صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2173 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۵۵۔۱۵۶۔۱۵۷ ۔ امتی کے لئے سب سے بڑی مصیبت حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے دوری ہے

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,433

سوال (Question):

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۵۵۔۱۵۶۔۱۵۷ ۔ امتی کے لئے سب سے بڑی مصیبت حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے دوری ہے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

امتی کے لئے سب سے بڑی مصیبت حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے دوری ہے

{وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْء ٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوٰلِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ}(۱۵۵){الَّذِیْنَ اِذَآ اَصٰبَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْٓا اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ}(۱۵۶){اُولٰٓئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُوْنَ}(۱۵۷) ترجمہ کنزالایمان:اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا دوان صبر والوں کو کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ۔یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دُرودیںہیں اوررحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اورہم ضرورآزمائیں گے تمھیں کسی ایک چیز کے ساتھ یعنی خوف اوربھوک اورکمی کرنے سے تمھارے مالوں اورجانوں اورپھلوں میں اوراے حبیب کریم ﷺآپ صبرکرنے والوں کو خوشخبری سنایئے۔جب پہنچتی ہے انہیں کوئی مصیبت توکہتے ہیں کہ بے شک ہم صرف اللہ تعالی ہی کے ہیںاوریقیناہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ، یہی وہ خوش نصیب ہیں جن پر ان کے رب تعالی کی طرح طرح کی نوازشیں اوررحمت ہے اوریہی لوگ سیدھی راہ پرہیں۔

مجاہدین کے لئے امتحان

وَقِیلَ:إِنَّمَا ابْتُلُوا بِہَذَا لِیَکُونَ آیَۃً لِمَنْ بَعْدَہُمْ فَیَعْلَمُوا أَنَّہُمْ إِنَّمَا صَبَرُوا عَلَی ہَذَا حِینَ وَضَحَ لَہُمُ الْحَقُّ وَقِیلَ: أَعْلَمَہُمْ بِہَذَا لِیَکُونُوا عَلَی یَقِینٍ مِنْہُ أَنَّہُ یُصِیبُہُمْ، فَیُوَطِّنُوا أَنْفُسَہُمْ عَلَیْہِ فَیَکُونُوا أَبْعَدَ لَہُمْ مِنَ الْجَزَعِ، وَفِیہِ تَعْجِیلُ ثَوَابِ اللہ تعالی علی العزم وتوطین النفس۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ علماء کرام فرماتے ہیں کہ اس کے ساتھ آزمائے گئے تاکہ بعد والوں کے لئے نشانی بن جائے ، وہ جان لیں کہ انہوںنے اس پرصبرکیاجب ان کے لئے حق واضح ہوگیا۔ بعض علماء کرام نے فرمایا: انہیں اس سے آگاہ کیاتاکہ انہیں یقین ہوجائے کہ انہیں مصائب سے دوچارہوناپڑے گا، پس اس پر وہ اپنے نفسوں کو تسکین دیں اورجزع وفزع سے دوررہیں۔اس آیت کریمہ میں عزم اورنفس کوتسکین دینے میں جلد ی ثواب ملنے کامژدہ ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۱۷۶)

اس آیت کریمہ میں کس کوخطاب ہے؟

والخطاب عام لسائر المؤمنین وقیل:للصحابۃ فقط، وقیل:لأہل مکۃ فقط. ترجمہ :امام شہاب الدین محمود بن عبداللہ الحسینی الآلوسی الحنفی المتوفی : ۱۲۷۰ھ)رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں خطاب عام ہے تمام مسلمانوں کے لئے ۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہ خطاب حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ہے اوربعض کے نزدیک اس میں خطاب اہل مکہ سے ہے ۔ ( یہ ذہن میں رہے کہ اس میں قول اول ہی راجح ہے ) (روح المعانی:شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الحسینی الألوسی (۱:۴۲۰)

خوف سے مراد کیاہے ؟

’’مِنَ الْخَوْفِ‘‘أَیْ خَوْفِ الْعَدُوِّ وَالْفَزَعِ فِی الْقِتَالِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں الخوف سے مراد دشمن کاخوف اورجنگ کے وقت دشمن کی موجودگی میں پیداہونے والی گھبراہٹ ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۱۷۶) استقامت فی الدین کے سبب تم خوف میں مبتلاء کئے جائوگے حضرت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ علماء کرام فرماتے ہیں کہ خوف سے دشمنوں یامخالفین یااستقامت دین کی وجہ سے خوداپنے دوستوں کی مخالفت کاڈرمراد ہے یعنی کبھی دشمنوں سے تمھیں خطرہ ہوگااورتمھاری استقامت کی وجہ سے تمھارے اپنے بھی بیگانے بن جائیں گے اوران سے تمھیں کھٹکاپیداہوگا۔ (تفسیرنعیمی از مفتی احمدیارخان نعیمی (۱:۹۰) {وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوٰلِ وَالْاَنْفُس} وَقَالَ الشَّافِعِیُّ: ہُوَ الْجُوعُ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوالِ بسبب الاشتغال بقتال الکفار. ترجمہ :حضرت سیدناامام الشافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بھوک سے مراد رمضان المبارک میں روزے رکھنے کے سبب پیداہونے والی بھوک ہے اورمال کی کمی سے مراد یہ ہے کہ جب بندہ مومن کفارکے ساتھ جنگ کرتاہے تب جواسے مالی نقصان ہوتاہے ۔ (الموسوعۃ القرآنیۃ:إبراہیم بن إسماعیل الأبیاری (۹:۱۲۸)

والانفس سے مراد؟

’’وَالْأَنْفُسِ ‘‘قَالَ ابن عباس: بالقتل ولموت فِی الْجِہَادِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ جہاد میں قتل اورموت کے ساتھ ہم جانوں میں کمی کرکے آزمائیں گے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۱۷۶)

اللہ تعالی کے فیصلے پر اعتراض ترک کرنے کانام صبرہے

وَقَالَ الْخَوَّاصُ:الصَّبْرُ الثَّبَاتُ عَلَی أَحْکَامِ الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِوَقَالَ رُوَیْمٌ:الصَّبْرُ تَرْکُ الشَّکْوَی وَقَالَ ذُو النُّونِ الْمِصْرِیُّ:الصَّبْرُ ہُوَ الِاسْتِعَانَۃُ بِاللَّہِ تَعَالَی وَقَالَ الْأُسْتَاذُ أَبُو عَلِیٍّ:الصَّبْرُ حَدُّہُ أَلَّا تَعْتَرِضَ عَلَی التَّقْدِیرِ، فَأَمَّا إِظْہَارُ الْبَلْوَی عَلَی غَیْرِ وَجْہِ الشَّکْوَی فَلَا یُنَافِی الصَّبْرَ، قَالَ اللَّہُ تَعَالَی فِی قِصَّۃِ أَیُّوبَ:إِنَّا وَجَدْناہُ صابِراً نِعْمَ الْعَبْدُ مَعَ مَا أَخْبَرَ عَنْہُ أنہ قال:’’مَسَّنِیَ الضُّرُّ‘‘۔ ترجمہ :خواص عارفین فرماتے ہیں کہ کتاب وسنت کے احکامات پر ثابت قدم رہناصبرہے ۔ اورامام الرویم رحمہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ صبریہ ہے کہ بندہ کسی بھی معاملے میں اللہ تعالی سے شکوہ نہ کرے ، حضرت سیدناذوالنون مصری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ صبراللہ تعالی سے مددطلب کرناہے ، اوراستاد ابوعلی الدقاق رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ صبرکی تعریف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے کسی بھی فیصلے پر اعتراض نہ کرے ،رہاشکوہ کے بغیرمصیبت کااظہارکرناتویہ صبرکے منافی نہیں ہے ، اللہ تعالی نے حضرت سیدنا ایوب علیہ السلام کے قصہ میں فرمایا: {إِنَّا وَجَدْناہُ صابِراً نِعْمَ الْعَبْدُ }بے شک ہم نے پایاانہیں صبرکرنے والابڑاخوبیوں والابندہ ہے ۔ اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ ان کے متعلق خبردی کہ انہوں نے کہاکہ {مَسَّنِیَ الضُّرُّ}۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۱۷۶)

امتحان آنے سے بھی پہلے اطلاع دینے میں حکمت خداوندی

وأما الحکمۃ فی تقدم تَعْرِیفِ ہَذَا الِابْتِلَاء ِ فَفِیہَا وُجُوہٌأَحَدُہَا:لِیُوَطِّنُوا أَنْفُسَہُمْ عَلَی الصَّبْرِ عَلَیْہَا إِذَا وَرَدَتْ، فَیَکُونُ ذَلِکَ أَبْعَدَ لَہُمْ عَنِ الْجَزَعِ، وَأَسْہَلَ عَلَیْہِمْ بَعْدَ الْوُرُودِوَثَانِیہَا:أَنَّہُمْ إِذَا عَلِمُوا أَنَّہُ ستصل إلیہم تلک المحن، اشتد خرقہم، فَیَصِیرُ ذَلِکَ الْخَوْفُ تَعْجِیلًا لِلِابْتِلَاء ِ، فَیَسْتَحِقُّونَ بِہِ مَزِیدَ الثَّوَابِ وَثَالِثُہَا: أَنَّ الْکُفَّارَ إِذَا شَاہَدُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَہُ مُقِیمِینَ عَلَی دِینِہِمْ مُسْتَقِرِّینَ عَلَیْہِ مَعَ مَا کَانُوا عَلَیْہِ مِنْ نِہَایَۃِ الضُّرِّ وَالْمِحْنَۃِ وَالْجُوعِ، یَعْلَمُونَ أَنَّ الْقَوْمَ إِنَّمَا اخْتَارُوا ہَذَا الدِّینَ لِقَطْعِہِمْ بِصِحَّتِہِ، فَیَدْعُوہُمْ ذَلِکَ إِلَی مَزِیدِ التَّأَمُّلِ فِی دَلَائِلِہِ، وَمِنَ الْمَعْلُومِ الظَّاہِرِ أَنَّ التَّبَعَ إِذَا عَرَفُوا أَنَّ الْمَتْبُوعَ فِی أَعْظَمِ الْمِحَنِ بِسَبَبِ الْمَذْہَبِ الَّذِی یَنْصُرُہُ، ثُمَّ رَأَوْہُ مَعَ ذَلِکَ مُصِرًّا عَلَی ذَلِکَ الْمَذْہَبِ کَانَ ذَلِکَ أَدْعَی لَہُمْ إِلَی اتِّبَاعِہِ مِمَّا إِذَا رَأَوْہُ مُرَفَّہَ الْحَالِ لَا کُلْفَۃَ عَلَیْہِ فِی ذَلِکَ الْمَذْہَبِ. وَرَابِعُہَا: أَنَّہُ تَعَالَی أَخْبَرَ بِوُقُوعِ ذَلِکَ الِابْتِلَاء ِ قَبْلَ وُقُوعِہِ، فَوُجِدَ مُخْبِرُ ذَلِکَ الْخَبَرِ عَلَی مَا أَخْبَرَ عَنْہُ فَکَانَ ذَلِکَ إِخْبَارًا عَنِ الْغَیْبِ فَکَانَ مُعْجِزًا. وَخَامِسُہَا: أَنَّ مِنَ الْمُنَافِقِینَ مَنْ أَظْہَرَ مُتَابَعَۃَ الرَّسُولِ طَمَعًا مِنْہُ فِی الْمَالِ وَسَعَۃِ الرِّزْقِ فَإِذَا اخْتَبَرَہُ تَعَالَی بِنُزُولِ ہَذِہِ الْمِحَنِ فَعِنْدَ ذَلِکَ یَتَمَیَّزُ الْمُنَافِقُ عَنِ الْمُوَافِقِ لِأَنَّ الْمُنَافِقَ إِذَا سَمِعَ ذَلِکَ نَفَرَ مِنْہُ وَتَرَکَ دِینَہُ فَکَانَ فِی ہَذَا الِاخْتِبَارِ ہَذِہِ الْفَائِدَۃُ۔ ترجمہ :ابتلاء کے بارے میں پہلے ہی بتادینے میں یہ حکمتیں ہوسکتی ہیں : (۱) تاکہ جب مشکلات آئیں تویہ اپنے نفوس کو پہلے ہی صبرکے لئے تیارکرچکے ہوں۔تواب جزع وفزع سے دوربوقت مشکل آسانی ہوگی ۔ (۲) جب انہیں اس کاعلم ہوگاکہ مشکلات آئیں گی توخوف سخت ہوگاتویہ خوف ابتلاء میں تعجیل کاسبب بنے گاتومزیدثواب کے مستحق قرارپائیں گے ۔ (۳) کفارجب حضورتاجدارختم نبوت ﷺاورآپ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنے دین پرڈٹے ہوئے اورقائم پائیں گے حالانکہ ان پر نہایت تکالیف ، مشقتیں اورپریشانیاں لاحق ہیںتووہ جان لیں گے کہ انہوںنے اس دین کو اس لئے منتخب اورپسند کیاکہ انہیں اس کے حق ہونے کایقین ہے تووہ کفاراس دین کے دلائل میں مزید غوروفکرکریں گے اوریہ بھی حقیقت مسلم ہے جب تابع لوگ دیکھتے ہیں کہ ہماراسربراہ اس مذہب کی خدمت میں نصرت کی وجہ سے ہم سے زیادہ مصائب جھیل رہاہے اوردیکھتے ہیں کہ وہ اس مذہب پر پہلے سے بھی زیادہ استقامت کے ساتھ کام کررہاہے تو یہ اس کی مشقتیں ان کے لئے زیادہ دعوت ہوتی ہیں ، اس سے کہ وہ خوشحال ہواوراس مذہب کی وجہ سے اسے کوئی تکلیف ہی نہ ہو۔ (۴) اللہ تعالی نے وقوع ابتلاء سے پہلے ہی اس کی اطلاع دے دی توخبرکے مطابق ہی اس کاوقوع ہوا تویہ غیبی خبرہوئی تواس سے اس کامعجزہ ہونالازم آتاہے ۔ (۵) منافقین میں کچھ مال اوروسعت رزق کے لالچ میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ساتھ محبت کااظہارکرتے ، جب اللہ تعالی نے ان کو مشکلات کی آزمائش میں ڈالاتومنافقین اہل ایمان سے جداہوگئے ، اس لئے کہ جب منافق نے سنے گاتو وہ بھاگ جائے گااوردین کو ترک کردے گاتواس آزمائش سے یہ فائدہ بھی حاصل ہوجائے گا۔ ( التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۴:۱۲۸)

اس آیت کریمہ پر الشیخ القفال رحمہ اللہ تعالی کاایمان افروز کلام

قَالَ الْقَفَّالُ رَحِمَہُ اللَّہُ: أَمَّا الْخَوْفُ الشَّدِیدُ فَقَدْ حَصَلَ لَہُمْ عِنْدَ مُکَاشَفَتِہِمُ الْعَرَبَ بِسَبَبِ الدِّینِ، فَکَانُوا لَا یَأْمَنُونَ قَصْدَہُمْ إِیَّاہُمْ وَاجْتِمَاعَہُمْ عَلَیْہِمْ، وَقَدْ کَانَ مِنَ الْخَوْفِ فِی وَقْعَۃِ الْأَحْزَابِ مَا کَانَ، قَالَ اللَّہُ تَعَالَی: ہُنالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزالًا شَدِیداً (الْأَحْزَابِ: ۱۱) وأَمَّا الْجُوعُ فَقَدْ أَصَابَہُمْ فِی أَوَّلِ مُہَاجَرَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَدِینَۃِ لِقِلَّۃِ أَمْوَالِہِمْ، حَتَّی أَنَّہُ عَلَیْہِ السَّلَامُ کَانَ یَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَی بَطْنِہِ،وَرَوَی أَبُو الْہَیْثَمِ بْنُ التَیِّہَانِ أَنَّہُ عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمَّا خَرَجَ الْتَقَی مَعَ أَبِی بَکْرٍ قَالَ: مَا أَخْرَجَکَ؟ قَالَ: الْجُوعُ. قَالَ:أَخْرَجَنِی مَا أَخْرَجَکَ:وَأَمَّا النَّقْصُ فِی الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ فَقَدْ یَحْصُلُ ذَلِکَ عِنْدَ مُحَارَبَۃِ الْعَدُوِّ بِأَنْ یُنْفِقَ الْإِنْسَانُ مَالَہُ فِی الِاسْتِعْدَادِ لِلْجِہَادِ وَقَدْ یُقْتَلُ، فَہُنَاکَ یَحْصُلُ النَّقْصُ فِی الْمَالِ وَالنَّفْسِ وَقَالَ اللَّہُ تَعَالَی: وَجاہِدُوا بِأَمْوالِکُمْ وَأَنْفُسِکُمْ (التَّوْبَۃِ: ۴۱)وَقَدْ یَحْصُلُ الجوع فی السفر الْجِہَادِ عِنْدَ فَنَاء ِ الزَّادِ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی:ذلِکَ بِأَنَّہُمْ لَا یُصِیبُہُمْ ظَمَأٌ وَلا نَصَبٌ وَلا مَخْمَصَۃٌ فِی سَبِیلِ اللَّہِ (التَّوْبَۃِ:۱۲۰)وَقَدْ یَکُونُ النَّقْصُ فِی النَّفْسِ بِمَوْتِ بَعْضِ الْإِخْوَانِ وَالْأَقَارِبِ عَلَی مَا ہُوَ التَّأْوِیلُ فِی قَوْلِہِ:وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ (النِّسَاء ِ: ۲۹)وَأَمَّا نَقْصُ الثَّمَرَاتِ فَقَدْ یَکُونُ بِالْجَدْبِ وَقَدْ یَکُونُ بِتَرْکِ عِمَارَۃِ الضِّیَاعِ لِلِاشْتِغَالِ بِجِہَادِ الْأَعْدَاء ِ، وَقَدْ یَکُونُ ذَلِکَ بِالْإِنْفَاقِ عَلَی مَنْ کَانَ یَرِدُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ من الْوُفُودِ۔ ترجمہ ۔:الشیخ القفال رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ خوف شدیداہل اسلام کو اس وقت ہواجب دین کی وجہ سے سارے عرب ان پر حملہ آورہوگئے اوریہ اپنے آپ کو ان کے لشکرسے محفوظ ومامون نہ پارہے تھے ، مثلاً غزوہ احزاب کے موقع پر خوف کی حالت یہ تھی {ہُنالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزالًا شَدِیداً}وہ جگہ تھی اہل ایمان کو آزمایاگیااورخوف سے جھنجھوڑے گئے ۔ جوع اوربھوک کاحصول انہیں اس وقت ہواجب حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے شہرمدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی توان کے پاس اموال کی کمی تھی ، حتی کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے اپنے بطن مبارک پرپتھرباندھے ،حضرت سیدناابوالہیثم بن التیہان رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺ باہرتشریف لائے حضرت سیدناابوبکرالصدیق رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ، پوچھاآپ بتائوکہا بھوک کی وجہ سے ، فرمایامیرے باہرآنے کی وجہ بھی یہی ہے ۔ اموال اورنفوس میں کمی دشمن سے جنگ کے وقت حاصل ہوتی ہے ۔ مثلاً انسان نے اپنامال جہاد کی تیاری پر خرچ کردیااورپھرخود بھی وہاں شہید ہوگیاتواب مال ونفس دونوں میں کمی ہوگئی ۔ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے کہ {وَجاہِدُوا بِأَمْوالِکُمْ وَأَنْفُسِکُم}اورتم اپنے مالوں اورجان کے ساتھ جہاد کرو۔ سفرجہاد میں زاد راہ ختم ہوجانے پر بھی بھوک کامرحلہ آتاہے ۔ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے کہ {ذلِکَ بِأَنَّہُمْ لَا یُصِیبُہُمْ ظَمَأٌ وَلا نَصَبٌ وَلا مَخْمَصَۃٌ فِی سَبِیلِ اللَّہِ }اوریہ اس لئے کہ جو پیاس یاتکلیف یابھوک انہیں اللہ تعالی کے راہ میں پہنچتی ہے کبھی بعض اقارب اوراخوان کی موت کی وجہ سے بھی کمی آتی ہے جیسے اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے {وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ }اورتم اپنی جانیں قتل نہ کرو۔ ثمرات میں کمی کبھی قحط سے ، کبھی دشمنوں سے جہاد کی مشغولیت کی وجہ سے ترک آبادکاری اورکبھی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی خدمت میں جانے والے وفود پر خرچ کی وجہ سے ہوسکتی ہے ۔ ( التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۴:۱۲۸)

صبرنے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے گھرتک پہنچادیا

عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِیدٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ کَثِیرِ بْنِ أَفْلَحَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ سَفِینَۃَ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِیبُہُ مُصِیبَۃٌ فَیَقُولُ إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ اللَّہُمَّ أْجُرْنِی فِی مُصِیبَتِی وَأَخْلِفْ لِی خَیْرًا مِنْہَا إِلَّا أَجَرَہُ اللَّہُ فِی مُصِیبَتِہِ وَأَخْلَفَ لَہُ خَیْرًا مِنْہَا قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّیَ أَبُو سَلَمَۃَ قُلْتُ کَمَا أَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْلَفَ اللَّہُ لِی خَیْرًا مِنْہُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناسفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیدتناام سلمہ رضی اللہ عنہاکو فرماتے ہوئے سناکہ وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو فرماتے ہوئے سنا :کوئی بندہ نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ کہے:بیشک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔اے اللہ!مجھے میری مصیبت کا اجردے اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما،مگر اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت کا اجر دیتاہے اور اسے اس کا بہتر بدل عطا فرماتاہے۔(حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے)کہا:تو جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے،میں نے اس طرح کہا جس طرح حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے مجھے حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی صورت میں ان سے بہتر بدل عطا فرمادیا۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۲:۶۳۲)  

اہل ایمان کے لئے اصل مصیبت ’’دینی مصیبت ‘‘ہے

تم میری مصیبت یادکرو حَدَّثَنِی مَکْحُولٌ: أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَصَابَ أَحَدَکُمْ مُصِیبَۃٌ، فَلْیَذْکُرْ مُصِیبَتَہُ بِی، فَإِنَّہَا مِنْ أَعْظَمِ الْمَصَائِبِ ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامکحول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو مصیبت لاحق ہوتووہ میری مصیبت کویادکرلے کیونکہ وہی سب سے عظیم مصیبت ہے ۔ (سنن الدارمی:أبو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمن بن الفضل بن بَہرام بن عبد الصمد الدارمی، التمیمی السمرقندی (۱:۲۲۲) یہ ذہن میں رہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو جتنی بھی تکالیف آئیں ہیں وہ سب کی سب دین کی وجہ سے تھیں۔اورآج ہم بھی غورکریں کہ ہمیں دین کی خاطرکتنی مصیبتیں آتی ہیں۔

دین کی وجہ سے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو کفارنے بہت زیادہ پریشان کیا

. ٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقَدْ أُخِفْتُ فِی اللَّہِ وَمَا یُخَافُ أَحَدٌ وَلَقَدْ أُوذِیتُ فِی اللَّہِ وَمَا یُؤْذَی أَحَدٌ وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَیَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَیْنِ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ وَمَا لِی وَلِبِلَالٍ طَعَامٌ یَأْکُلُہُ ذُو کَبِدٍ إِلَّا شَیْء ٌ یُوَارِیہِ إِبْطُ بِلَالٍ قَالَ أَبُو عِیسَی ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ وَمَعْنَی ہَذَا الْحَدِیثِ حِینَ خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہَارِبًا مِنْ مَکَّۃَ وَمَعَہُ بِلَالٌ إِنَّمَا کَانَ مَعَ بِلَالٍ مِنْ الطَّعَامِ مَا یَحْمِلُہُ تَحْتَ إِبْطِہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناانس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:مجھے اللہ کی راہ میں ایساڈرایا گیا کہ اس طرح کسی کو نہیں ڈرایاگیا اور اللہ تعالی کی راہ میں مجھے ایسی تکلیفیں پہنچائی گئی ہیں کہ اس طرح کسی کو نہیں پہنچائی گئیں، مجھ پر مسلسل تیس دن ورات گزر جاتے اور میرے اور بلال کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوتا کہ جسے کوئی جان والاکھائے سوائے تھوڑی سی چیز کے جسے بلال اپنی بغل میں چھپالیتے تھے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ـ اس حدیث میں وہ دن مراد ہیں کہ جب آپ ﷺاہل مکہ سے بیزار ہوکر مکہ سے نکل گئے تھے اور ساتھ میں حضرت سیدنابلال رضی اللہ عنہ تھے، ان کے پاس کچھ کھانا تھا جسے وہ بغل میں دبائے ہوئے تھے۔ (سنن الترمذی: محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۴:۲۲۶) حضورﷺآپ سلامت ہیں تو پھرہرمصیبت ہیچ ہے عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ، قَالَ: کَانَتِ امْرَأَۃٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِی ذُبْیَانَ فَقَدْ أُصِیبَ زَوْجُہَا وَأَخُوہَا یَوْمَ أُحُدٍ، فَلَمَّا نُعُوا لَہَا قَالَتْ: مَا فَعَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: خَیْرًا، یَا أُمَّ فُلَانٍ، فَقَالَتْ: أَرُونِیہِ حَتَّی أَنْظُرَ إِلَیْہِ، فَأَشَارُوا لَہَا إِلَیْہِ، حَتَّی إِذَا رَأَتْہُ قَالَتْ: کُلُّ مُصِیبَۃٍ بَعْدَکَ جَلَلٌ ترجمہ حضرت سیدنااسماعیل بن محمدبن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مائی صاحبہ جن کاتعلق انصارکے قبیلہ بنی ذیان سے تھا، ان کے بھائی اورشوہراحدمیں شہید ہوگئے ، جب انہیں ان کے شہیدہونے کی خبردی گئی تو فوراً بولیں :ذرا مجھے دکھلادو، میں بھی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکا وجود مبارک دیکھ لوں۔ لوگوں نے انہیں اشارے سے بتلایا، جب ان کی نظر آپﷺ پر پڑی تو بے ساختہ پکار اٹھیں: {کُلُّ مُصِیبَۃٍ بَعْدَکَ جَلَلٌ}یعنی آپﷺ کے بعد ہر مصیبت ہیچ ہے۔ (دلائل النبوۃ: أحمد بن الحسین بن علی بن موسی أبو بکر البیہقی (۳:۲۰۳)

امام سہیلی رحمہ اللہ تعالی کے الفاظ

وَقَدْ أُصِیبَ زَوْجُہَا وَأَخُوہَا وَأَبُوہَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأُحُدِ فَلَمّا نُعُوا لَہَا، قَالَتْ فَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا:خَیْرًا یَا أُمّ فُلَانٍ ہُوَ بِحَمْدِ اللہِ کَمَا تُحِبّینَ قَالَتْ أَرُونِیہِ حَتّی أَنْظُرَ إلَیْہِ قَالَ فَأُشِیرَ لَہَا إلَیْہِ حَتّی إذَارَأَتْہُ قَالَتْ کُلّ مُصِیبَۃٍ بَعْدَک جَلَلٌ تُرِیدُ صَغِیرَۃً. ترجمہ :امام ابوالقاسم عبدالرحمن بن عبداللہ المتوفی ۵۸۱ھ) رحمہ اللہ تعالی نقل فرماتے ہیں کہ اس مائی صاحبہ رضی اللہ عنہاکے شوہر، بیٹے اوروالد احدمیں شہید ہوچکے تھے جب ان کو خبردی گئی توکہنے لگیں کہ مجھے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکابتائوکہ آپ ﷺکاکیاحال ہے ؟صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمایاکہ آپ ﷺویسے ہی ہیں جیسے آپ چاہتی ہو۔فرمانے لگیں :ذرا مجھے دکھلادو، میں بھی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکا وجود مبارک دیکھ لوں۔ لوگوں نے انہیں اشارے سے بتلایا، جب ان کی نظر آپﷺ پر پڑی تو بے ساختہ پکار اٹھیں: {کُلُّ مُصِیبَۃٍ بَعْدَکَ جَلَلٌ}یعنی آپﷺ کے بعد ہر مصیبت ہیچ ہے۔ (الروض الأنف:أبو القاسم عبد الرحمن بن عبد اللہ بن أحمد السہیلی (۶:۲۹)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے جدائی بہت بڑی مصیبت ہے

عَنْ عَطَاء ٍ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِذَا أَصَابَ أَحَدَکُمْ مُصِیبَۃٌ، فَلْیَذْکُرْ مُصَابَہُ بِی، فَإِنَّہَا مِنْ أَعْظَمِ الْمَصَائِبِ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعطابن ابی رباح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو مصیبت پہنچے تومیری وجہ سے جو اسے مصیبت پہنچی ہے اسے یادکرناچاہئے کیونکہ یہ بہت بڑی مصیبت ہے۔ (سنن الدارمی:أبو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمن بن الفضل بن بَہرام بن عبد الصمد الدارمی، التمیمی السمرقندی (ا:۲۲۲) اس حدیث شریف کے متعلق امام ابوعمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قَالَ أَبُو عُمَرَ:وَصَدَقَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، لِأَنَّ الْمُصِیبَۃَ بِہِ أَعْظَمُ مِنْ کُلِّ مُصِیبَۃٍ یُصَابُ بِہَا الْمُسْلِمُ بَعْدَہُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، انْقَطَعَ الْوَحْیُ وَمَاتَتِ النُّبُوَّۃُ. وَکَانَ أَوَّلَ ظُہُورِ الشَّرِّ بِارْتِدَادِ الْعَرَبِ وَغَیْرِ ذَلِکَ، وَکَانَ أَوَّلَ انْقِطَاعِ الْخَیْرِ وَأَوَّلَ نُقْصَانِہِ. ترجمہ :حضرت سیدناابوعمررحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے سچ فرمایا: کیونکہ آپ ﷺسے جدائی کی مصیبت ہر مصیبت سے بڑی ہے ، جو آپ ﷺکے بعد قیامت تک بندہ مومن کو پہنچنے والی ہے ، آپ ﷺکے جانے سے وحی کاسلسلہ ختم ہوگیا، نبوت کادروازہ بندہوگیا، سب سے پہلاشرجو ظاہرہواوہ عربوں کاارتدادتھا۔ یہ خیرکاپہلاانقطاع اورسب سے پہلانقصان تھا۔ (تفسیر القرطبی: أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۱۷۵)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے بعد آنکھیں کس کام کی؟

قال:وذکر مقاتل بن سلیمان مثل ہذا، وقال:ہو عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ الأنصاری الذی رأی الأذان وذکر أیضًا:أن عبد اللہ بن زید ہذا کان یعمل فی جنۃ لہ فأتاہ ابنہ فأخبرہ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم توفی فقال:اللہم أذہب بصری تی لا أری بعد حبیبی محمدًا أحدًا، فکف بصرہ. ترجمہ : حضرت سیدنامقاتل بن سلیمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبد اللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ اپنے باغ میں کام کررہے تھے کہ آپ نے جب یہ خبر سنی کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺوصال فرماگئے ہیں توبیقرار ہوگئے اور اسی اضطراب کے عالم میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں ہاتھ اُٹھائے اور دعا کی :اے اللہ عزوجل !تیرے پیارے حبیب کریم ﷺکا جلوہ نگاہوں سے دور ہو گیا۔ اے اللہ عزوجل! میری آنکھیں دنیا کے پر فریب نظارے نہیں چاہتیں۔ مولا دیدار مصطفٰے ﷺنہ رہا تو میری یہ آنکھیں بھی لے لے اسی وقت حضرت سیدناعبد اللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نابینا ہوگئے۔ (شرح الزرقانی:أبو عبد اللہ محمد بن عبد الباقی بن یوسف بن أحمد بن شہاب الدین بن محمد الزرقانی المالکی (۹:۸۴)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکادیدارنہ ہواتو۔۔۔

وَأخرج سعید بن مَنْصُور وَابْن الْمُنْذر عَن الشّعبِیّ أَن رجلا من الْأَنْصَار أَتَی رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم فَقَالَ: یَا رَسُول اللہ وَاللہ لأَنْت أحب إلیَّ من نَفسِی وَوَلَدی وَأَہلی وَمَالِی وَلَوْلَا أَنِّی آتِیک فَأَرَاک لظَنَنْت أَنِّی سأموت وَبکی الْأنْصَارِیّ فَقَالَ لَہُ النَّبِی صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم:مَا أبکاک فَقَالَ:ذکرت أَنَّک سَتَمُوتُ وَنَمُوت فَترفع مَعَ النَّبِیین وَنحن إِذا دَخَلنَا الْجنَّۃ کُنَّا دُونک فَلم یُخبرہُ النَّبِی صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم بِشَیْء فَأنْزل اللہ علی رَسُولہ (وَمن یطع اللہ وَالرَّسُول فَأُولَئِک مَعَ الَّذین أنعم اللہ عَلَیْہِم) إِلَی قَوْلہ (علیماً) فَقَالَ: أبشر یَا أَبَا فلَان۔ ترجمہ:ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا :یا رسول اﷲ!ﷺآپ مجھے اپنی جان، والدین، اہل و عیال اور مال سے زیادہ محبوب ہیں۔ اور جب تک میں آپ ﷺکی بارگاہ میں حاضر ہو کر آپﷺ کی زیارت نہ کر لوں تو محسوس کرتا ہوں کہ میں اپنی جاں سے گزر جاؤں گا، اور (یہ بیان کرتے ہوئے)وہ انصاری صحابی زار و قطار رو پڑے۔ اس پر حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا : یہ نالۂ غم کس لئے؟عرض کرنے لگے : یا رسول اﷲ!ﷺجب میں خیال کرتا ہوں کہ آپﷺ وصال فرمائیں گے اور ہم بھی مر جائیں گے تو آپ ﷺانبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ بلند درجات پر فائز ہوں گے، اور جب ہم جنت میں جائیں گے تو آپ ﷺسے نچلے درجات میں ہوں گے۔ آپﷺنے انہیں کوئی جواب نہ دیا، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کریمﷺ پر (یہ آیت مبارکہ)نازل فرمائی :{وَمَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاء ِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا} اور جو کوئی اللہ اور رسول (ﷺ)کی اِطاعت کرے تو یہی لوگ (روزِ قیامت)اُن (ہستیوں)کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے (خاص)انعام فرمایا ہے ۔ ۔ اس پر آپ ﷺنے (اس صحابی کو بلایا اور)فرمایا :اے فلاں!تجھے (میری ابدی رفاقت کی)خوش خبری مبارک ہو۔ (کتاب تفسیر القرآن:أبو بکر محمد بن إبراہیم بن المنذر النیسابوری (۲:۷۸۱)

انقطاع وحی پررونا

عَنْ عِکْرِمَۃَ، قَالَ:تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔۔۔قَالَ:وَجَعَلَتْ أُمُّ أَیْمَنَ تَبْکِی، فَقِیلَ لَہَا: یَا أُمَّ أَیْمَنَ تبْکِینَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: إِنِّی وَاللَّہِ مَا أَبْکِی عَلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَکُونَ أَعْلَمُ أَنَّہُ قَدْ ذَہَبَ إِلَی مَا ہُوَ خَیْرٌ لَہُ مِنَ الدُّنْیَا، وَلَکِنِّی أَبْکِی عَلَی خَبَرِ السَّمَاء ِ انْقَطَعَ قَالَ حَمَّادٌ:خَنَقَتْ الْعَبْرَۃُ أَیُّوبَ حِینَ بَلَغَ ہَاہُنَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعکرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکاوصال شریف ہوا۔۔۔۔حضرت سیدتناام ایمن رضی اللہ عنہاآپ ﷺکے وصال شریف کاقصہ بیان کرتے ہوئے رونے لگیں ، ان سے عرض کی گئی ! اے ام ایمن! کیاآپ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی وجہ سے رورہی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیاکہ اللہ تعالی کی قسم ! میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے وصال شریف کی وجہ سے نہیں رورہی ۔ کیونکہ مجھے اس بات کاعلم ہے کہ حبیب کریم ﷺایسی جگہ تشریف لے گئے ہیں جو آپ ﷺکے لئے دنیاسے بہت بہترہے ، مجھے رونااس بات پرآرہاہے کہ اب آسمان سے وحی کے نزول کاسلسلہ ختم ہوگیا۔ حضرت سیدناحمادرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ایوب رحمہ اللہ تعالی نامی راوی نے یہ بات بیان کی تووہ بھی رونے لگے تو ان کی آواز یوں پھنس گئی جیسے ان کا گلہ گھونٹ دیاگیاہو۔ (سنن الدارمی:أبو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمن بن الفضل بن بَہرام بن عبد الصمد الدارمی، التمیمی السمرقندی (۱:۲۲۰) دین میں مصیبت دنیاکی مصیبت سے ہزارگنا بڑی ہے غم دین خورکہ غم غم ِ دین است ہمہ غم ہافروترازین است غم دنیامخورکہ بیہودہ است ہیچ کس درجہان نیاسوداست ترجمہ :دین کاغم کھاکیونکہ اصل غم ہے ہی دین کا، اس کے علاوہ تمام غم گھٹیاہیں اوردنیاکاغم نہ کھاکیونکہ دنیاکاغم بیہودہ غم ہے ، سارے جہان میں اس سے گھٹیاغم کوئی نہیں ہے۔

دینی غم کی پرواہ نہ ہونے کی وجہ؟

قَالَ ابْنُ عَقِیل :مِنْ عَجِیبِ مَا نَقَدْت أَحْوَالَ النَّاسِ کَثْرَۃُ مَا نَاحُوا عَلَی خَرَابِ الدِّیَارِ وَمَوْتِ الْأَقَارِبِ وَالْأَسْلَافِ وَالتَّحَسُّرِ عَلَی الْأَرْزَاقِ بِذَمِّ الزَّمَانِ وَأَہْلِہِ، وَذِکْرِ نَکَدِ الْعَیْشِ فِیہِ، وَقَدْ رَأَوْا مِنْ انْہِدَامِ الْإِسْلَامِ، وَتَشَعُّثِ الْأَدْیَانِ، وَمَوْتِ السُّنَنِ، وَظُہُورِ الْبِدَعِ، وَارْتِکَابِ الْمَعَاصِی، وَتَقَضِّی الْعُمْرِ فِی الْفَارِغِ الَّذِی لَا یُجْدِی، فَلَا أَحَدٌ مِنْہُمْ نَاحَ عَلَی دِینِہِوَلَا بَکَی عَلَی فَارِطِ عُمْرِہِ وَلَا تَأَسَّی عَلَی فَائِتِ دَہْرِہِ، وَلَا أَرَی لِذَلِکَ سَبَبًا إلَّا قِلَّۃَ مُبَالَاتِہِمْ بِالْأَدْیَانِ وَعِظَمَ الدُّنْیَا فِی عُیُونِہِمْ ضِدُّ مَا کَانَ عَلَیْہِ السَّلَفُ الصَّالِحُ: یَرْضَوْنَ بِالْبَلَاغِ وَیَنُوحُونَ عَلَی الدِّینِ ۔ ترجمہ :امام ابن عقیل الحنبلی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں کے احوال کاجائزہ لیاہے توبڑاہی عجیب معاملہ پایا، وہ گھروں کے اجڑنے پرروتے ہیں ، اپنے رشتہ داروں کی موت پر آہیں بھرتے ہیں ، معاشی تنگدستی پر حسرتیں کرتے ہیں ، زمانے کو برابھلاکہتے ہیں ، حالانکہ وہ دیکھتے ہیں کہ اسلام کی عمارت گررہی ہے ، دین فرقوں میں بٹ چکاہے ، حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی سنتیں مٹ رہی ہیںاوربے دینی کاغلبہ ہے ، گناہوں کی کثرت ہے ،لیکن ان میں سے اپنے دین کے لئے رونے والاکوئی نہیں ہے ۔ اپنی عمربربادکرنے پرکسی کوبھی کوئی افسوس نہیں ہے ۔ اپنے وقت کو ضائع کرنے پر کوئی غم نہیں ہے ، میں اس معاملہ کاایک ہی سبب دیکھتاہوں کہ ان لوگوں کی نظرمیںدین حقیرہوگیاہے اوردنیاان کی فکروں کامحوربن چکی ہے ۔ (الآداب الشرعیۃ والمنح المرعیۃ: محمد بن مفلح شمس الدین المقدسی الرامینی ثم الصالحی الحنبلی (۳:۲۴۴) دین کادردرکھنے والے کسی شخص نے کیاخوب کہاہے کہ اگر تُمھارے پاس دین کا غم نہیںتو تُم دین کے لیے ایک غم ہو۔ صرف نماز میں خلل کی وجہ سے باغ صدقہ کردیا وَحَدَّثَنِی مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ الْأَنْصَارِیَّ کَانَ یُصَلِّی فِی حَائِطِہِ فَطَارَ دُبْسِیٌّ، فَطَفِقَ یَتَرَدَّدُ، یَلْتَمِسُ مَخْرَجًافَأَعْجَبَہُ ذَلِکَ فَجَعَلَ یُتْبِعُہُ بَصَرَہُ سَاعَۃً. ثُمَّ رَجَعَ إِلَی صَلَاتِہِ، فَإِذَا ہُوَ لَا یَدْرِی کَمْ صَلَّی؟ فَقَالَ: لَقَدْ أَصَابَتْنِی فِی مَالِی ہَذَا فِتْنَۃٌ، فَجَاء َ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَذَکَرَ لَہُ الَّذِی أَصَابَہُ فِی حَائِطِہِ مِنَ الْفِتْنَۃِ وَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ ہُوَ صَدَقَۃٌ للَّہِ فَضَعْہُ حَیْثُ شِئْتَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن ابی بکررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںکہ حضرت سیدناابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ اپنے باغ میں نماز اداکررہے تھے ، توایک چڑیااڑی اورنکلنے کی راہ تلاش کرنے لگی ، کیونکہ باغ اس قدرگنجان تھااوردرخت آپس میں ملے ہوئے تھے کہ چڑیاکو نکلنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی ، پس ان کو یہ معاملہ پسندآیااورخوش ہوئے ، اپنے باغ کایہ حال دیکھ کرتوایک گھڑی تک اسی طرف دیکھتے رہے ، توپھرنماز کاخیال آیاتوبھول گئے کہ کتنی رکعات اداکی ہیں؟ تب فرمایاکہ اللہ تعالی نے مجھے اس مال میں آزمایاہے ، تواس کے بعد فوراً حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی بارگاہ عالیہ میں حاضرہوئے اورباغ والاقصہ عرض کیا۔ اورعرض کیا: حضورﷺ! اللہ تعالی کے واسطے یہ باغ صدقہ ہے اوراسے جہاں چاہیں آپ ﷺخرچ فرمائیں ۔ (موطأ الإمام مالک:مالک بن أنس بن مالک بن عامر الأصبحی المدنی (ا:۹۸) نماز میں خلل کے نقصان کو پوراکرنے کے لئے باغ ہی صدقہ کردیا وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ کَانَ یُصَلِّی فِی حَائِطٍ لَہُ بِالْقُفِّ – وَادٍ مِنْ أَوْدِیَۃِ الْمَدِینَۃِ – فِی زَمَانِ الثَّمَرِ، وَالنَّخْلُ قَدْ ذُلِّلَتْ، فَہِیَ مُطَوَّقَۃٌ بِثَمَرِہَا فَنَظَرَ إِلَیْہَا، فَأَعْجَبَہُ مَا رَأَی مِنْ ثَمَرِہَا. ثُمَّ رَجَعَ إِلَی صَلَاتِہِ فَإِذَا ہُوَ لَا یَدْرِی کَمْ صَلَّی؟ فَقَالَ: لَقَدْ أَصَابَتْنِی فِی مَالِی ہَذَا فِتْنَۃٌ، فَجَاء َ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ خَلِیفَۃٌ – فَذَکَرَ لَہُ ذَلِکَ وَقَالَ: ہُوَ صَدَقَۃٌ فَاجْعَلْہُ فِی سُبُلِ الْخَیْرِ. فَبَاعَہُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بِخَمْسِینَ أَلْفًا فَسُمِّیَ ذَلِکَ الْمَالُ الْخَمْسِینَ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن ابی بکررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ اپنے باغ میں نماز اداکررہے تھے اوروہ باغ ’’قف‘‘ میں تھااوریہ ایک وادی کانام ہے اوریہ وادی مدینہ منورہ کی وادی ہے ۔ ایسے موسم میں کہ کھجورپک کرلٹک رہی تھی، گویاکہ پھلوں کے طوق شاخوں کے گلوں میں پڑے تھے ، توانہوںنے نماز میں اسے دیکھااورپھلوں کوپسندکیا، پھرجب خیال آیاکہ وہ تونماز اداکررہے تھے توبھول گئے کہ کتنی رکعات اداکی تھیں۔ توکہاکہ مجھے اس مال سے اللہ تعالی نے آزمایاہے ۔ پھرحضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اوروہ ان دنوں خلیفہ تھے اوران کی خدمت میں یہ واقعہ بیان کیا، پھرعرض کیاکہ یہ صدقہ ہے ، توآپ اسے اللہ تعالی کی راہ میں جہاں چاہیں صرف فرمائیں ۔ پس اس کوحضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ نے پچاس ہزارمیں فروخت کیااوراس مال کانام ہی ’’پچاس ہزارہ‘‘ہوگیا۔ (موطأ الإمام مالک:مالک بن أنس بن مالک بن عامر الأصبحی المدنی (ا:۹۸) ہم ہوس و لالچ میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں۔ ہم دوسروں کا حق مارتے ہیں ۔ مگر مال کے ہوس میں آج ہم یہ سب بھول چکے ہیں۔ ہم اپنے مال سے ایک کوڑی کسی کو دینے کے لیے تیار نہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ دولت مخصوص ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گئی۔ معاشرہ تباہی کے دہانے پہنچ گیا۔ یہ بہت ہی خوفناک صورتحال ہے۔ زکوٰۃ و عُشر یا صدقہ و خیرات اسلام کا وہ ضابطہ تھا جس سے معاشرے میں استحکام تھا۔ غریب بھی بھوکا نہیں سوتا تھا۔ محتاج اور نادار بھی امراء کی خوشیوں میں شریک ہوتے تھے۔ بڑے بڑے صاحبِ مال حضرات ناداروں اور مسکینوں کی مدد کر کے دلی تسکین پاتے تھے، لیکن آج اسلام کی ان تعلیمات سے روگردانی کی وجہ سے ہم چاروں اطراف سے مصائب میں گھرے ہیں۔ برکت نام کی چیز اُٹھ چکی ہے۔ بیماریوں اور پریشانیوں نے ہر گھر کو گھیر رکھا ہے اور ہر انسان اپنے ہی اندر تباہ ہو رہا ہے۔ آج ہم اُمت مسلمہ صدقِ دل سے یہ ارادہ کر لیں۔ کہ ہم اپنے مال سے کچھ حصہ ہی ان متاثرین کے لیے وقف کردیں۔ ہم انہیں اپنے مال سے زکوٰۃ ہی بھیج دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے رشتے داروں، عزیزوں اور دوستوں میں بھی کمزور حال لوگوں کا خیال رکھیں کہ یہی دینِ اسلام کی تعلیمات ہیں۔ اسی میں اللہ اور اس کے حبیب کریمﷺکی رضا شامل ہے۔

جماعت کافوت ہوجانابھی مصیبت ہے

وَأخرج عبد بن حمید عَن الْحسن قَالَ: إِذا فاتتک صَلَاۃ فِی جمَاعَۃ فَاسْتَرْجع فَإِنَّہَا مُصِیبَۃ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبدبن حمیدرحمہ اللہ تعالی حضرت سیدناامام حسن بصری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب تیری نمازجماعت کے ساتھ فوت ہوجائے تو تو{إِنَّا للہ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُون}پڑھ کیونکہ یہ مصیبت ہے ۔ (تفسیرالحسن البصری لامام حسن البصری (۱: ۶۴) جماعت فوت ہونے پر دکھ کااظہارکرنا وَأخرج عبد بن حمید عَن سَواد بن دَاوُدأَن سعید بن الْمسیب جَاء َ وَقد فَاتَتْہُ الصَّلَاۃ فِی الْجَمَاعَۃ فَاسْتَرْجع حَتَّی سمع صَوتہ خَارِجا من الْمَسْجِد۔ ترجمہ : حضرت سیدناسواد بن دائود رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناسعیدبن مسیب رضی اللہ عنہ کی ایک بارجماعت رہ گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے {إِنَّا للہ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُون}پڑھایہاں تک کہ آوازمسجد شریف سے باہرتک گئی ۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (ا:۳۹۱)

اگرمیرابیٹافوت ہوجاتاتو۔۔

وَقَالَ حَاتِم الْأَصَم فاتتنی مرۃ صَلَاۃ الْجَمَاعَۃ فعزانی أَبُو إسحاق البُخَارِیّ وَحدہ وَلَو مَاتَ لی ولد لعزانی أَکثر من عشرَۃ آلَاف إِنْسَان لِأَن مُصِیبَۃ الدین عِنْد النَّاس أَہْون من مُصِیبَۃ الدُّنْیَا ترجمہ :حضرت سیدناحاتم الاصم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری باجماعت نما ز فوت ہوگئی توحضرت سیدناابواسحاق بخاری رحمہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی نے میری تعزیت نہ کی ، اگرمیرابیٹافوت ہوجاتاتودس ہزارسے زیادہ لوگ میرے پاس تعزیت کرنے کے لئے آتے ۔اس لئے کہ لوگوں کے نزدیک دین کی مصیبت دنیوی مصیبت سے ہلکی ہے ۔ (الکبائر: أبی عبد اللہ محمد بن أحمد بن عثمان بن قَایْماز الذہبی :۳۱) حکومت سے بھی زیادہ عزیز جماعت کے ساتھ نماز اداکرناہے وروی أن میمون بن مہران أتی المسجد فقیل لہ إن الناس قد انصرفوا فقال إنا للہ وإنا إلیہ راجعون لفضل ہذہ الصلاۃ أحب إلی من ولایۃ العراق۔ ترجمہ :حضرت سیدنامیمون بن مہران رحمہ اللہ تعالی سے مروی ہے کہ ایک باروہ مسجدشریف میں آئے تولوگوں نے بتایاکہ جماعت ہوگئی ہے اورلوگ بھی نماز اداکرکے چلے گئے ہیں توآپ رحمہ اللہ تعالی نے {إِنَّا للہ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُون}پڑھا اورفرمایاکہ میرے نزدیک نماز کی فضیلت عراق کی حکومت ملنے سے زیادہ ہے ۔ (إحیاء علوم الدین:أبو حامد محمد بن محمد الغزالی الطوسی (ا:۱۴۹)

حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ کاباغ صدقہ کردینا

وَحَکَی ابْنُ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ خَرَجَ إلَی بُسْتَانٍ لَہُ فَرَجَعَ وَقَدْ صَلَّی النَّاسُ الْعَصْرَ، فَقَالَ: إنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إلَیْہِ رَاجِعُونَ، فَاتَتْنِی صَلَاۃُ الْعَصْرِ فِی الْجَمَاعَۃِ أُشْہِدُکُمْ أَنَّ حَائِطِی عَلَی الْمَسَاکِینِ صَدَقَۃٌ لِتَکُونَ کَفَّارَۃً لِمَا صُنِعَ. ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ اپنے ایک باغ کی طرف تشریف لے گئے ، جب وہ واپس ہوئے تو لوگ نماز عصر اداکرچکے تھے ، یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ نے {إِنَّا للہ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُون} پڑھااورارشادفرمایاکہ میری عصرکی جماعت فوت ہوگئی ہے ، لھذامیں تمھیں گواہ بناتاہوں کہ میراوہ باغ جس کودیکھنے کی وجہ سے میری جماعت رہ گئی ہے وہ مساکین پر صدقہ ہے تاکہ یہ اس جماعت چھوٹنے کاکفارہ بن جائے ۔ (إحیاء علوم الدین:أبو حامد محمد بن محمد الغزالی الطوسی (ا:۱۴۹)

معارف ومسائل

(۱) صبرکرنا، مشکل حالات میں دین اورجہاد فی سبیل اللہ اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی ناموس پر کام کرنااورپھراس وقت جب اسلامی نظریات کی اساس پر جب حملے ہورہے ہوں تب حق بات کہنابہت مشکل ہے ۔ اللہ تعالی تمام علماء حق کو استقامت عطافرمائے جو جو بھی اس کارِ جہاد میں شریک ہیں۔ (۲) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اصل غم دین ہی کاغم ہے کیونکہ دنیاکاغم توکفارکوبھی ہوتاہے۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh