صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2166 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۳۷ ۔ رسول اللہ ﷺکے گستاخوں سے بدلہ لینے کارب تعالی نے وعدہ فرمایا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,638

سوال (Question):

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۳۷ ۔ رسول اللہ ﷺکے گستاخوں سے بدلہ لینے کارب تعالی نے وعدہ فرمایا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

رسول اللہ ﷺکے گستاخوں سے بدلہ لینے کارب تعالی نے وعدہ فرمایا

{فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اہْتَدَوْا وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ہُمْ فِیْ شِقَاقٍ فَسَیَکْفِیْکَہُمُ اللہُ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ}(۱۳۷) ترجمہ کنزالایمان :پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ نری ضد میں ہیں تو اے محبوب عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:پھراگروہ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جیساتم لائے تووہ بھی ہدایت پاجائیں گے اوراگروہ منہ پھیریں تووہ نری ضدمیں پڑے ہوئے ہیں ۔ تواے حبیب کریمﷺ عنقریب اللہ تعالی ان کی طرف سے تمھیں کفایت فرمائے گااوروہی سننے والاجاننے والاہے ۔

شقاق کامعنی

فَإِنَّما ہُمْ فِی شِقاقٍ قَالَ زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ: الشِّقَاقُ الْمُنَازَعَۃُوَقِیلَ:الشِّقَاقُ الْمُجَادَلَۃُ وَالْمُخَالَفَۃُ وَالتَّعَادِی وَأَصْلُہُ مِنَ الشِّقِّ وَہُوَ الْجَانِبُ، فَکَأَنَّ کُلَّ وَاحِدٍ مِنَ الْفَرِیقَیْنِ فِی شِقٍّ غَیْرِ شِقِّ صَاحِبِہِ۔ ترجمہ :بے شک وہ شقاق میں پڑے ہوئے ہیں حضرت سیدنازید بن اسلم رحمہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ الشقاق کامعنی ہے لڑائی کرنااورالشقاق جھگڑاکرنا، مخالفت کرنااوردشمنی کرنا۔ یہ الشقاق الشق سے مشتق ہے ، جس کامعنی جانب ہے ۔ گویاہر فریق اپنے مخالف کی دوسری شق (جانب) میں ہوتاہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۲:۱۴۳)

رسول اللہ ﷺکی دشمنی میں گستاخوں کاحدسے گزرنا

قَالَ بَعْضُ أَہْلِ اللُّغَۃِ: الشِّقَاقُ مَأْخُوذٌ مِنَ الشِّقِّ، کَأَنَّہُ صَارَ فِی شِقٍّ غَیْرِ شِقِّ صَاحِبِہِ بِسَبَبِ الْعَدَاوَۃِ وَقَدْ شَقَّ عَصَا الْمُسْلِمِینَ إِذَا فَرَّقَ جَمَاعَتَہُمْ وَفَارَقَہَا، وَنَظِیرُہُ: الْمُحَادَّۃُ وَہِیَ أَنْ یَکُونَ ہَذَا فِی حَدٍّ وَذَاکَ فِی حَدٍّ آخَرَ، وَالتَّعَادِی مِثْلُہُ لِأَنَّ ہَذَا یَکُونُ فِی عُدْوَۃٍ وَذَاکَ فِی عُدْوَۃٍ، وَالْمُجَانَبَۃُ أَنْ یَکُونَ ہَذَا فِی جَانِبٍ وَذَاکَ فِی جَانِبٍ آخَرَ وَقَالَ آخَرُونَ:إِنَّہُ مِنَ الْمَشَقَّۃِ لِأَنَّ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا یَحْرِصُ عَلَی مَا یَشُقُّ عَلَی صَاحِبِہِ وَیُؤْذِیہِ قَالَ اللہ تعالی:وَإِنْ خِفْتُمْ شِقاقَ بَیْنِہِما أَیْ فِرَاقَ بَیْنِہِمَا فِی الِاخْتِلَافِ حَتَّی یَشُقَّ أَحَدُہُمَا عَلَی الْآخَرِ. ترجمہ :امام ابوعبداللہ فخرالدین الرازی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بعض اہل لغت نے کہاہے کہ ’’الشقاق‘‘ شق سے ماخوذ ہے گویاعداوت کی وجہ سے ایک آدمی دوسرے آدمی کے مخالف جانب ہوگیا، جب جماعت میں افتراق وانتشارہوتوکہاجاتاہے کہ { وَقَدْ شَقَّ عَصَا الْمُسْلِمِین}اس کی نظیر{الْمُحَادَّۃُ}ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ایک حد ِ عداوت پر ایک جانب جبکہ دوسرادوسری حدپر ہے ،’’ المجانبہ ‘‘ یہ ایک جانب ہے اوردوسرادوسری جانب ہے ۔ اوردیگراہل علم کہتے ہیں ’’الشقاق‘‘ مشقت سے ماخوذ ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو مشقت میں مبتلاء کرتاہے ۔ جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا:{وَإِنْ خِفْتُمْ شِقاقَ بَیْنِہِما}یعنی اختلاف کی وجہ سے فراق جوایک دوسرے کو اذیت دے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۴:۷۳) اس سے معلوم ہواکہ اگر’’الشقاق ‘‘ الشق سے ماخوذ ہوتواس کامعنی یہ بنے گاکہ یہود رسول اللہ ﷺکی دشمنی میں ایک جانب ہوگئے اور کریم آقاﷺ کو تکلیف دینے کے لئے ہمہ وقت کوشش کرتے تھے ۔ اور’’الشقاق‘‘ مشقت سے ماخوذ ہوتو اس کامعنی یہ ہوگاکہ یہودی ہروقت رسول اللہ ﷺکومشقت اوراذیت میں مبتلاء کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے ۔ اب اس آیت کریمہ کے معنی میں غورکریں کہ اللہ تعالی ارشادفرمارہاہے کہ یہود رسول اللہ ﷺکی دشمنی اوررسول اللہ ﷺکے ساتھ لڑائی کرنے اورجھگڑاکرنے میں ایک جانب ہوچکے ہیں یعنی رسول اللہ ﷺکی گستاخی کرنے میں متحد ہوچکے ہیں اوران کے جواب کے لئے اوران کا دفاع کرنے کے لئے دوسری جانب رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمع ہوچکے ہیں اورمددصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ہی ہوگی جیساکہ اللہ تعالی نے بیان فرمایا۔

رب تعالی نے وعدہ فرماکررسول اللہ ﷺکو تسلی دی

وجعل الشقاق ظرفا لہم وہم مظروفون لہ مبالغۃ فی الاخبار باستیلائہ علیہم فانہ ابلغ من قولک ہم مشاقون والشقاق مأخوذ من الشق وہو الجانب فکأن کل واحد من الفریقین فی شق غیر شق صاحبہ بسبب العداوۃ ولما دل تنکیر الشقاق علی امتناع الوفاق وان ذلک مما یؤدی الی الجدال والقتال لا محالۃ عقب ذلک بتسلیۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتفریح المؤمنین بوعد النصرۃ والغلبۃ وضمان التأیید والإعزاز بالسین للتأکید الدالۃ علی تحقق الوقوع البتۃ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام اسماعیل حقی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ’’ الشقاق ‘‘الشق سے نکلاہے اوریہ بطورمبالغہ کے ایسے بیان کیاگیاہے کہ رسول اللہ ﷺکے دشمن اتنے شریرہیں کہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ لڑائی اوردشمنی رکھنا ان پرسوارہے ، یہ الشقاق ،وھم الشاقون سے زیادہ بلیغ ہے ۔ شقاق شق سے مشتق ہے بمعنی جانب ، گویاایک گروہ دوسرے گروہ کی جانب کنارے پرہے بوجہ عداوت ودشمنی کے اورلفظ ’’الشقاق‘‘کانکرہ ہونابتاتاہے کہ ان سے موافقت کاصدورممتنع ہے کیونکہ ان کاکام ہی رسول اللہ ﷺکے ساتھ لڑائی کرنااوردشمنی رکھناہے اوربس ، اس کے بعداللہ تعالی نے اپنے حبیب کریمﷺ کو تسلی دی اوراہل اسلام کوخوش کردیاکہ ان کی مددہونے والی ہے اورتائیدواعزاز کاوعدہ فرمایا۔چنانچہ رب تعالی نے فرمایاکہ عنقریب تمھاری ان سے کفایت فرمائے گا۔ ( روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۱:۲۴۲)

گستاخوں کے خلاف لڑنے والوں کی مددکرنے کااللہ تعالی نے وعدہ فرمایاہے

فَسَیَکْفِیکَہُمُ اللَّہُ أَیْ فَسَیَکْفِی اللَّہُ رَسُولَہُ عَدُوَّہُ فَکَانَ ہَذَا وَعْدًا مِنَ اللَّہِ تَعَالَی لِنَبِیِّہِ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَنَّہُ سَیَکْفِیہِ مَنْ عَانَدَہُ وَمَنْ خَالَفَہُ مِنَ الْمُتَوَلِّینَ بِمَنْ یَہْدِیہِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ، فَأَنْجَزَ لَہُ الْوَعْدَ، وَکَانَ ذَلِکَ فِی قَتْلِ بَنِی قَیْنُقَاعَ وَبَنِی قُرَیْظَۃَ وَإِجْلَاء ِ بَنِی النَّضِیرِ. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے رسول ﷺکی طرف سے اس کے دشمن کو کافی ہے ، یہ اللہ تعالی کااپنے حبیب کریم ﷺسے وعدہ ہے کہ وہ اپنے حبیب کریم ﷺکے ہر ہردشمن کی طرف سے اہل ایمان کے ذریعے کفایت فرمائے گااوراللہ تعالی نے پھراپناوعدہ پورافرمایاوہ اس طرح کہ بنوقینقاع، بنوقریظہ کے قتل اوربنونضیرکی جلاوطنی میں پوراہوا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۲:۱۴۳) امام القرطبی رحمہ اللہ تعالی کے اس فرمان شریف سے واضح ہواکہ رسول اللہ ﷺکی گستاخی کرنے کے لئے تمام کفارجمع تھے اوردوسری طرف رسول اللہ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺکی عزت وناموس کے دفاع کے لئے جمع ہوئے تواللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺکے گستاخوں کے قتل کااورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مددکرنے کاوعدہ فرمایااورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مددکرکے اپنے وعدے کوپورافرمایا۔ اورآج بھی جو شخص اللہ تعالی کے حبیب کریمﷺ کی عزت وناموس کے دفاع کے لئے کھڑاہوتاہے اللہ تعالی اس کی بھی مددفرماتاہے ۔جیساکہ ماضی قریب میں جب ختم نبوت قانون پر حملہ ہواتوامیرالمجاہدین حضرت اقدس مولاناحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی اپنے مخلصین کے ساتھ تہی دامن فیض آباد شریف جابیٹھے اوروہاں پر جب ساری عالمی قوتیں ان کے خلاف جمع ہوگئیں اورہر طرح کی پولیس اوررینجرز بمع اسلحہ جمع ہوگئے توپھراللہ تعالی کی مددایسے آئی کہ تمام کے تمام بے دین بمع اسلحہ کے وہاں سے فرارہوگئے ۔

تمھارے جیساایمان لائیں تو ۔۔۔

أَنَّکُمْ آمَنْتُمْ بِالْفُرْقَانِ مِنْ غَیْرِ تَصْحِیفٍ وَتَحْرِیفٍ، فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ ذَلِکَ وَہُوَ التَّوْرَاۃُ مِنْ غَیْرِ تَصْحِیفٍ وَتَحْرِیفٍ فَقَدِ اہْتَدَوْا لِأَنَّہُمْ یَتَّصِلُونَ بِہِ إِلَی مَعْرِفَۃِ نُبُوَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَابِعُہَا:أَنْ یَکُونَ قَوْلُہُ:فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِہِ أَیْ فَإِنْ صَارُوا مُؤْمِنِینَ بِمِثْلِ مَا بِہِ صِرْتُمْ مُؤْمِنِینَ فَقَدِ اہْتَدَوْا،فَالتَّمْثِیلُ فِی الْآیَۃِ بَیْنَ الْإِیمَانَیْنِ وَالتَّصْدِیقَیْنِ۔ ترجمہ:امام ابوعبداللہ فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا: اے جماعت صحابہ ! اگریہودونصاری بھی ایسے ہی ایمان لائیں جیسے تم لائے ہویعنی قرآن کریم پر تحریف وتصحیف کے بغیرجیساتمھاراایمان ہے اسی طرح وہ بھی توراۃ وانجیل پر بغیرتحریف وتصحیف کے ایمان لے آئیں تووہ بھی ہدایت پاجائیں گے کیونکہ اس کے ذریعے رسول اللہ ﷺکی معرفت پاجائیں گے ۔ اس آیت کریمہ کامعنی یہ ہے کہ اگروہ مان جاتے جس طرح تم مان گئے تویہ ہدایت پاجاتے توآیت میں تمثیل دونوں کے ایمان اورتصدیق کی ہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۴:۷۳)

رسول اللہ ﷺکے گستاخوں کے لئے وعید

قَالَ الْقَاضِی:وَلَا یَکَادُ یُقَالُ فِی الْمُعَادَاۃِ عَلَی وَجْہِ الْحَقِّ أَوِ الْمُخَالَفَۃِ الَّتِی لَا تَکُونُ مَعْصِیَۃً إِنَّہُ شِقَاقٌ وَإِنَّمَا یُقَالُ ذَلِکَ فِی مُخَالَفَۃٍ عَظِیمَۃٍ تُوقِعُ صَاحِبَہَا فِی عَدَاوَۃِ اللَّہِ وَغَضَبِہِ وَلَعْنِہِ وَفِی اسْتِحْقَاقِ النَّارِ فَصَارَ ہَذَا الْقَوْلُ وَعِیدًا مِنْہُ تَعَالَی لَہُمْ وَصَارَ وَصْفُہُمْ بِذَلِکَ دَلِیلًا عَلَی أَنَّ القوم معادون للرسول مضمرون لہ السؤال مُتَرَصِّدُونَ لِإِیقَاعِہِ فِی الْمِحَنِ، فَعِنْدَ ہَذَا آمَنَہُ اللَّہُ تَعَالَی مِنْ کَیْدِہِمْ وَآمَنَ الْمُؤْمِنِینَ مِنْ شرہم ومکرہم فقال:فَسَیَکْفِیکَہُمُ اللَّہُ تقویۃ لقبہ وَقَلْبِ الْمُؤْمِنِینَ لِأَنَّہُ تَعَالَی إِذَا تَکَفَّلَ بِالْکِفَایَۃِ فِی أَمْرٍ حَصَلَتِ الثِّقَۃُ بِہِ۔ ترجمہ :امام بیضاوی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حق کی خاطرکسی سے عداوت یاایسی مخالفت جو معصیت نہ ہوالشقاق نہیں کہلاتا۔ الشقاق اس وقت ہوگاجب کوئی شخص ایسی بڑی مخالفت میں چلاجائے جس کی وجہ سے اللہ تعالی کی عداوت وغضب ، لعنت ومستحق ِ ناربن جائے ، تویہ قول اللہ تعالی کی طرف سے رسول اللہ ﷺکے گستاخوں کے لئے وعید ہے ، ان کایہ عمل اس پر دلیل ہے کہ یہ لوگ (رسول اللہ ﷺکے گستاخ) رسول اللہ ﷺکے تکلیف میں مبتلاء ہونے کے لئے دعائیں کرتے ہیں تواللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم ﷺکو ان کے فریب سے امن وحفاظت اوران کے شروفریب سے اہل ایمان کو امن دیتے ہوئے فرمایا{فَسَیَکْفِیکَہُمُ اللّہ}یہ رسول اللہ ﷺکے دل مبارک اوراہل ایمان کے قلب کی تقویت ہے توجب اللہ تعالی نے حبیب کریم ﷺکی عزت وناموس کے دفاع میں کافی ہونے کی ضمانت فراہم کردی تواب اعتماد حاصل ہوگا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۴:۷۳)

رسول اللہ ﷺکے گستاخوں پر رب تعالی کی پکڑکیسے آئی ؟

قَالَ الْمُتَکَلِّمُونَ:ہَذَا إِخْبَارٌ عَنِ الْغَیْبِ فَیَکُونُ مُعْجِزًا دَالًّا عَلَی صِدْقِہِ وَإِنَّمَا قُلْنَا إِنَّہُ إِخْبَارٌ عَنِ الْغَیْبِ وَذَلِکَ لِأَنَّا وَجَدْنَا مُخْبِرَ ہَذَا الْقَوْلِ عَلَی مَا أَخْبَرَ بِہِ لِأَنَّہُ تَعَالَی کَفَاہُ شَرَّ الْیَہُودِ وَالنَّصَارَی وَنَصَرَہُ عَلَیْہِمْ حَتَّی غَلَبَہُمُ الْمُسْلِمُونَ وَأَخَذُوا دِیَارَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ فَصَارُوا أَذِلَّاء َ فِی أَیْدِیہِمْ یُؤَدُّونَ إِلَیْہِمُ الْخَرَاجَ وَالْجِزْیَۃَ أَوْ لَا یَقْدِرُونَ الْبَتَّۃَ عَلَی التَّخَلُّصِ مِنْ أَیْدِیہِمْ۔ ترجمہ :اہل کلام کہتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں غیبی خبرہے لھذایہ رسول اللہ ﷺکے صدق پر بطورمعجزہ دلیل ہے ۔ غیبی خبراس لئے ہے کہ ہم نے اس خبرکے مطابق ہی مستقبل میںدیکھاکیونکہ اللہ تعالی نے یہودونصاری کے شرسے رسول اللہ ﷺکو محفوظ رکھااورآپ ﷺکی ان کے خلاف مددفرمائی ۔حتی کہ رسول اللہ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان دشمنان رسول پر غالب آگئے، ان کے علاقے اوراموال حاصل کرلئے اوروہ تمام ان کے تابعدار ہوکرجزیہ وخراج اداکرنے لگے حتی کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے آزادی پرقادرنہ رہے ۔ معجزہ اس لئے ہے کہ محض ظن وتخمین والاایسی یقینی وتفصیلی بات نہیں کرسکتا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۴:۷۳)

{وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ}کالطیف معنی

(فی معنی وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ)ثُمَّ إِنَّہُ تَعَالَی لَمَّا وَعَدَہُ بِالنُّصْرَۃِ وَالْمَعُونَۃِ أَتْبَعَہُ بِمَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّ مَا یُسِرُّونَ وَمَا یُعْلِنُونَ مِنْ ہَذَا الْأَمْرِ لَا یَخْفَی عَلَیْہِ تَعَالَی فَقَالَوَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ وَفِیہِ وَجْہَانِ الْأَوَّلُ:أَنَّہُ وَعِیدٌ لَہُمْ وَالْمَعْنَی أَنَّہُ یُدْرِکُ مَا یُضْمِرُونَ وَیَقُولُونَ وَہُوَ عَلِیمٌ بِکُلِّ شَیْء ٍ فَلَا یَجُوزُ لَہُمْ أَنْ یَقَعَ مِنْہُمْ أَمْرٌ إِلَّا وَہُوَ قَادِرٌ عَلَی کِفَایَتِہِ إِیَّاہُمْ فِیہِ.الثَّانِی:َٔنَّہُ وَعْدٌ لِلرَّسُولِ عَلَیْہِ السَّلَامُ یَعْنِی:یَسْمَعُ دُعَاء َکَ وَیَعْلَمُ نِیَّتَکَ وَہُوَ یَسْتَجِیبُ لَکَ وَیُوصِلُکَ إِلَی مُرَادِک۔ ترجمہ :جب اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺکی مددونصرت کاوعدہ فرمایاتواس نے اپنی شان کاذکرکیاپھربتادیاکہ وہ اپنے حبیب کریم ﷺکے دشمنوں کے ظاہروباطن سے آگاہ ہے ۔ اس کی تفسیر میں دووجوہات ہیں :پہلی وجہ : یہ رسول اللہ ﷺکے دشمنوں کے لئے وعیدہے ، اس کامفہوم یہ ہے کہ جو کچھ رسول اللہ ﷺکے گستاخ چھپاکررکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی ان کی ہرشئی کو جانتاہے توان کی طرف سے جوبھی سازش ہوگی ،اللہ تعالی کے دفاع پر قادرمطلق ہے ۔ دوسری وجہ : یہ رسول اللہ ﷺسے وعدہ ہے یعنی اللہ تعالی آپ ﷺکی دعاقبول کرے گا اوروہ تمھاری نیت کوجانتاہے ، دعاکو قبول فرماکرتمھیں تمھارے مقصدمیں کامیاب فرمائے گا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۴:۷۳)

معارف ومسائل

(۱) اس سے معلوم ہواکہ جو بھی شخص رسول اللہ ﷺکی عزت وناموس کے دفاع کے لئے کام کرے اللہ تعالی اس کی مددفرماتاہے کیونکہ یہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم ﷺسے وعدہ فرمایاہے ۔ (۲) اوراس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جب بھی رسول اللہ ﷺکی عزت وناموس پر حملہ ہوتواہل ایمان پرواجب ہے کہ وہ ان کے خلاف کھڑے ہوں پھراللہ تعالی اپنے وعدے کے مطابق ان کی مددفرمائے گااورگستاخوں کو ذلیل فرمادے گا۔ (۳) اوراس آیت مبارکہ سے معلوم ہواکہ یہود ونصاری ہمہ وقت رسول اللہﷺکی گستاخیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں جیساکہ روح البیان کے حوالے سے ہم نقل کرآئے ہیں تواہل اسلام کو بھی چاہئے کہ وہ بھی ہمہ وقت رسول اللہ ﷺکی عزت وناموس پرپہرہ دینے کے لئے میدان میں رہیں۔ (۴) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم معیارایمان ہیں۔ (۵) یہ آیت مبارکہ گواہی دے رہی ہے کہ رب تعالی نے یہودونصاری کو فرمایاجس طرح میرے حبیب کریمﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میرے حبیب کریم ﷺکی عزت وناموس پر پہرہ دیتے ہیں اورمیرے حبیب کریمﷺکاادب واحترام کرتے ہیں اگریہ یہودونصاری بھی اسی طرح میرے حبیب کریم ﷺکی عزت وناموس کادفاع کرنے والے اورادب کرنے والے بن جائیں تو میں ان کو بھی ہدایت عطافرمادوں گا۔ (۶) اس سے یہ بھی معلو م ہواکہ جو شخص رسول اللہ ﷺکی عزت وناموس پر پہرہ دیتاہے وہ آج بھی دوسرے لوگوں کے لئے معیارایمان ہے۔ (۷) اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو معیارایمان قراردے کردنیابھرکے لوگوں کو رسول اللہ ﷺکی عزت وناموس پرپہرہ دینے کاحکم ارشادفرمایاہے ۔ (۸) اللہ تعالی کے ہاں پسندیدہ مومن وہی ہے جو رسول اللہ ﷺکی عزت وناموس پر پہرہ دینے والاہو۔ (۹) اوراس آیت میں اللہ تعالی نے وعدہ فرمایاہے جو بھی میرے حبیب کریم ﷺکی عزت وناموس پر پہرہ دے گامیں اس کی مددکروں گا۔ (۱۰) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جب کوئی بدبخت رسول اللہ ﷺکی شان میں گستاخی کرے تو اہل ایمان پر واجب ہے کہ وہ دفاع میں کھڑے ہوں ، جس طرح آجکل کے لبرل کہتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے نبی ﷺکاخودہی بدلہ لے لے گا۔

رسول اللہ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی مشاجرات پر خاموشی اختیارکرناواجب ہے

الحمدللہ اہلسنت ہی فرقہ ناجیہ اور طائفہ، منصورہ ہے ، جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسلام کو اعتدال والا دین قرار دیا ہے ، ایسے ہی امت محمدیہ ،صلوات اللہ وسلامہ علی صاحبہا، کو امتِ وسط بنایا ہے او راس کا صحیح اور حقیقی مصداق ہر زمانہ میں اہل سنت ہی رہے ہیں اور تاقیامت رہیں گے۔عقائد، عبادات، معاملات، افکار ونظریات، عصمتِ انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام، مقام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین، احترامِ سلف صالحین، مجتہدین، محدثین او رعلمائے امت پراعتماد، غرض دین ودنیا کے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ نے اہل سنت کو اعتدال کے اعلیٰ مرتبے سے نوازا ہے ، دوسرا کوئی گروہ اور فرقہ اس صفت میں ان کا شریک نہیں، اگرچہ اہل بدعت، زیغ وضلال کے داعی، اسلام کے نام پر اسلام کی بنیادوں پر تیشہ چلانے والے کتنے ہی بناوٹی دعوے اور پروپیگنڈے کرتے رہیں، لیکن یہ بات روزِروشن کی طرح واضح ہے او رخود اہل باطل بھی اس کے معترف ہیں کہ اسلام کے حقیقی پیروکار اورـــ ما أنا علیہ وأصحابی کا یقینی مصداق ہمیشہ اہل سنت ہی رہے ہیں۔اسی وسطیت او راعتدال کا نتیجہ ہے کہ اہل سنت فرق مراتب کے نہ صرف قائل ہیںبلکہ عملی طور سے اس کا اظہار بھی ہوتا ہے ، مزید برآں فرق مراتب کا لحاظ نہ رکھنے اور کسی بھی شخصیت کو اس کے مقام سے بڑھا کر پیش کرنے، یا اس کی شان میں ادنی درجے کی گستاخی کو علمائے اہل سنت نے زندیقیت سے تعبیر کیا ہے۔اہل سنت حضور اکرم ﷺکو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی اوررسول سمجھتے ہیں، ان کے بعد کسی طرح کے دعوائے نبوت، چاہے ظلی ہو یا بروزی ، یا امامت اہل بیت کے نام سے نبوی صفات سے متصف ائمہ کاا عتقاد رکھنے کو علی الاعلان کفر وزندقہ گردانتے ہیں ، اسی طرح حضور اکرم ﷺسے تعلق اور نسبت رکھنے والی ہر شخصیت، چاہے وہ حضرات اہل بیت کرام رضی اللہ تعالی عنہم ہوں ، یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مقدس جماعت، سب کی عزت وعظمت، ان کی محبت واتباع او ران سے تعلق کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اہل سنت کے عقائد میں یہ بات شامل ہے کہ صحابہ کرام میں جو بھی اختلافات ہوئے، ان کے بارے میں اپنی زبان بند کی جائے، کیونکہ (قرآن و سنت میں )صحابہ کرام کے فضائل ثابت ہیں اور ان سے محبت ومودّت فرض ہے۔ صحابہ کرام کے مابین اختلافات میں سے بعض ایسے تھے کہ ان میں صحابہ کرام کا کوئی ایسا عذر تھا، جو عام انسان کو معلوم نہیں ہو سکا، بعض ایسے تھے جن سے انہوں نے توبہ کر لی تھی اور بعض ایسے تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے خود ہی معافی دے دی۔ مشاجرات صحابہ میں غور کرنے سے اکثر لوگوں کے دلوں میں صحابہ کرام کے بارے میں بغض و عداوت پیدا ہو جاتی ہے، جس سے وہ خطاکار، بلکہ گنہگار ہو جاتے ہیں۔ یوں وہ اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جن لوگوں نے اس بارے میں اپنی زبان کھولی ہے، اکثر کا یہی حال ہوا ہے۔ انہوں نے ایسی باتیں کی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند نہیں تھیں۔ انہوں نے ایسے لوگوں کی مذمت کی، جو مذمت کے مستحق نہیں تھے یا ایسے امور کی تعریف کی، جو قابل تعریف نہ تھے۔ اسی لیے مشاجرات صحابہ میں زبان بند رکھنا ہی سلف صالحین کا طریقہ تھا۔ یہ تھا مشاجرات صحابہ میں اہل سنت کا عقیدہ۔ اس عقیدے کے برعکس بعض لوگ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کو ہوا دیتے ہیں اور ان کی بنا پر بعض صحابہ کرام پر تنقید کرتے ہیں۔ حالانکہ صحابہ کرام پر تنقیداور ان کی تنقیص بدعت و ضلالت ہے۔ اس بارے میں :

امام اہل سنت ابوالمنظرمنصورسمعانی المتوفی : ۴۸۹ھ) رحمہ اللہ تعالی کاقول

وَقَالَ بن السَّمْعَانِیِّ فِی الِاصْطِلَامِ التَّعَرُّضُ إِلَی جَانِبِ الصَّحَابَۃِ عَلَامَۃٌ عَلَی خِذْلَانِ فَاعِلِہِ بَلْ ہُوَ بِدْعَۃٌ وَضَلَالَۃٌ۔ ترجمہ:امام ابن السمعانی رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب ’’الاصطلام‘‘ میں نقل فرماتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن کرنا کسی کے رسوا ہونے کی علامت ہے، بلکہ یہ بدعت اور گمراہی ہے۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری: أحمد بن علی بن حجر أبو الفضل العسقلانی الشافعی(۴:۳۶۵) مشاجراتِ صحابہ کے بارے میں زبان بند رکھنے کا عقیدہ قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے دلائل شرعیہ سے ثابت ہے۔ آئیے اس بارے میں دلائل ملاحظہ فرمائیں :

قرآنِ کریم اور مشاجرات صحابہ

اس بات میں کسی بھی مسلمان کو کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آپس کے اختلاف اجتہادی تھے، کسی بدنیتی پر مبنی ہرگز نہیں تھے۔ اجتہاد میں اگر کوئی انسان غلطی بھی کر لے تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اجر عطاہوتا ہے۔ جبکہ قرآنِ کریم کے مطابق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جو غیر اجتہادی بھولیں ہوئیں، ان کو بھی معاف فرما دیا گیا ہے۔ غزوۂ احد میں جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کونبی اکرم ﷺ کے حکم مبارک پر عمل کرنے میں جو سہوہوا، ان کے بارے میں : فرمانِ الٰہی ہے : وَلَقَدْ عَفَا اللَّـہُ عَنْہُمْ (آل عمران:۱۵۵) یقیناً اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا ہے۔ نیز صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا : وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ (آل عمران:۱۵۲) یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہیں معاف فرما دیا ہے۔ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی غیر اجتہادی بھولیں اور ان کے صریح ذنب بھی معاف فرما دئیے ہیں۔ لہٰذا مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم جو یقیناً ایک فریق کی اجتہادی غلطی پر مبنی تھے، وہ قرآن کی رُو سے بالاولیٰ معاف ہو گئے ہیں۔ اب ان اختلافات کو بنیاد بنا کر کسی بھی صحابی کے بارے میں زبان کھولنا اپنی عاقبت برباد کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ کسی عام مسلمان سے کوئی کبیرہ گناہ ہو جائے اور وہ اس سے توبہ کر لے، تو اس کا ذکر کر کے اس کی تنقیص کرنا یا اس کو بنیاد بنا کر دل میں اس کے لیے تنگی رکھنا بھی گناہ ہے تو وہ اجتہادی غلطی جس پر اللہ تعالیٰ نے ایک اجر عطا فرمایا ہوا ہو، اس کی بنا پر کسی صحابی رسول کے خلاف زبان کھولنا کتنی بڑی بدبختی ہو گی !

مشاجرات صحابہ احادیث شریفہ کی روشنی میں

میرے صحابہ کرام کی توہین نہ کرو عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِی، لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِی، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَہَبًا، مَا أَدْرَکَ مُدَّ أَحَدِہِمْ، وَلَا نَصِیفَہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تنقیص نہ کرو، میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے !اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرے تو کسی صحابی کے ایک مد (تقریباً دو سے اڑھائی پاؤ) یا اس کے نصف کے برابر نہیں ہو سکتا۔ ( صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۴:۱۹۶۷)

گھٹیاکون ؟

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ:دَخَلَ عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ یَزِیدُ:وَکَانَ مِنْ صَالِحِی أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، عَلَی عُبَیْدِ اللہِ بْنِ زِیَادٍ، فَقَالَ:إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ:شَرُّ الرِّعَاء ِ الْحُطَمَۃُ،قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ:فَأَظُنُّہُ قَالَ:إِیَّاکَ أَنْ تَکُونَ مِنْہُمْ، وَلَمْ یَشُکَّ یَزِیدُ، فَقَالَ:اجْلِسْ فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَۃِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:وَہَلْ کَانَتْ لَہُمْ، أَوْ فِیہِمْ، نُخَالَۃٌ؟ إِنَّمَا کَانَتِ النُّخَالَۃُ بَعْدَہُمْ، وَفِی غَیْرِہِمْ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے صحابی حضرت سیدنا عائذ بن عمرورضی اللہ عنہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس آئے اور فرمانے لگے :بیٹے !میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدترین حکمران وہ ہوتے ہیں، جو اپنی رعایا پر ظلم کرتے ہیں۔ لہٰذا (میری نصیحت ہے کہ )تیرا شمار ایسے لوگوں میں نہ ہو۔ عبیداللہ بن زیاد کہنے لگا : بیٹھ جا، تو رسول اللہ ﷺکا گھٹیا درجے کا صحابی ہے۔ سیدنا عائذ فرمانے لگے :کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بھی کوئی گھٹیا تھا ؟ گھٹیا لوگ تو وہ ہیں جو صحابی نہ بن سکے اور وہ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد میں آئے۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۳۴:۳۴۰) ثابت ہوا کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے تمام صحابہ ارفع و اعلیٰ درجات پر فائز ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کہ بعض صحابہ کو بعض پر فضیلت حاصل ہے، لیکن اس کے باوجود تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قابل عزت و احترام ہیں اور بعد میں آنے والا کوئی شخص نیکی و تقویٰ اور علم کا بڑے سے بڑا کارنامہ سرانجام دے کر بھی کسی صحابی کی ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ لہٰذا کسی بعد والے کو یہ حق نہیں کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بشری لغزشوں، جن کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ہے، یا ان کی اجتہادی غلطیوں، جن پر اللہ تعالیٰ نے بھی مؤاخذہ نہیں فرمایا، کو بنیاد بنا کر ان کے بارے میں بدظنی کا شکار ہو یا زبان درازی کرے۔

اقتدارکے نشے والاصحابہ کرام کی عظمت نہ جان سکا

حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِی أُمَیَّۃَ أَبُو النَّضْرِ، قَالَ:جَلَسَ إِلَیَّ شَیْخٌ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ فِی مَسْجِدِ الْبَصْرَۃِ، وَمَعَہُ صَحِیفَۃٌ لَہُ فِی یَدِہِ قَالَ:وَفِی زَمَانِ الْحَجَّاجِ ،فَقَالَ لِی:یَا عَبْدَ اللہِ، أَتَرَی ہَذَا الْکِتَابَ مُغْنِیًا عَنِّی شَیْئًا عِنْدَ ہَذَا السُّلْطَانِ؟ قَالَ:فَقُلْتُ:وَمَا ہَذَا الْکِتَابُ؟ قَالَ:ہَذَا کِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَتَبَہُ لَنَا:أَنْ لَا یُتَعَدَّی عَلَیْنَا فِی صَدَقَاتِنَا قَالَ:فَقُلْتُ:لَا، وَاللہِ مَا أَظُنُّ أَنْ یُغْنِیَ عَنْکَ شَیْئًا، وَکَیْفَ کَانَ شَأْنُ ہَذَا الْکِتَابِ؟ قَالَ:قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ مَعَ أَبِی وَأَنَا غُلامٌ شَابٌّ بِإِبِلٍ لَنَا نَبِیعُہَا، وَکَانَ أَبِی صَدِیقًا لِطَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ التَّیْمِیِّ، فَنَزَلْنَا عَلَیْہِ فَقَالَ لَہُ أَبِی:أخْرُجْ مَعِی فَبِعْ لِی إِبِلِی ہَذِہِ قَالَ:فَقَالَ:إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ نَہَی أَنْ یَبِیعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَکِنْ سَأَخْرُجُ مَعَکَ فَأَجْلِسُ وَتَعْرِضُ إِبِلَکَ، فَإِذَا رَضِیتُ مِنْ رَجُلٍ وَفَاء ً وَصِدْقًا مِمَّنْ سَاوَمَکَ أَمَرْتُکَ بِبَیْعِہِ،قَالَ:فَخَرَجْنَا إِلَی السُّوقِ فَوَقَفْنَا ظُہْرَنَا، وَجَلَسَ طَلْحَۃُ قَرِیبًا فَسَاوَمَنَا الرِّجَالُ حَتَّی إِذَا أَعْطَانَا رَجُلٌ مَا نَرْضَی،قَالَ لَہُ أَبِی:أُبَایِعُہُ؟ قَالَ:نَعَمْ، قد رَضِیتُ لَکُمْ وَفَاء َہُ فَبَایِعُوہُ، فَبَایَعْنَاہُ فَلَمَّا قَبَضْنَا مَا لَنَا وَفَرَغْنَا مِنْ حَاجَتِنَاقَالَ أَبِی لِطَلْحَۃَ:خُذْ لَنَا مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کِتَابًا: أَنْ لَا یُتَعَدَّی عَلَیْنَا فِی صَدَقَاتِنَا، قَالَ:فَقَالَ:ہَذَا لَکُمْ وَلِکُلِّ مُسْلِمٍ، قَالَ عَلَی ذَلِکَ إِنِّی أُحِبُّ أَنْ یَکُونَ عِنْدِی مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کِتَابٌ قَالَ:فَخَرَجَ حَتَّی جَاء َ بِنَا إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:یَا رَسُولَ اللہِ، إِنَّ ہَذَا الرَّجُلَ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ، صَدِیقٌ لَنَا، وَقَدْ أَحَبَّ أَنْ تَکْتُبَ لَہُ کِتَابًا، أن لَا یُتَعَدَّی عَلَیْہِ فِی صَدَقَتِہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:ہَذَا لَہُ وَلِکُلِّ مُسْلِمٍ ، قَالَ: یَا رَسُولَ اللہِ، إِنِّہُ قَدْ أُحِبُّ أَنْ یَکُونَ عِنْدَہُ مِنْکَ کِتَابٌ عَلَی ذَلِکَ، قَالَ:فَکَتَبَ لَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہَذَا الْکِتَابَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوالنصر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حجاج بن یوسف کے زمانے میں بصرہ کی ایک مسجد شریف میں بنوتمیم کے ایک بزرگ میرے پاس تشریف لائے اوربیٹھ گئے ، ان کے ہاتھ میں ایک صحیفہ بھی تھا، وہ مجھ سے فرمانے لگے کہ اے بندہ خدا! تمھاراکیاخیال ہے کیایہ خط اس بادشاہ یعنی حجاج بن یوسف کے سامنے مجھے کوئی فائدہ پہنچاسکتاہے ؟ انہوںنے بتایاکہ یہ نبی کریم ﷺکافرمان شریف ہے جو آپ نے ہمارے لئے لکھوایاتھاکہ زکوۃ کی وصولی میں ہم پر زیادتی نہ کی جائے ، میں نے کہا: خداتعالی کی قسم! مجھے تونہیں لگتاکہ اس خط سے آپ کو کوئی فائدہ ہو۔( کیونکہ حجاج بہت ظالم شخص ہے اوروہ رسول اللہ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم اوررسول اللہ ﷺکی تعلیمات شریفہ پر عمل نہیں کرے گاکیونکہ وہ اپنے اقتدارکے گھمنڈمیں ہے )البتہ یہ بتایئے کہ اس خط کاکیامعاملہ ہے ؟ انہوں نے بتایاکہ میں اپنے والد ماجد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک مرتبہ مدینہ منورہ آیاہواتھاتواس وقت میں نوجوان تھاہم لوگ اپناایک اونٹ فروخت کرناچاہتے تھے ، میرے والد ماجدحضرت سیدناطلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے دوست تھے ، اس لئے ہم انہیں کے ہاں جاکرٹھہرے ۔ میرے والد ماجد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہاکہ میرے ساتھ چل کر اس اونٹ کو بیچنے میں میری مددفرمائیں ۔ انہوںنے فرمایا: حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اس بات سے منع فرمایاہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے خریدوفروخت کرے ۔ البتہ میں آپ کے ساتھ چلتاہوں اورآپ کے ساتھ بیٹھ جائوں گا، آپ اپنااونٹ لوگوں کے سامنے پیش کریں جس شخص کے متعلق مجھے یہ اطمینان ہوگاکہ یہ قیمت اداکرے گااورسچاثابت ہوگامیں آپ کو اس کے ہاتھ فروخت کرنے کاکہہ دوں گا۔ چنانچہ ہم نکل کربازارمیں پہنچے اورایک جگہ پہنچ کر رک گئے ، حضرت سیدناطلحہ رضی اللہ عنہ قریب ہی بیٹھ گئے ، کئی لوگوں نے آکربھائوتائوکیا،حتی کہ ایک آدمی آیاجو ہماری منہ مانگی قیمت دینے کے لئے تیارتھا، میرے والد ماجد رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھاکہ اس کے ساتھ معاملہ کرلوں ؟ توانہوں نے اثبات میں جواب دیااورفرمایاکہ مجھے اطمینان ہے یہ تمھاری قیمت پوری پوری اداکردے گا، اس لئے تم یہ اونٹ اس کے ہاتھ فروخت کردو، چنانچہ ہم نے اس کے ہاتھ وہ اونٹ فروخت کردیا۔ جب ہمارے قبضہ میں پیسے آگئے اورہماری ضرورت پوری ہوگئی تو میرے والد ماجد نے حضرت سیدناطلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے کہاکہ نبی کریم ﷺسے اس مضمون کاایک خط لکھواکرہمیں دیں کہ زکوۃکی وصولی میں ہم پر زیادتی نہ کی جائے ، اس پر انہوںنے فرمایاکہ یہ تمھارے لئے بھی ہے اورہر ہرمسلمان کے لئے بھی ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں اسی وجہ سے چاہتاتھاکہ نبی کریم ﷺکاکوئی خط میرے پاس ہوناچاہئے ۔ بہرحال !حضرت سیدناطلحہ رضی اللہ عنہ ہمارے ساتھ نبی کریم ﷺکی خدمت اقدس میں حاضرہوئے اورعرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! یہ صاحب’’جن کاتعلق ایک دیہات سے ہے ‘‘ہمارے دوست ہیں ، ان کی خواہش ہے کہ آپ ﷺانہیں اس نوعیت کاایک مضمون لکھوادیں کہ زکوۃ کی وصولی میں ان پر زیادتی نہ کی جائے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: یہ ان کے لئے بھی ہے اورہر مومن کے لئے بھی ، میرے والد ماجد نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! میری خواہش ہے کہ آپ ﷺکاکوئی خط اس مضمون پر مشتمل میرے پاس ہو، اس پر نبی کریم ﷺنے یہ خط لکھوادیا۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۳:۲۳)

دشمن صحابہ کو حضرت سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ کاجواب

عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ، قَالَ:جَاء َ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَہُ عَنْ عُثْمَانَ، فَذَکَرَ عَنْ مَحَاسِنِ عَمَلِہِ، قَالَ: لَعَلَّ ذَاکَ یَسُوء ُکَ؟ قَالَ:نَعَمْ، قَالَ:فَأَرْغَمَ اللَّہُ بِأَنْفِکَ، ثُمَّ سَأَلَہُ عَنْ عَلِیٍّ فَذَکَرَ مَحَاسِنَ عَمَلِہِ، قَالَ: ہُوَ ذَاکَ بَیْتُہُ، أَوْسَطُ بُیُوتِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:لَعَلَّ ذَاکَ یَسُوء ُکَ؟ قَالَ: أَجَلْ، قَالَ: فَأَرْغَمَ اللَّہُ بِأَنْفِکَ انْطَلِقْ فَاجْہَدْ عَلَیَّ جَہْدَکَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناسعد بن عبیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماکی خدمت میں آیااورحضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھنے لگا، حضرت سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ کے محاسن اوران کی خوبیوں کاذکرفرمایا، پھراسے مخاطب کرکے فرمایاکہ شاید یہ باتیں تمھیں بری لگی ہوں گی؟ اس نے کہا:جی ہاں۔ حضرت سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالی تیری ناک خاک آلود کرے( یعنی اللہ تعالی تجھے ذلیل ورسواکرے ) اس کے بعد اس نے حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا، انہوں نے ان کے بھی محاسن اورخوبیاں بیان کیں اورفرمایاکہ حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ کاگھرانہ نبی کریم ﷺکے خاندان کانہایت اہم گھرانہ ہے ۔ پھرحضرت سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایاکہ شایدیہ باتیں بھی تجھے بری لگی ہونگی ؟ اس نے کہاکہ جی ہاں۔حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اللہ تعالی تیری ناک خاک آلودکرے ۔ جامیراجوکچھ بگاڑناچاہتے ہوبگاڑلواوراس میں کچھ کمی نہ کرنااپناپوراپورازورلگانا۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۵:۱۹)

حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکانظریہ

عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنَا بِالِاسْتِغْفَارِ لَہُمْ وَہُوَ یَعْلَمُ أَنَّہُمْ سَیَقْتَتِلُونَ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامجاہد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے تھے کہ لوگو! حضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخی نہ کروکیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیاہے کہ ہم ان کے لئے ترقی درجات کی دعاکریں ، کیونکہ اللہ تعالی توجانتاتھاکہ ان میں قتال ہوگا۔ (الشریعۃ:أبو بکر محمد بن الحسین بن عبد اللہ الآجُرِّیُّ البغدادی (۵:۲۴۸۵)

باہمی قتال کے بعد بھی جنتی؟

عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ أَبِی مَیْسَرَۃَ قَالَ:رَأَیْتُ فِی الْمَنَامِ قِبَابًا فِی رِیَاضٍ مَضْرُوبَۃً فَقُلْتُ:لِمَنْ ہَذِہِ؟ قَالُوا: لِذِی الْکَلَاعِ وَأَصْحَابِہِ وَرَأَیْتُ قِبَابًا فِی رِیَاضٍ فَقُلْتُ:لِمَنْ ہَذِہِ؟ قَالُوا:لِعَمَّارٍ وَأَصْحَابَہِ فَقُلْتُ:وَکَیْفَ وَقَدْ قَتَلَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا؟ قَالَ: إِنَّہُمْ وَجَدُوا اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسِعَ الْمَغْفِرَۃِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابووائل رضی اللہ عنہ حضرت سیدناابومیسرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں باغات کے اندرخیمے لگے ہوئے دیکھے توپوچھایہ کس کے لئے ہیں؟ تومجھے بتایاگیاکہ ذی الکلاع اوران کے اصحاب کے لئے ہیں اوراسی طرح میں نے اورخیمے دیکھے توپوچھاکہ یہ کس کے لئے ہیں ؟ تومجھے جواب دیاگیاکہ یہ حضرت سیدناعمار بن یاسر اوران کے ساتھیوں کے لئے ہیں (رضی اللہ عنہم) تومیں نے کہاکہ ان کے لئے ایسے ایسے خیمے حالانکہ انہوںنے توایک دوسرے کو قتل کیاتھا؟ توجواب دیا گیاکہ وہ جب اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضرہوئے توانہوںنے اللہ تعالی کی رحمت کو و سعت والاپایا۔ (الشریعۃ:أبو بکر محمد بن الحسین بن عبد اللہ الآجُرِّیُّ البغدادی (۵:۲۴۸۵)

حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ایک جلیل القدر شاگردکابیان

عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ: رَأَی عَمْرُو بْنُ شُرَحْبِیلَ أَبُو مَیْسَرَۃَ وَکَانَ مِنْ أَفَاضِلِ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ؛ قَالَ: رَأَیْتُ کَأَنِّیَ دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ فَإِذَا قِبَابٌ مَضْرُوبَۃٌ فَقُلْتُ:لِمَنْ ہَذِہِ؟ قَالُوا:لِذِی الْکَلَاعِ وَحَوْشَبٍ وَکَانَا مَعَ مَنْ قُتِلَ مَعَ مُعَاوِیَۃَ رَحِمَہُ اللَّہُ فَقُلْتُ:فَأَیْنَ عَمَّارٌ؟ قَالُوا:أَمَامَکَ قُلْتُ:وَقَدْ قَتَلَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا قَالَ:لَقُوا اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ فَوَجَدُوہُ وَاسِعَ الْمَغْفِرَۃِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابووائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعمرو بن شرحبیل رضی اللہ عنہ جو کہ حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے جلیل القدرشاگردتھے ،فرماتے ہیں کہ میں نے خواب دیکھاکہ میں جنت میں ہوں اوراس میں بڑے شاندارخیمے لگے ہوئے دیکھے تومیں نے سوال کیاکہ یہ کن کے لئے ہیں ؟ تومجھے جواب دیاگیاکہ یہ ان کے لئے ہیں جو حضرت سیدناامیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ صفین میں شریک تھے تومیںنے سوال کیاکہ پھروہ لوگ کہاں ہیں جو حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے یعنی حضرت سیدناعماربن یاسررضی اللہ عنہ اوران کے ساتھی ؟ تومجھے جوا ب دیاگیاکہ وہ بھی تیرے سامنے جنت میں ہی ہیں ۔ میں نے کہاکہ ایساکیسے ہوگیاکہ انہوںنے توایک دوسرے کوقتل کیاتھااورسارے کے سارے جنت میں بھی جمع ہوگئے ؟ تومجھے اہل جنت نے جواب دیاکہ جب یہ سارے کے سارے اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضرہوئے توانہوںنے اللہ تعالی کی رحمت کو بہت ہی وسعت والاپایا۔ (الشریعۃ:أبو بکر محمد بن الحسین بن عبد اللہ الآجُرِّیُّ البغدادی (۵:۲۴۸۵) امام حسن بصری المتوفی :۱۱۰ھ)رضی اللہ عنہ کانظریہ عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ قَالَ: کَانَ الْحَسَنُ فِی مَجْلِسٍ فَذَکَرَ کَلَامًا وَذَکَرَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: أُولَئِکَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانُوا أَبَرَّ ہَذِہِ الْأُمَّۃِ قُلُوبًا وَأَعْمَقَہَا عِلْمًا وَأَقَلَّہَا تَکَلُّفًا قَوْمًا مَا اخْتَارَہُمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِصُحْبَۃِ نَبِیِّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَإِقَامَۃِ دِینِہِ فَتَشَبَّہُوا بِأَخْلَاقِہِمْ وَطَرَائِقِہِمْ فَإِنَّہُمْ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ عَلَی الْہَدْیِ الْمُسْتَقِیمِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبدربہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناامام حسن بصری رضی اللہ عنہ کی مجلس شریف میں کلام ذکرکیاگیااورانہوںنے رسول اللہ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاذکرخیرکرتے ہوئے فرمایاکہ لوگو! رسول اللہ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تمام امت میں نیک ترین لوگ ہیں اورعلم میں سب سے گہرائی والے ہیں ، اورسب سے کم تکلف کرنے والے ہیں، اللہ تعالی نے ان کو اپنے حبیب کریم ﷺکی صحبت کے لئے منتخب فرمایا۔ پس تم ان کے اخلاق اپنانے کی کوشش کرواوران کے طریقے اپنائو۔ اللہ تعالی کی قسم اس جہان میں سب سے زیادہ کو ئی جماعت ہدایت پر تھی تویہی جماعت تھی جو رسول اللہ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تھی۔ (جامع بیان العلم وفضلہ:أبو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمری القرطبی (۲:۹۴۶) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخ درحقیقت رسول اللہ ﷺکے گستاخ ہیں وروی عَنہُ أَیْضا ہِشَام بن یُوسُف الصَّنْعَانِیّ وَضَعفہ بن معِین وَکَانَ ولی للرشید أمرۃ الْمَدِینَۃ وَذکرہ الْخَطِیب فَقَالَ کَانَ مَحْمُودًا فِی ولَایَتہ جمیل السِّیرَۃ مَعَ جلالۃ قدرہ وَذکرہ الزبیر بن بکار فِی النّسَب فَقَالَ حَدثنِی عمی مُصعب عَن أَبِیہ قَالَ قَالَ الْمہْدی مَا تَقول فِیمَن تنقص الصَّحَابَۃ فَقلت زنادقۃ لأَنہم مَا اسْتَطَاعُوا أَن یصرحوا بِنَقص رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم فتنقصوا أَصْحَابہ فکأنہم قَالُوا کَانَ یصحب صحابۃ السوء ۔ ترجمہ :مدینہ طیبہ کے گورنر عبداللہ بن مصعب فرماتے ہیں کہ خلیفہ مہدی نے مجھ سے پوچھا کہ جو لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تنقیص کرتے ہیں ان کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا: وہ زندیق ہیں کیونکہ ان میںحضورتاجدارختم نبوتﷺکی توہین کرنے کی تو ہمت نہ تھی انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین کرنا شروع کردی۔ گویا وہ یوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺبرے لوگوں کے ساتھ رہتے تھے۔ (تعجیل المنفعۃ بزوائد رجال الأئمۃ الأربعۃ:أبو الفضل أحمد بن علی بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلانی (۱:۷۶۵) آج یہی حال لبرل وسیکولر طبقہ کاہے کہ وہ جب یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کو گالی دیں تو علماء کرام کو گالیاں دیتے ہیں ۔ ان کاعلماء کرام کوگالیاں دینایہ واضح کرتاہے کہ ان کو اصل تکلیف دین اسلام سے ہے ۔ انہیں لوگوں کے متعلق حضرت سیدناشاہ عبدالعزیزرحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جوشخص دین اورعلماء کرام کی توہین کرتاہے اس خیال سے کہ اس علم اورعلماء کی وجہ سے امر باطل اختیارکیاجاتاہے اورحق کی اہانت ہوتی ہے اوراس کایہ خیال ہے کہ یہ علم یعنی علم دین محض حق تلفی اورنزاع (لڑائی جھگڑے ) کے لئے ہے توایساشخص کافرہے ۔ فتاوی عزیزی مترجم از شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی : ۴۱۴) مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی پاکستان اسی طرح بہت الفاظ انہیں لبرل وسیکولر طبقہ کی جانب سے علماء کرام کی توہین میں بولے جاتے ہیں کہ علماء ہی فساد کی جڑہیں اورانہیں کی وجہ سے ہماری ترقی رکی ہوئی ہے ۔ ان کی سب بکواسات کے کفرہونے کے لئے شاہ عبدالعزیزرحمہ اللہ تعالی کافتوی ہی کافی ہے ۔ امت مسلمہ کامشاجرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے متعلق نظریہ مشاجرات صحابہ میں زبان بند رکھنے پر امت مسلمہ کا اجماع ہے۔ ائمہ اہل سنت کا یہ دعویٰ بے دلیل نہیں، واقعی سلف صالحین کا عقیدہ یہی تھا کہ مشاجرات صحابہ میں خاموشی اختیار کی جائے اور اس بارے میں زبان کھولنا گمراہی ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ المتوفی : ۱۵۰ھ) رضی اللہ عنہ کانظریہ نتولاہم جَمِیعًاوَلَا نذْکر أحدا من أَصْحَاب رَسُول اللہ إِلَّا بِخَیر۔ ترجمہ :اورہم سب رسول اللہ ﷺکے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ محبت کرتے ہیں اورکسی بھی صحابی رضی اللہ عنہ کاذکرخیرکے علاوہ نہیں کرتے ۔ (الفقہ الأکبر لأبی حنیفۃ النعمان بن ثابت بن زوطی بن ماہ :۴۳) ملا علی قاری المتوفی :۱۴ا۱۰ھ) رحمہ اللہ کاقول یعنی وان صدر علی بعضہم بعض ماہو فی الصورۃ شر فانہ اما کان عن اجتہاد ولم یکن علی وجہ فساد من احرار و عناد بل کان رجوعہم عنہ الی خیر میعاد بناء علی حسن ظن بہم. ترجمہ: بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جو کچھ صادرہوایعنی آپسی اختلافات وغیرہ مگر وہ کسی فساد یا عناد کے نتیجہ میں نہ تھا بلکہ اجتہاد کی بناء پر ایسا ہوا اور ان کااس سے رجوع بہتر انجام کی طرف تھا ان سے حسن ظن کا بھی یہی تقاضا ہے۔ (شرح الفقہ الاکبر لملاعلی قاری حنفی :۱۵۴) امام عبداللہ بن مبارک المتوفی :۱۸۱ھ) رحمہ اللہ تعالی کانظریہ نُعَیْمُ بنُ حَمَّادٍ:سَمِعْتُ ابْنَ المُبَارَکِ یَقُوْلُ:السَّیْفُ الَّذِی وَقَعَ بَیْنَ الصَّحَابَۃِ فِتْنَۃٌ، وَلاَ أَقُوْلُ لأَحَدٍ منہم ہو مفتون. ترجمہ :حضرت سیدنانعیم بن حماد رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدناعبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سناکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین چلنے والی تلوار فتنہ تھی مگر میں ان میں سے کسی کے بارے میں یہ نہیں کہتا کہ وہ فتنہ میں مبتلا ہوگئے تھے۔ (سیر أعلام النبلاء :شمس

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh