Fatwa #2299
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ النساء آیت ۱۳۸۔۱۳۹۔ بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمَا
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,916
سوال (Question):
تفسیر سورہ النساء آیت ۱۳۸۔۱۳۹۔ بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمَا
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اہل ایمان کوچھوڑکرکفارسے دوستیاں لگانے والے منافقین کے لئے وعیدشدیدکابیان
{بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمَا }(۱۳۸) الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآء َ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَہُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلہِ جَمِیْعًا }(۱۳۹) ترجمہ کنزالایمان: خوشخبری دو منافقوں کو کہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کودوست بناتے ہیں کیا ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں تو عزت تو ساری اللہ کے لیے ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے حبیب کریم ﷺ!آپ منافقوں کو خوشخبری دے دیںکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں۔ کیا یہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں ؟ تو تمام عزتوں کا مالک اللہ تعالی ہے۔کوئی بھی مومن کفارکے ساتھ دوستی نہیں لگاسکتا
وَفِی ہَذَا دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ مَنْ عَمِلَ مَعْصِیَۃً مِنَ الْمُوَحِّدِینَ لَیْسَ بِمُنَافِقٍ، لِأَنَّہُ لَا یَتَوَلَّی الْکُفَّارَوَتَضَمَّنَتِ الْمَنْعَ مِنْ مُوَالَاۃِ الْکَافِرِ،وَأَنْ یُتَّخَذُوا أَعْوَانًا عَلَی الْأَعْمَالِ الْمُتَعَلِّقَۃِ بِالدِّینِ وَفِی الصَّحِیحِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِکِینَ لَحِقَ بِالنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَاتِلُ مَعَہُ، فَقَالَ لَہُ:ارْجِعْ فَإِنَّا لَا نَسْتَعِینُ بِمُشْرِکٍ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ جومسلمان گناہ کرے وہ منافق نہیں ہوتااس لئے کہ کوئی مومن کافروں کے ساتھ دوستی نہیں لگاتا۔ اس آیت کریمہ کے ضمن میں کفارکے ساتھ دوستی لگانے کی ممانعت ہے اوروہ اعمال جن کاتعلق دین متین کے ساتھ ہے ان میں کفارسے معاونت لینابھی منع ہے جیساکہ صحیح حدیث شریف میں ہے کہ حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ ایک شخص حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی بارگاہ میں حاضرہوااورکہنے لگاکہ میں بھی آپ ﷺکے ساتھ ملکرجہا دکرناچاہتاہوں توحضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: تم یہاں سے چلے جائوکیونکہ ہم مشرکین سے مددنہیں لیتے۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۵:۴۱۶)کافروں سے عزت تلاش کرنے والے کون؟
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:(یَبْتَغُونَ عِنْدَہُمُ)یرید عند بَنِی قَیْنُقَاعَ، فَإِنَّ ابْنَ أُبَیٍّ کَانَ یُوَالِیہِمْ. ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہافرماتے ہیں کہ {یَبْتَغُونَ عِنْدَہُمُ}سے مرادیہ ہے کہ عبداللہ ابن ابی منافق بنوقینقاع کے یہودیوں کے ساتھ دوستی لگاکران سے عزت حاصل کرناچاہتاتھا۔ (التفسیر المنیر فی العقیدۃ والشریعۃ والمنہج :د وہبۃ بن مصطفی الزحیلی (۳:۳۲۱)جوعزت چاہتاہے وہ رجوع الی اللہ کرے
عَن أنس قَالَ:قَالَ رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم:إِن اللہ یَقُول کل یَوْم:أَنا ربکُم الْعَزِیز فَمن أَرَادَ عز الدَّاریْنِ فلیطع الْعَزِیز۔ ترجمہ:حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: اللہ تعالی ہرروزفرماتاہے کہ میں تمھاراغالب رب ہوں ، جوآدمی دونوں جہانوں کی عزت چاہتاہے وہ اس غالب کی اطاعت کرے ۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۲:۷۱۷)منافقین کے کرتوت کی وضاحت
مفتی محمدقاسم قادری لکھتے ہیں کہ منافقوں کا ایک کرتوت یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اسلام غالب نہ ہوگا اور اس لئے وہ کفار کو صاحب ِقوت و شوکت سمجھ کر ان سے دوستی کرتے تھے اور ان سے ملنے میں عزت جانتے تھے حالانکہ کفار کے ساتھ دوستی ممنوع ہے اور ان سے ملنے میں عزت سمجھنا باطل ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافروں سے محبت اور دوستی رکھنا منافقوں کی علامت ہے خصوصاً مسلمانوں کے مقابلہ میں۔ ایسے سب لوگوں کے متعلق فرمایا جارہا ہے کہ کیا یہ لوگوں کے پاس جاکر عزت تلاش کرتے ہیں حالانکہ تمام عزتوں کا مالک اللہ عَزَّوَجَلّ ہے تو وہی خداوند ِ کریم ہی عزت والا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے وہ عزت والے جنہیں اللہ عَزَّوَجَلّ عزت دے جیسے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور مومنین۔ منافقوں کے مذکورہ بالا طرزِ عمل کو سامنے رکھ کر آج دنیا کے حالات کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ مرض آج کل بکثرت پایا جارہا ہے، اپنوں کو چھوڑ کر بیگانوں سے دوستیاں ، مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے پیار، باہمی اتحاد سے عزت حاصل کرنے کی بجائے کفار کے قدموں میں بیٹھ کر عزت حاصل کرنے کی کوشش کرنامسلمان قوم میں کس طرح سرایت کئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عقلِ سلیم عطا فرمائے۔ ( تفسیرصراط الجنان( ۲: ۳۳۱)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9