Fatwa #2544
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ طہ آیت ۶۵ تا ۶۸۔ قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِمَّآ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّآ اَنْ نَّکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰی
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,935
سوال (Question):
تفسیر سورہ طہ آیت ۶۵ تا ۶۸۔ قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِمَّآ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّآ اَنْ نَّکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے ادب کی برکت سے سترہزارجادوگروں کاایمان سے مشرف ہونا
{قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِمَّآ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّآ اَنْ نَّکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰی }(۶۵){قَالَ بَلْ اَلْقُوْا فَاِذَا حِبَالُہُمْ وَ عِصِیُّہُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِہِمْ اَنَّہَا تَسْعٰی}(۶۶){فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّوْسٰی}(۶۷){قُلْنَا لَاتَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی }(۶۸) ترجمہ کنزالایمان:بولے اے موسیٰ یا تو تم ڈالو یا ہم پہلے ڈالیں۔موسیٰ نے کہا بلکہ تمہیں ڈالو جبھی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے ان کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں ۔ تو اپنے جی میں موسیٰ نے خوف پایا۔ ہم نے فرمایا ڈر نہیں بیشک تو ہی غالب ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:انہوں نے کہا:اے موسیٰ !(علیہ السلام)یا آپ (عصا نیچے)ڈالتے ہو یا ہم پہلے ڈالتے ہیں۔موسیٰ( علیہ السلام )نے فرمایا:بلکہ تمہیں ڈالو تواچانک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے موسیٰ (علیہ السلام )کے خیال میں یوں لگیں کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔ تو موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا۔ توہم نے فرمایا:ڈرو نہیں بیشک تم ہی غالب ہو۔ حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے ادب کی وجہ سے ان کو ایمان نصیب ہوا امَّا أَنْ تُلْقِیَ مَا مَعَکَ قَبْلَنَا، وَإِمَّا أَنْ نُلْقِیَ مَا مَعَنَا قَبْلَکَ، وَہَذَا التَّخْیِیرُ مَعَ تَقْدِیمِہِ فِی الذِّکْرِ حُسْنُ أَدَبٍ مِنْہُمْ وَتَوَاضُعٌ لَہُ، فَلَا جَرَمَ رَزَقَہُمُ اللَّہ تَعَالَی الْإِیمَانَ بِبَرَکَتِہِ، ثُمَّ إِنَّ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلَامُ قَابَلَ أَدَبَہُمْ بِأَدَبٍ۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی :۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کامعنی یہ ہے کہ اے موسی !آپ علیہ السلام وہ پہلے ڈالتے ہیں جوکچھ آپ کے پاس ہے یاہم پہلے ڈالیں جوہمارے پاس ہے ، ان جادوگروں کاحضرت سیدناموسی علیہ السلام کو اختیاردینا، ذکرمیں ان کو مقدم کرنا، جادوگروں کی طرف سے حسن ادب اورتواضع ہے توحق یہی تھاکہ اللہ تعالی انہیں اس تعظیم نبوی کی برکت سے ایمان عطافرمائے۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۲۲:۷۱)امام اسماعیل حقی الحنفی رحمہ اللہ تعالی کی روح پرتقریر
وفیہ اشارۃ الی ان السحرۃ لما اعزوا موسی علیہ السلام بالتقدیم والتخییر فی الإلقاء أعزہم اللہ بالایمان الحقیقی حتی رأوا بنور الایمان معجزۃ موسی فآمنوا بہ تحقیقا لا تقلیدا وہذا حقیقۃ قولہ (من تقرب الی شبرا تقربت الیہ ذراعا)فلما تقربوا الی اللہ بإعزاز من أعزہ اللہ أعزہم بالایمان تقربا الیہ فکذلک أعزہم موسی بالتقدیم فی الإلقاء کما حکی اللہ عنہ بقولہ قالَ موسی بَلْ أَلْقُوا اولا ما أنتم ملقون۔یقول الفقیر الظاہر ان اللہ تعالی الہم السحرۃ التخییر وعلم موسی اختیار القائہم اولا لیظہر الحق من الباطل لان الحق یدفع الباطل ویمحوہ ولو کان موسی أول من ألقی لتفرق الناس من أول الأمر خیفۃ الثعبان کما تفرقوا بعد ابتلاع العصا عصیہم وحبالہم وذا مخل بالمقصود۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں اشارہ ہے کہ جب جادوگروں نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام کوتقدیم واختیارکاکہہ کرآپ علیہ السلام کی تعظیم کی تواللہ تعالی نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے صدقے میں انہیں ایمان حقیقی عطافرمایا، اسی لئے انہوںنے نورِ ایمان سے حضرت سیدناموسی علیہ السلام کامعجزہ دیکھاتوانہیں ایمان حقیقی نصیب ہوا، ان کاایمان تقلیدی نہیں تھایہی حقیقت ہے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے اس فرمان شریف کی کہ حدیث قدسی میں آیاہے کہ {من تقرب الی شبرا تقربت الیہ ذراعا}اللہ تعالی فرماتاہے کہ جو ایک بالشت میرے قریب آتاہے میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوجاتاہوں۔ جب وہ اللہ تعالی کے پاک نبی حضرت سیدناموسی علیہ السلام کی عزت کرکے اللہ تعالی کے قریب ہوئے تواللہ تعالی نے انہیں ایمان حقیقی دے کرانہیں اپنے قریب کرلیا۔ حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے انہیں فرمایاکہ بلکہ پہلے تم ڈالو!اللہ تعالی نے جادوگروں کے دلوں میں القاء فرمایاکہ وہ موسی علیہ السلام کو اختیارکاعرض کریں اورحضرت سیدناموسی علیہ السلام کوعلم عطافرمایاکہ پہلے وہ ڈنڈے اوررسیاں ڈالیں تاکہ حق وباطل کاامتیاز ہوسکے ، وہ اس طرح سے کہ پہلے اپنازورلگالیں پھرحق آئے گاتوباطل مٹ جائے گا، اگرحضرت سیدناموسی علیہ السلام پہلے ہی اپناعصاڈال کراژدہابنادیتے تولوگ اس کے ڈرکی وجہ سے بھاگ جاتے جیساکہ بعد میں ہواکہ جب حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے عصاشریفہ نے اژدھابن کران کی رسیوں کو نگلاتوتمام کے تمام لوگ بھاگ گئے اوران کااس طرح حضرت سیدناموسی علیہ السلام کامعجزہ دیکھے بغیربھاگ جانامقصدکے خلاف تھا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۵:۴۰۱)حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے خوف کی وجہ ؟
وقال بعض أہل الحقائق: إن کَانَ السَّبَبُ أَنَّ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمَّا الْتَقَی بِالسَّحَرَۃِ وَقَالَ لَہُمْ:” وَیْلَکُمْ لَا تَفْتَرُوا عَلَی اللَّہِ کَذِباً فَیُسْحِتَکُمْ بِعَذابٍ الْتَفَتَ فَإِذَا جِبْرِیلُ عَلَی یَمِینِہِ فَقَالَ لَہُ یَا مُوسَی تَرَفَّقْ بِأَوْلِیَاء ِ اللَّہِ فَقَالَ مُوسَی:یَا جِبْرِیلُ ہَؤُلَاء ِ سَحَرَۃٌ جَاء ُوا بِسِحْرٍ عَظِیمٍ لِیُبْطِلُوا الْمُعْجِزَۃَ، وَیَنْصُرُوا دِینَ فِرْعَوْنَ، وَیَرُدُّوا دِینَ اللَّہِ، تَقُولُ:ترفق بِأَوْلِیَاء ِ اللَّہِ!فَقَالَ جِبْرِیلُ:ہُمْ مِنَ السَّاعَۃِ إِلَی صَلَاۃِ الْعَصْرِ عِنْدَکَ، وَبَعْدَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ فِی الْجَنَّۃِفَلَمَّا قَالَ لَہُ ذَلِکَ، أَوْجَسَ فِی نَفْسِ مُوسَی وَخَطَرَ أَنَّ مَا یُدْرِینِی مَا عِلْمُ اللَّہِ فِیَّ، فَلَعَلِّی أَکُونُ الْآنَ فِی حَالَۃٍ، وَعِلْمُ اللَّہِ فِیَّ عَلَی خِلَافِہَا کَمَا کَانَ ہَؤُلَاء ِفَلَمَّا عَلِمَ اللَّہُ مَا فِی قَلْبِہِ أَوْحَی اللَّہُ إِلَیْہِ لَا تَخَفْ إِنَّکَ أَنْتَ الْأَعْلی أَیِ الْغَالِبُ لَہُمْ فِی الدُّنْیَا، وَفِی الدَّرَجَاتِ الْعُلَا فِی الْجَنَّۃِ، لِلنُّبُوَّۃِ وَالِاصْطِفَاء ِ الَّذِی آتَاکَ اللَّہُ بِہِ۔۔ ترجمہ :بعض علماء نے فرمایاکہ حضرت سیدناموسی علیہ السلام کو خوف لاحق ہواکہ آپ علیہ السلام کے عصاڈالنے کی وحی میں تاخیرہوئی کہ لوگ اس سے پہلے جداہوجائیں گے اورفتنہ میں مبتلاء ہوجائیں گے ۔ بعض اہل الحقائق نے بیان کیاہے کہ اس کاسبب یہ تھاکہ حضرت سیدناموسی علیہ السلام جب جادوگروں سے ملے اورآپ علیہ السلام نے انہیں فرمایا: ارے کم بختو!اللہ تعالی کی ذات پرجھوٹے بہتان نہ باندھوورنہ وہ تمھارانام ونشان نہیں چھوڑے گااورتم کو عذاب میں مبتلاء کردے گا، حضرت سیدناموسی علیہ السلام متوجہ ہوئے توحضرت سیدناجبریل امین علیہ السلام آپ علیہ السلام کے دائیں جانب کھڑے ہوئے تھے ، توجبریل امین علیہ السلام نے حضر ت سیدناموسی علیہ السلام سے کہاکہ اے موسی !اللہ تعالی کے دوستوں کے ساتھ نرمی کرو!حضرت سیدناموسی علیہ السلام فرمانے لگے کہ اے جبریل !یہ جادوگرہیں ، بڑاجادولے کرآئے ہیں تاکہ معجزہ کوباطل کردیں اورفرعون کے دین کی مددکریں اوراللہ تعالی کے دین کوردکردیں ، آپ کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالی کے دوستوں کے ساتھ نرمی کرو۔ جبریل امین علیہ السلام نے کہاکہ یہ اس وقت سے لیکرعصرتک تمھارے پاس ہیں ، عصرکے وقت یہ جنت میں ہوں گے ، جب حضرت سیدناجبریل امین علیہ السلام نے یہ کہاتوحضرت سیدناموسی علیہ السلام کے دل میں خوف محسوس ہوا، حضرت سیدناموسی علیہ السلام کوخطرہ محسوس ہواکہ میرے بارے میں جواللہ تعالی کاعلم ہے اس کامجھے علم نہیں ، شایدمیں ایک حالت میں ہوں اوراللہ تعالی کاعلم میرے بارے میں اس حالت کے خلاف ہو جیساکہ وہ لوگ تھے ، جب اللہ تعالی نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے خوف کوجان لیاتواللہ تعالی نے ان کی طرف وحی فرمائی {لَا تَخَفْ إِنَّکَ أَنْتَ الْأَعْلی}یعنی آپ علیہ السلام ہی دنیامیں ان پرغالب ہوںگے اورجنت میں بلنددرجات پرہوگے ۔ (تفسیر القرطبی: أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۱:۲۲۳)حضرت سیدناموسی علیہ السلام پر ایک اعتراض کے پانچ جوابات
السُّؤَالُ الْأَوَّلُ:کَیْفَ یَجُوزُ أَنْ یَقُولَ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلَامُ: بَلْ أَلْقُوا فَیَأْمُرُہُمْ بِمَا ہُوَ سِحْرٌ وَکُفْرٌ لِأَنَّہُمْ إِذَا قَصَدُوا بِذَلِکَ تَکْذِیبَ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلَامُ کَانَ کُفْرًاوَالْجَوَابُ مِنْ وُجُوہٍ:أَحَدُہَا:لَا نُسَلِّمُ أَنَّ نَفْسَ الْإِلْقَاء ِ کُفْرٌ وَمَعْصِیَۃٌ لِأَنَّہُمْ إِذَا أَلْقَوْا وَکَانَ غَرَضُہُمْ أَنْ یَظْہَرَ الْفَرْقُ بَیْنَ ذَلِکَ الْإِلْقَاء ِ وَبَیْنَ مُعْجِزَۃِ الرَّسُولِ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَہُوَ مُوسَی کَانَ ذَلِکَ الْإِلْقَاء ُ إِیمَانًا وَإِنَّمَا الْکُفْرُ ہُوَ الْقَصْدُ إِلَی تَکْذِیبِ مُوسَی وَہُوَ عَلَیْہِ السَّلَامُ إِنَّمَا أَمَرَ بِالْإِلْقَاء ِ لَا بِالْقَصْدِ إِلَی التَّکْذِیبِ فَزَالَ السُّؤَالُ وَثَانِیہَا:ذَلِکَ الْأَمْرُ کَانَ مَشْرُوطًا وَالتَّقْدِیرُ:أَلْقُوا مَا أَنْتُمْ مُلْقُونَ إِنْ کُنْتُمْ مُحِقِّینَ کَمَا فِی قَوْلِہِ تَعَالَی:فَأْتُوا بِسُورَۃٍ مِنْ مِثْلِہِ إِنْ کُنْتُمْ صادِقِینَ (الْبَقَرَۃِ:۲۳)أَیْ إِنْ کُنْتُمْ قَادِرِینَ وَثَالِثُہَا: أَنَّہُ لَمَّا تَعَیَّنَ ذَلِکَ طَرِیقًا إِلَی کَشْفِ الشُّبْہَۃِ صَارَ ذَلِکَ جَائِزًاوَہَذَا کَالْمُحِقِّ إِذَا عَلِمَ أَنَّ فِی قَلْبِ وَاحِدٍ شُبْہَۃً وَأَنَّہُ لَوْ لَمْ یُطَالِبْہُ بِذِکْرِہَا وَتَقْرِیرِہَا بِأَقْصَی مَا یَقْدِرُ عَلَیْہِ لَبَقِیَتْ تِلْکَ الشُّبْہَۃُ فِی قَلْبِہِ، وَیَخْرُجُ بِسَبَبِہَا عَنِ الدِّینِ فَإِنَّ لِلْمُحِقِّ أَنْ یُطَالِبَہُ بِتَقْرِیرِہَا عَلَی أَقْصَی الْوُجُوہِ وَیَکُونُ غَرَضُہُ مِنْ ذَلِکَ أَنْ یُجِیبَ عَنْہَا وَیُزِیلَ أَثَرَہَا عَنْ قَلْبِہِ فَمُطَالَبَتُہُ بِذِکْرِ الشُّبْہَۃِ لہذا الغرض تکون جائزۃ فکذا ہاہناوَرَابِعُہَا: أَنْ لَا یَکُونَ ذَلِکَ أَمْرًا بَلْ یَکُونُ مَعْنَاہُ إِنَّکُمْ إِنْ أَرَدْتُمْ فِعْلَہُ فَلَا مَانِعَ مِنْہُ حِسًّا لِکَیْ یَنْکَشِفَ الْحَقُّ وَخَامِسُہَا:أَنَّ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلَامُ لَا شَکَّ أَنَّہُ کَانَ کَارِہًا لِذَلِکَ وَلَا شَکَّ أَنَّہُ نَہَاہُمْ عَنْ ذَلِکَ بِقَوْلِہِ: وَیْلَکُمْ لَا تَفْتَرُوا عَلَی اللَّہِ کَذِباً فَیُسْحِتَکُمْ بِعَذابٍ (طہ:۶۱)وَإِذَا کَانَ الْأَمْرُ کَذَلِکَ اسْتَحَالَ أَنْ یَکُونَ قَوْلُہُ أَمْرًا لَہُمْ بِذَلِکَ لِأَنَّ الْجَمْعَ بَیْنَ کَوْنِہِ نَاہِیًا وَآمِرًا بِالْفِعْلِ الْوَاحِدِ مُحَالٌ، فَعَلِمْنَا أَنَّ قَوْلَہُ غَیْرُ مَحْمُولٍ عَلَی ظَاہِرِہِ وَحِینَئِذٍ یَزُولُ الْإِشْکَالُ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے بھی اپنے ادب کے مقابلے میں ان کی پذیرائی کرتے ہوئے فرمایا: {بَلْ أَلْقُوا}بلکہ تم ہی ڈالو، اس کے بارے کچھ سوالات ہیں : پہلاسوال : حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے لئے {بَلْ أَلْقُوا}کیسے جائز ہے کہ آپ علیہ السلام نے جادوگروں کوجادوکرنے اورکفرکرنے کاحکم دیاجبکہ وہ اس سے حضرت سیدناموسی علیہ السلام کی تکذیب کاارادہ رکھتے تھے تویہ کفرہوگا؟۔ جواب : اس کے کئی جواب دیئے گئے ہیں : پہلاجواب : ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ان کاان چیزوں کو ڈالناکفراورمعصیت ہے کیونکہ جب انہوں نے انہیں ڈالاتوان کی غرض یہ تھی کہ اس جادواورمعجزہ میں فرق ہوجائے تویہ ڈالناایمان ہوگا۔ کفرحضرت سیدناموسی علیہ السلام کی تکذیب کاارادہ ہے اورحضرت سیدناموسی علیہ السلام نے انہیں ان چیزوں کے ڈالنے کاحکم دیانہ کہ تکذیب کے ارادے کاتوسوال زائل ہوگیا۔ دوسراجواب : یہ حکم مشروط تھااورپوری عبارت یوں ہے {أَلْقُوا مَا أَنْتُمْ مُلْقُونَ}اگرتم حق ثابت کرنے والے ہوجیسے اللہ تعالی کے اس فرمان شریف میں ہے کہ {فَأْتُوا بِسُورَۃٍ مِنْ مِثْلِہِ إِنْ کُنْتُمْ صادِقِین}(تواس جیسی ایک سورت لے آئواوراللہ تعالی کے سوااپنے سب حمائیتوں کو بلالو اگرتم سچے ہو) یعنی اگرتم اس پرقدرت رکھتے ہو۔ تیسراجواب : جب شبہات دورکرنے کایہی معین طریقہ تھاتویہ جائز ہوگا، یہ اس حق والے کی طرح ہے جس کے علم میں آئے کہ فلاں کے دل میں شبہ ہے اگروہ اس کے ذکراورتفصیل کااس آدمی سے حسب طاقت مطالبہ نہ کرے تووہ شبہ ا سکے دل میں باقی رہے گاجس کی وجہ سے وہ دین سے نکل جائے گا، اب حق ثابت کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس سے انتہائی تفصیل کامطالبہ کرے ، اس کے مطالبہ سے اس کی غرض اس شبہ کاجواب دینااوراس کے دل میں اس کے اثرات کوزائل کرناہے ، اس مقصدکے لئے شبہ کے ذکرکامطالبہ کرناجائز ہے ، اسی طرح کامعاملہ یہاں ہواہے ۔ چوتھاجواب : یہ امروحکم نہیں تھابلکہ معنی یہ ہے کہ اگراس فعل کاارادہ کرتے ہوتواس میں کوئی رکاوٹ نہیں تاکہ حق منکشف ہوجائے۔ پانچواں جواب : حضرت سیدناموسی علیہ السلام بلاشبہ اس معاملے میں مجبورتھے اورآپ علیہ السلام نے انہیں یوں کہنے {وَیْلَکُمْ لَا تَفْتَرُوا عَلَی اللَّہِ کَذِباً فَیُسْحِتَکُمْ بِعَذاب}( تمھیں خرابی ہواللہ تعالی پرجھوٹ نہ باندھوکہ وہ تمھیں عذاب سے ہلاک کردے )جب معاملہ اس طرح ہے توپھرمحال ہے کہ آپ علیہ السلام ان کے لئے اس چیز کاحکم دے کیونکہ یہ ایک ہی فعل کے لئے بندہ کامنع کرنے اوربجالانے کاحکم دینے والاہوناہے اوریہ محال ہے توہمیں یقین ہوگیاکہ حضرت سیدناموسی علیہ السلام کاقول اپنے ظاہرپرمحمول ہے اوراب بھی اشکال زائل ہوجائے گا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۲۲:۷۱) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاحضورتاجدارختم نبوتﷺکے ادب کرنے کانرالہ اندازحضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کاادب بارگاہ نبوی میں
عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ:أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَہَبَ إِلَی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِیُصْلِحَ بَیْنَہُمْ، فَحَانَتِ الصَّلاَۃُ، فَجَاء َ المُؤَذِّنُ إِلَی أَبِی بَکْرٍ، فَقَالَ:أَتُصَلِّی لِلنَّاسِ فَأُقِیمَ؟ قَالَ:نَعَمْ فَصَلَّی أَبُو بَکْرٍ، فَجَاء َ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِی الصَّلاَۃِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّی وَقَفَ فِی الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ لاَ یَلْتَفِتُ فِی صَلاَتِہِ، فَلَمَّا أَکْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِیقَ التَفَتَ، فَرَأَی رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:أَنِ امْکُثْ مَکَانَکَ، فَرَفَعَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَدَیْہِ، فَحَمِدَ اللَّہَ عَلَی مَا أَمَرَہُ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِکَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَکْرٍ حَتَّی اسْتَوَی فِی الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّی،فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:یَا أَبَا بَکْرٍ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُکَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ:مَا کَانَ لِابْنِ أَبِی قُحَافَۃَ أَنْ یُصَلِّیَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَا لِی رَأَیْتُکُمْ أَکْثَرْتُمُ التَّصْفِیقَ، مَنْ رَابَہُ شَیْء ٌ فِی صَلاَتِہِ، فَلْیُسَبِّحْ فَإِنَّہُ إِذَا سَبَّحَ التُفِتَ إِلَیْہِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِیقُ لِلنِّسَاء ِ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺعمرو بن عوف قبیلے میں صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو مؤذن نے حضرت سیدناابوبکررضی اللہ عنہ کے پاس آ کرعرض کی :اگر آپ نماز پڑھائیں تو میں اقامت کہہ دوں؟ انہوں نے فرمایا:ہاں۔ اس کے بعد حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے۔اتنے میںحضورتاجدارختم نبوتﷺتشریف لے آئے جبکہ لوگ نماز میں مصروف تھے۔ آپﷺ صفوں میں سے گزر کر پہلی صف میں پہنچے۔ اس پر لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں، لیکن حضرت سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے عادی نہ تھے۔ جب لوگوں نے مسلسل تالیاں بجائیں تو حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ متوجہ ہوئے اور حضورتاجدارختم نبوتﷺپر ان کی نظر پڑی (وہ پیچھے ہٹنے لگے)توحضورتاجدارختم نبوتﷺنے اشارہ کیا:تم اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔ اس پر حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے انہیں امامت کا اعزاز بخشا ہے، تاہم وہ پیچھے ہٹ کر لوگوں کی صف میں شامل ہو گئے اور حضورتاجدارختم نبوتﷺنے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ فراغت کے بعد آپ ﷺنے فرمایا:اے ابوبکر!جب میں نے تمہیں حکم دیا تھا تو تم کھڑے کیوں نہ رہے؟حضرت سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:ابوقحافہ کے بیٹے کی کیا مجال کہ وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے آگے نماز پڑھائے۔ پھرحضورتاجدارختم نبوتﷺنے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:کیا وجہ ہے کہ میں نے تمہیں بکثرت تالیاں بجاتے ہوئے دیکھا؟ (دیکھو)جب کسی کو دوران نماز میں کوئی بات پیش آئے تو سبحان اللہ کہنا چاہئے کیونکہ جب وہ سبحان اللہ کہے گا تو اس کی طرف توجہ دی جائے گی اور تالی بجانا تو صرف عورتوں کے لیے ہے۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۱:۱۳۷) شیخ، مرشد، استاد اور قائدکے ادب کے متعلق ہے کہ نماز پہلے ادا کی جائے گی شیخ کا ادب بعد میں ہے مگرحضورتاجدارختم نبوتﷺکاادب پہلے ہے اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے ادب کے بارے میں ہے خواہ نماز بھی ہو توحضورتاجدارختم نبوتﷺکا ادب پہلے ہے۔ نماز بعد میں پڑھی جائے گی۔ یعنی اد ب حضورتاجدارختم نبوتﷺمیں قانون بدل جائے گا۔ یہ سوال پیدا ہوا کہ قانون کیوں بدلا؟ دراصل نماز نام ہی دو چیزوں کا ہے۔ اللہ تعالی کی ثنااور حضورتاجدارختم نبوتﷺپر سلام۔ فرمایا جب قیام، رکوع، سجود، قومہ، جلسہ کریں تو اس کی قبولیت کا طریقہ یہ ہے کہ تم رانوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاؤ۔ میرے حبیب کریمﷺ پر سلام پڑھو۔ ثناء بھی قبول کروانی ہو تو حضورتاجدارختم نبوتﷺپر سلام سے ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالی اپنی ثناء بھی حضورتاجدارختم نبوتﷺ پر سلام کے بغیر قبول نہیں کرتا تو دعا حضورتاجدارختم نبوتﷺ پر سلام کے بغیر کیسے قبول ہوسکتی ہے۔ غرض دنیا و آخرت کی بھلائیاں صرف ادب حضورتاجدارختم نبوتﷺ میں ہی ہیں۔حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کاکمال ادب
قال ابن الأعرابی:روی أن أعرابیا جاء إلی أبی بکرفقال:أنت خلیفۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ قال:لا، قال:فما أنت؟ قال:أنا الخالفۃ بعدہ أی القاعدۃ بعدہ۔ ترجمہ :ابن الاعرابی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی صحابی رضی اللہ عنہ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے خلیفہ ہیں؟ خلیفہ کا معنی ہے نائب، جانشین لیکن حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ادباً فرمایا: میری کیا مجال کہ میں حضورتاجدارختم نبوتﷺ کا جانشیں بنوں فرمایا خلیفہ نہیں بلکہ خالفہ ہوں ۔ (کنز العمال:علاء الدین علی بن حسام الدین ابن قاضی خان القادری الشاذلی(۱۲:۵۳۱) پنجابی میں پوت اس کو کہتے ہیں جو باپ کی طرف سے ملنے والی خصلتوں کو برقرار رکھے، سپوت اس کو کہتے ہیں جو باپ کی عزت کو اور بڑھادے۔ اس کی عزت کو چار چاند لگادے لیکن کپوت اس کو کہتے ہیں جو باپ سے ملنے والی خوبیوں کو گنوادے۔ اسے عربی میں خالفہ کہتے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں حضرت سیدناصدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے مقام مرتبہ سے ہر کوئی آگاہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضور تاجدارختم نبوتﷺ نے خود فرمایا :میں نے دنیا میں ہر ایک کا بدلہ چکا دیا ہے سوائے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ان کے احسان کا بدلہ قیامت کے دن چکاؤں گا۔ ہجرت کی رات کفار تلوار لے کر کھڑے ہوئے کہ حملہ کرکے آپﷺ کو شہید کردیں گے۔ حضور تاجدارختم نبوتﷺ نے بستر پر حضرت سیدنامولا علی رضی اللہ عنہ کو لٹایا۔ ان کا بستر پر لیٹنا گویا کہ اپنی جان کافروں کی تلواروں کے سپرد کرنا تھا اور حضرت سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ غار میں گئے۔ اپنا انگوٹھا اژدھا کو دے دیا۔ دونوں سپوت تھے جو جان دے رہے تھے مگر حضرت سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں خلیفہ نہیں خالفہ ہوں یعنی خاندان کا وہ فرد جس میں کوئی خوبی نہ ہو۔ میں وہ ہوں۔ حضور تاجدارختم نبوتﷺ کا نائب سمجھنا بھی بے ادبی سمجھا۔ خلیفہ کی جگہ خالفہ بول دیا۔ ادب کایہ عالم تھا۔حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کاحضورتاجدارختم نبوتﷺکے اسم شریف کاادب
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی، قَالَ:نَظَرَ عُمَرُ إِلَی أَبِی عَبْدِ الْحَمِیدِ أَوْ ابْنِ عَبْدِ الْحَمِیدِ، شَکَّ أَبُو عَوَانَۃَ ، وَکَانَ اسْمُہُ مُحَمَّدًا وَرَجُلٌ یَقُولُ لَہُ:یَا مُحَمَّدُ، فَعَلَ اللَّہُ بِکَ، وَفَعَلَ، وَفَعَلَ، قَالَ:وَجَعَلَ یَسُبُّہُ، قَالَ: فَقَالَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عِنْدَ ذَلِکَ:یَا ابْنَ زَیْدٍ، ادْنُ مِنِّی، قَالَ:أَلَا أَرَی مُحَمَّدًا یُسَبُّ بِکَ لَا وَاللَّہِ لَا تُدْعَی مُحَمَّدًا مَا دُمْتُ حَیًّا، فَسَمَّاہُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَی بَنِی طَلْحَۃَ لِیُغَیِّرَ أَہْلُہُمْ أَسْمَاء َہُمْ، وَہُمْ یَوْمَئِذٍ سَبْعَۃٌ وَسَیِّدُہُمْ وَأَکْبَرُہُمْ مُحَمَّدٌ، قَالَ:فَقَالَ مُحَمَّد بْنُ طَلْحَۃَ:أَنْشُدُکَ اللَّہَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فَوَاللَّہِ إِنْ سَمَّانِی مُحَمَّدًا یَعْنِی إِلَّا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ:قُومُوا، لَا سَبِیلَ لِی إِلَی شَیْء ٍ سَمَّاہُ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے ابوعبدالحمیدرضی اللہ عنہ یاابن عبدالحمیدرضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا( یہ ابوعوانہ رحمہ اللہ تعالی کوشک ہواہے ) اوران کانام نامی اسم گرامی محمدتھا،حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے حضرت سیدنامحمد بن زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ایک آدمی نازیبا کلمات سے پکار رہا تھا، حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نام محمد کے ساتھ یہ گستاخی بہت ناگوار گذری چنانچہ انھوں نے بلاکر کہا:تمہاری وجہ سے رسول اللہ ﷺکے نام کی ہتک ہوتی ہے جو میرے لیے ناقابلِ برداشت ہے، آج کے بعد تم کبھی اس نام سے پکارے نہیں جاسکتے ہو!اور ان کا نام عبدالرحمن رکھ دیا۔ پھر اس کے بعد ہی مدینہ منورہ میں یہ حکم صادر فرمادیا کہ جن کے لڑکے کا نام محمد ہو وہ ان کا نام بدل دیں!لیکن پھر آگے کیا ہوا؟ نہ تو محمد بن زید بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اپنا نام تبدیل کیا بلکہ امیرالمومنین سے صاف کہا حضورتاجدارختم نبوتﷺنے میرا نام محمد رکھا ہے!آپ کے کہنے سے کیسے بدلوں؟ تو حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:{قوموا فلا سبیل لی الیکم} (اگر واقعہ یہ ہے تو میں اس سلسلہ میں کچھ نہیں کرسکتا ہوں)۔ ادھر مدینہ کے محمد نامی لوگوں نے بھی کہا ہمیں حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ان ناموں کی اجازت دی ہے پھر آپ کی یہ شدت کیسی؟ چنانچہ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو بھی ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۲۹:۴۲۷) اس حدیث شریف سے جہاں یہ پتہ چلتا ہے کہ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے اس حکم سے رجوع فرمالیا وہیں اس سے اس کا بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کی مذکورہ ممانعت کی غرض اسم گرامی کی عظمت و تقدس کا لحاظ کرنا تھا، نہ کہ محمد نام رکھنے کو وہ ناجائز سمجھتے تھے۔حضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ کاادب
ونظیرہ ما قال عثمان رضی اللہ عنہ ما کذبت منذ أسلمت وما مسست فرجی بالیمین منذ بایعت النبی علیہ السلام ولا أکلت الکراث۔ ترجمہ :حضرت سیدناعثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ جب سے میں نے اسلام قبول کیاہے جھوٹ بولناترک کردیاہے اورجب سے میں نے اپناہاتھ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ہاتھ میں دیاہے تب سے میں نے اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ کو نہیں لگایااورجب سے قرآن کریم کی تلاوت نصیب ہوئی کچے پیازوغیرہ نہیں کھائے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۵:۱۵۸)حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ کاادب بارگاہ نبوی میں
عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، قَالَ:حَدَّثَنِی البَرَاء ُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ:أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ یَعْتَمِرَ أَرْسَلَ إِلَی أَہْلِ مَکَّۃَ یَسْتَأْذِنُہُمْ لِیَدْخُلَ مَکَّۃَ، فَاشْتَرَطُوا عَلَیْہِ أَنْ لاَ یُقِیمَ بِہَا إِلَّا ثَلاَثَ لَیَالٍ، وَلاَ یَدْخُلَہَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلاَحِ، وَلاَ یَدْعُوَ مِنْہُمْ أَحَدًا، قَالَ:فَأَخَذَ یَکْتُبُ الشَّرْطَ بَیْنہُمْ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ فَکَتَبَ ہَذَا مَا قَاضَی عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ، فَقَالُوا:لَوْ عَلِمْنَا أَنَّکَ رَسُولُ اللَّہِ لَمْ نَمْنَعْکَ وَلَبَایَعْنَاکَ، وَلکِنِ اکْتُبْ ہَذَا مَا قَاضَی عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ، فَقَالَ:أَنَا وَاللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ، وَأَنَا وَاللَّہِ رَسُولُ اللَّہِ قَالَ: وَکَانَ لاَ یَکْتُبُ، قَالَ:فَقَالَ لِعَلِیٍّ:امْحَ رَسُولَ اللَّہِ فَقَالَ عَلِیٌّ:وَاللَّہِ لاَ أَمْحَاہُ أَبَدًا، قَالَ: فَأَرِنِیہِ، قَالَ: فَأَرَاہُ إِیَّاہُ فَمَحَاہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺ نے جب عمرہ کرنے کا ارادہ فرمایا تو مکہ میں داخلے کے لیے اہل مکہ سے اجازت لینے کی خاطرایک آدمی بھیجا تو انھوں نے اس شرط کے ساتھ اجازت دی کہ آپﷺ مکہ میں تین دن سے زیادہ قیام نہیں کریں گے۔ مکہ میں ہتھیار بند داخل ہوں گے اور کسی کو دین اسلام کی دعوت نہیں دیں گے۔ حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے مابین شرائط لکھنا شروع کیں تو مضمون لکھا:یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر محمد رسول اللہ ﷺنے صلح کی ہے۔ مکہ والوں نے کہا:اگر ہمیں یقین ہوکہ آپﷺ اللہ تعالی کے رسول ﷺہیں تو ہم آپﷺ کو نہ روکتے بلکہ آپﷺ کی بیعت کرلیتے لیکن مضمون اس طرح لکھو:اس شرط پر محمد بن عبداللہ(ﷺ) نے صلح کی۔ آپ ﷺنے فرمایا:اللہ تعالی کی قسم!میں محمد بن عبداللہ ہوں اور اللہ کی قسم!میں اللہ کا رسول(ﷺ) بھی ہوں۔ آپﷺ تونہیں لکھاکرتے تھے، اس لیے آپﷺ نے حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:(لفظ)رسول اللہ مٹادو۔ حضرت سیدنامولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا:اللہ کی قسم!میں تو اسے ہر گز نہیں مٹاؤں گا۔ آپ ﷺنے فرمایا:اچھا وہ(لفظ)مجھے دکھاؤ۔ حضرت سیدنامولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ(لفظ)دکھایا تو حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اپنے دست مبارک سے اسے مٹادیا۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۳:۱۴۰۹) حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ کاادب وقد ثبت عن علی رضی اللہ عنہ انہ ما نظر الی عورتہ وسوأتہ منذ ما تعلق نظرہ الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بناء علی ان الابصار الناظرۃ لوجہہ علیہ السلام لا یلیق لہا ان تنظر الی السوأۃ فاعتبر وتأدب۔ ترجمہ :حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ نے جب سے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی زیارت کی اس کے بعد اپنی شرمگاہ کو دیکھناہی چھوڑدیا، اس لئے کہ جو آنکھ حضورتاجدارختم نبوتﷺکودیکھے پھروہ بری جگہ کے دیکھنے کے لائق نہیں ہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۵:۱۵۸)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9