صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2186 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۰۷ ۔ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآء َ مَرْضَاتِ اللہِ وَاللہُ رَء ُوْفٌ بِالْعِبَادِ}(۲۰۷)

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,811

سوال (Question):

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۰۷ ۔ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآء َ مَرْضَاتِ اللہِ وَاللہُ رَء ُوْفٌ بِالْعِبَادِ}(۲۰۷)

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اپنی جانوں کارب تعالی سے سوداکرنے والے

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کامقام ومرتبہ

{وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآء َ مَرْضَاتِ اللہِ وَاللہُ رَء ُوْفٌ بِالْعِبَادِ}(۲۰۷) ترجمہ کنزالایمان:اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے اللہ کی مرضی چاہنے میں اور اللہ بندوں پر مہربان ہے ۔ ترجمہ ضیاء الایمان :اورکوئی آدمی اللہ تعالی کو راضی کرنے کے لئے اپنی جان فروخت کردیتاہے اوراللہ تعالی اپنے بندوں پربڑامہربان ہے۔ شان نزول کے متعلق پہلاقول عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ،عَنْ صُہَیْبٍ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:أُرِیتُ دَارَ ہِجْرَتِکُمْ سَبِخَۃً بَیْنَ ظَہْرَانَیْ حَرَّۃٍ، فَإِمَّا أَنْ تَکُونَ ہَجَرًا أَوْ تَکُونَ یَثْرِبَ قَالَ:وَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَخَرَجَ مَعَہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ،وَکُنْتُ قَدْ ہَمَمْتُ بِالْخُرُوجِ مَعَہُ، فَصَدَّنِی فِتْیَانٌ مِنْ قُرَیْشٍ، فَجَعَلْتُ لَیْلَتِی تِلْکَ أَقُومُ لَا أَقْعُدُ، فَقَالُوا:قَدْ شَغَلَہُ اللہُ عَنْکُمْ بِبَطْنِہِ،وَلَمْ أَکُنْ شَاکِیًا،فَنَامُوا فَخَرَجْتُ فَلَحِقَنِی مِنْہُمْ نَاسٌ بَعْدَ مَا سِرْتُ بَرِیدًا لِیَرُدُّونِی، فَقُلْتُ لَہُمْ:ہَلْ لَکُمْ أَنْ أُعْطِیَکُمْ أَوَاقِیَ مِنْ ذَہَبٍ وَتُخَلُّوا سَبِیلِی وَتَفُوا لِی، فَفَعَلُوا،فَسُقْتُہُمْ إِلَی مَکَّۃَ، فَقُلْتُ:احْفِرُوا تَحْتَ أُسْکُفَّۃِ الْبَابِ فَإِنَّ تَحْتَہَا الْأَوَاقِیَ وَاذْہَبُوا إِلَی فُلَانَۃَ فَخُذُوا الْحُلَّتَیْنِ وَخَرَجْتُ حَتَّی قَدِمْتُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُبَاء َ قَبْلَ أَنْ یَتَحَوَّلَ مِنْہَا، فَلَمَّا رَآنِی قَالَ:یَا أَبَا یَحْیَی رَبِحَ الْبَیْعُ ،ثَلَاثًا، فَقُلْتُ:یَا رَسُولَ اللہِ، مَا سَبَقَنِی إِلَیْکَ أَحَدٌ، وَمَا أَخْبَرَکَ إِلَّا جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناسعید بن مسیب رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناصہیب رضی اللہ عنہ اورآپ کے ساتھی ہجرت کے بعدآپﷺ کے ساتھ جاملنے کیلئے موقع کی تاک میں تھے مگرکامیابی نہ ملی کیونکہ قریش کے آدمی برابران پر پہرہ دے رہے تھے اس لئے انھوں نے مجبوراًکوئی حیلہ ڈھونڈنے کاسوچا۔ چنانچہ ایک رات جب کہ سخت ٹھنڈ پڑرہی تھی ،حضرت سیدناصہیب رضی اللہ عنہ باربارباہرنکلتے تھے یہ دکھانے کیلئے کہ گویا وہ قضائے حاجت کے ارادے سے ایسا کرتے ہیں،وہ واپس آکرفورًادوبارہ چلے جاتے۔پہرہ دینے والوں میں سے ایک نے کہاکہ بے فکرہوجاؤ ،لات وعزی ٰ نے اسے پیٹ کی تکلیف میں مبتلاکردیاہے ۔ پھر وہ سب اپنے اپنے گھروں کوچلے گئے اورسوگئے تب حضرت سیدناصہیب رضی اللہ عنہ ان کے درمیان سے کھسک کر نکل پڑے اورمدینہ منورہ کارخ کیا۔ ابھی وہ چلے جا ہی رہے تھے کہ نگرانوں کوخبرہوگئی اورفوراًنیند چھوڑکرسراسیمگی(گھبراہٹ)کے عالم میں اپنے تیزرفتار گھوڑوں پرسوارہوکران کا پیچھاکرتے ہوئے ان کو خوب دوڑایااوربالآخران کے پاس پہنچ گئے۔ جب حضرت سیدناصہیب رضی اللہ عنہ کوعلم ہواتوایک اونچی جگہ پرکھڑے ہوگئے اوراپنے ترکش سے تیر نکال کراپنی کمان میں کستے ہوئے کہا:قریش والو!خداکی قسم!تمہیں معلوم ہے کہ میں تم میں سب سے زیادہ ماہرتیراندازہوں اورمیرانشانہ ٹھیک لگتاہے ۔ خداکی قسم! جب تک میں تم کو اپنے ترکش کے تمام تیروں سے نشانہ نہ بناؤ ں،مجھ تک نہیں پہنچ پاؤ گے ،پھر (جب تیرختم ہو جائیں)توجب تک میرے ہاتھ میں تلواررہی میں تم پرحملے کرتارہوں گا، چاہے اس کاایک ٹکڑاہی میرے ہاتھ میں باقی رہے۔ یہ سن کران میں سے ایک آدمی بولا:خداکی قسم! ہم تمہیں اپنی جان ومال نہیں بچانے دیں گے ،توجب مکہ میں آیاتھاتوتیرے پاس کچھ نہیں تھااوراب تم اتنامال لیکرمدینہ جارہے ہو۔حضرت سیدناصہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھایہ بتاؤ کہ اگرمیں اپناسارا مال تم لوگوں کیلئے چھوڑوں توکیاتم میراراستہ چھوڑدو گے؟ ۔انہوں نے کہا؟:ہاں !پھر انھوں نے مکہ میں اپنے گھر میں وہ جگہ بتادی جہاں انھوں نے وہ مال رکھاتھا،پھر وہ آئے اوروہ مال ان سے لے کران کوجانے دیا۔حضرت سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کی طرف اپنے دین کولے کر بھاگتے ہوئے گئے اورجس مال کواکھٹاکرنے کیلئے انھوں نے اپنی عمر کاقیمتی وقت صرف کیاتھا اس کاکچھ افسوس نہیں کیا۔ اورجب بھی تھکاوٹ اورسستی چھاجاتی ،توحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے دیدارکاشوق ان کوتازہ دم کردیتااورپھرایک نئے ولولے کے ساتھ اپنی رفتارمیں مگن ہوجاتے۔ جب قباپہنچے توحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے آتے ہوئے دیکھاتو مسرت کااظہار کرتے ہوئے فرمایاربح البیع یاابایحیٰ ۔۔۔۔ربح البیع اے ابویحیٰ تجارت نفع مند رہی ،تجارت نفع مند رہی،تجارت نفع مند رہی ، تین دفعہ یہ فرمایااورحضرت سیدناصہیب رضی اللہ عنہ کاچہرہ خوشی سے کھلنے لگا، اورعرض کیا:خد اکی قسم !مجھ سے پہلے تو کوئی آپ ﷺسے نہیں ملاہے (جوآپﷺ کوبتادیتا)تویہ حضرت سیدناجبرائیل علیہ السلام ہی نے آپﷺکو بتایاہے ۔ بلاشبہ یہ ایک سود مند تجارت تھی اورآسمانی وحی نے اس کی تصدیق کی اورجبرائیل امین علیہ السلام اس کے گواہ بنے ۔جب حضرت سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کے بارے اللہ تعالی کایہ فرمان شریف نازل ہوا{وَمِنَ النَّاسِ مَن یَشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللّہِ وَاللّہُ رَؤُوفٌ بِالْعِبَادِ} (۲۰۷) اور بعض لوگ وہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیںاور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ (دلائل النبوۃ: أحمد بن الحسین بن علی بن موسی أبو بکر البیہقی (۲:۵۲۲) دوسراقول وَقَالَ الْحَسَنُ:أَتَدْرُونَ فِیمَنْ نَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ، نَزَلَتْ فِی الْمُسْلِمِ لَقِیَ الْکَافِرَ فَقَالَ لَہُ:قُلْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ، فإذا قلتہاعَصَمْتَ مَالَکَ وَنَفْسَکَ، فَأَبَی أَنْ یَقُولَہَا، فَقَالَ الْمُسْلِمُ: وَاللَّہِ لَأَشْرِیَنَّ نَفْسِی لِلَّہِ، فَتَقَدَّمَ فَقَاتَلَ۔ ترجمہ:حضرت سیدناامام حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کیاتم جانتے ہوکہ یہ آیت کریمہ کس بارے میں نازل ہوئی ؟ یہ ایک مسلمان کے بارے میں نازل ہوئی جو ایک کافرسے ملااوراسے کہا: توکہہ { لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ}پس جب تونے اسے کہہ لیاتو تونے اپنے مال اوراپنی جان کو بچالیا، لیکن اس نے کلمہ کہنے سے انکارکردیا، تومسلمان نے اسے کہا: قسم بخدا!میں ضروربضروراپنی جان اللہ تعالی کے لئے بیچ دوں گا، چنانچہ وہ آگے بڑھااوراس کے ساتھ قتال کرنے لگایہاں تک کہ وہ شہید ہوگیا۔ تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۳:۲۰) تیسراقول نَزَلَتْ فِیمَنْ أَمَرَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَی عَنِ الْمُنْکَرِ،وَعَلَی ذَلِکَ تَأَوَّلَہَا عُمَرُ وَعَلِیٌّ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ ،حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ اس شخص کے متعلق نازل ہوئی جو لوگوں کو نیکی کاحکم دے اورانہیں برائی سے منع کرے۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۳:۲۰) چوتھاقول قَالَ عَلِیٌّ وَابْنُ عَبَّاسٍ:اقْتَتَلَ الرَّجُلَانِ، أَیْ قَالَ الْمُغَیِّرُ لِلْمُفْسِدِ:اتَّقِ اللَّہَ، فَأَبَی الْمُفْسِدُ وَأَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ، فَشَرَی الْمُغَیِّرُ نَفْسَہُ مِنَ اللَّہِ وَقَاتَلَہُ فَاقْتَتَلَا۔ ترجمہ:حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ دوآدمی باہم لڑے یعنی ایک شخص نے دوسرے کو گناہ سے روکااورکہاکہ تواللہ تعالی سے ڈر، اس نے انکارکیااوراسے گناہ سے روکے جانے پر غیرت آگئی کہ اس نے مجھے گناہ سے منع کیوں کیاہے ۔ توگناہ سے روکنے والے نے اپنی جان اللہ تعالی کو بیچ دی اوراس کے ساتھ لڑنے لگاپس دونوں نے ایک دوسرے کوقتل کردیا۔ (تفسیرابن عطیہ :أبو محمد عبد الحق بن غالب بن عبد الرحمن بن تمام بن عطیۃ (۱:۲۸۲) پانچواں قول وقال أبو الخلیل:سمع عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنْسَانًا یَقْرَأُ ہَذِہِ الْآیَۃَ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِی نَفْسَہُ ابْتِغاء َ مَرْضاتِ اللَّہِ، فَقَالَ عُمْرُ: إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ، قَامَ رَجُلٌ یَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَی عَنِ الْمُنْکَرِ فقتل۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوالخلیل رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے کسی انسان کو یہ آیت کریمہ پڑھتے ہوئے سناتو{إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ}پڑھا، پس وہ آدمی اٹھااورلوگوں کو نیکی کاحکم کرنے لگااورگناہوں سے منع کرنے لگااورخود شہید ہوگیا۔ (تفسیر البغوی :محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (۱:۲۶۶) چھٹاقول نَزَلَتْ فِیمَنْ یَقْتَحِمُ الْقِتَالَ حَمَلَ ہِشَامُ بْنُ عَامِرٍ عَلَی الصَّفِّ فِی الْقُسْطَنْطِینِیَّۃِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ، فَقَرَأَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِی نَفْسَہُ ابْتِغاء َ مَرْضاتِ اللَّہِ۔ ترجمہ : حضرت سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ نے جب اکیلے دشمنوں پر حملہ کر دیا تو بعض لوگوں نے ان پر تنقید کی ،اس پر حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تنقید کرنے والوں پر رد فرمایا اور یہ آیت پڑھی :{َ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِی نَفْسَہُ ابْتِغاء َ مَرْضاتِ اللَّہِ} (تفسیرالطبری:محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۴:۲۴۹) ساتواں قول وَقِیلَ:نَزَلَتْ فِی شُہَدَاء ِ غَزْوَۃِ الرَّجِیعِ وَقَالَ قَتَادَۃُ:ہُمُ الْمُہَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ۔ ترجمہ :اوریہ بھی کہاگیاہے کہ یہ آیت کریمہ غزوۃ الرجیع کے بارے میں نازل ہوئی اوراس میں شامل ہونے والے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مہاجرین اورانصار تھے۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۳:۲۰) آٹھواں قول وَقِیلَ:نَزَلَتْ فِی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ تَرَکَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی فِرَاشِہِ لَیْلَۃَ خَرَجَ إِلَی الْغَارِ۔ ترجمہ :اوریہ بھی بیان کیاگیاہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی جبکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے انہیں ہجرت کی رات اپنے بسترشریف پر آرام کرنے کاحکم دیااورآپ ﷺغارثورکی طرف تشریف لے گئے ۔ (تفسیرالثعلبی:أبو إسحاق أحمد بن إبراہیم الثعلبی (۵:۳۱۴) نواں قول عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ:جَاء َتْ کَتِیبَۃٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِنْ کَتَائِبِ الْکُفَّارِ فَلَقِیَہُمْ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَحَمَلَ عَلَیْہِمْ فَخَرَقَ الصَّفَّ حَتَّی خَرَجَ ثُمَّ کَبَّرَ رَاجِعًا فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِکَ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَإِذَا سَعْدُ بْنُ ہِشَامٍ یَذْکُرُ ذَلِکَ لِأَبِی ہُرَیْرَۃَ فَتَلَا ہَذِہِ الْآیَۃَ:(وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِی نَفْسَہُ ابْتِغَاء َ مَرْضَاۃِ اللَّہِ) ترجمہ :حضرت سیدنامحمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشرق کی جانب سے ایک بار کافروں کا ایک فوجی دستہ آگیا ۔ انصاررضی اللہ عنہم میں ایک شخص نے (اکیلے )ان پر حملہ کرکے ان کی صفیں منتشر کردیں اور پھرباہر نکل کر اسی طرح دو تین بار حملہ کیا۔ حضرت سیدناسعد بن ہشام رضی اللہ عنہ نے اس کا تذکرہ حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے کیا تو انہوں نے یہ آیت پڑھی :{وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآء َ مَرْضَاتِ اللہِ وَاللہُ رَء ُوْفٌ بِالْعِبَادِ} (مصنف ابن ابی شیبہ:أبو بکر بن أبی شیبۃ، عبد اللہ (۴:۲۱۶) دسواں قول عَنْ قَیْسٍ عَنْ مُدْرِکِ بْنِ عَوْفٍ الْأَحْمَسِیِّ،قَالَ:کُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ إِذْ جَاء َہُ رَسُولُ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ فَسَأَلَہُ عُمَرُ عَنِ النَّاسِ فَقَالَ :أُصِیبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ آخَرُونَ لَا أَعْرِفُہُمْ فَقَالَ عُمَرُ:لَکِنَّ اللَّہَ یَعْرِفُہُمْ، فَقَالَ:یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَرَجُلٌ شَرَی نَفْسَہُ فَقَالَ مُدْرِکُ بْنُ عَوْفٍ:ذَلِکَ وَاللَّہِ خَالِی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ زَعَمَ النَّاسُ أَنَّہُ أَلْقَی بِیَدِہِ إِلَی التَّہْلُکَۃِ فَقَالَ عُمَرُ:کَذَبَ أُولَئِکَ وَلَکِنَّہُ مِمَّنِ اشْتَرَی الْآخِرَۃَ بِالدُّنْیَا۔ ترجمہ :حضرت سیدنامدرک بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضرتھا کہ ان کی خدمت میں نہاوند سے اسلامی لشکر کے امیر حضرت سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کا قاصد آیا ،حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مجاہدین کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے عرض کیا:فلاں فلاں تو شہید ہوگئے اور کچھ لوگ اور بھی شہید ہوئے ہیں، جنہیں میں نہیں جانتا ۔ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن اللہ تعالی انہیں جانتا ہے، قاصد نے عرض کیا:اے امیر المؤمنین! ایک مرد مجاہد نے اپنی جان (اللہ تعالی کو) بیچ دی ۔ حضرت سیدنامدرک بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اے امیر المؤمنین !وہ میرے ماموں تھے ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انہوں نے (اکیلے دشمنوں میں گھس کر )اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں ڈال دیا ۔ حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ لوگ جھوٹے ہیں ۔ تمھارے ماموں نے تو دنیا کے بدلے آخرت خرید لی ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:أبو بکر بن أبی شیبۃ، عبد اللہ (۴:۲۱۶) گیارہواں قول وَقِیلَ:الْآیَۃُ عَامَّۃٌ، تَتَنَاوَلُ کُلَّ مُجَاہِدٍ فِی سَبِیلِ اللَّہِ،أَوْ مُسْتَشْہِدٍ فِی ذَاتِہِ أَوْمُغَیِّرِ مُنْکَرٍوَقَدْ تَقَدَّمَ حُکْمُ مَنْ حَمَلَ عَلَی الصَّفِّ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرنے والے یااپنی ذات کے حوالے سے شہادت کی تمناکرنے والے یابرائی کو ختم کرنے والے ہر شخص کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۳:۲۱) بارہواں قول وفی الکواشی أنہا نزلت فی الزبیر بن العوام وصاحبہ المقداد بن الأسود لماقال علیہ الصلاۃ والسلام: من ینزل خبیبا عن خشبتہ فلہ الجنۃفقال:أنا وصاحبی المقدادوکان خبیب قد صلبہ أہل مکۃ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام شہاب الدین محمود بن عبداللہ الحسینی الآلوسی المتوفی : ۱۲۷۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ الکواشی میں ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت سیدنازبیربن العوام رضی اللہ عنہ اوران کے ساتھی حضرت سیدنامقداد رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہوئی جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے اعلان فرمایاکہ جوخبیب رضی اللہ عنہ کو سولی سے اتارکرلائے اس کے لئے جنت ہے ۔ اس پرحضر ت سیدنازبیررضی اللہ عنہ نے عرض کیامیں اورمیرے ساتھی حضرت سیدنامقدادرضی اللہ عنہ یہ کام کریں گے ۔ حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کو کفارمکہ نے سولی دی تھی ۔ (روح المعانی :شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الحسینی الألوسی (۱:۴۹۱) یہ شجاعت وبہادری کے قصے کسی اورکے نہیں ۔۔۔۔ قَالَ قَتَادَۃُ:أَمَا وَاللَّہِ مَا ہُمْ بِأَہْلِ حَرُورَاء َ الْمُرَّاقِ مِنَ الدِّینِ وَلَکِنَّہُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالْأَنْصَارِ لَمَّا رَأَوُا الْمُشْرِکِینَ یَدَّعُونَ مَعَ اللَّہِ إِلَہًا آخَرَ قَاتَلُوا عَلَی دِینِ اللَّہِ وَشَرَوْا أَنْفُسَہُمْ غَضَبًا لِلَّہِ وَجِہَادًا فی سبیلہ. ترجمہ :حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کی قسم ! اس آیت کریمہ میں خوارج جودین سے نکل گئے ہیں ان کاتذکرہ نہیں ہے بلکہ یہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے مہاجرین اورانصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاذکرخیرہے ، انہوںنے مشرکین کو جب دیکھاکہ وہ اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرتے ہیں توانہوںنے اللہ تعالی کے دین کی خاطرقتال کیااوراپنی جانیں اللہ تعالی کی خاطرغیرت اوراس کے راستے میں جہاد کرنے میں فروخت کردیں ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۵:۳۵۱)

سریہ الرجیع اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانثاری

رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالضَّحَّاکِ أَنَّ ہَذِہِ الْآیَۃَ نَزَلَتْ فِی سَرِیَّۃِ الرَّجِیعِ،وَذَلِکَ أَنَّ کُفَّارَ قُرَیْشٍ بَعَثُوا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ بِالْمَدِینَۃِ إِنَّا قَدْ أَسْلَمْنَا،فَابْعَثْ إِلَیْنَا نَفَرًا مِنْ عُلَمَاء ِ أَصْحَابِکَ یُعَلِّمُونَنَا دِینَکَ،وَکَانَ ذَلِکَ مَکْرًا مِنْہُمْ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خُبَیْبَ بْنَ عَدِیٍّ الْأَنْصَارِیَّ وَمَرْثَدَ بْنَ أَبِی مَرْثَدٍ الْغَنَوِیَّ وَخَالِدَ بْنَ بُکَیْرٍ،وَعَبْدَ اللَّہِ بْنَ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ الْبَلَوِیَّ وَزَیْدَ بْنَ الدَّثِنَۃِ، وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بن أبی الأفلح الأنصاری قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ:بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَشَرَۃَ عَیْنًا وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِیَّ فَسَارُوا فَنَزَلُوا بِبَطْنِ الرَّجِیعِ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ ومعہم تمر عجوۃ فأکلوا(وطرحوا النوی)فَمَرَّتْ عَجُوزٌ فَأَبْصَرَتِ النَّوَی فَرَجَعَتْ إِلَی قَوْمِہَا بِمَکَّۃَ وَقَالَتْ:قَدْ سَلَکَ ہَذَا الطَّرِیقَ أَہْلُ یَثْرِبَ،مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،فَرَکِبَ سَبْعُونَ رَجُلًا مِنْہُمْ مَعَہُمُ الرِّمَاحُ حَتَّی أَحَاطُوا بہم،وَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عنہ ذکروا(ذلک لِحَیٍّ)مِنْ ہُذَیْلٍ یُقَالُ لَہُمْ:بَنُو لَحْیَانَ (فَنَفَرُوا لَہُمْ)بِقَرِیبٍ مِنْ مِائَۃِ رَجُلٍ رَامٍ،فَاقْتَفَوْا آثَارَہُمْ حَتَّی وَجَدُوا مَأْکَلَہُمُ التَّمْرَ فِی مَنْزِلٍ نَزَلُوہُ فَقَالُوا:تَمْرُ یثرب فاتبعوا آثارہم (فلحقوہم)فَلَمَّا أَحَسَّ بِہِمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُہُ لجؤوا إِلَی فَدْفَدٍ فَأَحَاطَ بِہِمُ الْقَوْمُ فَقَتَلُوا مَرْثَدًا وَخَالِدًا وَعَبْدَ اللَّہُ بن طارق فنثر عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ کِنَانَتَہُ وَفِیہَا سَبْعَۃُ أَسْہُمٍ فَقَتَلَ بِکُلِّ سَہْمٍ رَجُلًا مِنْ عُظَمَاء ِ الْمُشْرِکِینَ ثُمَّ قال:اللہمّ إنی قد حَمَیْتُ دِینَکَ صَدْرَ النَّہَارِ فَاحِمِ لَحْمِی آخِرَ النَّہَارِ، ثُمَّ أَحَاطَ(بِہِ)الْمُشْرِکُونَ فَقَتَلُوہُ فَلَمَّا قَتَلُوہُ أَرَادُوا حَزَّ رَأْسِہِ لِیَبِیعُوہُ مِنْ سُلَافَۃَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ شُہَیْدٍ،وکانت قد نذرت (علی نفسہا)حِینَ أَصَابَ ابْنَہَا یَوْمَ أُحُدٍ لَئِنْ قَدَرَتْ عَلَی رَأْسِ عَاصِمٍ لتشربن فی قَحْفِہِ الْخَمْرَ،فَأَرْسَلَ اللَّہُ رِجْلًا مِنَ الدَّبْرِوَہِیَ الزَّنَابِیرُ فَحَمَتْ عَاصِمًا فَلَمْ یَقْدِرُوا عَلَیْہِ، فَسُمِّیَ حَمِیَّ الدَّبْرِ فَقَالُوا:دَعُوہُ حَتَّی نمسی فتذہب عنہ(الدبر)فَنَأْخُذَہُ،فَجَاء َتْ سَحَابَۃٌ سَوْدَاء ُ وَأَمْطَرَتْ مَطَرًا کَالْعَزَالِی فَبَعَثَ اللَّہُ الْوَادِیَ غدیرا فاحتمل عاصما فَذَہَبَ بِہِ إِلَی الْجَنَّۃِ،وَحَمَلَ خَمْسِینَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ إِلَی النَّارِ،وَکَانَ عَاصِمٌ قَدْ أَعْطَی اللَّہَ تَعَالَی عَہْدًا أَنْ لَا یَمَسَّہُ مُشْرِکٌ وَلَا یَمَسَّ مُشْرِکًا أَبَدًا، فکان عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ حِینَ بَلَغَہُ أَنَّ الدّبر منعتہ:عَجَبًا لَحِفْظِ اللَّہِ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ،کَانَ عَاصِمٌ نَذَرَ أَنْ لَا یَمَسَّہُ مُشْرِکٌ وَلَا یَمَسَّ مُشْرِکًا أَبَدًا فَمَنَعَہُ اللَّہُ بَعْدَ وَفَاتِہِ کَمَا امْتَنَعَ عَاصِمٌ فِی حَیَاتِہِ، وَأَسَرَ الْمُشْرِکُونَ خُبَیْبَ بْنَ عَدِیٍّ الْأَنْصَارِیَّ وَزَیْدَ بْنَ الدَّثِنَۃِ فَذَہَبُوا بِہِمَا إِلَی مَکَّۃَ،فَأَمَّا خُبَیْبٌ فَابْتَاعَہُ بَنُو الْحَارِثِ بْنُ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ لِیَقْتُلُوہُ بِأَبِیہِمْ،وَکَانَ خُبَیْبٌ ہُوَ الَّذِی قَتَلَ الْحَارِثَ یَوْمَ بَدْرٍ، فَلَبِثَ خُبَیْبٌ عِنْدَہُمْ أَسِیرًا،حَتَّی أَجْمَعُوا عَلَی قَتْلِہِ فَاسْتَعَارَمِنْ بعض بَنَاتِ الْحَارِثِ مُوسَی لِیَسْتَحِدَّ بِہَا فَأَعَارَتْہُ،فَدَرَجَ بُنَیٌّ لَہَاوَہِیَ غَافِلَۃٌ فَمَا رَاعَ الْمَرْأَۃَ إِلَّا خُبَیْبٌ قَدْ أَجْلَسَ الصَّبِیَّ عَلَی فَخِذِہِ وَالْمُوسَی بِیَدِہِ، فَصَاحَتِ الْمَرْأَۃُ، فَقَالَ خُبَیْبٌ:أَتَخْشَیْنَ أَنْ أَقْتُلَہُ؟ مَا کُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَلِکَ إِنَّ الْغَدْرَ لَیْسَ مِنْ شَأْنِنَا،فَقَالَتِ الْمَرْأَۃُ بَعْدُ:وَاللَّہِ مَا رَأَیْتُ أَسِیرًا خَیْرًامِنْ خُبَیْبٍ وَاللَّہِ لَقَدْ وَجَدْتُہُ یَوْمًا یَأْکُلُ قُطْفًا مِنْ عِنَبٍ فِی یَدِہِ وَإِنَّہُ لَمُوثَقٌ بِالْحَدِیدِوَمَا بِمَکَّۃَ مِنْ ثَمَرَۃٍ إِنْ کَانَ إِلَّارِزْقًا رَزَقَہُ اللَّہَ خُبَیْبًا،ثُمَّ إِنَّہُمْ خرجوا بہ مِنَ الْحَرَمِ لِیَقْتُلُوہُ فِی الْحِلِّ وَأَرَادُوا أَنْ یَصْلِبُوہُ،فَقَالَ لَہُمْ خُبَیْبٌ:دَعُونِی أُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ فَتَرَکُوہُ،فَکَانَ خُبَیْبٌ ہُوَ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ لِکُلِّ مُسْلِمٍ قُتِلَ صَبْرًا الصَّلَاۃَ،فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ،ثُمَّ قَالَ:لَوْلَا أَنْ یَحْسَبُوا أَنَّ مَا بِی جَزَعٌ لَزِدْتُ،اللَّہُمَّ احْصِہِمْ عَدَدًا وَاقْتُلْہُمْ بَدَدًا وَلَا تُبْقِ مِنْہُمْ أَحَدًا، ثُمَّ أَنْشَأَ یَقُولُ: فَلَسْتُ أُبَالِی حِینَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا … عَلَی أَیِّ شِقٍّ کَانَ فِی اللَّہِ مَصْرَعِی وَذَلِکَ فِی ذَاتِ الْإِلَہِ وَإِنْ یَشَأْ … یُبَارِکْ عَلَی أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ فَصَلَبُوہُ حَیًّا فَقَالَ:اللَّہُمَّ إِنَّکَ تَعْلَمُ أَنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ حَوْلِی یُبَلِّغُ سَلَامِی رَسُولَکَ فَأَبْلِغْہُ سَلَامِی،ثُمَّ قَامَ أَبُو سِرْوَعَۃَ عُقْبَۃُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَہُ،وَیُقَالُ:کَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ،یُقَالُ لَہُ سَلَامَانُ أَبُو مَیْسَرَۃَ مَعَہُ رُمْحٌ فَوَضَعَہُ بَیْنَ ثدیّ خُبَیْبٍ فَقَالَ لَہُ خُبَیْبٌ:اتَّقِ اللَّہَ فَمَا زَادَہُ ذَلِکَ إِلَّا عتوا فطعنہ فأنفذہ(من ظہرہ)وَذَلِکَ قَوْلُہُ عَزَّ وَجَلَّ:وَإِذا قِیلَ لَہُ اتَّقِ اللَّہَ أَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالْإِثْمِ، یَعْنِی:سَلَامَانَ،وَأَمَّا زَیْدُ بْنُ الدَّثِنَۃِ فَابْتَاعَہُ صَفْوَانُ بْنُ أُمَیَّۃَ لِیَقْتُلَہُ بِأَبِیہِ أُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ،فَبَعَثَہُ مَعَ مَوْلًی لَہُ یُسَمَّی نِسْطَاسَ إِلَی التَّنْعِیمِ لیقتلہ بأبیہ واجتمع (معہ) رَہْطٌ مِنْ قُرَیْشٍ فِیہِمْ أَبُو سُفْیَانَ بْنُ حَرْبٍ،فَقَالَ لَہُ أَبُو سُفْیَانَ حِینَ قُدِّمَ لِیُقْتَلَ:أَنْشُدُکَ اللَّہَ یَا زَیْدُأَتُحِبُّ أَنَّ مُحَمَّدًا عِنْدَنَا الْآنَ بِمَکَانِکَ نضرب عنقہ،وأنت فِی أَہْلِکَ؟ فَقَالَ:وَاللَّہِ مَا أُحِبُّ أَنَّ مُحَمَّدًاصَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْآنَ فِی مَکَانِہِ الذی ہو فیہ تصیبہ شَوْکَۃٌ تُؤْذِیہِ وَأَنَا جَالِسٌ فِی أَہْلِی،فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ:مَا رَأَیْتُ مِنَ النَّاسِ أَحَدًا یُحِبُّ أَحَدًا کَحُبِّ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ مُحَمَّدًا،ثم قتلہ نسطاس،فَلَمَّا بَلَغَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہَذَا الْخَبَرُ قَالَ لِأَصْحَابِہِ:أَیُّکُمْ یُنْزِلُ خُبَیْبًا عَنْ خَشَبَتِہِ وَلَہُ الْجَنَّۃُ ،فَقَالَ الزُّبَیْرُ:أَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ وَصَاحِبِی الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ،فَخَرَجَا یَمْشِیَانِ بِاللَّیْلِ وَیَکْمُنَانِ بِالنَّہَارِ،حَتَّی أَتَیَا التَّنْعِیمَ لَیْلًا وَإِذَا حَوْلَ الْخَشَبَۃِ أربعون رجلا من المشرکین نیام نَشَاوَی،فَأَنْزَلَاہُ فَإِذَا ہُوَ رَطْبٌ یَنْثَنِی لَمْ یَتَغَیَّرْ مِنْہُ شَیْء ٌ بعد أربعین یوماوَیَدُہُ عَلَی جِرَاحَتِہِ وَہِیَ تَبِضُّ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّیحُ رِیحُ الْمِسْکِ،فَحَمَلَہُ الزُّبَیْرُ عَلَی فَرَسِہِ وَسَارَا،فَانْتَبَہَ الْکُفَّارُ وَقَدْ فَقَدُوا خُبَیْبًا فَأَخْبَرُوا قُرَیْشًا فَرَکِبَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ فَلَمَّا لَحِقُوہُمَاقَذَفَ الزُّبَیْرُ خُبَیْبًا فَابْتَلَعَتْہُ الْأَرْضُ،فَسُمِّیَ بَلِیعَ الْأَرْضِ،فَقَالَ الزُّبَیْرُ:مَا جَرَّأَکُمْ عَلَیْنَا یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ،ثُمَّ رَفَعَ الْعِمَامَۃَ عَنْ رَأْسِہِ وَقَالَ:أَنَا الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَأُمِّی صَفِیَّۃُ بِنْتُ عَبْدِ الْمَطَّلِبِ،وَصَاحِبِی الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ أَسَدَانِ رابضان یدفعان عن سبیلہمافَإِنْ شِئْتُمْ نَاضَلْتُکُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ نَازَلْتُکُمْ،وَإِنْ شِئْتُمُ انْصَرَفْتُمْ،فَانْصَرَفُوا إِلَی مَکَّۃَ وَقَدِمَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجِبْرِیلُ عِنْدَہُ،فَقَالَ:یَا مُحَمَّدُ إن الملائکۃ لتباہی بہذین (الرجلین)مِنْ أَصْحَابِکَ فَنَزَلَ فِی الزُّبَیْرِ وَالْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ:وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِی نَفْسَہُ ابْتِغاء َ مَرْضاتِ اللَّہِ،حین شریا أنفسہما بإنزال خبیب عن خشبتہ. ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ بے شک یہ آیت کریمہ سریہ الرجیع کے بارے میں نازل ہوئی اوریہ اس طرح ہواکہ کفارقریش نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی طرف جب کہ آپ ﷺمدینہ منورہ تشریف فرماتھے قاصدبھیجے ،بے شک ہم اسلام قبول کرچکے ہیں آپ ﷺہماری طرف اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے چندعالم بھیج دیں جوکہ ہمیں دین کی تعلیم دیں ۔ اوریہ ان کامکرتھااوران کی طرف سے سازش تھی ، توحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ ، مرثدبن ابی مرثدغنوی ، خالدبن بکیر، عبداللہ بن طارق بن شہاب بلوی ، زید بن دثنہ رضی اللہ عنہم کو بھیجااوران پر حضرت سیدناعاصم رضی اللہ عنہ کوامیرمقررفرمایا۔ حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے دس جاسوس روانہ فرمائے اوران پر حضرت سیدناعاثم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو امیرمقررفرمایا۔پس یہ حضرات چلے اورمکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ کے درمیان بطن رجیع میں اترے اوران کے پاس عجوہ کھجوریں تھیں ، پس انہوںنے وہ کھائیں ، وہاں سے ایک بڑھیاگزری ، اس نے کھجورکی گٹھلیاں دیکھیں توفوراً مکہ مکرمہ اپنی قوم کے پاس آگئی اورکہاکہ اس راستے پراہل یثرب محمدﷺکے صحابہ چلے ہوئے ہیں ۔ توفوراً سترآدمی ان میں سے سوارہوئے ، ان کے پاس نیزے تھے ، یہاں تک کہ انہوںنے ان دس حضرات کاگھیرائوکرلیا۔ حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوںنے ہذیل میں سے ایک قبیلہ کاذکرکیاجسے بنولحیان کہاجاتاتھاتوتقریباًسوتیرانداز ان کے پیچھے ہولئے اورانہوںنے ان کے قدموں کے نشانات کاپیچھاکیایہاں تک کہ انہوںنے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کھجورکی جگہ پالیا، جس جگہ وہ اترے تھے ، پس ان تیراندازوں نے کہایہ یثرب کی کھجورہے ، انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاپیچھاکیاجب حضرت سیدناعاصم رضی اللہ عنہ اورآپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے ان کو محسوس کیاتویہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فدفدکی پہاڑی پرچڑھ گئے اوراس میں پناہ گزیں ہوگئے اورمشرکوں نے ان حضرات کاگھیرائوکرلیااورحضرت سیدنامرثد ، حضرت سیدناخالد ، حضرت سیدناعبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہم کو شہید کردیا۔ حضرت سیدناعاصم رضی اللہ عنہ نے ترکش بکھیردیئے اوراس میں سات تیرتھے ، چنانچہ حضرت سیدناعاصم رضی اللہ عنہ نے ان سات تیروں سے سات بڑے مشرک قتل کردیئے۔ اس کے بعد دعاکی : یااللہ ! میں نے دن کے پہلے حصہ میں تیرے دین کی حفاظت کی تومیرے جسم کی دن کے آخری حصے میں حفاظت فرما۔ پھرمشرکوں نے ان کوگھیرلیااورحضرت سیدناعاصم رضی اللہ عنہ کو بھی شہیدکردیا۔ شہیدکرنے کے بعد مشرکین نے چاہاکہ آپ رضی اللہ عنہ کے جسم شریف سے سرکو کاٹ لیں تاکہ آپ رضی اللہ عنہ کاسرمبارک مشرکہ عورت سلافہ بنت سعیدکو بیچ دیں اورسلافہ کے بیٹے غزوہ احدمیں حضرت سیدناعاصم رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں قتل ہوگئے تھے ، تواس عورت نے منت مانی تھی کہ اگرمیں حضرت سیدناعاصم رضی اللہ عنہ کے سرپرقادرہوگئی تومیں اس میں شراب ڈال کرپئیوں گی۔پس اللہ تعالی نے بھڑوں کاایک چھتہ بھیج دیاجس نے حضرت سیدناعاصم رضی اللہ عنہ کی حفاظت کی جس کی بناء پر وہ آپ رضی اللہ عنہ کاسرنہ کاٹ سکے ۔ چنانچہ حضرت سیدناعاصم رضی اللہ عنہ کانام ’’حمی الدبر‘‘پڑگیا۔کفارنے کہاکہ ابھی اسے چھوڑ دیں جب شام کاوقت ہوگایہ بھڑیں چلی جائیں گی ہم اس کاسرکاٹ لیں گے ، پس بوقت شام سیاہ بادل اٹھااوربرساجیسے مشکیزے بہہ پڑے ، جس سے وادی نہرکی صورت اختیارکرگئی ، جس نے حضرت سیدناعاصم رضی اللہ عنہ کواٹھاکرجنت پہنچادیا اور پچاس مشرکین کو جہنم رسیدکردیا، حضرت سیدناعاصم رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالی سے عہدکیاہواتھاکہ نہ مشرک ان کو چھوئے گااورنہ وہ مشرکین کو چھوئیں گے ۔ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کوجب یہ اطلاع ملی توآ پ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اللہ تعالی کی قدرت عجیب ہے کہ بندہ مومن کی حفاظت بھڑوں سے کروائی ، حضرت سیدناعاصم رضی اللہ عنہ نے منت مانی تھی کہ نہ مشرک ان کو چھوئے اورنہ ہی وہ کسی مشرک کو چھوئیں ۔ تواللہ تعالی نے ان کی شہادت کے بعد ان سے محفوظ رکھا، جیساکہ انہوںنے اپنی زندگی بھراپنے آپ کو محفوظ رکھا، مشرکوں نے حضرت سیدناخبیب بن عدی اورحضرت سیدنازید بن دثنہ رضی للہ عنہماکو قیدکرلیااوردونوں کو مکہ مکرمہ لے گئے ، حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کو حارث بن عامربن نوفل کے بیٹوں نے خریدلیا، حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ نے حارث کو غزوہ بدرمیں قتل کیاتھا۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ ان کے پاس قیدی بن کررہے ۔ حارث کے بیٹے اپنے باپ کے عوض حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کو شہید کرناچاہتے تھے ۔ چنانچہ جب انہوںنے عزم مصمم کرلیاتو آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے استراحاصل کیاتاکہ زیرناف بال صاف کریں۔ اتنے میں ایک بچہ حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کے پاس آگیاآپ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنی ران پربٹھالیا، استراحضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا، بچے کی ماں گھبراگئی اورچیخی ، حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیاتوڈرتی ہے کہ میں بچے کو قتل کردوں گا، میں ایساکرنے والانہیں ہوں دھوکہ دہی ہماری شان کے لائق نہیں ہے ۔ اس واقعہ کے بعد وہ عورت کہتی تھی کہ خداکی قسم ! میں نے حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ سے بہترکوئی قیدی نہیں دیکھا، اللہ تعالی کی قسم !میں نے اس کو ایک دن انگورکھاتے دیکھا، حالانکہ وہ زنجیروںمیں جکڑے ہوئے تھے ، اورمکہ مکرمہ میں انگورنہیں تھے ۔ بس یہ غیبی رزق تھا، جو اللہ تعالی نے حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کو عطافرمایاتھا، پھرکافرحضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کو حدودحرم سے باہرعلاقہ حل میں قتل کرنے کی غرض سے لے گئے اورکافروںنے ارادہ کیاکہ حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کوسولی پرلٹکائیں گے ، حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے دورکعت نماز اداکرنے دو، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے دورکعت نما زاداکی ، چنانچہ حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ نے بوقت شہادت دورکعت نماز اداکرنے کی سنت قائم کی ، پھرفرمایاکہ مجھے اس بات کااندیشہ نہ ہوتاکہ تم موت سے گھبراہٹ پر محمول کروگے تو میں اورنمازپڑھتا۔پھرآپ رضی اللہ عنہ نے دعاکی : {اللَّہُمَّ احْصِہِمْ عَدَدًا وَاقْتُلْہُمْ بَدَدًا وَلَا تُبْقِ مِنْہُمْ أَحَدًا}اے اللہ !ان کو گن گن کراورجداجداکرکے ماراوران میں سے کسی کونہ چھوڑ ۔ حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کے اشعارکاترجمہ بوقت شہادت جو انہوںنے کہے: مجھے اس سے کوئی پرواہ نہیں ہے جبکہ میں اسلام کی حالت میں قتل کیاجارہاہوں کہ میراگرناکس پہلوپرہوگااوریہ سب کچھ اللہ تعالی کی رضاکی خاطرہورہاہے ۔ اگراللہ تعالی چاہے تو کٹے ہوئے اعضامیں بھی برکت ڈال دے ۔ پس انہوں نے حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کو زندہ سولی پرلٹکادیا، پس آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یااللہ ! بے شک توجانتاہے کہ اس وقت میرے پاس کوئی ایک بھی ایسانہیں ہے جو میراسلام حضورتاجدارختم نبوت ﷺتک پہنچائے ۔ تومیراسلام حضورتاجدارختم نبوت ﷺتک پہنچادے ، پھرابوسرعہ عقبہ بن حارث کھڑاہوااوراس نے حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کردیااورکہاجاتاہے کہ مشرکوں میں سے ایک آدمی تھاجس کو سلامان ابومیسرہ کہاجاتاہے ، اس کے پاس نیزہ تھا، اس نے وہ نیزہ حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کی چھاتی پررکھا۔ حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:خداتعالی سے ڈر، یہ کہنے سے اس کی سرکشی اوربڑھ گئی اورنیزہ چھاتی سے پارکردیااوریہ اللہ تعالی کے اس فرمان شریف کامصداق ہے {وَ اِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُہ جَہَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ}اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر تو اسے اور ضد چڑھے گنا ہ کی ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا بچھونا ہے ۔یعنی سلامان کایہ حال ہے ۔ باقی رہے حضرت سیدنازیدبن دثنہ رضی اللہ عنہ کو صفوان بن امیہ نے خریدا، اپنے باپ امیہ کے قتل کابدلہ لینے کے لئے ، اورحضرت سیدنازیدبن دثنہ رضی اللہ عنہ کو اپنے غلام نسطاس کے ساتھ علاقہ تنعیم کی جانب بھیجا، قریش کاایک گروہ بھی وہاں جمع ہوگیا، جن میں ابوسفیان بھی تھا، جب حضرت سیدنازیدرضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لئے آگے لایاگیاتوابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا: زیدکیاتجھے یہ بات پسندہے کہ تیری جگہ محمدﷺہمارے پاس ہوں ؟ ہم ان کو شہید کردیں اورتواپنے اہل وعیال میں بیٹھاہو؟توحضر ت سیدنازید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خداتعالی کی قسم ! مجھے تویہ بات بھی پسندنہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺایسی جگہ ہوں جہاں اب ہیں اوروہاں آپ ﷺکے پائوں مبارک میں کانٹاچبھ جائے اورمیں گھربیٹھارہوں ۔ اس پرابوسفیان کہنے لگا: میں نے لوگوں میں سے کسی کو نہیں دیکھاجو کسی سے اس قدرمحبت کرتاہوںجس قدرمحمدﷺکے ساتھیوں کو ان کے ساتھ محبت ہے ۔ پھرنسطاس نے حضرت سیدنازید رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا، پس جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺکویہ خبرپہنچی تو آپ ﷺنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فرمایا: کون ہے جو مکہ مکرمہ جاکرحضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو سولی کی لکڑی سے اتارلائے اوراس کے لئے جنت ہے ؟ حضرت سیدنازبیررضی اللہ عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ! یہ کام میں کرونگااورمیرے ساتھی حضرت مقدادرضی اللہ عنہ ۔ پھردونوں رات کے وقت نکل کھڑے ہوئے ، دن کو چھپ جاتے اوررات کوچل پڑتے۔ یہاں تک کہ رات کے وقت مقام تنعیم پہنچے ، توحضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کی سولی کے اردگردمشرکوں کے چالیس نوجوان نشے کی نیندسورہے تھے ، پس حضر ت سیدنازبیراورحضرت سیدنامقدادرضی اللہ عنہمانے حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کو سولی سے اتارا۔ حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کاجسم شریف اب بھی تروتازہ تھا، چالیس دن گزرجانے کے باوجود ان کے جسم میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ۔ ان کے ہاتھ پر زخم تھا، جس سے خون رس رہاتھا، خون کارنگ خون والاہی تھااورخوشبوکستوری کی تھی ۔ حضر ت سیدنازبیررضی اللہ عنہ نے حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کو گھوڑے پراٹھالیااورچل پڑے ، اتنے میں کفاربیدارہوگئے ، حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کو نہ پاکرقریش مکہ کو خبردی توان کے سترسواروں نے حضرت سیدنازبیررضی اللہ عنہ کاپیچھاکیا، جب مشرکوں نے ان حضرات کو پالیاتو حضرت سیدنازبیررضی اللہ عنہ نے حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کے جسم کو زمین پرڈال دیااورزمین حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کو نگل گئی ۔ چنانچہ حضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ کالقب بلیع الارض یعنی زمین کے نگلے ہوئے پڑگیا۔ حضرت سیدنازبیررضی اللہ عنہ نے ان مشرکین کو فرمایا: اے قریش ! تمھیں اوپرآنے کی یاحملہ کرنے کی ہمت کیسے ہوئی ؟ پھرسرسے عمامہ اتارااورفرمایا: میں زبیربن عوام رضی اللہ عنہ ہوں ۔ میری ماں صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہما، میراساتھی مقدادبن اسودرضی اللہ عنہ ہیں ۔ ہم دونوں ان دوشیروں کی طرح ہیں جو اپنے بچوں پرگرے ہوئے ہوں اوران کادفاع کررہے ہوں۔اگرچاہوتومیں تم سے تیراندازی کامقابلہ کرنے کے لئے تیارہوں ؟ اگرچاہوتومیں اترکرلڑنے کے لئے بھی تیارہوں ؟ اگرچاہوتوواپس چلے جائو؟ چنانچہ تمام کفارواپس چلے گئے ۔ حضرت سیدنازبیررضی اللہ عنہ اورحضرت سیدنامقدادرضی اللہ عنہ حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی خدمت اقدس میں پہنچے ۔ حضرت سیدناجبریل امین علیہ السلام حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی خدمت میں موجود تھے ۔ حضرت سیدناجبریل امین علیہ السلام نے عرض: یارسول اللہ ﷺ! آسمان کے فرشتے ان دوحضرات پرفخرکررہے ہیں توحضرت سیدنازبیررضی اللہ عنہ اورحضر ت سیدنامقدادرضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ (تفسیر البغوی :محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (ا:۲۶۶)

معارف ومسائل

(۱) اس سے معلوم ہواکہ بندہ مومن ہمہ وقت اللہ تعالی کی راہ میں جہادکرنے کے لئے تیاررہتاہے ۔ (۲)بندہ مومن کالوگوں کو گناہوں سے روکنابھی جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ (۳) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ کوئی بھی مومن مسلمانوں کو گناہوں میں مبتلاء دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتا۔ (۴) آج بھی جوشخص امرباالمعروف ونہی عن المنکرکے لئے کام کرے وہ بھی مجاہدفی سبیل اللہ ہے ۔ (۵) اس سے معلوم ہواکہ آج جولوگ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی عزت وناموس کے لئے کام کررہے ہیں یاوہ ختم نبوتﷺ کادفاع کرتے ہیں چاہے وہ لسانی طورپرہویاقلمی طورپریاان مجاہدین کی مددکرنے والاہوسب کے سب مجاہدفی سبیل اللہ ہیں۔ (۶)اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ انسان کایہ منت ماننابالکل درست ہے کہ اس کاہاتھ کسی مشرک کو نہ لگے ۔ خبردار! یہ کوئی تعصب نہیں ہے بلکہ یہ دین میں تصلب ہے اوریہی اللہ تعالی اوراس کے حبیب کریم ﷺکی طرف سے مطلوب ہے ۔ (۷) آج لوگوں کاان مجاہدین پر طعن کرناجو تہی دامن بھی اللہ تعالی کے دین کے دشمنوں کے خلاف نبردآزماہیں کہ ان لوگوں کو ایسے ہی مرنے کاشوق ہے قطعاً غلط ہے کیونکہ ایساشخص جس نے تنہاہی کفارپرحملہ کردیااس کے متعلق حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے کلمات تحسین فرمائے اوران پر اعتراض کرنے والوں کو نصیحت فرمائی ۔ (۸) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ ہمارے دور میں حضورامیرالمجاہدین شیخ الحدیث مولاناحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی کااورآپ کی جماعت کادین دشمنوں کے خلاف ڈٹ کرکھڑے ہونابھی اسی آیت کریمہ کامصداق ہے ۔یعنی یہ بھی اللہ تعالی کی بارگاہ میں اپنی جانوں کاسوداکرچکے ہیں۔ لھذاان پرطعن کرناایساہی ہے جیسے ان لوگوں نے قسطنطنیہ میں شہید ہونے والے صحابی رضی اللہ عنہ پرطعن کیاتھااورپھران کو حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے جوا ب دیاتھا۔ (۹) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اہل اسلام کو دھوکہ دہی سے قتل کرناکفارومشرکین کاطریقہ ہے کیونکہ وہ کفاریہ کہہ کرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت کو ساتھ لے کرگئے تھے کہ ہم کو دین سکھائیں ، لیکن انہوںنے جاکران کو شہید کردیا۔ اورآج بھی جب پنجاب اسمبلی کے باہردھرناہواگستاخ عورت کی رہائی کے خلاف تو پاکستانی وزیرمشیرآئے اورعلماء کرام کے ساتھ معاہدہ کیاکہ گستاخ عورت باہرنہیں جائے گی ۔ مگریہ سارے کے سارے صرف دھوکہ ہی دینے کے لئے آئے تھے ، اس معاہدے کے بعد علماء کرام کو گرفتارکیاگیااوروہ بھی لاکھوں لاکھ اوراہل سنت کے عظیم اوراجلہ بزرگوں کے گھروں میں پولیس چادروچاردیواری کاتقدس پامال کرتے ہوئے گھس گئی اورعلماء کرام کو تشددکانشانہ بنایاگیا، اورکئی مقامات پر قرآن کریم کو بھی آگ لگادی گئی ۔اسی سلسلے میں حضورامیرالمجاہدین حفظہ اللہ تعالی کو بھی گرفتارکرلیاگیااورچھے ماہ سے زائد عرصہ تک جیل میں رکھاگیااورطرح طرح سے ان کو تکالیف دی گئیں مگروہ عزیمت کاکوہ ہمالیہ اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا۔ بحمداللہ تعالی ۔اوراس پکڑ دھکڑ میں ہمارے اہل سنت کے دوعظیم علماء کرام کو شہید کردیاگیا۔اس فقیرپرتقصیرکانام لاہور اورہمارے اپنے علاقے سے بھی دیاہواتھا، دونوں جگہوں سے پولیس تلاش کرتی رہی ۔ پاکستانی حکومت کایہ منافقانہ طرز بتاتاہے کہ یہ لوگ مشرکین مکہ کے سچے اورمخلص جانشین ہیں۔ یعنی انہوںنے معاہدہ کیاکہ ہم گستاخ کو نہیں چھوڑیںگے مگراس گستاخ کو چھوڑ کر علماء کرام کو گرفتارکرلیا۔ نعوذباللہ من ذلک ۔ (۱۰)حضرت سیدناامام احمدبن حنبل رضی اللہ عنہ کے وصال شریف کے بعد کسی نے پوچھا: حضرت !آپ کے ساتھ کیابنا؟ توآپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیاکہ اللہ تعالی نے میرے لئے اپنادیدار مباح فرمادیاہے ۔جب امام احمدبن حنبل رضی اللہ عنہ نے دین متین کے لئے قربانیاں دیں توان کو اللہ تعالی کی طرف سے یہ انعام ملاتوحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسے حضرت سیدناعاصم رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناخبیب رضی اللہ عنہ ان کو اللہ تعالی نے کتناانعام عطافرمایاہوگا؟ اورآج جتنے بھی علماء اہل سنت حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے دین متین کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں ان کو بھی اللہ تعالی اپنا فضل ضرورعطافرمائے گا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh