Fatwa #2163
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۲۹ ۔ رسول اللہ ﷺکے تاجدارختم نبوت ہونے کابیان
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,320
سوال (Question):
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۲۹ ۔ رسول اللہ ﷺکے تاجدارختم نبوت ہونے کابیان
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
رسول اللہ ﷺکے تاجدارختم نبوت ہونے کابیان
{رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ}(۱۲۹) ترجمہ کنزالایمان :اے رب ہمارے اور بھیج ان میںایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب ستھرا فرمادے بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا۔ ترجمہ ضیاء الایمان : اے ہمارے رب !اورتوبھیج ان میں ایک آخری رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیات تلاوت فرمائے اورانہیںتیری کتاب اورپختہ علم سکھائے اوران کاخوب تزکیہ کرے ، بے شک تو ہی غالب حکمت والاہے۔ اللہ تعالی نے حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کی دعاکو شرف قبول عطافرمایااوران کی دعاکے مصداق سیدالانبیاء ، خاتم المرسلین حبیب رب العالمین ، سیدکائنات ، فخرموجودات حضرت محمدمصطفی تاجدارختم نبوت ﷺکو ایسی جامع کتاب وجامع شریعت کے ساتھ آخری زمانہ میں مبعوث فرمایاکہ تاقیامت کسی نبی اوررسول اورکسی دوسری شریعت کی ضرورت باقی نہ رہے ۔حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کی دعا
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ، رَضِی اللَّہُ عَنْہُ، قَالَ رَسُول اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیہ وَسَلَّم: إِنِّی عِنْدَ اللَّہِ لَخَاتَمُ النَّبِیِّینَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِی طِینَتِہِ وَسَأُنَبِّئُکُمْ بِتَأْوِیلِ ذَلِکَ دَعْوَۃُ أَبِی إِبْرَاہِیمَ وَبِشَارَۃُ عِیسَی وَرُؤْیَا أُمِّی الَّتِی رَأَتْ کَأَنَّہُ خَرَجَ مِنْہَا نُورٌ أَضَاء َتْ لَہُ قُصُورُ الشَّامِ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میں عنداللہ خاتم النبیین تھاجب آدم علیہ السلام پانی اورمٹی کے درمیان تھے اورمیں عنقریب تمھیں اس کی تاویل بتائوں گاکہ میں ابراہیم علیہ السلام کی دعاہوں اورحضرت عیسی علیہ السلام کی خوشخبری ہوںاوراپنی والدہ ماجدہ کاخواب ہوں جوانہوںنے دیکھاتھاکہ ان کے بطن اقدس سے نور ظاہرہواتواس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔ (مسند البزار:أبو بکر أحمد بن عمرو العتکی المعروف بالبزار (۱۰:۱۳۵) وہ تاجدارختم نبوت آخرالزمان میں آئیں گے عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ قَوْلُہُ:(رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیہِمْ رَسُولًا مِنْہُمْ)(البقرۃ: ۱۲۹)یَعْنِی أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:فَقِیلَ لَہُ: قَدِ اسْتُجِیبَ لَکَ، وَہُوَ کَائِنٌ فِی آخِرِ الزَّمَانِ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام ابوالعالیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی کی بارگاہ عالیہ میں دعاکی مولا! امت محمدﷺمیں عظمت والارسول بھیج تواللہ تعالی نے انہیں فرمایاکہ آپ کی دعاقبول ہو گئی ہے لیکن وہ نبی محمدﷺتاجدارختم نبوت بن کر آخرالزمان میں آئیں گے ۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم: أبو محمد عبد الرحمن الرازی ابن أبی حاتم (۱:۲۳۵) سب سے آخرمیں رسول بھیج وَفِی قِرَاء َۃِ أُبَیٍّ:وَابْعَثْ فِی آخِرِہِمْ رَسُولًا مِنْہُمْ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی نقل فرماتے ہیں کہ حضر ت سیدناابی بن کعب رضی اللہ عنہ جب یہ آیت کریمہ تلاوت فرماتے تو یہ کہتے تھے کہ حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام نے جو دعامانگی تھی اس میں یہ تھاکہ اے اللہ ! وہ نبی آخری نبوت کاحامل ہواورتاجدارختم نبوت ﷺہوتوان کی دعااللہ تعالی نے قبول فرمائی۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۲:۱۳۰)حکمت سے مراد کیاہے ؟
قال الشَّافِعِی رحمہ اللہ تعالی: فذکر اللَّہ تعالی الکتاب وہو القرآن، وذکر الحکمۃ، فسمعت من أرضی من أہل العلم بالقرآن یقول: الحکمۃ سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن ادریس الشافعی المتوفی :۲۰۴ھ)رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالی نے کتاب کاذکرکیااس سے مراد قرآن کریم ہے اورحکمت کاذکرفرمایا، اس کی مراد کیاہے ؟ اس کے متعلق میں نے ان اہل علم سے سناجو میرے پسندیدہ ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد رسول اللہ ﷺکی سنت کریمہ ہے ۔ (تفسیر الإمام الشافعی: الشافعی أبو عبد اللہ محمد المطلبی القرشی المکی (۱:۲۲۳)وحی وسنت کی پیروی کرنافرض ہے
قال الشَّافِعِی رحمہ اللہ تعالی:فرض اللَّہ تعالی علی الناس اتباع وحیہ وسنن رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن ادریس الشافعی المتوفی :۲۰۴ھ)رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے تمام لوگوں پر اپنی وحی کی اتباع اوررسول اللہ ﷺکی سنت کی پیروی فرض کردی ہے ۔ (تفسیر الإمام الشافعی: الشافعی أبو عبد اللہ محمد المطلبی القرشی المکی (۱:۲۲۳) نماز میں حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کے ذکرکی حکمت؟ وہاہنا سُؤَالٌ وَہُوَ أَنَّہُ یُقَالُ: مَا الْحِکْمَۃُ فِی ذِکْرِ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی بَابِ الصَّلَاۃِ حَیْثُ یقال: اللہم صل علی محمد وآل مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاہِیمَ؟ وَأَجَابُوا عَنْہُ مِنْ وُجُوہٍ، أَوَّلُہَا: أَنَّ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ دَعَا لِمُحَمَّدٍ عَلَیْہِ السَّلَامُ حَیْثُ قَالَ: رَبَّنا وَابْعَثْ فِیہِمْ رَسُولًا مِنْہُمْ یَتْلُوا عَلَیْہِمْ آیاتِکَ فَلَمَّا وَجَبَ لِلْخَلِیلِ عَلَی الْحَبِیبِ حَقُّ دُعَائِہِ لَہ قَضَی اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ حَقَّہُ بِأَنْ أَجْرَی ذِکْرَہُ عَلَی أَلْسِنَۃِ أُمَّتِہِ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ. ترجمہ :حضرت سیدناامام فخرالدین الرازی المتوفی :۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہاں سوال پیداہوتاہے کہ نماز میں رسول اللہﷺکے ذکرشریف کے ساتھ حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کے ذکرمیں کیاحکمت ہے {اللہم صل علی محمد وآل مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاہِیمَ} اس کاجواب یہ ہے کہ حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺکے لئے دعاکی تھی {رَبَّنا وَابْعَثْ فِیہِمْ رَسُولًا مِنْہُمْ یَتْلُوا عَلَیْہِمْ آیاتِک}تو اب حبیب کریم ﷺپر خلیل اللہ علیہ السلام کے لئے حق تھاتواللہ تعالی نے یہ فیصلہ فرمایاکہ ان کایہ حق اداکروںتاکہ امت کی زبان پر جاری رہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۴:۵۸) کچھ دلائل تاجدارختم نبوت ﷺکی ختم نبوت پرسود کی دائمی حرمت اورختم نبوت
اللہ تعالیٰ نے سود کی حرمت بیان کرنے کے بعد فرمایا {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ}{فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُء ُوْسُ اَمْوٰلِکُمْ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ}( سورۃ البقرۃ:۲۷۷،۲۷۸) ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو ،پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ نہ تمہیں نقصان ہو۔ اور یہ اس کی دلیل ہے کہ آپ ﷺکے بعد کوئی نبی نہیں کیونکہ اگر آپﷺکے بعد کوئی نبی ہوتا تو مناسب تھا کہ یوں کہا جاتا تم کو اللہ اور اس کے رسولوں کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حرام کھانے سے روکا تو سودلینے سے بالخصوص منع کیا منیٰ اور عرفات میں رسول اللہ ﷺنے حج کے دنوں میں جو خطبے ارشاد فرمائے ان میں بھی سودکی حرمت کا اعلان فرمایا ۔قبر کی تنہائی اور ختم نبوت
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ، عَنِ الْبَرَاء ِ بْنِ عَازِبٍ فِی قَوْلِہِ (یُثَبِّتُ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا) (إبراہیم:۲۷) إِذَا جَاء َ الْمَلَکُ الرَّجُلَ فِی الْقَبْرِ حِینَ یُدْفَنُ، فَقَالَ لَہُ: مَنْ رَبُّکَ؟ فَقَالَ: رَبِّیَ اللَّہُ، فَقَالَ: وَمَا دِینُکَ؟ قَالَ: دِینِیَ الْإِسْلَامُ، وَقَالَ لَہُ: مَنْ نَبِیُّکَ؟ قَالَ نَبِیِّی مُحَمَّدٌ، فَذَلِکَ التَّثْبِیتُ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا۔ ترجمہ:حضرت سیدنابراء بن عازب رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے اس فرمان شریف {یُثَبِّتُ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا}کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص فوت ہوجاتاہے تو اس کی تدفین کے بعد فرشتے اس کی قبرمیں آکرپوچھتے ہیں کہ تیرارب کون ہے ؟ تووہ بندہ مومن کہتاہے کہ میرارب اللہ تعالی ہے ، پھراس سے پوچھتے ہیں کہ تیرادین کیاہے ؟ توبندہ مومن کہتاہے کہ میرادین اسلام ہے اورپھراس سے یہ سوال کرتے ہیں کہ {مَنْ نَبِیُّکَ} تیرے نبی(ﷺ) کون ہیں ؟ تو مومن کہتاہے{ نَبِیِّیْ مُحَمَّدٌ ﷺ}میرے نبی محمد ﷺہیں إثبات عذاب القبر وسؤال الملکین: أحمد بن الحسین بن علی أبو بکر البیہقی:۲۸)دار الفرقان – عمان الأردن جو شخص صحیح جواب دیتا ہے اس کی قبرمنور اور کشادہ ہوجاتی ہے۔ اور جو صحیح جواب نہیں دیتا اس کے لئے قبرکو اتنا تنگ کردیا جاتاہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں جا گھستی ہیں اگرکوئی کہے میرا نبی قادیانی ہے وَالْعِیَاذُ بِاللّٰہِ اس کا وہاں کیا حشر ہوتا ہوگا؟ثابت ہوا کہ قبر کانورصرف اورصرف رسول اللہ ﷺکو خاتم النبیین ماننے سے ملے گا چناب نگر کے نام نہادبہشتی مقبرے میں جگہ الاٹ کرانے اوررسول اللہ ﷺکے دشمن مرزے ملعون کو نبی ماننے سے نہیں ۔تاجدارختم نبوت کانعرہ لگانے والے کو شفاعت سے حصہ ملے گا
قیامت کے دن لوگ شفاعت کے لئے انبیاء کرام علیہم السلام کے پاس جائیں گے اور ہمارے نبی ﷺکے سوا کوئی اس بڑے کام کے لئے آگے نہ بڑھے گا۔ بخاری کی طویل روایت میں سے ایک حصہ ملاحظہ فرمائیں فَیَأْتُونَ مُحَمَّدًا فَیَقُولُونَ: یَا مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّہِ وَخَاتِمُ الأَنْبِیَاء ِ، وَقَدْ غَفَرَ اللَّہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ،اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ۔ ترجمہ :لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں گے تو کہیں گے:یارسول اللہ ﷺ آپﷺ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء آخری نبی ہیں اور بے شک اللہ نے آپ ﷺکے سبب اگلوں اورپچھلوں کی لغزشوں کو معاف فرمادیا آپ ﷺاپنے رب کے ہاں ہماری سفارش کریں۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۶:۸۴) غور کریں کہ قیامت کے دن بھی رسول اللہ ﷺکی ختم نبوت کا اقرار کرنا پڑے گا بلکہ جب تک نبی ﷺکی ختم نبوت کا اقرار نہ ہوگا شفاعت نہ ہوسکے گی۔جو لوگ نبی کریم ﷺکو آخری نبی نہیں مانتے ان کو رسول اللہ ﷺکی شفاعت سے کچھ نہ ملے گا وہ آپﷺ کے دشمن ہیں ان کو ہمیشہ دوزخ میں جلنا پڑے گا۔تاجدارختم نبوت کے نعرے سے جنت کادروازہ کھلے گا
فَیَقُولُ:إِنِّی لَسْتُ ہُنَاکُمْ، وَلَکِنْ ائْتُوا عِیسَی رُوحَ اللہِ وَکَلِمَتَہُ، فَیَأْتُونَ عِیسَی فَیَقُولُونَ: یَا عِیسَی، اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ فَلْیَقْضِ بَیْنَنَا، فَیَقُولُ:إِنِّی لَسْتُ ہُنَاکُمْ، وَلَکِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا فَإِنَّہُ خَاتَمُ النَّبِیِّینَ، فَإِنَّہُ قَدْ حَضَرَ الْیَوْمَ وَقَدْ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَا تَأَخَّرَ، فَیَقُولُ عِیسَی أَرَأَیْتُمْ لَوْ کَانَ مَتَاعٌ فِی وِعَاء ٍ قَدْ خُتِمَ عَلَیْہِ، ہَلْ کَانَ یُقْدَرُ عَلَی مَا فِی الْوِعَاء ِ حَتَّی یُفَضَّ الْخَاتَمُ؟ فَیَقُولُونَ:لَا، قَالَ: فَإِنَّ مُحَمَّدًا خَاتَمُ النَّبِیِّینَ “، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:فَیَأْتُونِی فَیَقُولُونَ: یَا مُحَمَّدُاشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ فَلِیَقْضِ بَیْنَنَاقَالَ: فَأَقُولُ: نَعَمْ، فَآتِی بَابَ الْجَنَّۃِ، فَآخُذُ بِحَلْقَۃِ الْبَابِ فَأَسْتَفْتِح ُفَیُقَالُ:مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ: مُحَمَّدُ فَیُفْتَحُ لِی فَأَخِرُّ سَاجِدًا۔ ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا:کہ لوگ حضرت سیدناعیسی علیہ السلام کے پاس جمع ہوکر آئیں گے اوران کو شفاعت کے لئے عرض کریں گے ، آپ علیہ السلام فرمائیں گے کہ یہ کام میں نہ کروں گا لیکن تم رسول اللہ ﷺکے پاس جائو اس لئے کہ وہ خاتم النبیین ہیں وہ تشریف لائے ہوئے ہیں پھر عیسی علیہ السلام فرمائیں گے تم بتائو کہ اگر کسی ایسے برتن میں سامان ہو جس پر مہر لگادی گئی ہو(یعنی سیل بند کردیا گیا ہو)تو کیا مہر (یعنی سیل)توڑنے سے پہلے اس برتن کے اندر کی چیز کو حاصل کیا جا سکتا ہے وہ کہیں گے نہیں عیسی علیہ السلام کہیں گے پھر محمد ﷺخاتم النبیین ہیںراوی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺنے فرمایا پھر لوگ میرے پاس آئیں گے تو کہیں گے اے محمدﷺ !ہماری اپنے پروردگار کے ہاں شفاعت کیجئے وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے ۔تو میں کہوں گا ٹھیک ہے ،پھر میں جنت کے دروازے پر جائوں گا، میں دروازہ کھلوائوں گا ،تو کہا جائے گا، آپ کون ہیں؟ میںکہوں گا میں محمدﷺ ہوں تو میرے لیے جنت کا دروازہ کھول دیا جائے گاپھرمیں سجدے میں گرجائوں گا۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۲۱:۲۱۲) اس سے معلوم ہواکہ جنت میں صرف اورصرف وہی جائے گا جو رسول اللہ ﷺکی ختم نبوت پر ایمان رکھتاہوگا۔ لوگ جنت میں نبی کریم ﷺکی شفاعت سے داخل ہوں گے آپﷺ سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھلوائیں گے وہاں بھی کسی منکرین ختم نبوت کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے۔رسول اللہ ﷺکی بارگاہ میں ہر طرح کاسوال کیاگیامگر۔۔۔۔
نبی کریمﷺسے چاند کی بابت پوچھا گیااور بھی کئی قسم کے سوالا ت کئے گئے مگر آپﷺسے بعد میں آنے والے نبی کے بارے میں نہ پوچھا گیا۔اگررسول اللہ ﷺکے بعد کوئی نبی آناہوتاتورسول اللہ ﷺاس کاذکرضرورفرماتے ۔ ہاں یہ ضرورفرمایاہے کہ میرے بعد دجال آئیں گے جو نبوت کادعوی کریں گے ۔ یعنی رسول اللہ ﷺنے اپنے بعدسچے نبی کی آمد کاذکرنہیں فرمایااس لئے ثابت ہواکہ رسول اللہ ﷺکے بعد کوئی نبی نہیں آئے گااورکذاب کاذکرفرمایاہے تو ثابت ہوگیاکہ جو بھی دعوی کرے گاوہ کذاب ہوگا۔ تومعلوم ہوگیاکہ مرزاقادیانی جھوٹاکذاب لعین ومردودہے ۔ آپﷺامت کے بے حد خیر خواہ تھے قیامت تک پیش آنے والے تمام احوال سے اپنی امت کو آگاہ فرما دیا لیکن آپﷺنے آنے والے کسی سچے نبی کی خبرنہ دی ہاں تیس کے قریب جھوٹے نبیوں کی خبر دی اور کوئی شک نہیں کہ ان تیس جھوٹے نبیوںمیں قادیانی بھی ہے اللہ تعالیٰ ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے آمین۔ علامہ کرمانی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ یہ تیس کے قریب نبوت کے دعویدار ہیں اور دجال اکبر خدائی کا دعوی کرے گا ۔خواب میں آپ ﷺنے کئی نبیوں کو دیکھا اور ان کا حلیہ امت کو بتایادجال کو دیکھا او ر اس کا حلیہ بتایا ،مگر آنے والے نئے نبی کو نہ دیکھا نہ حلیہ بتایا ۔ یہ اس کی دلیل ہے کہ آپ ﷺآخری نبی ہیں اورآپ ﷺکے بعد کوئی نبی نہیں۔خلافت دلیل ِختم نبوت ہے
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بَنِی إِسْرَائِیلَ کَانَتْ تَسُوسُہُمْ أَنْبِیَاؤُہُمْ، کُلَّمَا ذَہَبَ نَبِیٌّ، خَلَفَہُ نَبِیٌّ، وَأَنَّہُ لَیْسَ کَائِنٌ بَعْدِی، نَبِیٌّ فِیکُمْ قَالُوا: فَمَا یَکُونُ؟ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ تَکُونُ خُلَفَاء ُ، فَتَکْثُرُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکا ارشاد ہے بنی اسرائیل میں انبیاء کرام علیہم السلام سیاست کرتے تھے جب کبھی کوئی نبی علیہ السلام فوت ہوتے ان کے بعددوسرے نبی علیہ السلام آجاتے اور بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیںآنا ۔عرض کی گئی تو پھر کون ہو گئے یا رسول اللہ ﷺ! فرمایا خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ (سنن ابن ماجہ:ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید (۲:۲۵۸) اللہ تعالی نے آپ ﷺکی بات کو سچ کردیا آپ ﷺکے بعدسقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے پھر خلافت کا سلسلہ چلا کوئی نبی نہ ہوا ۔ مرزائی نبی کریم ﷺکے بعدقادیانی تک کوئی نبی نہیں مانتے پھرقادیانی کے بعد خلفاء کاسلسلہ مانتے ہیں انبیاء کا نہیں پہلا جانشین حکیم نوردین بنا اس کے بعد اختلاف ہواتومحمد علی مرزائی نے الگ فرقہ بنایا اور قادیانی کو مجدد کہنے لگا ثابت ہواکہ یہ بھی ختم ِنبوت کے قائل ہیں مگر خاتم النبیین مرزا قادیانی کو مانتے ہیں جو خود ختم نبوت کا منکر تھا۔لعنت ہے تمہارے قادیانی لعین پر اور لعنت ہے ان پر جو اس جیسے خبیث کو نبی یا مجدد یا مسیح مان لیں۔ توبہ کرو ایمان لے آئو ورنہ آخرت میں نجات نہ ہوسکے گی۔ وحی الہی کامحفوظ ہوناختم نبوت کی دلیل ہے قرآن کے حروف مقطعات تک محفوظ ہیں، قرآن کے ہوتے ہوئے کسی اور وحی کی کیا ضرورت؟قرآن کریم کا محفوظ رہنا ختم نبوت کی دلیل ہے
جس طرح طلوع آفتاب کے بعد غروب آفتاب تک کسی بھی چراغ اورموم بتی کی ضرورت نہیں رہتی اوراسی طرح چاند وستاروں کی ضرورت بھی نہیں ہوتی بالکل ایسے ہی رسول اللہ ﷺکی نبوت کے آفتاب کے طلوع ہونے کے بعد اورقرآن کریم کے نورکے باقی رہنے تک نہ توکسی نبی کی ضرورت ہے اورنہ ہی کسی اوروحی کی ۔ نبی کریم ﷺنے کتاب وسنت کی اتباع کی وصیت کی آپ ﷺنے فرمایاجب تک ان کو پکڑے رکھو گے گمراہ نہ ہوگے ،اختلاف کے زمانے میں آپ ﷺنے اپنی اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا حکم دیانئے نبی کی اتباع کا حکم نہ دیا۔ الحمدللہ قرآن وحدیث کی روشنی میں صحیح مسائل بتانے والے فقہاء وعلماء ربانیین موجود ہیں لہذا کسی نئے نبی کی کوئی ضرورت نہیں۔اسلام اورصراط مستقیم کازندہ ہوناختم نبوت کی دلیل ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا خَطًّا، وَخَطَّ عَنْ یَمِینِہِ خَطًّا، وَخَطَّ عَنْ یَسَارِہِ خَطًّا، ثُمَّ قَالَ: ہَذَا سَبِیلُ اللَّہِ ، ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا فَقَالَ: ہَذِہِ سُبُلٌ، عَلَی کُلِّ سَبِیلٍ مِنْہَا شَیْطَانٌ یَدْعُو إِلَیْہِ ، وَقَرَأَ (أَنَّ ہَذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ) (الأنعام:۱۵۳) فَتَفَرَّقَ بِکُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺنے ایک مرتبہ ایک لکیر لگائی اور فرمایا: یہ اللہ کا راستہ ہے پھر اس کے دائیں بائیں کچھ لکیریں لگائیں فرمایا یہ دوسرے راستے ہیں ان میں سے ہرراستے پر ایک شیطان ہے جو اپنی طرف بلا رہاہے۔ اوریہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:{أَنَّ ہَذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ}(الأنعام:۱۵۳)بے شک یہی میراسیدھاراستہ ہے توتم اسی کی پیروی کرواوردوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو۔اگرتم نے اس سیدھے راستے کے علاوہ کسی اورراستے کی پیروی کی توتم بکھرکررہ جائوگے۔ آپ ﷺنے نکتہ نہیں لگایا،ا گر آپ ﷺنے نکتہ لگایا ہوتا تو یہ مطلب ہوتا کہ ہدایت صرف آپﷺ کی ذات تک محدود ہے (یعنی آپ ﷺکے بعد دوسرے نبی آئیں گے تو پھرہدایت کا کام ان کے سپردہوگا)آپﷺ نے سیدھی لکیر لگائی جس کامطلب یہ ہے کہ ہدایت کا راستہ آپ ﷺسے آگے چلا اور سیدھا چلا وہ اس طرح کہ ہر زمانے میں اصاغر اکابر کے نقش قدم پر چلتے رہے۔جیسے اپنے بڑوں سے اخذکیا چھوٹوں کو پہنچایااس جماعت کے ذریعے امت کو کتاب وسنت کا علم ہوا اس جماعت سے معلوم ہوا کہ نبوت تاجدارختم نبوت ﷺپر ختم ہوچکی ہے اس لئے نہ آپﷺ سے پہلا دین معتبرنہ بعد کا۔اس جماعت کا باقی رہنا اس دین کا امتیاز ہے۔الحمد للہ یہ جماعت باقی ہے اور دین زندہ ہے ۔جب حضرت سیدنا عیسی علیہ السلام آئیں گے تو اس جماعت کے افراد ان کا استقبال کریں گے۔ رسول اللہ ﷺکے ذکرکی رفعت ختم نبوت کی دلیل ہے {وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ }سورۃ الانشراح :۴) اور ہم نے تمہارے لئے تمہارا ذکر بلند کردیا۔ {اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الْاَبْتَرُ }(سورۃ الکوثر:۵) بے شک جو تمہارا دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے۔ اذان واقامت وغیرہ کے ذریعے آپﷺکا ذکردنیا میں ہروقت بلند ہورہاہے کیونکہ دنیا میں ہر وقت کسی جگہ فجر کا وقت ہے کہیں ظہر کا کہیں عصر کا اور بعض علاقوں میں ایک نماز کیلئے کافی کافی دیر اذانیں ہوتی رہتی ہیں جب حضرت سیدناعیسی علیہ السلام آئیں گے تو اقامت ہورہی ہوگی حضرت سیدناعیسیٰ علیہ السلام اقامت کے جواب میں پھر نمازمیں ان شاء اللہ تعالیٰ نبی ﷺکی نبوت کی گواہی دیں گے اور نبی ﷺپر درود بھیجیں گے ۔ اگر کسی اور نبی کو آنا ہوتا تو اذان میں اس کا نام آتا ۔ مرزائی کہیں گے کہ مرزا ظلی بروزی نبی تھا ہم کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ مرزا جعلی اور جھوٹا نبی تھا۔مرزائیو! جب تم اپنی اذان نہ لاسکے درود شریف نہ لا سکے تو نبی کریمﷺکے بعد اس ظالم کو نبی اور رسول مانتے ہوئے شرم نہ آئی۔ کیامرزا کی مثال اس جعلی افسر کی طرح نہیں جس کو دفترنہ ملے ،دفتر پراس کا نام نہیں اس کے نام کی مہر نہیں فارم پر اس کے دستخط نہیں چلتے ۔ جب مرزا کی بے بسی کا یہ حال ہے توکیا یہ سوال درست نہیں ۔کیا مرزا صرف نام کمانے کے لئے نبی بنا تھا؟سورۃ الفاتحہ کانزول ختم نبوت کی دلیل ہے
عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا أَنْزَلَ اللَّہُ فِی التَّوْرَاۃِ وَالْإِنْجِیلِ مِثْلَ أُمِّ القُرْآنِ، وَہِیَ السَّبْعُ المَثَانِی، وَہِیَ مَقْسُومَۃٌ بَیْنِی وَبَیْنَ عَبْدِی، وَلِعَبْدِی مَا سَأَلَ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے سورت فاتحہ جیسی سورت نہ توراۃ میں اتاری گئی نہ انجیل میں نہ زبور میں۔اوریہی سبع مثانی ہے اوریہ سورت بندے اوررب تعالی کے مابین مقسوم ہے اوربندے کے لئے وہ ہے جو بھی وہ سوال کرے۔ (سنن الترمذی: محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۵:۲۵۷) اس سے استدلال یوں بنتا ہے کہ نبی کریم ﷺنے یہ تو فرمایا کہ ایسی سورت نازل نہ ہوئی مگریہ نہ فرمایا کہ آئندہ بھی کسی نبی پر ایسی سورت نازل نہ ہوگی اس کی وجہ سوائے اس کے اورکیا ہوسکتی ہے کہ نبی کریمﷺاللہ کے آخری نبی ہیں اور قرآن اللہ کی آخری کتاب ہے اس کے بعدنہ کوئی نیانبی ہوگا اور نہ کوئی کتاب نازل ہوگی ۔ اس لئے مستقبل میں ایسی سورت کے نزول کی نفی کی ضرورت نہیں۔حجۃ الوداع اورختم نبوت
حجۃ الوداع ختم نبوت کی بہت بڑی دلیل ہے بخاری شریف میں ہے عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ، أَنَّ رَجُلًا، مِنَ الیَہُودِ قَالَ لَہُ: یَا أَمِیرَ المُؤْمِنِینَ، آیَۃٌ فِی کِتَابِکُمْ تَقْرَء ُونَہَا، لَوْ عَلَیْنَا مَعْشَرَ الیَہُودِ نَزَلَتْ، لاَتَّخَذْنَا ذَلِکَ الیَوْمَ عِیدًا. قَالَ: أَیُّ آیَۃٍ؟ قَالَ:(الیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِینًا)(المائدۃ:۳) قَالَ عُمَرُ:قَدْ عَرَفْنَا ذَلِکَ الیَوْمَ، وَالمَکَانَ الَّذِی نَزَلَتْ فِیہِ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَہُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَۃَ یَوْمَ جُمُعَۃٍ۔ ترجمہ :حضرت سیدناطارق بن شہاب رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ یہودیوں میں سے ایک شخص نے حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ کو کہاکہ اگر یہ آیت ہمارے اندر نازل ہوتی تو ہم اس د ن کو عید بنا لیتے حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے پوچھا وہ کونسی آیت ہے؟ یہودیوں نے کہا{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی}حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا :مجھے پتہ ہے کس جگہ یہ نازل ہوئی یہ اس وقت نازل ہوئی جب نبی کریمﷺنے عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا یعنی حجۃ الوداع میں نازل ہوئی اوراس دن جمعہ کادن تھا۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۱:۱۸) تو گویا حضرت عمررضی اللہ عنہ نے یہودی کو جواب دیا کہ ہمیں اس دن کو عید بنانے کی ضرورت نہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو عرفہ کے دن اتارا اور عرفہ کا دن اس سال جمعہ کو ہوا تھا۔ اور عرفہ کا دن مسلمانوں کیلئے اور خاص طور پر حاجیوں کے لئے عید کا دن ہوتاہے اور جمعہ کا دن بھی عیدکا دن ہے تو اس دن مسلمانوں کی دو عیدیں جمع ہوگئیں ۔حاصل یہ ہے کہ دین ہمارے نبی کریم ﷺپر مکمل ہوگیا اس لئے کسی اور نبی کی ضرورت نہیں ہے۔ دین کے مکمل ہونے کو نبی کریم ﷺنے ایک مثال سے سمجھایا کہ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَثَلِی وَمَثَلُ الْأَنْبِیَاء ِ مِنْ قَبْلِی کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَی بُنْیَانًا فَأَحْسَنَہُ وَأَجْمَلَہُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِنْ زَاوِیَۃٍ مِنْ زَوَایَاہُ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوفُونَ بِہِ، وَیَعْجَبُونَ لَہُ وَیَقُولُونَ: ہَلَّا وُضِعَتْ ہَذِہِ اللَّبِنَۃُ؟ فَأَنَا اللَّبِنَۃُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّینَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: ایک شخص نے ایک عمارت بنائی بڑی عالیشان خوبصورت اس میں ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ گئی لوگ کہتے ہیں کہ یہ اینٹ کیوں نہ رکھ دی گئی ؟فرمایا میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ (مسند الحمیدی:أبو بکر عبد اللہ بن الزبیر بن عیسی الحمیدی المکی (۲:۳۱) غور کریں جیسے ایک اینٹ کے نہ ہونے سے وہ عمارت نامکمل ہو اسی طرح اس کے مکمل ہونے کے بعد ایک اینٹ لگا دی جائے تو عمارت بد نما ہوجائے گی اس زائد اینٹ کوہٹانا ضروری ہے اسی طرح نبی کریم ﷺکے بعد کسی کو نبی ماننے سے انسان کاایمان خراب ہوجاتاہے اور وہ مرتد ٹھہرتاہے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کو توبہ کروائے اگر توبہ نہ کرے تو ا س کو قتل کردے جب جھوٹے نبی کو ماننے والے کا یہ انجام ہے توخود جھوٹا نبی بدرجہ اولیٰ واجب القتل ٹھہرا۔معارف ومسائل
(۱)رسول اللہ ﷺکی ختم نبوت کادفاع آپ ﷺکی شفاعت کے حصول کابہترین ذریعہ ہے ۔قادیانیوں کو شیطان سے بھی بڑالعنتی جانناایمان کاجزو ہے او ان کے اس فتنہ کااستیصال جہاد بالسیف سے کم نہیں ہے ۔ (۲)فتنہ قادیانیت کے خلاف کام اللہ پاک کی رضامندی اور رسول اللہ ﷺ کی توجہات کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا بہترین وسیلہ ہے۔خوش بخت و سعادت مند انسانوں کو قدرت ان کاموں کے لئے قبول فرماتی ہے۔اگر آپ روز محشر رسول اللہ ﷺ کی شفاعت حاصل کرنا چاہتے ہیں توتحفظ ختم نبوت کے اعلی ترین کام میں شریک ہوں۔اس سلسلہ میں مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ قادیانی ارتدادپھیلانے کے لئے اربوں روپے خرچ کررہے ہیں اوراپنے کفریہ عقائد پر مبنی لٹریچر کثیر تعداد میں چھپوا کر پوری دنیا میں تقسیم کر رہے ہیں۔ شیزان فیکٹری اور دیگر قادیانی کاروباری ادارے اپنی مصنوعات کی فروخت سے کروڑوں روپے سالانہ قادیانی جماعت کو فنڈ دیتے ہیں ۔جو مسلمانوں سے کما کرانہی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے لہٰذا ان کی تمام تر مصنوعات اور اداروں کا مکمل با ئیکاٹ کرنا ہر عا شق رسولﷺ کا دینی وملی فریضہ ہے۔ مرزا قادیانی خود محمد رسول اللہ ہونے کا دعویدار ہے ،اس طرح وہ شان رسالت مآبﷺمیںبدترین توہین کامرتکب ہوا ہے لہٰذا مرزا قادیانی کو ماننے والے خطرناک گروہ کی تبلیغی سرگرمیوںپر نظر رکھیں۔ان کی ارتدادی سرگرمیوں کو روک کر ہی مسلمان ،نبی کریم ﷺسے اپنی وابستگی قائم رکھ سکتے ہیں۔ قادیانی سوال کرتے ہیں کہ ہم کلمہ پڑھتے ہیں،نماز پڑھتے ہیں، حج کرتے ہیں پھر بھی یہ مولوی لوگ ہمیں کافر کیوں کہتے ہیں؟یہ قادیانیوں کا دھوکہ ہے۔قادیانی کافر ہوکر بھی ہم سب مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے ۔ قادیانی کہتے ہیں کہ ہم حضرت محمد ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں ۔یہ بھی قادیانیوں کا دھوکہ ہے۔قادیانی خاتم النبیین سے افضل نبی مراد لیتے ہیں ،آخری نبی معنی مراد نہیں لیتے ہیں،خاتم کے معنی افضل دنیا کی کسی ڈکشنری میں نہیں۔قادیانی مسلمانوں کو کہتے ہیں کہ آپ استخارہ کر کے دیکھ لو ہم صحیح ہیں ۔یہ بھی قادیانیوں کادھوکہ ہے ۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ نے فرمایاکہ مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے۔ایسے سوالات اور قادیانیوں کے دجل و فریب کے جوابات حاصل کرنے کے لئے آپ علماء حقہ سے رابطہ کریں۔ (۳)علماء کرام پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ مہینے میںکم از کم ایک خطبہ جمعہ میں عقیدہ ختم نبوت کو مضبوط دلائل سے واضح کرتے ہوئے مسلمانوں کی ذہن سازی کریںتاکہ بے خبر مسلمان قادیانیوںکی ارتدادی چالوں سے محفوظ رہ سکیں۔ (۴) اپنے مسلمان ساتھیوں کو عقیدہ ختم نبوت سے آگاہ کریں اور قادیانیوں سے مکمل قطع تعلق کریں۔ان کو اپنی کسی مجلس یاکسی پروگرام ،شادی بیاہ ،خوشی غمی کی تقریبات،جنازہ وغیرہ میں برداشت نہ کریں۔اور ہر سطح پر ان کا مقابلہ کریں۔ (۵)تمام خواتین وحضرات سے اپیل ہے کہ ختم نبوت کا لٹریچر کثیر تعداد میں چھپوا کرمفت تقسیم کریں یا چھپوانے کے لئے ہم سے رابطہ کریں تاکہ امت مسلمہ کی نئی نسل فتنہ قادیانیت سے آگاہ ہوسکے تاکہ کسی کی متاع ایمان نہ لٹ سکے۔ (۶)کسی کتاب کو پڑھ کرسنادینااورچیز ہے اوراس کی تعلیم دنیااورچیز ہے ۔ یہاں کتاب کاذکرہے ، جس کامقام بہت اونچاہے ، کیونکہ علم بغیرمحنت اوربغیراستاد کے حاصل نہیں ہوتا، اورجولوگ بغیراستاد کے علم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیںمحض کتابوں پراکتفاکرکے تووہ لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں اوران کاعلم ناکارہ ہی رہتاہے۔ (۷)آج تک کوئی بھی شخص بغیراستاد کے صرف کتابیں دیکھنے سے نہ حکیم بناہے اورنہ فقیہ وعالم اورمحدث ۔ جو لوگ بغیراستاد کے احادیث وتفاسیرکامطالعہ کرکے عالم بنے اورمفکرکہلائے جیسے مرزاقادیانی ، غلام پرویز اورسرسیدجیسے لوگ وہ بالآخرگمراہ ، بے دین ، کافراورمرتدبنے اورصرف کتاب کو پڑھ لینے سے علم وہدایت کاحصول ممکن ہوتاتورب تعالی کسی بھی فرشتے کے ذریعے آسمانی کتاب اتاردیتا، لوگ اسے پڑھ کرعلم و ہدایت حاصل کرلیتے اورانبیاء کرام علیہم السلام کی آمدکی ضرورت ہی نہ ہوتی ، مگرصورت حال یہ ہے کہ بغیراستاد کے دنیاکاکوئی ایک ادنی پیشہ اورہنربھی حاصل نہیں ہوتاچہ جائیکہ علم جیساہنروکمال ، توہر لمحہ استاد کی نگرانی وسرپرستی پرموقوف ہوتاہے۔ (۸) موجودہ زمانے میں ہم سب دیکھتے اورمشاہدہ کرتے ہیں کہ جہاں جہاں وحی کانزول اورگزرہواہے وہاں کے لوگ پاکیزہ اورپرہیزگارہیں ان کی زندگی اورمعاشرہ دوسروں کے لئے مثالی اورنمونہ ہے اورجہاں جہاں وحی کاگزرنہیں ہوااوروحی کے انواروبرکات نہیں پہنچے وہاں شربت وشراب کادوردورہ ہے ، ماں بہن ، بہواوربیٹی سب یکساں ہیں، انسان کتوں اورخنازیرسے زیادہ بے شرم ہیں ۔ ہم جنس پرستی اتنی بکثرت اورعام ہے کہ خداتعالی کی پناہ ! سارامعاشرہ جنگلی جانوروں کے رنگ وروپ میں نظرآتاہے۔ یہ سب کچھ اس لئے کہ ان کی گردنوں میں وحی الہی کاطوق اورقیمتی ہارنہیں ہے ، وہ مادرپدرآزادہیں اورپست اورنیچ اوربے غیرت لوگ ہیں کہ انہیں اپنے حقیقی باپ کابھی پتانہیں ہے ، وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ میں فلاں کابیٹاہوں اورمیراباپ فلاں ہے ۔ وہ سائنس وٹیکنالوجی میں توترقی کرتے ہوئے چاندپر پہنچ گئے ہیں مگرانسانیت اورشرافت نام کی کوئی چیز نہیں ہے ، اس سے وہ عاری اورمحروم ہیں ۔ اس کے برعکس اہل اسلام میں ہزاروں بداعمالیوں کے باوجود اس قسم کی بے غیرتی اوربے حیائی نہیں ، جو کفارمیں ہے ۔ (۹) اس آیت کریمہ سے معلوم ہواکہ قرآن کریم کو سمجھناآسان نہیںہے کیونکہ رسول اللہ ﷺنے جن کو قرآن کریم پڑھایاوہ جماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تھی اوروہ بھی سارے کے سارے عربی تھے اوران کی زبان عربی تھی اورقرآن کریم بھی عربی زبان میں ہے ، پھربھی سمجھانے اورسکھانے کی ضرورت پڑی لھذایہ کہناکہ ہم خود ہی ترجمہ پڑھ کرقرآن کریم کو سمجھ لیں گے سمجھ داری والی بات نہیں ہے ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9