صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2172 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ بقرہ آیت 154 / شہیدکی حیات اور زندگی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,327

سوال (Question):

تفسیر سورہ بقرہ آیت 154 / شہیدکی حیات اور زندگی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

شہیدکی حیات

{وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوٰتٌ بَلْ اَحْیَآء ٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ} ترجمہ کنزالایمان : اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں ۔ ترجمہ ضیاء الایمان : اوروہ لوگ جو اللہ تعالی کی راہ میں شہیدہوجائیں تم انہیں مردہ نہ کہوبلکہ وہ اللہ تعالی کے ہاں زندہ ہیں ، ہاں تمھیں ان کی زندگی کی خبرنہیں ۔ جب غزوہ بدرمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تو کفارومشرکین نے کہناشروع کردیاکہ انہوں نے خواہ مخواہ اپنی جوانی ضائع کردی اورزندگی کے لطف سے محروم ہوگئے ، انہیں اللہ تعالی نے جواب دیاکہ تم جس معنی میں انہیں مردہ سمجھ رہے ہواس میں وہ مردہ ہی نہیں بلکہ وہ توزندوں سے کہیں بڑھ کرہرلذت سے فیضیاب ہورہے ہیں ، برزخی زندگی اپنی عام صورت میں تو سب ہی کے لئے ہے لیکن شہداء کو اس عالم میں خصوصی اورامتیازی زندگی نصیب ہوتی ہے ۔ آثارحیات میں دوسروں سے بھی بہت زیادہ قوی ۔ شان نزول قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا:نَزَلَتِ الْآیَۃُ فِی قَتْلَی بَدْرٍ وَقُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ یَوْمَئِذٍ أَرْبَعَۃَ عَشَرَ رَجُلًا، سِتَّۃٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَثَمَانِیَۃٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَمِنَ الْمُہَاجِرِینَ: عُبَیْدَۃُ بن الحرث بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَعُمَرُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ، وَذُو الشَّمَالَیْنِ، وَعَمْرُو بْنُ نُفَیْلَۃَ، وَعَامِرُ بْنُ بَکْرٍ، وَمِہْجَعُ بْنُ عَبْدِ اللَّہ وَمِنَ الْأَنْصَارِ:سَعِیدُ بْنُ خَیْثَمَۃَ، وَقَیْسُ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، وزید بن الحرث، وَتَمِیمُ بْنُ الْہُمَامِ، وَرَافِعُ بْنُ الْمُعَلَّی، وَحَارِثَۃُ بْنُ سُرَاقَۃَ، وَمُعَوِّذُ بْنُ عَفْرَاء َ، وَعَوْفُ بْنُ عَفْرَاء َ، وَکَانُوا یَقُولُونَ: مَاتَ فُلَانٌ وَمَاتَ فُلَانٌ فَنَہَی اللَّہُ تَعَالَی أَنْ یُقَالَ فِیہِمْ إِنَّہُمْ مَاتُوا. وَعَنْ آخَرِینَ أَنَّ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِینَ قَالُوا:إِنَّ النَّاسَ یَقْتُلُونَ أَنْفُسَہُمْ طَلَبًا لِمَرْضَاۃِ مُحَمَّدٍ مِنْ غَیْرِ فَائِدَۃٍ فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ. ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں نازل ہوئیں جو بدرمیں شہید ہوئے تھے ، اس دن اہل اسلام کے چودہ افراد شہید ہوگئے تھے ، چھے مہاجرین اورآٹھ انصار۔ان کے اسماء گرامی یہ ہیں: (۱) حضرت سیدناعبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ (۲) حضرت عمر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ (۳) حضرت سیدناذوالشمالین رضی اللہ عنہ (۴) حضرت سیدناعمرو بن نفیلہ رضی اللہ عنہ (۵) حضرت سیدناقیس بن عبدالمنذررضی اللہ عنہ (۶) حضرت سیدنازیدبن حارث رضی اللہ عنہ (۷) حضرت سیدناتمیم بن ہمام رضی اللہ عنہ (۸) حضرت سیدناحارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ (۹) حضرت سیدنامعوذ بن عفراء رضی اللہ عنہ (۱۰) حضرت سیدنارافع بن معلی رضی اللہ عنہ (۱۱)حضرت سیدنامہجع بن عبداللہ رضی اللہ عنہ (۱۲)حضرت سیدناعامربن بکررضی اللہ عنہ (۱۳) حضرت سیدناعوف بن عفراء رضی اللہ عنہ (۱۴) حضرت سیدناسعیدبن خیثمہ رضی اللہ عنہ لوگوں نے یہ کہناشروع کردیاکہ فلاں مرگیاتواللہ تعالی نے منع فرمادیاکہ یوں نہ کہوکہ فلاں مرگیا۔ دیگراہل علم کہتے ہیں کہ کفارومنافقین نے یہ کہناشروع کردیاکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے محمد(ﷺ) کی خاطرجان دے دی اوراس میں ان کوکوئی فائدہ نہیں ہوا۔ تواللہ تعالی نے ان کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۴:۱۲۵)

جوشخص دین کادفاع کرتے ہوئے شہید ہوجائے؟

قَالَ الْأَصَمُّ: یَعْنِی لَا تُسَمُّوہُمْ بِالْمَوْتَی وَقُولُوا لَہُمُ الشُّہَدَاء َ الْأَحْیَاء َ وَیُحْتَمَلُ أَنَّ الْمُشْرِکِینَ قَالُوا: ہُمْ أَمْوَاتٌ فِی الدِّینِ کَمَا قَالَ اللَّہُ تَعَالَی:أَوَمَنْ کانَ مَیْتاً فَأَحْیَیْناہُ (الْأَنْعَامِ:۱۲۲) فَقَالَ:وَلَا تَقُولُوا لِلشُّہَدَاء ِ مَا قَالَہُ الْمُشْرِکُونَ، وَلَکِنْ قُولُوا: ہُمْ أَحْیَاء ٌ فِی الدِّینِ وَلَکِنْ لَا یَشْعُرُونَ، یَعْنِی الْمُشْرِکُونَ لَا یَعْلَمُونَ أَنَّ مَنْ قُتِلَ عَلَی دِینِ مُحَمَّدٍ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ حَیٌّ فِی الدِّینِ۔وَعَلَی ہُدًی مِنْ رَبِّہِ وَنُورٍ ۔ ترجمہ :حضرت سیدنااصم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ انہیں مردہ کانام نہ دو، انہیں شہداء زندہ کہو، یہ بھی امکان ہے کہ مشرکین کہتے تھے کہ یہ دین میں مردہ ہیں ۔جیسے فرمان الہی ہے کہ{ أَوَمَنْ کانَ مَیْتاً فَأَحْیَیْناہُ (الْأَنْعَامِ:۱۲۲)اورکیاوہ جومردہ تھاہم نے اسے زندہ کیا۔ توفرمایاکہ تم شہداء کے بارے میں مشرکین کی طرح نہ کہو، بلکہ یوں کہوکہ وہ دین میں زندہ ہیں ، لیکن مشرکین نہیں جانتے کہ جو شخص حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے لئے قتل ہوجائے وہ دین میں زندہ ہے ۔ وہی اپنے رب تعالی کی ہدایت اورنورپر ہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۴:۱۲۵)

دین سے رکاوٹ دورکرنے کے لئے جہاد کرنا

حضرت سیدنامفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ پچھلی آیت میں نماز اداکرنے کاحکم تھا،چونکہ کبھی نماز کی بقاء کے لئے جہاد کی ضرورت پڑتی ہے ،جس میں مسلمان شہید بھی ہوتے ہیں ، لھذااب شہاد ت کی عظمت بیان ہوئی یعنی مصیبتوں میں صبراورنما ز سے مددلو، اگرنماز کے لئے جہاد کرناپڑجائے اورمسلمان اس جہاد میں شہید ہوجائیں توان کو مردہ نہ کہو۔ ’’فی سبیل اللہ ‘‘یعنی اللہ تعالی کی راہ میں ‘‘بہت گنجائش ہے جو بھی دین کی رکاوٹ دورکرنے کے لئے ماراجائے وہ شہید فی سبیل اللہ ہے ۔ لھذاگرکفاراذان ، نما ز ، گائے کی قربانی ، درود پاک وغیرہ کو بندکرناچاہیںاورمسلمان ان کے ساتھ جنگ کرکے ماراجائے توشہید ہے ، ایسے ہی مسلمان اگرکفار کے ملک پر حملہ کریں اوراس میں کچھ مرجائیں تووہ شہید فی سبیل اللہ ہیں کیونکہ وہ وہاں بھی اسلام کی اشاعت کے لئے اوردینی رکاوٹیں دورکرنے کے لئے جارہے ہیں ۔ مرزائیوں کاعقیدہ یہ ہے کہ اب جہاد منسوخ ہوچکا، جب جاری تھاتب بھی حملہ کفارکو دفع کرنے کے لئے تھاناکہ ان پر حملہ کرنے کے طریقے پر۔ مگریہ محض غلط ہے ، نہ تو اب جہاد منسوخ ہواہے اورنہ ہی قیامت تک منسوخ ہوگا، نیزسوائے جنگ احد شریف اورخندق کے باقی تمام غزوات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہی کفارپر حملہ کیا۔ (تفسیرنعیمی از مفتی احمدیارخان نعیمی ( ۲: ۸۲) ملخصاً۔ مفتی صاحب رحمہ اللہ تعالی کی عبارت سے معلوم ہواکہ دینی شعارکو کفارہی روکتے ہیں مگرہمارے ہاں کونسے کفارمسلط ہیں جو دینی شعارپرآئے دن حملہ آورہوجاتے ہیں ، کبھی اذان پرپابندی توکبھی کرکٹ میچ کے لئے مساجد کی بندش ؟۔کہیں ایسا تو نہیں کہ انھوں نے کلمہ طیبہ صرف حلق سے اوپر اوپر پڑھا ہے؟کیا رسول اللہﷺ کے امتی ہونے کا اعلان صرف نوک زبان تک ہے؟کیا عقیدہ ختم نبوت پر ایمان ہونے کااعلان صرف فضا میں الفاظ بازی تو نہیں؟کیا عشق رسولﷺ کا دعویٰ محض سخن طرازی تو نہیں؟کیونکہ اس مسلمان کا کردار ان کے دعویٰ کی نفی کررہا ہے۔

مشرکین کے ساتھ لڑکرجان دینے والازندہ ہوتاہے

حَدَّثَنِی عَطَاء ُ بْنُ دِینَارٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ، فِی قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی:وَلا تَقُولُوا لِمَنْ یُقْتَلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ یَعْنِی:الَّذِینَ قُتِلُوا فِی طَاعَۃٍ اللَّہِ فِی قِتَالِ الْمُشْرِکِینَ. ترجمہ:حضرت سیدناسعیدبن جبیررضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے اس فرمان شریف کے بارے میں فرماتے ہیں کہ{ فِی سَبِیلِ اللَّہ}کامعنی {فِی طَاعَۃٍ اللَّہِ فِی قِتَالِ الْمُشْرِکِینَ}یعنی اللہ تعالی کی اطاعت میں مشرکین کے ساتھ جنگ کرنا۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم: أبو محمد عبد الرحمن بن محمد الرازی ابن أبی حاتم (ا:۲۶۲)

شہداء حیات حقیقی کے ساتھ زندہ ہیں

وَإِذَا کَانَ اللَّہُ تَعَالَی یُحْیِیہِمْ بَعْدَ الْمَوْتِ لِیَرْزُقَہُمْ عَلَی مَا یَأْتِی فَیَجُوزُ أَنْ یُحْیِیَ الْکُفَّارَ لِیُعَذِّبَہُمْ، وَیَکُونُ فِیہِ دَلِیلٌ عَلَی عَذَابِ الْقَبْرِوَالشُّہَدَاء ُ أَحْیَاء ٌ کَمَا قَالَ اللَّہُ تَعَالَی، وَلَیْسَ مَعْنَاہُ أَنَّہُمْ سَیَحْیَوْنَ، إِذْ لَوْ کَانَ کَذَلِکَ لَمْ یَکُنْ بَیْنَ الشُّہَدَاء ِ وَبَیْنَ غَیْرِہِمْ فَرْقٌ إِذْ کُلُّ أَحَدٍ سَیَحْیَا یَدُلُّ عَلَی ہَذَا قَوْلُہُ تَعَالَی:وَلکِنْ لَا تَشْعُرُونَ وَالْمُؤْمِنُونَ یَشْعُرُونَ أَنَّہُمْ سَیَحْیَوْنَ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالی شہداء کرام کو ان کی موت کے بعد زندہ کرتاہے تاکہ انہیں رزق دے توجائز ہے کہ وہ کفارکوبھی زندہ کرے تاکہ ان کوعذاب میں مبتلاء کرے ، اس آیت کریمہ میں عذاب قبرپر دلیل ہے ، شہداء کرام زندہ ہیں ، جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا۔ اس کایہ معنی نہیں کہ وہ زندہ ہوں گے اگریہ معنی ہوتاتوشہداء اوردوسرے لوگوں میں فرق نہ ہوتا، کیونکہ آئندہ توہرایک زندہ ہوگا، اس پر اللہ تعالی کاارشاد{وَلکِنْ لَا تَشْعُرُونَ}بھی دلالت کرتاہے ۔ اہل ایمان جانتے ہیں کہ وہ زندہ ہوں گے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۱۷۲) شہداء پر کفارومنافقین کااعتراض وَعَنْ آخَرِینَ أَنَّ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِینَ قَالُوا:إِنَّ النَّاسَ یَقْتُلُونَ أَنْفُسَہُمْ طَلَبًا لِمَرْضَاۃِ مُحَمَّدٍ مِنْ غَیْرِ فَائِدَۃٍ فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ. ترجمہ:مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب جہاد شروع ہواتو کفارومنافقین نے کہناشروع کردیاکہ یہ لوگ یعنی حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بلافائدہ اپنی جانیں صرف محمد(ﷺ) کو خوش کرنے کے لئے ضائع کررہے ہیںتواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی اورشہداء کرام کے زندہ ہونے کامسئلہ واضح فرمایا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۴:۱۲۵) مجاہداورشہید اوران کے انعامات کاذکر شہادت ایک عظیم رتبہ اور بہت بڑا مقام ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے اور وہی خوش قسمت اسے پاتے ہیں جن کے مقدر میں ہمیشہ کی کامیابی لکھی ہوتی ہے شہادت کا مقام نبوت کے مقام سے تیسرے درجے پر ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: {فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاء ِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا} (سورہ النساء :۶۹) تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالی نے انعام فرمایا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں۔

شہداء زندہ ہیں:

اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَلا تَقُولُوا لِمَنْ یُقْتَلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْیَاء ٌ وَلَکِنْ لا تَشْعُرُونَ (سورہ البقرہ :۱۵۴) ترجمہ ضیاء الایمان :اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں ان کے بارے میں یہ نہ کہو کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تمھیں خبر نہیں۔ دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے : {وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَاء ٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ فَرِحِینَ بِمَا آتَاہُمُ اللَّہُ مِنْ فَضْلِہِ وَیَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِینَ لَمْ یَلْحَقُوا بِہِمْ مِنْ خَلْفِہِمْ أَلا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلا ہُمْ یَحْزَنُونَ یَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَۃٍ مِنَ اللَّہِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّہَ لا یُضِیعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِین}َ (سورۃ آل عمران :۱۶۹تا۱۷۱) ترجمہ ضیاء الایمان:جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ان کو مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ تو زندہ ہیں اپنے پروردگار کے مقرب ہیں کھاتے پیتے ہیں وہ خوش ہیں اس چیز سے جو ان کو اللہ تعالی نے اپنے فضل سے عطاء فرمایا اور جو لوگ ان کے پاس نہیں پہنچے ان سے پیچھے رہ گئے ہیں ان کی بھی اس حالت پر وہ خوش ہوتے ہیں کہ ان پر بھی کسی طرح کا خوف واقع ہونے والا نہیں اور نہ وہ مغموم ہوں گے وہ خوش ہوتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل سے اور اس بات سے کہ اللہ تعالی ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتا ۔

شہداء کرام جنت کے محلات میں

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:الشُّہَدَاء ُ عَلَی بَارِقٍ نَہْرٍ بِبَابِ الْجَنَّۃِ فِی قُبَّۃٍ خَضْرَاء َ، یَخْرُجُ عَلَیْہِمْ رِزْقُہُمْ مِنَ الجَنَّۃِ بُکْرَۃً وَعَشِیًّا۔ ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ارشاد فرمایا :شہداء جنت کے دروازے پر دریا کے کنارے ایک محل میں رہتے ہیں اور ان کے لیے صبح شام جنت سے رزق لایا جاتا ہے ۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۴:۲۲۰)

شہداء کاجنت میں رب تعالی کے ساتھ مکاملہ

عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّہِ عَنْ ہَذِہِ الْآیَۃِ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ أَرْوَاحُہُمْ فِی جَوْفِ طَیْرٍ خُضْرٍ لَہَا قَنَادِیلُ مُعَلَّقَۃٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّۃِ حَیْثُ شَائَتْ ثُمَّ تَأْوِی إِلَی تِلْکَ الْقَنَادِیلِ فَاطَّلَعَ إِلَیْہِمْ رَبُّہُمْ اطِّلَاعَۃً فَقَالَ ہَلْ تَشْتَہُونَ شَیْئًا قَالُوا أَیَّ شَیْئٍ نَشْتَہِی وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّۃِ حَیْثُ شِئْنَا فَفَعَلَ ذَلِکَ بِہِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّہُمْ لَنْ یُتْرَکُوا مِنْ أَنْ یُسْأَلُوا قَالُوا یَا رَبِّ نُرِیدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِی أَجْسَادِنَا حَتَّی نُقْتَلَ فِی سَبِیلِکَ مَرَّۃً أُخْرَی فَلَمَّا رَأَی أَنْ لَیْسَ لَہُمْ حَاجَۃٌ تُرِکُوا۔ ترجمہ :حضرت سیدنامسروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ ہم نے حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا جنہیں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے انہیں مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس سے رزق دیئے جاتے ہیں تو انہوں نے کہا ہم نے بھی حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے اس بارے میں سوال کیا تھا تو آپ ﷺنے فرمایا :ان کی روحیں سر سبز پرندوں کے جسموںمیں ہیں ،ان کے لئے ایسی قندیلیں ہیں جو عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں اور وہ جنت میں جہاں چاہیں پھرتی رہتی ہیں پھر انہی قندیلوں میں واپس آ جاتی ہیں۔ ان کا رب ان کی طرف متوجہ ہوا اور ان سے پوچھا کہ کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے ، انہوں نے عرض کیا: ہم کس چیز کی خواہش کریں حالانکہ ہم جہاں چاہتے ہیں جنت میں پھرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے اس طرح تین مرتبہ فرماتا ہے جب انہوں نے دیکھا کہ انہیں کوئی چیز مانگے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا، تو انہوں نے عرض کیا :اے رب ،ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دے یہاں تک کہ ہم تیرے راستہ میں دوسری مرتبہ قتل کئے جائیں جب اللہ نے دیکھا کہ انہیں اب کسی چیز کی ضرورت نہیں تو انہیں چھوڑ دیا۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۳:۱۵۰۲)

حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ کاجسم مبارک کاصحیح سلامت ہونا

حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، لَمَّا سَقَطَ عَلَیْہِمُ الحَائِطُ فِی زَمَانِ الوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ المَلِکِ، أَخَذُوا فِی بِنَائِہِ فَبَدَتْ لَہُمْ قَدَمٌ، فَفَزِعُوا وَظَنُّوا أَنَّہَا قَدَمُ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا یَعْلَمُ ذَلِکَ حَتَّی قَالَ لَہُمْ عُرْوَۃُ: لاَ وَاللَّہِ مَا ہِیَ قَدَمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، مَا ہِیَ إِلَّا قَدَمُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والدماجد رضی اللہ عنہ سے روایت کیاکہ ولید بن عبدالملک بن مروان کے عہد حکومت میں (جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے حجرہ مبارک کی)دیوار گری اور لوگ اسے (زیادہ اونچی)اٹھانے لگے تو وہاں ایک قدم ظاہر ہوا۔ لوگ یہ سمجھ کر گھبرا گئے کہ یہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کا قدم مبارک ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو قدم کو پہچان سکتا۔ آخر عروہ بن زبیر نے بتایا کہ نہیں اللہ گواہ ہے یہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکا قدم نہیں ہے بلکہ یہ توحضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قدم ہے۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۲:۱۰۳)

تلوارسمیت مجاہد جنت میں داخل ہوگا

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا وَقَفَ الْعِبَادُ لِلْحِسَابِ جَاء َ قَوْمٌ وَاضِعِی سُیُوفِہِمْ عَلَی رِقَابِہِمْ، تَقْطُرُ دَمًا، فَازْدَحَمُوا عَلَی بَابِ الْجَنَّۃِ، فَقِیلَ: مَنْ ہَؤُلَاء ِ؟ قِیلَ: الشُّہَدَاء ُ، کَانُوا أَحْیَاء َ مَرْزُوقِینَ۔ ترجمہ :حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ارشاد فرمایا :جب بندے قیامت کے دن حساب کتاب کے لیے کھڑے ہوں گے تو کچھ لوگ اپنی تلواریں گردنوں پر اٹھائے ہوئے آئیں گے ان سے خون بہہ رہا ہوگا وہ جنت کے دروازوں پر چڑھ دوڑیں گے پوچھا جائے گا یہ کون ہیں ۔ جواب ملے گا یہ شہداء ہیں جو زندہ تھے اور انہیں روزی ملتی تھی ۔ (المعجم الأوسط:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (۲:۲۸۵)

شہید سلام کاجواب دیتے ہیں

عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی مُصْعَبِ بْنِ عُمَیْرٍ، وَہُوَ مُنْجَعِفٌ عَلَی وَجْہِہِ یَوْمَ أُحُدٍ شَہِیدٌ، وَکَانَ صَاحِبَ لِوَاء ِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ: (مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیْہِ فَمِنْہُمْ مِنْ قَضَی نَحْبَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِیلًا) (الأحزاب:۲۳)، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَشْہَدُ عَلَیْکُمْ أَنَّکُمْ شُہَدَاء ُ عِنْدَ اللَّہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ. ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ، فَقَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ ائْتُوہُمْ وَزُورُوہُمْ وَسَلِّمُوا عَلَیْہِمْ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، لَا یُسَلِّمُ عَلَیْہِمْ أَحَدٌ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ إِلَّا رَدُّوا عَلَیْہِ السَّلَامَ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبیدبن عمیررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور تاجدارختم نبوت ﷺ احد کے دن حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ پر کھڑے ہوئے تھے اور حضرت مصعب زمین پر شہید پڑے تھے اس دن انہی کے ہاتھ میںحضورتاجدارختم نبوتﷺ کا جھنڈا تھا آپﷺنے یہ آیت پڑھی : {مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیْہِ فَمِنْہُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِیلا }(الاحزاب :۳۲) ترجمہ ضیاء الایمان :ایمان والوں میں کچھ مرد ایسے ہیں کہ انہوں نے جس بات کا اللہ سے عہد کیاتھا اسے سچ کر دکھلایا پھر بعض تو ان میں سے وہ ہیں جنہوں نے اپنا ذمہ پورا کر لیا اور بعض ان میں سے (اللہ کے راستے میں جان قربان کرنے کے لیے )راہ دیکھ رہے ہیں اور وہ ذرہ (برابر )نہیں بدلے ۔ بے شک اللہ کے حبیب کریم ﷺ تمھارے لیے گواہی دیتے ہیں کہ تم قیامت کے دن اللہ کے سامنے شہداء میں سے ہو پھر آپ ﷺلوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے لوگوں تم ان کے پاس آیا کرو ان کی زیارت کیا کرو ان کو سلام کیا کرو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے قیامت کے دن تک جو بھی انہیں سلام کہے گا یہ اسے جواب دیں گے ۔ (الجہاد لابن المبارک:أبو عبد الرحمن عبد اللہ بن المبارک ، الترکی ثم المرْوزی:۸۱)

شہداء کوخط دیئے جاتے ہیں

عَنِ السُّدِّیِّ قَوْلَہُ: وَیَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِینَ لَمْ یَلْحَقُوا بِہِمْ مِنْ خَلْفِہِمْ فَإِنَّ الشَّہِیدَ یُؤْتَی بِکِتَابٍ فِیہِ مَنْ یَقْدَمُ عَلَیْہِ مِنْ إِخْوَانِہِ وأہلہ، یقال: تقدم علیک فلان، یوم کذا وکذا، تقدم عَلَیْکَ فُلانٌ، یَوْمَ کَذَا وَکَذَا، فَیَسْتَبْشِرُ حِینَ تقدم عَلَیْہِ کَمَا یَسْتَبْشِرُ أَہْلُ الْغَائِبِ بِقُدُومِہِ فِی الدُّنْیَا. ترجمہ :حضرت سیدناامام السدی رحمہ اللہ تعالی {فَرِحِینَ بِمَا آتَاہُمُ اللَّہُ مِنْ فَضْلِہِ وَیَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِینَ لَمْ یَلْحَقُوا بِہِمْ مِنْ خَلْفِہِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُونَ}کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ شہیدکوایک خط پیش کیاجاتاہے ، جس میں یہ ہوتاہے کہ اس کے بھائیوں اورخاندان میں سے کون کون اس کے پاس آرہے ہیں ، اس کو بتایاجاتاہے فلاں آدمی فلاں دن تیرے پاس آئے گا، فلاں آدمی فلاں دن تیرے پاس آئے گا، تواس کے آنے سے وہ شہید خوش ہوتاہے جس طرح دنیامیں کسی غائب رشتہ دارکے آنے سے وہ خوش ہوتاتھا۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس بن المنذر التمیمی، الحنظلی(۴:۸۱۴) حضرت محمد بن قیس بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص جوحضورتاجدارختم نبوتﷺکی حفاظت کیا کرتے تھے احد کے دن ان کو کسی نے بتایا کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺشہید ہوچکے ہیں تو انہوں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺنے دین پہنچا دیا چنانچہ اب تم سب (مسلمان )ان کے دین کے لیے جہاد کرو پھر وہ تین بار اٹھے اور ہر بار موت کے منہ تک پہنچے اور بالآخر تیسرے حملے میں شہید ہو گئے جب ان کی اللہ تعالی سے ملاقات ہوئی اور اپنے ( شہداء )ساتھی بھی ملے تو وہ وہاں کی نعمتیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے اے ہمارے پروردگار کیا کوئی قاصد نہیں ہے جوحضورتاجدارختم نبوتﷺ کو ہماری یہ حالت بتا سکے اللہ تعالی نے فرمایا میں تمھارا قاصد ہوں ۔ پھر اللہ تعالی نے جبرئیل کو حکم دیا کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے پاس جاکر یہ آیات سنائیں ولاتحسبن سے آخر تک ۔ (اخرجہ المنذری فی تفسیرہ )

ہماری اطلاع ہمارے گھروالوں کو دے دے

قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَۃَ بْنَ خِرَاشٍ، قَالَ:سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللہِ، یَقُولُ: لَقِیَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِی: یَا جَابِرُ مَا لِی أَرَاکَ مُنْکَسِرًا؟ قُلْتُ:یَا رَسُولَ اللہِ اسْتُشْہِدَ أَبِی، وَتَرَکَ عِیَالاً وَدَیْنًا، قَالَ: أَفَلاَ أُبَشِّرُکَ بِمَا لَقِیَ اللَّہُ بِہِ أَبَاکَ؟ قَالَ:بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ:مَا کَلَّمَ اللَّہُ أَحَدًا قَطُّ إِلاَّ مِنْ وَرَاء ِ حِجَابٍ، وَأَحْیَا أَبَاکَ فَکَلَّمَہُ کِفَاحًا. فَقَالَ:یَا عَبْدِی تَمَنَّ عَلَیَّ أُعْطِکَ قَالَ:یَا رَبِّ تُحْیِینِی فَأُقْتَلَ فِیکَ ثَانِیَۃً. قَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ:إِنَّہُ قَدْ سَبَقَ مِنِّی أَنَّہُمْ إِلَیْہَا لاَ یُرْجَعُونَ قَالَ:وَأُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ:(وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللہِ أَمْوَاتًا). ترجمہ:حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ایک دن مجھے دیکھا تو فرمایا اے جابر کیا بات ہے تم فکر مند نظر آتے ہو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ میرے والد شہید ہو گئے ہیں اور اپنے اوپر قرضہ اور اہل و عیال چھوڑ گئے ہیں حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا :کیا میں تمھیں نہ بتاؤں کہ اللہ تعالی نے جب بھی کسی سے بات کی تو پردے کے پیچھے سے کی لیکن تمھارے والد سے آمنے سامنے بات فرمائی اور کہا مجھ سے جو مانگو میں دوں گا تمھارے والد نے کہا مجھے دنیا میں واپس بھیج دیجئے تاکہ دوبارہ شہید ہو سکوں ۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :میری طرف سے پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے کہ کسی کو واپس نہیں جانا تمھارے والد نے کہا اے میرے پروردگار پیچھے والوں کو ہماری حالت کی اطلاع دے دیجئے اس پر اللہ تعالی نے یہ آیات نازل فرمائیں {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَاء ٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ} (سنن الترمذی:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۵:۸۰)

چھیالیس سال بعد جسم صحیح وسلامت

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی صَعْصَعَۃَ، أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْجَمُوحِ وَعَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِیَّیْنِ ثُمَّ السَّلَمِیَّیْنِ کَانَا قَدْ حَفَرَ السَّیْلُ قَبْرَہُمَا، وَکَانَ قَبْرُہُمَا مِمَّا یَلِی السَّیْلَ، وَکَانَا فِی قَبْرٍ وَاحِدٍ وَہُمَا مِمَّنِ اسْتُشْہِدَ یَوْمَ أُحُدٍ فَحُفِرَ عَنْہُمَا لِیُغَیَّرَا مِنْ مَکَانِہِمَا، فَوُجِدَا لَمْ یَتَغَیَّرَا، کَأَنَّہُمَا مَاتَا بِالْأَمْسِ، وَکَانَ أَحَدُہُمَا قَدْ جُرِحَ فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَی جُرْحِہِ، فَدُفِنَ وَہُوَ کَذَلِکَ فَأُمِیطَتْ یَدُہُ عَنْ جُرْحِہِ، ثُمَّ أُرْسِلَتْ فَرَجَعَتْ کَمَا کَانَتْ، وَکَانَ بَیْنَ أُحُدٍ، وَبَیْنَ یَوْمَ حُفِرَ عَنْہُمَا سِتٌّ وَأَرْبَعُونَ سَنَۃً۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام مالک رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ دونوں انصاری صحابی تھے ۔ سیلاب کی وجہ سے ان کی قبریں کھولی گئیں تاکہ ان کی جگہ بدلی جاسکے یہ دونوں حضرات ایک قبر میں تھے جب ان کی قبریں کھولی گئیں تو ان کے جسموں میں کوئی فرق نہیں آیا تھا گویا کہ انہیں کل دفن کیا گیا ہوان میں سے ایک کا ہاتھ شہادت کے وقت ان کے زخم پر تھا اور وہ اسی حالت میں دفن کئے گئے تھے دیکھا گیا کہ اب تک ان کا ہاتھ اسی طرح ہے لوگوں نے وہ ہاتھ وہاں سے ہٹایا مگر وہ ہاتھ واپس اسی طرح زخم پر چلا گیا غزوہ احد کے دن یہ حضرات شہید ہوئے تھے اور قبریں کھودنے کا یہ واقعہ اس کے چھیالیس سال بعد کا ہے ۔ (موطأ الإمام مالک:مالک بن أنس بن مالک بن عامر الأصبحی المدنی (۲:۴۷۰):

شہیدکے جسم سے خون جاری ہوگیا

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ مُعَاوِیَۃُ أَنْ یُجْرِیَ الْکَظَامَۃَ قَالَ: قِیلَ مَنْ کَانَ لَہُ قَتِیلٌ فَلْیَأْتِ قَتِیلَہُ یَعْنِی قَتْلَی أُحُدٍ قَالَ: فَأَخْرَجْنَاہُمْ رِطَابًا یَتَثَنُّونَ، قَالَ فَأَصَابَتِ الْمِسْحَاۃُ أُصْبُعَ رَجُلٍ مِنْہُمْ، فَانْفَطَرَتْ دَمًا ۔ ترجمہ: حضرت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جب سیدناحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نہر کظامہ جاری کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ نے اعلان کروایا کہ جس شخص کا کوئی شہید ہوتو وہ پہنچ جائے پھر ان شہداء کے اجسام نکالے گئے تو وہ بالکل تر و تازہ تھے یہاں تک کہ کھودنے کے دوران ایک شہید کے پاؤں پر کدال لگ گئی تو خون جاری ہو گیا ۔ (الجہاد لابن المبارک:أبو عبد الرحمن عبد اللہ بن المبارک بن واضح الحنظلی، الترکی ثم المرْوزی :۸۴)

حضرت سیدناسیدالشہداء رضی اللہ عنہ کے جسم شریف کاسلامت ہونا

فسمعت أبا القاسم بن حمدون بن احمد بن عبد الصمد یذکر عن أبیہ عن جدہ عن عبد الصمد قال استصرخ الناس علی موتاہم عام الجرفۃ فخرجت وخرج الناس فأتیت قبر عمی حمزۃ علیہ السلام وقد کان السیل یکشفہ فاستخرجتہ من قبرہ وعلیہ النمرۃ التی کفنہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) بہا والإذخر علی قدمیہ فوضعت رأسہ فی حجری فکان کہیئۃ الرجل فأمرت بالقبر فأعمق وضعت علیہ أکفانا وأعید الی حفرتہ ۔ ترجمہ:عبدالصمد بن علی رحمہ اللہ (جو بنو عباس کے خاندان میں سے ہیں )کہتے ہیں کہ میں اپنے (رشتے کے )چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبرپر آیا قریب تھا کہ سیلاب کا پانی ان کو ظاہر کر دیتا میں نے انہیں قبر سے نکالا تو وہ اپنی سابقہ حالت پر تھے اور ان پر وہ چادر تھی جس میں انہیں حضورتاجدارختم نبوتﷺ نے کفنایا تھا اور ان کے قدموں پر اذخر (گھاس)تھی ۔ میں نے ان کا سر اپنی گود میں رکھا تو وہ پیتل کی ہانڈی کی طرح (چمک رہا)تھا میں نے گہری قبر کھدوائی اور نیا کفن دے کر انہیں دفنا دیا ۔ (تاریخ دمشق:أبو القاسم علی بن الحسن بن ہبۃ اللہ المعروف بابن عساکر (۳۶:۲۵۰)

شہیدکادنیامیں آنے کی تمناکرنا

حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ:سَمِعْتُ قَتَادَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا أَحَدٌ یَدْخُلُ الجَنَّۃَ یُحِبُّ أَنْ یَرْجِعَ إِلَی الدُّنْیَا، وَلَہُ مَا عَلَی الأَرْضِ مِنْ شَیْء ٍ إِلَّا الشَّہِیدُ، یَتَمَنَّی أَنْ یَرْجِعَ إِلَی الدُّنْیَا، فَیُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا یَرَی مِنَ الکَرَامَۃِ۔ ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور تاجدارختم نبوت ﷺنے ارشاد فرمایا :کوئی شخص جنت میں داخل ہونے کے بعد یہ تمنا نہیں کرے گا کہ اسے دنیا میں لوٹایا جائے یا دنیا کی کوئی چیز دی جائے سوائے شہید کے کہ وہ تمنا کریگا کہ وہ دنیا میں لوٹایا جائے اور دس بار شہید کیا جائے یہ تمنا وہ اپنی (یعنی شہید کی )تعظیم (اور مقام )دیکھنے کی وجہ سے کر یگا ۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۴:۲۲)

شہید کے سات اعزاز

عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِی کَرِبَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِنَّ لِلشَّہِیدِ عِنْدَ اللَّہِ سَبْعَ خِصَالٍ: یُغْفَرُ لَہُ عِنْدَ أَوَّلِ دَفْعَۃٍ مِنْ دَمِہِ، وَیُرَی مَقْعَدَہُ مِنَ الْجَنَّۃِ، وَیُحَلَّی حُلَّۃَ الْإِیمَانِ، وَیُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِینِ، وَیُجَارُ مِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ، وَیَأْمَنُ یَوْمَ الْفَزَعِ الْأَکْبَرِ، وَیُوضَعُ عَلَی رَأْسِہِ تَاجُ الْوَقَارِ، الْیَاقُوتَۃُ مِنْہُ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا، وَیُزَوَّجُ ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِینَ زَوْجَۃً مِنَ الْحُورِ الْعِینِ، وَیُشَفَّعُ فِی سَبْعِینَ إِنْسَانًا مِنْ أَقَارِبِہِ ۔ ترجمہ:حضرت سیدنا مقدام بن معدی کر ب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ارشاد فرمایا :شہید کے لیے اللہ تعالی کے ہاں سات انعامات ہیں(۱)خون کے پہلے قطرے کے ساتھ اس کی بخشش کر دی جاتی ہے اور اسے جنت میں اس کا مقام دکھا دیا جاتا ہے(۲)اور اسے ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے (۳) عذاب قبر سے اسے بچا دیا جاتا ہے(۴)قیامت کے دن کی بڑی گھبراہٹ سے اسے امن دے دیا جاتا ہے(۵)اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ (۶) بہتر حور عین سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے (۷)اور اپنے اقارب میں ستر آدمیوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے ۔ (الجہاد لابن أبی عاصم:أبو بکر بن أبی عاصم وہو أحمد الشیبانی (۲:۵۳۲)

شہیدکو تکلیف کتنی ہوتی ہے ؟

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَا یَجِدُ الشَّہِیدُ مَسَّ الْقَتْلِ، إِلَّا کَمَا یَجِدُ أَحَدُکُمْ مِنَ الْقَرْصَۃِ۔ ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ارشاد فرمایا :شہید کو مرتے وقت صرف اتنا درد ہوتا ہے جتنا تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے ۔ (سنن ابن ماجہ: ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید (۲:۹۳۵)

معارف ومسائل

(۱) شہید اگرچہ ظاہری طورپر مرگیالیکن اس کی موت عام لوگوں کی موت نہیں ، مرنے کے بعد انسان کی ترقی رک جاتی ہے ، اس لئے کہ روح کی ترقی کاذریعہ جسم ہے ، جب روح کابدن سے تعلق ختم ہواتومراتب کی ترقی بھی ختم ہوگئی مگرشہید کی ترقی برابرجاری رہتی ہے ۔ جس عمل میں اس نے جان دی اس کااجربرابرجاری رہتاہے گویاکہ وہ اب بھی وہ عمل کررہاہے ۔ (۲) علماء اسلام کامسلک ہے کہ شہداء کی حیات جسمانی ہے ، اس لئے کہ موت اورقتل کاتعلق جسم سے ہے ، اوریہی ظاہرآیات کامفہوم ہے ، اس لئے کہ سیاق آیات شہداء کی خصوصیات بیان کرنے کے لئے ہے اورحیات روحانی شہداء کرام کے ساتھ مخصوص نہیں ہے وہ توعام مسلمان کو بھی حاصل ہے ۔ (۳) اس اعزاز کابظاہرسبب یہ ہے کہ شہید نے سب سے بڑی قربانی دی کیونکہ جان کی قربانی ہر قسم کی قربانی سے اعلی اورقیمتی ہے تواس عنصری بدن کے بدلے میں دوسراعنصری بدن اس کی روح کی سیروتفریح کے لئے اسے عطاکیاگیا، یہ جسم طیوری اس کی روح کے لئے بمنزلہ ایک طیارہ ہے ۔ حضر ت سیدناجعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو غزوہ موتہ میں شہیدہوئے حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے انہیں جعفرالطیار کالقب عطافرمایا۔ (۴)صوفیاء کرام علیہم الرحمہ فرماتے ہیں کہ نفس سے جہاد اس لئے جہاد اکبرہے کہ نفس بڑاکافراوربڑاسرکش ہے ، یہ ہمیشہ حربی کافرہی رہتاہے کبھی بھی ذمی نہیں بنتا، ہرجگہ ہروقت ہمارے ساتھ رہتاہے ، سب کو شیطان گمراہ کرتاہے مگرشیطان کو نفس نے گمراہ کیااوربڑے کافرسے جہاد بھی جہاد اکبرہے ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh