Fatwa #2156
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۰۴ تا ۱۰۷ ۔ رسول اللہ ﷺکی بارگاہ عالیہ میں گستاخانہ الفاظ بولنے والے کاشرعی حکم
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,525
سوال (Question):
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۰۴ تا ۱۰۷ ۔ رسول اللہ ﷺکی بارگاہ عالیہ میں گستاخانہ الفاظ بولنے والے کاشرعی حکم
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
رسول اللہ ﷺکی بارگاہ عالیہ میں گستاخانہ الفاظ بولنے والے کاشرعی حکم
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رٰعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ}(۱۰۴) ترجمہ کنزالایمان :اے ایمان والو !رَاعِنَانہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے ایمان والو! تم راعنانہ کہواورمیرے حبیب کریم ﷺکی خدمت میں یوں عرض کروکہ حضورہم پرنظرکرم فرمائیں اورتم پہلے ہی پوری توجہ کے ساتھ سنواورکافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ رب تعالی بلاواسطہ کلام فرمارہاہے سَمِعْتُ سُفْیَانَ بْنَ عُیَیْنَۃَ، یَقُولُ:سَمِعْتُ مِسْعَرَ بْنَ کِدَامٍ، یَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ لعَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَوْصِنِی، قَالَ: إِذَا سَمِعْتَ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ: (یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا) (البقرۃ: ۱۰۴) فَأَصْغِ إِلَیْہَا سَمْعَکَ، فَإِنَّہُ خَیْرٌ تُؤتَی بِہِ أَوْ سوء تُصْرَفُ عَنْہُ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناسفیان بن عیینہ رحمہ اللہ تعالی روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کی کہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تویہ سنے کہ {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا}توفوراً اپنے کان اس کی طرف متوجہ کرلے اورقلب کو حاضرکرکہ اللہ تعالی تم سے بلاواسطہ کلام فرمارہاہے، ایک نیک عمل کی بجاآوری کایاکسی برے عمل سے اجتناب کاحکم صادرفرمارہاہے ، اسے غنیمت جانو۔ (شعب الإیمان:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (۳:۴۰۸)رسول اللہ ﷺکی تعظیم کاحکم دیاگیاہے
وَابْن أبی حَاتِم عَن أبی صَخْر قَالَ کَانَ رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم إِذا أدبر ناداہ من کَانَت لَہُ حَاجَۃ من الْمُؤمنِینَ فَقَالُوا:ارعنا سَمعک فاعظم اللہ رَسُولہ أَن یُقَال لَہُ ذَلِک وَأمرہمْ أَن یَقُولُوا انظرنا لیعززوا رَسُولہ ویوقروہ۔ ترجمہ :امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ تعالی نے حضرت سیدناابوصخررضی اللہ عنہ سے روایت کیاہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب تشریف لے جاتے تواہل ایمان میں سے جس کسی کو کوئی کام ہوتاتوآپ ﷺکو پکارکرکہتے ’’ارعنا سمک‘‘ تواللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم ﷺکے لئے یہ بھی کہناپسندنہ فرمایااورحکم دیاکہ تم ’’انظرنا‘‘کہوتاکہ وہ رسول اللہ ْﷺکی تعظیم وتوقیرکریں ۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (ا:۲۵۳) بالتوجہ کلام شریف سناجائے فَرِّغُوا أَسْمَاعَکُمْ لِمَا یَقُولُ النَّبِیُّ عَلَیْہِ السَّلَامُ حَتَّی لَا تَحْتَاجُوا إِلَی الِاسْتِعَادَۃِ، وَثَانِیہَا:اسْمَعُوا سَمَاعَ قَبُولٍ وَطَاعَۃٍ وَلَا یَکُنْ سَمَاعُکُمْ سَمَاعَ الْیَہُودِ حَیْثُ قَالُوا:سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا۔ ترجمہ:امام ابوعبداللہ محمدبن عمر الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کامطلب یہ ہے کہ تم رسول اللہﷺ کی گفتگوکے لئے اپنے کانوں کو فارغ رکھوتاکہ میرے حبیب کریمﷺکو گفتگودہرانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ اورمحبوب کریمﷺ کاکلام بطور قبول واطاعت سنونہ کہ اس طرح جیسے یہودیوں نے سناکہنے لگے کہ {سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا}ہم نے سن لیاہے اورہم نے نافرمانی کی ہے۔ (التفسیر الکبیر: أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۳:۶۳۵) جوشخص رسول اللہ ﷺکاکلام توجہ کے ساتھ نہ سنے ؟ اسْمَعُوا مَا أُمِرْتُمْ بِہِ حَتَّی لَا تَرْجِعُوا إِلَی مَا نُہِیتُمْ عَنْہُ تَأْکِیدًا عَلَیْہِمْ، ثُمَّ إِنَّہُ تَعَالَی بَیَّنَ مَا لِلْکَافِرِینَ مِنَ الْعَذَابِ الْأَلِیمِ إِذَا لَمْ یَسْلُکُوا مَعَ الرَّسُولِ ہَذِہِ الطَّرِیقَۃَ مِنَ الْإِعْظَامِ وَالتَّبْجِیلِ وَالْإِصْغَاء ِ إِلَی مَا یَقُولُ وَالتَّفَکُّرِ فِیمَا یقول۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن عمر الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس کامطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺجس چیز کاحکم دیںان کو اچھی طرح سنوتاکہ تم ممنوعات کاارتکاب نہ کرو، اس میں ان کے لئے تاکید ہے ۔ اس کے بعد فرمایاکہ اگریہ لوگ رسول اللہ ﷺکے ساتھ تعظیم وتوقیرکے ساتھ نہ چلیں اورانہوںنے آپ ﷺکی گفتگوکو توجہ سے نہ سنااوراس میں غوروفکرنہ کیاتوان کفارکے لئے دردناک عذاب ہے ۔ (التفسیر الکبیر: أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۳:۶۳۵) موہم تنقیص الفاظ کااستعمال حرام اوربولنے والے پر سزاجاری ہوگی عَلَی تَجَنُّبِ الْأَلْفَاظِ الْمُحْتَمَلَۃِ الَّتِی فِیہَا التَّعْرِیضُ لِلتَّنْقِیصِ وَالْغَضِّ، وَیَخْرُجُ مِنْ ہَذَا فَہْمُ الْقَذْفِ بِالتَّعْرِیضِ، وَذَلِکَ یُوجِبُ الْحَدَّ عِنْدَنَا ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکی بارگاہ میں ایسے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب لازم ہے جس میں رسول اللہ ﷺکی شان میں تنقیص اورعظمت میں کمی کااشارہ ہواوراس سے تعریضاً قذف کاسمجھنانکلتاہے ۔ ہمارے نزدیک یہ حد کاموجب ہے ۔ (تفسیر القرطبی: أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۲:۵۷) راعناکامعنی قالوا: راعنا، أی یا أحمق۔ ترجمہ :امام شہاب الدین محمدبن عبداللہ الحسینی الآلوسی المتوفی : ۱۲۷۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہودی جب رسول اللہ ﷺکی بارگاہ اقدس میں ’’راعنا‘‘کہتے تواس کامعنی ان کی زبان میں یہ ہوتا’’یااحمق ‘‘ نعوذ باللہ من ذلک ۔ (روح المعانی :شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الحسینی الألوسی (۱:۳۴۸) رسول اللہ ﷺکی ذات پاک کی عظمت وشان کے پیش نظرآپ کے متعلق ایساکلمہ بولناجو دومعنی رکھتاہوایک معنی توہین والااورایک معنی وہ ہوجس میں توہین کاشائبہ نہ ہوتوایساکلمہ بولناحرام اوررسول اللہ ﷺکی توہین اورگستاخی کے سبب وہ کلمہ کفرکہلائے گااوربولنے والادائرہ ایمان سے خارج ہوجائے گا۔اگرچہ وہ کہے کہ میں نے اس سے وہ معنی مراد نہیں لیاجوبے ادبی پر مشتمل ہے ۔اورجس طرح یہودیوں کو حضرت سیدناسعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ اگر تم نے دوبارہ لفظ راعناکہاتومیں تم کو قتل کردوں گا۔ اسی طرح بہت سے الفاظ جو ایک زمانہ میں بے ادبی شمار نہیں ہوتے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہی الفاظ عرف وزمانہ کے بدلنے سے بے ادبی اورگستاخی شمار ہوتے ہیں ۔ہمارے علماء کرام رحمۃ اللہ تعالی علیہم نے اس طرح کی بہت سی اشیاء کوبیان کرنے سے منع فرمایاہے کہ اس زمانے میں یہ کام معززسمجھے جاتے تھے لھذااب ان کو بیان کرناجائز نہیں ہے ۔اس کی مثالیں ہم آگے چل کر نقل کریں گے ۔ ان شاء اللہ تعالی ۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رٰعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ}سورۃ البقرۃ رقم الآیۃ ۱۰۴) ترجمہ کنزالایمان :اے ایمان والو :{رَاعِنَا}نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ اس آیت مبارکہ سے یہ معلوم ہواکہ کوئی لفظ بظاہرکتناہی خوبصورت کیوںنہ ہواگراس کو سوء ادب کے لئے استعمال کیاجاسکتاہوتوایسالفظ رسول اللہ ﷺکے لئے بولناتوہین شمار ہوگا۔ لفظ راعنانہایت خوبصورت لفظ تھامگرمنافقین اوریہودیوں نے اسے بے ادبی کاذریعہ بنایاتواللہ تعالی نے اس سے منع فرمادیا۔یہودیوں کی گستاخی پر حضرت سعدکاجواب
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:کان المسلمون یقولون للنبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:رَاعِنَا:عَلَی جِہَۃِ الطَّلَبِ وَالرَّغْبَۃِمِنَ الْمُرَاعَاۃِ:أَیِ الْتَفِتْ إِلَیْنَا، وَکَانَ ہَذَا بِلِسَانِ الْیَہُودِ سَبًّا، أَیِ اسْمَعْ لَا سَمِعْتَ، فَاغْتَنَمُوہَا وَقَالُوا:کُنَّا نَسُبُّہُ سِرًّا فَالْآنَ نَسُبُّہُ جَہْرًا، فَکَانُوا یُخَاطِبُونَ بِہَا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیَضْحَکُونَ فِیمَا بَیْنَہُمْ، فَسَمِعَہَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ وَکَانَ یَعْرِفُ لُغَتَہُمْ، فَقَالَ لِلْیَہُودِ!عَلَیْکُمْ لَعْنَۃُ اللَّہِ :لَئِنْ سَمِعْتُہَا مِنْ رَجُلٍ مِنْکُمْ یَقُولُہَا لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَہُ، فَقَالُوا:أَوَلَسْتُمْ تَقُولُونَہَا؟ فَنَزَلَتِ الْآیَۃُ، وَنُہُوا عَنْہَا لِئَلَّا تَقْتَدِی بِہَا الْیَہُودُ فِی اللَّفْظِ وَتَقْصِدُ الْمَعْنَی الْفَاسِدَ فِیہَِ۔ ترجمہ ـحضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ مسلمان نبی کریم ﷺکو راعناکہتے تھے یعنی ہماری رعایت فرمائیے اورہماری طرف نظرالتفات اورتوجہ فرمائیں جب کوئی بات سمجھ نہ آتی ۔یہودیوں کی لغت میں یہ لفظ بطورتوہین اوربطوربددعا استعمال ہوتاتھا، اوراس کامعنی تھا: سنوتمھاری بات نہ سنی جائے ، انہوںنے اس موقع کو غنیمت جانااورکہنے لگے کہ پہلے ہم رسول اللہ ﷺکوتنہائی میں بدعادیتے تھے اورتوہین کرتے تھے اوراب لوگوں میں برسرمجلس ان کو بددعادینے کاموقع ہاتھ آگیاہے تووہ نبی کریم ﷺکو مخاطب کرکے ’’راعنا‘‘کہتے تھے اورآپس میں ہنستے تھے ، حضرت سیدناسعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کی لغت کاعلم تھا، انہوں نے جب ان سے یہ لفظ سناتوانہوںنے فرمایا: تم پر اللہ تعالی کی لعنت ہو، اگرمیں نے آئندہ تم کو رسول اللہ ﷺکی بارگاہ میں یہ لفظ کہتے ہوئے سناتوتمھاری گردن اڑادوں گا، یہودیوں نے کہا: کیاتم لوگ یہ لفظ نہیں کہتے ؟ تواس موقع پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اورمسلمانوں سے کہاگیا( جب کوئی بات سمجھ نہ آئے تو) تم ’’راعنا‘‘ نہ کہوبلکہ ’’انظرنا‘‘کہو( ہم پر نظرکرم اورمہربانی فرمائیں )تاکہ یہویوں کو یہ موقع نہ ملے وہ صحیح لفظ کوغلط معنی میں استعمال کریں اورپہلے ہی رسول اللہ ﷺکی بات غورسے سن لیاکروتاکہ یہ نوبت نہ آئے ۔ (تفسیر القرطبی: أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۵۷) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے گستاخوں کے قتل کااعلان کردیا عَن ابْن عَبَّاس فَقَالَ الْمُؤْمِنُونَ بَعْدَہَا{یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ أَلِیمٌ}مَنْ سَمِعْتُمُوہُ یَقُولُہَا فَاضْرِبُوا عُنُقَہُ، فَانْتَہَتِ الْیَہُودُ بَعْدَ ذَلِکَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام ابونعیم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا: جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ رسول اللہ ﷺکی بارگاہ میں کوئی ’’راعنا‘‘ نہ کہے بلکہ’’انظرنا‘‘کہے ، توصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اعلان فرمادیاکہ آج کے بعد جو بھی رسول اللہ ﷺکی بارگاہ میں ’’راعنا‘‘ کالفظ بولے اسے وہیں پر قتل کردو، جب یہودیوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کااعلان سناتو یہودی اپنی غلیظ حرکت سے باز آگئے ۔ (دلائل النبوۃ لأبی نعیم الأصبہانی: أبو نعیم أحمد بن عبد اللہ بن أحمد (۱:۴۴) (إمتاع الأسماع :أحمد بن علی بن عبد القادر، أبو العباس الحسینی العبیدی، تقی الدین المقریزی (۳:۱۰۹) امام اہل سنت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کچھ یہودی جب دربار نبوت میں حاضر آتے اور حضوراقدس ﷺسے کچھ عرض کرنا چاہتے تویوں کہتے ، آپ سنائے نہ جائیں ، جس سے ظاہر تو دعا ہوتی یعنی حضورکوکوئی ناگوار بات نہ سنائے اور دل میں بددعا کا ارادہ کرتے کہ سنائی نہ دے اور جب حضوراقدس ﷺکچھ ارشاد فرماتے اور یہ بات سمجھ لینے کے لئے مہلت چاہتے تو راعنا کہتے جس کا ایک پہلو ئے ظاہر یہ کہ ہماری رعایت فرمائیں اور مراد خفی رکھتے،یعنی رعونت والا ، اور بعض زبان دبا کر راعینا کہتے یعنی ہمارا چر واہا۔ جب پہلودار با ت دین میں طعنہ ہوئی، تو صریح و صاف کتنا سخت طعنہ ہوگی بلکہ انصاف کیجئے تو ان باتوں کا صریح بھی ان کلمات کی شناعت کو نہ پہنچتا ۔بہرا ہونے کی دعا یا رعونت یا بکریاں چرانے کی طرف نسبت کو ان الفاظ سے کیا نسبت کہ شیطان سے علم میں کمتر یا پاگلوں چوپایوں سے علم میں ہمسراورخداکی نسبت وہ کہ جھوٹا ہے، جھوٹ بولتا ہے جو اسے جھوٹا بتائے مسلمان سنی صالح ہے ، والعیا ذ باﷲرب العالمین ۔ (فتاوی رضویہ لامام احمدرضاخان فاضل بریلوی (۳۰:۳۳۳) اس سے معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺکی توہین کرنادین میں طعن کرناہے اگرتم نے راعنابولاتوتمھیں قتل کردوں گا حضرت سیدناصدرالافاضل رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو کچھ تعلیم و تلقین فرماتے تو وہ کبھی کبھی درمیان میں عرض کیا کرتے۔ ”رَاعِنَا یارسول اللہ ” اس کے یہ معنی تھے کہ یارسول اللہﷺ! ہمارے حال کی رعایت فرمائیے یعنی کلام اقدس کو اچھی طرح سمجھ لینے کا موقع دیجئے۔ یہود کی لغت میں یہ کلمہ سوء ِادب کے معنی رکھتا تھا انہوں نے اس نیت سے کہنا شروع کیا ۔حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ یہود کی اصطلاح سے واقف تھے آپ نے ایک روز یہ کلمہ ان کی زبان سے سن کر فرمایا: اے دشمنان خدا !تم پر اللہ کی لعنت، اگر میں نے اب کسی کی زبان سے یہ کلمہ سنا اس کی گردن ماردوں گا یہود نے کہا :ہم پر تو آپ برہم ہوتے ہیں مسلمان بھی تو یہی کہتے ہیں اس پر آپ رنجیدہ ہو کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ہی تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جس میں ’’رَاعِنَا‘‘کہنے کی ممانعت فرمادی گئی اور اس معنی کا دوسرا لفظ ’’اُنْظُرْناَ‘‘کہنے کا حکم ہوا۔ مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی تعظیم و توقیر اور ان کی جناب میں کلمات ادب عرض کرنا فرض ہے اور جس کلمہ میں ترک ادب کا شائبہ بھی ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ہے۔ (تفسیر خزائن العرفان از صدرالافاضل سیدنعیم الدین مرادآبادی :سورۃ البقرۃ رقم الآیۃ ۱۰۴) حضرت سیدناسعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے عمل مبارک سے واضح ہواکہ رسول اللہ ﷺکی عزت وناموس کامسئلہ ہوتو پھرمسائل نہیں پوچھے جاتے بلکہ اسی وقت فیصلے کئے جاتے ہیں کیونکہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جب سناکہ وہ رسول اللہ ﷺکی توہین کرتے ہیں تو فوراً انہیں کہا:خبردار! آج کے بعد میں تمھاری زبان سے یہ لفظ نہ سنوں اگرمیں نے آج کے بعد تمھاری زبان سے یہ کلمہ سناتو تم کو قتل کردوں گا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیاکہ ایسالفظ بولناجس میں رسول اللہ ﷺکی توہین ہواوروہی لفظ اچھے معنی میں بھی استعمال ہوتاہوتواس کے قائل کو قتل کرنے کافتوی حضرت سیدناسعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کاہے ۔رسول اللہ ﷺکے لئے ٹیچر،پروفیسراورلیڈرکالفظ بولناکیسا؟
رسول اللہ ﷺکے لئے لیڈر ،ٹیچراورپروفیسرکالفظ بولناحرام ہے اگرچہ ان کے معنی رہنمائی کرنے والا، تعلیم دینے والااورپڑھانے والاکے ہیں مگریہ الفاظ ایسے ہیں کہ ہر قسم کے لوگوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ عام طورپران کااطلاق سیاسی لوگوں پرہوتاہے اوراسی طرح ٹیچراورپروفیسر کااطلاق بھی دنیابھرکے کفار ومرتدین اوریہودی ، سکھ ، ہندواورتمام مشرکین کے لئے بھی یہی لفظ بولے جاتے ہیں ۔ اورخاص طور پر یہی الفاظ ہمارے مذہبی معاشرے میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے ۔ اس کی وجہ بھی ظاہرہے ان الفاظ کااطلاق ان تمام لوگوں پر ہوتاہے خواہ دیندارہوں یابے دین ، وہ مسلمان ہوں یاکافر، وہ مذہبی ہوں یا لبرل وسیکو لر۔ لھذااس قسم کے مشتبہ الفاظ رسول اللہ ﷺکے لئے ہرگزہرگز بولنے جائز نہیں ۔ ہمارے زمانے کے بعض مصنفین اورلبرل طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ رسول اللہ ﷺکے لئے ایسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جوقطعاً حرام ہیں ۔ اوراسی طرح بعض محافل میں بھی بعض لبرل علماء سے سناہے کہ حضرت سیدناابرہیم علیہ السلام نے جب کعبہ بنادیاتواللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کی : یااللہ ! یونیورسٹی میں نے بنادی ہے اب توپروفیسربھیج دے ۔ نعوذ باللہ من ذلک ۔ اسی آیت مبارکہ سے معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺکے لئے ایسے الفاظ بولناہر گزہرگزمنع اورحرام ہیں جو مشتبہ معنی رکھتے ہوں اوروہ رسول اللہ ﷺکی عظت وشان کے خلاف ہوں ، اگرکوئی ایسی حرکت کرتاہے تو یادرکھے کہ کلمہ کفربولنے والے کے لئے اللہ تعالی نے دردناک عذاب تیارکررکھاہے ۔ حضرت استاذ العلماء مولاناعطاء محمدبندیالوی کی خوبصورت تقریر سوال :جوآدمی انبیاء کرام علیہم السلام سے کسی ایک کی توہین کرتاہے اس کاکیاحکم ہے؟ جواب :اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ قرآن کریم کی سورۃ بقرہ میں ہے کہ {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رٰعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ}سورۃ البقرۃ رقم الآیۃ ۱۰۴) ترجمہ کنزالایمان :اے ایمان والو :رَاعِنَانہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ خلاصہ مطلب آیۃ کریمہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ اے مومنو!جب رسول اللہ ﷺکو کسی خاص موقع پر خطاب کرناچاہوتولفظ { رٰعِنَا }کے ساتھ خطاب نہ کروبلکہ ضروری ہے کہ لفظ {انْظُرْنَا }کے ساتھ خطاب کرواورجب رسول اللہ ﷺخطبہ یاتقریرفرمائیں توتوجہ اورکان لگاکرسنوتاکہ تم کو {انْظُرْنَا }کہنے کی بھی ضرورت نہ پڑے اورکافروں کے لئے سخت عذاب ہے۔ آیت مبارکہ کی تفصیل سے پہلے بندہ تین تمہیدی مقدمات ذکرکرتاہے تاکہ آیت مبارکہ کے سمجھنے میں آسانی ہو۔ مقدمہ اول مذکورہ بالاآیت میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو ایک لفظ سے نہی اورمنع فرمایااوروہ ہے { لَا تَقُوْلُوْا رٰعِنَا }یعنی { رٰعِنَا }نہ کہو۔ {لَا تَقُوْلُوْا }گرائمرکے لحاظ سے نہی کاصیغہ ہے اورنہی کے ذریعہ لفظ { رٰعِنَا }سے منع فرمایاہے اوراحناف کے نزدیک نہی میں اصل تحریم ہے یعنی جس شئی سے اللہ تعالی نہی اورمنع فرمادے وہ چیز نہی کے بعد حرام ہوجاتی ہے چونکہ آیت مذکورہ بالامیں لفظ { رٰعِنَا }سے منع فرمایاگیاہے لھذا بعد از نہی اس لفظ { رٰعِنَا }کاتلفظ مسلمانوں کے لئے حرام ہوگیا۔ نیز اسی آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو ایک لفظ کاامرکیاہے اورحکم فرمایاہے وہ ہے{قُوْلُوا انْظُرْنَا}یعنی {انْظُرْنَا}کالفظ کہو۔ {قُوْلُوا}کالفظ گرائمرکے لحاظ سے امرکاصیغہ ہے اوراس صیغہ امرکے ذریعے لفظ {انْظُرْنَا}کاحکم دیایہ اوراحناف کثرھم اللہ تعالی کے نزدیک امرمیں اصل ایجاب اوروجوب ہے یعنی جس شئی کااللہ تعالی امرکرے اورحکم فرمائے تووہ شئی بعد ازحکم مسلمانوں پر واجب ہوجاتی ہے ۔اوراس شئی کاترک حرام ہوجاتاہے چونکہ آیت مبارکہ میں لفظ {انْظُرْنَا}کاامرکیاگیاہے لھذابعد امر{انْظُرْنَا}کاتلفظ مسلمانوں پر واجب ہوگیا۔ یہاں مقدمہ اول ختم ہوا۔ مقدمہ دوم انسان باعتبار ذہن اورذکاوت کے تین قسم ہیں : قسم اول ذکی کہ جب کوئی مسئلہ سناتوفوراسمجھ گیااگرچہ وہ مسئلہ پیچیدہ ہی کیوں نہ ہو۔ قسم دوم متوسط : یعنی اس میں درمیانہ درجے کی ذکاوت ہواگرپہلی فرصت میں تومشکل مسئلہ سمجھ نہیں آتالیکن ذراغورکیاجائے تو سمجھ آجاتاہے ۔ قسم سوم غبی : یعنی اس میں ذکاوت قسم دوم ،متوسط سے کم ہوتی ہے کہ مشکل مسئلہ تب سمجھتاہے کہ مقرریاتومسئلہ کوآہستہ آہستہ بیان کرے یاکہ مسئلہ کی تقریرمتعددبارکرے ۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ رسول اللہ ﷺجوتقریرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں فرماتے عموماً اس کو تین بار دہراتے تھے ۔ محدثین نے اس کی یہی وجہ بیان کی ہے کہ انسان عموماً ذکاوت کے حساب سے تین قسم ہوتے ہیں ۔اس لئے رسول اللہ ﷺتین دفعہ تقریرسے ہر طبقہ کی رعایت فرماتے تھے ۔ مقدم دوم ختم ہوا۔ مقدمہ سوم آیت مذکورہ بالامیں جو لفظ { رٰعِنَا }ہے عربی گریمرکے لحاظ سے اس میں دواحتمال ہیں ۔ احتمال اول ’’راع‘‘ امر کاصیغہ ہے اورلفظ ’’نا‘‘ ضمیرمتکلم ہے اوریہ رعایت اورمراعاۃ سے مشتق ہے اورباب مفاعلہ سے ہے ،جس کایہ معنی ہے کہ یارسول اللہ ﷺ! اپنے خطاب اورتقریرمیں ہماری رعایت فرمائیں یعنی آپ ﷺ آہستہ آہستہ تقریرفرمائیں یاکہ دوبارہ تقریرفرمائیں تاکہ ہم مسئلہ اچھی طرح سمجھ جائیں جوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم مشکل مسائل کوپوراپورانہیں سمجھ سکتے تھے وہ { رٰعِنَا }کے لفظ کااستعمال کرتے تھے کہ آپ ﷺہماری رعایت فرمائیں اورتقریرآہستہ آہستہ کریں تاکہ ہم مشکل مسئلہ اچھی طرح سمجھ لیں ۔ اس احتمال اول میں کوئی گستاخی نہیں ہے ۔ احتمال دوم یہ کہ لفظ { رٰعِنَا }اسم فاعل کاصیغہ ہے اوررعونۃ سے مشتق ہے جس کامعنی جہالت ہے اورراعن اسم فاعل کاصیغہ ہے اوراس کامعنی جاہل ہے اورآخر میں الف اطلاق کاہے جو عربی محاورہ میں آواز کو طویل کرنے کے لئے آتاہے اورحرف ندایہاں محذوف ہے ،جس طرح عربی محاورہ میں (یازیدا)مستعمل ہوتاہے ۔ اس احتمال دوم میں لفظ راعناکامعنی اے جاہل ہوگااوراس میں شدیدتوہین اورگستاخی ہے ۔ رسول اللہ ﷺکے زمانہ مبارک میں جو یہودی مدینہ منورہ میں رہتے تھے وہ لفظ راعنابول کریہ دوسرامعنی مراد لیتے تھے اوران کامقصدرسول اللہ ﷺکی توہین اورگستاخی تھااوریہ خبیث معنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دل میں نہیں ہوتاتھابلکہ اس معنی خبیث کاصحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تصورہی نہیں کیاجاسکتاتھا۔ ان تین مقدمات کے بعد بندہ آیت مذکورہ بالاکامطلب بیان کرتاہے ۔ رسول اللہ ﷺجب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مسائل کی تبلیغ فرماتے توجوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم تقریرکو پورانہ سمجھ پاتے تو وہ { رٰعِنَا }کالفظ استعمال کرتے تھے ۔ جس کامطلب یہ تھاکہ یارسول اللہ ﷺ! تقریرمیں ہماری رعایت فرمائیں اورتقریرآہستہ آہستہ فرمائیں اوردوبارہ تقریرفرمائیں تاکہ ہم سمجھ جائیں ۔ مدینہ منورہ کے یہودی جو کہ رسول اللہ ﷺکے دشمن تھے اورآپ ﷺکی توہین اورگستاخی کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے جب انہوںنے سناکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم لفظ { رٰعِنَا }سے رسول اللہ ﷺکوخطاب کرتے ہیں اوران کی مراد رعایت اورمراعات ہے تویہودیوں نے رسول اللہ ﷺکو {رٰعِنَا }کہناشروع کردیااوروہ دل میں دوسرامعنی مراد لیتے تھے یعنی { رٰعِنَا }کورعونت سے مشتق خیال کرتے تھے اوران کامقصد گستاخی تھاتوچونکہ اللہ تعالی علام الغیوب اورعلیم بذات الصدور ہے اوریہودکے ارادہ بدکوجانتاتھااوراپنے حبیب ﷺ کی توہین اورگستاخی کو بہت ہی ناپسندفرماتاتھااس لئے اللہ تعالی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی { رٰعِنَا }کے لفظ کے استعمال سے بھی منع کردیااگرچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم لفظ { رٰعِنَا }سے گستاخانہ معنی مراد نہیں لیتے تھے لیکن یہودیوں کو اس لفظ { رٰعِنَا }سے گستاخی کاموقع مل گیااوریہ لفظ گستاخی کاسبب بن گیاتو اللہ تعالی نے مسلمانوں کو بھی یہ لفظ استعمال کرنے سے منع فرمادیااورفرمایاکہ تم رسول اللہ ﷺکو {انْظُرْنَا}سے خطاب کروجس کامعنی یہ ہے کہ یارسول اللہ ﷺ! ہماری طرف توجہ فرمائیں اورمسائل کی تقریراس طرح فرمائیں کہ ہم بھی سمجھ جائیں چونکہ لفظ {انْظُرْنَا}کے ایسے دومعنی نہیں کہ ایک گستاخانہ ہوتویہ لفظ گستاخی کاسبب نہیں بنے گا۔ اس آیت میں {وَاسْمَعُوْا}کالفظ ہے یہ اس لئے فرمایاکہ تم کو جو لفظ {انْظُرْنَا}کاحکم ہواہے اوراس کی اجازت مل گئی ہے تو لفظ کو بھی بے موقع اوربلاضرورت استعمال نہ کروبلکہ جب رسول اللہ ﷺتقریرفرمائیں توبڑی توجہ کے ساتھ سنوتاکہ تم کو {انْظُرْنَا}بھی کہنے کی ضرورت نہ پڑے ۔ غورفرمائیں کہ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے اپنے حبیب ﷺکی عزت وحرمت کاکس قدرلحاظ فرمایاہے ۔ اس کے بعد فرمایا: {وَ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ}اورکافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ یہاں پر بعض تفاسیر میں ایک اعتراض اوراس کاجواب ہے ۔ اعتراض یہ ہے کہ علم بلاغت کاقاعدہ ہے کہ جب ایک چیز کاذکر آجائے اورپھربعدمیں اسی چیز کاذکرکرناہوتواس کو ضمیرکے ساتھ ذکرکرتے ہیں ،تواس قاعدہ کے مطابق {وَ لِلْکٰفِرِیْن}کی جگہ{ ولھم عذاب الیم }کیوں نہیں لایاگیا؟ اس کاجواب دوطرح پر دیاگیاہے ۔ وجہ اول اگرولھم کہاجاتاتویہ معلوم نہ ہوتاکہ اس نہی کے بعد اگرپھرکوئی {رٰعِنَا }کہہ دے تواس کاکیاحکم ہے توجب {وَ لِلْکٰفِرِیْن}کہاتوپتہ چلاکہ اس نہی کے بعد اگرکسی نے رسول اللہ ﷺکو {رٰعِنَا }کہہ دیاتواس نے رسول اللہ ﷺکی اہانت کی تووہ اہانت کی وجہ سے کافرہوجائے گااگرچہ یہ کہنے والامسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ وجہ دوم {وَ لِلْکٰفِرِیْن}کی جگہ { ولھم عذاب الیم }کہاجاتاتویہ پتہ نہ چلتاکہ یہ عذاب شدیدان کو کیوں ہوگا۔ توجب {وَ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ}کہاگیاتوپتہ چلاکہ اگرایک لفظ کے دومعنی ہوں ایک معنی درست ہواوراس میں توہین کاشائبہ نہ ہواوردوسرے معنی میں توہین ہوتوایسالفظ رسول اللہ ﷺکے متعلق استعمال کرناکفرہے اگراستعمال کرنے والے کی مراد معنی اول ہواوراس کایہ عذرقبول نہ ہوگاکہ میری مراد اہانت والامعنی نہیں ہے بلکہ میری مراد وہ معنی ہے جس میں اہانت کااحتمال نہیں ہے ۔ آیت مذکورہ بالااگرچہ رسول اللہ ﷺکے متعلق ہے لیکن سب انبیاء کرام علیہم السلام کاحکم ایک ہے لھذاثابت ہواکہ ہر نبی ﷺ کی توہین کفر ہے ۔ (مقالات بندیالوی از مولاناعطاء محمدچشتی بندیالوی : ۵۱۰تا۵۰۶)رسول اللہ ﷺکے بکریاں چرانے کامسئلہ
یہاں ہم دومسائل بیان کریں گے ایک تویہ کہ کیارسول اللہ ﷺلوگوں سے اجرت لیکر ان کی بکریاںچراتے تھے یارسول اللہ ﷺنے صرف اپنی بکریاں ہی چرائی ہیں ؟ دوسرامسئلہ یہ ہے کہ اب یہ بات بیان کرناکیساہے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنی زندگی مبارک میں بکریاں چرائی ہیں ؟ بکریاں چرانے کی حکمت ومصلحت حضرت امام بدرالدین عینی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں فَإِن قلت مَتی کَانَ ہَذَا الرَّعْی فِی عمرہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم َ (قلت)علم بالاستقراء من کَلَام ابْن إِسْحَاق والواقدی أَنہ کَانَ وَعَمہ نَحْو الْعشْرین سنۃ (فَإِن قلت)مَا الْحِکْمَۃ فِیہِ (قلت)التقدمۃ والتوطئۃ فِی تَعْرِیفہ سیاسۃ الْعباد وَحُصُول التمرن علی مَا سیکلف من الْقیام بِأَمْر أمتہ (فَإِن قلت)مَا وَجہ تَخْصِیص الْغنم فِیہِ (قلت)لِأَنَّہَا أَضْعَف من غَیرہَا وأسرع انقیادا وَہِی من دَوَاب الْجنَّۃ (فَإِن قلت)مَا الْحِکْمَۃ فِی ذکرہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم َ ذَلِک(قلت)إِظْہَار تواضعہ لرَبہ مَعَ کَونہ أکْرم الْخلق عَلَیْہِ وتنبیہ أمتہ علی مُلَازمَۃ التَّوَاضُع وَاجْتنَاب الْکبر وَلَو بلغ أقْصَی الْمنَازل الدنیاویۃ وَفِیہ أَیْضا اتِّبَاع لأخوتہ من الرُّسُل الَّذین رعوا الْغنم وَفِی حَدِیث للنسائی قَالَ رَسُول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم َ بعث مُوسَی وَہُوَ راعی غنم وَبعث دَاوُد وَہُوَ راعی غنم عَلَیْہِمَا وَعَلِیہِ صلوَات اللہ وَسَلَامہ دَائِما أبدا۔ ترجمہ : اگریہ سوال کیاجائے کہ نبی کریم ﷺنے کتنی عمر مبارک میں بکریاں چرائی تھیں ؟تواس کاجواب یہ ہے کہ امام ابن اسحاق اورامام واقدی رحمۃاللہ علیہماکی تصنیفات سے معلوم ہوتاہے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺکی عمرمبارک بیس سال تھی ۔ اگریہ سوال کیاجائے کہ اس کی حکمت کیاتھی ؟ تواس کاجواب یہ ہے کہ بکریوں کی حفاظت اورنگہبانی کراکرامت کی حفاظت اورنگہبانی کی تربیت دینااورنبوت کی تمہیدمقصودتھی ۔ اوربکریوں کی تخصیص اس لئے تھی کہ وہ دوسرے جانوروں کی بانسبت زیادہ اطاعت شعارہوتی ہیں ۔اوراگریہ سوال کیاجائے کہ رسول اللہ ﷺنے جواپنی بکریاں چرانے کاذکرفرمایااس کی کیاحکمت ہے ؟ اس کاجواب یہ ہے کہ اس سے رسول اللہ ﷺکااپنے رب تعالی کے سامنے تواضع کااظہارمقصود تھاحالانکہ آپ ﷺاپنے رب تعالی کے نزدیک اس کی ساری مخلوق سے زیادہ مکرم تھے اوراپنی امت کو اس پر متنبہ کرناتھاکہ وہ ہمیشہ اپنے رب تعالی کے سامنے تواضع اختیارکریں اورتکبرکرنے سے اجتناب کریں خواہ ان کو دنیاکاسب سے بڑامرتبہ حاصل ہواورنیز آپ ﷺنے بکریاں چراکرانبیاء کرام علیہم السلام کی سنت کی پیروی کی ۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری: أبو محمد محمود الحنفی بدر الدین العینی (۱۲:۷۹) امام بخاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ روایت فرماتے ہیں حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ المَکِّیُّ،حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیَی، عَنْ جَدِّہِ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا بَعَثَ اللَّہُ نَبِیًّا إِلَّا رَعَی الغَنَمَ، فَقَالَ أَصْحَابُہُ: وَأَنْتَ؟ فَقَالَ:نَعَمْ، کُنْتُ أَرْعَاہَا عَلَی قَرَارِیطَ لِأَہْلِ مَکَّۃَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالی نے جس نبی علیہ السلام کو بھی بھیجاہے اس نے بکریاں چرائی ہیں ۔رسول اللہ ﷺکی بارگاہ اقدس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ! کیاآپ ﷺنے بھی بکریاں چرائی ہیں ؟ تورسول اللہ ﷺنے فرمایا: میں نے مقام قراریط پر اپنے اہل خانہ کی بکریاں چرائی ہیں ۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۳:۸۸)قراریط کامعنی بیان کرنے میں سوید بن سعید کی غلطی
حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیدٍ قَالَ:حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الْقُرَشِیُّ، عَنْ جَدِّہِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی أُحَیْحَۃَ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَا بَعَثَ اللَّہُ نَبِیًّا إِلَّا رَاعِیَ غَنَمٍ ، قَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ: وَأَنْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ:وَأَنَا کُنْتُ أَرْعَاہَا لِأَہْلِ مَکَّۃَ بِالْقَرَارِیطِ قَالَ سُوَیْدٌ: یَعْنِی کُلَّ شَاۃٍ بِقِیرَاطٍ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالی نے جس نبی علیہ السلام کو بھی بھیجاہے اس نے بکریاں چرائی ہیں ۔رسول اللہ ﷺکی بارگاہ اقدس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ! کیاآپ ﷺنے بھی بکریاں چرائی ہیں ؟ تورسول اللہ ﷺنے فرمایا: میں نے مقام قراریط پر اپنے اہل خانہ کی بکریاں چرائی ہیں ۔ حضرت سوید بن سعید رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ’’قراریط ‘‘ کاترجمہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ ’’قراریط ‘‘ قیراط کی جمع ہے اوراس کامعنی (اجرت) ہے ۔اوررسول اللہ ﷺنے جوبکریاں اجرت پر چرائی تھیں ان میں ہر ایک بکری کی اجرت ایک قیراط تھی ۔ (سنن ابن ماجہ: ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید (۲:۷۲۷) حضرت سوید بن سعید کے بیان کردہ معنی کارد قال محمد بن ناصر أخطأ سوید فی تفسیرہ القیراط بالذہب والفضۃ إذ لم یرع النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لأحد بأجرۃ قط وإنما کان یرعی غنم أہلہ۔ ترجمہ :الامام محمدبن ناصر رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ امام سوید بن سعید نے ’’قیراط ‘‘ کی تفسیر سونے اورچاندی سے کرکے خطاکی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺنے اپنی ساری عمر مبارک میں کبھی بھی کسی کی بکریاں اجرت پرنہیں چرائیں ۔ ہاں رسول اللہ ﷺنے صرف اپنی بکریاں چرائی ہیں ۔ (شرح الشفا: علی بن (سلطان)محمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری (۲:۴۵۶) ملاعلی قاری حنفی کے نزدیک امام حربی کے موقف کی تائید والصحیح ما فسرہ بہ إبراہیم بن إسحاق الحربی الإمام فی الحدیث واللغۃ وغیرہما أن قراریط اسم مکان فی نواحی مکۃ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناملاعلی قاری حنفی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ جو معنی امام ابراہیم بن اسحق الحربی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے بیان کیاہے وہ درست ہے ، کہ قراریط مکہ مکرمہ کے اطراف میں ایک جگہ کانام ہے۔اورانہیں کی بات زیادہ درست ہوسکتی ہے کیونکہ آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ حدیث شریف ، لغت اوردوسرے علوم کے ماہر ہیں ۔ (شرح الشفا: علی بن (سلطان) محمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری (۲:۴۵۷) محدث ابن جوزی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی تائید قَالَ إِبْرَاہِیم الْحَرْبِیّ: قراریط مَوضِع، وَلم یرد بذلک القراریط من الْفضۃ. ترجمہ :امام ابراہیم الحربی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ’’ قراریط‘‘ جگہ کانام ہے اس سے مراد چاندی کے سکے نہیں ہیں ۔ (کشف المشکل من حدیث الصحیحین:جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی (۳:۵۴۶) یادرہے امام ابراہیم بن اسحاق الحربی رحمۃ اللہ تعالی علیہ حدیث ،لغت اوردوسرے علوم کے ماہر تھے آپ قراریط کامعنی بیان کرتے ہیں کہ ’’قراریط ‘‘سے مراد نقدی نہیں ہے (یعنی رسول اللہ ﷺنے اجرت پر کسی کی بکریاں کبھی بھی نہیں چرائیں )بلکہ اس سے مراد ایک مقام ہے جہاں پر رسول اللہ ﷺنے اپنے اہل خانہ کی بکریاں چرائی تھیں ۔ حضرت ملاعلی قاری حنفی کااجرت والے معنی کو رد کرنا والمحققون أنہ علیہ الصلاۃ والسلام لم یرع لأحد بالأجرۃ وإنما رعی غنم نفسہ وہذا لم یکن عیبا فی قومہ ۔ ترجمہ :محققین علماء نے واضح طورپریہ کہاہے کہ رسول اللہ ﷺنے اجرت پرکسی کی بکریاں نہیں چرائیں ، ہاں آپ ﷺ نے اپنی بکریاں چرائیں اوریہ چیز عیب نہیں ۔ (شرح الشفا: علی بن (سلطان)محمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری (۲:۴۵۷) تفسیر مذکور پردوسوالات اوران کے جوابات وَقَالَ بَعضہم لَکِن رجح الأول لِأَن أہل مَکَّۃ لَا یعْرفُونَ مَکَانا یُقَال لَہُ قراریط (قلت)وَکَذَلِکَ لَا یعْرفُونَ القیراط الَّذِی ہُوَ من النَّقْد وَلذَلِک جَاء َ فِی الصَّحِیح ستفتحون أَرضًا یذکر فِیہَا القراط وَلَکِن لَا یلْزم من عدم معرفتہم القراریط الَّذِی ہُوَ اسْم مَوضِع والقراریط الَّتِی من النَّقْد لَا یکون للنَّبِی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم َ بذلک علم فالنبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم َ لما أخبر بِأَنَّہُ رعی الْغنم علی قراریط علمُوا فِی ذَلِک الْوَقْت أَنَّہَا اسْم مَوضِع وَلم یَکُونُوا علمُوا بِہِ قبل ذَلِک لکَون ہَذَا الِاسْم قد ہجر اسْتِعْمَالہ من قدیم الزَّمَان فأظہرہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم َ فِی ذَلِک الْوَقْت۔ ترجمہ :امام بدرالدین عینی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے پہلے معنی ( یعنی سوید بن سعید رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے بیان کردہ معنی کو ترجیح دی ہے ) وہ کہتے ہیں کہ اہل مکہ مکرمہ تو ’’قراریط ‘‘ نامی کسی جگہ کو نہیں جانتے تھے ۔ میں نے (یعنی امام بدرالدین عینی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ) کہا: اگراہل مکہ مکرمہ ’’قراریط‘‘ نامی جگہ کو نہیں پہچانتے تھے تو اہل مکہ مکرمہ قیراط نامی سکہ اورنقدی کو بھی نہیں جانتے تھے کیونکہ رسول ﷺ نے فرمایا: عنقریب تم ایک علاقہ فتح کروگے جس میں ’’قیراط ‘‘ نامی سکہ جاری ہوگا۔ دوسرے سوال کاجواب یہ ہے کہ اہل مکہ ’’قراریط ‘‘ نامی جگہ سے واقف نہ تھے اس سے یہ کہاں ثابت ہوتاہے کہ رسول اللہ ﷺبھی اس جگہ سے واقف نہ تھے ۔ہوسکتاہے کہ مقام اجیاد کے قریب جگہ کانام قراریط ہوبعد میں وہ متروک ہوگیاہو۔ پھررسول اللہ ﷺنے اس موقع پر ظاہر فرمادیاہو۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری: أبو محمد محمود بن أحمد بن موسی بن أحمد بن حسین الغیتابی الحنفی بدر الدین العینی(۱۲:۸۰) اس سے معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺکے مبارک زمانے میں مکہ مکرمہ میں ’’قیراط ‘‘ نامی کوئی سکہ رائج ہی نہ تھاتورسول اللہ ﷺپھرکیسے ایک بکری ایک قیراط نقدی کے عوض چرایاکرتے تھے ۔اس ساری گفتگوسے واضح ہوگیاکہ رسول اللہ ﷺنے صرف اورصرف اپنی بکریاں ہی چرائی ہیں اورکسی اورشخص کی بکریاں اجرت پر ہرگزہرگز نہیں چرائیں ۔ امام ابراہیم الحربی کے معنی کی تائیدرسول اللہ ﷺکی تین احادیث مبارکہ سے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں : خود رسول اللہ ﷺنے تصریح فرمادی أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ حَزْنٍ، قَالَ: افْتَخَرَ أَہْلُ الْإِبِلِ وَالشَّاۃِ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: بُعِثَ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلَامُ وَہُوَ رَاعِی غَنَمٍ، وَبُعِثَ دَاوُدُ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَہُوَ رَاعِی غَنَمٍ، وَبُعِثْتُ أَنَا أَرْعَی غَنَمًا لِأَہْلِی بِأَجْیَادَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابن حزن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اونٹوں والے اوربکریوں والے اپنے اپنے جانوروں پر فخرکیاکرتے تھے تورسول اللہ ﷺنے فرمایا: حضرت موسی علیہ السلام بھی بکریاں چرایاکرتے تھے اورحضرت دائود علیہ السلام بھی بکریاں چرایا کرتے تھے اورمیں بھی مقام اجیاد پر اپنی بکریاں چرایاکرتاتھا۔ (السنن الکبری: أبو عبد الرحمن أحمد بن شعیب بن علی الخراسانی، النسائی (۱۰:۱۷۱) اس سے معلوم ہواکہ خود رسول اللہ ﷺنے اس بات کی وضاحت فرمادی کہ میں نے اجرت پر لوگوں کی بکریاں نہیں چرائیں بلکہ میں نے تواپنی بکریاں چرائیں ہیں ۔ یہی روایت امام احمدبن حنبل نے اپنی مسندشریف میں ،امام فاکہی نے اخبارمکہ میں،امام بخاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنی الادب المفرد میں نقل کی ہے اوریہی روایت مسندحمیدی میں بھی موجود ہے ۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی روایت سے استشہاد وَحَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَزْدِیُّ، عَنِ الْہَیْثَمِ بْنِ عَدِیٍّ، عَنْ أَبِی الْیَقْظَانِ بْنِ أَبِی عُبَیْدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ، عَنْ لُؤْلُؤَۃَ مَوْلَاۃِ عَمَّارٍ قَالَتْ:حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ، رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:کُنْتُ تِرْبًا لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَکُنْتُ أَرْعَی غَنْمَ أَہْلِی وَیَرْعَی غَنْمَ أَہْلِہِ فَوَعَدَنِی بِمَوْضِعٍ نَرْعَی فِیہِ غَنَمَنَا قَالَ: فَأَتَیْتُہُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَبَقَنِی إِلَیْہَا وَإِذَا ہُوَ یُخَلِّی غَنَمَہُ عَنِ الرَّعْیِ فَقُلْتُ:یَا مُحَمَّدُ، مَا لَکَ تُخَلِّی غَنَمَکَ عَنِ الرَّعْیِ؟ فَقَالَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔وَاعَدْتُکَ وَلَمْ أَکُنْ لِأَدَعَہَا تَرْعَی حَتَّی تَأْتِیَ قَالَ أَبُو سَعِیدٍ:التَّخْلِیَۃُ: الْمَنْعُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے اعلان نبوت سے پہلے بھی میں رسول اللہ ﷺکادوست تھا،میں بھی اپنے گھروالوں کی بکریاں چرایاکرتاتھااوررسول اللہ ﷺبھی اپنے گھروالوں کی بکریاں چرایاکرتے تھے ، ایک دن رسول اللہ ﷺنے مجھ سے وعدہ فرمایاکہ کل ہم فلاں جگہ پربکریاں چرائیں گے ،جب دوسرادن آیاتو میں بکریاں لے کرنکلاتومیں نے دیکھاکہ رسول اللہ ﷺاپنی بکریاں لے کرروانہ ہوچکے ہیں ، جب میں مقررہ جگہ پر پہنچاتومیں نے دیکھاکہ رسول اللہ ﷺنے اپنی بکریاں چرنے سے روک رکھی ہیں ۔میںنے عرض کیا:حضور! آپ (ﷺ) نے بکریاں چرنے کے لئے چھوڑی کیوں نہیں؟ تورسول اللہ ﷺنے فرمایا: ہم نے وعدہ کیاتھاکہ بکریاں اکٹھے چرائیں گے تو میں نے اس لئے تمھاراانتظارکیاکہ جب آپ آجائوگے تواکٹھے چرائیں گے ۔ محدث ابوسعید رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ (التخلیہ )کامعنی منع کرناہے ۔ (أخبار مکۃ فی قدیم الدہر وحدیثہ: أبو عبد اللہ محمد بن إسحاق بن العباس المکی الفاکہی (۳:۳۸۶) حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکی روایت حَدَّثَنَاہُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإسْفَرَایِینِیُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاء ِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِیسَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ وَہْبِ بْنِ مُنَبِّہٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا، أَنَّہُ قَالَ لِرَجُلٍ جَالِسٍ عِنْدَہُ وَہُوَ یُحَدِّثُ أَصْحَابَہُ: ادْنُ مِنِّی فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ: أَبْقَاکَ اللَّہُ، وَاللَّہِ مَا أُحْسِنُ أَنْ أَسْأَلَکَ کَمَا سَأَلَ ہَؤُلَاء ِ، فَقَالَ: ادْنُ مِنِّی فَأُحَدِّثُکَ عَنِ الْأَنْبِیَاء ِ الْمَذْکُورِینَ فِی کِتَابِ اللَّہِ أُحَدِّثُکَ عَنْ آدَمَ إِنَّہُ کَانَ عَبْدًا حَرَّاثًا، وَأُحَدِّثُکَ عَنْ نُوحٍ إِنَّہُ کَانَ عَبْدًا نَجَّارًا، وَأُحَدِّثُکَ عَنْ إِدْرِیسَ إِنَّہُ کَانَ عَبْدًا خَیَّاطًا، وَأُحَدِّثُکَ عَنْ دَاوُدَ أَنَّہُ کَانَ عَبْدًا زَرَّادًا، وَأُحَدِّثُکَ عَنْ مُوسَی أَنَّہُ کَانَ عَبْدًا رَاعِیًا، وَأُحَدِّثُکَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ أَنَّہُ کَانَ عَبْدًا زَرَّاعًا، وَأُحَدِّثُکَ عَنْ صَالِحٍ أَنَّہُ کَانَ عَبْدًا تَاجِرًا، وَأُحَدِّثُکَ عَنْ سُلَیْمَانَ أَنَّہُ کَانَ عَبْدًا آتَاہُ اللَّہُ الْمُلْکَ وَکَانَ یَصُومُ فِی أَوَّلِ الشَّہْرِ سِتَّۃَ أَیَّامٍ وَفِی وَسَطِہِ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَفِی آخِرِہِ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَکَانَتْ لَہُ تِسْعُ مِائَۃِ سَرِیَّۃٍ، وَثَلَاثُ مِائَۃِ فِہْرِیَّۃٍ وَأُحَدِّثُکَ عَنِ ابْنِ الْعَذْرَاء ِ الْبَتُولِ عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ أَنَّہُ کَانَ لَا یَخْبَأُ شَیْئًا لِغَدٍ وَیَقُولُ: الَّذِی غَدَّانِی سَوْفَ یُعَشِّینِی وَالَّذِی عَشَّانِی سَوْفَ یُغَدِّینِی، یَعْبُدُ اللَّہَ لَیْلَۃً کُلَّہَا یُصَلِّی حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَہُوَ بِالنَّہَارِ سَائِحٌ، وَیَصُومُ الدَّہْرَ کُلَّہُ، وَیَقُومُ اللَّیْلَ کُلَّہُ، وَأُحَدِّثُکَ عَنِ النَّبِیِّ الْمُصْطَفَی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ کَانَ یَرْعَی غَنْمَ أَہْلِ بَیْتِہِ بِأَجْیَادَ، وَکَانَ یَصُومُ فَنَقُولُ:لَا یُفْطِرُ، وَیُفْطِرُ فَنَقُولُ: لَا یَصُومُ، وَکُلُّہَا مَا رَأَیْنَاہُ صَائِمًا وَیَصُومُ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ، وَکَانَ أَلْیَنَ النَّاسِ جَنَاحًا وَأَطْیَبَہُمْ خَبَرًا، وَأَطْوَلَہُمْ عِلْمًا “، وَأُخْبِرُکَ عَنْ حَوَّاء َ أَنَّہَا کَانَتْ تَغْزِلُ الشَّعْرَ فَتُحَوِّلُہُ بِیَدِہَا فَتَکْسُو نَفْسَہَا وَوَلَدَہَا، وَأَنَّ مَرْیَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ کَانَتْ تَصْنَعُ ذَلِکَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناوہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکے پاس ایک شخص حاضرتھا، وہ اپنے ساتھیوں سے محوگفتگوتھا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایاکہ میرے قریب آجائیں ۔ اس شخص نے عرض کی: اللہ تعالی کی قسم ! جس طرح دوسرے لوگ سوالات کررہے ہیں اسی طرح میراآپ رضی اللہ عنہ سے سوال کرناکتناہی اچھاہے ، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ میرے قریب آجائیں ، میں تمھیں ان انبیاء کرام علیہم السلام کے بارے میں بتاتاہوں جن کاتذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے ۔ ٭حضرت سیدناآدم علیہ السلام کھیتی باڑی کرتے تھے ۔ ٭حضرت سیدنانوح علیہ السلام بڑھئیوں کاکام کرتے تھے ۔ ٭حضرت سیدناادریس علیہ السلام درزیوں کاکام کیاکرتے تھے ۔ ٭حضرت سیدنادائود علیہ السلام زرہیں بنانے کاکام کیاکرتے تھے۔ ٭حضرت سیدناموسی علیہ السلام بکریاں چرایاکرتے تھے ۔ ٭حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کھیتی باڑی کرتے تھے ۔ ٭حضرت سیدناصالح علیہ السلام تجارت کرتے تھے ۔ ٭حضرت سیدناسلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالی نے شاندار حکومت عطافرمائی تھی ۔ آپ علیہ السلام ہر مہینے کے پہلے چھے دن اور درمیان میں تین دن اورآخر میں تین دن روزے رکھاکرتے تھے ۔ آپ علیہ السلام کے سات سو فوجی دستوں کی تعداد ایک ہزار ہے ۔ اورمیں تم کو یہ بتاتاہوں کہ حضرت سیدتنامریم علیہاالسلام کے بیٹے حضرت سیدناعیسی بن مریم علیہ السلام اگلے دن کے لئے کبھی بھی کچھ بچاکرنہیں رکھتے تھے اورفرمایاکرتے تھے کہ جس ذات نے مجھے ناشتہ عطافرمایاہے وہی ذات مجھے شام کاکھانابھی دے گی ، اورجس ذات نے مجھے شام کاکھانادیاہے وہی ذات مجھے ناشتہ بھی دے گی ، آپ علیہ السلام ساری ساری رات نماز میں گزار دیتے تھے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجاتاتھا، آپ علیہ السلام دن میں سیاحت کیاکرتے تھے ، آپ کاسارادن روزے سے گزرتا، اورتمام رات قیام میں گزرتی تھی۔ میں تمھیں رسول اللہ ﷺکے بارے میں بتاتاہوں آپ ﷺاپنے گھروالوں کی بکریاں چرایاکرتے تھے اورآپ ﷺروزے رکھتے رہتے تھے حتی کہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ اب آپ ﷺکبھی بھی روزہ ناغہ نہیں کریں گے اورجب آپ ﷺناغہ کرتے تھے توہم یہ سمجھتے کہ آپ ﷺاب روزہ نہیں رکھیں گے ، بہرحال ہم نے آپ ْﷺکو اکثرروزے سے دیکھا، آپ ﷺہر مہینے میں تین روزے رکھاکرتے تھے ، آپ ﷺسب سے زیادہ نرم مزاج اوراچھی خبردینے والے اورسب سے
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9