۳ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ روایت کیاگیاہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے چوبیس مرتبہ صلوۃ خوف ادافرمائی ۔ (أحکام القرآن:القاضی محمد بن عبد اللہ أبو بکر بن العربی المعافری الاشبیلی المالکی (ا:۶۱۸)

کس نماز کے بعد ذکرکرنے کاحکم ہے ؟

ذَہَبَ الْجُمْہُورُ إِلَی أَنَّ ہَذَا الذِّکْرَ الْمَأْمُورَ بِہِ إِنَّمَا ہُوَ إِثْرَ صَلَاۃِ الْخَوْفِ، أَیْ إِذَا فَرَغْتُمْ مِنَ الصَّلَاۃِ فَاذْکُرُوا اللَّہَ بِالْقَلْبِ وَاللِّسَانِ، عَلَی أَیِّ حَالٍ کُنْتُمْ (قِیاماً وَقُعُوداً وَعَلی جُنُوبِکُمْ)وَأَدِیمُوا ذِکْرَہُ بِالتَّکْبِیرِ وَالتَّہْلِیلِ وَالدُّعَاء ِ بِالنَّصْرِ لَا سِیَّمَا فی حال القتال۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جمہورعلماء کرام کانظریہ یہ ہے کہ یہ ذکرجس کاحکم دیاگیاہے وہ نماز خوف کے بعد ہے یعنی جب تم نماز سے فارغ ہوجائوتودل اورزبان سے اللہ تعالی کاذکرکروخواہ کسی حال میں ہوکھڑے ہویابیٹھے ہویاپہلوکے بل لیٹے ہوئے ہو، تسبیح لاالہ الااللہ اورکافروں پرفتح ونصرت کی دعاہمیشہ کرتے رہوخصوصاًاس وقت جب تم حالت جنگ میں ہو۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۵:۳۶۴)

کیانماز خوف صرف حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ساتھ خاص ہے ؟

ان الائمۃ نواب عن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فی کل عصر قوام بما کان یقوم بہ فکان الخطاب لہ متناولا لکل امام یکون حاضرا بجماعۃ فی حال الخوف علیہ ان یؤمہم کما أم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الجماعات التی کان یحضرہا ألا یری ان قولہ تعالی خُذْ مِنْ أَمْوالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ لم یوجب کونہ علیہ السلام مخصوصا بہا دون غیرہ من الائمۃ بعدہ فکذا صلاۃ الخوف فاندفع قول من قال صلاۃ الخوف مخصوصۃ بحضرۃ الرسول علیہ السلام حیث شرط کونہ بینہم۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی امت امورشرعیہ میں آپﷺکی نائب ہے اورآپ ﷺکے جمیع احکامات میں آپ ﷺکے قائم مقام ہے اس اعتبارسے یہ خطاب ان تمام ائمہ صلوہ کو بھی ہوگاجوایسی نماز کے وقت موجود ہوں ، پھروہ نمازیوں کواس طرح ہرزمانے میں صلوۃ الخوف کی اقامت وقت کے امام کے ذمہ ہوگی۔ اوراس سے قائل کااعتراض اٹھ گیاجوکہتاہے کہ صلوۃ الخوف صرف حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ساتھ مخصوص ہے کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺکوہی حکم دیاہے جبکہ آپ ﷺکواعدائے اسلام کاخوف پیش ہوا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۲:۲۷۴)

نماز میں ہتھیاراٹھانے کاحکم کیوں؟

فربما یظنونہم قائمین للحرب وتکلیف کل من الطائفتین بأخذ الحذر والاسلحۃ لما ان الاشتغال بالصلاۃ مظنۃ لالقاء السلاح والاعراض عن ذکرہا ومئنۃ لہجوم العدو کما ینطق بہ ما بعد الآیۃ. قال الامام الواحدی فی قولہ تعالی وَلْیَأْخُذُوا حِذْرَہُمْ رخصۃ للخائف فی الصلاۃ لان یجعل بعض فکرہ فی غیر الصلاۃ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ نماز کی مشغولی میں عموماًیہی ہوتاہے کہ تمام اسباب ترک کرکے صرف اسی کاہی خیال رکھناپڑتاہے ، ایسے ہی غازیوں کوکرناتھاکہ وہ اپنے ہتھیاروں کو اتارکررکھ دیتے اورنمازکی مشغولی سے ہتھیاروں سے بالکل بے نیاز ہوجاتے ، ان کے اس طرح کرنے سے دشمنوں کو حملے کاموقع مل جاتا، وہ اگرچہ ان کے جوابی حملے کے لئے نمازیں توڑسکتے تھے لیکن ہتھیاروں کے سنبھالنے تک دشمن کو وارکرنے کاموقع مل جاتا، اس لئے ان کو تنبیہ کی گئی کہ بحالت نماز ہتھیاروں اورہوشیاری کو ہاتھ سے نہ جانے دوچنانچہ مذکورہ بالابیان کی تائیدآنے والے مضمون سے بھی ہوتی ہے ۔ امام واحدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ نماز خوف میں نمازی کو رخصت ہے کہ حالت نماز میں بھی غیرصلوۃ کے تفکرات کو عمل میں لاسکتاہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۲:۲۷۴)

اللہ تعالی کافروں کوعذاب اہل ایمان کے ہاتھوں سے دیتاہے

تعلیل للامر بأخذ الحذر ای أعد لہم عذابا مہینا بان یخذلہم وینصرکم علیہم فاہتموا بأمورکم ولا تہملوا فی مباشرۃ الأسباب کی یحل بہم عذابہ بایدیکم ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالی نے اہل اسلام کو ہوشیاری کاحکم دیاتواب اس کی علت بیان فرمائی کہ تمھارے دشمن کافرہیں توہم بھی ان کورسواکرکے تمھیں ان پرفتح یاب فرمائیں گے اس لئے تم اپنے معاملات میں ہوشیاری سے کام لواوراپنے اسباب کو مضبوط رکھوتاکہ تمھارے سبب سے میں ان کو عذاب میں مبتلاء کروں۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۲:۲۷۴)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh