Fatwa #2184
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۹۱۔۱۹۲۔۱۹۳۔مسلمان کو ارتدادکی دعوت دینا کافروں کے قتل سے زیادہ سخت ہے
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,599
سوال (Question):
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۹۱۔۱۹۲۔۱۹۳۔مسلمان کو ارتدادکی دعوت دینا کافروں کے قتل سے زیادہ سخت ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مسلمان کو ارتدادکی دعوت دینا کافروں کے قتل سے زیادہ سخت ہے
{وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ وَاَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقٰتِلُوْہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوْکُمْ فِیْہِ فَاِنْ قٰتَلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْہُمْ کَذٰلِکَ جَزَآء ُ الْکٰفِرِیْنَ}(۱۹۱){فَاِنِ انْتَہَوْا فَاِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ}(۱۹۲){وَقٰتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلہِ فَاِنِ انْتَہَوْا فَلَا عُدْوٰنَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیْنَ}(۱۹۳) ترجمہ کنزالایمان :اور کافروں کو جہاں پاؤ مارو اور انہیں نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور ان کا فساد تو قتل سے بھی سخت ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں اور اگر تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو کافروں کی یہی سزا ہے ،پھر اگر وہ باز رہیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اورایک اللہ کی پوجا ہو پھر اگر وہ باز آئیں تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر۔ ترجمہ ضیاء الایمان : اورکافروں کو جہاں پائوقتل کرواورانہیں وہاں سے نکال دوجہاں سے انہوںنے تمھیں نکالاتھااوران کافسادتوقتل سے بھی سخت ہے اورمسجد حرام شریف کے پاس ان کے ساتھ قتال نہ کرو، جب وہ تم سے نہ لڑیں اوراگر وہ تم سے قتال کریں توتم بھی انہیں قتل کرو ، کافروں کی یہی سزاہے ۔ پھروہ اگرباز آجائیں تو بے شک اللہ تعالی بخشنے والامہربان ہے ۔اوران سے قتال کرتے رہوجب تک کہ فتنہ ختم نہ ہوجائے اورایک اللہ تعالی کی عبادت ہوپھراگروہ باز آجائیں تو صرف ظالموں پر سختی کی سزاباقی رہتی ہے ۔فتنہ کی اصل کیاہے ؟
أَنَّ الْفِتْنَۃَ أَصْلُہَا عَرْضُ الذَّہَبِ عَلَی النَّارِ لِاسْتِخْلَاصِہِ مِنَ الْغِشِّ، ثُمَّ صَارَ اسْمًا لِکُلِّ مَا کَانَ سَبَبًا لِلِامْتِحَانِ تَشْبِیہًا بِہَذَا الْأَصْلِ، وَالْمَعْنَی:أَنَّ إِقْدَامَ الْکُفَّارِ عَلَی الْکُفْرِ وَعَلَی تَخْوِیفِ الْمُؤْمِنِینَ، وَعَلَی تَشْدِیدِ الْأَمْرِ عَلَیْہِمْ بِحَیْثُ صَارُوا مُلْجَئِینَ إِلَی تَرْکِ الْأَہْلِ وَالْوَطَنِ ہَرَبًا مِنْ إِضْلَالِہِمْ فِی الدِّینِ، وَتَخْلِیصًا لِلنَّفْسِ مِمَّا یَخَافُونَ وَیَحْذَرُونَ،فِتْنَۃٌ شَدِیدَۃٌ بَلْ ہِیَ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ الَّذِی یَقْتَضِی التَّخْلِیصَ مِنْ غُمُومِ الدُّنْیَا وَآفَاتِہَا، وَقَالَ بَعْضُ الْحُکَمَاء ِ:مَا أَشَدُّ مِنْ ہَذَا الْقَتْلِ الَّذِی أَوْجَبَہُ عَلَیْکُمْ جَزَاء ً غَیْرَ تِلْکَ الْفِتْنَۃِ. ترجمہ :حضرت سیدناامام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) ر حمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ سونے کو آگ پرپیش کرناتاکہ وہ کھوٹ سے پاک اورخالص ہوجائے ، پھراس اصل سے تشبیہ کی وجہ سے ہر سبب اورامتحان اورآزمائش کانام فتنہ بن گیا، تواب معنی یہ ہوگاکہ کفارکااہل ایمان کو ڈرانااورپریشان کرنااوران پر سختی کااقدام اس قدرشدیدتھاکہ وہ اہل خانہ اوراپناوطن ترک کرنے پر مجبورہوگئے تاکہ دین میں ان کی گمراہی سے بچ جائیں اورنفوس ان کی سختیوں سے محفوظ ہوجائیں تویہ شدیدفتنہ ہے بلکہ اس قتل سے بھی جو اس دنیااوراس کی آفات سے خلاصی دے دیتاہے ۔ بعض حکماء نے کہاکہ اس قتل سے جو تم پربدلہ لازم کردے کوئی فتنہ کے علاوہ شدیدنہیں ہے۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۵:۲۸۸)فتنہ کیاہے ؟
عَنْ مُجَاہِدٍ فِی الْآیَۃِ قَالَ:ارْتِدَادُ الْمُؤْمِنِ إِلَی الْوَثَنِ أَشُدُّ عَلَیْہِ مِنْ أَنْ یَقْتُلَ مُحِقًّا۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام مجاہد المتوفی : ۱۰۴ھ)رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فتنہ سے مراد مومن کابتوں کی عبادت کی طرف لوٹناہے یعنی بندہ مومن کابت کی عبادت کی طرف لوٹنامومن پراس سے زیادہ سخت ہے کہ وہ اعلائے کلمۃ حق کے لئے شہید ہوجائے ۔ (تفسیر مجاہد:أبو الحجاج مجاہد بن جبر التابعی المکی القرشی المخزومی :۲۲۳) فتنہ عربی زبان کا لفظ ہے، جو متعدد معانی کے لیے قرآن کریم میں بھی استعمال ہوا ہے۔ لیکن معروف معنی دنگا فساد ہی ہے۔ اور اسی معنی میں یہ لفظ اردو میں بھی مستعمل ہے۔ روزمرہ کی گفتگو میں بھی فتنہ وفساد وغیرہ الفاظ ہم استعمال کرتے رہتے ہیں۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کے فرمان شریف کے مطابق امت مسلسل فتنوں کا شکار رہے گی۔شرک قتل سے بھی سخت ہے
وَأخرج ابْن أبی حَاتِم عَن أبی الْعَالِیَۃ فِی قَوْلہ (والفتنۃ أَشد من الْقَتْل)قَالَ:الشّرک أَشد۔ ترجمہ :امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ تعالی نے حضرت سیدناامام ابوالعالیہ رحمہ اللہ تعالی سے نقل کیاہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ فتنہ شرک جس پر تم قائم ہووہ قتل سے بھی بڑاہے ۔ (جامع البیان فی تأویل القرآن:محمد بن جریر بن یزید أبو جعفر الطبری (۳:۵۶۶)مسلمان کو کفرکی طرف دعوت دیناقتل سے بھی زیادہ سخت ہے
وَالْفِتْنَۃُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ أَیِ الْفِتْنَۃُ الَّتِی حَمَلُوکُمْ عَلَیْہَا وَرَامُوا رُجُوعُکُمْ بِہَا إِلَی الْکُفْرِ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَقَالَ غَیْرُہُ:أَیْ شِرْکِہِمْ بِاللَّہِ وَکُفْرِہِمْ بِہِ أَعْظَمُ جُرْمًا وَأَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ الَّذِی عَیَّرُوکُمْ بِہِ. ترجمہ :حضرت سیدناامام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ وہ فتنہ جس پر انہوںنے تمھیں دعوت دی اوران کافروں نے تمھیں جس کفرکی طرف لوٹانے کی کوشش کی وہ قتل سے بھی زیادہ سخت ہے ۔اورعلماء کرام علیہم الرحمہ نے یہ بھی فرمایاہے کہ کفارنے اہل اسلام کو یہ طعنہ دیاکہ تم کفارکو قتل کرتے ہوتواللہ تعالی نے ان کو جواب دیاکہ تمھارااللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنااوراس کاانکارکرنایہ اللہ تعالی کے ہاں زیادہ سخت ہے اس سے جس سے تم اہل اسلام کو عاردلاتے ہو۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح القرطبی (۲:۲۵۰)مشرکین کافتنہ کیاتھا؟
فِی الْمُرَادِ بِالْفِتْنَۃِ ہاہنا وُجُوہٌ أَحَدُہُمَا:أَنَّہَا الشِّرْکُ وَالْکُفْرُ، قَالُوا:کَانَتْ فِتْنَتُہُمْ أَنَّہُمْ کَانُوا یَضْرِبُونَ وَیُؤْذُونَ أَصْحَابَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَکَّۃَ حَتَّی ذَہَبُوا إِلَی الْحَبَشَۃِ ثُمَّ وَاظَبُوا عَلَی ذَلِکَ الْإِیذَاء ِ حَتَّی ذَہَبُوا إِلَی الْمَدِینَۃِ وَکَانَ غَرَضُہُمْ مِنْ إِثَارَۃِ تِلْکَ الْفِتْنَۃِ أَنْ یَتْرُکُوا دِینَہُمْ وَیَرْجِعُوا کُفَّارًافَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی ہَذِہِ الْآیَۃَ، وَالْمَعْنَی:قَاتِلُوہُمْ حَتَّی تَظْہَرُوا عَلَیْہِمْ فَلَا یَفْتِنُوکُمْ عَنْ دِینِکُمْ فَلَا تَقَعُوا فِی الشِّرْکِ وَثَانِیہَا:قَالَ أبو مسلم:معنی الفتنۃ ہاہنا الْجُرْمُ قَالَ:لِأَنَّ اللَّہَ تَعَالَی أَمَرَبِقِتَالِہِمْ حَتَّی لَا یَکُونَ مِنْہُمُ الْقِتَالُ الَّذِی إِذَا بدء وا بِہِ کَانَ فِتْنَۃً عَلَی الْمُؤْمِنِینَ لِمَا یَخَافُونَ عِنْدَہُ مِنْ أَنْوَاعِ الْمَضَارِّ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ کفارکافتنہ یہ تھاکہ وہ مکہ مکرمہ میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺاورآپ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تکلیفیں دیتے اورگستاخیاں کرتے تھے یہاں تک کہ وہ حبشہ چلے گئے ، پھربھی انہوںنے اذیتیں جاری رکھیں حتی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مدینہ منورہ ہجرت کرگئے ۔ اس فتنہ سے ان کی غرض یہ تھی کہ یہ اپنے دین کوترک کرکے کافرہوجائیں (نعوذ باللہ من ذالک) تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی تومعنی یہ ہواکہ ان سے لڑوتاکہ تم ان پر غالب آجائواوریہ تمھیں ، تمھارے دین سے فتنہ میں نہ ڈال سکیں تاکہ تم شرک میں نہ پڑو۔الشیخ ابومسلم رحمہ اللہ تعالی نے بیان کیاہے کہ یہاں فتنہ کامعنی جرم ہے کیونکہ اللہ تعالی نے ان کے خلاف قتال کاحکم دیا تاکہ وہ قتال نہ سکیں کہ جب وہ قتال کرتے ہیں تواہل ایمان کے لئے فتنہ بن جاتاہے اوریہ اس سے نقصان کاخوف رکھتے ہیں۔ ( التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۵:۲۸۸)مشرکین کو حرم میں ہی قتل کردو
وَاقْتُلُوہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوہُمْ فیکون المقصود حث المؤمنین علی قتلہم إیاہم فی الحرم ای لا تبالوا بقتلہم أینما وجدتموہم فان فتنتہم ای ترکہم فی الحرم وصدہم إیاکم عن الحرم أشد من قتلکم إیاہم فیہ وَلا تُقاتِلُوہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ ای لا تفاتحوہم بالقتل ہناک وہتک حرمۃ المسجد الحرام حَتَّی یُقاتِلُوکُمْ فِیہِ حتی یبدأوکم بالقتال فی الحرم وہذا بیان لشرط کیفیۃ قتالہم فی ہذہ البقعۃ خاصۃ فیکون تخصیصا لقولہ وَاقْتُلُوہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوہُمْ فَإِنْ قاتَلُوکُمْ ثمۃ فَاقْتُلُوہُمْ فیہ ولا تبالوا بقتالہم ثمۃ لانہم الذین ہتکوا حرمتہ فاستحقوا أشد العذاب۔کَذلِکَ ای مثل ذلک الجزاء علی ان الکاف فی محل الرفع بالابتداء جَزاء ُ الْکافِرِینَ یفعل بہم مثل ما فعلوا بغیرہم فَإِنِ انْتَہَوْا عن القتال وکذا عن الکفر فان الانتہاء عن مجرد القتال لا یوجب استحقاق المغفرۃ فضلا عن استحقاق الرحمۃ فَإِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحِیمٌ یغفر لہم ما قد سلف وَقاتِلُوہُمْ ای المشرکین حَتَّی لا تَکُونَ الی ان لا توجد ولا تبقی فِتْنَۃٌ ای شرک یعنی قاتلوہم حتی یسلموا فلا یقبل من الوثنی الا الإسلام فان أبی قتل۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی اہل اسلام کو مشرکین کے قتل کی ترغیب دلارہاہے کہ اے اہل اسلام ! تم حرم شریف میں کفارکوقتل کرنے کی کچھ بھی پروانہ کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، کیونکہ یہ میں نے ہی حکم دیاہے ، فلہذاجہاں بھی وہ تمھیں ملیں انہیں قتل کردوکیونکہ انہوںنے کون سی کمی کی ہے ، انہوں نے تمھیں حرم شریف میں قتل کیااورپھرتمھیں مکہ معظمہ کی حاضری سے روکا۔ ان کی طرف سے صادرہونے والی حرکتیں بہت زیادہ سخت ہیں اس سے کہ تم ان کو حرم مکرم میں قتل کرو۔ اورتم مشرکین کو حرم شریف میں قتل کرنے کاآغاز نہ کرناجب تک کہ وہ تم کو قتل کرنے سے آغاز نہ کریں ، اوریہ حملہ صرف اسی مقام پر جنگ کی کیفیت کے ساتھ مخصوص ہوگا، ورنہ {وَاقْتُلُوہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوہُمْ}توتم ان کو قتل کروجہاں بھی ملیں ۔ یہ حکم عام ہے ۔{ فَإِنْ قاتَلُوکُم}اگروہ لوگ اسی مقام یعنی بیت اللہ شریف میں تمھارے ساتھ لڑنے لگ جائیں تو{ فَاقْتُلُوہُمْ}توتم ان کو قتل کرویہ پروانہ کرو کہ بیت اللہ شریف توامن کامقام ہے ہم کیسے ان کے ساتھ قتال کریں ، کیونکہ لڑائی کاآغازاورکعبۃ اللہ کی ہتک کاسلسلہ مشرکین نے ہی شروع کیاہے فلھذااب وہ سخت سے سخت عذاب کے مستحق ہیں اورعذاب کی ایک صورت یہ ہے کہ تم انھیں جہاں پائوان کوقتل کردو۔ {کَذلِک}یعنی اس جزاء کی مثل ، یہ کاف محل رفع بالابتداء ہے {جَزاء ُ الْکافِرِین}کفارکی جزاء ہے یعنی ان کے ساتھ وہی کیاجائے جو انہوںنے اہل اسلام کے ساتھ کیا۔{ فَإِنِ انْتَہَوْا}پس اگروہ جنگ سے یاکفرسے رک جائیں ۔ اس سے معلوم ہواکہ ان سے جنگ روک دینے سے یہ ثابت نہیں ہوتاکہ اب وہ مغفرت کے مستحق ہوگئے ہیں ، چہ جائیکہ انکو رحمت کامستحق ٹھہرایاجائے ، { فَإِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحِیمٌ}بے شک اللہ تعالی بخشنے والامہربان ہے۔ ان کی گزشتہ غلطیاں بخش دے گا، { فَاقْتُلُوہُمْ}اورمشرکین کے ساتھ جنگ کرو۔ {حَتَّی لا تَکُونَ فِتْنَۃ }یہاںتک کہ فتنہ ختم ہوجائے یعنی مشرکین کے ساتھ جنگ کرویہاں تک کہ وہ مسلمان ہوجائیں ۔ اس سے یہ معلوم ہواکہ بت پرست کو اسلام پیش کیاجائے اگروہ بت پرستی سے تائب ہوجائے اوراسلام قبول کرلے توفبہاوگرنہ اسے قتل کردیاجائے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۱:۳۰۶)مشرکین کو جزیرہ عرب سے بھی نکال دیاگیا
أَخْرِجُوہُمْ مِنْ مَنَازِلِکُمْ، إِذَا عَرَفْتَ ہَذَا فَنَقُولُ:إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی أَمَرَ الْمُؤْمِنِینَ بِأَنْ یُخْرِجُوا أُولَئِکَ الْکُفَّارَ مِنْ مَکَّۃَ إِنْ أَقَامُوا عَلَی شِرْکِہِمْ إِنْ تَمَکَّنُوا مِنْہُ، لَکِنَّہُ کَانَ فِی الْمَعْلُومِ أَنَّہُمْ یَتَمَکَّنُونَ مِنْہُ فِیمَا بَعْدُ، وَلِہَذَا السَّبَبِ أَجْلَی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کُلَّ مُشْرِکٍ مِنَ الْحَرَمِ ثُمَّ أَجْلَاہُمْ أَیْضًا مِنَ الْمَدِینَۃِ،وَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ: لَا یَجْتَمِعُ دِینَانِ فِی جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اہل ایمان کو حکم دیاکہ کفارکو مکہ مکرمہ سے نکال دو، اگریہ شرک پرقائم ہیں ، بشرطیکہ تمھیں طاقت ہواورتمھیں معلوم بھی ہو کہ بعدمیں یہ طاقتورہوئے ، اسی وجہ سے حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے حرم شریف سے ہر مشرک کو نکال دیااوراس کے بعد مدینہ منورہ سے نکال دیااورحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: دودین جزیرہ عرب میں جمع نہیں ہوسکتے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۵:۳۸۸)قتل فی سبیل اللہ کی چارصورتیں
حضرت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ قتل فی سبیل اللہ کی چار صورتیں ہیں۔ مرتدکاقتل ،زانی کاقتل، ظلماً قاتل کاقتل اورحضوتاجدارختم نبوت ﷺکے گستاخ کاقتل اگرچہ ہمارابھائی ہی کیوں نہ ہومگرہے مستحق قتل ۔ عبداللہ بن ابی کے بیٹے نے ایک گستاخی پر اپنے باپ کو قتل کرنے کاارادہ فرمایا، ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنی گستاخ ماں کو قتل کردیا۔ (تفسیرنعیمی از مفتی احمدیارخان نعیمی ( ۲: ۲۴۴) کفارکے دواعتراضات کے جواباتکیااسلام صرف دفاعی جہاد کاقائل ہے؟
آج دین اسلام کے احمق خیرخواہ کفارومشرکین کی باتوں میں آکر اہل اسلام کو ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ جہاد کانام تک نہ لیں اورمختلف طریقوں سے ان کو جہاد سے دورکرنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان کے پھیلائے ہوئے جالوں میں سے ایک جال یہ بھی ہے کہ اسلام تو صرف جہاد دفاعی کی اجازت دیتاہے اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے جتنے بھی معرکے سرکئے ہیں وہ سب کے سب دفاعی تھے ان میں کوئی بھی اقدامی نہ تھا۔ ایسے لوگوں کے جواب میں حضرت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ منسوخ ہے پہلے مسلمانوں کو صرف جوابی حملہ کرنے کی اجازت دی گئی اورپھرابتدائی حملہ کی بھی اجازت مل گئی ۔ مرزائی اتنانہیں سمجھتے کہ سوائے جنگ احداور خندق کے باقی تمام غزوات میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ہی کفارپر حملے کئے ہیں ۔ بدروحنین ، فتح مکہ مکرمہ میں کفارنے اولاً حملہ نہیں کیاتھا، نیزحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جنگ قادسیہ ویرموک وغیرہ میں بھی مسلمانوں ہی نے کفارپر حملے کئے ، کیایہ جنگیں ناجائزہوئیں ۔ نیز یہ کون سی عقلمندی ہے کہ کفارکو جنگ کی تیاری کی مہلت دے دوجب وہ پیٹنے لگیں سربچالوضروری ہے کہ جس قوم سے جنگ کاخطرہ ہواس کی سرکوبی کرکے جنگ کے قابل نہ رکھاجائے ، بیچارے مرزائی جہادکے راز کیاجانیں ۔ جن کے نبی(ملعون) کی نبوت دوسروں کے زیرسایہ پھلی پھولی ہوجہاد مردوں کاکام ہے ۔ سانپ کوکاٹنے کاموقع مت دو پہلے ہی اسے ماردو۔ (تفسیرنعیمی از مفتی احمدیارخان نعیمی ( ۲: ۲۴۷)کیااسلام تلوار کے زورپرپھیلاہے ؟
حضرت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی ایک معترض پنڈت کو جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پنڈت جی ! ہاں اسلام تلوارکے زورسے پھیلاہے ، یہی اس کی حقانیت کی دلیل ہے ، ہراچھی چیزتلواراورقوت سے ہی پھیلتی ہے ، بری چیز خودبخود بڑھتی رہتی ہے ، بدامنی ، بیماری ، حرامکاری خود بخودپھیلتی ہے ۔ مگرامن وتندرستی پھیلانے اورحرامکاری روکنے کے لئے بہت قوت اوردولت خرچ کرنی پڑتی ہے ۔ تمھارادھرم گھاس پھوس اوربیماری کی طرح خود بخود پھیلاہوگا، ہمارااسلام توبے شک طاقت وقوت اورجہاد سے ہی پھیلاہے ۔ پنڈت جی! تمھارے دھرم نے طاقتوروں کے سایہ میں رہناسیکھاہے ہمارے مذہب اسلام نے خود طاقتوربن کردوسروں کو اپنے سایہ میں رکھنے کی تعلیم دی ہے ۔ انہیں غلط اصولوں سے ہندوستان ہمیشہ دوسروں کاغلام رہا، آپ جو آرام کررہے ہویہ بھی برٹش گورنمنٹ کی تلوارکے سایہ کا صدقہ ہے ، اسلام نے بے قصوروں سے جنگ نہ کی بلکہ مذہبی آزادی کے لئے آڑ کوہٹایا۔ (تفسیرنعیمی از مفتی احمدیارخان نعیمی ( ۲: ۲۴۷)ارتداد کی روک تھام کے لئے جدوجہدکی ضرورت ہے
حضورتاجدارختم نبوت ﷺکافرمان عالی شان حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ وَہْبٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ، قَالَ:قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِی أَثَرَۃً وَأُمُورًا تُنْکِرُونَہَا قَالُوا:فَمَا تَأْمُرُنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ:أَدُّوا إِلَیْہِمْ حَقَّہُمْ، وَسَلُوا اللَّہَ حَقَّکُمْ۔ ترجمہ : حضرت سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:عنقریب تم میرے بعد ایسی نشانیاں اور ایسے امور دیکھو گے جسے تم منکر سمجھو گے لوگوں نے کہا کہ یارسول اللہ ﷺ!آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟فرمایا :تم لوگوں کو ان کا حق دے دواور اپنا حق اللہ سے ما نگو۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۹:۴۷) آج امت بے شمار فتنوں کا سامنا کر رہی ہے ایک سے ایک منکر کام سامنے آرہا ہے بے حیائی ،بے حجابی، رشوت ،لوٹ کھسوٹ سودخوری ،بے ایمانی ظلم و زیادتی، عیاری ،مکاری، دغا بازی، غیبت ،آپسی چپقلش ،استہزاء و مذاق اور ذمہ داریوں میں سستی و غیرہ غرضیکہ آج امت بے شمار منکرات کا شکار ہے انہیں میں سے ایک ارتداد ہے بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ وقت کا سب سے بڑا منکر کام ارتدادہے۔ اہل اسلام کے لڑکے اور لڑکیاں ارتداد کا شکار کیسے ہو ئے؟ اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ کیایہ لڑکے اور لڑکیاں نادان تھے؟ یا اس کے پس پردہ کوئی اور بات ہے ؟لیکن ان تمام پر گفتگو سے پہلے ارتداد کا لغوی و شرعی معنی جان لینا ضروری ہے ۔ارتداد کا لغوی اوراصلاحی معنی
الرجوع عن الشیء إلی غیرہ الرجوع عن دین الإسلام إلی الکفر، سواء بالنیۃ او بالفعل المکفر او بالقول و سواء قالہ استہزاء ً او عناداً او اعتقاداً۔ ترجمہ :الشیخ وہبہ الزحیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک چیز سے دوسری چیز کی طرف لوٹ جانے کا نام ارتداد ہے ۔ارتداد کا اصطلاحی مفہوم بیان کرتے ہیں کہ دین اسلام سے کفر کی طرف لوٹ جانے کا نام ارتدادہے خواہ اس کی اس نے نیت کی ہو یا کفریہ کام کیا ہو یا بات کہی ہوچاہے وہ بات اس نے استہزاء کے طور پر کہی ہو یا بغض و عناد کے طور پر یا اعتقادی طور پر۔ (الفقہ الاسلامی و ادلتہ للزحیلی(۷:۵۵۷۶)فتنہ ارتداد میں مبتلاء لوگوں میں دینی دشمنی کے مختلف زاویئے
فتنہ ارتداد میں مبتلاء لوگوں میں ہرایک فرد تفسیر بالرائے، انکارِ اِجماع، انکارِ سزائے ارتدادو رجم، اقدامی جہاد کے انکاراور تصوف واہل تصوف کے استہزاء میں بعینہ غامدی اصغر ہے۔ اِن افکار کا یقینی نتیجہ مذہب بیزاری، دینی تشکیک وتذبذب، تمام امت اسلامیہ کی تجہیل اور تحمیق اور قدیم علماء امت اور حاملین دین کو ناقابل اعتماد مجرم قرار دینا اور اسلام کی پوری تاریخ تاریک در تاریک دِکھلانا ہے۔ ان لبرل کے وضع کردہ فہم دین کے اُصولوں کے نتیجے میں کیا کچھ ہمارے ہاتھ سے جاتا ہے؟ اس کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ قرآن کریم کی تفسیر وتشریح میں جو کچھ صاحبِ قرآن ﷺنے فرمایا وہ ناقابل اعتبار ٹھہرا کہ قرآن سمجھنے کا مدار فقط عربی دانی ہے۔ اقوالِ صحابہ وتابعین رضی اللہ عنہم ، تشریحاتِ مفسرین اور فقہاء کرام کے قرآن سے اخذ کردہ مسائل واحکام سب بیک جنبش قلم ناقابل التفات ٹھہرے۔ سنت رسول ﷺاور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم کی پابندی بھی غیر لازم ہوئی کہ سنت تو دین ابراہیمی کی روایت ہے۔ ارتداد کی یہ کوششیں نئی نہیں ہیں بلکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے دور میں بھی مسلمانوں کو دین سے بر گشتہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔یہودیوںنے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے باہم طے کیا کہ صبح کو مسلمان ہوجائیںاور شام کو کافر ہو جا ئیںتاکہ مسلمانوں کے دلوں میں بھی اسلام کے بارے میں شک پیدا ہو کہ یہ لوگ قبول اسلام کے بعد دوبارہ اپنے دین میں چلے گئے ہیں تو ممکن ہے کہ اسلام میں ایسے عیوب اور خامیاں ہوں جو ان کے علم میں آئی ہوںاسی کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے اللہ تعالی نے فرمایا : {وَقَالَتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْٓ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّہَارِ وَاکْفُرُوْٓا اٰخِرَہ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ}(۷۲){وَلَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَکُمْ قُلْ اِنَّ الْہُدٰی ہُدَی اللہِ اَنْ یُّؤْتٰٓی اَحَدٌ مِّثْلَ مَآ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْکُمْ عِنْدَ رَبِّکُمْ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآء ُ وَاللہُ وٰسِعٌ عَلِیْمٌ}(۷۳)سورۃ آل عمران) ترجمہ کنزالایمان :اور کتابیوں کا ایک گروہ بولا وہ جو ایمان والوں پر اترا صبح کو اس پر ایمان لاؤ اور شام کو منکر ہوجاؤ شاید وہ پھرجائیںاور یقین نہ لاؤ مگر اس کا جو تمہارے دین کا پیرو ہو تم فرمادو کہ اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے(یقین کا ہے کا نہ لاؤ)اس کا کہ کسی کو ملے جیسا تمہیں ملا یا کوئی تم پر حجت لاسکے تمہارے رب کے پاس تم فرمادو کہ فضل تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔عبداللہ بن ابی سرح کامرتدہونا
عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:کَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ یَکْتُبُ لِرَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأَزَلَّہُ الشَّیْطَانُ، فَلَحِقَ بِالْکُفَّارِ، فَأَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُقْتَلَ یَوْمَ الْفَتْحِ، فَاسْتَجَارَ لَہُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَأَجَارَہُ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔ ترجمہ:حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نامی شخص حضورتاجدارختم نبوت ﷺکاکاتب تھا، پھر شیطان نے اس کو بہکا لیا، اور وہ کافروں سے جا ملا توحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فتح مکہ کے دن اس کے قتل کا حکم دیا، پھرحضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے اس کے لیے امان مانگی تو آپ ﷺنے اسے امان دی۔ (سنن أبی داود:أبو داود سلیمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشیر السَِّجِسْتانی (۴:۱۲۸)حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی بارگاہ سے بھاگنے والے مرتدکاحال
عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، قَالَ:کَانَ رَجُلٌ نَصْرَانِیًّا فَأَسْلَمَ، وَقَرَأَ البَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ، فَکَانَ یَکْتُبُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَعَادَ نَصْرَانِیًّا، فَکَانَ یَقُولُ:مَا یَدْرِی مُحَمَّدٌ إِلَّا مَا کَتَبْتُ لَہُ فَأَمَاتَہُ اللَّہُ فَدَفَنُوہُ، فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْہُ الأَرْضُ، فَقَالُوا:ہَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِہِ لَمَّا ہَرَبَ مِنْہُمْ، نَبَشُوا عَنْ صَاحِبِنَا فَأَلْقَوْہُ، فَحَفَرُوا لَہُ فَأَعْمَقُوا، فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْہُ الأَرْضُ، فَقَالُوا:ہَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِہِ، نَبَشُوا عَنْ صَاحِبِنَا لَمَّا ہَرَبَ مِنْہُمْ فَأَلْقَوْہُ، فَحَفَرُوا لَہُ وَأَعْمَقُوا لَہُ فِی الأَرْضِ مَا اسْتَطَاعُوا، فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْہُ الأَرْضُ، فَعَلِمُوا:أَنَّہُ لَیْسَ مِنَ النَّاسِ، فَأَلْقَوْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ ایک شخص پہلے عیسائی تھاپھر وہ اسلام میں داخل ہو گیا تھا۔ اس نے سورۃ البقرہ اور آل عمران پڑھ لی تھی اور وہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکا کاتب بن گیا لیکن پھر وہ شخص مرتد ہو کر عیسائی ہو گیا اور کہنے لگا کہ محمد ﷺکے لیے جو کچھ میں نے لکھ دیا ہے اس کے سوا انہیں اور کچھ بھی معلوم نہیں،پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی موت واقع ہو گئی اور اس کے آدمیوں نے اسے دفن کر دیاجب صبح ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ اس کی لاش قبر سے نکل کر زمین کے اوپر پڑی ہے، عیسائی لوگوں نے کہا کہ یہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺاور ان کے ساتھیوں کا کام ہے چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا اس لیے انہوں نے اس کی قبر کھودی ہے اور لاش کو باہر نکال کر پھینک دیا ہے۔ چنانچہ دوسری قبر انہوں نے کھودی جو بہت زیادہ گہری تھی لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی اس مرتبہ بھی انہوں نے یہی کہا کہ یہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺاور ان کے ساتھیوں کا کام ہے چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا اس لیے اس کی قبر کھود کر انہوں نے لاش باہر پھینک دی ہے۔ پھر انہوں نے قبر کھودی اور جتنی گہری ان کے بس میں تھی کر کے اسے اس کے اندر ڈال دیا لیکن صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی۔ اب انہیں یقین آیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے (بلکہ یہ میت اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہے)چنانچہ انہوں نے اسے یونہی (زمین پر)ڈال دیا۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۴:۲۰۲) حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے وصال شریف کے بعد یہ سرزمین فتنو ںکی آماجگاہ بن گئی حضرت سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا تو طرح طرح کے فتنے سامنے آئے(۱)سب سے پہلے ادعاء نبوت کا فتنہ سامنے آیا یمن میں اسود عنسی ،بنو حنیفہ کا مسیلمہ کذاب اور قبیلہ بنو اسد کے طلیحہ بن خویلدنے اپنے نبی ہو نے کا اعلان کردیا ،جس کی سر کو بی کے لئے حضرت سیدناابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایسی ہمت وشجاعت کا ثبوت دیااوراسلامی لشکر میدان میں کودے اور کامیابی سے ہمکنار ہوئے ،بغاوتوں کا مقابلہ ظاہر ہے کہ طاقت استعمال کر کے ہی کیا جاسکتا ہے، مگر حالات کی نزاکت اس حد کو پہنچ گئی تھی کہ حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا تو کسی کی رائے نہ ہوئی کہ اس وقت بغاوتوں کے مقابلہ میں کوئی سخت قدم اٹھایا جائے، خطرہ یہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اگر اندرونی جنگ میں مشغول ہوجائیں تو بیرونی طاقتیں اس جدید اسلامی ملک پر دوڑ پڑیں گی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کریم ﷺکے غلا م جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے قلب کو اس جہاد کے لئے مضبوط فرمادیا، اور آپ رضی اللہ عنہ نے ایک ایسا بلیغ خطبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے دیا کہ اس جہاد کے لئے ان کا بھی شرح صدر ہوگیا، اس خطبہ میں اپنے پورے عزم و استقلال کو ان الفاظ میں بیان کیا کہ جو لوگ مسلمان ہونے کے بعد حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے دیئے ہوئے احکام و قوانین کاانکار کریںگے تو میں ان کے خلاف جہاد کروںگا، اگر میرے مقابلہ پر تمام جن و انس اور دنیا کے شجر و حجر سب کو جمع کر لائیں، اور کوئی میرے ساتھ نہ ہوتو میں تنہا جہاد کروں گااور یہ فرما کر گھو ڑے پر سوار ہوئے اور چلنے لگے، اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آگے آئے اورحضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ کو اپنی جگہ بٹھاکر مختلف محاذوں پر روانہ ہوگئے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے زیر ہدایت اس فتنہ ارتداد کے مقابلہ کے لئے کھڑی ہو گئی، حضرت سیدناخالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کو ایک بڑا لشکر دے کر پہلے طلحہ بن خویلد کی سر کوبی کے لئے روانہ کیا لیکن وہ جان بچا کر مدینہ منورہ آگیا اور دوبارہ اسلام قبول کر لیا۔ مسلیمہ کذاب کے مقابلہ کے لئے حضرت سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا لیکن ان کی مدد کے لئے حضرت سیدناخالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اجازت مل چکی تھی ۔وہاں مسلیمہ کذاب کی جماعت نے اچھی خاصی طاقت پکڑلی تھی، سخت معرکے ہوئے، بالآخر مسلیمہ کذاب حضرت سیدناوحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں مارا گیا، اور اس کی جماعت تائب ہو کر پھر مسلمانوں میں مل گئی،اور اسود عنسی نے یمن میں نبوت کا اعلان کیا تو حضرت سیدنافیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے بحالت بیہوشی ایک دن اس کی گردن مروڑ دی ۔ (۲)دوسرا فتنہ فتنہ ارتداد تھا حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کے وصال شریف کے بعد مسلمان ہونے والے اعراب وسیع پیمانے پر مرتد ہو گئے قبا ئلی سرداروں نے برا ء ت کا اظہار کردیا اور اپنے اپنے قبیلے کا اقتدار سنبھال کر اپنے آپ کو سر براہ تصور کر لیا عمان میں لقیط بن ما لک نے بحرین میں نعمان ابن منذر نے اور دیگر مقامات پر دوسرے لوگ مرتد ہو گئے تو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شجاعت اور بہادری کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا اورفوج کو تیار کرکے ان کی سر کو بی کے لئے روانہ کر دیا اور کا میابی سے ہم کنار ہو گئے۔ (۳)تیسرا فتنہ یہ تھا کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم دین کا ہر حکم تسلیم کرتے ہیں لیکن اب زکوۃ نہیں دیں گے اس پر بھی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خاموش نہیں بیٹھے بلکہ ان کے ساتھ سختی کی۔ حدیث شریف عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:لَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ بَعْدَہُ، وَکَفَرَ مَنْ کَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِی بَکْرٍ:کَیْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُولُوا:لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ،فَمَنْ قَالَ:لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّی مَالَہُ، وَنَفْسَہُ، إِلَّا بِحَقِّہِ وَحِسَابُہُ عَلَی اللہِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ:وَاللہِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلَاۃِ، وَالزَّکَاۃِ، فَإِنَّ الزَّکَاۃَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللہِ لَوْ مَنَعُونِی عِقَالًا کَانُوا یُؤَدُّونَہُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُہُمْ عَلَی مَنْعِہِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:فَوَاللہِ، مَا ہُوَ إِلَّا أَنْ رَأَیْتُ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِی بَکْرٍ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّہُ الْحَقُّ ۔ ترجمہ:حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺکاوصال شریف ہوا اورحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور عرب کے لوگ جو کافر ہونے والے تھے وہ کافر ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا:تم ان لوگوں سے کیونکر لڑو گے حالانکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا ہے مجھ کو حکم ہوا ہے لوگوں سے لڑنے کا یہاں تک کہ وہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲکہیں۔ پھر جس نے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲکہا اس نے مجھ سے اپنے مال اور جان کو بچا لیا مگر کسی نے حق کے بدلے (یعنی کسی قصور کے بدلے جیسے زنا کرے یا خون کرے تو پکڑا جائے گا)پھر حساب اس کا اللہ پر ہے۔(اگر اس کے دل میں کفر ہوا اور ظاہر میں ڈر کے مارے مسلمان ہو گیا تو قیامت میں اللہ اس سے حساب لے گا۔ دنیا ظاہر پر ہے، دنیا میں اس سے کوئی مواخذہ نہ ہو گا)حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اللہ کی قسم!میں تو لڑوں گا اس شخص سے جو فرق کرے نماز اور زکوٰۃ میں، اس لئے کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم!وہ ایک رسی جو حضورتاجدارختم نبوتﷺکے زمانہ اقدس میں زکوۃ کی مدمیں آیاکرتی تھی اگروہ بھی روکیں گے تومیں ان کے ساتھ قتال کروں گا۔حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:اللہ کی قسم !پھر وہ کچھ نہ تھا مگر میں نے یقین کیا کہ اللہ جل جلالہ نے حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا ہے لڑائی کے لئے (یعنی ان کے دل میں یہ بات ڈال دی)تب میں نے جانا کہ حق یہی ہے۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (ا:۵۱)ارتداد کے اسباب
اور اسی ارتداد ہی کی ایک شکل عصر حاضر کا یہ فتنہ ہے جس میں بہت سے مسلمان لڑکے اور مسلمان لڑکیوں نے غیروں کے جھانسے میں آکرمذہب اسلام سے خود کو الگ کر لیااپنے ساتھ اپنے ماں باپ اور دیگر رشتہ دارو ںاور خود اہل اسلام کے ذلیل ہونے کا سبب بنیں اب سوال یہ ہے کہ آخر فتنہ ارتداد کا شکار مسلم اقوام کیوں ہورہی ہیں ؟کہیں مسلمان لڑکا غیر مسلم لڑکی کے چکرمیں پھنس کر اپنا دین بدل دیتاہے یا بسا اوقات مسلمان لڑکی کسی غیر مسلم لڑکے چکر میں آکر اپنے دین و ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتی اس کے کئی اسبا ب ہیں جن میں سے چند پیش خدمت ہیں۔ پہلاسبب :صحیح تربیت کا فقدان اللہ تعالی نے ہمیں اولاد عطا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے کچھ ذمہ داریاں نبھانے کاحکم بھی دیا ہے اگر ہم نے ان ذمہ داریوں کا حق ادا نہ کیا تو ہم سے پوچھ تاچھ ہوگی اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا : { یَااَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا قُوا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیکُمْ نَارًا وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَیْہَا مَلَائِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا یَعْصُونَ اللَّہَ مَا اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُونَ مَا یُوْمَرُونَ } ترجمہ ضیاء الایمان : اے اہل ایمان !بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر اس پر بڑے طاقتور فرشتے مامور ہیں اللہ ان کو جو حکم دے گا وہ فرشتے اس کی نافرمانی نہیں کریں گے اور وہ وہی کریں گے جس کا انہیں حکم دیا جائے گا۔ (التحریم:۶) تم میں سے ہرایک راعی ہے عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ:أَلَا کُلُّکُمْ رَاعٍ، وَکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ،فَالْأَمِیرُ الَّذِی عَلَی النَّاسِ رَاعٍ،وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ،وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَی أَہْلِ بَیْتِہِ،وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْہُمْ،وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلَی بَیْتِ بَعْلِہَا وَوَلَدِہِ،وَہِیَ مَسْئُولَۃٌ عَنْہُمْ،وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَی مَالِ سَیِّدِہِ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْہُ،أَلَا فَکُلُّکُمْ رَاعٍ،وَکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺفرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ امیر (حاکم)ہے، مرد اپنے گھر والوں پر حاکم ہے۔ عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر حاکم ہے۔ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۳:۱۴۵۹) مذکورہ آیت و حدیث میں اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺنے اہل و عیال کے تعلق سے چوکنا رہنے کی تاکید کی ہے بحیثیت باپ اپنی اولاد کو دین کے راستے پر ڈالنا تمہاری ذمہ داری ہے یہ مت سمجھو کہ ان کے حوالے سے تمہاری ذمہ داری صرف ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے کی حد تک ہے بلکہ ایک مومن کی حیثیت سے اپنے اہل و عیال کے حوالے سے تمہارا پہلا فرض یہ ہے کہ تم انہیں جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر کرواس کے لیے ہر وہ طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کرو جس سے ان کے قلوب و اذہان میں دین کی سمجھ بوجھ اللہ کا تقویٰ اور آخرت کی فکر پیدا ہوجائے تاکہ تمہارے ساتھ ساتھ وہ بھی جہنم کی اس آگ سے بچ جائیں اور اس کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کرنا چاہیے ڈرا کر سمجھا کر، پیار سے، دھمکی سے، مار سے جس طرح بھی بن پڑے۔ انہیں اس راہ پر لانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔یہاں مار کے سلسلے میں انسانیت کا خیال رہے ایسی مار نہ ماری جائے کہ بچہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے یا شدید چوٹ آجا ئے جو اس کے لئے زندگی کے صدمے کا سبب بن جا ئے ۔ اس آیت کریمہ کامفہوم ووقایۃ الأنفس بإلزامہا أمر اللہ،والقیام بأمرہ امتثالا ونہیہ اجتنابًا، والتوبۃ عما یسخط اللہ ویوجب العذاب،ووقایۃ الأہل(والأولاد)بتأدیبہم وتعلیمہم،وإجبارہم علی أمر اللہ،فلا یسلم العبد إلا إذا قام بما أمر اللہ بہ فی نفسہ،وفیما یدخل تحت ولایتہ من الزوجات والأولاد وغیرہم ممن ہو تحت ولایتہ وتصرفہ۔ ترجمہ:الشیخ عبدالرحمن بن ناصربن عبداللہ السعدی المتوفی : ۱۳۷۶ھ) لکھتے ہیں کہ نفس کو بچانا یہ ہے کہ اللہ تعالی کے اوامرکی اطاعت اورنواہی سے اجتناب اورایسے امورسے توبہ کاالتزام کیاجائے جن سے اللہ تعالی ناراض ہوتاہے اور جو عذاب کے موجب ہیں اہل و عیال کو بچانا یہ ہے کہ ان کوعلم و ادب سکھائے اور انکو اللہ کے احکامات کی تعمیل پر مجبور کیا جائے۔ پس بندہ صرف اسی وقت محفوظ ہوتا ہے جب وہ اپنے بارے میں اور ان لوگوں کے بارے میں جو اس کی سرپرستی میں اور اس کے تصرف میں ہوں اللہ کے اوامر کی تعمیل کرتا ہے۔ ( تیسیر الکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان:عبد الرحمن بن ناصر بن عبد اللہ السعدی (۱:۸۷۴) اس لئے ما ں باپ بچوں کی تربیت میں سستی نہ کریں بلکہ ان کی صحیح تربیت کریں دین کا کو ئی گوشہ نہ چھوٹنے پا ئے۔ انہیں وہی کام بتائیں جو ان کے لئے دنیا و آخرت میں مفید ہوتاکہ ان کا فرض پورا ہو اور بچہ راہ راست پر آجا ئے حتی کہ خود ان کے سامنے وہی کام کریں جو ان کی تربیت میں معاون و ممد ثابت ہو ۔ دوسراسبب :دین سے دوری نا دانی کا عالم یہ ہے کہ اگر کو ئی مسئلہ ہو جا ئے تو عوام سب سے پہلے علماء کو قصور وار ٹھہراتی ہے جب کہ یہ بالکل غلط ہے حالانکہ اکثرگھروں میں دین داری نہیں ہوتی ماں باپ دین سے لابلد اور دورہوتے ہیں گھر میں ٹی وی ہے بچوں کے ساتھ ماں باپ بھی فلم دیکھتے ہیں ،پردے کا جنازہ نکل چکا ہے ،پر کشش لباس پہن کر لڑکیاں بے پردہ ہوکر باہرجاتی ہیں، ماں باپ ہر کام کی وجہ سے بچوں کو ڈانٹتے ہیں لیکن نماز یا دین کے کسی مسئلے پربو لنا تک گوارہ نہیں ۔ امام صاحب نے کیا غلطی کی ؟انہیں معلوم ہے علماء سے کہاں کہاں چوک ہوتی ہے ؟اس پر ان کی نظریں ہوتی ہیں لیکن اپنے بچے کیا کر رہے ہیںاورکیا کرنا چاہئے ؟ اس پر ان کی نظریں نہیں ہوا کرتیں ۔ آج لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس میں ماں باپ کا کوئی قصور نہیں یہ بچوں کی غلطیاں ہیں، ماں باپ نے یہ کب کہا کہ تم اپنا دین بدل لو ؟ کسی غیر مسلم سے شادی کر لو؟کیا ماں باپ نے بچوں کو اس کی تعلیم دی یاانہیں اس پر مجبور کیا؟نہیں اس لئے ماں باپ کو قصور وار ٹھہرانا صحیح نہیں ہے ۔ یہ بات بھی غلط ہے کیوں کہ آپ نے بچوں کا جو حق تھاوہ نہیں دیا،جس کی وجہ سے بچے بے راہ روی کا شکار ہوگئے ہاں!اتنا کہہ سکتے ہیں کہ بچے بڑے تھے ،سمجھ دار تھے، انہیںیہ نا دانی نہیں کرنی چاہئے تھی ،لیکن آپ نے اسے کہاں اس سوچ کا حامل بنایا کہ وہ ایسا سوچتے ۔ مدرسے جہاں سے دینی تعلیم کی صدا بلند ہوتی ہے، جہاں پہ بچوں کے دل و دماغ کو جلا ملتی ہے، جہاں پہ بچو ںکوانسانیت کا درس دیا جاتا ہے ،وہاں داخلہ دلوانے کے بجا ئے آپ نے کا لج اوراسکولوںمیں داخلہ دلا دیا، جہاں بچے بچیاں سب مل کر تعلیم حاصل کرتے ہیں ،جہاں انسانیت نہیں بلکہ بے حیا ئی و فحاشی عام ہو تی ہے ۔جہاں بچوں کا مستقبل برباد ہوتا ہے ۔بچوں کو جہاں چاہا اکیلا بھیج دیا،جبکہ اسلام کہتا ہے کہ کہیں بھیجنا ہو توبچی کو اکیلا نہ بھیجیں بلکہ کو ئی محرم یا خود ساتھ میں ہوں کیوں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکافرمان عالی شان ہے عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ، قَالَ:سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، یَقُولُ:سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ یَقُولُ:لَا یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَۃٍ إِلَّا وَمَعَہَاذُو مَحْرَمٍ،وَلَا تُسَافِرِ الْمَرْأَۃُ إِلَّا مَعَ ذِی مَحْرَمٍ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ:یَا رَسُولَ اللہِ،إِنَّ امْرَأَتِی خَرَجَتْ حَاجَّۃً،وَإِنِّی اکْتُتِبْتُ فِی غَزْوَۃِ کَذَا وَکَذَا،قَالَ:انْطَلِقْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِکَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ میں نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو فرماتے ہوئے سنا:کو ئی آدمی کسی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ ہوالا یہ کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو اور کو ئی عورت بلا محرم سفر نہ کرے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ عرض گزارہوئے : یارسول اللہ ﷺ! میں جہاد میں ہوتاہوں اورمیری زوجہ حج کرنے کے لئے جاناچاہتی ہے کیاوہ اکیلی چلی جائے؟ توحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: اسے تنہانہ بھیجوبلکہ تم خود اس کے ساتھ جائواوراس کے ساتھ حج کرو۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۲:۹۷۸) اور بچی جب ہوس پرستوں کا شکار ہو گئی تو اپنا دامن جھاڑلیاکہ ہم بے قصور ہیں ساری غلطی بچوں کی ہے، حالانکہ اس میں ماں باپ برابر کے مجرم ہیں ۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچے دین دار بنیں اس طرح کے چکر میں پھنس کر اپنی عاقبت تباہ نہ کریں تو پہلے اپنے آپ کو دین دار بنا ئیں ان مقامات سے خود کو دور رکھیں جہاں پہ جانا عذاب الہی کو دعوت دینا ہے ،بچو ںکے سامنے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و صحابیات رضی اللہ عنہن اور اسلاف رحمہم اللہ کے سبق آموز واقعات بیان کریں تاکہ ان کے اندر شوق پیدا ہو اور اسلاف کی تاریخ سے یہ استفادہ کریں ۔ تیسراسبب :بے جا آزادی اسی تربیت ہی کا ایک حصہ بے جا آزادی ہے بچوں کو گھومنے کا موقع دیا جا ئے، انہیں بچپن ہی سے ذمہ داریوں کا احساس دلایا جا ئے ،ان سے کام لیا جا ئے، پر ایسا نہ ہو کہ انہیں بے لگام چھوڑ دیا جا ئے کہ اب تم جو چاہو کرو اور جہاں چاہو جا ئو ،کیوں کہ اگر بچہ اتنی کھلی آزادی پا ئے گا تو در اصل یہی اس کے بگاڑ کا راستہ بنے گا وہ یہ سمجھ لے گا کہ اب ہمارے ماں باپ کو میرے او پر پورا بھرو سہ ہے ،میںجو چاہوں کروں ،کو ئی پوچھنے والا نہیں، اب ذرا غور کرو کہ ماں باپ نے موبائل دے دیا ہے کہ کہیں کو ئی مسئلہ در پیش ہو تو کم از کم بچہ ہمیں آگاہ کر دے گا اور ہم وہاں پہنچ کر اس کی پریشانی کا حل نکا لیں گے، لیکن اکثر والدین کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ کبھی کبھار بچے کا مو بائل چیک کر لیں کہ وہ کیا کرتے ہیں ؟وہ کس سے بات کرتے ہیں ؟کس کے پاس جاتے ہیں ؟کیا کرتے ہیں؟ماں باپ کے توجہ نہ دینے کی وجہ سے بچہ آزادی کا غلط فائدہ اٹھاتا ہے نتیجہ الگ الگ فتنوں کی شکل میں سامنے آتا ہے جس کی ایک مثال یہ ارتداد کا فتنہ بھی ہے ۔ چوتھاسبب : علوم دینیہ سے دوری چونکہ ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا لڑکا یا لڑکی ڈاکٹر بن جا ئے، انجینئر بن جا ئے، کو ئی بڑا تاجر بن جا ئے ،جس سے نہ صرف یہ کہ ان کا نام روشن ہو بلکہ ان کا بیٹا بھی نام کما ئے اور دور دور تک اس کا شہرہ ہو، اسی لئے اپنے بچوں کو کالجوں یونیورسٹیوں اور اسکولوں میں داخلہ دلواتے ہیںاوران کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایسے ادارے کاانتخاب ہوجس میں نصاب خالصتاً انگریزی ہواوراس میں پڑھانے والے تمام معلمین دین دشمن ہوں اوربچوں کاصرف اورصرف حلیہ مسلمانوں والاہواس کے علاوہ اس کی سوچ وفکرکافرانہ ہو آج تقریباً تمام سکولوں میں نصاب ایساترتیب دے دیاگیاہے کہ جس میں اسلام دشمنی عیاں ہے اوراس نصاب میں کفریات ہیں اورایسے ایسے نظریات پڑھائے جارہے ہیں جو سراسراسلامی عقائد کے خلاف ہیں۔ آج ہر شخص اسی فکرمیں ہے کہ میرابچہ تعلیم حاصل کررہاہے مگراسے یہ معلوم نہیں ہے کہ میرابچہ دین دشمنی کی تعلیم پارہاہے ۔اوروہی بچہ جب اپنی انگریزی تعلیم پانے سے فراغت پاتاہے تو اس کے نظریات میں اورامریکہ کے کفارکے نظریات میں ذرہ برابرفرق نہیں ہوتا، جیسے تعلیم پانے سے فارغ ہوتاہے وہ اہل اسلام سے کافراورانگریزوں کواچھاسمجھتاہے ۔ کیونکہ اس کے نزدیک اچھااوربراہونے کامعیار اسلام نہیں ہوتابلکہ اس کے نزدیک اچھااوربراہونے کامعیارصرف اورصرف مادیت پرستی اورمادی ترقی ہوتی ہے ۔ اس طرح مسلمانوں کے بچے کفراورارتداد کے گڑھے میں جاگرتے ہیں ۔ آج انہیں سکولوں سے منکرین حدیث پیداہورہے ہیں ، منکرین قرآن جنم لے رہے ہیں ، منکرین خداکی بہت بڑی تعداد انہیں اداروں سے نکل رہی ہے ۔ ایک مصدقہ اطلاع کے مطابق سالانہ پاکستانی یونیورسٹیوں سے ایک لاکھ سے زیادہ لوگ ملحد تیارکئے جارہے ہیں ۔اور(سنہ ۲۰۱۹ء)میں پاکستان سے گیارہ ہزارسے زائد یونیورسٹیوں کے لڑکے مرزائیت قبول کرکے یورپی ممالک چلے گئے ہیں۔ اللہ تعالی جزائے خیردے ہمارے ان علماء کرام کو جنہوں نے شروع دن سے ان کفروشرک فروش اداروں کے خلاف اپنے معتقدین کوسمجھایاکہ یہ ادارے اہل اسلام اوراسلام کے دشمن ہیں اوریہیں سے دین دشمن تیارکئے جاتے ہیں ۔ مگرہمارے مفاد پرست ملااورمشائخ نے کبھی اس کی طرف توجہ نہیں کی اورانہوں نے اپنے بچوں کو اوراپنی لڑکیوں کو انہیں اداروں میں داخل کروایا، اس کا
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9