صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2181 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۷۸۔۱۷۹ ۔

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,281

سوال (Question):

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۷۸۔۱۷۹ ۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اسلامی حدودپراعتراضات کرنے والے کافراورمرتدہیں

{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی فَمَنْ عُفِیَ لَہ مِنْ اَخِیْہِ شَیْء ٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآء ٌ اِلَیْہِ بِاِحْسٰنٍ ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہ عَذَابٌ اَلِیْمٌ}(۱۷۸){وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰٓاُولِی الْاَلْبٰبِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ}(۱۷۹) ترجمہ کنزالایمان :اے ایمان والوں تم پر فرض ہے کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی تو بھلائی سے تقاضا ہو اور اچھی طرح ادا یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت تو اس کے بعد جو زیادتی کرے اس کے لئے دردناک عذاب ہے ۔اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقل مندو کہ تم کہیں بچو ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے ایمان والو! تم پر فرض ہے کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کابدلہ لو، آزاد کے بدلے آزاداورغلام کے بدلے غلام اورعورت کے بدلے عورت توجس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی توبھلائی سے تقاضاہواوراچھی طرح اداکرنا، یہ تمھارے رب تعالی کی طرف سے تمھارابوجھ ہلکاکرناہے اورتم پر رحمت تواس کے بعدجو زیادتی کرے اس کے لئے درناک عذاب ہے۔ زمانہ جاہلیت میں دو قبیلے آپس میں لڑتے ، ایک معزز ہوتا (یعنی اس کا تعلق قبیلہ بنو نضیر سے ہوتا )اور دوسرا پسماندہ ہوتا (یعنی اس کا تعلق بنو قریظہ سے ہوتا)اور پسماندہ قبیلہ کا غلام معزز قبیلے کے غلام کو قتل کر دیتا تو معزز قبیلہ کہتا کہ ہم اپنے غلام کے بدلے میں پسماندہ قبیلے کے آزادشخص کو قتل کریں گے، اسی طرح اگر پسماندہ قبیلے کی کوئی عورت معزز قبیلے کی کسی عورت کو قتل کرتی تو معزز قبیلہ کہتا کے ہم اپنی عورت کے بدلے میں پسماندہ قبیلے کے مرد کو قتل کریں گے ۔ تو ان کے رد میں یہ آ یت نازل ہوئی۔

قانون کانفاذ کون کرے گا؟

لَا خِلَافَ أَنَّ الْقِصَاصَ فِی الْقَتْلِ لا یقیمہ إلا أولو الْأَمْرِ، فُرِضَ عَلَیْہِمُ النُّہُوضُ بِالْقِصَاصِ وَإِقَامَۃُ الْحُدُودِ وَغَیْرُ ذَلِکَ، لِأَنَّ اللَّہَ سُبْحَانَہُ خَاطَبَ جَمِیعَ الْمُؤْمِنِینَ بِالْقِصَاصِ، ثُمَّ لَا یَتَہَیَّأُ لِلْمُؤْمِنِینَ جَمِیعًا أَنْ یَجْتَمِعُوا عَلَی الْقِصَاصِ، فَأَقَامُوا السُّلْطَانَ مَقَامَ أنفسہم فِی إِقَامَۃِ الْقِصَاصِ وَغَیْرِہِ مِنَ الْحُدُودِ۔ ترجمہ :حضر ت سیدناامام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ قتل کافیصلہ اولی الامرحاکم کرے گا، ان پرقصاص کاقائم کرنااورحدودکونافذ کرنافرض کیاگیاہے کیونکہ اللہ تعالی نے تمام مومنین کوقصاص کے ساتھ خطاب فرمایا۔ پھرتمام مسلمان توقصاص پر جمع نہیں ہوسکتے توانہوںنے سب کے قائم مقام سلطان کوکیاکہ وہ قصاص وحدودکوقائم کرے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۲۴۴)

قصاص میں حیات کیسے ؟

’’وَلَکُمْ فِی الْقِصاصِ حَیاۃٌ‘‘ہَذَا مِنَ الْکَلَامِ الْبَلِیغِ الْوَجِیزِ کَمَا تَقَدَّمَ. وَمَعْنَاہُ: لَا یَقْتُلُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا، رَوَاہُ سُفْیَانُ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ أَبِی مَالِکٍ وَالْمَعْنَی: َٔنَّ الْقِصَاصَ إِذَا أُقِیمَ وَتَحَقَّقَ الْحُکْمُ فِیہِ ازْدُجِرَ مَنْ یُرِیدُ قَتْلَ آخَرَ، مَخَافَۃَ أَنْ یُقْتَصَّ مِنْہُ فَحَیِیَا بِذَلِکَ مَعًا. وَکَانَتِ الْعَرَبُ إِذَا قُتِلَ الرَّجُلُ الْآخَرُ حَمِیَ قَبِیلَاہُمَا وَتَقَاتَلُوا، وَکَانَ ذَلِکَ دَاعِیًا إِلَی قَتْلِ الْعَدَدِ الْکَثِیرِ، فَلَمَّا شَرَعَ اللَّہُ الْقِصَاصَ قَنَعَ الْکُلُّ بِہِ وَتَرَکُوا الِاقْتِتَالَ، فَلَہُمْ فِی ذَلِکَ حَیَاۃٌ۔ ترجمہ :اللہ تعالی کایہ فرمان شریف {وَلَکُمْ فِی الْقِصاصِ حَیاۃٌ}یہ بلیغ مگرمختصر کلام ہے ، اس کامعنی یہ ہے کہ بعض بعض کو قتل نہ کریں ، یہ حضرت سیدناسفیان نے السدی سے انہوںنے ابومالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیاہے ۔ مطلب یہ ہے کہ قصاص جب قائم کیاجائے گااورحکم قاتل میں ثابت ہوجائے گاتووہ دوسرے قتل کے ارادہ سے باز رہے گااس خوف سے کہ اس سے قصاص لیاجائے گا، پس اس سے وہ دونوں زندہ رہیں گے ۔ عرب میں یہ رواج تھاکہ جب کوئی شخص دوسرے کوقتل کرتاتھاتو دونوں قبیلے گرم ہوجاتے اورآپس میں جنگ کرتے اوریہ چیز بہت زیادہ لوگوں کے قتل کاباعث بنتی ، جب اللہ تعالی نے قصاص مشروع فرمایاتوتمام اس پرقناعت کرنے والے ہوگئے اورجنگ ترک کردی پس ان کے لئے اس میں زندگی ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۲۴۴)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے گستاخ کو ماورائے عدالت قتل کرنا

احادیث مبارکہ کثرت کے ساتھ کتب حدیث شریف میں موجودہیںجن میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے گستاخ کو قتل کرنے کا حکم ملتا ہے۔ اور خود حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ایسے گستاخوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے ۔ظاہر ہے اس وقت اسلامی حکومت تھی اور یہ کام اسلامی حاکم کے حکم سے انجام پائے ہیں ۔لیکن اگر کسی نے انفرادی طور پر اُٹھ کر ایسے گستاخ کو قتل کردیا تو اسکا کیا حکم ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنت شریفہ میں اسکی کوئی مثال اگر ہے تواس سے راہنمائی لیتے ہیں اورخود حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے گستاخ کو واصل بالنارکرنے والے کے ساتھ کیا رویہ اپنایا ہے؟۔ پہلی حدیث شریف عَنْ عِکْرِمَۃَ، قَالَ:حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَعْمَی کَانَتْ لَہُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَتَقَعُ فِیہِ، فَیَنْہَاہَا، فَلَا تَنْتَہِی، وَیَزْجُرُہَا فَلَا تَنْزَجِرُ، قَالَ:فَلَمَّا کَانَتْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ، جَعَلَتْ تَقَعُ فِی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَتَشْتُمُہُ، فَأَخَذَ الْمِغْوَلَ فَوَضَعَہُ فِی بَطْنِہَا، وَاتَّکَأَ عَلَیْہَا فَقَتَلَہَا، فَوَقَعَ بَیْنَ رِجْلَیْہَا طِفْلٌ، فَلَطَّخَتْ مَا ہُنَاکَ بِالدَّمِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُکِرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ: أَنْشُدُ اللَّہَ رَجُلًا فَعَلَ مَا فَعَلَ لِی عَلَیْہِ حَقٌّ إِلَّا قَامَ، فَقَامَ الْأَعْمَی یَتَخَطَّی النَّاسَ وَہُوَ یَتَزَلْزَلُ حَتَّی قَعَدَ بَیْنَ یَدَیِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ، أَنَا صَاحِبُہَا، کَانَتْ تَشْتُمُکَ، وَتَقَعُ فِیکَ، فَأَنْہَاہَا فَلَا تَنْتَہِی، وَأَزْجُرُہَا، فَلَا تَنْزَجِرُ، وَلِی مِنْہَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَیْنِ، وَکَانَتْ بِی رَفِیقَۃً، فَلَمَّا کَانَ الْبَارِحَۃَ جَعَلَتْ تَشْتُمُکَ، وَتَقَعُ فِیکَ، فَأَخَذْتُ الْمِغْوَلَ فَوَضَعْتُہُ فِی بَطْنِہَا، وَاتَّکَأْتُ عَلَیْہَا حَتَّی قَتَلْتُہَا، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَلَا اشْہَدُوا أَنَّ دَمَہَا ہَدَرٌ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ کی ام ولد باندی تھی جو کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی گستاخیاں کرتی تھی ۔یہ نابینا صحابی رضی اللہ عنہ اسکو روکتے تھے مگر وہ نہ رکتی تھی ۔ یہ اسے ڈانٹتے تھے مگر وہ نہیں مانتی تھی۔راوی کہتے ہے کہ جب ایک رات پھر اس نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی شان میں گستاخیاں کرنی اور گالیں دینی شروع کیں تو ان نابینا صحابی رضی اللہ عنہ نے ہتھیار(خنجر)لیا اور اسکے پیٹ پر رکھا اور اس پر اپنا وزن ڈال کر دبا دیا اور مار ڈالا، عورت کی ٹانگوں کے درمیان سے بچہ نکل پڑا، جو کچھ وہاں تھا خون الود ہوا ۔جب صبح ہوئی تو یہ واقعہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ہاں ذکر ہوا۔آپﷺ نے لوگوں کو جمع کیا ، پھر فرمایا کہ اس آدمی کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے قتل کیاجو کچھ میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہوجائے تو نابینا صحابی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے ،لوگوں کو پھلانگتے ہوئے اس حالت میں آگے بڑھے کہ وہ کانپ رہے تھے،حتی کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے سامنے بیٹھ گئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ!ﷺ میں ہوں اسے مارنے والا، یہ آپﷺ کو گالیاں دیتی تھی اور گستاخیاں کرتی تھی میں اسے روکتا تھا وہ نہ رکتی تھی ، میں دھمکاتا تھا وہ باز نہیں آتی تھی اور اس سے میرے دو بچے ہیں جو موتیوں کی طرح ہیں اور وہ مجھ پر مہربان بھی تھی،لیکن آج رات جب اس نے آپ ﷺکو گالیاں دینی اور برا بھلا کہنا شروع کیا تو میں نے خنجر لیا اور اسکے پیٹ پر رکھا اور زور لگا کر اسے مار ڈالاحضور تاجدار ختم نبوت ﷺنے فرمایا کہ لوگو!گواہ رہو اسکا خون بے بدلہ (بے سزا)ہے۔ (سنن أبی داود:أبو داود سلیمان بن الأشعث السَِّجِسْتانی (۴:۱۲۹) دوسری حدیث شریف عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، أَنَّ یَہُودِیَّۃً کَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِیہِ، فَخَنَقَہَا رَجُلٌ حَتَّی مَاتَتْ، فَأَبْطَلَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَمَہَا۔ ترجمہ:حضرت سیدنامولا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودیہ عورت حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی گستاخیاں کرتی تھی اور برا کہتی تھی تو ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئی ،تو حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے اسکے خون کو ضائع قرار دے دیا۔ (سنن أبی داود:أبو داود سلیمان بن الأشعث السَِّجِسْتانی (۴:۱۲۹) پہلی حدیث میںتو ایک مملوکہ باندی کا ذکرتھا اور دوسری حدیث میںغیر مملوکہ غیر مسلم کا ذکرہے، مگر غیرت ایمانی نے کسی قسم کا خیال کئے بغیر جوش ایمانی میں جو کرنا تھا کردیا اور حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے بھی اسکا بدلہ باطل قرار دیا ۔ دونوں واقعات سے معلوم ہوا کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو گالیاں دینے والامباح الدم بن جاتا ہے اور اگر کوئی اس گستاخ کو انفرادی طور پر قتل کرے تو اس قتل کرنے والے کیلئے کوئی سزا نہیں ہے۔ بلکہ اس گستاخ کو قتل کرنے والا ہر قسم کے جرم و سزا سے آزاد ہوگا۔نیز حق کا علمبردار بن کر ثواب عظیم کا مستحق بن جاتا ہے۔ گستاخ رسول کاقتل حکومت کے ذمہ ہے۔ اور عام آدمی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لے ،لیکن اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لے کر اس گستاخ کو قتل کیا تو اس قتل کرنے والے پر کوئی قصاص یا تاوان نہیں ہوگا کیونکہ مرتد مباح الدم ہوتا ہے اور جائز القتل ہوتا ہے۔ عام آدمی اگر اسکو قتل کردے تو یہ آدمی مجرم نہیں ہوگا۔ تیسری حدیث شریف فحکی أن غلمانا من أہل البحرین خرجوا یلعبون بالصوالجۃ وأسقف البحرین قاعد، فوقعت الأکرۃ علی صدرہ، فأخذہا، فجعلوا یطلبونہا منہ فأبی، فقال غلام منہم: سألتک بحق محمد صلی اللہ علیہ وسلم إلا رددتہا علینا، فأبی لعنہ اللہ وسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فأقبلوا علیہ بصوالجہم، فما زالوا یخبطوا حتی مات لعنۃ اللہ علیہ، فرفع ذلک إلی عمر رضی اللہ تعالی عنہ فو اللہ ما فرح بفتح ولا غنیمۃ کفرحتہ بقتل الغلمان لذلک الأسقف، وقال: الآن عز الإسلام إن أطفالا صغارا شتم نبیہم فغضبوا لہ وانتصروا وأہدر دم الأسقف، واللہ سبحانہ وتعالی أعلم، وصلی اللہ علی سیدنا محمد، وعلی آلہ وصحبہ وسلم. ترجمہ:امام شہاب الدین محمدبن احمدبن منصورابوالفتح المتوفی: ۸۵۲ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اہالیانِ بحرین کے بچے باہرنکل کرصوالجہ(ہاکی جیسا)کھیل رہے تھے اوربحرین کابڑاپادری وہاں بیٹھاہواتھا۔اچانک گینداس کے سینے پرجالگااس نے اسے پکڑلیا،بچے ا س سے گیندمانگنے لگے اس نے دینے سے انکارکردیا،پھربچوں نے اسے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکاواسطہ دیاتواس نے گینددینے سے انکارکردیااوراس ذلیل نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کوبھی گالی دے دی ،سارے بچے مل کراپنی کھیل کی لاٹھیوں کیساتھ اس پرکودپڑے اوراس کواس وقت تک زدوکوب کرتے رہے حتی کہ وہ مرگیا۔یہ واقعہ حضرت سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجاگیاتوبخداآپ رضی اللہ عنہ فتح یامالِ غنیمت سے اس قدرخوش نہیں ہوئے جتنے بچوں کے اس پادری کوقتل کرنے پرمسرورہوئے ۔اورآپ نے کہاکہ آج اللہ نے اسلام کوعزت دیدی ہے کہ بچوں نے اپنے حبیب کریمﷺ کی گستاخی پرغیظ وغضب کامظاہرہ کیااورانہوں نے انتقام لے لیا۔ (المستطرف فی کل فن مستطرف:شہاب الدین محمد بن أحمد بن منصور الأبشیہی أبو الفتح:۴۷۰) چوتھی حدیث شریف أَخْبَرَنَا یُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی قِرَاء َۃً، أَنْبَأَ ابْنُ وَہْبٍ، أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ قَالَ: اخْتَصَمَ رَجُلانِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَضَی بَیْنَہُمَا، فَقَالَ الَّذِی قَضَی عَلَیْہِ: رُدَّنَا إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، انْطَلِقَا إِلَی عُمَرَ، فَلَمَّا أَتَیَا عُمَرَ قَالَ الرَّجُلُ: یَا ابْنَ الْخَطَّابِ قَضَی لِی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی ہَذَا، فَقَالَ:رُدَّنَا إِلَی عُمَرَ حَتَّی أَخْرُجَ إِلَیْکُمَا فَأَقْضِیَ بَیْنَکُمَا، فَخَرَجَ إِلَیْہِمَا، مُشْتَمِلا عَلَی سَیْفِہِ فَضَرَبَ الَّذِی قَالَ:رُدَّنَا إِلَی عُمَرَ فَقَتَلَہُ، وَأَدْبَرَ الآخَرُ فَارّاً إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:یَا رَسُولَ اللَّہِ، قَتَلَ عُمَرُ وَاللَّہِ صَاحِبِی وَلَوْ مَا أَنِّی أَعْجَزْتُہُ لَقَتَلَنِی، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا کُنْتُ أظن أن یَجْتَرِئُ عُمَرُ عَلَی قَتْلِ مُؤْمِنَیْنِ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی فَلا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ فِیمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوا فِی أَنْفُسِہِمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوا تَسْلِیماً فَہَدَرَ دَمَ ذَلِکَ الرَّجُلِ وَبَرِئَ عُمَرُ مِنْ قَتْلِہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوالاسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بشرنامی ایک منافق کاایک یہودی سے جھگڑاتھا، یہودی نے کہا: چلوحضورتاجدارختم نبوت ﷺ کے پاس چلتے ہیں اورفیصلہ کروالیتے ہیں ، منافق نے خیال کیاکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺبے رعایت محض حق پرمبنی فیصلہ فرمائیں گے تواس کامطلب حاصل نہ ہوگا، اس لئے اس نے باوجود دعوی ایمان کے یہ کہاکہ کعب بن اشرف یہودی کو حاکم مان لیتے ہیں اوراس سے فیصلہ کروالیتے ہیں ، یہودی جانتاتھاکہ کعب بن اشرف رشوت خور ہے وہ دغاکرجائے گا، باوجود اس کے ہم مذہب ہونے کے اس یہودی نے کعب بن اشرف کے پاس جانے سے انکارکردیا، اب ناچاراس منافق کو فیصلہ کروانے کے لئے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے پاس آناپڑا، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے جوفیصلہ دیاوہ یہودی کے موافق ہوا، یہاں سے فیصلہ سننے کے بعد پھرمنافق یہودی کے درپے ہوگیااوراسے مجبورکرکے حضرت سیدناعمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا، یہودی نے حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کو عرض کی کہ میرایہ معاملہ حضورتاجدارختم نبوتﷺحل فرماچکے ہیں اورانہوںنے میرے حق میں فیصلہ فرمایاہے ، لیکن یہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے فیصلے پرراضی نہیں ہوا، یہ چاہتاہے کہ ہمارے درمیان فیصلہ آپ فرمائیں ، آپ رضی اللہ عنہ نے دونوں کوفرمایاکہ تم یہیں رکومیں آتاہوں اورفیصلہ کرتاہوں، یہ فرماکرآپ رضی اللہ عنہ گھرتشریف لے گئے اورتلوارلاکر اس منافق کو قتل کردیااورفرمایاجو اللہ تعالی اور حضورتاجدارختم نبوتﷺکافیصلہ نہ مانے اس کامیرے پاس یہ فیصلہ ہے ۔ دوسراشخص بھاگتاہواحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی بارگاہ اقدس میں آیااورعرض کرنے لگاکہ حضور! حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے میرے ساتھی کوقتل کردیا، اگرمیں بھی وہاں رکارہتاتووہ مجھے بھی قتل کردیتے ۔حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: میرانہیں خیال کہ میراعمرکسی مومن کو قتل کردے تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی { فَلا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ فِیمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوا فِی أَنْفُسِہِمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوا تَسْلِیماً }پھرحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے اس منافق کاخون رائیگا ں قراردیااورحضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ کو اس قتل سے بری فرمادیا۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس بن المنذر التمیمی، الحنظلی، الرازی(۳:۹۹۴)

لقب فاروق کی وجہ؟

وَأخرج الْحَافِظ دُحَیْم فِی تَفْسِیرہ عَن عتبَۃ بن ضَمرَۃ عَن أَبِیہ فَأتی جِبْرِیل رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم فَقَالَ:إِن عمر قد قتل الرجل وَفرق اللہ بَین الْحق وَالْبَاطِل علی لِسَان عمرفَسُمی الْفَارُوق۔ ترجمہ :حضرت سیدناعتبہ بن ضمرہ اپنے والد ماجد حضرت سیدناضمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایاکہ میرے پاس جبریل امین علیہ السلام آئے اورمجھے بتایاکہ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے اس منافق کو قتل کیا، اللہ تعالی نے حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کی زبان سے حق وباطل کے درمیان فیصلہ فرمادیااورحضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ کالقب اس کے بعد فاروق پڑگیا۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۲:۵۸۵) پانچویں حدیث شریف عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی أَیُّوبَ، أَنَّ یَزِیدَ بْنَ أَبِی حَبِیبٍ، حَدَّثَہُ أَنَّ السَّلَمَ بْنَ یَزِیدَ , وَیَزِیدَ بْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَاہُ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ أُمَیَّۃَ، أَنَّہُ کَانَتْ لَہُ أُخْتٌ وَکَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آذَتْہُ فِیہِ وشَتَمَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَانَتْ مُشْرِکَۃً، فَاشْتَمَلَ لَہَا یَوْمًا عَلَی السَّیْفِ، ثُمَّ أَتَاہَا فَوَضَعَہُ عَلَیْہَا فَقَتَلَہَا، فَقَامَ بَنُوہَا فَصَاحُوا وَقَالُوا:قَدْ عَلِمْنَا مَنْ قَتَلَہَا أَفَتُقْتَلُ أُمُّنَا؟ وہَؤُلَاء ِ قَوْمٌ لَہُمْ آبَاء ٌ وَأُمَّہَاتٌ مُشْرِکُونَ، فَلَمَّا خَافَ عُمَیْرٌ أَنْ یَقْتُلُوا غَیْرَ قَاتِلِہَا ذَہَبَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ:أَقَتَلْتَ أُخْتَکَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:وَلِمَ؟ قَالَ:إِنَّہَا کَانَتْ تُؤْذِینِی فِیکَ، فَأَرْسَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی بَنِیہَا فَسَأَلَہُمْ؟ فَسَمُّوا غَیْرَ قَاتِلِہَا، فَأَخْبَرَہُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِہِ وأَہْدَرَ دَمَہَا قَالُوا:سَمْعًا وَطَاعَۃً۔ ترجمہ:حضر ت سیدناعمیربن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی بہن جوکہ مشرکہ تھی ، جب وہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی بارگاہ اقدس میں حاضرہوتے تو وہ ان کو حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کے حوالے سے اذیت دیتی اورآپ ْﷺکو گالیاں دیتی ۔ ایک دن یہ تلوار لے کرآئے اوراسے قتل کردیا،اس کے بیٹے کھڑے ہوئے اورچیخ وپکارکرنے لگے اورکہنے لگے کہ ہم کوعلم ہے کہ اس کو کس نے قتل کیاہے ، ہماری ماں مارڈالی گئی ، جبکہ یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے ماں باپ مشرک ہیں ، جب حضرت سیدناعمیررضی اللہ عنہ کو خطرہ لاحق ہواکہ وہ اپنی ماں کے بدلے میں کسی اورکو قتل کردیں گے توحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی بارگاہ اقدس میں حاضرہوئے توآپ ﷺ کو اس قتل کی خبردی ، حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ان سے پوچھاکہ کیاتم نے اپنی بہن کو مارڈالاہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جی یارسول اللہ ﷺ! حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: تم نے کیوں قتل کیاہے ؟ عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!وہ آپ ﷺ کی گستاخی کرتی تومجھے بہت زیادہ تکلیف ہوتی تھی ، توحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے اس کے بیٹوں کو بلایاجوکہ سارے کے سارے اہل ایمان تھے ، ان سے ان کی ماں کے قاتل کے بارے میں دریافت کیاتوانہوںنے حضرت سیدناعمیررضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اورکانام لیاتو حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ان کو اس قتل کے بارے میں بتایااوراس کاخون ضائع قراردیا، مقتولہ کے بیٹوں نے جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺکافرمان شریف سناتوکہنے لگے کہ ہم نے سنااوراطاعت کی ۔ (المعجم الکبیر:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (۱۷:۶۴) چھٹی حدیث شریف حَدّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِیہِ، أَنّ عَصْمَاء َ بِنْتَ مَرْوَانَ مِنْ بَنِی أُمَیّۃَ بْنِ زَیْدٍ، کَانَتْ تَحْتَ یَزِیدَ بْنِ زَیْدِ بْنِ حِصْنٍ الْخَطْمِیّ، وَکَانَتْ تُؤْذِی النّبِیّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَتَعِیبُ الْإِسْلَامَ، وَتُحَرّضُ عَلَی النّبِیّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ شِعْرًا: فَبِاسْتِ بَنِی مَالِکٍ والنّبِیتِ.. وَعَوْفٍ وَبِاسْتِ بَنِی الْخَزْرَجِ أَطَعْتُمْ أَتَاوِی مِنْ غَیْرِکُمْ … فَلَا مِنْ مُرَادٍ وَلَا مُذْحِجِ تَرَجّوْنَہُ بَعْدَ قَتْلِ الرّء ُوسِ … کَمَا یُرْتَجَی مَرَقُ الْمُنْضَجِ قَالَ عُمَیْرُ بْنُ عَدِیّ بْنِ خَرَشَۃَ بْنِ أمیّۃ الخطمیّ حین بلغہ قولہاوَتَحْرِیضُہَا: اللہُمّ، إنّ لَک عَلَیّ نَذْرًا لَئِنْ رَدَدْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی الْمَدِینَۃِ لَأَقْتُلَنّہَا- وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَئِذٍ بِبَدْرٍ- فَلَمّا رَجَعَ رَسُولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من بدر جَاء َہَا عُمَیْرُ بْنُ عَدِیّ فِی جَوْفِ اللّیْلِ حَتّی دَخَلَ عَلَیْہَا فِی بَیْتِہَا، وَحَوْلَہَا نَفَرٌ مِنْ وَلَدِہَا نِیَامٌ، مِنْہُمْ مَنْ تُرْضِعُہُ فِی صَدْرِہَا، فَجَسّہَا بِیَدِہِ، فَوَجَدَ الصّبِیّ تُرْضِعُہُ فَنَحّاہُ عَنْہَا، ثُمّ وَضَعَ سَیْفَہُ عَلَی صَدْرِہَا حَتّی أَنْفَذَہُ مِنْ ظَہْرِہَا، ثُمّ خَرَجَ حَتّی صَلّی الصّبْحَ مَعَ النّبِیّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِینَۃِ.فَلَمّا انْصَرَفَ النّبِیّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إلَی عُمَیْرٍ فَقَالَ: أَقَتَلْت بِنْتَ مَرْوَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ بِأَبِی أَنْتَ یَا رَسُولَ اللہ. وخشی عمیر أن یکون فتات عَلَی النّبِیّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِہَا فَقَالَ: ہَلْ عَلَیّ فِی ذَلِکَ شَیْء ٌ یَا رَسُولَ اللہِ؟ قَالَ: لَا یَنْتَطِحُ فِیہَا عَنْزَانِ ، فَإِنّ أَوّلَ مَا سَمِعْت ہَذِہِ الْکَلِمَۃَ مِنْ النّبِیّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ. قَالَ عُمَیْرٌ:فَالْتَفَتَ النّبِیّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی مَنْ حَوْلَہُ فَقَالَ: إذَا أَحْبَبْتُمْ أَنْ تَنْظُرُوا إلَی رَجُلٍ نَصَرَ اللہَ وَرَسُولَہُ بِالْغَیْبِ، فَانْظُرُوا إلَی عُمَیْرِ بْنِ عَدِیّ. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ: اُنْظُرُوا إلَی ہَذَا الْأَعْمَی الّذِی تَشَدّدَ فِی طَاعَۃِ اللہِ. فَقَالَ: لَا تَقُلْ الْأَعْمَی، وَلَکِنّہُ الْبَصِیرُ!فَلَمّا رَجَعَ عُمَیْرٌ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَدَ بَنِیہَا فِی جَمَاعَۃٍ یَدْفِنُونَہَا، فَأَقْبَلُوا إلَیْہِ حِینَ رَأَوْہُ مُقْبِلًا مِنْ الْمَدِینَۃِ، فَقَالُوا: یَا عُمَیْرُ، أَنْتَ قَتَلْتہَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فکیدونی جمیعا ثم لا تنظرون، فو الذی نَفْسِی بِیَدِہِ، لَوْ قُلْتُمْ بِأَجْمَعِکُمْ مَا قَالَتْ لَضَرَبْتُکُمْ بِسَیْفِی ہَذَا حَتّی أَمُوتَ أَوْ أَقْتُلَکُمْ. فیومئذ ظہر الإسلام فِی بَنِی خَطْمَۃَ، وَکَانَ مِنْہُمْ رِجَالٌ یَسْتَخْفُونَ بِالْإِسْلَامِ خَوْفًا مِنْ قَوْمِہِمْ، ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں کہ عصماء بنت مروان بنی امیہ بن زید میں سے تھی جو کہ یزید بن زید بن حصن الخطمی کے نکاح میں تھی یہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی گستاخی کیاکرتی تھی اور اسلام کے خلاف بکواس کیاکرتی تھی اور اہل اسلام کے خلاف لوگوں کوبھڑکاتی تھی ، اوروہ اس طرح کے اشعار پڑھا کرتی تھی : فَبِاسْتِ بَنِی مَالِکٍ والنّبِیتِ.. وَعَوْفٍ وَبِاسْتِ بَنِی الْخَزْرَجِ أَطَعْتُمْ أَتَاوِی مِنْ غَیْرِکُمْ … فَلَا مِنْ مُرَادٍ وَلَا مُذْحِجِ تَرَجّوْنَہُ بَعْدَ قَتْلِ الرّء ُوسِ … کَمَا یُرْتَجَی مَرَقُ الْمُنْضَجِ یہ اشعار حضرت عمیر بن عدی الخطمی رضی اللہ عنہ کو جب پہنچے تو آپ نے منت مانی کہ اگرحضورتاجدارختم نبوت ﷺ خیریت سے بدر سے واپس تشریف لے آئیں تو میں اس کو قتل کروں گا، حضورتاجدارختم نبوت ﷺبدر میں تھے ، جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺ بدر سے واپس تشریف لائے تو حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ رات کے وقت اس کے گھر میں داخل ہوئے اس کے گرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے ، ایک بچہ اس کے سینے پرلیٹاہوادودھ پی رہاتھا ، آ پ رضی اللہ عنہ نے ہاتھ کے ساتھ ٹٹولاتو اس کے بچے کو ایک طرف کردیا، تلوار کو سینے پر رکھ کر زور سے دبایاتو وہ اس کی پشت کی جانب سے نکل گئی ، وہاں سے نکل کر مسجد نبوی شریف میں آئے اور صبح کی نماز رسول اللہ ﷺکے ساتھ اداکی ، حضورتاجدارختم نبوت ﷺ نے جب سلام پھیرااور عمیر بن عدی کی طرف دیکھااور فرمایاکہ اے عمیر تم نے اس کو قتل کیاہے ؟ عرض کرتے ہیں یارسول اللہ ﷺ!میں نے ہی اس کو قتل کیاہے ،یہ کہتے ہوئے حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ ڈررہے تھے کہ میں نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺ سے اجازت لئے بغیر ایساکام کردیاہے ، عرض کرتے ہیں یارسول اللہ ﷺ!مجھ پر کچھ لازم تونہیں ؟ فرمایا:یہ تووہ مسئلہ ہے جس میں کبھی دوبکریاں بھی اختلا ف نہیں کریں گی (یعنی اس میں تو کوئی دوسری رائے ہی نہیں)۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ یہ کلمات ہم نے پہلی بارحضورتاجدارختم نبوت ﷺ سے ہی سنے ، آپﷺنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اگر تم ایساشخص دیکھناچاہوجس نے اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی غائبانہ خدمت کی ہے تو عمیر بن عدی کودیکھ لو،حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ بولے اس نابیناکو دیکھوجس نے رات کے وقت اللہ تعالی کی اطاعت کافریضہ نبھایا،حضورتاجدارختم نبوت ﷺ نے فرمایا:نابینانہ کہویہ توبیناہے۔ جب حضرت سیدنا عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ گھر پہنچے تووہاں لوگ اس گستاخ عورت کو دفن کررہے تھے ،انہوں نے جب حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ کو دیکھاتو قریب آکر پوچھنے لگے، کیااس کوتم نے قتل کیاہے ؟ فرمایا:ہاںجوکرناچاہتے ہوکرلو،اللہ کی قسم !جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم تمام لوگ بھی وہ بات کرو جو اس نے کی تھی تو میں اسی تلوار سے تم سب کوقتل کردوں گا،حتی کہ میں مر جائوں یاتم کوقتل کردوں ، اس گستاخ عورت کے قتل کے بعد خطمی علاقہ میں اسلام کاغلبہ ہوگیاحالانکہ کچھ لوگ پہلے اپنی قوم سے اسلام کو مخفی رکھ رہے تھے ۔ (المغازی:محمد بن عمر بن واقد السہمی الأسلمی بالولاء ، المدنی، أبو عبد اللہ، الواقدی (۱:۱۷۳) اس حدیث شریف سے معلوم ہواکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ایک نابیناصحابی رضی اللہ عنہ کے گستاخ عورت کو قتل کرنے پرفرمایاکہ یہ تووہ مسئلہ ہے کہ اس میں دوبکریاں بھی سینگ نہیں لڑائیں گی ، یعنی میری عزت وناموس کی خاطراگرکوئی مسلمان کسی گستاخ کو قتل کردے تو اس پر کوئی اختلاف نہیں کہ گستاخ کوقتل کرنابھی شرعاً مطلوب ہے اورجس نے عدالت کو اطلاع دیئے بغیرگستاخ کو قتل کردیااس کاعمل بھی ایساہے کہ اس پر بھی کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ساتویں حدیث شریف حَدّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مُحَمّدٍ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ غَزِیّۃَ ، وَحَدّثَنَاہُ أَبُو مُصْعَبٍ إسْمَاعِیلُ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ إسْمَاعِیلَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَشْیَاخِہِ، قَالَا:إنّ شَیْخًا مِنْ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ یُقَالُ لَہُ أَبُو عَفَکٍ، وَکَانَ شَیْخًا کَبِیرًا، قَدْ بَلَغَ عِشْرِینَ وَمِائَۃَ سَنَۃٍ حِینَ قَدِمَ النّبِیّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ، کَانَ یُحَرّضُ عَلَی عَدَاوَۃِ النّبِیّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ یَدْخُلْ فِی الْإِسْلَامِ.فَلَمّا خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی بَدْرٍ رَجَعَ وَقَدْ ظفّرہ اللہ بما ظفّرہ،فَحَسَدَہُ وَبَغَی فَقَالَ:فَقَالَ سَالِمُ بْنُ عُمَیْرٍ، وَہُوَ أَحَدُ الْبَکّائِینَ مِنْ بَنِی النّجّارِ: عَلَیّ نَذْرٌ أَنْ أَقْتُلَ أَبَا عَفَکٍ أَوْ أَمُوتَ دُونَہُ. فَأَمْہَلَ فَطَلَبَ لَہُ غِرّۃً، حَتّی کَانَتْ لَیْلَۃٌ صَائِفَۃٌ، فَنَامَ أَبُو عَفَکٍ بِالْفِنَاء ِ فِی الصّیْفِ فِی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقْبَلَ سَالِمُ بْنُ عُمَیْرٍ، فَوَضَعَ السّیْفَ عَلَی کَبِدِہِ حَتّی خَشّ فِی الْفِرَاشِ، وَصَاحَ عَدُوّ اللہِ فَثَابَ إلَیْہِ أُنَاسٌ مِمّنْ ہُمْ عَلَی قَوْلِہِ، فَأَدْخَلُوہُ مَنْزِلَہُ وَقَبَرُوہُ. وَقَالُوا: مَنْ قَتَلَہُ؟ وَاَللہِ لَوْ نَعْلَمُ مَنْ قَتَلَہُ لَقَتَلْنَاہُ بِہِ۔ ترجمہ:امام واقدی نے اپنی سند کے ساتھ بیان کیاہے کہ بنوعمر و بن عوف میں ایک بوڑھاتھاجس کانام ابوعفک تھا، جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو اس کی عمر ۱۲۰ سال تھی ،اور اسلام نہ لایااور رسول اللہ ﷺکی دشمنی پرلوگوں کو ابھارتاجب رسول اللہ ﷺ بدر سے فتح ونصرت خداوندی پاکر واپس تشریف لائے تو اس نے بغاوت کردی اور یہ اشعار کہے : قَدْ عِشْت حِینًا وَمَا إنْ أَرَی … مِنْ النّاسِ دَارًا وَلَا مَجْمَعَا أَجَمّ عُقُولًا وَآتَی إلَی … مُنِیبٍ سِرَاعًا إذَا مَا دَعَا فَسَلّبَہُمْ أَمْرَہُمْ رَاکِبٌ … حَرَامًا حَلَالًا لِشَتّی مَعَا فَلَوْ کَانَ بِالْمُلْکِ صَدّقْتُمُ … وَبِالنّصْرِ تَابَعْتُمُ تُبّعَا حضرت سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ بنونجار سے تھے اور غزوہ تبوک میں عدم شرکت پر رونے والے تھے ، انہوں نے قسم کھائی کہ اس کو قتل کروں گایاخود ہی نہ رہوں گا ، وہ انتظار میں رہے حتی کہ ایک دن چاندنی رات میں گرمی کے موسم میں ابوعفک بنوعمرو کے صحن میں سویاہواتھا، حضرت سالم رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر تلوار ماری جو اس کی ستر تک چلی گئی ، اللہ تعالی کادشمن چیخا، لوگ جمع ہوگئے ، انہوں نے قبر کھودی اس کودفن کردیااور کہااگر ہم کوپتہ چل جاتاکہ قاتل کون ہے تو ہم اسکو قتل کردیتے ۔ (الطبقات الکبری: أبو عبد اللہ محمد بن سعد البغدادی المعروف بابن سعد (۲:۲۱) اس حدیث شریف سے معلوم ہواکہ حضرت سیدناسالم بن عمیررضی اللہ عنہ نے جب یہ نذرمانی کہ میں گستاخ کوقتل کروں گاتوحضورتاجدارختم نبوت ﷺسے جاکرپوچھانہیں ہے کہ حضور!میرایہ منت مانناشرعاً کیساہے ؟ جائز بھی ہے یانہیں ۔اوراس گستاخ کو قتل کرنادرست ہے یانہیں؟بلکہ خود ہی منت مان لی کہ میں ابوعفک یہودی کوضرورقتل کروں گااورکسی بھی حدیث شریف سے یہ ثابت نہیں ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ان پرکوئی ناراضگی کااظہارفرمایاہو۔ آٹھویں حدیث شریف حَدَّثَنَا إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ:نَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَجَاء َ عَیْنُ الْمُشْرِکِینَ وَرَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہُ یَتَصَبَّحُونَ، فَدَعَوْہُ إِلَی طَعَامِہِمْ، فَلَمَّا فَرَغَ الرَّجُلُ رَکِبَ عَلَی رَاحِلَتِہِ ذَہَبَ مُسْرِعًا لِیُنْذِرَ أَصْحَابَہُ، قَالَ سَلَمَۃُ: فَأَدْرَکْتُہُ، فَأَنَخْتُ رَاحِلَتَہُ وَضَرَبْتُ عُنُقَہُ فَغَنَّمَنِی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَلَبَہُ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناسلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے کسی مقام پر پڑائو کیا، مشرکین کاایک جاسوس خبرلینے کے لئے آیا، اس وقت حضورتاجدارختم نبوت ﷺاپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ صبح کاکھاناتناول فرمارہے تھے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے بھی کھانے کی دعوت دی ، جب وہ شخص کھانے سے فارغ ہواتواپنی سواری پرسوارہوکر واپس روانہ ہوا، تاکہ اپنے ساتھیوں کو ہمارے متعلق خبردے سکے ۔ میں نے اس کاپیچھاکرکے اس کی سواری کو بٹھایااوراس کی گردن اڑادی ۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے اس کاسازوسامان مجھے بطورانعام عطافرمایا۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۲۷:۵۰) نویں حدیث شریف عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ، قَالَ:قَالَ عَبْدُ اللہِ لِابْنِ النَّوَّاحَۃِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: لَوْلَا أَنَّکَ رَسُولٌ لَقَتَلْتُکَ ،فَأَمَّا الْیَوْمَ فَلَسْتَ بِرَسُولٍ، یَا خَرَشَۃُ، قُمْ فَاضْرِبْ عُنُقَہُ، قَالَ: فَقَامَ إِلَیْہِ، فَضَرَبَ عُنُقَہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناحارثہ بن مضرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیدناعبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے ابن نواحہ سے فرمایاکہ میں نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو تیرے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ اگرتوقاصدنہ ہوتاتو میں تجھے قتل کردیتا۔ آج توقاصدنہیں ہے ۔ اے خرشہ !اٹھواوراس کوقتل کردو، وہ اٹھے اورانہوںنے اس کو قتل کردیا۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۶:۱۵۱) دسویں حدیث شریف وَبَلَغ الْمُہَاجِر بن أَبِی أُمَیَّۃ أَمِیر الْیَمَن لأبی بَکْر رَضِی اللَّہ عَنْہ أَنّ امْرَأۃ ہناک فِی الرّدّۃ غَنَّت بِسَبّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فَقَطَع یَدَہَا وَنَزَع ثَنِیّتَہَا فبَلَغ أَبَا بَکْر رَضِی اللَّہ عَنْہ ذَلِک فَقَال لَہ لَوْلَا مَا فَعَلْت لأمَرْتُک بِقَتْلِہَا لِأَنّ حَدّ الْأَنْبِیَاء لَیْس یُشْبہ الحُدُود۔ ترجمہ :خلافتِ صدیقِ اکبر میں ایک عورت نے حضور تاجدارختم نبوتﷺ کی گستاخی میں گانا گایا تو مہاجر بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اس کے دونوں ہاتھ اور زبان کاٹ دی جب اس کی خبر حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تم نے یہ نہ کیا ہوتا تو میں اسے قتل کروا دیتا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی گستاخ کی سزا عام سزاؤں کی طرح نہیں ہوتی۔ (الشفا بتعریف حقوق المصطفی :أبو الفضل القاضی عیاض بن موسی الیحصبی (۲:۲۲۲)

ماورائے عدالت مختلف حدودجاری کرنے پرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاعمل

قاتل کو ماورائے عدالت قتل کرنے والا عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّہْرِیِّ فِی رَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا فَلَقِیَہُ وَلِیُّ الْمَقْتُولِ فَقَتَلَہُ، وَلَمْ یُبْلِغْہُ السُّلْطَانَ، أَوْ قَالَ: الْإِمَامَ قَالَ: عَلَیْہِ الْعُقُوبَۃُ وَلَا یُقْتَلُ۔ ترجمہ:حضرت سیدناامام الزہری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اگرکسی شخص نے کسی دوسرے کو قتل کردیا، پھرمقتول کے وارث نے اس قاتل کوقتل کردیااورحاکم یاقاضی تک مقدمہ نہ لے گیاتواسے صرف تعزیرہوگی ، اس کوقتل نہیں کیاجائے گا۔ (المصنف:أبو بکر عبد الرزاق بن ہمام بن نافع الحمیری الیمانی الصنعانی (۹:۴۱۸)

عشاء کے بعد کسی کے گھربغیراجازت آنے والے کی سزا

عَنْ أَبِی قِلَابَۃَ، أَنَّ رَجُلًا یُقَالِ لَہُ جُنْدُبٌ: أَخَذَ شَابًّا مِنْ شَبَابِ قَوْمِہِ یُقَالُ لَہُ سَبْرَۃُ فِی بَیْتِہِ، فَضَرَبَہُ ضَرْبَۃً شَدِیدَۃً، وَأَوْثَقَہُ، وَرَضَّ أُنْثَیَیْہِ بِفِہْرٍ، فَذَہَبَ قَوْمُہُ إِلَی سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ، وَہُوَ عَامَلٌ عَلَیْہِمْ لِعُمَرَ، فَأَبْطَلَ کُلَّ شَیْء ٍ أُصِیبَ بِہِ سَبْرَۃُ، فَانْطَلَقَ قَوْمُہُ، فَأَتَوْا عُمَرَ بِضَجْنَانَ، فَقَالَ سَبْرَۃُ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّ جُنْدُبًا أَخَذَنِی عِنْدَ ابْنَۃِ عَمَّتِی أَسْأَلُہَا الْعِشَاء َ؟ فَفَعَلَ بِی کَذَا وَکَذَا فَأَبْطَلَ ذَلِکَ سُفْیَانُ، فَقَالَ عُمَرُ لِسُفْیَانَ: سَلْ عَنْ ہَذَا فَإِنْ کَانَ بَعْدَ الْعَتَمَۃِ فَاجْلِدْہُ مِائَۃَ جَلْدَۃٍ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوقلابہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جندب نامی ایک شخص تھا، اس نے اپنے گھرمیں ایک جوان کو پکڑا، جس کانام سبرہ تھا، پھراسے بہت زیادہ مارااورباندھ دیااوراس کے خصیوں کو پتھرسے کوٹ دیا، اس کی قوم کے لوگ حضرت سیدناسفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ ان پر حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے گورنرتھے ۔ انہوںنے سبرہ کو پہنچنے والے تمام نقصان کو باطل قراردیا، وہ لوگ واپس چلے گئے اورضجنان جگہ میں حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضرہوئے اورسبرہ نے حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کی : اے امیرالمومنین ! جندب نے مجھے میری پھوپھوکی بیٹی کے پاس پکڑا، میں اس سے رات کے وقت کھانامانگ رہاتھا، اس نے میرے ساتھ ایسے ایسے کیااورسفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس نقصان کو باطل قراردیا۔ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے حضرت سیدناسفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اس سے پوچھو، اگریہ عشاء کے بعد آیاتھاتواسے سوکوڑے مارو۔ (المصنف:أبو بکر عبد الرزاق بن ہمام بن نافع الحمیری الیمانی الصنعانی (۹:۴۳۶)

ماورائے عدالت غلام پرحدجاری کردی

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ زِنْبَاعًا أَبَا رَوْحِ بْنَ زِنْبَاعٍ، وَجَدَ غُلَامًا لَہُ مَعَ جَارِیَۃٍ، فَقَطَعَ ذَکَرَہُ وَجَدَّعَ أَنْفَہُ، فَأَتَی الْعَبْدُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَہُ: مَا حَمَلَکَ عَلَی ہَذَا؟ قَالَ: فَعَلَ کَذَا وَکَذَا قَالَ: اذْہَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَسَمِعْتُ أَنَا مُحَمَّدَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ الْعَرْزَمِیَّ یُحَدِّثُ بِہِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ زنباع ابوروح بن زبناع رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو اپنی لونڈی کے پاس دیکھاتواس کاآلہ تناسل کاٹ دیااورناک بھی کاٹ دی، وہ غلام حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے پاس حاضرہوااوریہ بات ذکرکی۔ حبیب کریم ﷺنے فرمایا: تمھیں ایساکرنے پر کس نے ابھاراتوانہوںنے عرض کی :اس نے ایسے ایسے کیاہے ۔ آپ ﷺنے فرمایا: جائوتم آزاد ہو۔ (المصنف:أبو بکر عبد الرزاق بن ہمام بن نافع الحمیری الیمانی الصنعانی (۹:۴۳۶)

مال کی حفاظت کے لئے لڑنے والا

عَنْ قَابُوسِ بْنِ مُخَارِقٍ قَالَ: جَاء َ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ , إِنْ جَاء َنِی رَجُلٌ یَبْتَزُّ مَتَاعِی؟ قَالَ: ذَکِّرْہُ بِاللَّہِ قَالَ: فَإِنْ ذَکَّرْتُہُ بِاللَّہِ فَلَمْ یَذَّکَّرْ؟ قَالَ:تَسْتَغِیثُ عَلَیْہِ مَنْ بِحَضْرَتِکَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ قَالَ:فَإِنْ لَمْ یَکُونُوا بِحَضْرَتِی وَأَرَادَ مَتَاعِی؟ قَالَ:فَأْتِ السُّلْطَانَ قَالَ: أَفَرَأَیْتَ إِنْ أَبَی السُّلْطَانُ عَنِّی؟ قَالَ:قَاتِلْہُ حَتَّی تُکْتَبَ فِی شُہَدَاء ِ الْآخِرَۃِ أَوْ تَمْنَعَ الَّذِی لَکَ ترجمہ :حضرت سیدناقابوس بن مخارق رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ ایک شخص حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی خدمت میں حاضرہوااورعرض کرنے لگا: یارسول اللہ ْﷺ! اگرمیرے پاس کوئی شخص آئے اورمیراسامان چھینناچاہے ؟ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: اسے اللہ تعالی کاخوف دلائو، پھرپوچھنے لگا: یارسول اللہ ﷺ! اگرمیں اسے اللہ تعالی کاخوف دلائوں مگروہ پھربھی اسکی پرواہ نہ کرے ؟حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: تیرے پاس جو مسلمان ہواس کو مددکرنے کے لئے بلالو۔ پھرعرض کرنے لگا: یارسول اللہ ﷺ! اگروہاں کوئی بھی موجود نہ ہواوروہ میراسامان لیناچاہے ؟ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: پھربادشاہ کے پاس آنا۔ پھرعرض کرنے لگا: یارسول اللہ ْﷺ! اگربادشاہ بھی میراحق دلوانے سے انکارکردے؟ توحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: پھراس کے ساتھ قتال کریہاں تک کہ توشہیدہوجائے یاپھراپنامال لے لے۔ (المصنف:أبو بکر عبد الرزاق بن ہمام بن نافع الحمیری الیمانی الصنعانی (۹:۴۳۶)

جادوگرکو ماورائے عدالت قتل کرنا

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ جَارِیَۃً لِحَفْصَۃَ سَحَرَتْہَا وَاعْتَرَفَتْ بِذَلِکَ فَأَمَرَتْ بِہَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ زَیْدٍ فَقَتَلَہَا , فَأَنْکَرَ ذَلِکَ عَلَیْہَا عُثْمَانُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:مَا تُنْکِرُ عَلَی أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ مِنَ امْرَأَۃٍ سَحَرَتْ وَاعْتَرَفَتْ فَسَکَتَ عُثْمَانُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ حضرت سیدتناحفصہ رضی اللہ عنہاکی لونڈی نے آپ رضی اللہ عنہاپرجادوکردیاتھااوراس نے اس جادوکااعتراف بھی کرلیا، انہوںنے حضرت سیدناعبدالرحمن بن زید رضی اللہ عنہماکو حکم دیاتوانہوںنے اس جادوکرنے والی عورت کو قتل کردیا۔ حضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس بات پرنکیرفرمائی ۔ حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمانے فرمایا: آپ ام المومنین رضی اللہ عنہاپرایسی عورت کی وجہ سے نکیرکررہے ہیں جس نے ان پرجادوکیااوراس کااعتراف بھی کرلیا۔چنانچہ حضرت سیدناعثمان رضی اللہ عنہ خاموش ہوگئے۔ (المصنف:أبو بکر عبد الرزاق بن ہمام بن نافع الحمیری الیمانی الصنعانی (۱۰:۱۸۰) اس سے معلوم ہواکہ امیرالمومنین حضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں اورقاضی وقت بھی مدینہ منورہ میں ہی موجود ہیں ، مگرحضرت ام المومنین رضی اللہ عنہاکاایک عورت جو کہ جادوگرتھی کو ماورائے عدالت قتل کرنااورحضرت سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کاخاموش ہوجانابتاتاہے کہ قرون اولی میں بھی اہل اسلام بے دینوں کو سزادے دیاکرتے تھے اورعدالتیں بھی ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کرتی تھیں ۔ کیونکہ عدالتیں اسلام کے تابع تھیں ۔ چورکوماورائے عدالت قتل کرنا عَنِ الزُّہْرِیِّ ,عَنْ سَالِمٍ قَالَ: أَخَذَ ابْنُ عُمَرَ لِصًّا فِی دَارِہِ:فَأَصْلَتْ عَلَیْہِ بِالسَّیْفِ فَلَوْلَا أَنَّا نَہَیْنَاہُ عَنْہُ لِضَرَبَہَ بِہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناسالم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمانے اپنے گھرمیں ایک چورپایا، وہ تلوارسونت کراس کی طرف نکل پڑے ، وہ پلٹ پلٹ کر اس پر حملہ کررہے تھے اوروہ ان سے بچ رہاتھا، اگرہم اسے نہ روکتے تووہ اسے قتل کردیتے ۔ (المصنف:أبو بکر عبد الرزاق بن ہمام بن نافع الحمیری الیمانی الصنعانی (۱۰:۱۱۲) کفن چورکو ماورائے عدالت قتل کرنا عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَدَ رَجُلًا یَخْتَفِی الْقُبُورَ فَقَتَلَہُ فَأَہْدَرَ عُمَرُ دَمَہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناصفوان بن سلیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھاجو کسی قبرمیں سے کفن چوری کررہاتھاتوانہوںنے اسے قتل کردیا۔ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے اس کاخون معاف قراردیا۔ (المصنف:أبو بکر عبد الرزاق بن ہمام بن نافع الحمیری الیمانی الصنعانی (۱۰:۱۱۲) دوسری روایت عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ بِالْمَدِینَۃِ فَخَافَ أَخُوہُ أَنْ یُخْتَفَی قَبْرُہُ فَحَرَسَہُ وَأَقْبَلَ الْمُخْتَفِی , فَسَکَتَ عَنْہُ حَتَّی اسْتَخْرَجَ أَکْفَانَہُ ثُمَّ أَتَاہُ فَضَرَبَہُ بِالسَّیْفِ حَتَّی بَرَدَ فَرُفِعَ ذَلِکَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَہْدَرَ دَمَہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناصفوان بن سلیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک شخص فوت ہوگیا، ان کے بھائی کو ان کی قبرسے کفن چوری

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh