صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2547 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ طہ آیت ۱۳۲ تا ۱۳۵ ۔ وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَاؕ-لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًاؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكَؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,253

سوال (Question):

تفسیر سورہ طہ آیت ۱۳۲ تا ۱۳۵ ۔ وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَاؕ-لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًاؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكَؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَاؕ-لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًاؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكَؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى(132) ترجمہ: کنزالعرفان:اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی نماز پر ڈٹے رہو۔ ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں مانگتے (بلکہ) ہم تجھے روزی دیں گے اور اچھاانجام پرہیزگاری کے لیے ہے۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ:اور اپنے گھر والوں  کو نماز کا حکم دو۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب!صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جس طرح ہم نے آپ کو نماز ادا کرنے کا حکم دیا اسی طرح آپ بھی اپنے گھر والوں  کو نماز پڑھنے کا حکم دیں  اور خود بھی نماز ادا کرنے پر ثابت قدم رہیں ۔(روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۲، ۵ / ۴۴۸) حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں’’جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تونبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آٹھ ماہ تک حضرت علی کَرَّمَ  اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے دروازے پرصبح کی نمازکے وقت تشریف لاتے رہے اور فرماتے: ’’اَلصَّلَاۃُ رَحِمَکُمُ اللّٰہُ،اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا‘‘(ابن عساکر، حرف الطاء فی آباء من اسمہ علی، علی بن ابی طالب۔۔۔ الخ، ۴۲ / ۱۳۶) نماز اور مسلمانوں  کا حال: یاد رہے کہ اس خطاب میں حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت بھی داخل ہے اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہر امتی کو بھی یہ حکم ہے کہ وہ اپنے گھروالوں  کو نماز ادا کرنے کا حکم دے اور خود بھی نماز ادا کرنے پر ثابت قدم رہے ۔ ایک اور مقام پر  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ‘‘(التحریم:۶) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو!اپنی جانوں  اور اپنے گھر والوں  کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ، اس  پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں  جو  اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں  کرتے اور وہی کرتے ہیں  جو انہیں  حکم دیا جاتا ہے۔ افسوس! فی زمانہ نماز کے معاملے میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ گھر والے نمازیں  چھوڑدیں ، انہیں ا س کی پرواہ نہیں ۔خود کی نمازیں  ضائع ہو جائیں  ،انہیں  اس کی فکر نہیں  اورکوئی شخص نماز چھوڑنے پرانہیں  اُخروی حساب اور عذاب سے ڈرائے ،انہیں اس کا احساس نہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں  ہدایت عطا فرمائے اورنہ صرف خود نمازیں  ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے بلکہ اپنے گھر والوں  کو بھی نمازی بنانے کی ہمت و توفیق نصیب کرے،اٰمین۔ {لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًا: ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں  مانگتے۔} ارشاد فرمایا کہ ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں  مانگتے اور اس بات کا پابند نہیں  کرتے کہ ہماری مخلوق کو روزی دے یا اپنے نفس اور اپنے اہل کی روزی کے ذمہ دار ہو بلکہ ہم تجھے روزی دیں  گے اور انہیں  بھی ، تو روزی کے غم میں  نہ پڑ ،بلکہ اپنے دل کو امر ِآخرت کے لئے فارغ رکھ کہ جو  اللہ تعالیٰ کے کام میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی کارسازی کرتا ہے اور آخرت کا اچھاانجام پرہیزگاری اختیار کرنے والوں کے لیے ہے۔( مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۳۲، ص۷۰۷-۷۰۸) اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ موڑنے کا انجام: اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے کسی کو روزی دینا اس کے ذمے نہیں  بلکہ سب کو روزی دینے والی ذات  اللہ تعالیٰ کی ہے ۔ اسی طرح ایک اور مقام پر  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے : ’’وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ(۵۷)اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ‘‘(الذاریات:۵۶۔۵۸) ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور میں  نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔میں  ان سے کچھ رزق نہیں  مانگتا اور نہ  یہ چاہتا ہوں  کہ وہ مجھے کھلائیں ۔بیشک  اللہ ہی بڑا رزق دینے والا، قوت والا، قدرت والا ہے۔ یاد رہے کہ ان آیتوں  کا مَنشاء یہ نہیں  کہ انسان کمانا چھوڑ دے،کیونکہ کمائی کرنے کا حکم قرآن و حدیث میں  بہت جگہ آیا ہے،بلکہ منشاء یہ ہے کہ بندہ کمائی کی فکر میں  آخرت سے غافل نہ ہو اوردنیاکمانے میں  اتنامگن نہ ہوجائے کہ حلال وحرام کی تمیزنہ کرے اور نماز،روزے ،حج ،زکوٰۃ سے غافل ہوجائے ۔ افسوس! فی زمانہ مسلمان مال کمانے میں اس قدر مگن ہو چکے ہیں  کہ صبح شام ،دن رات اسی میں سرگرداں ہیں  اور ان کے پاس اتنی فرصت نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوسکیں اوراس خالق ومالک کویاد کرسکیں  جوحقیقی روزی دینے والاہے ،اور اتنی محنت و کوشش کے باوجود ان کا جو معاشی حال ہے وہ سب کے سامنے ہے کہ آج ہر کوئی رزق کی کمی، مہنگائی، بیماری اور پوری نہیں  پڑتی کا رونا رو رہا ہے۔ اے کاش! مسلمان رزق حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ اس ذمہ داری کو بھی پورا کرتے جو  اللہ تعالیٰ نے ان پر لازم کی ہے تو آج ان کا حال اس سے بہت مختلف ہوتا۔ عبرت کے لئے یہاں  3اَحادیث ملاحظہ فرمائیں : (1)…حضرت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، تاجدار رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جسے آخر ت کی فکر ہو اللہ تعالیٰ اس کا دل غنی کر دیتا ہے اور اس کے بکھرے ہوئے کاموں  کو جمع کر دیتا ہے اور دنیاا س کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے اور جسے دنیا کی فکر ہو، اللہ تعالیٰ محتاجی اس کی دونوں  آنکھوں  کے سامنے اور اس کے جمع شدہ کاموں  کو مُنْتَشر کر دیتا ہے اور دنیا (کامال ) بھی اسے اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس کے لئے مقدر ہے۔( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۳۰-باب، ۴ / ۲۱۱، الحدیث: ۲۴۷۳) (2)…حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’جو شخص تمام فکروں  کو چھوڑ کر ایک چیز(یعنی) آخرت کی فکر سے تعلق رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے تمام دُنْیَوی کام اپنے ذمے لے لے گااور جو دنیوی فکروں میں مبتلا رہے گاتو اللہ تعالیٰ کو کچھ پرواہ نہیں،خواہ وہ کہیں بھی مرے۔( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الہمّ بالدنیا، ۴ / ۴۲۵، الحدیث: ۴۱۰۶) (3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’اے انسان! تو میری عبادت کے لئے فارغ ہو جا ،میں  تیرا سینہ غنا سے بھر دوں  گااور تیری محتاجی کا دروازہ بند کر دوں  گااور اگر تو ایسا نہ کرے گا تو تیرے دونوں  ہاتھ مَشاغل سے بھر دوں  گااور تیری محتاجی کا دروازہ بند نہ کروں  گا۔( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، ۳۰-باب، ۴ / ۲۱۱، الحدیث: ۲۴۷۴) روزی کے دروازے کھلنے کا ذریعہ: اس آیت سے اشارۃً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نیک اعمال سے روزی کے دروازے کھلتے ہیں ۔ایک اور مقام پر  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے: ’’ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲) وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ‘‘(سورۂ طلاق:۲،۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیےنکلنے کا راستہ بنادے گا۔ اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان (بھی)نہ ہو۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى(133)

ترجمہ: کنزالعرفان
اور کافر وں نے کہا: یہ نبی اپنے رب کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے ؟ اور کیا ان لوگوں کے پاس پہلی کتابوں میں مذکور بیان نہ آیا۔
 

تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ قَالُوْا:اور کافر وں  نے کہا۔} کثیر نشانیاں  آ جانے اور معجزات کا مُتَواتِر ظہور ہو نے کے باوجودکفار ان سب سے اندھے بنے اور انہوں  نے حضورپُرنورصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نسبت یہ کہہ دیا کہ آپ اپنے ربّ کے پاس سے کوئی ایسی نشانی کیوں  نہیں  لاتے جو آپ کی نبوت صحیح ہونے پر دلالت کرے ، اس کے جواب میں   اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’ کیا ان لوگوں  کے پاس پہلی کتابوں  میں  مذکور قرآن اور دو عالَم کے سردارصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بشارت اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت و بِعثت کا ذکر نہ آیا، یہ کیسی عظیم ترین نشانیاں  ہیں  اور ان کے ہوتے ہوئے اور کسی نشانی کو طلب کرنے کا کیا موقع ہے۔( ابو سعود، طہ، تحت الآیۃ۱۳۳، ۳ / ۵۰۰)

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِـعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى(134)قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْاۚ-فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى(135)

ترجمہ: کنزالعرفان
اور اگر ہم انہیں رسول کے آنے سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو ضرور کہتے: اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیری آیتوں کی پیروی کرتے؟ تم فرماؤ:ہر کوئی انتظار کررہا ہے تو تم بھی انتظار کرو توعنقریب تم جان لوگے کہ سیدھے راستے والے کون تھے اور کس نے ہدایت پائی؟

تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ:اور اگر ہم انہیں  رسول کے آنے سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر ہم نبی کو بھیجے بغیر کفار پر عذاب بھیج دیتے توقیامت کے دن یہ لوگ شکایت کرتے کہ ہم میں  کوئی رسول توبھیجا ہوتا پھر اگر ہم اس کی اطاعت نہ کرتے تو عذاب کے مستحق ہوتے ۔اب انہیں  اس شکایت کا بھی موقعہ نہیں  کیونکہ اب سرکارِ دوعالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لاچکے ہیں ۔

 { قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا:تم فرماؤ:ہر کوئی انتظار کررہا ہے تو تم بھی انتظار کرو ۔}شانِ نزول:مشرکین نے کہا تھا کہ ہم زمانے کے حوادِث اور انقلاب کا انتظار کرتے ہیں  کہ کب مسلمانوں  پر آئیں  اور ان کا قصہ تمام ہو ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور بتایا گیا کہ تم مسلمانوں  کی تباہی و بربادی کا انتظار کر رہے ہو اورمسلمان تمہارے عقوبت و عذاب کا انتظار کر رہے ہیں  ۔عنقریب جب خدا کا حکم آئے گا اور قیامت قائم ہو گی تو تم جان لوگے کہ سیدھے راستے والے کون تھے اور کس نے ہدایت پائی؟( خازن، طہ، تحت الآیۃ۱۳۵، ۳ / ۲۷۰)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh