صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2626 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ فرقان آیت ۲۷۔ وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلً

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,217

سوال (Question):

تفسیر سورہ فرقان آیت ۲۷۔ وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلً

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حضورتاجدارختم نبوتﷺکااپنے گستاخ کو قتل کرنے کی قسم کھانااورپھراسے خود اپنے مبارک ہاتھ سے قتل کرنا

{وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا}(۲۷) ترجمہ کنزالایمان: اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبا چبا لے گا کہ ہائے کسی طرح سے میں نے رسول کے ساتھ راہ لی ہوتی۔ ترجمہ ضیاء الایمان :اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبا ئے گا، کہے گا کہ اے کاش کہ میں نے رسول کریمﷺکے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔ شان نزول {وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلی یَدَیْہِ}ہُوَ عُقْبَۃُ بْنُ أَبِی مُعَیْطٍ، وَکَانَ صَدِیقًا لِأُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ الْجُمَحِیِّ وَیُرْوَی لِأُبَیِّ بن خلف أخ أُمَیَّۃَ، وَکَانَ قَدْ صَنَعَ وَلِیمَۃً فَدَعَا إِلَیْہَا قُرَیْشًا، وَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَبَی أَنْ یَأْتِیَہُ إِلَّا أَنْ یُسْلِمَ وَکَرِہَ عُقْبَۃُ أَنْ یَتَأَخَّرَ عَنْ طَعَامِہِ مِنْ أَشْرَافِ قُرَیْشٍ أَحَدٌ فَأَسْلَمَ وَنَطَقَ بِالشَّہَادَتَیْنِ، فَأَتَاہُ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَکَلَ مِنْ طَعَامِہِ، فَعَاتَبَہُ خَلِیلُہُ أُمَیَّۃُ بْنُ خَلَفٍ، أَوْ أُبَیُّ بْنُ خَلَفٍ وَکَانَ غَائِبًافَقَالَ عُقْبَۃُ:رَأَیْتُ عَظِیمًا أَلَّا یَحْضُرَ طَعَامِی رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِ قُرَیْشٍ فَقَالَ لَہُ خَلِیلُہُ: لَا أَرْضَی حَتَّی تَرْجِعَ وَتَبْصُقَ فِی وَجْہِہِ وَتَطَأَ عُنُقَہُ وَتَقُولَ کَیْتَ وَکَیْتَ فَفَعَلَ عَدُوُّ اللَّہِ مَا أَمَرَہُ بِہِ خَلِیلُہُ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ:وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلی یَدَیْہِ قَالَ الضَّحَّاکُ:لَمَّا بَصَقَ عُقْبَۃُ فِی وَجْہُ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجَعَ بُصَاقُہُ فِی وَجْہِہِ وَشَوَی وَجْہَہُ وَشَفَتَیْہِ، حَتَّی أَثَّرَ فِی وَجْہِہِ وَأَحْرَقَ خَدَّیْہِ، فَلَمْ یَزَلْ أَثَرُ ذَلِکَ فِی وَجْہِہِ حَتَّی قُتِل۔ ترجمہ :{وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ }کے تحت لکھتے ہیں کہ اس سے مراد عقبہ بن ابی معیط ہے، وہ امیہ بن خلف کادوست تھا، یہ بھی روایت کی جاتی ہے کہ وہ ابی بن خلف کادوست تھاجوامیہ کابھائی تھا، عقبہ نے ولیمہ کی دعوت کی اس نے قریش کودعوت دی اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکوبھی دعوت دی ، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اس کے کھانے میں اس وقت تک شریک ہونے سے انکارفرمادیاجب تک وہ اسلام قبول نہ کرلے ، عقبہ نے اس بات کوناپسندکیاکہ اس کی دعوت میں قریش کے سرداروں میں کوئی یہاں نہ آئے ، اس نے اسلام قبول کرلیااورزبان سے شہادتین کواداکیا، حضورتاجدارختم نبوتﷺاس کی دعوت میں تشریف لے گئے اوراس کاکھاناتناول فرمایا، اس کے د وست امیہ بن خلف نے عقبہ کوملامت کی جواس وقت موجود نہ تھا، عقبہ نے کہاکہ میں نے اس امرکو بہت بڑاخیال کیاکہ میرے کھانے میں قریش کے اشراف میں سے کوئی غیرحاضرہو، اس کے دوست نے اسے کہاکہ میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گاجب تک تواسلام کو ترک نہ کردے اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے چہرہ اقدس پرتھوکے نہ اوران کی گردن نہ روندے(نعوذباللہ من ذلک ) اورتویہ یہ کہے : اللہ تعالی کے دشمن گستاخ نے سب کچھ کیاجواس کے دوست نے کہاتھاتواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی {وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ }حضرت سیدناامام ضحاک رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ جب عقبہ نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے چہرہ اقدس کی طرف تھوکناچاہاتو تھوک اس کے اپنے چہرے پرجاپڑااوراس کے چہرے اورہونٹوں کو جلاڈالایہاں تک کہ اس کے چہرے پرتھوک کی وجہ سے جلنے کانشان اس کے قتل ہونے تک باقی رہا۔ (البحر المدید فی تفسیر القرآن المجید:أبو العباس أحمد بن محمد بن المہدی بن عجیبۃ الحسنی الأنجری الفاسی الصوفی (۴:۹۳)

عقبہ ملعون کو گستاخی کی سزا

فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعقبۃ (لا ألقاک خارجا من مکۃ الا علوت رأسک بالسیف) فاسر یوم بدر فامر علیہ السلام علیا رضی اللہ عنہ او عاصم بن ثابت الأنصاری رضی اللہ عنہ فقتلہ وطعن علیہ السلام بیدہ الطاہرۃ الکاسرۃ أبیا اللعین یوم أحد فی المبارزۃ فرجع الی مکۃ فمات فی الطریق بسرف بفتح السین المہملۃ وکسر الراء وہو مناسب لوصفہ لانہ مسرف۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب عقبہ نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی گستاخی کی توآپ ﷺنے فرمایا: یادرکھوتمھاری اس حرکت کی وجہ سے میراتوکچھ نہیں بگڑالیکن میں تمھاراسرکاٹ کرمکہ مکرمہ کے باہرلٹکادوں گا، چنانچہ ایساہی ہواکہ وہ بدرکے دن جب قیدی بن کرآیاتوحضورتاجدارختم نبوتﷺنے حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ کوحکم دیاکہ اس خبیث کوقتل کردیں ، ابی بن خلف خبیث کوحضورتاجدارختم نبوتﷺنے اپنے دست مبارک سے احدکے دن تیرماراتووہ مکہ مکرمہ کی طرف لوٹااورسرف کے مقام پردم توڑگیا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۶:۲۰۴)

حضورتاجدارختم نبوتﷺتورحمۃ للعالمین ہیں توگستاخ کوقتل کیوں کیا؟

وفی الحدیث (شر الناس رجل قتل نبیا او قتلہ نبی)اما الاول فلان الأنبیاء لہم العلو التام فلا یقابلہم الا من ہو فی إنزال الدرجات ولذا یعادی السافل العالی وإذا کملت المضادۃ وقع القتل لان الضد یطلب ازالۃ ضدہواما الثانی فلان الأنبیاء مجبولون علی الشفقۃ علی الخلق فلا یقدمون علی قتل أحد الا بعد الیأس من فلاحہ والتیقن بان خیانتہ سبب لمزید شقائہ وتعدی ضررہ فقتلہم من قتلوا من احکام الرحمۃ۔ ترجمہ :حضورتاجدارختم نبوت ﷺکافرمان عالی شان ہے کہ بدترین انسان ہے وہ جس نے کسی نبی علیہ السلام کو شہیدکیایاکسی نبی علیہ السلام نے اس کو قتل کیا۔ امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ پہلاشخص جس نے کسی نبی علیہ السلام کو شہیدکیاوہ توشریرترین اس لئے ہے کہ اس نے اللہ تعالی کے نبی علیہ السلام کی توہین اورگستاخی کی ہے اورانبیاء کرام علیہم السلام بلنددرجات کے مالک ہوتے ہیں اوران کے ساتھ مقابلہ کرنے والے بھی مراتب کے لحاظ سے بدترین انسان ہوں گے ، یہی وجہ ہے کہ اعلی مراتب کے لوگوں کامقابلہ رزیل ترین لوگ کرتے ہیں اورجب دشمنی زوروں پرہوتی ہے توان میں ایک ماراجاتاہے ، اس لئے کہ ضداپنی ضدکاازالہ چاہتی ہے اوردوسری صورت یعنی جسے نبی علیہ السلام نے قتل کیاہواس کی وجہ بھی ظاہرہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام شفقت ورحمت علی الخلق میں جبلی طورپربھرپورہوتے ہیں ، وہ کسی کے قتل کااقدام نہیں کرتے مگراس وقت جب دیکھتے ہیں کہ کہ اس کے لئے فلاح کے دروازے بندہیں اورانہیں یقین ہوجاتاہے اس کازندہ رہنامزیدشقاوت اوربدبختی کاموجب ہے بلکہ ضررشدیدکاسبب ہوگا، اسی لئے ان کاایسے بدبختوں کوقتل کرنابھی رحمت سے خالی نہیں ہوتا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۶:۲۰۴)

امیہ گستاخ کو حضورتاجدارختم نبوتﷺنے خود قتل کیا

ابن عباس وسعید ابن الْمُسَیِّبِ أَنَّ الظَّالِمَ ہَاہُنَا یُرَادُ بِہِ عُقْبَۃُ بْنُ أَبِی مُعَیْطٍ، وَأَنَّ خَلِیلَہُ أُمَیَّۃُ بْنُ خَلَفٍ، فَعُقْبَۃُ قَتَلَہُ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، وَذَلِکَ أَنَّہُ کَانَ فِی الْأُسَارَی یَوْمَ بَدْرٍ فَأَمَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِہِ، فَقَالَ:أَأُقْتَلُ دُونَہُمْ؟ فَقَالَ، نَعَمْ، بِکُفْرِکَ وَعُتُوِّکَ فَقَالَ:مَنْ لِلصِّبْیَۃِ؟ فَقَالَ: النَّارُ. فَقَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَتَلَہُ وَأُمَیَّۃُ قَتَلَہُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَکَانَ ہَذَا مِنْ دَلَائِلِ نُبُوَّۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہ علی وَسَلَّمَ، لِأَنَّہُ خَبَّرَ عَنْہُمَا بِہَذَا فَقُتِلَا عَلَی الْکُفْرِوَلَمْ یُسَمَّیَا فِی الْآیَۃِ لِأَنَّہُ أَبْلَغُ فِی الْفَائِدَۃِ، لِیُعْلَمَ أَنَّ ہَذَا سَبِیلُ کُلِّ ظالم فبل مِنْ غَیْرِہِ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں ظالم سے مراد عقبہ بن ابی معیط اوراس کادوست امیہ بن خلف ہے ۔ عقبہ بن ابی معیط کو حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ غزوہ بدرکے قیدیوں میں تھا، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اسے قتل کرنے کاحکم دیا، تواس نے عرض کی :کیامیں اکیلاقتل کیاجائوں گا؟ فرمایاکہ تیرے کفراورسرکشی کی وجہ سے تجھے قتل کیاجائے گا، اس نے عرض کی : میرے بچوں کے لئے کوئی ہے جوان کی دیکھ بھال کرے ؟ توفرمایاکہ ان کے لئے بھی آگ ہے۔ حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کردیا۔ امیہ ملعون کوحضورتاجدارختم نبوتﷺنے خود قتل کیا، اوراس کو حضورتاجدارختم نبوتﷺکاخود قتل کرنایہ آپ ﷺکی نبوت شریفہ کے دلائل میں سے ہے کیونکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے خود ان کے بارے میں خبردی تھی تودونوں کو حالت کفرمیں ہی قتل کردیاگیا، اس آیت کریمہ میں ان دونوں کا نام نہیں لیاگیاکیونکہ یہ فائدہ میں زیادہ بلیغ ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ ظالم کاراستہ ہے جس نے اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہوئے کسی اورکی بات کو قبول کیا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۳:۲۵)

دونوں گستاخ قتل ہوئے

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَقَتَادَۃُ وَغَیْرُہُمَا:وَکَانَ عُقْبَۃُ قَدْ ہَمَّ بِالْإِسْلَامِ فَمَنَعَہُ مِنْہُ أُبَیِّ بْنُ خَلَفٍ وَکَانَا خِدْنَیْنِ، وَأَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَتَلَہُمَا جَمِیعًا:قَتَلَ عُقْبَۃَ یَوْمَ بَدْرٍ صَبْرًا، وَأُبَیَّ بْنَ خَلَفٍ فِی الْمُبَارَزَۃِ یَوْمَ أُحُدٍ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمااورحضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ عقبہ نے اسلام قبول کیاتواس امیہ بن خلف نے اس کو منع کردیااوریہ دونوں گہرے دوست تھے ، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ان دونوں کو قتل کیا، عقبہ غزوہ بدرکے موقع پرانتقام لینے کے لئے قتل کیاگیااورابی بن خلف غزوہ احدمیں دعوت مبارزت میں قتل ہوا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۳:۲۵) مولاناروم رحمہ اللہ کادین دشمنوں اورگستاخوں کو جواب ہر کہ بر شمع خدا آرد پفو شمع کی میرد بسوزد پوز او کی شود دریا ز پوز سک نجس کی شود خورشید از پف منطمس ترجمہ :فرماتے ہیں کہ ہروہ شخص جو اللہ تعالی کی شمع پرتھوکتاہے شمع تونہیں بجھے گی البتہ اس گستاخ کامنہ جل جائے گااورگوبرسے دریاپلیدنہیں ہوتااورنہ ہی سورج تھوکنے سے بے نورہوتاہے ۔(مثنوی شریف ) حضورتاجدارختم نبوت ﷺاورقرآن کریم قیامت کے دن امت کے خلاف رب تعالی کی بارگاہ میں شکایت کریں گے

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh