Fatwa #2175
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۶۵۔۱۶۶۔۱۶۷ ۔ اللہ تعالی اوراس کے حبیب کریم ﷺکے مقابلے میں اپنے لیڈروں کو بڑا سمجھنے والوں کارد
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,645
سوال (Question):
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۶۵۔۱۶۶۔۱۶۷ ۔ اللہ تعالی اوراس کے حبیب کریم ﷺکے مقابلے میں اپنے لیڈروں کو بڑا سمجھنے والوں کارد
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اللہ تعالی اوراس کے حبیب کریم ﷺکے مقابلے میں اپنے لیڈروں کو بڑا سمجھنے والوں کارد
{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللہِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَہُمْ کَحُبِّ اللہِ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِ وَلَوْ یَرَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلہِ جَمِیْعًا وَّاَنَّ اللہَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ}(۱۶۵){اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِہِمُ الْاَسْبَابُ}(۱۶۶){وَقَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَتَبَرَّاَ مِنْہُمْ کَمَا تَبَرَّء ُوْا مِنَّا کَذٰلِکَ یُرِیْہِمُ اللہُ اَعْمٰلَہُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْہِمْ وَمَا ہُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ}(۱۶۷) ترجمہ کنزالایمان :اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں اور کیسی ہو اگر دیکھیں ظالم وہ وقت جب کہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آئے گا اس لئے کہ سارا زور خدا کو ہے اور اس لئے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔جب بیزار ہوں گے پیشوا اپنے پیروؤں سے اور دیکھیں گے عذاب اور کٹ جائیں گی ان کی سب ڈوریں ۔اور کہیں گے پیرو کاش ہمیں لوٹ کر جانا ہوتا (دنیا میں)تو ہم ان سے توڑ دیتے جیسے انہوں نے ہم سے توڑدی یونہی اللہ انہیں دکھائے گا ان کے کام ان پر حسرتیں ہوکر اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اورکچھ لوگ اللہ تعالی کے سوااورمعبود بنالیتے ہیں کہ ان کے ساتھ بھی اللہ تعالی کی طرح محبت رکھتے ہیں اوراہل ایمان کو اللہ تعالی کے برابرکسی کے ساتھ محبت نہیں ،اور اگر ظالم دیکھتے جب وہ عذاب کو آنکھوں سے دیکھیں گے کیونکہ تمام قوت اللہ تعالی ہی کی ہے اور اللہ تعالی سخت عذاب دینے والاہے۔اور پیروکار کہیں گے اگر ہمیں ایک مرتبہ لوٹ کرجانا مل جائے تو ہم ان پیشوائوں سے ایسے ہی بیزار ہوجاتے ہیں جیسے یہ ہم سے بیزار ہوئے ہیں۔ اللہ تعالی اسی طرح انہیں ان کے اعمال ان پر حسرت بنا کر دکھائے گا اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں۔انداداً سے مرادکون؟
أَحَدُہَا: أَنَّہَا ہِیَ الْأَوْثَانُ الَّتِی اتَّخَذُوہَا آلِہَۃً لِتُقَرِّبَہَمْ إِلَی اللَّہِ زُلْفَی، ورجوا من عندہا النفع والضرر، وَقَصَدُوہَا بِالْمَسَائِلِ، وَنَذَرُوا لَہَا النُّذُورَ، وَقَرَّبُوا لَہَا الْقَرَابِینَ، وَہُوَ قَوْلُ أَکْثَرِ الْمُفَسِّرِینَ، وَعَلَی ہَذَا الْأَصْنَامُ أَنْدَادٌ بَعْضُہَا لِبَعْضٍ، أَیْ أَمْثَالٌ لَیْسَ إنہا أندادا للہ، أو المعنی: إنہا أندادا لِلَّہِ تَعَالَی بِحَسَبِ ظُنُونِہِمُ الْفَاسِدَۃِ. وَثَانِیہَا: أَنَّہُمُ السَّادَۃُ الَّذِینَ کَانُوایُطِیعُونَہُمْ فَیُحِلُّونَ لِمَکَانِ طَاعَتِہِمْ مَا حَرَّمَ اللَّہُ، وَیُحَرِّمُونَ مَا أَحَلَّ اللَّہُ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سے مراد بت ہیں ، جنہیں انہوںنے خدابنالیاتھاکہ ان کی عبادت سے اللہ تعالی کاقرب ملتاہے ، ان سے وہ نفع وضررکے امیدواربنتے ، ان کاحاجات میں قصدکرتے تھے اوران کی نذریں مانتے ، ان کے لئے قربانیاں دیتے، اکثرمفسرین کاقول ہے ، اس صورت میں بت آپس میں ایک دوسرے کے ہم مثل ہونگے یہ نہیں کہ وہ اللہ تعالی کی مثل ہیں یامفہوم یہ ہے کہ ان کے خیالات فاسدہ کے مطابق وہ اللہ تعالی کے مثل تھے۔ اوردوسراقول یہ ہے کہ ’’انداداً‘‘ سے مراد سرداراورلیڈرمراد ہیں جن کی یہ اطاعت کرتے ہیں، تووہ ان پر اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کردیتے ہیں اوراللہ تعالی کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قراردیتے ہیں۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۴:۱۷۹)بت اوران کے پجاری دوزخ میں جائیں گے
عَنِ الرَّبِیعِ، قَوْلِہِ (وَلَوْ یَرَی الَّذِینَ ظَلَمُوا إِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّۃَ لِلَّہِ جَمِیعًا وَأَنَّ اللَّہَ شَدِیدُ الْعَذَابِ)یَقُولُ: لَوْ عَایَنُوا الْعَذَابَ وَإِنَّمَا عَنَی تَعَالَی ذِکْرُہُ بِقَوْلِہِ: وَلَوْ تَرَی الَّذِینَ ظَلَمُوا وَلَوْ تَرَی یَا مُحَمَّدُ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَنْفُسَہُمْ فَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِی أَنْدَادًا یُحِبُّونَہُمْ کَحُبِّکُمْ إِیَّایَ، حِینَ یُعَایِنُونَ عَذَابِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الَّذِی أَعْدَدْتُ لَہُمْ، لَعَلِمْتُمْ أَنَّ الْقُوَّۃَ کُلَّہَا لِی دُونَ الْأَنْدَادِ وَالْآلِہَۃِ، وَأَنَّ الْأَنْدَادَ وَالْآلِہَۃَ لَا تُغْنِی عَنْہُمْ ہُنَالِکَ شَیْئًا، وَلَا تَدْفَعُ عَنْہُمْ عَذَابًا أَحْلَلْتُ بِہِمْ، وَأَیْقَنْتُمْ أَنِّی شَدِیدٌ عَذَابِی لِمَنْ کَفَرَ بِی وَادَّعَی مَعِی إِلَہًا غَیْرِی۔ ترجمہ :حضرت سیدناالربیع رضی اللہ عنہ اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں کہ یعنی اگراے محمدﷺ آپ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والوں کو دیکھیں ، انہوںنے میرے علاوہ میرے شریک بنارکھے ہیں ، جن سے وہ اس طرح محبت کرتے ہیں جس طرح تم مجھ سے محبت کرتے ہو، جب قیامت کے دن وہ میراعذاب دیکھیں گے جو میں نے ان کے لئے تیارکررکھاہے توجان لیں گے کہ قوت توساری کی ساری اللہ تعالی کے پاس ہے ۔ ان شرکاء کے پاس نہیں ، یہ بت ان کوکوئی فائدہ نہیں دیں گے اوران کے عذاب کو وہ ٹال نہیں سکیں گے ، میں ان کو یقین دلائوں گاکہ جو میرے ساتھ کفرکرتاہے اس کے لئے میراعذاب سخت ہے اورجو میرے ساتھ کسی اورخداکادعوی کرتاہے اس کے لئے میراعذاب شدیدہے ۔ (تفسیر الطبری :محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۳:۲۳)لیڈراوران کے پیروکارسب دوزخ میں جائیں گے
عَنْ قَتَادَۃَ:قَوْلُہُ:إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِینَ اتبعوا قال: ہم الجبابرۃ والقادۃ والرؤوس فِی الشَّرِّ وَالشِّرْکِ، مِنَ الَّذِینَ اتَّبَعُوا وَہُمْ: الأَتْبَاعُ وَالضُّعَفَاء ُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ{إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِینَ اتبعوا}سے مراد وہ جابراورقائد لوگ ہیں جو شراورشرک میں سردارتھے { مِنَ الَّذِینَ اتَّبَعُوا}سے مراد پیروی کرنے اورکمزورلوگ ہیں۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس الرازی ابن أبی حاتم (۱:۲۷۷)لیڈراورورکرایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے
وَأخرج عبد بن حمید وَابْن جریر عَن قَتَادَۃ فِی قَوْلہ { وَتَقَطَّعَتْ بِہِمُ الْاَسْبَابُ} قَالَ:أَسبَاب الندامۃ یَوْم الْقِیَامَۃ والأسباب الَّتِی کَانَت بَینہم فِی الدُّنْیَا یتواصلون بہَا ویتحابون بہَا فَصَارَت عَدَاوَۃ یَوْم الْقِیَامَۃ یلعن بَعضہم بَعْضًا۔ ترجمہ:حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ{ وَتَقَطَّعَتْ بِہِمُ الْاَسْبَابُ}میں الاسباب سے مراد قیامت کے روز ندامت کے اسباب ہیں اوراسباب سے مراد ان کے دنیاکے تعلقات ہیں ، جن کو وہ قائم رکھتے تھے اورجن کی وجہ سے وہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے ، پس قیامت کے روز یہ اسباب عداوت اوردشمنی کی شکل اختیارکرجائیں گے اوروہاں ایک دوسرے پر لعنت کریں گے ۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۱:۴۰۳)کفارکے پیروکارقیامت کے دن حسرت پر روئیں اورپیٹیں گے
عَنِ السُّدِّیِّ، کَذَلِکَ یُرِیَہُمُ اللَّہُ أَعْمَالَہُمْ حَسَرَاتٍ عَلَیْہِمْ)زَعَمَ أَنَّہُ یَرْفَعُ لَہُمُ الْجَنَّۃَ فَیَنْظُرُونَ إِلَیْہَا وَإِلَی بُیُوتِہِمْ فِیہَا لَوْ أَنَّہُمْ أَطَاعُوا اللَّہَ، فَیُقَالُ لَہُمْ: تِلْکَ مَسَاکِنُکُمْ لَوْ أَطَعْتُمُ اللَّہَ ثُمَّ تُقْسَمُ بَیْنَ الْمُؤْمِنِینِ، فَیَرِثُونَہُمْ، فَذَلِکَ حِینَ یَنْدَمُونَ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام السدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کفاراگراللہ تعالی کی اطاعت کرتے تو اس اطاعت پر جودرجات ان کو جنت میں ملتے وہ قیامت کے دن ان کے سامنے پیش کیے جائیں گے اورکہاجائے گاکہ اگرتم اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی اطاعت کرتے توتمھیں یہ درجات ملتے ، پھران کے سامنے جنت کے وہ تمام درجات اہل ایمان میں تقسیم کردئیے جائیں گے ۔ تواس پر وہ تمام کفاربڑے شرمندہ ہوں گے اورحسرت اورافسوس کرکے بہت زیادہ روئیں گے اورپیٹیں گے ۔ (الکشف والبیان عن تفسیر القرآن:أبو إسحاق أحمد بن إبراہیم الثعلبی (۴:۲۷۸)اہل ایمان کااللہ تعالی کاحکم سنتے ہی دوزخ میں چھلانگ لگانا
قَالَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ: إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَأْمُرُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنْ أَحْرَقَ نَفْسَہُ فِی الدُّنْیَا عَلَی رُؤْیَۃِ الْأَصْنَامِ أَنْ یَدْخُلُوا جَہَنَّمَ مَعَ أَصْنَامِہِمْ، فَلَا یدخلون (فیہا ویمتنعون منہا)لِعِلْمِہِمْ أَنَّ عَذَابَ جَہَنَّمَ عَلَی الدَّوَامِ، ثُمَّ یَقُولُ لِلْمُؤْمِنِینَ وَہُمْ بَیْنَ أَیْدِیَ الْکُفَّارِ: إِنْ کُنْتُمْ أَحِبَّائِی فَادْخُلُوا جَہَنَّمَ، فَیَقْتَحِمُونَ فِیہَا فَیُنَادِی مُنَادٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ: وَالَّذِینَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ، وَقِیلَ: إِنَّمَا قَالَ وَالَّذِینَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ، لِأَنَّ اللَّہَ تَعَالَی أَحَبَّہُمْ أَوَّلًا ثُمَّ أَحَبُّوہُ، وَمَنْ شَہِدَ لَہُ الْمَعْبُودُ بِالْمَحَبَّۃِ کَانَتْ مَحَبَّتُہُ أَتَمُّ، قَالَ اللَّہُ تعالی:یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ (الْمَائِدَۃِ:۵۴) ترجمہ :حضرت سیدناسعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالی قیامت کے دن اس شخص کو حکم دے گاجس نے دنیامیں بتوں کی محبت میں اپنے آپ کوجلارکھاہوگاکہ وہ بتوں کے ساتھ دوزخ میں داخل ہوجائیں ، پس وہ داخل نہ ہونگے ، کیونکہ وہ جانتے ہوں گے کہ دوزخ کاعذاب دائمی ہے ۔ پھراللہ تعالی اہل ایمان کو کفارکے سامنے فرمائے گا: اگرتم میرے پیارے ہواورمجھ سے محبت کرتے ہوتودوزخ میں چلے جائوتواہل ایمان یہ سنتے ہی دوزخ میں گھس جائیں گے توعرش کے نیچے سے آواز دینے والاآواز دے گا: {وَالَّذِینَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ}اس لئے فرمایاکہ ایمان والوں کو اللہ تعالی نے پہلے محبوب بنایا، پھرایمان والوں نے اللہ تعالی کے ساتھ محبت کی ۔ جس شخص کی محبت کی گواہی معبود برحق خود دے اس کی محبت اتم ہوگی ۔ اللہ تعالی فرماتاہے {یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہ}گویااللہ تعالی نے اہل ایمان سے اپنی محبت کاذکرپہلے فرمایااوراہل ایمان کی محبت کاجو کہ ان کو اللہ تعالی کی ذات عالی سے ہے اس کاذکربعد میں فرمایا۔ (تفسیر البغوی :محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (ا:۱۹۷)محبت الہی کے تڑپادینے والے واقعات
رُوِیَ أَنَّ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَالَ لِمَلَکِ الْمَوْتِ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَقَدْ جَاء َہُ لِقَبْضِ رُوحِہِ: ہَلْ رَأَیْتَ خَلِیلًا یُمِیتُ خَلِیلَہُ؟ فَأَوْحَی اللَّہُ تَعَالَی إِلَیْہِ: ہَلْ رَأَیْتَ خَلِیلًا یَکْرَہُ لِقَاء َ خَلِیلِہِ؟ فَقَالَ:یَا مَلَکَ الْمَوْتِ الْآنَ فَاقْبِضْ۔وَجَاء َ أَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ مَتَی السَّاعَۃُ؟ فَقَالَ مَا أَعْدَدْتَ لَہَا؟فَقَالَ مَا أَعْدَدْتُ کَثِیرَ صَلَاۃٍ وَلَا صِیَامٍ، إِلَّا أَنِّی أُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ، فَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ: الْمَرْء ُ مَعَ من أَحَبَّ .فَقَالَ أَنَسٌ:فَمَا رَأَیْتُ الْمُسْلِمِینَ فَرِحُوا بِشَیْء ٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحَہُمْ بِذَلِکَ۔ وَرُوِیَ أَنَّ عِیسَی عَلَیْہِ السَّلَامُ مَرَّ بِثَلَاثَۃِ نَفَرٍ، وَقَدْ نَحَلَتْ أَبْدَانُہُمْ، وَتَغَیَّرَتْ أَلْوَانُہُمْ، فَقَالَ لَہُمْ: مَا الَّذِی بَلَغَ بِکُمْ إِلَی مَا أَرَی؟ فَقَالُوا:الْخَوْفُ مِنَ النَّارِ، فَقَالَ حَقٌّ عَلَی اللَّہِ أَنْ یُؤَمِّنَ الْخَائِفَ، ثُمَّ تَرَکَہُمْ إِلَی ثَلَاثَۃٍ آخَرِینَ، فَإِذَا ہُمْ أَشَدُّ نُحُولًا وَتَغَیُّرًا، فَقَالَ لَہُمْ:مَا الَّذِی بَلَغَ بِکُمْ إِلَی ہَذَا الْمَقَامِ؟ قَالُوا الشَّوْقُ إِلَی الْجَنَّۃِ، فَقَالَ: حَقٌّ عَلَی اللَّہِ أَنْ یُعْطِیَکُمْ مَا تَرْجُونَ ثُمَّ تَرَکَہُمْ إِلَی ثَلَاثَۃٍ آخَرِینَ فَإِذَا ہُمْ أَشَدُّ نُحُولًا وَتَغَیُّرًا، کَأَنَّ وُجُوہَہُمُ الْمَرَایَا مِنَ النُّورِ، فَقَالَ: کَیْفَ بَلَغْتُمْ إِلَی ہَذِہِ الدَّرَجَۃِ، قَالُوا: بِحُبِّ اللَّہِ فَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ: أَنْتُمُ الْمُقَرَّبُونَ إِلَی اللَّہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَعِنْدَ السُّدِّیِّ قَالَ:تُدْعَی الْأُمَمُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِأَنْبِیَائِہَا، فَیُقَالُ: یَا أُمَّۃَ مُوسَی، وَیَا أُمَّۃَ عِیسَی، وَیَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ، غَیْرَ الْمُحِبِّینَ مِنْہُمْ، فَإِنَّہُمْ یُنَادَوْنَ: یَا أَوْلِیَاء َ اللَّہِ۔وَفِی بَعْضِ الْکُتُبِ:عَبْدِی أَنَا وَحَقِّکَ لَکَ مُحِبٌّ فَبِحَقِّی عَلَیْکَ کُنْ لِی مُحِبًّا۔ ترجمہ :حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام نے ملک الموت علیہ السلام سے فرمایا:جب وہ ان کی روح مبارک کو قبض کرنے کے لئے آئے ۔ کیادوست اپنے دوست کو موت دیتاہے ؟ تواللہ تعالی نے وحی فرمائی ۔کیاکوئی دوست اپنے دوست سے ملاقات ناپسند کرتاہے ؟ یہ سنتے ہی حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے ملک الموت ابھی جلدی میری روح قبض کرو۔ ایک اعرابی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی خدمت اقدس میں حاضرہوئے اورعرض کی : یارسول اللہ ﷺ! قیامت کب آئے گی؟ توحبیب کریم ﷺنے فرمایا: تونے اس کے لئے کیاتیاری کی ہے ؟ عرض کرنے لگے : میں نے اس کے لئے زیادہ نمازیں اورروزے توتیارنہیں کئے مگراللہ تعالی اوراس کے حبیب کریم ﷺکے ساتھ محبت رکھتاہوں ۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: بندہ اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا۔حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسلام کے بعد اہل اسلام کو میں نے اس قدرکسی بات پرخوش نہیں دیکھاجس قدروہ اس بات پرخوش ہوئے۔ حضرت سیدناعیسی علیہ السلام تین افراد کے پاس سے گزرے ، ان کے جسم لاغراوران کے رنگ متغیرہوچکے تھے ، آپ علیہ السلام نے ان سے پوچھاکہ تم کو اس حالت میں کس نے پہنچایا؟ تووہ عرض کرنے لگے کہ آگ کے خوف نے۔ فرمایاکہ اللہ تعالی پر حق ہے کہ وہ خوف رکھنے والوں کو عذاب سے محفوظ فرمادے۔ پھراورتین افراد دیکھے جوپہلوں سے بھی زیادہ کمزوراورمتغیرتھے ، آپ علیہ السلام نے ان سے پوچھا: توانہوںنے عرض کیاکہ جنت کے شوق نے ۔ فرمایاکہ اللہ تعالی پرحق ہے کہ وہ تمھاری امیدکے مطابق تمھیں عطافرمائے۔ اس کے بعد اورتین افراد ملے ، وہ ان سے بھی زیادہ کمزورتھے توگویاکہ وہ نورکاآئینہ ہیں۔ آپ علیہ السلام نے پوچھاکہ تم کو اس حال تک کس نے پہنچایا، بتایاکہ اللہ تعالی کی محبت نے ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایاکہ تم قیامت کے دن اللہ تعالی کے مقرب ہوگے ۔ امام السدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن تمام امتیں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے اسمائے گرامی کے ساتھ یوں بلائی جائیں گی : یاامۃ موسی !یاامۃ عیسی ! یاامۃ احمدعلیہم السلام لیکن یہ محبین کے علاوہ ہوں گے کیونکہ محبین کو قیامت کے دن اس طرح بلایاجائے گا’’یااولیاء اللہ ‘‘ اے اللہ تعالی کے دوستو!۔ بعض کتب میں یہ ہے کہ میرے بندے میںاورتیراحق تیرا محب ہے ، تومیراحق تجھ پر یہ ہے کہ تومیرامحب بنے۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۴:۱۷۹)بندہ مومن اورکافرکی رب تعالی کے ساتھ محبت میں پانچ فرق
حضرت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ عقل مندلوگ اس جہان کی چیزوں کو دیکھ کرخالق عزوجل کاپتہ لگاتے ہیں ، مگربے وقوفوں کے لئے یہ چیزیں ہی حجاب بن جاتی ہیں ، جن میں وہ پھنس کرخالق عزوجل تک نہیں پہنچ سکتے۔ یہ جہان ان کے لئے کانٹے والاجنگل ہے ، جس میں الجھ کر منزل مقصود سے رہ گئے ، چنانچہ لوگوں میں سے بعض وہ بھی ہیں جو ان ماسواللہ کواللہ تعالی کامثل مان بیٹھے ، ان کو خلق وملک میں اللہ تعالی کی طرح سمجھ لیااوران سے اسی قسم کی اوراتنی ہی محبت واطاعت کرنے لگے ، جتنے اللہ تعالی سے کرتے ہیں ، کہ بعض کام اللہ تعالی کے لئے کریں اوربعض کام ان کے لئے کریں ، رب تعالی سے بھی خوف وامیدکرتے ہیں اوران سے بھی ، رب تعالی سے بھی مرادیں مانگتے ہیں اوران سے بھی ، مگرکچھ بھی ہوجتنی محبت اللہ تعالی سے مسلمانوں کو ہے اتنی کسی کونہیں ۔ چندوجہ سے ، ایک یہ کہ کفارکی نظرچندشرکاء پر اوراہل اسلام کی نظرصرف ایک اللہ تعالی پر، اوردوکی محبت سے ایک کی محبت زیادہ قوی ہے ، دوسرے یہ کہ کفارکی محبت نفسانی خواہشات کے لئے ، اہل اسلام کی محبت صرف اورصرف اللہ تعالی کے لئے ۔ کفارتورب کو اس لئے مانیں کہ وہ ہمارے کام آتاہے اورمسلمان کام کاج ، دوست واحباب ،اولاد ، ماں باپ بلکہ اپنی جان سے بھی صرف اسی لئے محبت کرتاہے کہ رب تعالی کاحکم ہے۔ اسی لئے بوقت ضرورت اپناسب کچھ اس کی راہ میں قربان کردیتاہے ، تیسرے کفارمصیبت میں بتوں کوچھوڑدیتے ہیں اورمسلمان ہر حال میں اللہ تعالی کاہی ہوکررہتاہے۔ روح البیان میں بیان ہواکہ بت پرست کچھ ایک پتھرکوپوجتے ہیں ،جب اس سے اچھاپتھرمل گیاتواس کے ساتھ استنجاء کرکے پھینک دیتے ہیںاوردوسرے کواختیارکرلیتے ہیں ۔ بنی باہلہ نے گندم سے بت بنایاتھا، قحط سالی آئی تواسی کو پیس کرکھاگئے ، اب بھی مشرکین آٹے اورکانٹ کے بت بناکرپہلے توان کی پوجاکرتے ہیں پھربغیرڈکارہضم کرجاتے ہیں، چوتھی یہ کہ کفارومشرکین نے اپنی طرف سے رب تعالی کی محبت اپنے دل میں قائم کی ،مگراہل ایمان کے دل میں اللہ تعالی کی محبت اس کے حبیب کریم ﷺنے قائم کی، حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی قائم کردہ محبت یقینی طورپرقوی ہے ، خیال رہے کہ جیسے حضورتاجدارختم نبوت ﷺاللہ تعالی کی تمام نعمتوں کے قاسم ہیں ایسے ہی محبت الہیہ جوکہ رب تعالی کی بڑی نعمت ہے اس کے بھی قاسم ہیں ۔ پانچویں یہ کہ کفارکی محبت الہی کی آگ غیرمحفوظ ہے، ذراسے جھونکے سے بجھ سکتی ہے ، مگرمومن کی محبت الہی کی آگ نبوت کی چمنی سے محفوظ ہے ۔ جسے کوئی بھی تیز وتندہواکاجھونکانہیں بجھاسکتا۔ اس لئے بندہ مومن کی محبت الہی زیادہ قوی ہے ۔ یہ سب حرکتیں اس لئے ہیں نہ توان مشرکین کو عذاب قیامت کی خبرہے اورنہ ہی رب تعالی کی قدرت کی اورنہ اس کی کہ اللہ تعالی کاعذاب سخت ہے۔ مسلمان ان سب باتوں سے بذریعہ نبی کریم ﷺخبردارہے ، اگرکفاربھی نورنبوت کے واسطے سے یہ چیزیں جان لیں توکبھی بھی شرک نہ کریں ۔ (تفسیرنعیمی از مفتی احمدیارخان نعیمی (۲: ۱۲۵،۱۲۶)دینی دشمن حکمرانوں سے دوری اختیارکرنے کابیان
دین دشمن حکمران اوراس کی فوج خنزیربن گئے عَنْ عَمْرِو بْنِ کَثِیرِ بْنِ أَفْلَحَ مَوْلَی أَبِی أَیُّوبَ الْأَنْصَارِیِّ قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ الْمَسْخِ فِی بَنِی إِسْرَائِیلَ مِنَ الْخَنَازِیرِ کَانَ أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ کَانَتْ فِی قَرْیَۃٍ مِنْ قُرَی بَنِی إِسْرَائِیلَ , وَکَانَ فِیہَا مَلِکُ بَنِی إِسْرَائِیلَ , وَکَانُوا قَدِ اسْتَجْمَعُوا عَلَی الْہَلَکَۃِ , إِلَّا أَنَّ تِلْکَ الْمَرْأَۃَ کَانَتْ عَلَی بَقِیَّۃٍ مِنَ الْإِسْلَامِ مُتَمَسِکَّۃً بِہِ , فَجَعَلَتْ تَدْعُو إِلَی اللَّہِ حَتَّی إِذَا اجْتَمَعَ إِلَیْہَا نَاسٌ فَتَابَعُوہَا عَلَی أَمْرِہَا , قَالَتْ لَہُمْ: إِنَّہُ لَا بُدَّ لَکُمْ مِنْ أَنْ تُجَاہِدُوا عَنْ دِینِ اللَّہِ وَأَنْ تُنَادُوا قَوْمَکُمْ بِذَلِکَ فَاخْرُجُوا فَإِنِّی خَارِجَۃٌ. فَخَرَجَتْ وَخَرَجَ إِلَیْہَا ذَلِکَ الْمَلِکُ فِی النَّاسِ فَقَتَلَ أَصْحَابَہَا جَمِیعًا وَانْفَلَتَتْ مِنْ بَیْنِہِمْ. قَالَ: وَدَعَتْ إِلَی اللَّہِ حَتَّی تَجَمَّعَ النَّاسُ إِلَیْہَا , حَتَّی إِذَا رَضِیتُ مِنْہُمْ أَمَرَتْہُمْ بِالْخُرُوجِ فَخَرَجُوا وَخَرَجَتْ مَعَہُمْ وَأُصِیبُوا جَمِیعًا وَانْفَلَتَتْ مِنْ بَیْنِہِمْ. ثُمَّ دَعَتْ إِلَی اللَّہِ حَتَّی إِذَا اجْتَمَعَ إِلَیْہَا رِجَالٌ اسْتَجَابُوا لَہَا ,أَمَرَتْہُمْ بِالْخُرُوجِ فَخَرَجُوا وَخَرَجَتْ فَأُصِیبُوا جَمِیعًا وَانْفَلَتَتْ مِنْ بَیْنِہِمْ فَرَجَعَتْ وَقَدْ أَیِسَتْ وَہِیَ تَقُولُ: سُبْحَانَ اللَّہِ لَوْ کَانَ لِہَذَا الدِّینِ وَلِیُّ وَنَاصِرٌ لَقَدْ أَظْہَرَہُ بَعْدُ قَالَ: فَبَاتَتْ مَحْزُونَۃً وَأَصْبَحَ أَہْلُ الْقَرْیَۃِ یَسْعَوْنَ فِی نَوَاحِیہَا خَنَازِیرَ وَقَدْ مَسَخَہُمُ اللَّہُ فِی لَیْلَتِہِمْ تِلْکَ فَقَالَتْ حِینَ أَصْبَحَتْ وَرَأَتْ مَا رَأَتِ: الْیَوْمَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّہَ قَدْ أَعَزَّ دِینَہُ وَأَمَرَ دِینَہُ. قَالَ: فَمَا کَانَ مَسْخُ الْخَنَازِیرِ فِی بَنِی إِسْرَائِیلَ إِلَّا عَلَی یَدَیْ تِلْکَ الْمَرْأَۃِ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناافلح رضی اللہ عنہ جوحضرت سیدناابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے غلام تھے بیان کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں مسخ خنازیرکی صورت میں ہوا، یہ واقعہ اس طرح ہواکہ ایک عورت بنی اسرائیل کی بستی میں رہتی تھی ، اس بستی میں بنی اسرائیل کابادشاہ بھی رہتاتھا، اس بستی کے لوگوں نے گناہوں پر اتفاق کیا، مگروہ عورت اسلام پر قائم رہی ، وہ ولوگوں کو اسلام کی دعوت دیتی ، جب لوگ اس کے پاس جمع ہوجاتے اوراس کے ہاتھ پربیعت کرلیتے توعورت انہیں کہتی کہ تم پر لازم ہے کہ تم اللہ تعالی کے دین کی طرف سے جہاد کرو، اوراس بارے میں اپنی قوم کو دعوت دو، تم جہاد کے لئے نکلو، میں بھی تمھارے ساتھ نکلتی ہوں ، وہ عورت نکلی اوراس کے مقابلے کے لئے بادشاہ بھی اپنے حامیوں کے ساتھ ساتھ نکلا، اس عورت کے تمام ساتھی قتل ہوگئے اوروہ عورت ان سے بچ نکلی ، اس نے لوگوں کو دعوت دی ، یہاں تک کہ لوگ اس کے پاس جمع ہوگئے ، جب وہ عورت ان لوگوں کی اطاعت سے راضی ہوگئی، توانہیں جہاد کاحکم دیا، لوگ جہادکے لئے نکل کھڑے ہوئے اوروہ بھی ان کے ساتھ جہاد کے لئے روانہ ہوگئی ، تواس بارپھروہ سب کے سب راہ خدامیں شہید ہوگئے ، وہ پھربچ نکلی ، اس عورت نے پھرلوگوں کو دعوت دی ، یہاں تک کہ جب لوگ اس کے پاس جمع ہوگئے اوراس کی دعوت پر لبیک کہا، عورت نے پھرجہاد پرنکلنے کاحکم دیا، وہ جہاد پرنکلے ، وہ عورت بھی ان کے ساتھ جہاد پر نکلی ، تووہ عورت بچ گئی ، عورت نے پھردعوت دی ، جب لوگ اس کے پاس جمع ہوگئے اورلوگوں نے اس کی دعوت پر لبیک کہا، عورت نے انہیں جہاد کرنے کاحکم دیا، لوگ جہاد کے لئے نکل کھڑے ہوئے تووہ عورت بھی جہاد کے لئے نکل پڑی ، توسب کو گرفتارکرلیاگیا، وہ عورت ان سے بچ گئی ، وہ عورت واپس آئی ، وہ سخت مایوس تھی ، وہ کہہ رہی تھی اگراس دین میں کوئی مددگاراورحمائتی ہوتاتواسے غلبہ عطاکرتا، اس نے رات غم کی حالت میں گزاری ، صبح کے وقت بستی کے تمام لوگ خنزیربن چکے تھے اورگلیوں میں ادھرادھرگھوم رہے تھے ۔ اللہ تعالی نے اسی رات ان تمام لوگوں کو خنزیربنادیا، جب صبح ہوئی اوراس نے یہ منظردیکھاتوایک ہی آن میں اسے معلوم ہوگیاکہ اللہ تعالی نے اپنے دین اوردین کے معاملے کو غلبہ عطافرمایاہے ۔ بنی اسرائیل میں خنازیرکی صورت میں مسخ اس عورت کے ہاتھ پرہوا۔ (تفسیر الطبری:محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۸:۵۴۰)دینی دشمن حکمرانوں کو حوض کوثرسے دھتکاردیاجائے گا
قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَسَمِعَنِی النُّعْمَانُ بْنُ أَبِی عَیَّاشٍ وَأَنَا أُحَدِّثُہُمْ ہَذَا فَقَالَ ہَکَذَا سَمِعْتَ سَہْلًا فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْہَدُ عَلَی أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ لَسَمِعْتُہُ یَزِیدُ فِیہِ قَالَ إِنَّہُمْ مِنِّی فَیُقَالُ إِنَّکَ لَا تَدْرِی مَا بَدَّلُوا بَعْدَکَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِی۔ ترجمہ :ابو حازم نے کہا کہ نعمان بن ابو عیاش نے مجھے بیان کرتے ہوئے سنا تو کہا: تم نے حضرت سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے اسی طرح سنا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں:انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت اسی طرح سنی ہے البتہ وہ اس میں اضافہ بیان کرتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:یہ لوگ مجھ سے ہیں۔ آپﷺ کو کہا جائے گا: تم نہیں جانتے کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا تبدیلیاں کردی تھیں۔ اس وقت میں کہوں گا:دوری ہو، دوری ہو ان کے لیے جنہوں نے میرے بعد(دین میں)تبدیلیاں کردیں۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۹:۴۶)دین دشمن حاکم کی اطاعت نہ کرنا
عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: سَیَلِی أُمُورَکُمْ مِنْ بَعْدِی رِجَالٌ یُعَرِّفُونَکُمْ مَا تُنْکِرُونَ، وَیُنَکِّرُونَکُمْ مَا تَعْرِفُونَ، فَلَا طَاعَۃَ لِمَنْ عَصَی اللَّہَ فَلَا تَعْتَلُّوا بِرَبِّکُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکوفرماتے ہوئے سناکہ میرے بعد حکمران آئیں گے جو تمھیں ایسے کاموں کی پہچان کروائیں گے جنہیں تم ناپسندکرتے ہوگے اورایسے کاموں کوناپسندکریں گے جنہیں تم اچھاجانتے ہوگے ، سوجوحاکم اللہ تعالی کی نافرمانی کرے اس کی اطاعت ضروری نہیں ہے اورتم اس وقت بھی رب تعالی کے حکم کے پابندرہنا۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۳۷:۴۲۰)دین کے ایک حکم پر عمل کرنے سے روکنے والے کوعذاب میں مبتلاء کردیا
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَۃَ، قَالَ:انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ وَمَعَہُ دَرَقَۃٌ ثُمَّ اسْتَتَرَ بِہَا، ثُمَّ بَالَ، فَقُلْنَا:انْظُرُوا إِلَیْہِ یَبُولُ کَمَا تَبُولُ الْمَرْأَۃُ، فَسَمِعَ ذَلِکَ، فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمُوا مَا لَقِیَ صَاحِبُ بَنِی إِسْرَائِیلَ، کَانُوا إِذَا أَصَابَہُمُ الْبَوْلُ قَطَعُوا مَا أَصَابَہُ الْبَوْلُ مِنْہُمْ، فَنَہَاہُمْ فَعُذِّبَ فِی قَبْرِہِ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺہمارے پاس تشریف لائے توآپ ﷺکے دست مبارک میں چمڑے کی ڈھال جیسی کوئی چیز تھی ، آپ ﷺنے اسے آڑکے طورپر اپنے سامنے رکھااوربیٹھ کربول مبارک فرمانے لگے ، کسی نے کہاکہ دیکھوتوسہی ، حضورتاجدارختم نبوت ﷺعورتوں کی طرح ( مکمل طورپرپردہ کرکے ) قضائے حاجت کررہے ہیں ، حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے اس کی یہ بات سن لی اورفرمایاکہ ہائے افسوس !کیاتمھیں معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کے ساتھ کیاہواتھا؟ بنی اسرائیل کے جسم پر اگرپیشاب وغیرہ لگ جاتاتووہ اس حصے کو قینچی کے ساتھ کاٹتے تھے ، ایک آدمی نے انہیں ایساکرنے سے منع کیاتواس کو عذاب قبرمیں مبتلاء کردیاگیا۔ (سنن أبی داود:أبو داود سلیمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشیر بن شداد السَِّجِسْتانی (۱:۶) اس اسرائیلی نے صرف ایک حکم خداوندی پر عمل کرنے سے لوگوں کومنع کیاتھااس کاحال یہ ہوامگرآج ہمارے دورمیں کتنے بڑے دین دشمن حکمران ہیں جنہوںنے مکمل دین پرپابندی عائد کی ہوئی ہے ، صرف دس فی صدپرعمل کی اجازت تھی تواب وہ بھی کروناوائرس کی وجہ سے مکمل طورپر منع کردیاگیاہے۔ اسلام کو ٹکڑے ٹکڑے کردیاجائے گا عَنِ ابْنِ فَیْرُوزَ الدَّیْلَمِیِّ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَیُنْقَضَنَّ الْإِسْلَامُ عُرْوَۃً،عُرْوَۃً کَمَا یُنْقَضُ الْحَبْلُ قُوَّۃً، قُوَّۃً۔ ترجمہ :حضرت سیدنافیروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: ایک وقت ایساضرورآئے گاجب اسلام کی رسی کاایک ایک دھاگہ نکال کرتوڑ دیاجائے گاجیسے عام رسی کو ریزہ ریزہ کردیاجاتاہے۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۲۹:۵۷۴) جوحاکم رب تعالی کے حکم کے موافق فیصلہ نہ کرے ؟ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُرَّۃَ، عَنِ الْبَرَاء ِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:مُرَّ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَہُودِیٍّ مُحَمَّمًا مَجْلُودًا، فَدَعَاہُمْ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:ہَکَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِی فِی کِتَابِکُمْ؟، قَالُوا:نَعَمْ، فَدَعَا رَجُلًا مِنْ عُلَمَائِہِمْ، فَقَالَ: أَنْشُدُکَ بِاللہِ الَّذِی أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ عَلَی مُوسَی، أَہَکَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِی فِی کِتَابِکُمْ قَالَ:لَا، وَلَوْلَا أَنَّکَ نَشَدْتَنِی بِہَذَا لَمْ أُخْبِرْکَ، نَجِدُہُ الرَّجْمَ، وَلَکِنَّہُ کَثُرَ فِی أَشْرَافِنَا، فَکُنَّا إِذَا أَخَذْنَا الشَّرِیفَ تَرَکْنَاہُ، وَإِذَا أَخَذْنَا الضَّعِیفَ أَقَمْنَا عَلَیْہِ الْحَدَّ، قُلْنَا:تَعَالَوْا فَلْنَجْتَمِعْ عَلَی شَیْء ٍ نُقِیمُہُ عَلَی الشَّرِیفِ وَالْوَضِیعِ، فَجَعَلْنَا التَّحْمِیمَ، وَالْجَلْدَ مَکَانَ الرَّجْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اللہُمَّ إِنِّی أَوَّلُ مَنْ أَحْیَا أَمْرَکَ إِذْ أَمَاتُوہُ، فَأَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ، فَأَنْزَلَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ:(یَا أَیُّہَا الرَّسُولُ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِینَ یُسَارِعُونَ فِی الْکُفْرِ)(المائدۃ:۴۱)إِلَی قَوْلِہِ (إِنْ أُوتِیتُمْ ہَذَا فَخُذُوہُ)(المائدۃ: ۴۱)، یَقُولُ: ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ أَمَرَکُمْ بِالتَّحْمِیمِ وَالْجَلْدِ فَخُذُوہُ، وَإِنْ أَفْتَاکُمْ بِالرَّجْمِ فَاحْذَرُوا، فَأَنْزَلَ اللہُ تَعَالَی (وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللہُ فَأُولَئِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللہُ فَأُولَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللہُ فَأُولَئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ) فِی الْکُفَّارِ کُلُّہَا۔ ترجمہ :حضرت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا:ایک یہودی کوحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے قریب سے گزارا گیا جس کا منہ کالا کیا ہوا تھا اسے کوڑے لگائے گئے تھے، آپ نے انہیں (ان کے عالموں کو)بلایا اور پوچھا:کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد اسی طرح پاتے ہو؟انہوں نے کہا:جی ہاں۔ (بعد ازاں آپ ﷺکے حکم سے تورات منگوائی گئی۔ انہوں نے آیت رجم چھپا لی، وہ ظاہر ہو گئی۔ اس کے بعد)آپ ﷺنے ان کے علماء میں سے ایک آدمی کو بلایا اور فرمایا:میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی!کیا تم لوگ اپنی کتاب میں زانی کی حد اسی طرح پاتے ہو؟اس نے جواب دیا:نہیں، اور اگر آپ ﷺمجھے یہ قسم نہ دیتے تو میں آپ ﷺکو نہ بتاتا۔ (ہم کتاب میں)رجم (کی سزا لکھی ہوئی)پاتے ہیں۔ لیکن ہمارے اشراف میں زنا بہت بڑھ گیا۔ (اس وجہ سے)ہم جب کسی معزز کو پکڑتے تھے تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد نافذ کر دیتے تھے۔ ہم نے (آپس میں)کہا: آؤ!کسی ایسی چیز (سزا)پر جمع ہو جائیں جسے ہم معزز اور معمولی آدمی (دونوں)پر لاگو کر سکیں، تو ہم نے رجم کے بجائے منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے (کی سزا)بنا لی۔ اس پر حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:اے اللہ!میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا جبکہ انہوں نے اسے مردہ کر دیا تھا۔پھر آپﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔ اس پر اللہ عزوجل نے (یہ آیت)نازل فرمائی:اے رسولﷺ!آپﷺ ان لوگوں کے پیچھے نہ کڑھیے جو تیزی سے کفر میں داخل ہوتے ہیں ۔’’اس فرمان تک‘‘اگر تمہیں یہی حکم دیا جائے تو قبول کر لینا۔(المائدہ:۴۱)(ان کو مشورہ دینے والا)کہتا تھا: حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے پاس جاؤ، اگر وہ تمہیں (یہی)منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے کا حکم دیں تو قبول کر لینا اور اگر رجم کا فتویٰ دیں تو احتراز کرنا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت)نازل فرمائی:اور جو لوگ اس (حکم)کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں۔(المائدہ: ۴۱)اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کریںجو اللہ نے نازل کیا ہے تووہی لوگ ظالم ہیں۔(المائدۃ:۴۵)اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ تعالی نے اتارا ہے تو وہی لوگ فاسق ہیں۔(المائدہ:۴۷)یہ ساری آیات کفار کے بارے میں ہیں۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۳:۱۳۲۷)معارف ومسائل
(۱)اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔ محبت ِ الٰہی میں جینا اورمحبت ِ الٰہی میں مرنا ان کی حقیقی زندگی ہوتا ہے۔اپنی خوشی پر اپنے رب کی رضا کو ترجیح دینا، نرم وگداز بستروں کو چھوڑ کر بارگاہِ نیاز میں سر بَسجود ہونا، یادِ الٰہی میں رونا، رضائے الٰہی کے حصول کیلئے تڑپنا، سردیوں کی طویل راتوں میں قیام اور گرمیوں کے لمبے دنوں میں روزے ، اللہ تعالیٰ کیلئے محبت کرنا، اسی کی خاطر دشمنی رکھنا، اسی کی خاطر کسی کو کچھ دینا اور اسی کی خاطر کسی سے روک لینا، نعمت پر شکر، مصیبت میں صبر، ہر حال میں خدا پر توکل، اپنے ہر معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا، احکامِ الٰہی پر عمل کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا، دل کو غیر کی محبت سے پاک رکھنا، اللہ تعالیٰ کے محبوبوں سے محبت اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے نفرت کرنا، اللہ تعالیٰ کے پیاروں کا نیاز مندرہنا،اللہ تعالیٰ کے سب سے پیارے رسولﷺ کو دل و جان سے محبوب رکھنا، اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت، اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کو اپنے دلوں کے قریب رکھنا، ان سے محبت رکھنا، محبت ِ الٰہی میں اضافے کیلئے ان کی صحبت اختیار کرنا، اللہ تعالیٰ کی تعظیم سمجھتے ہوئے ان کی تعظیم کرنا،یہ تمام امور اور ان کے علاوہ سینکڑوں کام ایسے ہیں جو محبت الٰہی کی دلیل بھی ہیں اور اس کے تقاضے بھی ہیں۔ (۲)جوشخص دین کے ساتھ محبت کرتاہے وہ لیڈر پرست نہیں ہوسکتا اور جو لیڈر پرست ہوتا ہے وہ خداپرست نہیں رہ سکتا۔ ہم شاید دنیا کی واحد قوم ہیں جہاں عوام اپنے خالق ومالک عزوجل اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے وفادار ہونے کے بجائے اپنے لیڈرز کے عاشق اور اپنے نظریاتی، لسانی یا صوبائی گروہ کے وفادار ہوتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ وہ خود کو عاشق رسول اورمخلص مومن بھی سمجھتے ہیں۔ دنیاکاکوئی بھی شخص تب تک ترقی نہیں کرسکتاجب تک وہ دین کو سب سے بڑھ کر اہم نہ سمجھیں۔ کوئی قوم دنیا کی فلاح نہیں پاسکتی اگر اس کے افراد کے لیے دین کا مفاد سب سے اہم نہ ہو۔ مگر ہمارے ملک میں اس وقت کی سیاسی صورتحال دیکھ لیجیے تو صاف معلوم ہوگا کہ یہاں کوئی پی ٹی آئی کا سچا عاشق ہے، کوئی مسلم لیگ کا دیوانہ ہے اور کوئی پیپلز پارٹی کا جیالا ہے۔ اب یہ سب لیڈران مل کر اپنے اپنے دائرے میںدین کے ساتھ کتنی ہی دشمنی کیوں نہ کریں، وہ بندہ مرجائے گا، مگر اپنی لیڈرشپ پر تنقید برداشت نہیں کرے گا۔ اس کا کام بس یہ ہوگا کہ ہر وقت اپنی پارٹی اور لیڈر کی اندھی حمایت کرتا رہے ، چاہے اس کی پارٹی کاسربراہ کفربکے ، بتوں کی پوجاکرے ،قادیانیوں کو اپنابھائی کہے ، سکھوں کے ہاں جاکرفاتحہ پڑھے ، علماء کوقید کردے ، ختم نبوت (ﷺ)پر ڈاکہ ڈال دے ، گستاخ عورت کو رہاکرکے یہودونصاری سے شاباشیں وصول کرے ،کرکٹ میچ کے لئے مساجد بندکردے غرضیکہ دین پاک کے احکامات کی دھجیاں بکھیرکررکھ دے ۔ کوئی اس کی پارٹی اور لیڈر پر اس جیسے انتہائی خطرناک معاملات کے ان سے سرزدہونے پر تنقید کر دے تو وہ لٹھ لے کر اس کے پیچھے پڑ جائے گا۔ چاہے اس کے لیے گالیاں بکنی پڑیں، مذاق اڑانا پڑے، جھوٹے اعداد و شمار بیان کرنے پڑیں، حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا پڑے، جھوٹے پروپیگنڈے کو آنکھیں بند کرکے آگے بڑھانا پڑے، لایعنی اور باطل دلیلوں کے انبار لگانا پڑیں،خواہ دین مبارک کے پہرے داروں کے خلاف جس طرح کی بازاری زبان بولنی پڑے اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لیڈر پرستی کو اختیار کرنے والے اصل لوگ وہ ہوتے ہیں جن کے کسی لیڈر سے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ مگر وہ اسے ایک اصولی نقطہ نظر بنا کر پیش کرتے ہیں۔ دوسرے لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنی نادانی کی بنا پر پہلی قسم کے لوگوں کے جھوٹے پروپیگنڈے پر یقین کرلیتے ہیں۔ مگر ایسے لوگوں کو جان لینا چاہیے کہ وہ اصلاً لیڈر پرست ہیں نہ کہ خداپرست۔ (۳)ہمارے ملک پاکستان میں ان سیاسی پارٹیوں کے پیروکاروں میں وہی لوگ شامل ہیں جو مغرب کی تہذیب کے سامنے فکری اور تہذیبی طور پر شکست کھائے ہوئے ہیں جو اس معاشرے کواللہ تعالی اور حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کی عطا کردہ صراط مستقیم کے بجائے مغربی اقدار کے سانچے پر قائم دیکھنا چاہتے ہیں۔ مغرب پسند ان لوگوں کو پہلے ہی حکمرانوں کی تائید حاصل تھی ،مگراب تو یہی دین بیزار لوگ ہی اقتدارمیں آگئے ہیں ۔ علامہ محمداقبال رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں تیرے امیر مال مست تیرے غریب حال مست
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9