Fatwa #2178
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۷۱۔ جو شخص حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی دعوت کو قبول نہ کرے وہ گائے گدھے کی مثل ہے
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,963
سوال (Question):
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۷۱۔ جو شخص حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی دعوت کو قبول نہ کرے وہ گائے گدھے کی مثل ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جو شخص حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی دعوت کو قبول نہ کرے وہ گائے گدھے کی مثل ہے
{وَمَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآء ً وَّ نِدَآء ً صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ}(۱۷۱) ترجمہ کنزالایمان :اور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے بہرے گونگے اندھے تو انہیں سمجھ نہیں ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اورکافروں کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو کسی ایسے شخص کو پکارے جو خالی چیخ وپکارکے علاوہ کچھ نہیں سنتا، یہ کافربہرے ، گونگے اندھے ہیں تویہ سمجھتے نہیں۔وہ مثل حمار ہیں
وَأَخْرَجَ ابْنُ جَرِیرٍ، وَابْنُ أَبِی حَاتِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی قَوْلِہِ:وَمَثَلُ الَّذِینَ کَفَرُوا الْآیَۃَ، قَالَ:کَمَثَلِ الْبَقَرِ وَالْحِمَارِ وَالشَّاۃِ إِنْ قُلْتَ لِبَعْضِہِمْ کَلَامًا لم یعلم ما تقول غیر أنہ سمع صَوْتَکَ وَکَذَلِکَ الْکَافِرُ إِنْ أَمَرْتَہُ بِخَیْرٍ أَوْ نَہَیْتَہُ عَنْ شَرٍّ أَوْ وَعَظْتَہُ لَمْ یَعْقِلْ مَا تَقُولُ غَیْرَ أَنَّہُ یَسْمَعُ صَوْتَکَ. ترجمہ:حضرت سیدناامام ابن ابی حاتم رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت کیاہے کہ جو لوگ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتے ان کی مثال گائے ،گدھے اوربکریوں کی ہے ، اگرتوان کو کچھ کہے تووہ کچھ نہیں جانتے سوائے اس کے کہ وہ آواز سنتے ہیں اورایسے ہی کفارہیں ، اگرتوانہیں نیکی کاحکم دے یابرائی سے منع کرے یاانہیں نصیحت کرے تویہ آپ کی بات نہیں سمجھتے مگرصرف آواز سنتے ہیں۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس بن المنذر التمیمی، الحنظلی، الرازی(۱:۲۸۲)دعوت حق قبول نہ کرنے والے گدھے اوربکری کی مثل ہیں
وَأخرج عبد بن حمید عَن مُجَاہِد فِی قَوْلہ (کَمثل الَّذِی ینعق)قَالَ:الرَّاعِی (بِمَا لَا یسمع)قَالَ:الْبَہَائِم (إِلَّا دُعَاء ونداء ) قَالَ: کَمثل الْبَعِیر وَالشَّاۃ تسمع الصَّوْت وَلَا تعقل۔ ترجمہ:حضرت سیدنامجاہد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { الَّذِیْ یَنْعِقُ }سے مراد بکریوں کامالک ہے اور{بِمَا لَا یَسْمَعُ }سے مراد جانور ہے ، فرمایاوہ گدھے اوربکری کی مثل ہے جو آواز کو سنتے ہیں سمجھتے نہیں ۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (ا:۴۰۶)یہودیوں کو پڑھالکھاکہنے والوں کارد
عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ: قَالَ لِی عَطَاء ٌ فِی ہَذِہِ الْآیَۃِ:ہُمُ الْیَہُودُ الَّذِینَ أَنْزَلَ اللَّہُ فِیہِمْ:إِنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ مِنَ الْکِتابِ إِلَی قَوْلِہِ: فَما أَصْبَرَہُمْ عَلَی النَّارِ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابن جریج رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سیدناعطاء رحمہ اللہ تعالی نے بیان کیا کہ یہ آیت {إِنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ مِنَ الْکِتابِ } سے لیکر{فَما أَصْبَرَہُمْ عَلَی النَّارِ }تک یہودیوں کے متعلق نا زل فرمائی۔ (تفسیر الطبری :محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۳:۵۱)گدھے سے تشبیہ اس لئے دی گئی تاکہ کافرکادل ٹوٹے
اعْلَمْ أَنَّہُ تَعَالَی لَمَّا حَکَی عَنِ الْکُفَّارِ أَنَّہُمْ عِنْدَ الدُّعَاء ِ إِلَی اتِّبَاعِ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ تَرَکُوا النَّظَرَ وَالتَّدَبُّرَ، وَأَخْلَدُوا إِلَی التَّقْلِیدِ، وَقَالُوا:بَلْ نَتَّبِعُ ما أَلْفَیْنا عَلَیْہِ آباء َنا (البقرۃ: ۱۷۰) ضَرَبَ لَہُمْ ہَذَا الْمَثَلَ تَنْبِیہًا لِلسَّامِعِینَ لَہُمْ أَنَّہُمْ إِنَّمَا وَقَعُوا فِیمَا وَقَعُوا فِیہِ بِسَبَبِ تَرْکِ الْإِصْغَاء ِ، وَقِلَّۃِ الِاہْتِمَامِ بِالدِّینِ، فَصَیَّرَہُمْ مِنْ ہذا الوجہ بمنزلۃ الْأَنْعَامِ، وَمِثْلُ ہَذَا الْمَثَلِ یَزِیدُ السَّامِعَ مَعْرِفَۃً بِأَحْوَالِ الْکُفَّارِ، وَیُحَقِّرُ إِلَی الْکَافِرِ نَفْسَہُ إِذَا سَمِعَ ذَلِکَ، فَیَکُونُ کَسْرًا لِقَلْبِہِ، وَتَضْیِیقًا لِصَدْرِہِ، حَیْثُ صَیَّرَہُ کَالْبَہِیمَۃِ فَیَکُونُ فِی ذَلِکَ نِہَایَۃُ الزَّجْرِ وَالرَّدْعِ لِمَنْ یَسْمَعُہُ عَنْ أَنْ یَسْلُکَ مثل طریقہ فی التقلید۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی محمدبن عمر الرازی المتوفی: ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے کفارکی یہ بات نقل فرمائی کہ جب انہیں اللہ تعالی کی نازل کردہ آیات کی اتباع کاکہاجاتاہے تووہ نظرواستدلال سے بھاگ کر تقلید پرجمتے ہیں اورکہتے ہیں کہ {بَلْ نَتَّبِعُ ما أَلْفَیْنا عَلَیْہِ آباء َنا }(البقرۃ: ۱۷۰)کہتے ہیںکہ ہم تواس کی پیروی کریں گے جس پراپنے باپ داداکو پایا۔ تواب سامعین کو تنبیہ کے لئے ان کی مثال دی کہ وہ اس گڑھے میں گرے ہیں تواس کاسبب ترک ِ توجہ اوراہتمام دین میں قلت اورکمی ہے یعنی ان کے نزدیک دین کی کوئی اہمیت نہیں ہے تواس وجہ سے اللہ تعالی نے ان کو انسانوں کے مقام سے گراکرجانوروں کے مقام پر کردیا۔ ان کو جانوروں کے ساتھ مثال دینے میں احوال ِ کفارکی معرفت میں اضافہ کے لئے ہے اوراس لئے بھی کہ خود کو کافراپنی نظرمیں حقیرمحسوس کرے گاتووہ اپنے دل کوتوڑے گااورسینے کو تنگ پائے گا، جب اسے چوپائے بنادیاتوہر سامع کے لئے بطورتقلیدان کی راہ چلنے والوں کے لئے یہ انتہاء درجہ کی زجروتوبیخ ہے ۔ (التفسیر الکبیر: أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۵:۱۸۹)وجہ شبہ ؟
وَہُوَ قَوْلُ الْأَخْفَشِ وَالزَّجَّاجِ وَابْنِ قُتَیْبَۃَ، کَأَنَّہُ قَالَ:وَمَثَلُ مَنْ یَدْعُو الَّذِینَ کَفَرُوا إِلَی الْحَقِّ کَمَثَلِ الَّذِی یَنْعِقُ، فَصَارَ النَّاعِقُ الَّذِی ہُوَ الرَّاعِی بمنزل الدَّاعِی إِلَی الْحَقِّ، وَہُوَ الرَّسُولُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ وَسَائِرُ الدُّعَاۃِ إِلَی الْحَقِّ وَصَارَ الْکُفَّارُ بِمَنْزِلَۃِ الْغَنَمِ الْمَنْعُوقِ بِہَا وَوَجْہُ التَّشْبِیہِ أَنَّ الْبَہِیمَۃَ تَسْمَعُ الصَّوْتَ وَلَا تَفْہَمُ الْمُرَادَ، وَہَؤُلَاء ِ الْکُفَّارُ کَانُوا یَسْمَعُونَ صَوْتَ الرَّسُولِ وَأَلْفَاظَہُ، وَمَا کَانُوا یَنْتَفِعُونَ بِہَا وَبِمَعَانِیہَا لَا جَرَمَ حَصَلَ وَجْہُ التَّشْبِیہ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام اخفش ،زجاج اورابن قتیبہ رضی اللہ عنہم کایہی قول ہے کہ گویایوں فرمایاہے کہ مثال ان لوگوں کی جو کفارکو حق کی طرف دعوت دیتے ہیں ، چوپایوں کوآواز دینے والوں کی طرح ہے توآواز دینے والاچرواہابمنزل ِحق کی طرف داعی کے ہے اوریہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺاورتمام حق کی طرف داعی لوگ ہیں اورکفاران بکریوں کی مانندہیں جنہیں آواز دی جاتی ہے ۔ وجہ تشبیہ یوں ہے کہ چوپایہ آواز سنتاہے مگرمراد نہیں سمجھتاہے یہ کفاربھی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی آواز توسنتے ہیں لیکن ان کے معانی سے نفع وفائدہ نہیں اٹھاتے لھذاوجہ تشبیہ یہاں حاصل ہے ۔ (التفسیر الکبیر: أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۵:۱۸۹){صُمٌّ بُکْمٌ عُمْی}فرماکراللہ تعالی نے کفارکو مزیدذلیل کردیا
أَمَّا قَوْلُہُ تَعَالَی:صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَاعْلَمْ أَنَّہُ تَعَالَی لَمَّا شَبَّہَہُمْ بِالْبَہَائِمِ زَادَ فِی تَبْکِیتِہِمْ، فَقَالَ:صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ لِأَنَّہُمْ صَارُوا بِمَنْزِلَۃِ الصُّمِّ فِی أَنَّ الَّذِی سَمِعُوہُ کَأَنَّہُمْ لَمْ یَسْمَعُوہُ وَبِمَنْزِلَۃِ الْبُکْمِ فِی أَنْ لَا یَسْتَجِیبُوا لِمَا دُعُوا إِلَیْہِ وَبِمَنْزِلَۃِ الْعُمْیِ مِنْ حَیْثُ إِنَّہُمْ أَعْرَضُوا عَنِ الدَّلَائِلِ فَصَارُوا کَأَنَّہُمْ لَمْ یُشَاہِدُوہَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام محمدبن عمرالرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے جب کفارکوجانوروںکے ساتھ تشبیہ دی توان کی ذلت میں اضافہ کرتے ہوئے فرمایا {صُمٌّ بُکْمٌ عُمْی}تویہ بات سننے میں اس بہرے کی جگہ ہیں گویااس نے سنانہیں ، یہ بمنزلہ گونگے کے ہیں یہ دعوت کاجوا ب نہیں دیتے ، بمنزل اندھے کے ہیں کہ یہ دلائل سے اعراض کرتے ہیں گویاوہ اسے دیکھتے ہی نہیں ۔ (التفسیر الکبیر: أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۵:۱۸۹)جوشخص دین کی بات نہ سمجھے وہ اندھاہے
صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ رفع علی الذم ای لا یسمعون سماع تفکر ولا ینطقون بالخیر ولا یبصرون الہدی فَہُمْ لا یَعْقِلُونَ:۱۷۱)امر الدین للاخلال عن النظر ۔ ترجمہ :حضرت امام قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہاں فعل ذم مقدرہے، مطلب یہ ہے کہ یہ کافرآیات کو فکرونظرسے نہیں سنتے ، اس لئے بہرے ہیں اورنہ کلمات خیران کی زبان سے نکلتے ہیں اس لئے گونگے ہیں اورراہ ہدایت کو دیکھتے نہیں اس وجہ سے اندھے ہیں۔ { فَہُمْ لا یَعْقِلُونَ}سووہ کچھ نہیں سمجھتے ، یعنی چونکہ ان کی فکرونظرمیں خلل واقع ہوگیاہے اس لئے دین کی بات کو نہیں سمجھتے ۔ ( التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۱:۱۶۶)ایک سوال اوراس کاجواب
ہم روز مرہ دیکھتے ہیں کہ کفارتوسنتے بھی ہیں اوردیکھتے ہیں اورانہیں بہت عقل ہے اوربہت زیادہ عقل مندہوتے ہیں کتنی ترقی کرگئے ہیں اورترقی کرتے کرتے کہاں سے کہاں جاپہنچے ہیں توپھرقرآن کریم نے ان کو پاگل کیوں کہا؟ اس کاجواب یہ ہے کہ یہ لوگ اگرچہ ظاہرمیں سنتے ہیں مگرحقیقت میں بہرے ہیں کلمہ حق سن نہیں سکتے ،باطل کے حق میں مقررہیں لیکن حق کے حق میں گونگے ہیں ، حق بات زبان سے نہیں نکل سکتی ، سب کچھ دیکھتے ہیں مگردل کے اندھے ہیں حق اورباطل میں فرق نظرنہیں آتا، پس اس لئے ان کے تمام حواس جو عقل کے مبادی اورمقدمات ہیں وہ سب کے سب مختل بلکہ گم ہوگئے ہیں ، اس لئے یہ لوگ حق وہدایت کو کچھ نہیں سمجھتے ، پس یہ لوگ جانوروںکی طرح عقل معاش تورکھتے ہیں مگرعقل معاد (جس سے انسان آخرت کی فکرمیں لگارہتاہے ) نہیں رکھتےمعارف ومسائل
(۱) قرآن کریم نے یہودونصاری کو جانورقراردیا، اب جوبھی شخص ان کی پیروی کرکے جانور بنناچاہتاہے تویہ اس کی مرضی ہے ۔ (۲) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اللہ تعالی نے یہودکو جانورکہہ کراہل ایمان کو تنبیہ کی ہے کہ کوئی بھی شخص کسی بھی معاملے میں ان کی پیروی نہ کرے کیونکہ کوئی بھی دانااورصاحب فہم کسی بھی جانور کی تقلید نہیں کرتا۔ (۳) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ ہر وہ شخص جو حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتاوہ گدھے سے بھی بدترہے ۔کیونکہ انسانیت نام ہی اطاعت الہی اوراطاعت نبوی ﷺکاہے ۔ (۴) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جو شخص حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتااسے گدھاکہنایااس کی مثل کہنابالکل جائز ہے ۔ (۵) اوراسلام قبول نہ کرنے والوں کو اندھا، بہرااورگونگاکہنااز روئے قرآن جائزہے ۔ (۶) اوراس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جسے رب تعالی کاقرآن کریم اندھا، بہرااورگونگاکہے اس کی پیروی کرناجائز نہیں ہے کیونکہ جو بھی شخص ان کی پیروی کرے گا وہ بھی کوئی پاگل ہی ہوگا، اب ہمارے معاشرے کے لبرل وسیکولر یہودونصاری کی پیروی میں مرے جاتے ہیں ان سے بڑاپاگل کون ہوگا؟ (۷) اس سے معلوم ہواکہ جو چیز دینی نفع نہ دے وہ بے کارہے، چاہے اس سے دنیوی سینکڑوں فوائد حاصل ہوتے ہوں ، جیسے کفاراپنے آنکھ ، کان اورناک سے دنیاکے سارے کام لیتے ہیں مگرجب انہیں دین پرصرف نہ کیاتوانہیں بہرہ گونگاکہہ دیاگیا۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9