صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2196 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۴۴۔ {وَ قٰتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ}(۲۴۴)

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,362

سوال (Question):

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۴۴۔ {وَ قٰتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ}(۲۴۴)

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

فی سبیل اللہ کیاہے ؟

{وَ قٰتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ}(۲۴۴) فی سبیل اللہ سے مراد کیاہے؟ قَالَ مَالِکٌ:سُبُلُ اللَّہِ کَثِیرَۃٌ، وَمَا مِنْ سبیل إلا یقاتل علیہا أو فیہا أولہا، وَأَعْظَمُہَا دِینُ الْإِسْلَامِ، لَا خِلَافَ فِی ہَذَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے راستے بہت زیادہ ہیں ، اورکوئی بھی راستہ نہیں ہے مگراس پر یااس میں یااس کے لئے جہاد کیاجاتاہے اوراس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ان سب راستوں میں بڑاراستہ جہاد کادین اسلام ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۳:۲۳۶) افسوس ہے اس بات پر کہ آج کے فرنگی کے غلام جوخود کو مسلمان کہتے ہیں ان کو دین اسلام کے لئے جہاد کرنے کی کوئی فکرنہیں ہے ، ہاں جب بھی لڑنے کی بات کریں گے تو پانی کے لئے ، یازمین کے لئے یااپنے مفاد کے لئے ، ان کو دین اسلام کے لئے جہاد کرنے کی کوئی فکرنہیں ہے ۔ اللہ تعالی کے راستے بہت ہیں ہَذَا خِطَابٌ لِأُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْقِتَالِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فِی قَوْلِ الْجُمْہُورِوَہُوَ الَّذِی یُنْوَی بِہِ أَنْ تَکُونَ کَلِمَۃُ اللَّہِ ہِیَ الْعُلْیَاوَسُبُلُ اللَّہِ کَثِیرَۃٌ فَہِیَ عَامَّۃٌ فِی کلہ سَبِیلٍ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جمہورعلماء کے قول کے موافق اس آیت کریمہ میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی امت کو جہاد فی سبیل اللہ کاحکم دیاجارہاہے وہ جہاد جو اعلائے کلمۃ اللہ کی نیت سے کیاجائے اوراللہ تعالی کے راستے بہت زیادہ ہیں اوریہ ہر راستے کوعام ہے۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۳:۲۳۶) تم بنی اسرائیل کی طرح نہ بنو قَالَ النَّحَّاسُ:وَقاتِلُواأَمْرٌ مِنَ اللَّہِ تَعَالَی لِلْمُؤْمِنِینَ أَلَّا تَہْرُبُوا کَمَا ہَرَبَ ہَؤُلَاء ِ۔ ترجمہ :امام النحاس رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ {قاتِلُوا}یہ اللہ تعالی کی طرف سے اہل ایمان کو حکم ہے کہ تم جہاد کے میدان سے نہ بھاگوجیساکہ وہ بھاگ گئے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۳:۲۳۶)

اہل ایمان کوثابت قدمی کاحکم فرمایا

وَقاتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ ہَذَا خِطَابٌ لِہَذِہِ الْأُمَّۃِ بِالْجِہَادِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ،وَتَقَدَّمَتْ تِلْکَ الْقِصَّۃُ، کَمَا قُلْنَا، تَنْبِیہًا لِہَذِہِ الْأُمَّۃِ أَنْ لَا تَفِرَّ مِنَ الْمَوْتِ کَفِرَارِ أُولَئِکَ،وَتَشْجِیعًا لَہَا،وَتَثْبِیتًا. ترجمہ :امام ابوحیان محمدبن یوسف الاندلسی المتوفی : ۷۴۵ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو جہاد فی سبیل اللہ کاحکم دیاجارہاہے اورپچھلے قصے میں اس امت کے لئے تنبیہ تھی کہ وہ بنی اسرائیل کے ان لوگوں کی طرح موت سے نہ بھاگیں اورجہاد میں شجاعت اورثابت قدمی کامظاہرہ کریں۔ (البحر المحیط فی التفسیر: أبو حیان محمد بن یوسف أثیر الدین الأندلسی (۲:۵۶۴)

دینی حکم میں رکاوٹ کو دورکرنے کے لئے جہاد کرنا

حضرت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ{وَ قٰتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ}ظاہریہ ہے کہ یہ نئی آیت ہے اورا س میں مسلمانوں کوہی خطاب ہے اورفی سبیل اللہ سے اشاعت اسلام اورکلمۃ اللہ بلندکرنے کی نیت سے کفارسے لڑنامراد ہے یعنی اے مسلمانو! اللہ تعالی کی راہ میں کفارکے ساتھ جہاد کرو۔ خیال رہے کہ راستہ یاسبیل وہ مسافت ہے جس پرچل کرمنزل مقصود تک پہنچاجاتاہے اورسبیل اللہ وہ عقائدیااعمال ہیں جنہیں اختیارکرکے رضائے الہی حاصل کی جاتی ہے ، اسلام کے کسی عقیدے ، کسی دینی کام پر جب کفارکی طرف سے کوئی رکاوٹ پیداکی جائے تواس آڑ کو ختم کرنے کے لئے ان سے لڑناجہاد فی سبیل اللہ ہے ۔ جیسے رب تعالی کو راضی کرنے کے لئے خرچ کرناانفاق فی سبیل اللہ ہے ۔ لھذاقربانی ، اذان ، نمازوغیرہ کسی دینی مسئلہ پر اگررکاوٹ ہواس کے لئے لڑناجہاد فی سبیل اللہ ہے۔ زمانہ نبوی ﷺاورخلافت فاروقی میں صرف کفارسے جہاد ہوئے ۔خلافت صدیقی میں مرتدین سے بھی جہاد کیاگیا، جیساکہ مانعین زکوۃ پر فوج کشی اورمسیلمہ کذاب دجال کے ماننے والے مرتدین کے ساتھ جہادہوا۔ (تفسیرنعیمی از مفتی احمدیارخان نعیمی ( ۲: ۴۸۹)

معارف ومسائل

(۱) اس سے معلوم ہواکہ اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کے جہاد سے بھاگنے کاقصہ ذکرکرکے اہل ایمان کے دلوں کو جہاد کے ذریعے مضبوط کرنے کاقصدفرمایا۔ (۲) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اہل ایمان کو موت وزندگی کے سوال میں الجھنانہیں چاہئے بلکہ کام کرناچاہئے کیونکہ موت اورزندگی تواللہ تعالی کے اختیارمیں ہے ۔ جب چاہے ماردے اورجب تک چاہے زندہ رکھے۔ (۳)ان آیات کریمہ میں بھی جہاد کی ترغیب وتاکید کا بیان ہے، بنی اسرائیل کا ایک واقعہ ذکر کرکے اس راہ کی مشکلات اور مصائب اور اس کے نتائج پر روشنی ڈالی گئی ہے، اس واقعے کے ذکر کرنے کا مقصد اہل ایمان کو قتال فی سبیل اللہ کے لیے مستعد رکھنا ہے، مسلمان اگر اپنے کھوئے ہوئے وقارکو بحال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں بھی اسی راہ پہ چلنا پڑے گا۔ (۴) بہت سے لوگ جہاد پر گئے زندہ گھروں کو واپس آئے اوربہت سے لوگ گھروں میں بیٹھے بیٹھے مرگئے ، بہت سارے مریض زندہ رہتے ہیں اوربہت سے تندرست لوگ اچانک مرجاتے ہیں ، بوڑھے زندہ گھومتے رہتے ہیں اور نوجوان ناگہانی موت کالقمہ بن جاتے ہیں ۔ (۵)ہمارے ساتھ ایساہی ہوااورہورہاہے،اندلس کے سقوط میں کیاہوا؟دومرتبہ بغدادشریف اجاڑاگیا، سمرقندوبخارااورخوارزم پرقیامت آئی ، دہلی والوں پر آئے دن عذاب ، برمامیں مسلمان بچیوں کوذبح کرکے ان کے گوشت کے کباب بنائے جارہے ہیں ۔ کابل جلتارہااورآج کشمیرمیں ایک سال کے لگ بھگ عرصہ ہونے کوہے کرفیونافذ ہے ، وہاں لوگ شہیدہورہے ہیں مگران کی تدفین تک کی اجازت نہیں ہے ، جو بھی شہید ہوتاہے اس کو گھرمیں ہی دفن کردیاجاتاہے ۔ آج فلسطین میں ہمارے مسلمان بھائی اورہماری بہنیں آئے روز قتل کردی جاتی ہیں ، مگران کاکوئی بھی پرسان حال نہیں ہے ۔شام ویمن میں ہمارے اہل سنت کی ہزارہامساجد اورلاکھوں لاکھ لوگوں کو شہیدکردیاگیا۔اوراسی طرح دیگرمسلمانوں پر ہر طرف سے سیاسی ، معاشی ، اخلاقی اورفوجی حملے ہورہے ہیں، ہم مسلمان خواہ پاکستان کے رہنے والے ہوں آزادی سے سانس لینے پر قدرت نہیں رکھتے ، ہمارے سانس لینے پر بھی پابندی ہے ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh