Fatwa #2168
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۴۲۔۱۴۳۔ ۱۴۴۔ احکامات شرع پر اعتراض کرنے والے کون؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,903
سوال (Question):
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۴۲۔۱۴۳۔ ۱۴۴۔ احکامات شرع پر اعتراض کرنے والے کون؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
احکامات شرع پر اعتراض کرنے والے کون؟
{سَیَقُوْلُ السُّفَہَآء ُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰیہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْہَا قُلْ لِّلہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآء ُ اِلٰی صِرٰطٍ مُّسْتَقِیْمٍ}(۱۴۲)وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآء َ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْہَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَ اِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیْنَ ہَدَی اللہُ وَمَا کَانَ اللہُ لِیُضِیْعَ اِیْمٰنَکُمْ اِنَّ اللہَ بِالنَّاسِ لَرَء ُوْفٌ رَّحِیْمٌ}(۱۴۳){قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآء ِ فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰیہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ وَمَا اللہُ بِغٰفِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ}(۱۴۴) ترجمہ کنزالایمان:اب کہیں گے بیوقوف لوگ کس نے پھیردیامسلمانوں کو ان کے اس قبلہ سے جس پر تھے تم فرمادو کہ پورب پچھم سب اللہ ہی کا ہے جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے۔ اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل تم لوگوں پر گواہ ہو اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ اور اے محبوبﷺ تم پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے اور بیشک یہ بھاری تھی مگر ان پر جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور اللہ کی شان نہیں کہ تمہارا ایمان اکارت کرے بیشک اللہ آدمیوں پر بہت مہربان رحم والا ہے ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تمہیں پھیردیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف اور اے مسلمانو تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو اور وہ جنہیں کتاب ملی ہے ضرور جانتے کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ ان کے کوتکوں سے بے خبر نہیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اب بے وقوف لوگ کہیں گے کہ کس نے اہل اسلام کو ان کے پہلے قبلہ سے پھیردیاہے جس پر وہ پہلے تھے ، اے حبیب کریمﷺ! آپ فرمائو!مشرق ومغرب سب اللہ تعالی کے ہیں جسے چاہے سیدھی راہ پرچلاتاہے۔ اوربات ایسی ہے کہ ہم نے آپ کو تمام امتوں سے افضل بنایااورتم لوگوں پرگواہ ہواوررسول اللہ ﷺتمھارے نگہبان اورتم پر گواہ ہیں ،اے حبیب کریمﷺ ! آپ جس قبلہ کی طر ف منہ کرکے نماز اداکرتے تھے وہ ہم نے اسی لئے مقررکیاتھاکہ دیکھیں کہ کون ہمارے رسول کریمﷺکی پیروی کرتاہے اورکون الٹے پائوں پھرجاتاہے اوربے شک یہ بات بہت زیادہ بھاری تھی مگران پر جنہیں اللہ تعالی نے ہدایت عطافرمائی ۔اوراللہ تعالی کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ تمھارے اعمال ضائع فرمادے ، بے شک اللہ تعالی اپنے بندوں پر بڑارحم فرمانے والاہے ۔ ہم دیکھ رہے ہیں باربارآپ ﷺکاآسمان کی طرف منہ کرناتوضرورہم آپ ﷺکو اس قبلہ کی طرف ہی پھیردیں گے جس میں آپ ﷺکی خوشی ہے اورآپ ﷺابھی اپنامنہ پھیردو مسجد حرام شریف کی طرف اوراے مسلمانو! تم جہاں کہیں بھی ہواپنامنہ کعبہ مشرفہ کی طرف کرواوروہ لوگ جنہیں کتاب ملی وہ ضرورجانتے ہیں کہ یہ ان کے رب تعالی کی طرف سے حق ہے اوراللہ تعالی ان کے اعمال سے باخبرہے۔ جب قبلہ کی تبدیلی کاحکم ہواتوباطل پرست اورکمزورعقیدے والے لوگوں نے آسمان سرپراٹھاکرطرح طرح کے اعتراضات شروع کردیئے ، اللہ تعالی نے انہیں جو اب دیاکہ حکم ، تصرف اورہر قسم کااختیاراللہ تعالی کاہے جو مالک الملک ہے ، جدھرمنہ کرواسی طرف اس کی رحمت تمھاری طرف متوجہ ہے ، بھلائی اس میں نہیں بلکہ اصل توایمان کی مضبوطی ہے جوہرحکم کے ماننے پرمجبورکردیتی ہے ، اس میں گویااہل ایمان کو ادب سکھایاگیاہے کہ ان کاکام صرف اورصرف حکم پرعمل کرنااورفرمان کی بجاآوری ہے ، جدھرانہیں منہ کرنے کاحکم دیاجائے یہ فوراً اسی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں ۔ اطاعت کے معنی ہی یہی ہیں کہ اللہ تعالی کے حکم کو پوراکیاجائے، اگراللہ تعالی ایک دن میں سومرتبہ ہر طرف منہ کرنے کاحکم دے توہم بغیرکسی حیل وحجت کے بخوشی گھوم جائیں گے ، ہم اس کے غلام ہیں اوراس کے حکم کے ماتحت ہیں ، اس کے فرمانبرداراوراس کے خادم ہیں ، جس سمت کااللہ تعالی حکم دے گاہم سعادت جان کراسی طرف منہ کرلیںگے۔ رسول اللہ ﷺکی امت پر یہ بھی اللہ تعالی کاکرم ہے کہ انہیں حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کے قبلہ کی طرف منہ کرنے کاحکم ہواجواسی اللہ تعالی و حدہ لاشریک کے نام پربناہے ،جسے تمام فضیلتیں حاصل ہیں ۔ اوران آیات مبارکہ میں اسی بات کاجواب دیاجارہاہے کہ اللہ تعالی کے علم ازلی میں تمھاراوہی قبلہ ہے جو حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کاقبلہ چلاآرہاتھا، جس قبلہ یعنی بیت المقدس کی طرف چندماہ آپ ﷺبھی نما زاداکرتے رہے ، اس کو ہم نے آپ ﷺکااصلی قبلہ نہیں بنایاتھابلکہ صرف اورصرف اس مصلحت کے لئے تاکہ یہ معلوم اورظاہرہوجائے کہ کون رسول اللہ ﷺکی پیروی کرتاہے اورکون رسول اللہ ﷺکی تصدیق کے بجائے انکارکرتاہے اورحق سے پھرجاتاہے ۔ یعنی بجائے کعبۃ اللہ شریف کے بیت المقدس کو قبلہ مقررکرنے میں مسلمانان قریش کاامتحان مقصودتھا، کون رسول اللہ ﷺکاسچافرمانبردارہے کہ جس قبلہ کی جانب بھی نماز اداکرنے کاحکم دیتے ہیں بلاتامل اسی جانب منہ کرکے نماز اداکرتاہے اورکون قومی حمیت کی رعایت کرتاہے ، اس لئے کہ قریش کعبۃ اللہ کی تعظیم پرفخرکرتے تھے اورقبلہ ابراہیمی کی مجاورت اورخدمت پر ناز کیاکرتے تھے اوربنی اسرائیل کے قبلہ یعنی بیت المقدس سے نفرت کرتے تھے ۔ اللہ تعالی نے اس قومی حمیت کے امتحان کے لئے بجائے خانہ کعبہ کے بیت المقدس کے استقبال کاحکم دیایعنی بیت المقدس کوقبلہ مقررکرنے میں مسلمانان قریش کاامتحان تھا، چونکہ یہ دونوں حکم انسانی نفوس پرشاق اورگراں تھے ، اسی لئے فرمایاکہ بے شک بیت المقدس کااستقبال قریش اورعرب پر بوجہ اولاد ابراہیم علیہ السلام کے ہونے کے سخت گراں تھامگرجن لوگوں کو اللہ تعالی نے ہدایت سے نوازاانہیں مکمل اتباع رسول ﷺنصیب فرمایااوراللہ تعالی کے احکامات پر انہیں بغیرچوں چراعمل کرنے کی توفیق عطافرمائی ۔ ان کے لئے اللہ تعالی کے احکامات پر چلنااورسرتسلیم خم کرناکوئی مشکل نہیں ہے وہ جدھربھی اللہ تعالی کاحکم ہوگاوہ اسی جانب متوجہ ہوجائیں گے ۔ اخص الخواص حضرات یعنی جماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے ذوق سلیم سے یہ خیال کرتے تھے کہ اگرچہ خانہ کعبہ بیت المقدس سے افضل ہے مگرچونکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺتمام انبیاء کرام علیہم السلام کے جامع ہیں ، آپ ﷺامام القبلتیں بھی ہیں اورآپ ﷺکی بعثت تمام اقوام عالم اورپوری کی پوری خلقت کے لئے ہے اسی لئے یہ لوگ اپنی فطرت اورنورِ فراست سے یہ بات سمجھتے تھے کہ یہ ضروری ہے کہ کسی بھی وقت اس استقبال کی نوبت آئے گی اورکچھ عرصہ گزرنے کے بعد اصل قبلہ یعنی کعبہ مشرفہ کی جانب متوجہ کیاجائے گاجو کہ افضل الرسل حضور تاجدارختم نبوت ﷺکے شان عالی کے عین مناسب ہے ۔ شان نزول عَنْ الْبَرَاء ِ قَالَ صَلَّیْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ شَہْرًا وَصُرِفَتْ الْقِبْلَۃُ إِلَی الْکَعْبَۃِ بَعْدَ دُخُولِہِ إِلَی الْمَدِینَۃِ بِشَہْرَیْنِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی إِلَی بَیْتِ الْمَقْدِسِ أَکْثَرَ تَقَلُّبَ وَجْہِہِ فِی السَّمَاء ِ وَعَلِمَ اللَّہُ مِنْ قَلْبِ نَبِیِّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ یَہْوَی الْکَعْبَۃَ فَصَعِدَ جِبْرِیلُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُتْبِعُہُ بَصَرَہُ وَہُوَ یَصْعَدُ بَیْنَ السَّمَاء ِ وَالْأَرْضِ یَنْظُرُ مَا یَأْتِیہِ بِہِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَاء ِ الْآیَۃَ فَأَتَانَا آتٍ فَقَالَ إِنَّ الْقِبْلَۃَ قَدْ صُرِفَتْ إِلَی الْکَعْبَۃِ وَقَدْ صَلَّیْنَا رَکْعَتَیْنِ إِلَی بَیْتِ الْمَقْدِسٍ وَنَحْنُ رُکُوعٌ فَتَحَوَّلْنَا فَبَنَیْنَا عَلَی مَا مَضَی مِنْ صَلَاتِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا جِبْرِیلُ کَیْفَ حَالُنَا فِی صَلَاتِنَا إِلَی بَیْتِ الْمَقْدِسِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا کَانَ اللَّہُ لِیُضِیعَ إِیمَانَکُمْ(البقرۃ:۱۴۳) ترجمہ :سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:ہم نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ اٹھارہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں ادا کیں ، پھر آپ ﷺکے مدینہ تشریف لانے کے دو ماہ بعد کعبہ کو قبلہ مقرر کر دیا گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺجب بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے تو اکثر آسمان کی طرف چہرہ مبارک اٹھاتے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے نبی کریمﷺ کے دل کی کیفیت معلوم تھی کہ وہ کعبہ شریف(کو قبلہ بنانے)کی خواہش رکھتے ہیں۔ جبریل علیہ السلام (آسمان کی طرف)بلند ہوئے تو جب وہ آسمان اور زمین کے درمیان بلند ہوتے جا رہے تھے تو رسول اللہ ﷺیہ معلوم کرنے کی خواہش رکھتے تھے کہ جبریل علیہ السلام کیا وحی لے کر نازل ہوں گے۔ (آخر کار)اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فر دی:(قَدْ نَرٰی تَـقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآء ِ )ہم آپﷺ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھتے ہیں۔۔۔۔ ہمارے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا:قبلہ(بیت المقدس سے)کعبہ کی طرف منتقل ہوگیا ہے۔ ہم نے دو رکعتیں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے ادا کی تھیں(اور ابھی نماز مکمل نہیں ہوئی تھی)ہم رکوع میں تھے(جب یہ خبر ملی)ہم نے (فوراً)رخ پھیر لیا اور جو نماز پڑھی جا چکی تھی، اس پر باقی نماز کی بنا کر لی تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے جبریل!ہماری بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی ہوئی نمازوں کا کیا حال ہوگا؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی:(و کان اللہ لیضیع ایمانکم) اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان(تمھاری نمازیں)ضائع نہیں کریگا۔ (سنن ابن ماجہ:ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید (ا:۳۲۲)امت وسط کامطلب ؟
عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُدْعَی نُوحٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیَقُولُ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ یَا رَبِّ فَیَقُولُ ہَلْ بَلَّغْتَ فَیَقُولُ نَعَمْ فَیُقَالُ لِأُمَّتِہِ ہَلْ بَلَّغَکُمْ فَیَقُولُونَ مَا أَتَانَا مِنْ نَذِیرٍ فَیَقُولُ مَنْ یَشْہَدُ لَکَ فَیَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُہُ فَتَشْہَدُونَ أَنَّہُ قَدْ بَلَّغَ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَہِیدًا فَذَلِکَ قَوْلُہُ جَلَّ ذِکْرُہُ وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطًا لِتَکُونُوا شُہَدَاء َ عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَہِیدًا وَالْوَسَطُ الْعَدْلُ ترجمہ :حضرت سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:قیامت کے دن حضرت سیدنانوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا تو وہ عرض کریں گے:پروردگار!میں حاضر ہوں۔ آپ کا جو ارشاد ہو میں اسے بجا لانے کے لیے تیار ہوں۔ پروردگار فرمائے گا:کیا تم نے لوگوں کو ہمارے احکام بتا دیے تھے؟ وہ کہیں گے:ہاں۔پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا:کیا انہوں نے تمہیں میرا حکم پہنچایا تھا؟ وہ کہیں گے:ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا آیا ہی نہیں۔ اللہ تعالٰی حضرت سیدنا نوح علیہ السلام سے فرمائے گا: تمہارا کوئی گواہ ہے؟ وہ عرض کریں گے:حضرت سیدناتاجدارختم نبوت ْﷺاور ان کی امت گواہ ہے۔ پھر اس امت کے لوگ گواہی دیں گے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ کا پیغام پہنچایا تھا۔ اور حضورتاجدارختم نبوت ﷺتم پر گواہ بنیں گے۔اللہ تعالٰی کے اس ارشاد کا یہی مطلب ہے:اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تمہارے لیے گواہی دے۔آیت میں لفظ وسط کے معنی عادل اور منصف کے ہیں۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۶:۲۱)انتم شہداء اللہ
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ مُرَّ بِجَنَازَۃٍ فَأُثْنِیَ عَلَیْہَا خَیْرًا فَقَالَ نَبِیُّ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَمُرَّ بِجَنَازَۃٍ فَأُثْنِیَ عَلَیْہَا شَرًّا فَقَالَ نَبِیُّ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ قَالَ عُمَرُ فِدًی لَکَ أَبِی وَأُمِّی مُرَّ بِجَنَازَۃٍ فَأُثْنِیَ عَلَیْہَا خَیْرٌ فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَمُرَّ بِجَنَازَۃٍ فَأُثْنِیَ عَلَیْہَا شَرٌّ فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِ خَیْرًا وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ وَمَنْ أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِ شَرًّا وَجَبَتْ لَہُ النَّارُ أَنْتُمْ شُہَدَاء ُ اللَّہِ فِی الْأَرْضِ أَنْتُمْ شُہَدَاء ُ اللَّہِ فِی الْأَرْضِ أَنْتُمْ شُہَدَاء ُ اللَّہِ فِی الْأَرْضِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبد العزیز بن صہیب رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،انھوں نے کہا:ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی صفت بیان کی گئی اس پر حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فر مایا:واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی ،اس کے بعد ایک اور جنازہ گزرا تو اس کی بری صفت بیان کی گئی تو حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرما یا :واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی اس پرحضرت سیدناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: آپﷺ پر میرے ماں باپ فدا ہوں!ایک جنازہ گزرا اور اس کی اچھی صفت بیان کی گئی تو آپ ﷺنے فر مایا :واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی ۔ایک اور جنازہ گزرا اور اس کی بری صفت بیان کی گئی تو آپ ﷺنے فرما یا واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی(اس کا مطلب کیا ہے؟ )تو حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرما یا :جس کی تم لو گوں نے اچھی صفت بیان کی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے بری صفت بیان کی اس کے لیے آگ واجب ہو گئی تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۲:۶۶۵)تحویل قبلہ کے وقت لوگوں میں اختلاف کاواقع ہونا
وَأخرج ابْن جریر عَن السّدیّ قَالَ: لما وَجہ النَّبِی صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم قبل الْمَسْجِد الْحَرَام اخْتلف النَّاس فِیہَا فَکَانُوا أصنافاً فَقَالَ المُنَافِقُونَ: مَا بالہم کَانُوا علی قبْلَۃ زَمَانا ثمَّ ترکوہا وتوجہوا غَیرہَا وَقَالَ الْمُسلمُونَ: لَیْت شعرنَا عَن إِخْوَاننَا الَّذین مَاتُوا وہم یصلونَ قبل بَیت الْمُقَدّس ہَل یقبل اللہ منا وَمِنْہُم أم لَا وَقَالَ الْیَہُود: إِن مُحَمَّدًا اشتاق إِلَی بلد أَبِیہ ومولدہ وَلَو ثَبت علی قبلتنا لَکنا نرجو أَن نَکُون یکون ہُوَ صاحبنا الَّذِی نَنْتَظِر وَقَالَ الْمُشْرکُونَ من أہل مَکَّۃ: تحیر علی مُحَمَّد دینہ فَتوجہ بقبلتہ إِلَیْکُم وَعلم أَنکُمْ اہدی مِنْہُ ویوشک أَن یدْخل فِی دینکُمْ فَأنْزل اللہ فِی الْمُنَافِقین (سَیَقُولُ السُّفَہَاء من النَّاس) إِلَی قَوْلہ (إِلَّا علی الَّذین ہدی اللہ)وَأنزل فِی الآخرین الْآیَات بعْدہَا۔ ترجمہ :امام السدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے کعبہ مشرفہ کی طرف منہ کیاتو لوگوں میں اختلاف پیداہوگیا، لوگ مختلف نظریات رکھتے تھے ، منافقین نے کہاکہ ان لوگوں کو کیاہے کہ ایک وقت تک ایک قبلہ پر رہتے ہیں اورپھراسے تر ک کرکے دوسرے قبلہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں،اہل اسلام نے کہاکہ کاش کہ ہمیں یہ بات معلوم ہوجاتی کہ ہمارے وہ بھائی جو بیت المقدس کی جانب منہ کرکے نمازیں پڑھتے رہے ہیں ، کیااللہ تعالی نے ان کی نمازیں قبول فرمائی ہیں یانہیں ؟ یہودیوں نے کہا: محمدﷺاپنے والد ماجد حضرت سیدناعبداللہ کے شہر اوراپنے مولد سے محبت کرنے لگے ہیں ۔ اگروہ ہمارے قبلہ پر ثابت قدم رہتے توہم بھی امیدکرسکتے تھے کہ وہ ہمارے ساتھی ہیں ، جن کے ہم منتظرتھے ، مکہ کے مشرکین نے کہاکہ محمدﷺپر اپنادین خلط ملط ہوگیاہے اوراس نے تمھارے قبلہ کی طرف توجہ کی ہے ، اسے معلوم ہوگیاہے کہ تم ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو ، ہوسکتاہے کہ وہ تمھارے دین میں داخل ہوجائے ، اللہ تعالی نے منافقین کے متعلق {سَیَقُولُ السُّفَہَاء من النَّاس}سے لیکر{إِلَّا علی الَّذین ہدی اللہ}نازل فرمائیں۔ (جامع البیان فی تأویل القرآن:محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۳:۱۴۰)تحویل قبلہ کے وقت حکم الہی پراعتراض کرنے والے کافرہوگئے
یَتَّبِعُ الرَّسُولَ یَعْنِی فِیمَا أُمِرَ بِہِ مِنَ اسْتِقْبَالِ الْکَعْبَۃِ{مِمَّنْ یَنْقَلِبُ عَلی عَقِبَیْہِ }یَعْنِی مِمَّنْ یَرْتَدُّ عَنْ دِینِہِ، لِأَنَّ الْقِبْلَۃَ لَمَّا حُوِّلَتِ ارتد من المسلمین قوم ونافق قوم ولہذا قَالَ:وَإِنْ کانَتْ لَکَبِیرَۃًأَیْ تَحْوِیلُہَا۔ ترجمہ :یعنی قریش کعبہ سے محبت کرتے تھے ، پس اللہ تعالی نے انہیں غیرمالوف سے آزمایاتاکہ ظاہرہوجائے جو حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی اتباع کرتاہے اس سے جو اتباع نہیں کرتا۔ یعنی جو اللہ تعالی کے دین سے مرتدہوتاہے کیونکہ قبلہ جب تبدیل ہواتواہل اسلام میں سے کچھ مرتدہوگئے تھے اورایک قوم منافق ہوئی تھی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی ۲:۱۴۸) صرف اتناکہنے پر کافرہوگئے وَأخرج ابْن جریر عَن ابْن جریج قَالَ: بَلغنِی أَن أُنَاسًا من الَّذین أَسْلمُوا رجعُوا فَقَالُوا مرّۃ ہَہُنَا وَمرَّۃ ہَہُنَا ترجمہ:امام ابن جریر رحمہ اللہ تعالی نے حضرت سیدناجریج رضی اللہ عنہ سے نقل کیاہے کہ مجھے یہ خبرپہنچی ہے کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ مرتدہوگئے تھے کیونکہ انہوںنے یہ کہاتھاکہ کبھی ادھراورکبھی ادھر۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (ا:۳۵۲)وہ اعتراض کرنے والے کون تھے؟
الزَّجَّاجُ:کُفَّارُ قُرَیْشٍ لَمَّا أَنْکَرُوا تَحْوِیلَ الْقِبْلَۃِ قَالُوا:قَدِ اشْتَاقَ مُحَمَّدٌ إِلَی مَوْلِدِہِ وَعَنْ قَرِیبٍ یَرْجِعُ إِلَی دِینِکُم۔ ترجمہ :حضرت الزجاج رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جنہوںنے اعتراض کیاوہ کفارقریش تھے اورانہوں نے تحویل قبلہ پر یہ کہاتھاکہ رسول اللہ ﷺنے کعبہ مشرفہ کی جانب منہ اس لئے کیاہے کہ ان کامولد شریف ادھرہے اوریہ عنقریب تمھارے دین کی جانب لوٹ آئیں گے ۔(نعوذ باللہ ) (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی ۲:۱۴۸)کعبہ کے قبلہ بنانے میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی عظمتوں کااظہار
قَالَ بَعْضُ الْمَشَایِخِ: إِنَّ الْیَہُودَ اسْتَقْبَلُوا الْقِبْلَۃَ لِأَنَّ النِّدَاء َ لِمُوسَی عَلَیْہِ السَّلَامُ جَاء َ مِنْہُ، وَذَلِکَ قَوْلُہُ: وَما کُنْتَ بِجانِبِ الْغَرْبِیِّ (الْقَصَصِ:۴۴)الْآیَۃَ، وَالنَّصَارَی اسْتَقْبَلُوا الْمَغْرِبَ، لِأَنَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ إِنَّمَا ذَہَبَ إِلَی مَرْیَمَ عَلَیْہَا السَّلَامُ مِنْ جَانِبِ الْمَشْرِقِ، لِقَوْلِہِ تَعَالَی:وَاذْکُرْ فِی الْکِتابِ مَرْیَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَہْلِہا مَکاناً شَرْقِیًّا(مَرْیَمَ: ۱۶)وَالْمُؤْمِنُونَ اسْتَقْبَلُوا الْکَعْبَۃَ لِأَنَّہَا قِبْلَۃُ خَلِیلِ اللَّہِ، وَمَوْلِدُ حَبِیبِ اللَّہِ، وَہِیَ مَوْضِعُ حَرَمِ اللَّہِ، وَکَانَ بَعْضُہُمْ یَقُولُ:اسْتَقْبَلَتِ النَّصَارَی مَطْلَعَ الْأَنْوَارِ، وَقَدِ اسْتَقْبَلْنَا مَطْلَعَ سَیِّدِ الْأَنْوَارِ، وَہُوَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَمِنْ نُورِہِ خُلِقَتِ الْأَنْوَارُ جَمِیعًاوَسَادِسُہَا:قَالُوا:الْکَعْبَۃُ سُرَّۃُ الْأَرْضِ وَوَسَطُہَا، فَأَمَرَ اللَّہُ تَعَالَی جَمِیعَ خَلْقِہِ بِالتَّوَجُّہِ إِلَی وَسَطِ الْأَرْضِ فِی صَلَاتِہِمْ، وَہُوَ إِشَارَۃٌ إِلَی أَنَّہُ یَجِبُ الْعَدْلُ فِی کُلِّ شَیْء ٍ، وَلِأَجْلِہِ جَعَلَ وَسَطَ الْأَرْضِ قِبْلَۃً لِلْخَلْقِ وَسَابِعُہَا: أَنَّہُ تَعَالَی أَظْہَرَ حُبَّہُ لِمُحَمَّدٍ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ بِوَاسِطَۃِ أَمْرِہِ بِاسْتِقْبَالِ الْکَعْبَۃِ، وَذَلِکَ لِأَنَّہُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ کَانَ یَتَمَنَّی ذَلِکَ مُدَّۃً لِأَجْلِ مُخَالَفَۃِ الْیَہُودِ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی:قَدْ نَری تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّماء ِ (الْبَقَرَۃ:۱۴۴)الْآیَۃَ، وَفِی الشَّاہِدِ إِذَا وُصِفَ وَاحِدٌ مِنَ النَّاسِ بِمَحَبَّۃِ آخَرَ قَالُوا: فُلَانٌ یُحَوِّلُ الْقِبْلَۃَ لِأَجْلِ فُلَانٍ عَلَی جِہَۃِ التَّمْثِیلِ، فَاللَّہُ تَعَالَی قَدْ حَوَّلَ الْقِبْلَۃَ لِأَجْلِ حَبِیبِہِ مُحَمَّدٍ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلَی جِہَۃِ التَّحْقِیقِ۔ ترجمہ :بعض مشائخ کرام رحمہم اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہود قبلہ کی طرف منہ اس لئے کرتے کہ وہاں سے حضرت سیدناموسی علیہ السلام کو آوا ز آئی تھی اور{وَما کُنْتَ بِجانِبِ الْغَرْبِیِّ }الْقَصَصِ: ۴۴)اورآپ طورپر مغرب کی جانب نہ تھے ۔ نصاری مشرق کی طرف منہ کیاکرتے تھے کہ حضرت سیدناجبریل امین علیہ السلام حضرت سیدتنامریم علیہاالسلام کے پاس مشرق کی جانب سے گئے تھے،{وَاذْکُرْ فِی الْکِتابِ مَرْیَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَہْلِہا مَکاناً شَرْقِیًّا}(مَرْیَمَ: ۱۶)اورکتاب میں مریم کو یادکرو،جب اپنے گھروالوں سے مشرق کی جانب الگ ہوگئیں۔ اہل ایمان کعبۃ اللہ کی جانب منہ کرتے ہیں ،کیونکہ حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کاقبلہ ہے اوروہ {وَمَوْلِدُ حَبِیبِ اللَّہِ}اوریہی اللہ تعالی کے حبیب کریم ﷺکی ولادت گاہ ہے اوراللہ تعالی کاحرم ہے ۔ بعض مشائخ کرام نے یہ کہاکہ نصاری نے انوارکے جائے طلوع کو قبلہ بنایااورہم نے سیدالانوارﷺکی جائے طلوع کو جائے قبلہ بنایا اوروہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی ذات گرامی ہے اورآپ ﷺکے نور مبارک سے تمام انوارکی تخلیق ہوئی ۔ کچھ مشائخ نے یہ بھی کہاکہ کعبہ زمین کی ناف اوراس کاوسط ہے ، اللہ تعالی نے تمام مخلوق کو حالت نمازمیں وسط زمین کی طرف متوجہ رہنے کاحکم دیا، اس میں اشارہ ہے کہ ہر چیز میں عدل لازم ہے ، اس لئے وسط زمین کو تمام مخلوق کاقبلہ بنایا۔ اللہ تعالی نے کعبہ مشرفہ کو قبلہ بناکرحضور تاجدارختم نبوت ﷺکے ساتھ اپنی محبت کااظہارفرمایاکیونکہ مخالفت یہود کی وجہ سے کافی مدت سے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی تمنابھی تھی تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی {قَدْ نَری تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّماء ِ }(الْبَقَرَۃ:۱۴۴)اے حبیب کریم ﷺ! ہم آپ کا آسمان کی طرف باربارچہرہ اٹھانادیکھ رہے ہیں ۔ مشاہدہ یہ ہے کہ جب کسی کی دوسرے سے محبت بیان کی جاتی ہے توکہتے ہیں کہ فلان یحول القبلۃ لاجل الفلان ۔ فلاں نے فلاں کے لئے قبلہ بدل دیا، یہ بطورتمثیل اورمجازاً کہتے ہیں ۔ { فَاللَّہُ تَعَالَی قَدْ حَوَّلَ الْقِبْلَۃَ لِأَجْلِ حَبِیبِہِ مُحَمَّدٍ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلَی جِہَۃِ التَّحْقِیق}مگراللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم ﷺکے لئے عملاً قبلہ تبدیل فرمادیا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۴:۸۲)قبلہ کی تعظیم رسول اللہ ﷺکی تعظیم ہے
أَنَّ الْکَعْبَۃَ مَنْشَأُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَتَعْظِیمُ الْکَعْبَۃِ یَقْتَضِی تَعْظِیمَ مُحَمَّدٍ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ، وَذَلِکَ أَمْرٌ مَطْلُوبٌ لِأَنَّہُ مَتَی رَسَخَ فِی قَلْبِہِمْ تَعْظِیمُہُ، کَانَ قَبُولُہُمْ لِأَوَامِرِہِ وَنَوَاہِیہِ فِی الدِّینِ وَالشَّرِیعَۃِ أَسْرَعَ وَأَسْہَلَ، وَالْمُفْضِی إِلَی الْمَطْلُوبِ مَطْلُوبٌ، فَکَانَ تَحْوِیلُ الْقِبْلَۃِ مُنَاسِبًا. ترجمہ:کعبہ مشرفہ رسول اللہ ﷺکاقیام گاہ تھااوروہیں پر رسول ا للہ ﷺکی زندگی مبارکہ کے اتنے سال گزرے تھے ، توکعبہ کی تعظیم کا تقاضاکرنارسول اللہ ﷺکی تعظیم کاتقاضاہے ، اوریہی امرمطلوب ہے کیونکہ جب ان کے دلوںمیں حضور تاجدارختم نبوت ﷺکی تعظیم ہوگی تودین وشریعت میں آپ ﷺکے اوامرونواہی دونوں کو اس قدرجلدی اورآسانی کے ساتھ قبول کریں گے ، مطلوب کاذریعہ حصول بھی مطلوب ہی ہوتاہے ۔ لھذا کعبہ مشرفہ کوقبلہ بناناہی مناسب تھا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۴:۸۲)جو شخص حکم شرع پر اعتراض کرتاہے وہ پاگل ہوجاتاہے
قال بعض ارباب الحقیقۃ سمی الطاعنین من الیہود والمشرکین والمنافقین سفہاء لاحتجاب عقولہم عن حقیۃ دین الإسلام ولو أدرکوا الحق مطلقا لاخلصوہ کما أخلص المؤمنون فلم تبق محاجتہم معہم ولو کانت عقولہم رزینۃ لاستدلت بالآیات وأنکروا التحویل لانہم کانوا معتدین بالجہۃ فلم یعرفوا التوحید الوافی بالجہات کلہا۔ ترجمہ :بعض ارباب حقیقت فرماتے ہیں کہ یہودونصاری اورمنافقین کو بے وقوف اس لئے کہاگیاکہ دین اسلام کی حقیقت نہ سمجھنے سے ان کے عقول پر پردے آگئے ہیں ، اگرانہیں حق سمجھنے کاکچھ حصہ نصیب ہوتاتواہل ایمان کی طرح مخلص ہوتے ، اگران کی عقلیں صحیح وسالم ہوتیں تووہ آیات کریمہ سے صحیح استدلال کرتے اورتحویل قبلہ کاانکاربھی اسی لئے کربیٹھے کہ وہ خود جہت کے پابندتھے ۔ انہیں توحید الہی کی معرفت نہ تھی کہ تمام جہتیں اسی ذات کے لئے ہیں ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (ا:۲۴۶)معترضین نے اعتراض کیوں کیا؟
واعلم ان جماعۃ قد ارتدوا عن الإسلام عند تحویل القبلۃ لتعلقہم بما سوی اللہ تعالی وعدم فنائہم فی اللہ ورضاہم بما یجئی علیہم من القضاء فاخذتہم الکدرۃ کالسیل واما الذین سعدوا سعادۃ ازلیۃ فلم یتعلقوا فی الحقیقۃ بیت المقدس ولا بالکعبۃ بل الرب الخالق لہما ولغیرہما وفنوا عن إرادتہم فجاء ت ارادۃ اللہ لہم کالشہد المصفی فأخذہم السرور والصفا۔ ترجمہ:امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ بات توجان لے کہ ایک جماعت تحویل قبلہ کے وقت مرتدہوگئی ، اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کاتعلق ماسوی اللہ سے تھا اوروہ فنافی اللہ نہیں تھے اوراللہ تعالی کے فیصلے پر راضی نہ ہوئے تھے جو ان کے حق میں ہوا، انہیں میلان الی الباطل نے گھیرلیااورگمراہی کے سیلاب میں بہہ گئے ، وہ لوگ جو ازل سے سعادت مندتھے ، نہ وہ بیت المقدس کے خوگرتھے اورنہ ہی انہیں کعبہ سے غرض تھی،بلکہ وہ تواللہ تعالی کے ہی عاشق تھے،اسی لئے اللہ تعالی نے انہیں ارتدادسے محفوظ رکھااورارادہ الہی کے شہد سے نوازے گئے جیسے انہیں دائمی سروروصفانصیب ہوا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (ا:۲۴۶)فہم قرآن سے کون محروم کردیاجاتاہے ؟
{سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اِنْ یَّرَوْا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّایُؤْمِنُوْا بِہَا وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْہُ سَبِیْلًا وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْہُ سَبِیْلًا ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَکَانُوْا عَنْہَا غٰفِلِیْنَ }{وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآء ِ الْاٰخِرَۃِ حَبِطَتْ اَعْمٰلُہُمْ ہَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } ترجمہ کنزالایمان:اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیںاور اگر سب نشانیاں دیکھیں ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کی راہ دیکھیں اس میں چلنا پسند نہ کریںاور گمراہی کا راستہ نظر پڑے تو اس میں چلنے کو موجود ہوجائیں یہ اس لئے کہ انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان سے بے خبر بنے اور جنہوںنے ہماری آیتیں اور آخرت کے دربار کو جھٹلایا ان کا سب کیا دھرا اکارت گیا انہیں کیا بدلہ ملے گا مگر وہی جو کرتے تھے( سورۃ الاعراف :۱۴۶،۱۴۷) سید نعیم الدین مراد آبادی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ ذوالنون قُدِّسَ سِرُّہ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی حکمتِ قرآن سے اہلِ باطل کے قُلوب کا اکرام نہیں فرماتا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا مراد یہ ہے کہ جو لوگ میرے بندوں پر تَجبُّر کرتے ہیں اور میرے اولیاء سے لڑتے ہیں میں انہیں اپنی آیتوں کے قبول اور تصدیق سے پھیر دوں گا تاکہ وہ مجھ پر ایمان نہ لائیں یہ ان کے عناد کی سزا ہے کہ انہیں ہدایت سے محروم کیا گیا ۔قرآن کے سامنے اکڑنے والے وحی کی برکات سے محروم
حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ الْحَسَنِ الصَّفَّارُ قَالَ:قَالَ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ فِی قَوْلِ اللَّہِ: سَأَصْرِفُ عَنْ آیَاتِی الَّذِینَ یَتَکَبَّرُونَ فِی الْأَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ یَقُولُ: أَنْزِعُ عَنْہُمْ فَہْمَ الْقُرْآنِ فَأَصْرِفُہُمْ عَنْ آیَاتِی. ترجمہ :حضرت سیدناسفیان بن عیینہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے اس فرمان شریف کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ’’میں عن قریب ان کو اپنی آیتوں سے پھیردوں گاجو زمین میں ناحق تکبرکرتے ہیں ‘‘میں ان سے قرآن کریم کی سمجھ چھین لوں گااورپھران کو اپنی آیتوں سے پھیردوں گا۔ (تفسیر القرآن العظیم :أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس بن المنذر التمیمی، الحنظلی، الرازی ابن أبی حاتم (۵:۱۵۶۷)امام فریابی رحمہ اللہ تعالی کاقول
ثنا الْوَلِیدُ بْنُ عُتْبَۃَ قَالَ:سَمِعْتُ الْفِرْیَابِیَّ یَقُولُ فِی قَوْلِ اللَّہِ:سَأَصْرِفُ عَنْ آیَاتِی الَّذِینَ یَتَکَبَّرُونَ فِی الأَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ قَالَ: أَمْنَعُ قُلُوبَہُمْ مِنَ التَّفْکِیرِ فِی أَمْرِی. ترجمہ :حضرت سیدناولیدبن عتبہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ میں نے حضرت سیدنافریابی رحمہ اللہ تعالی سے اللہ تعالی کے اس فرمان شریف کے بارے میں سناکہ ’’عن قریب میں ان کو اپنی آیات سے پھیردوں گاجو زمین میں ناحق تکبرکرتے ہیں ‘‘اس کامعنی یہ ہے کہ میں ان کے دل پھیردوں گاکہ یہ میرے امر میں غورہی نہ کریں۔ (تفسیر القرآن العظیم :أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس بن المنذر التمیمی، الحنظلی، الرازی ابن أبی حاتم (۵:۱۵۶۷)رب تعالی ایسے شخص کو ایمان کی توفیق سے محروم کردیتاہے
(سَأَصْرِفُ عَنْ آیَاتِیَ)أی:سأصرفہم عن قبولہا وتصدیقہا؛ إذ لم یستقبلوہا بالتعظیم لہا، بل استہزء وا بہا واستخفوا بہا علی علم منہم أنہا آیات من اللہ وحجۃ۔ ترجمہ :امام اہل سنت ابومنصورالماتریدی المتوفی : ۳۳۳ھ) رحمہ اللہ تعالی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ عنقریب ہم ان کو قرآن کے قبول کرنے سے روک دیں گے اوراس کی تصدیق بھی نہیں کرنے دیں گے کیونکہ جس نے اس کی تعظیم نہیں کی بلکہ مذاق اڑایااوراس قرآن کریم کے احکامات کی توہین کی باوجو د اس کے اس کو علم تھاکہ یہ اللہ تعالی کی منزل ہے ۔ (تفسیر الماتریدی:محمد بن محمد بن محمود، أبو منصور الماتریدی (۵:۳۸)حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکافرمان شریف
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:یُرِیدُ الَّذِینَ یَتَجَبَّرُونَ عَلَی عِبَادِی وَیُحَارِبُونَ أَوْلِیَائِی حَتَّی لَا یُؤْمِنُوا بِی، یَعْنِی سَأَصْرِفُہُمْ عَنْ قَبُولِ آیَاتِی وَالتَّصْدِیقِ بِہَا عُوقِبُوا بِحِرْمَانِ الْہِدَایَۃِ لِعِنَادِہِمْ لِلْحَقِّ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ میں وہ لوگ مراد ہیں جو اللہ تعالی کے بندوں پر جبرکرتے ہیں اوراللہ تعالی کے اولیاء کرام کے ساتھ جنگ کرتے ہیں ، وہ لوگ اللہ تعالی پر ایمان نہیں لائیں گے یعنی اللہ تعالی فرماتاہے کہ میں ان لوگوں کو اپنی آیت پر ایمان نہیں لانے دوں گاان کی حق کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے ان کو قبول ِ حق سے محروم کردوں گا۔ (تفسیر البغوی :محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (۲:۲۳۴)وہ رسول اللہ ﷺکی پیروی نہیں کرتے
وَالْآیَاتُ عَلَی ہَذَا الْمُعْجِزَاتُ أَوِ الْکُتُبُ الْمُنَزَّلَۃُوَقِیلَ:خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَیْ أَصْرِفُہُمْ عَنْ الِاعْتِبَارِ بِہَا(یَتَکَبَّرُونَ) یَرَوْنَ أَنَّہُمْ أَفْضَلُ الْخَلْقِ وَہَذَا ظَنٌّ بَاطِلٌ، فَلِہَذَا قَالَ:(بِغَیْرِ الْحَقِّ) فَلَا یَتَّبِعُونَ نَبِیًّا وَلَا یَصْغُونَ إِلَیْہِ لِتَکَبُّرِہِمْ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ القرطبی المتوفی: ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں آیات سے مراد یاتورسول اللہ ﷺکے معجزات ہیں یاپھرآسمانی کتب ہیں اوریہ بھی قول ہے کہ اس سے مراد آسمانوں اورزمینوں کی تخلیق ہے توپھراس کامعنی یہ ہوگاکہ ہم ان کو زمین وآسمان میں غورنہیں کرنے دیتے کہ اس میں غورکرکے عبرت پکڑلیں ، وہ تکبرکرتے ہیں یعنی اپنے آپ کو بڑاسمجھتے ہیں اورساری مخلوق میں افضل جانتے ہیں اوریہی گمان ان کاباطل ہے ، اسی وجہ سے اللہ تعالی نے بغیرالحق کالفظ ارشادفرمایا۔ وہ اپنے تکبرکی وجہ سے رسول اللہ ﷺکی پیروی نہیں کرتے (تفسیر القرطبی: أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۷:۲۸۳)جو استاد کے سامنے اکڑے وہ بھی علم سے محروم رہتاہے
وَقَالَ بَعْضُ السَّلَفِ:لَا یَنَالُ الْعِلْمَ حَیِیٌّ وَلَا مُسْتَکْبِرٌ.وَقَالَ آخَرُ:مَنْ لَمْ یَصْبِرْ عَلَی ذُلِّ التَّعَلُّمِ سَاعَۃً، بَقِیَ فِی ذُلِّ الْجَہْلِ أَبَدًا. ترجمہ :حافظ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہمارے اسلاف فرمایاکرتے تھے کہ جو شخص بہت زیادہ شرمیلاہووہ اورجو شخص متکبرہویہ دونوں علم سے محروم رہتے ہیں اوردوسرے بزرگ یہ فرمایاکرتے تھے کہ جو شخص حصول علم میں ذلت برداشت نہیں کرسکتاوہ پھرساری زندگی جہالت کی ذلت برداشت کرتاہے ۔ (تفسیر القرآن العظیم: أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۳:۴۷۴)وحی پر عقل کو ترجیح دینے والوں کاردبلیغ
یہاں حضرت سیدنامجددالف ثانی رضی اللہ عنہ کاایک مکتوب شریف نقل کرتے ہیں اوراس کے افادے کے پیش نظرمکمل نقل کررہے ہیں جس میں آپ رضی اللہ عنہ نے ان فلاسفرکی خوب تردیدکی ہے جو خو دکوعقل کل گردانتے ہیں اوراحکامات شرع کو بھی کچھ نہیں سمجھتے ۔ بخواجہ ابراہیم قبادیانی صدوریافتہ درآنکہ او تعالی بتوسط انبیاء علیہم السلام خبرداداست از ذات وصفات خود واعمال مرضیہ ونامرضیہ عبادکہ عقل رادران مدخل نیست ۔ الحمدللہ الذی انعم علیناوھداناالی الاسلام وجعلنامن امۃ محمدﷺ انبیاء رحمتہااند مرعالمیان ِ راعلیہم الصلوۃ والتسلیمات کہ حضرت حق سبحانہ وتعالی بتوسط بعثت ایں بزرگواران ِ علیہم الصلوۃ والتسلیمات والتحیات از ذات وصفات خود بمع ناقص عقلان وقاصرادراکان خبرداداست دربانزادازہ فہم کوتہ مابرکمالات ذاتیہ وصفاتیہ خود اطلاع بخشید ومراضی خود رااز نامرارضی خویش جداساختہ ومنافع دنیوی واخروی مارااز مضار ماممتاز فرمود ۔ اگرتوسل وجود شریف نبودے عقول بشری دراثبات صانع تعالی عاجز بودے وادراک کمالات او سبحانہ تعالی ناقص وقاصر آمدے ۔ قدماء فلاسفہ کو خود رااکابرارباب ِ عقول میگردندمکنرصانع بودندواشیار انقصانِ عقل بدہرمنسوب می ساختندومجادلہ نمرود بادشاہ روئے زمین بودہ است بحضرت خلیل علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلام دراثبات خالق سموات وارض مشہوراست ودرقرآن مجید ہم مذکوروفرعون بے دولت مے گفت ماعلمت لکم من الہ غیری ونیز فرعون بحضرت موسی علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلام خطاب کردہ گفتہ است لئن اتخذت الہاً غیری لاجعلنک من المسجونین ونیز آن بے دولت بہامان گفتہ است یاھان ابن لی صرحاً لعلی ابلغ الاسباب اسباب السموات فاطلع الی الہ موسی وانی لاظنہ کاذباً بالجملہ عقل دراثبات ِ این دولت عظمی قاصر است وبدون ہدایت این بزرگواران باین دولت سراغیرمہتدوچون بتواترانبیاء علیہم السلام دعوت ایشان بخداکہ خالق زمان وزمین است جل شانہ شہرت یادت وکلمہ این بزرگواران مرتفع گشت سفہائے ہر وقت کہ درثبوت صانع ترددداشتندبرقبح خومطلع شدہ بے اختیاربوجودصانع قائل گشتندواشیاراباوتعالی مستندساختنداین نوریست کہ از انوار انبیاء مقتبس گشتہ است واین دولتے است کہ از خوان ِ انبیاء بروئے کار آمدہ علیہم الصلوۃ والتسلیمات الی یوم التناد بل الی ابدالآباد وہمچنین سائرسمعیات کہ بہ تبلیغ انبیاء علیہم الصلوۃ والتسلیمات بمارسیدہ است از ووجود صفات ِ کمال واجبی جل سلطانہ واز بعثتِ انبیاء واز عصمت ملائکہ علیہم الصلوات والتسلیمات والتحیات والبرکات واز حشرونشر وازوجود بہشت ودوزخ وتنعیم وتعذیب دائمی واینہاوامثال اینہاکہ شریعت بآن ناطق است عقل وادراک شان قاصراست وبے سماع ازین بزرگواران دراثبات آنہاناقص ِ وغیرمستقل وچنانچہ طورعقل وروائے طور حس است کہ آنچہ بحس مدرک نشودعقل ادراک آن مے نمایدہمچنین طورنبوت ورائے طور عقل است آنچہ بعقل مدرک نشود بتوسل نبوت بدرک می درآیدہر کہ ورائے طورعقل طریقے از برائے اثبات معرفت اثبات نہ مینمایدفی الحقیقت منکرطورِ نبوت است ومصادم بداہت است پس از وجود انبیاء چارہ نبودبشکرِ منعم جل سلطانہ کہ بہ عقل واجب است دلالت نمایندوتعظیم مولانعم جل وعلی کہ ب علم ومعل تعلق دارد از قبل او سبحانہ معلوم ساختہ ظاہرسازندچہ تعظیم او تعالی کہ از نزداو سبحانہ مستفاد نشود شایانِ شکراونیست تعالی زیراکہ قوت بشری درادراک آن عاجز است بلکہ بساست کہ غیرتعظیم اوراسبحانہ تعظیم او تعالی انگارد واز شکر بہ ہمچورودوطریق استفادہ تعظیم آن حضرت جل شانہ ازان حضرت تعالی وتقدس مقصود برنبوت است ومنحصردرتبلیغ انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات والہام کہ اولیاء راست مقتبس از انوار نبوت است وازبرکات وفیوض ِ متابعت فلاسفہ یونان کہ مقتدائے خود عقل راساختہ اند دربیہ ضلالت نمے ماندندوحق راسبحانہ از ہمہ بیش مے شناختندوحال آنکہ جاہل ترین مردم درذات وصفات واجبی جل سلطانہ باختیارباوتعالی مستندنساختہ عقل فعال از نزدخود تراشیدہ حوادث راخالق سموات وارض باز داشتہ باومنسوب میدارند واثررااز موثر حقیقی جل سلطانہ منع نمودہ آن راثرمنحوت خود میدانند چہ نزداینہامعلول اثرعلت قریبہ است علت بعیدہ رادرحصول معلوم تاثیر ندانستہ اند وبجہل این عدم استناد اشیاء راباوتعالی کمال او سبحانہ تصورنمودہ اند وتعطیل انگاشتہ وحال آنکہ حضرت سبحانہ خوداربخلق ِسموات وارض می ستاید ومدح خود بر ب المشرق والمغرب میفرماید واین سفیہان رابزعم فاسد خود باحضرت سبحانہ تعالی ہیچ احتیاجے نیست وباوسبحانہ ہیچ سرنیاز از وخواہندکہ معاملے راباورجوع رداشتہ اند بلکہ عقل ِ فعال نیز چوں بزعم اینہاموجب است نہ مختاردرقضائے حاجت از وے خواستن ہم غیرمعقول است ان الکافرین لامولی لھم عقل فعال چہ بود کہ سرانجام اشیاء نماید وحوادث باومستند باشند درنفس وجود وثبوت او ہزاران سخن است چہ تحقق وحصول او مبتنی برمقدمات زرااندوہ فلسفیہ است کہ باصول حقہ اسلامیہ ناتمام ونافرجام اند ابلہے بود کہ اشیاء از قادرمختارجل شانہ باز داشتہ باین چنین امر موہوم مستندسازد بلکہ اشیاء ہزاران ننگ وعاراست کہ بمخوت فلسفی مستند باشندبلکہ اشیاء بعدم خود راضی وخود سندبودندوہرگزمیل وجود ننماینداس آنکہ استناد وجودشان بہ مجعول سفسطی نمودہ آید واز سعادت انتساب بقدرت قادرمختارجل سلطانہ ممتنع گردندکبرت کلمۃ تخرج من افاہہم ان یقولوں الاکذباً۔ کفاردارالحرب باوجود بت برستیہاازین جماعہ احسن حال اندکہ بحضرت حق سبحانہ جل وعلا درتنگی التجادانرد وبتہاراوسیلہ شفاعت پیش او تعالی سازند عجب ترآنکہ جمعے این سفہاء راحکمامے نامندوبحکمت منسوب میدارنداکثراحکام ایشان سیمادرالہیات کہ مقصدِ اسنی است کاذبہ اند ومخالفت کتاب وسنت اطلاق حکمابراینہاکہ سراسرجہل مرکب نصیب ِ نشان است بکدام اعتبارنمودہ آیدمگربرسبیل تہکم واستہزاء گفتہ شود ویااز قبیل اطلاق بصیر براعمی شمردہ آید وجمعے ازین سفہاکہ بے التزام طریق انبیاء کرا م علیہم الصلوات والتسلیمات بتقلید صوفیہ آلہیہ کہ درہرعصر از متابعان انبیاء بودہ اند علیہم الصلوات والتسلیمات طریق ریاضت ومجاہدت اختیارنمودہ اند بصفائے وقت ِ خود مغرورگشتہ وبرخواب وچناں خود اعتمادکردہ اند وکشوف خیالی خود رامقتداء ساختہ ضلو ا فاضلوا نمیداندکہ این صفاصفائے نفس است کہ راہے بضلالت دارد نہ صفائے قلب کہ دریجہ ہدایت است چہ صفائے قلب منوط بہ مطابعت انبیاء است علیہم الصلوات والتسلیمات وتزکیہ نفس مربوط بصفائے قلب وسیاست اوست مرنفس رانفس کہ صفاپیداکند باجود ظلمت قلب کہ محل ظہور انوارقدم است حکم آن داردکہ چراغ برافروختہ باشنداز برائے تاراج کردن دشمن کمین کہ ابلیس لعین بود بالجملہ تاریک ریاضت ومجاہدت دررنگ تاریک نظرواستدلال وقتے اعتبار واعتماد پیداکندکہ مقرون بتصدیق انبیاء بود علیہم الصلوات والتسلیمات کہ از قبل حق جل وعلی تبلیغ مے نمایندباتائید او سبحانہ مویداند کارخانہ این بزرگواران بنزول ملائکہ معصومین از کیدومکردشمن لعین محفوظ است{ ان عبادی لیس لک علیہم سلطان }نقدوقت شان است ودیگران رااین دولت میسرنشدہ است واز دامے نافرجام لعین رہائی متصورناگشتہ مگرکہ التزامے متابعت این بزرگوران نمودہ آید وبراثرایشان رفتہ شود علیہم الصلوات والتسلیمات بیت محال است سعد ی کہ راصفا توان رفت جز برپے مصطفی علیہ وعلی آلہ وعلی اجمیع اخوانہ الصلوات والتسلمیات العلی سبحانہ اللہ افلاطون کہ رئیس فلاسفہ است دولت بعثت حضرت عیسی راعلی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلام دریابدوخو راز نادانی مستغنی دانستہ بآنحضرت نگرددواز برکات نبوت بہرہ نگیرد ومن لم یجعل اللہ لہ نوراًفمالہ من نور۔ قال اللہ تعالی ولقد سبقت کلمتنا بعبادناالمرسلین انہم لھم المنصورون وان جندنالھم الغالبون}عجب معاملہ است عقول ناقصہ فلاسفہ گویادرطرف نقیض بطور نبوت افتادہ است ہم درمبداوہم درمعاد واحکام آنہامخالف احکام انبیاء است علیہم الصلوات والتسلمیات نہ ایمان باللہ درست کردہ اند ونہ ایمان بآخرت بقدم عالم قائل اند وحال آنکہ اجماع ملیین است برحدوث عالم بجمیع اجزائے خود وہم چنین بے انشقاق سموات وانتشار کواکب واند کاک جبال وانفجاربحار کہ بروزقیامت کہ موعود است قائل نیستندومنکرحشراجساد اند وانکارنصوص قرآنی مے نمایندومتاخران آنہاکہ درزمرہ اہل اسلام خود راداخل ساختہ از ہمچنان براصول فلسفی خود راسخ اندوبقدم سموات وکواکب وامثال اینہاقائل اند وعدم فناوہلاک اینہاحاکم قوت ایشان تکذیب نصوص قرآنی است ورزق شان انکارضروریات دین عجب مومن اند بخداورسول ایمان آرنداماآنچہ خداورسول اوفرمودہ است قبول ندارندسفاہت از ین نمی گزرد بیت : فلسفہ چون اکثراش باشدسفہ پس کل آن ہم سفہ باشد کہ حکم کل حکم اکثراست این جماعہ عمر ِ خود رادرتعلیم وتعلم آلتے کہ عاصمے از خطائے فکری است صرف کردندودران باب دقتہانمودندچون بامقصد اقصائے ذات وصفات وافعال وحی رسیدندجل سلطانہ دست وپائے خود گم کردندوآلتے عاصمہ رااز دست دادہ خبطہ خود رادندودرتیہ ضلالت ِ مانددنددررنگ آنکہ شخصے سالہاآلات حرب راتیار ساز وودروقت حرب درست وپاخود راگم کردہ بیکارنبرد مردم علوم فلسفی رامتسق ومنتظم داند واز غلط وخطامحفوظ مے انگارندبرتقدیرتسلیم این حکم در علوم صادق باشد کہ عقل رادرآنہااستقلال واستبداداست کہ خارج از مبحث اندوداخل دائرہ مالایعنی اند وبآخرت کہ دائمی است کارندوآرندونجات اخروی بآنہامربوط نیست سخن درعلوم است کہ عقل رادرادراک آنہاعجز وقصوراست وبطورنبوت مربوط اند ونجات اخروی با
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9