Fatwa #2200
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۴۸۔ وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہٖٓ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ فِیْہِ سَکِیْنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
8,839
سوال (Question):
تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۴۸۔ وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہٖٓ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ فِیْہِ سَکِیْنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
انبیاء کرام علیہم السلام کے گستاخ دنیابھرمیں ذلیل ورسواہوتے ہیں
{وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہٖٓ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ فِیْہِ سَکِیْنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوْسٰی وَاٰلُ ہٰرُوْنَ تَحْمِلُہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ}(۲۴۸) ترجمہ کنزالایمان :اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں معزز موسیٰ اور معزز ہارون کے ترکہ کی اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے بیشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لئے اگر ایمان رکھتے ہو ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور بنی اسرائیل سے ان کے نبی علیہ السلام نے فرمایا:اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ تابوت آجائے گاجس میں تمہارے رب تعالی کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور معزز موسیٰ علیہ السلام او ر معزز ہارون علیہ السلام کی چھوڑی ہوئی چیزوں کا بقیہ ہے ، فرشتے اسے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ بیشک اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان والے ہو۔تابوت میں تبرکات کی تفصیل
{اِنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہٖ }بیشک اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے)بنی اسرائیل نے چونکہ طالوت کی بادشاہت پر کوئی نشانی مانگی تھی اس پر حکمِ الٰہی سے حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ طالوت کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس تمہارا وہ مشہورو معروف بابرکت تابوت آجائے گاجس سے تمہیں تسکین ملتی تھی اور جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام او رحضرت ہارون علیہ السلام کے تبرکات تھے ۔ یہ تابوت اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا، اس میں تمام انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تصویریں تھیں ،ان کے مکانات کی تصویریں تھیں اور آخر میں حضور سیدالانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َکی اور حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے مقدس گھر کی تصویر ایک سرخ یاقوت میں تھی جس میں آپ ﷺنماز کی حالت میں قیام میں ہیں اور آپ ﷺکے ارد گرد آپﷺ کے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم موجود ہیں۔ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان تمام تصویروں کو دیکھا ،یہ صندوق نسل در نسل منتقل ہوتا ہوا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک پہنچا، آپ اس میں توریت بھی رکھتے تھے اور اپنا مخصوص سامان بھی ،چنانچہ اس تابوت میں توریت کی تختیوں کے ٹکڑے بھی تھے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عصا اور آپ کے کپڑے اور آپ کی نعلین شریفین اور حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عمامہ اور ان کی عصا اور تھوڑا سا مَن و سلوی جو بنی اسرائیل پر نازل ہوتا تھا ۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جنگ کے مواقع پر اس صندوق کو آگے رکھتے تھے، اس سے بنی اسرائیل کے دلوں کو تسکین رہتی تھی۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد یہ تابوت بنی اسرائیل میں چلتاآیا ، جب انہیں کوئی مشکل درپیش ہوتی وہ اس تابوت کو سامنے رکھ کردعا ئیں کرتے اور کامیاب ہوتے ،دشمنوں کے مقابلہ میں اس کی برکت سے فتح پاتے ۔ جب بنی اسرائیل کی حالت خراب ہوئی اور ان کی بدعملی بہت بڑھ گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عمالقہ کو مسلط کیا تو وہ ان سے تابوت چھین کر لے گئے اور اس کو نجس اور گندے مقامات میں رکھا اور اس کی بے حرمتی کی اور ان گستاخیوں کی وجہ سے عمالقہ کے لوگ طرح طرح کے امراض و مصائب میں مبتلا ہوگئے ،ان کی پانچ بستیاں ہلاک ہوگئیں اور انہیں یقین ہوگیا کہ تابوت کی توہین و بے ادبی ہی ان کی بربادی کا باعث ہے چنانچہ انہوں نے تابوت ایک بیل گاڑی پر رکھ کر بیلوں کو چھوڑ دیا اور فرشتے اسے بنی اسرائیل کے سامنے طالوت کے پاس لائے اور چونکہ اس تابوت کا آنا بنی اسرائیل کے لیے طالوت کی بادشاہی کی نشانی قرار دیا گیا تھا لہٰذا بنی اسرائیل نے یہ دیکھ کرطالوت کی بادشاہی کو تسلیم کرلیا اور بلا تاخیر جہاد کے لیے آمادہ ہوگئے کیونکہ تابوت کے آنے سے انہیں اپنی فتح کا یقین ہوگیا۔ طالوت نے بنی اسرائیل میں سے ستر ہزارجوان منتخب کیے جن میں حضرت داود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی تھے۔ (تفسیرصراط الجنان از مفتی محمدقاسم قادری( ۱: ۳۷۳)تابوت کے سلب ہونے کاسبب
إِتْیَانُ التَّابُوتِ،وَالتَّابُوتُ کَانَ مِنْ شَأْنِہِ فِیمَا ذُکِرَ أَنَّہُ أَنْزَلَہُ اللَّہُ عَلَی آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَکَانَ عِنْدَہُ إِلَی أَنْ وَصَلَ إِلَی یَعْقُوبَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَکَانَ فِی بَنِی إِسْرَائِیلَ یَغْلِبُونَ بِہِ مَنْ قَاتَلَہُمْ حَتَّی عَصَوْا فَغُلِبُوا عَلَی التَّابُوتِ غَلَبَہُمْ عَلَیْہِ الْعَمَالِقَۃُ: جَالُوتُ وَأَصْحَابُہُ فِی قَوْلِ السُّدِّیِّ، وَسَلَبُوا التَّابُوتَ مِنْہُمْ. قُلْتُ: وَہَذَا أَدَلُّ دَلِیلٍ عَلَی أَنَّ الْعِصْیَانَ سَبَبُ الْخِذْلَانِ، وَہَذَا بَیِّنٌ۔ ترجمہ :یعنی اتیان التابوت کامعنی یہ ہے کہ تابوت کاآناطالوت کی بادشاہی کی نشانی ہے ۔ اورتابوت یعنی صندوق کے بارے میں جوکچھ بیان کیاگیاہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اسے حضرت سیدناآدم علیہ السلام پرنازل فرمایااوروہ آپ علیہ السلام کے پاس رہا، یہاں تک کہ وہ وراثۃ ً چلتے چلتے حضرت سیدنایعقوب علیہ السلام کے پاس پہنچ گیا، بنی اسرائیل اس کی برکت سے کفارپرغالب آتے تھے ، جو بھی کافران کے ساتھ جنگ کرتاحتی کہ بنی اسرائیل نافرمان ہوگئے توان سے تابوت چھین لیاگیااورقوم عمالقہ نے ان سے چھیناتھا۔ امام السدی رحمہ اللہ تعالی کے قول کے مطابق وہ جالوت اوراس کے ساتھی تھے انہوںنے ان سے تابوت چھین لیاتھا، میں کہتاہوں کہ یہ اس پر سب سے بڑی دلیل ہے کہ نافرمانی یعنی گناہوں کی کثرت ذلت ورسوائی کاسبب ہے اوریہ بالکل بین اورواضح بات ہے۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۳:۲۴۷)بنی اسرائیل جب گستاخ بنے توذلیل ہوگئے
قَالَ النَّحَّاسُ:وَالْآیَۃُ فِی التَّابُوتِ عَلَی مَا رُوِیَ أَنَّہُ کَانَ یُسْمَعُ فِیہِ أَنِینٌ، فَإِذَا سَمِعُوا ذَلِکَ سَارُوا لِحَرْبِہِمْ،وَإِذَا ہَدَأَ الْأَنِینُ لَمْ یَسِیرُوا وَلَمْ یَسِرِ التَّابُوتُ وَقِیلَ:کَانُوا یَضَعُونَہُ فِی مَأْزِقِ الْحَرْبِ فَلَا تَزَالُ تَغْلِبُ حَتَّی عَصَوْا فَغُلِبُوا وَأُخِذَ مِنْہُمُ التَّابُوتُ وَذَلَّ أَمْرُہُمْ، فَلَمَّا رَأَوْا آیَۃَ الِاصْطِلَامِ وَذَہَابِ الذِّکْرِ، أَنِفَ بَعْضُہُمْ وَتَکَلَّمُوا فِی أَمْرِہِمْ حَتَّی اجْتَمَعَ مَلَؤُہُمْ أَنْ قَالُوا لِنَبِیِّ الْوَقْتِ:ابْعَثْ لَنَا مَلِکًا، فَلَمَّا قَالَ لَہُمْ: مَلِکُکُمْ طَالُوتُ رَاجَعُوہُ فِیہِ کَمَا أَخْبَرَ اللَّہُ عَنْہُمْ، فَلَمَّا قَطَعَہُمْ بِالْحُجَّۃِ سَأَلُوہُ الْبَیِّنَۃَ عَلَی ذَلِکَ۔ ترجمہ :الامام النحاس رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ تابوت میں نشانی اس طورپرتھی کہ یہ مروی ہے کہ اس میں سے رونے کی آواز سنائی دیتی تھی ، پس جب وہ اسے سنتے توجنگ کے لئے روانہ ہوجاتے تھے اورجب یہ آواز پرسکون ہوجاتی تو نہ وہ چلتے اورنہ ہی وہ تابوت چلتا۔ اوریہ قول بھی ہے کہ اسے میدان جنگ میں رکھتے تھے اوروہ مسلسل غالب آتے رہے ، یہاں تک کہ وہ نافرمان اورگستاخ بن گئے تووہ مغلوب ہوگئے اوران سے تابوت لے لیاگیااوروہ ذلیل ورسواہوگئے ۔ پس جب انہوںنے ہلاکت اوراپناذکرختم ہونے کی علامت دیکھی تو ان میں سے بعض نے اسے ناپسندکیااوروہ اپنے معاملات میں مشاورت کرنے لگے یہاںتک کہ ان کی جماعت اس پر جمع ہوگئی کہ وہ اپنے وقت کے نبی علیہ السلام کو عرض کریں کہ ہمارے لئے کوئی امیرمقررکردیں ، پھرجب نبی علیہ السلام نے انہیں یہ بتایاکہ تمھارابادشاہ طالوت ہے توانہوں نے انکارکردیاجیساکہ اللہ تعالی نے ان کے بارے میں خبردی ہے ، پس جب انہیں دلیل کے ساتھ خاموش کرادیاگیاتوانہوںنے اس پر دلیل طلب کی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۳:۲۴۷)نافرمانی کی وجہ سے برکت سلب کرلی جاتی ہے
فَلَمَّا عَصَوْا وَفَسَدُوا سَلَّطَ اللَّہُ عَلَیْہِمُ الْعَمَالِقَۃَ فَغَلَبُوہُمْ عَلَی التَّابُوتِ وَسَلَبُوہُ،فَلَمَّا سَأَلُوا نَبِیَّہُمُ الْبَیِّنَۃَ عَلَی مُلْکِ طَالُوتَ، قَالَ ذَلِکَ النَّبِیُّ:إِنَّ آیَۃَ مُلْکِہِ أَنَّکُمْ تَجِدُونَ التَّابُوتَ فِی دَارِہِ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل نے اپنے نبی علیہ السلام کی نافرمانی کی تو اللہ تعالی نے ان پرعمالقہ کو مسلط فرمادیااوروہ ان پر غالب آگئے اوران سے تابوت چھین لیا، جب طالوت کو امیرمقررکیاگیاتوانہوںنے اپنے نبی علیہ السلام سے دلیل طلب کی توآپ علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعاکی اورفرمایاکہ اس کی نشانی یہ ہے کہ وہ تابوت تمھیں ان کے گھرمیں پڑاہواملے گا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۶:۵۰۶)تابوت کی گستاخی کرنے والوں پر رب تعالی کاعذاب
وَقِیلَ:جَعَلُوہُ فِی مَخْرَأَۃِ قَوْمٍ فَکَانُوا یُصِیبُہُمُ الْبَاسُورُ فَلَمَّا عَظُمَ بَلَاؤُہُمْ کَیْفَمَا کَانَ، قَالُوا:مَا ہَذَا إِلَّا لِہَذَا التَّابُوتِ!فَلْنَرُدَّہُ إِلَی بَنِی إِسْرَائِیلَ فَوَضَعُوہُ عَلَی عَجَلَۃٍ بَیْنَ ثَوْرَیْنِ وَأَرْسَلُوہُمَا فِی الْأَرْضِ نَحْوَ بِلَادِ بَنِی إِسْرَائِیلَ،وَبَعَثَ اللَّہُ مَلَائِکَۃً تَسُوقُ الْبَقَرَتَیْنِ حَتَّی دخلنا عَلَی بَنِی إِسْرَائِیلَ،وَہُمْ فِی أَمْرِ طَالُوتَ فَأَیْقَنُوا بِالنَّصْرِ۔ ترجمہ :امام ابوحفص سراج الدین عمربن علی بن عادل الحنبلی المتوفی : ۷۷۵ھ) رحمہ اللہ تعالی نقل فرماتے ہیں کہ اورتابوت لے جانے والی قوم نے تابوت کو پاخانہ کرنے کی جگہ رکھ کر اس کی گستاخی کی تووہ سب کے سب بواسیرکی بیماری میں مبتلاہوگئے ، جب ان کی تکلیف بہت زیادہ بڑھ گئی جس حالت میں وہ تھی توانہوں نے کہاکہ یہ تکلیف صرف اورصرف اسی تابوت کی گستاخی کی وجہ سے ہے ۔ پس ہمیں چاہئے کہ ہم اسے بنی اسرائیل کی طرف واپس لوٹادیں ، چنانچہ انہوںنے اسے دوبیلوں کے درمیان ایک ریڑھے پر رکھا، اسے بنی اسرائیل کے شہروں کی طرف بھیج دیا، اللہ تعالی نے فرشتے بھیجے وہ بیلوں کو ہانکتے رہے ، یہاں تک کہ وہ دونوں بیل بنی اسرائیل میں داخل ہوگئے ، یہ لوگ طالوت کی حکمرانی میں تھے توانہیں مددونصرت کایقین ہوگیا۔ اس روایت میں یہی ملائکہ کرام کااٹھاناہے ۔ (اللباب فی علوم الکتاب:أبو حفص سراج الدین عمر الحنبلی الدمشقی النعمانی (۴:۲۷۵)انبیاء کرام علیہم السلام کی گستاخ قومیں حادثات کاشکارہی رہتی ہیں
فلما ذہب العمالقۃ بالتابوت وضعوہ فی بیت الأصنام تحت صنم لہم أعظم فاصبح الصنم ملقی تحت التابوت وأصبحت الأصنام منکسرۃ فوضعوہ فی ناحیۃ فہلک اکثر اہل الناحیۃ فاخرجوہ الی قریۃ اخری فبعث اللہ علی اہل تلک القریۃ فادّا یبیت الرجل فیصبح وقد أکل الفارۃ ما فی جوفہ- فقالت امراۃ من سبی بنی إسرائیل لا تزالون ترون ما تکرہون مادام ہذا التابوت فیکم فاخرجوہ عنکم فاتوا بعجلہ وحملوہ علیہ ثم علقوہا علی ثورین وضربوا جنوبہما فوکل اللہ اربعۃ من الملائکۃ یسوقونہا فجاء وا بہ الی بنی إسرائیل۔ ترجمہ :حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب عمالقہ تابوت کو لے گئے توانہوںنے اسے اپنے بت خانے میں ایک بڑے بت کے نیچے رکھ دیا، پھراللہ تعالی کی قدرت سے وہ بت توتابوت کے نیچے ہوگیااورتابوت اس کے اوپرہوگیااورباقی سب بت ٹوٹ گئے ۔ پھرانہوں نے اس کو ایک اورمکان میں رکھاتواس گھرکے اکثرآدمی مرگئے ، پھرانہوںنے ایک اورگائوں میں بھیج دیاتواس گائوں والوں میں اللہ تعالی نے ایک قسم کا چوہاپیدافرمادیاکہ آدمی رات کے وقت اچھاخاصاسوتاتھااورصبح کواٹھتاتوا س کے پیٹ کی تمام آلائشیں وہ چوہاکھاجاتاتھا۔ تب بنی اسرائیل کے قیدیوں میں سے ایک عورت نے کہاکہ یہ تابوت جب تک تمھارے ہاں رہے گاتمھیں اس قسم کے حادثے پیش آتے رہیں گے لھذااسے تم اپنے سے کہیں دورچھوڑ آئو۔ اس کے کہنے سے وہ ایک بچھڑالائے اور۔الی آخرہ۔ (التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۱:۳۴۹)معارف ومسائل
(۱) بزرگوں کے تبرکات کا اعزاز و احترام لازم ہے، ان کی برکت سے دعائیں قبول ہوتی ہیں اور حاجتیں پوری ہوتی ہیں۔تبرکات کی تعظیم گزشتہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے چلتی آرہی ہے۔سورہ یوسف میں بھی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے کُرتے کی برکت سے حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آنکھوں کی روشنی درست ہونے کا واقعہ مذکور ہے۔ تبرکات کی بے ادبی و گستاخی گمراہ لوگوں کا طریقہ ہے اور بربادی کا سبب ہے۔جب تبرکات کی گستاخی گمراہی اور تباہی ہے تو جن ہستیوں کے تبرکات ہوں ان کی بے ادبی اور گستاخی کس قدر سنگین اور خطرناک ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے پیاروں سے نسبت رکھنے والی ہر چیز بابرکت ہوتی ہے جیسے تابوت میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے نعلین شریفین یعنی پائوں میں پہننے کے جوڑے بھی برکت کا ذریعہ تھے۔ یاد رہے کہ مذکورہ بالا تابوت میں انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جو تصویریں تھیں وہ کسی آدمی کی بنائی ہوئی نہ تھیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی تھیں۔تفسیرصراط الجنان(۱:۳۷۴)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9