Fatwa #2188
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۱۲ ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخ دنیاپرست ہی کیوں ہوتے ہیں؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,023
سوال (Question):
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۱۲ ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخ دنیاپرست ہی کیوں ہوتے ہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخ دنیاپرست ہی کیوں ہوتے ہیں؟
زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَاللہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآء ُ بِغَیْرِ حِسَابٍ}(۲۱۲) ترجمہ کنزالایمان:کافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی آراستہ کی گئی اور مسلمانوں سے ہنستے ہیں اور ڈر والے ان سے اوپر ہوں گے قیامت کے دن اور خدا جسے چاہے بے گنتی دے۔ ترجمہ ضیاء الایمان : کافروں کی نظر میںدنیا مزین کردی گئی ہے اوروہ مسلمانوں پر ہنستے ہیں اوراللہ تعالی سے ڈرنے والے قیامت کے دن ان کافروں سے اوپرہوں گے اوراللہ تعالی جسے چاہے بے حساب رزق عطافرماتاہے ۔ شان نزول کے متعلق پہلاقول وَقَالَ مُقَاتِلٌ:نَزَلَتْ فِی الْمُنَافِقِینَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أُبَیٍّ وَأَصْحَابِہِ کَانُوایَتَنَعَّمُونَ فِی الدُّنْیَا وَیَسْخَرُونَ مِنْ ضُعَفَاء ِ الْمُؤْمِنِینَ وَفُقَرَاء ِ الْمُہَاجِرِینَ، وَیَقُولُونَ:انْظُرُوا إِلَی ہَؤُلَاء ِ الَّذِینَ یَزْعُمُ مُحَمَّدٌ أَنَّہُ یَغْلِبُ بِہِم۔ ترجمہ:حضرت سیدنامقاتل رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی یعنی عبداللہ بن ابی اوراس کے ساتھیوں کے بارے میں کیونکہ یہ لوگ مالدارتھے اوردنیاکی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے تھے اورکمزوراورفقراء مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کامذاق اڑایاکرتے تھے اورکہتے تھے کہ ذراانہیں تودیکھویہ ہیں وہ لوگ جن کے بارے میں محمد(ﷺ) کادعوی ہے کہ ان کے ذریعے وہ غلبہ حاصل کریں گے ۔ (التفسیرالثعلبی:أحمد بن محمد بن إبراہیم الثعلبی، أبو إسحاق (۲:۱۳۱) دوسراقول وَقَالَ عَطَاء ٌ:نَزَلَتْ فِی رُؤَسَاء ِ الْیَہُودِ مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ وَالنَّضِیرِ وَبَنِی قَیْنُقَاعَ،سَخِرُوا مِنْ فُقَرَاء ِ الْمُہَاجِرِینَ، فَوَعَدَہُمُ اللَّہُ أَنْ یُعْطِیَہُمْ أَمْوَالَ بَنِی قُرَیْظَۃَ وَالنَّضِیرِ بِغَیْرِ قِتَالٍ،وَیَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِینَ آمَنُوا لِفَقْرِہِمْ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعطاء رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ بنوقریظہ ، بنونضیراوربنوقینقاع کے سرداران یہود کے متعلق نازل ہوئی جوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاان کے فقرکی وجہ سے مذاق اڑایاکرتے تھے ، پس اللہ تعالی نے اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرمایاکہ بنوقریظہ ، بنونضیرکے اموال انکو بغیرلڑائی اورقتال کے عطافرمائے گااوریہ یہود ایمان والوں کے ساتھ ان کے فقرکی وجہ سے استہزاء کرتے ہیں۔ (البحر المحیط فی التفسیر:أبو حیان محمد بن یوسف بن علی الأندلسی (۲:۳۵۳) تیسراقول وَیَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِینَ آمَنُوا إِشَارَۃٌ إِلَی کُفَّارِ قُرَیْشٍ،فَإِنَّہُمْ کَانُوا یُعَظِّمُونَ حَالَہُمْ مِنَ الدُّنْیَا وَیَغْتَبِطُونَ بِہَا، وَیَسْخَرُونَ مِنَ اتِّبَاعِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ:فِی طَلَبِہِمُ الْآخِرَۃَوَقِیلَ: لِفَقْرِہِمْ وَإِقْلَالِہِمْ، کَبِلَالٍ وَصُہَیْبٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَغَیْرِہِمْ، رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ، فَنَبَّہَ سُبْحَانَہُ عَلَی خَفْضِ مَنْزِلَتِہِمْ لِقَبِیحِ فِعْلِہِمْ بِقَوْلِہِ:وَالَّذِینَ اتَّقَوْا فَوْقَہُمْ یَوْمَ الْقِیامَۃِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی :۶۷۱ھ)رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ {وَیَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِینَ آمَنُوا}سے اشارہ ہے کفارمکہ کی طرف کیونکہ وہ دنیوی اعتبارسے اپنی حالت کو عظیم جانتے تھے اوروہ اس پر رشک کرتے تھے اوراظہارمسرت کرتے تھے اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کامذاق اڑایاکرتے تھے۔ حضرت سیدناامام ابن جریج رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ وہ اہل ایمان کے آخرت طلب کرنے کے سبب ان کامذاق اڑایاکرتے تھے اوریہ بھی کہاگیاہے کہ ان کے مذاق اڑانے کاسبب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کافقراوران کی تنگدستی تھی یعنی ان کے فقروفاقہ کی وجہ سے کفارصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کامذاق اڑایاکرتے تھے ، جب حضرت سیدنابلال ، حضرت سیدناصہیب اورحضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم اورانہیں کی مثل دوسرے حضور تاجدارختم ﷺکے سچے شیدائی ۔ پس اللہ تعالی نے تنبیہ فرمادی کہ ان کے فعل کو قبیح اوربراہونے کے سبب ان کے رتبہ اوردرجہ کی پستی پرآگاہ فرمایا{ وَالَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَاللہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآء ُ بِغَیْرِ حِسَابٍ}یعنی وہ لوگ جنہوں نے تقوی اختیارکیاان کی شان اوررتبہ قیامت کے دن ان سے بلندہوگا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح شمس الدین القرطبی (۳:۲۰)اہل اسلام کو حقیرجاننے والے کو قیامت کے دن سخت عذاب دیاجائے گا
وَرَوَی عَلِیٌّ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنِ اسْتَذَلَّ مُؤْمِنًا أَوْ مُؤْمِنَۃً أَوْ حَقَّرَہُ لِفَقْرِہِ وَقِلَّۃِ ذَاتِ یَدِہِ شَہَّرَہُ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُمَّ فَضَحَہُ وَمَنْ بَہَتَ مُؤْمِنًا أَوْ مُؤْمِنَۃً أَوْ قَالَ فِیہِ مَا لَیْسَ فِیہِ أَقَامَہُ اللَّہُ تَعَالَی عَلَی تَلٍّ مِنْ نَارٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتَّی یَخْرُجَ مِمَّا قَالَ فِیہِ وَإِنَّ عِظَمَ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّہِ وَأَکْرَمُ عَلَیْہِ مِنْ مَلَکٍ مقرب ولیس شی أَحَبُّ إِلَی اللَّہِ مِنْ مُؤْمِنٍ تَائِبٍ أَوْ مُؤْمِنَۃٍ تَائِبَۃٍ وَإِنَّ الرَّجُلَ الْمُؤْمِنَ یُعْرَفُ فِی السَّمَاء ِ کَمَا یَعْرِفُ الرَّجُلَ أَہْلُہُ وَوَلَدُہُ۔ ترجمہ:حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: جس کسی نے کسی مومن مردیامومن عورت کو ذلیل سمجھایااسے غربت اورافلاس کی وجہ سے حقیرجاناتواللہ تعالی قیامت کے دن اسے مشہورکرے گا، پھراسے رسوا وذلیل فرمائے گااورجس نے کسی مسلمان مردیاعورت پربہتان لگایایااس کے بارے میں وہ کچھ کہاجو اس میںنہیں تھا، توقیامت کے دن اللہ تعالی اسے آگ کے ٹیلے پرکھڑاکرے گایہاں تک کہ وہ اس سے نکل جائے ، جو اس نے اس کے بارے میں کہاتھا(یعنی بندہ مومن سے اپنے کیے کی معذرت کرلے اورمعافی مانگ لے ) بلاشبہ اللہ تعالی کے نزدیک بندہ مومن کی عظمت اورعزت واکرام مقرب فرشتے سے بھی زیادہ ہے ، اوراللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ کرنے والے مومن مرد اورتوبہ کرنے والی مومنہ عورت سے زیادہ محبوب کوئی شئی نہیں ہے اوربلاشبہ مومن آدمی کی پہچان آسمان میں اسی طرح ہوتی ہے جس طرح ایک آدمی کی پہچان اس کے گھروالوں اوراس کی اولاد میں ہوتی ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح شمس الدین القرطبی (۳:۲۰)دنیوی مال چھوڑ سکتے ہیں مگرحضورتاجدارختم نبوت ﷺکادامن نہیں !
عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ کَانَ لِی عَلَی الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَیْنٌ فَأَتَیْتُہُ أَتَقَاضَاہُ فَقَالَ لِی لَنْ أَقْضِیَکَ حَتَّی تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ قَالَ فَقُلْتُ لَہُ إِنِّی لَنْ أَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ حَتَّی تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ قَالَ وَإِنِّی لَمَبْعُوثٌ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ فَسَوْفَ أَقْضِیکَ إِذَا رَجَعْتُ إِلَی مَالٍ وَوَلَدٍ قَالَ وَکِیعٌ کَذَا قَالَ الْأَعْمَشُ قَالَ فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ أَفَرَأَیْتَ الَّذِی کَفَرَ بِآیَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَیَنَّ مَالًا وَوَلَدًا إِلَی قَوْلِہِ وَیَأْتِینَا فَرْدًا۔ ترجمہ :حضرت سیدنامسروق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اور انھوں نے حضرت خباب (بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ )سے روایت کی، کہا میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا ۔میں اس سے قرض کا تقاضا کرنے کے لیے اس کے پاس گیا تو اس نے مجھ سے کہا:میں اس وقت تک تمھیں ادائیگی نہیں کروں گا۔یہاں تک کہ تم نعوذ باللہ محمد ﷺسے کفر کرو۔ میں نے اس سے کہا:اگرتم مر کردوبارہ زندہ ہو جاؤ گے۔ پھر بھی میںحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ساتھ کفر نہیں کروں گا۔ اس نے کہا:اور میں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا؟تو (اس وقت )جب میں دوبارہ مال اور اولاد کے پاس پہنچ جاؤں گاتو تمھیں ادائیگی کردوں گا۔ وکیع نے کہا:اعمش نے اسی طرح کہا:انھوں نے کہا:اس پریہ آیت نازل ہوئی:کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات سے کفر کیا اور کہا:مجھے (اپنا )مال اور (اپنی )اولاد ضرور دی جائے گی’’ سے لے کر اس (اللہ)کے فرمان‘‘اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا‘‘تک۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۴:۲۱۵۳)اہل اسلام کے ترک ِ دنیاپرمذاق اڑاناکفارکاشیوہ ہے
أخرج ابْن جریر وَابْن الْمُنْذر وَابْن أبی حَاتِم عَن ابْن جریج فِی قَوْلہ(زین للَّذین کفرُوا الْحَیَاۃ الدُّنْیَا)قَالَ: الْکفَّار یَبْتَغُونَ الدُّنْیَا ویطلبونہا(ویسخرون من الَّذین آمنُوا)فِی طَلَبہمْ الْآخِرَۃ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابن جریج رحمہ اللہ تعالی اللہ تعالی کے اس فرمان شریف{زین للَّذین کفرُوا الْحَیَاۃ الدُّنْیَا}کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ کفارہیں جودنیاپرست ہیں اورمسلمان جو آخرت کی طلب کرتے ہیںان کامذاق اڑاتے ہیں ۔ (جامع البیان فی تأویل القرآن:محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۴:۲۷۴)اہل دین کو غربت کاطعنہ دینے والے کفارہردورمیں موجود رہے ہیں
عَن عِکْرِمَۃ قَالَ:قَالُوا:لَو کَانَ مُحَمَّدًا نَبیا لاتبعہ سَادَاتنَا وَأَشْرَافنَا وَاللہ مَا اتبعہُ إِلَّا أہل الْحَاجۃ مثل ابْن مَسْعُود وَأَصْحَابہ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کفارمکہ نے کہاکہ اگرمحمد(ﷺ) نبی ہوتے توہمارے وڈیرے اورسرداران کی پیروی ضرورکرتے ۔ اللہ تعالی کی قسم!ان کی پیروی توفقط وہی لوگ کررہے ہیں جو غریب اورحاجتمندہیںمثلاً حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اوران کے ساتھی ۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۱:۵۹۱)فقیرجنت میں سب سے زیادہ ہوں گے
عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:وَقَفْتُ عَلَی بَابِ الْجَنَّۃِ،فَرَأَیْتُ أَکْثَرَ أَہْلِہَا الْمَسَاکِینَ وَوَقَفْتُ عَلَی بَابِ النَّارِ،فَرَأَیْتُ أَکْثَرَ أَہْلِہَا النِّسَاء َ،وَإِذَا أَہْلُ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ إِلَّا مَنْ کَانَ مِنْہُمْ مِنْ أَہْلِ النَّارِ،فَقَدْ أُمِرَ بِہِ إِلَی النَّارِ۔ ترجمہ :حضرت سیدنااسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: میںجنت کے دروازہ پرکھڑاہواتومیں نے اہل جنت کو دیکھاکہ جنت میں اکثرمسکین لوگ ہیں اورمیں جہنم کے دروازہ پرکھڑاہوااورمیں نے دیکھاکہ اس میں زیادہ تعدادعورتوں کی ہے ۔ اہل مرتبہ یعنی وڈیرے لوگ جنت کے دروازہ پرروکے ہوئے تھے مگروہ جو بڑے جہنمی تھے ، پس ان کے بارے میں حکم ہوچکاتھاکہ انہیں جہنم رسیدکیاجائے۔ (المعجم الکبیر:سلیمان بن أحمد بن أیوب أبو القاسم الطبرانی (ا:۱۷۰)ایک فقیرمسلمان بھری دنیاکے دنیاداروں سے عنداللہ افضل ہے
عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ، أَنَّہُ قَالَ:مَرَّ رَجُلٌ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لرَجُلٍ عِنْدَہُ جَالِسٍ:مَا رَأْیُکَ فِی ہَذَا فَقَالَ:رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ، ہَذَا وَاللَّہِ حَرِیٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ یُنْکَحَ،وَإِنْ شَفَعَ أَنْ یُشَفَّعَ، قَالَ:فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ آخَرُ،فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا رَأْیُکَ فِی ہَذَا فَقَالَ:یَا رَسُولَ اللَّہِ، ہَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاء ِ المُسْلِمِینَ،ہَذَا حَرِیٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لاَ یُنْکَحَ،وَإِنْ شَفَعَ أَنْ لاَ یُشَفَّعَ،وَإِنْ قَالَ أَنْ لاَ یُسْمَعَ لِقَوْلِہِ،فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:ہَذَا خَیْرٌ مِنْ مِلْء ِ الأَرْضِ مِثْلَ ہَذَا۔ ترجمہ:حضرت سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے پاس سے گزرا تو آپ ﷺنے اپنے پاس بیٹھنے والے شخص سے فرمایا:اس آدمی کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے جواب دیا:یہ معزز لوگوں میں سے ہے۔ اللہ کی قسم!یہ اس لائق ہے کہ اگر کسی کو پیغام نکاح بیھجے تو اس کا نکاح کردیا جائے اور اگر کسی کی سفارش کرے تو قبول کی جائے۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺیہ سن کر خاموش رہے۔ پھر ایک اور آدمی وہاں سے گزرا تو آپ ﷺنے اس سے اس کے متعلق پوچھا:اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟اس نے عرض کیا:یارسول اللہ ﷺ!یہ صاحب تو مسلمانوں کے غریب طبقے سے ہیں۔ یہ اس لائق ہے کہ اگرکسی کو نکاح کا پیغام بیھجے تو نکاح نہ کیا جائے۔ اگر سفارش کرے تو قبول نہ کی جائے اور اگر بات کرے تو اس کی بات نہ سنی جائے۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:اللہ کے ہاں یہ(محتاج)پہلے مال دار سے بہتر ہے،خواہ ایسے (مالدار)لوگوں سے زمین بھری ہوئی ہو۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۸:۹۵)کیامال کابھوکانبی اللہ علیہ السلام کادشمن بھی ہوسکتاہے؟
یحکی ان عیسی علیہ السلام سافر ومعہ یہودی فکان مع عیسی ثلاثۃ أقراص فأعطاہا الیہودی وقال احفظہا ثم بعد ساعۃ أکل الیہودی واحدا منہا فقال عیسی أعط الاقراص الثلاثۃ فقدم قرصین فقال این ثالثہا فقال الیہودی لم تکن اکثر من ہذا فمشیا حتی شاہد من عیسی عجائب فأقسم علیہ عیسی لذلک حتی یقر بالقرص الثالث فلم یقر فلحقا بثلاث لبنات من الذہب فقال الیہودی اقسم ذلک فقال عیسی واحدۃ لی وواحدۃ لک وواحدۃ لمن أکل القرص الثالث فقال الیہودی انا أکلت القرص الثالث فقال عیسی ابعد عنی فقد شاہدت قدرۃ اللہ ولم تقر بہ والآن قد أقررت بالدنیا فترک اللبنات عند الیہودی ومشی وجاء ثلاثۃ من اللصوص وقتلوا الیہودوأخذوا اللبنات ثم بعثوا من جملتہم واحدا لیأتی لہم بطعام فلما غاب عنہما تشاورا فی قتلہ وقالا إذا رجع قتلناہ وأخذنا نصیبہ فذہب واشتری سما فطرحہ فی الطعام الذی اشتراہ حتی یأکل ذلک الطعام صاحباہ فیموتا ویأخذ اللبنات فلما قدم علیہما قاما وقتلاہ ثم أکلا الطعام فماتا فعبر علیہم عیسی فوجد الیہودی وہؤلاء الثلاثۃ مقتولین فتعجب من ذلک فنزل جبریل وأخبرہ بالقصۃ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعیسی علیہ السلام سفرکررہے تھے آپ علیہ السلام کے ساتھ ایک یہودی تھا، آپ علیہ السلام کے پاس سونے کے تین ٹکڑے تھے ، آپ نے وہ یہودی کودے دیئے اورفرمایا: انہیں محفوظ رکھنا، جب ضرورت ہوگی توکام آئیں گے ۔ ان میں سے ایک قرص یہودی نے خرچ کرلیا، آپ علیہ السلام کوضرورت محسوس ہوئی ، تویہودی سے طلب کئے تو یہود ی نے دوقرص پیش کئے ، آپ علیہ السلام نے فرمایا: تیسراٹکڑاکہاں ہے ؟ توا س نے کہا: یہی دوہی تھے ، آپ علیہ السلام خاموشی سے روانہ ہوگئے۔ یہودی نے سفرمیں آپ علیہ السلام کے بڑے بڑے کمالات دیکھے ، اس پر حضرت سیدناعیسی علیہ السلام نے اسے قسم دے کرفرمایاکہ اب بتائووہ تیسراٹکڑاکہاں ہے ؟ تویہودی پھربھی منکرہوا، آگے چل کرآپ علیہ السلام کو تین سونے کی اینٹیں ملیں ، آپ علیہ السلام نے یہودی سے فرمایا: ایک اینٹ میری اوردوسری تیری اورتیسری اس شخص کی جس نے تیسراٹکڑاسونے کاخرچ کیا۔ یہود ی نے کہاکہ وہ ٹکڑاتومیں نے ہی خرچ کیاتھا، حضرت سیدناعیسی علیہ السلام نے فرمایا: اب یہاں سے دفع ہوجائو، جبکہ تم نے اللہ تعالی کی قدرت کے کرشمے دیکھے اورسونے کاٹکڑاکھانے کااقرارنہ کیا، اب دنیاکی لالچ میں آکر اقرارکررہاہے ۔ اس لئے تیرااورمیراساتھ نہیں نبھ سکتا۔ آپ علیہ السلام نے دواینٹیں سونے کی یہودی کو دے دیں، یہودی کو تین ڈاکوملے ، انہوںنے یہودی کو قتل کرکے اینٹیں چھین لیں ، ان تین ڈاکوئوں نے ایک کو کھانالینے کے لئے بھیجاجب وہ چلاگیاتودونوں نے مشورہ کرکے اسے آتے ہی قتل کردینے کی سازش کی تاکہ سونے کی اینٹیں ہم دونوں کو برابرمل جائیں ، کھانالینے والے نے خیال کیاکہ کھانے میں زہرملادیاجائے ، جب وہ کھاناکھائیں گے تووہ مرجائیں گے اوردونوں اینٹیں میں ہی لے لوں گا۔ جب وہ واپس لوٹاتوان دونوں نے اسے قتل کردیااوریہ دونوں بھوکے تھے کھانے کوتناول کرنے لگے اورکھاناکھاتے ہی مرگئے ، اس کے بعد حضرت سیدناعیسی علیہ السلام واپس لوٹے تودیکھاکہ یہودی اورتینوں ڈاکومرے پڑے ہیں اورسونے کی اینٹیں بچ گئی ہیں ۔ آپ علیہ السلام بڑے حیران ہوئے ، حضرت سیدناجبریل امین علیہ السلام حاضرہوئے اورتمام قصہ عرض کیا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (ا:۳۲۸) اس سے اندازہ لگائیں کہ ایک شخص اللہ تعالی کے نبی ورسول علیہ السلام کے ساتھ رہ کر اوران کے معجزات دیکھ کربھی مال کابھوکاہونے کی وجہ سے ان کو نہیں پہچان پاتااوران کی ان کے سامنے ہی تکذیب کرناشروع کردیتاہے ۔ توپھرہمارے دورکے مال کے پجاری اگردین حق کے سامنے اکڑجائیں تو کچھ بھی بعید نہیں ہے ۔ اللہ تعالی ان تمام امیرزادوں کو ہدایت عطافرمائے جو اپنی اناکی خاطرحضورتاجدارختم نبوت ﷺکادین بیان ہونے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ حضرت سیدناحقی اورسعدی رحمہمااللہ تعالی کی نصیحت ولا ینبغی للاغنیاء ان یحقروا الفقراء بالغرور بکثرۃ دنیاہم ولا یسخروا منہم لان ہذہ الصفۃ من صفات الکفرۃ:قال السعدی چومنعم کند سفلہ را روزکار … نہد بر دل تنک درویش بار چوبام بلندش بود خود پرست … کند بول وخاشاک بر بام پست ترجمہ :اورمالداروں کو چاہئے کہ وہ فقراء کو اپنے مال کے زیادہ ہونے کی وجہ سے حقیرنہ جانیں اورنہ ہی ان کامذاق اڑائیں کیونکہ یہ کفارکی صفات ہیں ۔ حضرت سیدناشیخ سعدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب کسی کمینے کو اللہ تعالی دولت دیتاہے وہ غریبوں پرظلم کرتاہے ، جب کسی نالائق کی چھت اونچی ہوجائے تو وہ اپنے گھرکاکوڑاکرکٹ چھوٹے مکان والوں پرڈال دیتاہے۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی (۱:۳۲۸)حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخوں کابراانجام
میرے صحابہ کرام کے مقام تک کوئی نہیں پہنچ سکتا عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، قَالَ:قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِی،فَلَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ،ذَہَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِہِمْ،وَلاَ نَصِیفَہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا :میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا مت کہو۔ اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا (اللہ کی راہ میں )خرچ کر ڈالے تو ان کے ایک مد غلہ کے برابر بھی نہیں ہو سکتا اور نہ ان کے آدھے مد کے برابر۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۵:۸)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاگستاخ لعنتی ہے
عَنْ أَنَسٍ،عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ سَبَّ أَصْحَابِی فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، لَا یَقْبَلُ اللَّہُ لَہُ صَرْفًا،وَلَا عَدْلًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ترجمہ :حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا:جس نے میرے صحابہ کو گالی دی اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔اللہ تعالی قیامت کے دن نہ تواس کے فرض قبول فرمائے گااورنہ ہی نفل ۔ (السنۃ:أبو بکر أحمد بن محمد بن ہارون بن یزید الخَلَّال البغدادی الحنبلی (۳:۵۱۵) حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی صحبت میں گزری ایک گھڑی ۔۔۔ عَنْ نُسَیْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ قَالَ:سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ:لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ، فَلَمَقَامُ أَحَدِہِمْ سَاعَۃً خَیْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِکُمْ عُمْرَہُ ۔ ترجمہـ:حضرت سیدناعبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا نہ کہو ، کیونکہ آپﷺکے ساتھ گذری ہوئی ان کی ایک گھڑی تمہارے زندگی بھر کے اعمال سے بہتر ہے ۔ (فضائل الصحابۃ:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۲:۵۷) مذکورہ احادیث میںحضورتاجدارختم نبوت ﷺنے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہنے اور ان کی گستاخی سے منع فرمایا ہے ۔ اس کے باوجود بعض لوگ باز نہ آئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوئے ، جس پر اللہ تعالی نے انہیں دنیا میں ہی نشانہ عبرت بنا دیا ۔ہم ایسے بعض واقعات یہاں نقل کر رہے ہیں تاکہ ہم سب کے لیے عبرت ہو ۔حضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گستاخوں کا انجام
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ قَالَ:کُنْتُ أَطُوفُ بِالْکَعْبَۃِ وَإِذَا رَجُلٌ یَقُولُ:اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی،وَمَا أَظُنُّ أَنْ تَغْفِرَ لِی، فَقُلْتُ:یَا عَبْدَ اللَّہِ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا یَقُولُ ما تقول، قال:کنت أعطیت للہ عَہْدًا إِنْ قَدَرْتُ أَنْ أَلْطِمَ وَجْہَ عُثْمَانَ إِلَّا لَطْمَتُہُ،فَلَمَّا قُتِلَ وُضِعَ عَلَی سَرِیرِہِ فی البیت والناس یجیئون یصلون عَلَیْہِ،فَدَخَلْتُ کَأَنِّی أُصَلِّی عَلَیْہِ، فَوَجَدْتُ خَلْوَۃً فرفعت الثوب عن وجہہ ولحیتہ ولطمتہ وَقَدْ یَبِسَتْ یَمِینِی.قَالَ ابْنُ سِیرِینَ: فَرَأَیْتُہَا یابسۃ کأنہا عود. ترجمہ :حضرت سیدناامام محمدبن سیرین رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں بیت اللہ شریف کا طواف کر رہا تھا کہ ایک آدمی کو دیکھا ، وہ دعا مانگ رہا تھا اور کہہ رہا تھا :اے اللہ !مجھے معاف کر دے لیکن میرا گمان ہے کہ تو مجھے معاف نہیں کرے گا ۔میں نے کہا : اے اللہ کے بندے !میں تجھے کیا کہتے ہوئے سن رہا ہوں ؟ ایسا تو کوئی نہیں کہتا ۔ اس نے کہا : {کُنْتُ اَعْطَیْتُ للہ عَہْدًا إِنْ قَدَرْتُ اَنْ اَلْطِمَ وَجْہَ عُثْمَانَ إِلَّا لَطْمَتُہُ،فَلَمَّا قُتِلَ وُضِعَ عَلَی سَرِیرِہِ فی البیت والناس یجیئون فیصلون عَلَیْہِ،فَدَخَلْتُ کَاَنِّی اُصَلِّی عَلَیْہِ،فَوَجَدْتُ خَلْوَۃً فرفعت الثوب عن وجہہ فلطمت وجہہ وسجیتہ وَقَدْ یَبِسَتْ یَمِینِی قَالَ ابْنُ سِیرِینَ: فَرَاَیْتُہَا یابسۃ کانہا عود} میں نے اللہ سے یہ عہد کر لیا تھا کہ اگر مجھے قدرت ہوئی تو میں حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو تھپڑ ماروں گا (ان کی زندگی میں تو مجھے ایسا کوئی موقعہ نہیں ملا)لیکن جب وہ قتل ہو گئے اور ان کی چار پائی گھر میں رکھی گئی تو لوگ آتے رہے اور آپ رضی اللہ عنہ پر جنازہ پڑھتے رہے تو میں بھی داخل ہوگیا گویا کہ میں بھی جنازہ پڑھنا چاہتا ہوں ۔میں نے دیکھا کہ جگہ خالی ہے تو کفن کا کپڑا اٹھایا اور تھپڑ مار دیا اور پھر چہرہ ڈھانپ دیا ۔ اب میرا یہ دایاں ہاتھ سوکھ گیا ہے ۔ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :میں نے اس بد بخت کا ہاتھ دیکھا وہ لکڑی کی طرح سوکھا ہوا تھا ۔ (البدایۃ والنہایۃ:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۷:۲۱۳) حضرت سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کے گستاخ رب تعالی کی پکڑسے نہیں بچ سکے وإن المتتبع لاحوال اولٰئک الخارجین علی عثمان رضی اللہ المعتدین علیہ یجد ان اللہ تعالی لم یمہلہم، بل اذلہم و اخزاہم وانتقم منہم فلم ینج منہم احد ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کرنے والے ان ظالم باغیوں کے حالات کا جو بھی جائزہ لے گا اس کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ اللہ تعالی نے ان ظالموں کو نہیں بخشا ، بلکہ اللہ تعالی نے انہیں اسی دنیا میں ہی رسوا و ذلیل کیا اور انتقام لیا ، ان میں سے کوئی بھی بچ نہیں سکا ۔ (عثمان بن عفان شخصیتہ و عصرہ للصلابی:۴۱۹)حضرت سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ کے گستاخ کاانجام
حَدَّثَنَا قُرَّۃُ قَالَ:سَمِعْتُ أَبَا رَجَاء ٍ یَقُولُ:لَا تَسُبُّوا عَلِیًّا،وَلَا أَہْلَ ہَذَا الْبَیْتِ،إِنَّ جَارًا لَنَا مِنْ بَنِی الْہُجَیْمِ قَدِمَ مِنَ الْکُوفَۃِ فَقَالَ:أَلَمْ تَرَوْا ہَذَا الْفَاسِقَ ابْنَ الْفَاسِقِ؟ إِنَّ اللَّہَ قَتَلَہُ، یَعْنِی الْحُسَیْنَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، قَالَ: فَرَمَاہُ اللَّہُ بِکَوْکَبَیْنِ فِی عَیْنِہِ، فَطَمَسَ اللَّہُ بَصَرَہُ. ترجمہ :حضرت سیدناابو رجاء عطاردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا نہ کہو اور نہ ہی انکے گھر والوں کو ۔ ہمارا ایک پڑوسی جو کوفہ سے آیا تھا حضرت سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق کہنے لگا :تم اس فاسق ابن فاسق کو نہیں دیکھتے جسے اللہ نے ہلاک کر دیا ہے ۔ پس (اس گستاخی کی وجہ سے)اللہ تعالی نے اس کی آنکھ میں دو کیل (میخ)پھینکے اور اسے اندھا کر دیا ۔ (فضائل الصحابۃ:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۲:۵۷۴)امام حسین رضی اللہ عنہ کے گستاخ عبیداللہ بن زیاد کا انجام
فکان سبب ہلاکہ قتل یوم الأحد لعشر مضین من المحرم یوم عاشوراء سنۃ إحدی وستین بموضع من أرض الکوفۃ یدعی کربلاء قرب الطف، وقضی اللہ عز وجل أن قتل عبید اللہ بن زیاد یوم عاشوراء سنۃ سبع وستین، قتلہ إبراہیم بن الأشتر فی الحرب، وبعث برأسہ إلی المختار، وبعث بہ المختار إلی ابن الزبیر، فبعث بہ ابن الزبیر إلی علی بن الحسین۔ ترجمہ :امام ابن عبدالبرالقرطبی المتوفی : ۴۶۳ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد جوحضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں شامل تھا ۔حضرت سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ کو ۶۱ ہجری میں عاشورہ محرم کے دن قتل کیا گیا تھا ، پھر اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ عبیداللہ بن زیاد کو بھی ۶۸ہجری کو عاشورہ محرم کے دن ہی موت کے گھاٹ اتارا گیا ، اسے ابراہیم بن اشتر نے ایک جنگ کے دوران قتل کیا اور اس کا سر مختار ثقفی کے پاس بھجوا دیا ۔اورمختارثقفی نے وہی سرحضرت سیدناعبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کی خدمت میں روانہ کیااوراس کے بعد وہ سرحضرت سیدناعبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ نے حضرت سیدناامام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ارسال کردیا۔ (الاستیعاب:أبو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمری القرطبی (۱:۳۹۷)امام حسین رضی اللہ عنہ کے گستاخ کاانجام
عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ،قَالَ:لَمَّا جِیء َ بِرَأْسِ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ زِیَادٍ وَأَصْحَابِہِ نُضِّدَتْ فِی الْمَسْجِدِ فِی الرَّحَبَۃِ فَانْتَہَیْتُ إِلَیْہِمْ وَہُمْ یَقُولُونَ:قَدْ جَاء َتْ قَدْ جَاء َتْ،فَإِذَا حَیَّۃٌ قَدْ جَاء َتْ تَخَلَّلُ الرُّء ُوسَ حَتَّی دَخَلَتْ فِی مَنْخَرَیْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ زِیَادٍ فَمَکَثَتْ ہُنَیْہَۃً،ثُمَّ خَرَجَتْ فَذَہَبَتْ حَتَّی تَغَیَّبَتْ ثُمَّ قَالُوا:قَدْ جَاء َتْ،قَدْ جَاء َتْ، فَفَعَلَتْ ذَلِکَ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا.ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ. ترجمہ:حضرت سیدناعمارہ بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ جب عبیداللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سر لائے گئے اور کوفہ کی ایک مسجد میں انہیں ترتیب سے رکھ دیا گیا اور میں وہاں پہنچا تو لوگ یہ کہہ رہے تھے:آیا آیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سانپ سروں کے بیچ سے ہو کر آیا اور عبیداللہ بن زیاد کے دونوں نتھنوں میں داخل ہو گیا اور تھوڑی دیر اس میں رہا پھر نکل کر چلا گیا، یہاں تک کہ غائب ہو گیا، پھر لوگ کہنے لگے:آیا آیا، اس طرح دو یا تین بار ہوا ۔امام الترمذی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث شریف صحیح ہے ۔ (سنن الترمذی:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ الترمذی، أبو عیسی (۶:۱۲۶)امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کے گستاخ اکثرپاگل ہوگئے تھے
وأما ما روی من الأحادیث وَالْفِتَنِ الَّتِی أَصَابَتْ مَنْ قَتَلَہُ فَأَکْثَرُہَا صَحِیحٌ،فإنہ قل من نجا من أولئک الذین قتلوہ من آفۃ وعاہۃ فی الدنیا،فلم یخرج منہا حتی أصیب بمرض،وأکثرہم أصابہم الْجُنُونُ. ترجمہ :حافظ ابن کثیرالمتوفی :۷۷۴ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں جو امور و فتن بیان کیے گئے ہیں ان میں زیادہ تر صحیح ہیں ، جن لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ان میں سے بہت کم ہی کوئی آفت و مصیبت سے بچا ہوگا ، ان میں سے اکثر پاگل ہو گئے اور کوئی کسی موذی مرض میں مبتلا ہوگیا ۔ (البدایۃ والنہایۃ:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی(۸:۲۰۱)حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے گستا خ کاانجام
أَنْبَأَنَا أَبُو الْمَعْمَرِ الأَنْصَارِیُّ، قَالَ:سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ یُوسُفَ بْنَ عَلِیٍّ الزَّنْجَانِیَّ،یَقُولُ سَمِعْتُ شَیْخَنَا أَبَا إِسْحَاقَ بْنَ عَلِیِّ ابن الفیروزآبادی، یَقُولُ:سَمِعْتُ الْقَاضِی أَبَا الطَّیِّبِ یَقُولُ:کُنَّا فِی حَلَقَۃِ النَّظَرِ بِجَامِعِ الْمَنْصُورِ فَجَاء َ شَابٌّ خُرَاسَانِیٌّ فَسَأَلَ مَسْأَلَۃَ الْمُصَرَّاۃِ وَطَالَبَ بِالدَّلِیلِ،فَاحْتَجَّ الْمُسْتَدِلُّ بِحَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ الْوَارِدِ فِیہَا،فَقَالَ الشَّابُّ وَکَانَ خَبِیثًا:أَبُو ہُرَیْرَۃَ غَیْرُ مَقْبُولِ الْحَدِیثِ،قَالَ الْقَاضِی:فَمَا اسْتَتَمَّ کَلامَہُ حَتَّی سَقَطَتْ عَلَیْہِ حَیَّۃٌ عَظِیمَۃٌ مِنْ سَقْفِ الْجَامِعِ فَوَثَبَ النَّاسُ مِنْ أَجْلِہَا،وَہَرَبَ الشَّابُّ مِنْ یَدِہَا فَلَمْ یُرَ لَہَا أَثَرٌ. ترجمہ:قاضی ابو طیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :ہم جامع منصور میں ایک حلقے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک خراسانی نوجوان آیا تو اس نے جانوروں کے تھنوں میں دودھ روکنے کے مسئلے کے متعلق سوال کیا اور دلیل کا مطالبہ کیا تو ایک استدلال کرنے والے نے اس مسئلہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث پیش کی ۔ تو وہ خبیث نوجوان بولا :ابوہریرہ کی حدیث مقبول نہیں ہے ۔ قاضی ابو طیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :اس نوجوان نے ابھی اپنی بات پوری ہی نہیں کی تھی کہ اتنی دیر میں جامع مسجد کی چھت سے ایک بہت بڑا سانپ گر پڑا تو لوگ بھاگنے لگے اور وہ نوجوان بھی اس سانپ کے آگے بھاگنے لگا ۔ بعد میں یہ سانپ غائب ہو گیا ۔ (المنتظم:جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی (۱۷:۱۰۶)حضرت سیدناسعد رضی اللہ عنہ کے گستاخ کاانجام
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ:شَکَا أَہْلُ الکُوفَۃِ سَعْدًا إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ،فَعَزَلَہُ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ عَمَّارًا، فَشَکَوْا حَتَّی ذَکَرُوا أَنَّہُ لاَ یُحْسِنُ یُصَلِّی،فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ،فَقَالَ:یَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ ہَؤُلاَء ِ یَزْعُمُونَ أَنَّکَ لاَ تُحْسِنُ تُصَلِّی، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ:أَمَّا أَنَا وَاللَّہِ فَإِنِّی کُنْتُ أُصَلِّی بِہِمْ صَلاَۃَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا أَخْرِمُ عَنْہَا، أُصَلِّی صَلاَۃَ العِشَاء ِ،فَأَرْکُدُ فِی الأُولَیَیْنِ وَأُخِفُّ فِی الأُخْرَیَیْنِ، قَالَ:ذَاکَ الظَّنُّ بِکَ یَا أَبَا إِسْحَاقَ، فَأَرْسَلَ مَعَہُ رَجُلًا أَوْ رِجَالًا إِلَی الکُوفَۃِ، فَسَأَلَ عَنْہُ أَہْلَ الکُوفَۃِ وَلَمْ یَدَعْ مَسْجِدًا إِلَّا سَأَلَ عَنْہُ، وَیُثْنُونَ مَعْرُوفًا، حَتَّی دَخَلَ مَسْجِدًا لِبَنِی عَبْسٍ،فَقَامَ رَجُلٌ مِنْہُمْ یُقَالُ لَہُ أُسَامَۃُ بْنُ قَتَادَۃَ یُکْنَی أَبَا سَعْدَۃَ قَالَ: أَمَّا إِذْ نَشَدْتَنَا فَإِنَّ سَعْدًا کَانَ لاَ یَسِیرُ بِالسَّرِیَّۃِ، وَلاَ یَقْسِمُ بِالسَّوِیَّۃِ، وَلاَ یَعْدِلُ فِی القَضِیَّۃِ، قَالَ سَعْدٌ:أَمَا وَاللَّہِ لَأَدْعُوَنَّ بِثَلاَثٍ:اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ عَبْدُکَ ہَذَا کَاذِبًا،قَامَ رِیَاء ً وَسُمْعَۃً،فَأَطِلْ عُمْرَہُ،وَأَطِلْ فَقْرَہُ وَعَرِّضْہُ بِالفِتَنِ، وَکَانَ بَعْدُ إِذَا سُئِلَ یَقُولُ:شَیْخٌ کَبِیرٌ مَفْتُونٌ،أَصَابَتْنِی دَعْوَۃُ سَعْدٍ،قَالَ عَبْدُ المَلِکِ:فَأَنَا رَأَیْتُہُ بَعْدُ، قَدْ سَقَطَ حَاجِبَاہُ عَلَی عَیْنَیْہِ مِنَ الکِبَرِ،وَإِنَّہُ لَیَتَعَرَّضُ لِلْجَوَارِی فِی الطُّرُقِ یَغْمِزُہُنَّ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل کوفہ نے حضرت سیدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ سے شکایت کی۔اس لئے حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو معزول کرکے حضرت سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا حاکم بنایا، تو کوفہ والوں نے حضرت سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے متعلق یہاں تک کہہ دیا کہ وہ تو اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھا سکتے۔چنانچہ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بلاوہ بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا :اے ابواسحاق !ان کوفہ والوں کا خیال ہے کہ تم اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے ہو ؟ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا :اللہ کی قسم !میں تو انہیںحضورتاجدارختم نبوت ﷺہی کی طرح نماز پڑھاتا تھا ۔ اس میں کوتاہی نہیں کرتا عشاء کی نماز پڑھاتا تو اس کی پہلی دو رکعات میں (قرآت )لمبی کرتا اور دوسری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتا۔ حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اے ابواسحاق !مجھ کو تم سے امید بھی یہی تھی۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک یا کئی آدمیوں کو کوفہ بھیجا۔ قاصد نے ہر ہر مسجد میں جا کر ان کے متعلق پوچھا۔ سب نے آپ رضی اللہ عنہ کی تعریف کی لیکن جب مسجد بنی عبس میں گئے۔ تو ایک شخص جس کا نام اسامہ بن قتادہ اور کنیت ابوسعدہ تھی کھڑا ہوا۔ اس نے کہا :جب آپ نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے تو (سنیے)حضرت سیدناسعدرضی اللہ عنہ نہ فوج کے ساتھ خود جہاد کرتے تھے، نہ مال غنیمت کی تقسیم صحیح کرتے تھے اور نہ ہی فیصلے میں عدل و انصاف کرتے تھے۔ (یہ سن کر)حضرت سیدناسعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اللہ کی قسم !میں (تمہاری اس بات پر )تین دعائیں کرتا ہوں۔ اے اللہ !اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف ریا و نمود کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمردراز کر اور اسے خوب محتاج بنا اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔ اس کے بعد (وہ شخص اس درجہ بدحال ہوا کہ )جب اس سے پوچھا جاتا تو کہتا : ایک بوڑھا اور پریشان حال ہوں مجھے حضرت سیدناسعد رضی اللہ عنہ کی دعا لگ گئی ہے ۔ عبدالملک نے بیان کیا :میں نے اسے دیکھا اس کی بھویں بڑھاپے کی وجہ سے آنکھوں پر آ گئی تھیں۔ لیکن اب بھی راستوں میں وہ لڑکیوں کو چھیڑتاتھا۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۴:۱۴۹)ایک گستاخ عورت کاانجام بد
عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ،أَنَّ أَرْوَی بِنْتَ أُوَیْسٍ،ادَّعَتْ عَلَی سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ أَنَّہُ أَخَذَ شَیْئًا مِنْ أَرْضِہَا، فَخَاصَمَتْہُ إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ، فَقَالَ سَعِیدٌ:أَنَا کُنْتُ آخُذُ مِنْ أَرْضِہَا شَیْئًا بَعْدَ الَّذِی سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،قَالَ:وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَقُولُ:مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا،طُوِّقَہُ إِلَی سَبْعِ أَرَضِینَ،فَقَالَ لَہُ مَرْوَانُ:لَا أَسْأَلُکَ بَیِّنَۃً بَعْدَ ہَذَا،فَقَالَ:اللہُمَّ، إِنْ کَانَتْ کَاذِبَۃً فَعَمِّ بَصَرَہَا،وَاقْتُلْہَا فِی أَرْضِہَا،قَالَ:فَمَا مَاتَتْ حَتَّی ذَہَبَ بَصَرُہَا،ثُمَّ بَیْنَا ہِیَ تَمْشِی فِی أَرْضِہَا،إِذْ وَقَعَتْ فِی حُفْرَۃٍ فَمَاتَتْ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک خاتون)اروی بنت اویس نے حضرت سیدناسعید بن زید رضی اللہ عنہ کے خلاف دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس کی کچھ زمین پر قبضہ کر لیا ہے اور مروان بن حکم کے پاس مقدمہ لے کر گئی تو حضرت سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے کہا :کیا میں اس بات کے بعد بھی اس کی زمین کے کسی حصے پر قبضہ کر سکتا ہوں جو میں نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺ سے سنی؟ اس ( مروان )نے کہا :آپ نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے کیا سنا ؟ انہوں نے کہا :میں نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے سنا، آپﷺ فرما رہے تھے :جس نے کسی کی زمین ایک بالشت بھی ظلم سے حاصل کی اسے سات زمینوں تک کا طوق پہنایا جائے گا۔ تو مروان نے ان سے کہا :اس کے بعد میں آپ سے کسی شہادت کا مطالبہ نہیں کروں گا۔ اس کے بعد انہوں (سعید )نے کہا :{اللہُمَّ، إِنْ کَانَتْ کَاذِبَۃً فَعَمِّ بَصَرَہَا،وَاقْتُلْہَا فِی اَرْضِہَا،قَالَ:فَمَا مَاتَتْ حَتَّی ذَہَبَ بَصَرُہَا،ثُمَّ بَیْنَا ہِیَ تَمْشِی فِی اَرْضِہَا، إِذْ وَقَعَتْ فِی حُفْرَۃٍ فَمَاتَتْ } اے اللہ!اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کر دے اور اسے اس کی زمین ہی میں ہلاک کر دے۔ حضرت سیدناعروہ رضی اللہ عنہ نے کہا :وہ (اس وقت تک )نہ مری یہاں تک کہ اس کی بینائی ختم ہو گئی، پھر ایک مرتبہ وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ ایک گڑھے میں جا گری اور مر گئی۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۳:۱۲۳۱) راوی کامشاہدہ قَالَ:فَرَأَیْتُہَا عَمْیَاء َ تَلْتَمِسُ الْجُدُرَ تَقُولُ:أَصَابَتْنِی دَعْوَۃُ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ، فَبَیْنَمَا ہِیَ تَمْشِی فِی الدَّارِ مَرَّتْ عَلَی بِئْرٍ فِی الدَّارِ،فَوَقَعَتْ فِیہَا، فَکَانَتْ قَبْرَہَا ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامحمد بن زید راوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس عورت کو دیکھا وہ اندھی ہو گئی تھی، دیواریں ٹٹولتی پھرتی تھی اور کہتی تھی :مجھے حضرت سیدناسعید بن زیدرضی اللہ عنہ کی دعائے ضرر لگ گئی ہے۔ ایک مرتبہ وہ گھر میں چل رہی تھی، گھر میں کنویں کے پاس سے گزری تو اس میں گر گئی اور وہی کنواں اس کی قبر بن گیا۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۳:۱۲۳۰)معارف ومسائل
(۱)اس سے معلوم ہواکہ اس آیت کریمہ میں اہل حق کی مخالفت کااصل سبب یہ بیان ہواکہ وہ دنیاکی محبت ہے اوردنیاکی محبت کے آثارمیں سے اہل دین کوحقیرجاننابھی ہے ، کیونکہ جب دنیاکاغلبہ ہوتاہے تو دین کی طلب نہیں رہتی بلکہ دین کو اپنی دنیوی اغراض کے خلاف دیکھ کر چھوڑ بیٹھتاہے اوردوسرا اہل دین پرہنستاہے اوران کامذاق اڑاتاہے ۔ (۲) اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہواکہ دنیاکی زیبائش کفارکو بھلی معلوم ہوتی ہے اورا س کی چمک دمک کے سامنے ان کی آنکھیں ایسی اندھی ہوجاتی ہیں کہ پھران اندھوں کو دین اوراہل دین کابھی حیانہیں رہتا۔ (۳)اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہواکہ کافروں کیلئے دنیا کی زندگی آراستہ کردی گئی یعنی انہیں یہی زندگی پسند ہے، وہ اسی کی قدر کرتے اور اسی پر مرتے ہیں۔دنیا کی زندگی وہ ہے جو نفس کی خواہشات میں صرف ہو اور جو توشہ آخرت جمع کرنے میں خرچ ہو وہ بفضلہ تعالیٰ دینی زندگی ہے۔ اس آیت میں وہ لوگ داخل ہیں جو آخرت سے غافل ہیں۔ (۴)اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوگیاکہ قیامت کے دن ایماندار اِن کافروں سے بلندو بالا ہوں گے کیونکہ بروزِ قیامت مومنین قرب ِ الٰہی میں ہوں گے اور کفار جہنم میں ذلیل و خوارہوں گے ۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غریب مسلمانوں کا مذاق اڑانایا کسی مومن کو ذلیل یا کمینہ جاننا کافروں کا طریقہ ہے۔فاسق و کافر اگرچہ مالدار ہو ذلیل ہے اور مومن اگرچہ غریب ہو ، کسی بھی قوم سے ہو عزت والا ہے بشرطیکہ متقی ہو۔ (۵) افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کچھ نام نہاد مسلمان بھی انگریزوں کی دنیوی ترقی کو دیکھ کر ان پر فریفتہ ہوچکے ہیں اوریہ بھی بنسبت اہل ایمان کے کفارکو ہی اچھاجانتے ہیں اوراہل ایمان اوراہل دین کو حقیروذلیل جانتے ہیں۔ (۶)اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ دنیوی ترقی کوہی سب کچھ سمجھنااورآخرت کی طرف سے بالکل بے فکرہوجانایہ کفارکاطریقہ ہے ۔ (۷) اوراسی طرح یہ بھی معلوم ہواکہ جو شخص اہل دین پرطعن کی زبان دراز کرتاہے وہ منافقین ، یہودونصاری اورمشرکین کاہمنواہے۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9