صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2203 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۵۶ ۔ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ فمَنْ یَّکْفُرْ بِالطّٰغُوْتِ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,157

سوال (Question):

تفسیر سورہ بقرہ آیت ۲۵۶ ۔ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ فمَنْ یَّکْفُرْ بِالطّٰغُوْتِ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

دین میں جبرنہیں کاکیامطلب ہے ؟

{لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ فمَنْ یَّکْفُرْ بِالطّٰغُوْتِ وَیُؤْمِنْ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی لَا انْفِصَامَ لَہَا وَاللہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ}(۲۵۶) ترجمہ کنزالایمان :کچھ زبردستی نہیں دین میں بے شک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے بڑی محکم گرہ تھامی جسے کبھی کھلنا نہیں اور اللہ سنتا جانتا ہے ۔ ترجمہ ضیاء الایمان : دین میں کوئی جبر نہیں ،بیشک ہدایت کاراستہ گمراہی سے خوب جدا ہوگیاہے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے بڑا مضبوط سہارا تھام لیا جس سہارے کو کبھی کھلنا نہیں اوراللہ تعالی سننے والا، جاننے والاہے۔ شان نزول عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ:کَانَتِ الْمَرْأَۃُ تَکُونُ مِقْلَاتًا، فَتَجْعَلُ عَلَی نَفْسِہَا إِنْ عَاشَ لَہَا وَلَدٌ أَنْ تُہَوِّدَہُ، فَلَمَّا أُجْلِیَتْ بَنُو النَّضِیرِ،کَانَ فِیہِمْ مِنْ أَبْنَاء ِ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا:لَا نَدَعُ أَبْنَاء َنَا!فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ:(لَا إِکْرَاہَ فِی الدِّینِ قَدْ تَبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ)(البقرۃ:۲۵۶)قَالَ أبو دَاود:الْمِقْلَاتُ:الَّتِی لَا یَعِیشُ لَہَا وَلَدٌ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناسعید بن جبیررضی اللہ عنہ حضرت سیدناعبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ جب کوئی عورت ایسی ہوتی کہ اس کے بچے زندہ نہ رہتے تو وہ نذر مان لیا کرتی تھی کہ اگر اس کا بچہ زندہ رہا تو وہ اسے یہودی بنا ڈالے گی ۔ سو جب بنو نضیر کو مدینے سے جلا وطن کیا گیا تو ان میں انصاریوں کے لڑکے بھی تھے ۔ (جو اس قسم کی نذر کے تحت یہودی بنائے گئے تھے ) انہوں نے کہا :ہم اپنے بچوں کو نہیں چھوڑیں گے (ان کے ساتھ نہیں جانے دیں گے )تو اﷲتعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی{ لا إکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی} دین میں کوئی جبر و اکراہ نہیں ۔ ہدایت گمراہی کے مقابلے میں واضح اور نمایاں ہو چکی ہے ۔حضرت سیدنا امام ابوداؤد رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں( المقلاۃ )وہ عورت ہوتی ہے جس کے بچے زندہ نہ رہتے ہوں ۔ (سنن أبی داود:أبو داود سلیمان بن الأشعث ا لأزدی السَِّجِسْتانی (۳:۵۸) دوسراقول قَالَ السُّدِّیُّ:نَزَلَتِ الْآیَۃُ فِی رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِیُقَالُ لَہُ أَبُو حُصَیْنٍ کَانَ لَہُ ابْنَانِ،فَقَدِمَ تُجَّارٌ مِنَ الشَّامِ إِلَی الْمَدِینَۃِ یَحْمِلُونَ الزَّیْتَ،فَلَمَّا أَرَادُوا الْخُرُوجَ أَتَاہُمُ ابْنَا الْحُصَیْنِ فَدَعَوْہُمَا إِلَی النَّصْرَانِیَّۃِ فَتَنَصَّرَا وَمَضَیَا مَعَہُمْ إِلَی الشَّامِ، فَأَتَی أَبُوہُمَا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُشْتَکِیًا أَمْرَہُمَا،وَرَغِبَ فِی أَنْ یَبْعَثَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ یَرُدُّہُمَا فَنَزَلَتْ{لا إِکْراہَ فِی الدِّینِ}وَلَمْ یُؤْمَرْ یَوْمَئِذٍ بِقِتَالِ أَہْلِ الْکِتَابِ، وَقَالَ:أَبْعَدَہُمَا اللَّہُ ہُمَا أَوَّلُ مَنْ کَفَرَ۔ ترجمہ :امام السدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ انصار میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی ، اسے ا بوحصین کہاجاتاتھا، اس کے دوبیٹے تھے ، شام سے کچھ تاجرزیتون کاتیل لے کرمدینہ طیبہ آئے ، جب انہوںنے وہاں سے جانے کاارادہ کیاتواس ابوحصین کے دونوں بیٹے ان کے پاس آئے اورانہوںنے ان کو نصرانیت کی دعوت دی سووہ دونوں عیسائی ہوگئے اوران کے ساتھ شام چلے گئے توان کاباپ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی خدمت میں ان دونوں کے معاملے کی شکایت لے کر آیا۔ اس نے یہ خواہش کی کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکوئی ایساآدمی بھیج دیں جو ان کو واپس لے آئے۔ پس یہ آیت کریمہ نازل ہوئی{لا إِکْراہَ فِی الدِّینِ}اوراس وقت اہل کتاب کے ساتھ جہاد کرنے کاحکم نہیں دیاگیاتھا۔ آپ ﷺنے فرمایاکہ اللہ تعالی نے ان دونوں کو دورکردیاہے وہ وونوں کفرکرنے والوں میں اول ہیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۳:۲۷۹) مفسرین کرام کے اقوال اخْتَلَفَ الْعُلَمَاء ُ فِی (مَعْنَی ہَذِہِ الْآیَۃِ عَلَی سِتَّۃِ أَقْوَالٍ:(الْأَوَّلُ)قِیلَ إِنَّہَا مَنْسُوخَۃٌ، لِأَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَکْرَہَ الْعَرَبَ عَلَی دِینِ الْإِسْلَامِ وَقَاتَلَہُمْ وَلَمْ یَرْضَ مِنْہُمْ إِلَّا بِالْإِسْلَامِ، قَالَہُ سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی، قَالَ:نَسَخَتْہَایَا أَیُّہَا النَّبِیُّ جاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنافِقِینَ وَرُوِیَ ہَذَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَکَثِیرٍ مِنَ الْمُفَسِّرِینَ(الثَّانِی)لَیْسَتْ بِمَنْسُوخَۃٍ وَإِنَّمَا نَزَلَتْ فِی أَہْلِ الْکِتَابِ خَاصَّۃً، وَأَنَّہُمْ لَا یُکْرَہُونَ عَلَی الْإِسْلَامِ إِذَا أَدَّوُا الْجِزْیَۃَ،وَالَّذِینَ یُکْرَہُونَ أَہْلُ الْأَوْثَانِ فَلَا یُقْبَلُ مِنْہُمْ إِلَّا الْإِسْلَامُ فَہُمُ الَّذِینَ نَزَلَ فِیہِمْ یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ جاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنافِقِینَ ہَذَا قَوْلُ الشَّعْبِیِّ وَقَتَادَۃَ وَالْحَسَنِ وَالضَّحَّاکِ وَالْحُجَّۃُ لِہَذَا الْقَوْلِ مَا رَوَاہُ زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ:سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُولُ لِعَجُوزٍ نَصْرَانِیَّۃٍ:أَسْلِمِی أَیَّتُہَا الْعَجُوزُ تَسْلَمِی، إِنَّ اللَّہَ بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ قَالَتْ: أَنَا عَجُوزٌ کَبِیرَۃٌ وَالْمَوْتُ إِلَیَّ قَرِیبٌ! فَقَالَ عُمَرُ: اللَّہُمَّ اشْہَدْ، وَتَلَالَا إِکْراہَ فِی الدِّینِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اوربہت سے مفسرین کرام سمیت حضرت سیدناسلیمان بن موسی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ منسوخ ہے کیونکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے عربوں کو دین اسلام قبول کرنے پر مجبورکیااوران سے جہاد کیا۔ اورآپ ﷺان سے اسلام کے بغیرکسی بات پر راضی نہ ہوئے۔ اس آیت کریمہ کو اللہ تعالی کے ارشاد {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ جاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنافِقِینَ }(اے حبیب کریم ﷺ! آ پ کافروں اورمنافقوں کے ساتھ جہاد کیجئے )نے منسوخ فرمایا۔ حضرت سیدناالشعبی ، قتادہ حسن اورالضحاک علیہم الرحمہ کاقول ہے کہ یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں ہے ۔ بلاشبہ یہ آیت صرف اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی کہ انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبورنہیں کیاجائے گاکہ جب وہ جزیہ اداکریں ۔ اوروہ لوگ جن پر زبردستی کی جائے گی وہ بت پرست ہیں سوان سے اسلام کے سواکوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی ۔ اورانہیں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ جاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنافِقِینَ }(اے حبیب کریم ﷺ! آپ کافروں اورمنافقوں کے ساتھ جہاد کیجئے ) ان کی دلیل وہ روایت ہے کہ جو حضرت سیدنازید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ ایک بوڑھی نصرانی عورت کوفرمارہے تھے کہ اے بڑھیا! تواسلام قبول کرلے تومحفوظ ہوجائے گی ۔ بلاشبہ اللہ تعالی نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ وہ بڑھیاکہنے لگی کہ میں انتہائی بوڑھی عورت ہوں اورموت میرے بہت قریب ہے ۔ توحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ ! گواہ رہنا! پھریہ آیت کریمہ تلاوت کی :{ لَا إِکْراہَ فِی الدِّینِ}۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۳:۲۷۹) ایک معنی یہ بھی ہے وَقِیلَ:مَعْنَاہَا لَا تَقُولُوا لِمَنْ أَسْلَمَ تَحْتَ السَّیْفِ مُجْبَرًا مُکْرَہًا۔ ترجمہ :ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی :۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس کامعنی یہ ہے کہ جو تلوارکے خوف سے اسلام لائے تواس کو مجبراورمکرہ نہ کہو۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۳:۲۷۹) امام الرازی رحمہ اللہ تعالی کاقول لَا تَقُولُوا لِمَنْ دَخَلَ فِی الدِّینِ بَعْدَ الْحَرْبِ إِنَّہُ دَخَلَ مُکْرَہًا،لِأَنَّہُ إِذَا رَضِیَ بَعْدَ الْحَرْبِ وَصَحَّ إِسْلَامُہُ فَلَیْسَ بِمُکْرَہٍ،وَمَعْنَاہُ لَا تَنْسِبُوہُمْ إِلَی الْإِکْرَاہِ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حرب وجنگ کے بعد جو شخص دین میں داخل ہواسے یہ نہ کہوکہ یہ شخص مجبوراً دین میں داخل ہواہے ۔ کیونکہ جب حرب کے بعد اس کی رضاپائی جارہی ہے تواس کااسلام درست ہوگااوروہ مکرہ ومجبرقرارنہیں پائے گا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۷:۱۵)

لبرل کے اعتراض کاجواب

لبرل اعتراض کرتے ہیں کہ جب دین میں جبرنہیں ہے تومسلمانوں نے جہاد کیوں کئے؟اس کے جواب میں مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ دنیامیں امن قائم کرنے اورکفرکازورمٹانے اوراسلامی آزادی کے لئے تاکہ نیک لوگوں کو اللہ اللہ کرنے میں رکاوٹ نہ ہو۔ جہاد سے مقصود یہ نہیں ہے کہ جبراًکافروں کو مسلمان کیاجائے ۔ (تفسیرنعیمی از مفتی احمدیارخان نعیمی ( ۲: ۴۷)

لبرل کاایک اوراعتراض اوراس کاجواب

اسی طرح ملحدین کی طرف سے ایک اورسوال یہ بھی کیاجاتاہے کہ جب دوسرے مذاہب کے پیروکار اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر مسلمان ہوسکتے ہیں۔ تو ایک مسلمان اپنا مذہب تبدیل کیوں نہیں کرسکتا؟ عام طورپر ارباب الحاد وکفر اس سوال کو اس رنگ آمیزی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک سیدھا سادہ مسلمان نہ صرف اس سے متاثر ہوتاہے بلکہ سزائے ارتداد کو نعوذباللہ غیر معقول اور آزادی مذہب کے خلاف سمجھنے لگتاہے اس لیے اس مغالطے کوبھی صاف کرنا ضروری ہے۔ اگر دنیائے یہودیت وعیسائیت اپنے مذہب کے معاملہ میں تنگ نظر نہ ہوتی توآج دنیا بھر کے مسلمان ان کے ظلم وتشدد کا نشانہ کیوں ہوتے؟ اس سے ذرا آگے آئیے،بنی اسرائیل کے انبیاء کرام علیہم السلام کا قتل ناحق ان کی اسی تنگ نظری کا اور تشدد پسندی کامنہ بولتاثبوت ہے کہ ان انبیاء کرام علیہم السلام نے پہلے شریعت کے نسخ اورنئی شریعت کی دعوت دی توان کاپاکیزہ اورمقدس لہو بہایاگیا۔ اس کے علاوہ ہمیں بتائیں کہ ان کاکیا جرم تھا؟ جس جرم کی پاداش میں حضرت سیدنایحیٰ علیہ السلام اورحضرت سیدنا زکریا علیہ السلام کوشہید کردیاگیااور حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کوقتل اور ان کے سولی پرچڑھائے جانے کے کیوں منصوبے بنائے گئے۔ اس لیے مسلمانوں کوتنگ نظر کہنے والے پہلے ذرا اپنے دامن کو صاف کریں اورپھر مسلمانوں سے بات کریں۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ ہدایت کا سلسلہ انبیاء کرام علیہم السلام سے شروع ہوا کہ اس کی ابتداء حضرت سیدنا آدم علیہ السلام سے ہوئی اورانتہاء حضورتاجدارختم نبوتﷺ پرہوئی۔ اب سوال یہ ہے کہ ان تمام انبیاء ورسل علیہم السلام کی شریعتیں ابدی تھیں یاوقتی۔ اگر ابدی تھیں تو پھر یہودیت اورعیسائیت کیسے وجود میں آئیں؟اس سے پہلے تو حضرت سیدناآدم علیہ السلام اور باقی انبیاء ورسل علیہم السلام تھے معلوم ہواکہ ہربعد میں آنے والے نبی ورسول کی شریعت نے پہلے رسول کی شریعت کومنسوخ کردیا، یہ سلسلہ چلتا رہا تاآنکہ تمام شریعتیں منسوخ ہو گئیں جن کی ناسخ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی شریعت ہے اب قیامت تک اورکوئی نبی اور رسول پیدا نہیں ہوگا اوریہ شریعت باقی رہے گی۔ تواب اس کو اس مثال سے سمجھنا آسان ہوگا جس طرح حکومت کے قوانین میں کچھ قوانین پہلے کے ہوتے ہیں کچھ بعد کے۔ پہلے والے ترمیم شدہ (یعنی منسوخ)اور بعدوالے جدید(یعنی ناسخ)اسی طرح پہلی شریعتیں منسوخ ہیں۔ شریعت محمدی ﷺناسخ ہے اب اگر کوئی حکومت کے جدید قانون کی مخالفت کرے تواسے سزادی جاتی ہے۔ اوراگر کوئی ترمیم شدہ کی مخالفت کر ے تو اسے سزانہیں دی جاتی۔ اب اگر کوئی اعتراض کرے کہ اس کی سزا کیوں نہیں تو اس کاسوال فضول سمجھاجاتاہے۔ اسی طرح شریعت محمدیﷺ کی مخالفت پر سزا ہے کیونکہ یہ ناسخ ہے اورباقی مذاہب کی مخالفت پرسزا نہیں کیونکہ وہ منسوخ ہیں، اب اگرکوئی اس پر سوال کرے تواس سوال کوبھی ایسے ہی فضول اور لغو سمجھاجائیگا جیسے حکومت کے ترمیم شدہ قانون کی مخالفت پرسزا نہ ہونے والے سوال کو فضول اورلغو سمجھاجاتاہے۔

کیااسلام تلوار سے پھیلاہے یااخلاق سے ؟

یہ نظریہ لوگوں میں پھیلاکر لوگوں کو دین اسلام کے بہت سے احکامات کامنکربنادیاگیاہے ۔ آج یہی وجہ ہے کہ لوگ اسلام کی کوہان جہاد کو غیراسلامی فعل جاننے لگے ہیں اورمجاہدین اسلام کو دہشت گردجانتے ہیں اورجو بھی شخص یہاں جہاد اسلامی کانام لے اس کو پکڑکرخود امریکہ کے حوالے کردیتے ہیں۔ یہی ان کافروں کی سازش تھی کہ مسلمان ہی اپنے دین کو لادینیت جانناشروع کردیں توپھران کو فتح حاصل ہو، آج وہ کافراپنے اس غلیظ مشن میں کامیاب ہے ۔ آج جتنے بھی انگریزی فیکٹریوں کے پرزے تیارہوئے ہیں ان میں اکثریتی تعدا د اسلام دشمن ہے اورجہاد اسلامی کی دشمن ہے ۔ اب ہم ان کے اس غلیظ نظریے کے پیچھے چھپی منافقت طشت از بام کرتے ہیں ۔ بے شک اسلام اخلاق سے پھیلا ہے لیکن یہ دعویٰ غلط ہے کہ تلوار اخلاق کی ضد ہے۔ یہ شبہ اس وقت پیدا ہوا جب حضرات علمائے کرام سے پوچھا گیا کہ اسلام کی اشاعت کس طرح ہوئی۔ انہوں نے ایک جامع لفظ اخلاق کو استعمال فرمایا اور جواب دیا کہ اسلام اخلاق سے پھیلا ہے۔ لیکن علماء کرام کے اس قول سے یہ ثابت کرنا کہ اسلام کی اشاعت میں تلوار کا کوئی دخل نہیں ہے بلکہ تلوار تو اخلاق کی ضد ہے۔ دین کو بگاڑنے اور مسلمانوں کو نہتا کرکے اپنے دشمن کے لیے ترنوالہ بنانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ اس مسئلے پر مفصل بحث کرنے سے قبل ایک بات کا ذکر ضروری محسوس ہوتا ہے کہ آخر اس سوال کی کیا ضرورت پیش آئی کہ اسلام اخلاق سے پھیلا ہے یا تلوار سے؟ اور ایک خاص دور میں خاص لوگوں کی طرف سے یہ سوال کیوں اس شد و مد کے ساتھ اٹھایا گیا؟ اصل بات یہ تھی کہ مسلمانوں کی بہادری، جوانمردی، تلوار بازی اور شوق شہادت کے سامنے پوری دنیا کا کفر بے بس ہو چکا تھا اور حالت یہ تھی کہ کافر کے لیے اسلام، موت یا غلامی کے علاوہ چوتھا اورکوئی راستہ باقی نہیں تھا۔ اطراف عالم میں مسلمان فاتحین پہنچ چکے تھے اور لاکھوں انسان جوق درجوق اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ علاقوں کے علاقے ان کے سامنے سرنگوں ہو رہے تھے۔ ایسے وقت میں مسلمانوں کے دشمن منافقین اور یہودیوں نے یہی سوچا کہ مسلمانوں کو میدان میں شکست دینا اور طاقت کے زور پر ان کی یلغارکو روکنا بالکل ناممکن ہے۔ اب کسی طرح سے اس بہادر قوم کو بزدل بنایا جائے۔ تیر و تلوار کے ان شیدائیوں کو اسلحے سے متنفر کیا جائے، عیش و عشرت کی زندگی کو شہادت کی موت کے بھلانے کا ذریعہ بنایا جائے۔ چنانچہ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کیا کہ اسلام تو طاقت کے بل بوتے پر دنیا میں مسلط ہوا ہے۔ اس نے تلوار کی نوک گلے پر رکھ کر لوگوں کو کلمہ پڑھایا ہے۔ اس نے جبر و استبداد اور استحصال کے ذریعے ملکوں پر حکمرانی حاصل کی ہے۔ کافروں کے اس خطرناک اورزہریلے پروپیگنڈے کے جواب میں وقت کے علماء نے ان قرآنی احکامات کی وضاحت فرمائی کہ اسلام کسی کو زبردستی مسلمان ہونے کا حکم نہیں دیتا، اسلام کا نظام، نظام جبر نہیں بلکہ نظام اخلاق ہے۔ علماء کرام کی یہ تصریح بالکل درست تھی کہ دین اسلام کے قبول کرنے کے سلسلے میں ہمارے مذہب میں کوئی جبرواکراہ نہیں ہے بلکہ جس کا دل چاہے مسلمان ہو جائے اور جس کا دل چاہے وہ جزیہ دے کر مسلمانوں کی غلامی میں رہے اور مسلمان اس کی جان و مال کا دفاع کریں گے اور اسلام کا نظام، نظام اخلاق ہے کہ اس میں ہر معاملے میں اخلاق کو مدنظر رکھا جاتا ہے (اخلاق کی تشریح آگے آرہی ہے)مگر سازشیوں نے علمائے کرام کی اس تصریح کا غلط مفہوم دنیا کو سمجھایا اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ علماء نے فیصلہ سنا دیا ہے کہ اسلام اخلاق سے پھیلا ہے۔ اس میں تلوار کی نہ کوئی گنجائش ہے اور نہ کوئی دخل۔ چنانچہ اس بات کو اتنے زور و شور سے بیان کیا گیا کہ مسلمان واقعی تلوار اور اخلاق کو دو متضاد چیزیں تصور کرنے لگے۔ انہوں نے سمجھا کہ ہمارے مذہب میں اسلحہ تو ایک جرم ہے۔ ہمارامذہب اخلاق کا درس دیتا ہے اوراخلاق کا تقاضہ یہ ہے کہ کچھ بھی ہو جائے، وطن چھن جائے، غلامی کرنی پڑے، جان دینی پڑے، عزت کو برباد کرنا پڑے،دین ہاتھ سے چلاجائے مگر اسلحے کو ہاتھ نہیں لگانا۔ چنانچہ کافروں کے اس پروپیگنڈے کی بناء پر آج کا مسلمان اسلحے کے زیور سے محروم ہو چکا ہے۔ آج کے معاشرے میں علماء ، مشائخ اور دیندار طبقے کے لیے اسلحہ رکھنا اور اسے سیکھنا کسی فحش گناہ کی طرح معیوب بن گیا ہے۔ تیر اندازی کی وہ محفلیں جو دور نبوتﷺ میں سجا کرتی تھی ویران ہو چکی ہیں۔ تلوار بازی کی بناء پر بارگاہ نبوت ﷺسے جو اعزازی کلمات ملتے تھے آج کا مسلمان ان سے محروم ہو چکا ہے۔ چنانچہ مسلمان تو اسلحے سے دور ہو کر فاختہ کی طرح امن پسند، کمزور اور نہتا ہو چکا جب کہ اسے اسلحے کے خلاف اکسانے والی قوموں نے اسے تباہ کرنے اور حرف غلط کی طرح مٹانے کے لیے ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم تیار کر لیے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے جس خطے کو یا جس فرد کو چاہتے ہیں منٹوں میں مٹا دیتے ہیں۔ انہیں کسی قسم کی مزاحمت یا دفاع کا سامنا تک نہیں کرنا پڑتا۔ یہ نتیجہ ہے اس اخلاق پر عمل پیرا ہونے کا، جس اخلاق کو ہم نے تلوار کی ضد سمجھا اور جس اخلاق کو ہم نے بزدلی سستی، کاہلی اور اپاہجی سمجھا، حالانکہ ایسے اخلاق کی تعلیم نہ قرآن کریم نے دی ہے نہ حدیث شریف نے ، اورنہ ہی فقہا ء کرام علیہم الرحمہ نے یہ سمجھایا ہے اور نہ مشائخ و اسلاف نے۔ اس مختصر تمہید کے بعد اب ہم اصل مسئلے کی طرف لوٹتے ہیں۔(۱) اخلاق کی تشریح(۲) اسلام قبول کرنے اور اس کے نافذ ہونے کا فرق۔پہلا اہم مسئلہ اخلاق کی تشریح کا ہے تو خوب سمجھنا چاہیے کہ اخلاق مسکرانے، ہنسنے، ظلم سہنے کا نام نہیں بلکہ ہر وقت اور ہر حال کے مطابق ایسا کام کرنا جو اس حال اور وقت کے مناسب ہو اور اس کے بگاڑ کا ذریعہ نہ ہو یہ حسن خلق ہے۔ پیار کے وقت نرمی اور سختی کی جگہ پر سختی حسن خلق کہلاتی ہے۔ کوئی آدمی کسی خطرناک سانپ کو دودھ پلا کر پال رہا ہو، تا کہ یہ سانپ انسانوں کو نقصان پہنچائے تو اس کا سانپ کو دودھ پلانا بظاہرحسن خلق ہے، مگر حقیقت میں ظلم ہے۔ اب کوئی مفکر بھی اس آدمی کوحسن خلق کا تاج پہنانے کے لیے تیار نہ ہو گا۔ حسن خلق کے اس معنی کو ایک عام فہم مثال کے ذریعہ سے سمجھا جا سکتا ہے، ایک آدمی نے کسی کتے کو پیاسا مرتے دیکھا اور اس نے اسے پانی پلا دیا اس کا یہ فعل یقیناًحسن خلق ہے۔ لیکن اس نے جیسے ہی اس کتے کو پانی پلایا ،کتا کسی مسلمان عورت کو کاٹنے کے لیے لپکا۔ اب اس نے لاٹھی کے ذریعے سے کتے کا علاج کیا تو اس کا یہ مارنا بھی حسن خلق ہی ہے۔ ایک باپ اپنے بیٹے کو کسی برائی یا مضر چیز سے روکنے کے لیے مارتا ہے، اس کا مارنا یقینا حسن خلق کے زمرے میں شامل ہو گا لیکن ایک باپ اپنے بیٹے کو فحش کاری میں مبتلا دیکھ کر بھی کچھ نہیں کہتا اور اس پر اپنے احسانات کو جاری رکھتا ہے تو یہ باپ حسن خلق کا خوگر نہیں ظلم کا پجاری ہے۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حضور تاجدارختم نبوت ﷺکے اعلیٰ اخلاق کی گواہی قرآن مجید نے ان الفاظ میں دی ہے۔ {وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ }(سورۃ القلم :۴) ترجمہ کنزالایمان : اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان : اے حبیب کریم ﷺ! آپ حسن خلق کے مالک ہیں۔ اس گواہی کا مطلب یہ ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺمجسم اخلاق تھے، لیکن ہم سیرت حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے مطالعے میں جہاں آپﷺ کی رحم دلی، غربا پروری، بیکسوں کی یاوری جیسی عظیم صفات کو دیکھتے ہیں وہاں ہمیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺ خود ستائیس مرتبہ تلوار اٹھا کر کفر کے مقابلے میں نکلے اور آپ ﷺنے پچھتّر مرتبہ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مختلف جنگی مہموں پر روانہ فرمایا۔ آپ ﷺنے اپنے دست مبارک سے ابی بن خلف جیسے خبیث النفس کافر کو قتل فرمایا اور کعب بن اشرف، حی بن اخطب، رافع بن خدیج، عصما، زید بن سفیان جیسے کافروں کے قتل کا حکم دیا اور ان کے قتل کرنے والوں کو بڑی بڑی بشارتوں سے نوازا۔ بنی قریظہ کے سات سو سے زائد یہودیوں کے ذبح کا حکم جاری فرمایا۔ بدر میں ستر کفار کے مرنے کی جگہیں جنگ سے قبل بتلا دیں۔ آپﷺنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو تلوار رکھنے کے فضائل بیان فرمائے، اس کے سیکھنے اور تیر اندازی ترک نہ کرنے کے احکامات جاری فرمائے، ظالم کافروں کے قتل کرنے کی فضیلت بیان فرمائی۔ کیا خدا نخواستہ ہم حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ان افعال و اقوال کو نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ بد اخلاقی کہنے کی جرات کر سکتے ہیں؟ کیونکہ اگر اخلاق اور تلوار آپس میں متضاد چیزیں ہیں تو پھر یقینا تلوار اٹھانا بد اخلاقی ہی کہلائے گا۔مگر تاریخ گواہ ہے ہمارے حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے تلوار اٹھائی اور اٹھوائی اور کفر کے کینسر کو سرزمین حجاز سے کاٹ پھینکا تو پورا معاشرہ صحت مند ہو گیا اور اسلام اور ایمان کی ہوائیں قیصرو کسری کے کفر کو ہچکولے دینے لگیں۔ ایک اور قابل غور نکتہ یہ ہے کہ حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے اخلاق کے متعلق پوچھا گیا توآپ رضی اللہ عنہمانے ارشاد فرمایا کہ آپﷺ کا اخلاق قرآن مجید تھا۔ اس روایت میں صدیقہ کائنات رضی اللہ تعالی عنہا نے قرآن مجید کو حضورتاجدارختم نبوت ﷺکا اخلاق قرار دیا ہے۔ اب قرآن مجید کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید تو مسلمانوں کو نماز، روزہ ،حج اور زکوۃ کے ساتھ جہاد اور قتال کا حکم بھی دے رہا ہے اور قتال کی فرضیت کا اعلان فرما رہا ہے۔ {کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَال} (سورۃ البقرۃ :۲۱۵) ترجمہ:تم پر قتال فرض کیا گیا۔ بلکہ قرآن مجید کی محکم آیات سے جس طرح جہاد کا حکم، اس کی فرضیت، اس کی فضیلت، اس کی جزئیات کی تشریح، اس کے مقاصد اور اس کی حدود معلوم ہوتی ہیں کسی اور حکم کے متعلق ایسی تشریح قرآن مجید میں موجود نہیں ہے، چالیس سے زائد مقامات پر تو قتال کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ شہداء کی ایسی فضیلتیں قرآن نے بتائی ہیں کہ اگر ان کا تذکرہ کیا جائے تو شوق شہادت سے دل پھٹنے لگ جائے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا قرآن مجید نعوذ باللہ بد اخلاقی کی دعوت دے رہا ہے یا صرف قتال جیسی مجبوری کے وقت کی چیز (جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے)پر اس قدر زور لگا رہا ہے اور قتال چھوڑنے پر طرح طرح کی وعیدیں سنا رہا ہے۔ بہرحال یہ بات ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ ہمارے حضورتاجدارختم نبوت ﷺ جیسے اخلاق کسی کے نہیں اور قرآن مجید مکمل طور پر درس اخلاق ہے اور ہمیں ان دونوں میں تلوار، جہاد اور قتال جیسی چیزیں وافر مقدار میں نظر آ رہی ہے۔ چنانچہ ہم دعوے کے ساتھ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ اسلام اخلاق سے پھیلا ہے اور اخلاق اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس میں تلوار نہ ہو۔ اس کی عقلی حیثیت بھی مخفی نہیں ہے۔ ایک ڈاکٹر مریض کے جسم کے کینسر والے حصے کوکاٹنے کا حکم دیتا ہے مگر اسے کوئی بھی نہیں کہتا کہ ڈاکٹر صاحب آپ تو پڑھے لکھے آدمی ہے آپ کس طرح کاٹنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ آپ کو تو اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بلکہ کینسر کو تیز دھار نشتر کے ذریعے کاٹنے پر ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے اور انہیں فیس بھی دی جاتی ہے۔ لیکن اگر معاشرے سے کفر کے کینسر کو کاٹنے کی بات کی جائے تو یہ بد اخلاقی نظر آتی ہے۔ حالانکہ اللہ کے دشمن اور انسانیت کے دشمن کافروں کا وجود اس معاشرے کے لیے کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ آج اس چیز کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ کفر کے کینسر کے غلیظ اثرات کس طرح سے اہل ایمان کے گھروں اور دلوں تک پہنچ چکے ہیں۔ فحاشی اور عریانی جیسی غلاظتیں اب عیب نہیں رہیں۔ پھر سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک چھوٹی سی مرغی اس وقت تک حلال نہیں ہوتی جب تک چھری کے ذریعہ اس کے ناپاک خون کو اس کے جسم سے نہ نکال دیا جائے اور چھری چلاتے ہوئے اللہ کی عظمت کی تکبیر نہ پڑھی جائے۔ تو اتنا بڑا معاشرہ جس میں بے انتہا گند سرایت کر چکاہے۔اس وقت تک کیسے پاک ہو سکتا ہے جب تک چھری کے ذریعے سے اس گند کو باہر نہ نکال دیا جائے اور جب یہ گند نکل جائے گا اس وقت لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوں گے۔ آج کے بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ کافر ہمارے اخلاق دیکھ کر خود مسلمان ہو جائیں گے۔ اس دور میں یہ دعوی انتہائی مضحکہ خیز ہے کیونکہ اخلاق اس قوم کے دیکھے جاتے ہیں جس کی اپنی کوئی حیثیت ہو، جس کا اپنا کوئی نظام چل رہا ہو۔ آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کوئی آزاد قوم کسی غلام قوم کے اخلاق سے متاثر ہو کر اس کی غلام بن گئی ہو۔ جس زمانے میں مسلمان فاتحین کی شکل میں ملکوں میں داخل ہوتے تھے تو لوگ ان کو دیکھتے تھے اور مسلمان ہوتے تھے مگر اس وقت تو ہم ایک قوم کی حیثیت سے کوئی وقعت ہی نہیں رکھتے۔ ہمارا اسلامی نظام کہیں بھی نافذ نہیں، صرف کتابوں میں موجود ہے اور ہمیں اس کے نافذ کرنے میں دلچسپی بھی نہیں ہے بلکہ ہم تو حکومت و خلافت کے نام سے چڑتے ہیں اور کرسی کو فساق و فجار کی ملکیت سمجھتے ہیںاور جوشخص بھی دین اسلام کے نفاذ کی بات کرے ہم اسے امریکہ کے دشمن سے زیادہ اپنادشمن جانتے ہیں۔ ہم نے چند عبادات کو اسلام سمجھ رکھا ہے اور ایک عالمگیر نظام کو رہبانیت بنا دیا ہے۔ ایسے وقت جبکہ ہمارا قومی، ملی اور دینی وجود ہی پارہ پارہ ہے۔ ہم کس منہ سے کہتے ہیں کہ لوگ ہمارے اخلاق دیکھ کر خود اسلام میں آجائیں گے اور اگر چند افراد کہیں پر اسلام میںداخل ہو بھی گئے یا ہو رہے ہیں تو اس سے اسلام کو وہ غلبہ اور عظمت تو نہیں مل سکتی جس کا ہمارے رب نے ہمیں مکلف بنایا ہے۔ ہاں اس کا الٹ ہو رہا ہے اور ہمارے مسلمان اپنے حاکم کفار کے طور طریقوں سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں مرتد ہو چکے ہیں۔ معلوم نہیں ہم کب تک اپنے ان اخلاق کے ذریعے سے مسلمانوں کو کفر کی جہنم میں دھکیلتے رہیں گے۔ اگر ہم اسلاف کے نقش قدم پر چل کر اسلام کی عظمت کیلئے اوراقامت دین کے لئے محنت کرتے تو ہمیں آج یہ پستی نہ دیکھنی پڑتی۔ مگر آج ہمیں اپنی عزت و عظمت کا دھیان تو ہے لیکن دین کی ذلت و پستی کا کوئی غم نہیں۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خود کافروں کی طرف بھیجا اور ان کو اسلام، جزیہ یا قتال کی دعوت دی اور پھر خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے دور میں بھی یہ طریقہ چلتا رہا کہ اسلامی دعوت کے پیچھے تلوار ضرور ہوا کرتی تھی کہ اس دعوت کو رد کرنے والے حکومت نہ کرتے رہیں بلکہ یا تو انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے کہ انہوں نے اپنے پالنے اور پیدا کرنے والے رب تعالی کی دعوت کو جھٹلایا ہے یا انہیں ذلیل و رسوا ہو کر جزیہ دینا پڑے گا۔اس کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں رکھی گئی کہ اسلامی دعوت کو رد بھی کر دیں اور عزت کے ساتھ حکومتیں بھی کرتے رہیں اور مسلمانوں پر مظالم بھی ڈھاتے رہیں۔بہرحال یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ تلوار اخلاق کا ایک اہم ترین جزو ہے اور جو اخلاق تلوار سے عاری ہو گا وہ پستی اور ذلت کا باعث ہو گا۔ ایک اہم بات : اس وقت تو اسلام کے پھیلنے کا نہیں بلکہ دفاع کا مسئلہ درپیش ہے۔ اخلاق کی غلط تشریح کرنے والے اگر اب بھی مسلمانوں کو تلوار اٹھا کر اپنے جان، مال، عزت و عصمت اور وطن کی حفاظت کرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اس وقت بھی تلوار اٹھانے کو حسن خلق کے خلاف سمجھتے ہیں۔ تو پھر ہمیں یہ کہنے میں ذرہ برابر عار نہیں ہے کہ یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں۔ یہ قرآن و سنت میں تحریف کرنے والے ملحدین ہیں، یہ مستشرقین کا وہ ٹولہ ہے جو مسلمانوں کو مٹانے کے لیے ان کی صفوں میں گھسا ہوا ہے۔ ان ظالموں کا بس چلتا تو یہ قرآن مجید سے جہاد اور قتال کی آیات کو کھرچ دیتے مگر اس سے عاجز ہونے کی وجہ سے یہ فضول تاویلوں کا سہارا لے رہے ہیں حالانکہ مسلمان باپ کے سامنے بیٹی کو ننگا کیا جا رہا، بھائی کو باندھ کر اس کے سامنے اس کی بہن کی چادر عصمت تار تار کی جا رہی ہے مگر میر جعفر و میر صادق کے ان زندہ کرداروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ الحمد للہ مسلمانوں کے مقتداء علماء اور مشائخ جہاد کا فتوی دے چکے ہیں اور ان کے فتووں نے ان ملحدوں کے مکر کو خاک میں ملا دیا ہے۔اللہ تعالی کرے اب مسلمان اپنے تحفظ کے لئے ہتھیاراٹھائیں ۔
دوسرا اہم مسئلہ’’ اسلام کے قبول کرنے اور نافذ کرنے کے درمیان فرق‘‘ کا ہے
جہاں تک اسلام کے قبول کرنے کا مسئلہ ہے تو اس پر اہل اسلام کا اجماع ہے کہ کسی سے بھی جبرو اکراہ کا معاملہ نہیں کیا جائے گا۔ یعنی کسی کے گلے پر تلوار کی نوک رکھ کر کلمہ پڑھنے کی تلقین نہیں کی جائے گی اور یہی مفہوم ہے قرآن مجید کی اس آیت {لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ} (البقرہ:۲۵۶)مگر جہاں تک اسلام کے نافذ کرنے اور اس کی ترویج و اشاعت کا مسئلہ ہے تو اس سلسلے میں جو بھی رکاوٹ ڈالے گا تو سختی کے ساتھ اس رکاوٹ کو دور کیا جائے گا۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے صرف زکوۃ دینے سے انکار کرنے والوں کے ساتھ قتال فرما کر اس مسئلے کو قیامت تک کے لیے واضح فرما دیا ہے کہ نظام اسلام میں کسی قسم کی رخنہ اندازی اور کتر و بیونیت کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے ان دونوں مسئلوں کو خلط ملط کرنے کی بجائے مکمل تفصیل کے ساتھ سمجھنا چاہیے کیونکہ اسلام کے مزاج میں کسی تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر ہم اس کے پھیلنے میں تلوار کو نظر انداز کر دیں گے تو نعوذ باللہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قربانیاں فضول قرار دی جائیں گی کہ اسلام کی ترویج و اشاعت میں تو تلوار کی اجازت نہیں تھی جب کہ ان حضرات نے تلوار کو استعمال کیا اور اکثر علاقے تلوار کی نوک پر فتح کئے اور تلوار ہی کے ذریعے سے گندے مواد کو صاف فرمایا۔ جب مطلع صاف ہو جاتا ہے اور مسلمان ایک با عزت حیثیت کے ساتھ کسی ملک میں داخل ہوتے تو اب لوگوں کو ان کے اخلاق دیکھنے کا موقع ملتا اور وہ گروہ در گروہ دین میں داخل ہوتے۔ اور حالات نے واضح کر دیا ہے کہ وہ داعی زیادہ کامیاب رہے جن کی دعوت کے پیچھے تلوار ہوا کرتی تھی۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے۔ {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ}(سورۃ آل عمران : ۱۱۰) ترجمہ ضیاء الایمان:تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے تم نیکیوں کا حکم کرتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو۔ امت محمدیہ کے خیر امت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی دعوت کوکوئی ٹھکرا نہیں سکے گا کیونکہ ان کی دعوت کے پیچھے جہاد کا عمل موجود ہے جو ان کی دعوت کو نہیں مانے گا۔ جہاد کے ذریعہ اس کا خاتمہ کیا جائے گا جب کہ پہلی امتوں میں دعوت کا عمل تو موجود تھا مگر ان کی دعوت کے پیچھے جہاد کی قوت نہیں تھی۔ آخری گزارش بہت ساری احادیث کریمہ میں اسلحے کی مختلف فضیلتیں آئی ہیں۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:بُعِثْتُ بِالسَّیْفِ حَتَّی یُعْبَدَ اللَّہُ لَا شَرِیکَ لَہُ،وَجُعِلَ رِزْقِی تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِی،وَجُعِلَ الذِّلَّۃُ،وَالصَّغَارُ عَلَی مَنْ خَالَفَ أَمْرِی،وَمَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ارشاد فرمایا :میں قیامت سے پہلے تلوار دے کے بھیجا گیا ہوں تاکہ صرف اکیلے اللہ کی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں اور میری روزی میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھ دی گئی ہے اور ذلت اور پستی ان لوگوں کا مقدر بنا دی گئی ہے جو میرے لائے ہوئے دین کی مخالفت کریں اور جوکسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہے۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۹:۱۲۳)

اسلحہ تیارکرنانفل نماز سے بھی افضل ہے

وَقد نَص الإِمَام أَحْمد علی أَن الْعَمَل بِالرُّمْحِ أفضل من الصَّلَاۃ النَّافِلَۃ فِی الْأَمْکِنَۃ الَّتِی یحْتَاج فِیہَا إِلَی الْجِہَاد۔ ترجمہ :محمدبن ابی بکربن ایوب بن سعد ابن قیم الجوزیہ المتوفی : ۷۵۱ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: جس جگہ جہاد کی ضرورت ہو وہاں نیزے بنانا نفل نماز سے افضل ہے ۔ (الفروسیۃ:محمد بن أبی بکر بن أیوب بن سعد شمس الدین ابن قیم الجوزیۃ:۱۵۴)

حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی تلوارباعث رحمت ہے

قَالَ الْحَکِیم التِّرْمِذِیّ سُؤال الْقُبُور خَاص بِہَذِہِ الْأمۃ لِأَن الْأُمَم قبلہَا کَانَت الرُّسُل تأتیہم بالرسالۃ فَإِذا أَبَوا کفت الرُّسُل واعتزلوہم وعوجلوا بِالْعَذَابِ فَلَمَّا بعث اللہ مُحَمَّدًا صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم بِالرَّحْمَۃِ أمسک عَنْہُم الْعَذَاب وَأعْطِی السَّیْف حَتَّی یدْخل فِی دین الْإِسْلَام وَمن دخل لمہابۃ السَّیْف ثمَّ یرسخ الْإِیمَان فِی قلبہ فَمن ہُنَا ظہر النِّفَاق فَکَانُوا یسرون الْکفْر ویلعنون الْإِیمَان فَکَانُوا بَین الْمُسلمین فِی ستر فَلَمَّا مَاتُوا قیض اللہ لَہُم فتانی الْقَبْر لیستخرج سرہم بالسؤال ولیمیز اللہ الْخَبیث من الطّیب وَخَالفہُ آخَرُونَ فَقَالُوا السُّؤَال لہَذِہِ الْأمۃ وَغَیرہَا۔ ترجمہ:حضرت سیدناامام حکیم الترمذی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ قبرمیں سوال وجواب صرف اس امت کے ساتھ خا ص ہیں ، سابق امتوں کے پاس جب رسول تشریف لاتے تو امتی ان کاانکارکرتے توفوراً ان پر عذاب نازل ہوجاتااورانبیاء کرام علیہم السلام کی گستاخی کی سزاپالیتے ، جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺکو اللہ تعالی نے رحمۃ للعالمین بناکربھیجاتوآپ ﷺکے صدقے سے اس امت سے عذاب روک دیاگیااورآپ ﷺکو تلوارعطافرمائی گئی اوراس کی ہیبت سے لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے ،پھران کے دلوں میں ایمان راسخ ہوجاتا۔ اس وقت سے نفاق کی ابتداہوئی کیونکہ وہ لوگ کفرکو چھپاتے تھے اورایمان کو ظاہرکرتے تھے ، اس طرح وہ اہل اسلام کے درمیان چھپے رہتے تھے ۔ جب وہ مرے تواللہ تعالی نے ان پر دوآزمائش کرنے والے فرشتے مقررکردیئے تاکہ ان کاراز ظاہرہواوراللہ تعالی خبیث لوگوں کو پاک لوگوں سے جداکردیتاہے ۔ (شرح الصدور :عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی:۱۴۵) بہرحال اس قسم کی احادیث بہت زیادہ ہیں تو اخلاق کے وہ شارحین جو اخلاق کو تلوار کی ضد بتاتے ہیں۔ ان احادیث کریمہ کے متعلق کیا کہیں گے؟ کیا یہ بد اخلاقی کی دعوت ہے؟ ہر گز نہیں، ہر گز نہیں۔ ہمارے حبیب کریم ﷺخود نبی السیف (تلوار والے نبیﷺ)تھے۔ آپ خود نبی الملاحمﷺ (جنگوں والے نبی)تھے اور آپﷺ مجاہد بھی اورمیدان کارزارکے مجاہدبھی تھے۔

حضورتاجدارختم نبوت ﷺتوجنگوں والے نبی ہیں

جہاد کے لیے خریدے جانے والے اور تیار کئے جانے والے اسلحہ کے فضائل ہم نے پڑھ لئے، اسی طرح ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے اپنی میراث میں نہ درہم چھوڑے نہ دینار ۔ اور نہ کوئی اور مال اور دولت ۔ البتہ آپﷺ اپنی میراث میں امت کو علم اور جہاد کے ہتھیار عطاء فرما کر اس دنیا سے تشریف لے گئے ۔ مسلمانوں نے جب تک میراث نبویﷺ کو تھامے رکھا اس وقت تک وہ واقعی مسلمان رہے اور دنیا کی کوئی طاقت ان پر غالب نہ آسکی اور نہ کہیں اسلامی نظام کو چیلنج کیا جاسکا ،لیکن جب مسلمانوں نے علم دین چھوڑ دیا اور اسلحے کو بھی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا تو پھر نہ وہ اپنے اندر اسلام کو محفوظ رکھ سکے اور نہ وہ دنیا میں اسلامی نظام کی حفاظت کر سکے بلکہ اب تو وہ زمانہ بھی آ چکا ہے جب خود بہت سارے نام نہاد با اختیار مسلمان اسلامی نظام حکومت اور اسلام نظام معیشت کا کھلم کھلا انکار کرتے ہیں اور اسلامی سزاؤں کو ( نعوذ باللہ)انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں یہ لوگ بھی اب کافروں کی طرح یہ کہنے لگے ہیں کہ اسلام ایک مذہب ہے اور مذہب ایک ذاتی معاملہ اور مذہب تک محدود چند رسومات کا نام ہوتا ہے۔ حالانکہ اسلام ایک کامل دین ہے جو دنیا کے تمام باطل ادیان اور ظالمانہ نظاموں پر غالب ہونے کے لیے آیا ہے اور لوگوں کو سیدھا راستہ ، امن ، روزی ، اور وسعت والی زندگی عطاء کرنا اسلام کی ذمہ داری ہے جبکہ اسلام کو نافذ کرنے کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے اور مسلمان یہ ذمہ داری اسی وقت ادا کرسکتے ہیں جب وہ اپنے حضورتاجدارختم نبوتﷺ کی وراثت کو تھامیں گے ۔حضورتاجدارختم نبوتﷺنے مکہ میں اللہ تعالی کے حکم سے اسلام کی دعوت دی اور یہ اعلان فرمایا کہ اب اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی ﷺکو بھیج دیا ہے اور میں قیامت تک تمام انسانیت کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں اور میرا مشن دنیا میں لا الہ الا اللہ کو غالب کرنا اور باقی سارے ادیان کو مغلوب کرنا ہے آپﷺنے جب یہ دعوت دی تو آپﷺکے مقابلے میں دو چیزیں سینہ تان کر کھڑی ہوئیں ایک جہالت اور دوسری کافروں کی طاقت ۔ آپﷺ نے جہالت کے مقابلے میں قرآن مجید اور حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنت کی صورت میں علم کو پھیلایا اور جب آپ ﷺدنیا سے تشریف لے گئے تو آپ ﷺ نے اپنی میراث میں یہ علم امت کے لئے چھوڑا اور امت نے اس علم کو اپنے سینے سے لگا لیا ۔ دوسری چیز جو اسلام کے مقابلے میں اتری وہ تھی کافروں کی طاقت چنانچہ اس سے مقابلے کے لئے آپﷺپر جہاد فرض کیا گیا اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ اس وقت تک لڑتے رہو جب تک دنیا میں کافروں کے پاس کچھ طاقت بھی موجود ہے ۔ کیونکہ کافر ہمیشہ اپنی طاقت اسلام کے خلاف استعمال کرتے رہیں گے اور مسلمانوں کو مٹانے کے لئے طاقت بنانے کی کوشش کرتے رہیں گے چنانچہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ اگر تم دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی بقا چاہتے ہو تو پھر اپنے دشمن کافروں کو کبھی بھی طاقتور نہ بننے دینا بلکہ ان کی طاقت کو توڑنے کے لئے ان سے جہاد کرتے رہنا۔ چنانچہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے زمانے میں جزیرۃ العرب سے کافروں کی طاقت کو ختم کر دیا گیا۔ حضرات خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم نے بغیر تاخیر کئے روم اور فارس کی دونوں سپر پاوروں پر آگے بڑھ کر وار کیا اور ان کی طاقت کو بھی اکھاڑ پھینکا ۔ بس یہی وجہ ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺ اسلحے سے محبت فرماتے تھے اور آپ ﷺنے اپنی وراثت میں اسلحہ چھوڑا کیونکہ اسلحے کے ذریعے جہاد ہوتا ہے اور جہاد کے ذریعے سے اللہ تعالی کا نام اور اس کا نظام دنیا میں قائم اور نافذ ہوتا ہے۔ مگر کافروں نے محنت کر کے مسلمانوں کے دلوں میں اسلحے کی نفرت ڈال دی اور ان کے ذہنوں میں یہ بھر دیا کہ اسلحہ اٹھانا یا تو تنخواہ دار فوجیوں کا کام ہے یا بد معاشوں اور غنڈوں کا جبکہ شرفاء اور علماء اور صلحاء کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ہاتھوں میں اسلحہ لے کر پھریں یا اپنے گھروں میں اسلحہ جمع کریں ۔ کافروں کا یہ جادو کام آگیا اور اہل علم اور اہل تقوی نہتے ہو گئے حالانکہ ماضی کے تمام ائمہ تمام اکابر ، تمام محدثین تمام صوفیاء کرام اور تمام اولیا ساری زندگی ہاتھوں میں ہتھیار اٹھا کر جہاد کے راستوں میں شہادت کی لیلی کو ڈھونڈتے رہے اور جب ان کا انتقال ہوتا تھا یا وہ شہید ہوتے تھے تب بھی ہتھیار ان کے ہاتھوں میں ہوتے تھے وہ ان ہتھیاروں سے والہانہ محبت کرتے تھے اور اپنا قیمتی سرمایہ اور وقت انہیں خریدنے ، بنانے اور سیکھنے میں خرچ فرماتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام ان پر فخر کرتا ہے جبکہ آج کے نہتے مسلمانوں پر اسلام خون کے آنسو روتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی بزدلی اور کم فہمی کی وجہ سے اسلام کو اتنا ذلیل و رسوا کیا ہے جتنا وہ ماضی میں کبھی نہ تھا۔ اسلام کے یہ آنسو شرمندگی اور عار بن کر ہمیں ایک ہی بات کی دعوت دے رہے ہیں کہ ہم ان چیزوں کو دوبارہ تھام لیں جو ہمارے محبوب آقا حضورتاجدارختم نبوتﷺہمیں عطاء کر گئے تھے ۔ تب ان شاء اللہ اسلام بھی ہم پر فخر کرے گا اور ہم قیامت کے دن کی شرمندگی سے بھی بچ جائیں گے۔ یا اللہ ہم سب مسلمانوں کو اپنے محبو ب حضوررتاجدارختم نبوتﷺ کی میراث سنبھالنے اور تھامنے کی توفیق عطاء فرما دے اور ماضی کی طرح اب بھی اسلام کو دنیا میں نافذ فرما کر انسانیت پر رحم فرما دے ۔ آمین ثم آمین

جبر و تشدد سے دل جیتنا کیسے ممکن ہے ؟

بہت سے لوگ تلوار کے زور سے قطعات اراضی کے فاتح بنے،بہت سی بادشاہتیں اور آمریتیں جبر کے زور سے قائم ہوتی رہتی ہیں، اور کشاکش مفاد کے لئے بے شمار فیصلے جنگ کے میدانوں میں طے پاتے رہے ہیں،لیکن دنیا کی کوئی بھی انقلابی تحریک ہو اسے اپنی قسمت کا فیصلہ ہمیشہ رائے عامہ کے دائرے میں کرنا ہوتا ہے،انسانی قلوب جب تک اندر سے کسی دعوت کا ساتھ دینے پر تیار نہ ہوں اور اپنے ذہن و کردار کو اس کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے راضی نہ ہوجائیں،محض جبر و تشدد سے حاصل کئے گئے علمبردار اس کے لئے مفید نہیں ہوتے بلکہ الٹا وہ اس کی کامل بربادی کا سبب بن جاتے ہیں۔پس ہر اصولی تحریک کا مزاج تعلیمی ہوتا ہے اور اس کے چلانے والو ں میں مربیانہ اور معلمانہ شفقت کی روح کام کر رہی ہوتی ہے۔مخالفین اسلام شروع سے اسلام کے خلاف یہ پراپیگنڈہ کرتے آرہے ہیں کہ یہ تلوار سے پھیلالوگ تلوار کے زور پر مسلمان ہوتے رہے۔ ایک چیز جو باطن سے تعلق رکھتی ہو وہاں جبر کیسے چل سکتا ہے اور کب تک چل سکتا ہے۔ مشہور محقق ڈاکٹر حمید اللہ لکھتے ہیں یہ مملکت (مدینہ کی ریاست)ابتداء میں ایک شہری مملکت تو تھی لیکن کامل شہر میں نہیں تھی بلکہ شہر کے ایک حصے میں قائم کی گئی تھی، لیکن اس کی توسیع بڑی تیزی سے ہوتی ہے۔ اس توسیع کا آپ اس سے اندازہ لگائیے کہ صرف دس سال بعد جب رسول اللہﷺکاوصال شریف ہوا، اس وقت مدینہ ایک شہری مملکت نہیں بلکہ ایک وسیع مملکت کا دارالسلطنت تھا۔ اس وسیع سلطنت کا رقبہ تاریخی شواہد کی رو سے تین ملین یعنی تیس لاکھ مربع کلومیٹر پر مشتمل تھا۔ دوسرے الفاظ میں دس سال تک اوسطاً روزانہ کوئی آٹھ سو پینتالیس مربع کلومیٹر علاقے کا ملک کے رقبے میں اضافہ ہوتا رہا۔تین ملین کلومیٹر رقبہ فتح کرنے کے لیے دشمن کے جتنے لوگ مرے ہیں، ان کی تعداد مہینے میں دو بھی نہیں ہے، دس سال میں ایک سو بیس مہینے ہوتے ہیں تو ایک سو بیس کے دو گنے دو سو چالیس آدمی بھی ان لڑائیوں میں نہیں مرے، دشمن کے مقتولین کی تعداد اس سے کم تھی، مسلمانوں کے شہداء کی تعداد دشمن کے مقتولین سے بھی کم ہے۔ مسلمانوں کا سب سے زیادہ نقصان جنگ احد میں ہوا کہ ستر آدمی شہید ہوئے اور یہ نقصان بھی مسلمانوں کی اپنی بھول کی وجہ سے ہوا۔ بہرحال بحیثیت مجموعی میدان جنگ میں قتل ہونے والے دشمنوں کی تعداد مہینے میں دو سے بھی کم ہے، جس سے ہمیں نظر آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اسوۂ حسنہ بن کر دنیا بھر کے حکمرانوں اور فاتحوں کو بتاتے ہیں کہ دشمن کا مقابلہ اور ان کو شکست دینے کی کوشش ضرور کرو لیکن بیجا خون نہ بہاؤ۔ مقصد یہ کہ دشمن جو آج غیر مسلم ہے ممکن ہے کل وہ مسلمان ہو جائے یا اس کے بیوی بچے اور اس کی آئندہ نسلیں مسلمان ہو جائیں لہذا اس امکان کو زائل کرنے میں اپنی طرح سے کوئی ایسا کام نہ کرو جس سے پچھتانے کی ضرورت پیش آئے۔ ( خطبات بہاولپور، ڈاکٹر محمد حمید اللہ:۱۴۳)

احکامات دینیہ پر عمل کروانے کے لئے سختی کرناجائز ہے

آج لبرل وسیکولر لوگ اس آیت کریمہ کو اس کے اصل مفہوم سے ہٹاکرجبرقانونی کی نفی کے معنی میں لیتے ہیںاوراس سے یہ دلیل لاتے ہیں کہ چونکہ اسلام میں کوئی اکراہ نہیں ہے اسی وجہ سے اسلام کے نام سے فلاں اورفلاں باتوں کو جو کہ مستوجب سزاقراردیاجاتاہے یہ محض مولویوں کی من گھڑت باتیں ہیں ، اسلام سے ان کاکوئی تعلق نہیں ہے ، اس گروہ کے اس استدلال کو اگرصحیح مان لیاجائے تواس کامعنی یہ ہوا کہ اسلامی شریعت حدودوتعزیرات سے ایک بالکل خالی شریعت ہے ، اس لحاظ سے جس میں ہرشخص کو سب کرگزرنے کی چھوٹ حاصل ہے ، نہ زنا، نہ تہمت پر کوئی سزاہے ، اورنہ ہی چوری کرنے پر کوئی سزاہے اورنہ ڈکیتی اورراہزنی اورفساد فی الارض پرکوئی سزاہے اورنہ ہی بغاوت پر کوئی تعزیرہے ۔ حالانکہ ہر شخص جانتاہے کہ اسلام میں حدودوتعزیرات کاایک پورانظام ہے ، جس کانفاذ واجبات دین میں سے ہے ۔ اگرایک شخص نماز نہ پڑھے اورروزے نہ رکھے تواسلامی حکومت پرواجب ہے کہ اس کو بھی سزادے ۔ یہ چیز لااکراہ فی الدین کے منافی نہیں ہے ۔ اسی طرح اگرکوئی مسلمان اسلام کے خلاف بغاوت کی روش اختیارکرتاہے تو اس کے لئے بھی اسلامی قانون میں سزاہے ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh