Fatwa #2627
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ فرقان آیت ۳۰۔ وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,323
سوال (Question):
تفسیر سورہ فرقان آیت ۳۰۔ وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حضورتاجدارختم نبوت ﷺاورقرآن کریم قیامت کے دن امت کے خلاف رب تعالی کی بارگاہ میں شکایت کریں گے
{وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا}(۳۰) ترجمہ کنزالایمان:اور رسول نے عرض کی کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑنے کے قابل ٹھہرالیا۔ ترجمہ ضیاء الایمان : اور رسول کریمﷺ نے عرض کی:اے میرے رب کریم!میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑنے کے قابل بنا لیاہے۔ مفتی محمدقاسم قادری لکھتے ہیں کہ اس آیت میں چھوڑنے سے اصل مراد تواس پر ایمان نہ لانا ہے۔ لیکن چھوڑنے کی اس کے علاوہ بھی صورتیں ہیں لہٰذا قرآن مجید کے حوالے سے مسلمان کاحال ایسا نہیں ہونا چاہئے جس سے یہ لگے کہ اس نے قرآن مجید کو چھوڑ رکھا ہے، بلکہ اسے چاہئے کہ روزانہ تلاوتِ قرآن کرے، قرآن مجید کی آیات کو سمجھنے کی کوشش کرے اور ان میں غورو تَدَبُّر کیاکرے، نیز اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں جو احکامات دیئے ہیں ان پر عمل کرے اور جن کاموں سے منع کیا ہے ان سے باز رہے تاکہ وہ قرآن مجید کو عملی طور پر چھوڑ رکھنے والے لوگوں میں شامل نہ ہو۔(تفسیرصراط الجنان ( ۷: ۲۲)قرآن کریم شکایت کرے گا!
فإنَّہ رُوی عنہ صلی اللہ علیہ السلام أنَّہ قال مَن تعلَّم القرآنَ وعلَّق مُصحفاً لم یتعاہدْہُ ولم ینظرْ فیہِ جاء َ یومَ القیامۃِ متعلِّقاً بہ العالمین عبدک ہذا أتخذل مہجُوراً اقضِ بینی وبینَہُ۔ ترجمہ :حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: جوشخص قرآن کریم پڑھ کراس کی تلاوت نہ کرے اوراس میں غوروفکرکرناترک کردے توقیامت کے دن قرآن کریم اس کو پکڑکرلائے گااوراللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کرے گا: یااللہ !تیرے اس بندے نے مجھے چھوڑدیاتھا، اس لئے اس کے اورمیرے درمیان فیصلہ فرما۔ (تفسیر أبی السعود :أبو السعود العمادی محمد بن محمد بن مصطفی (۶:۲۱۶)شعروشاعری میں مصروف رہنے والے بھی قرآن کریم کو چھوڑنے والے ہیں
یَقُولُ تَعَالَی مُخْبِرًا عَنْ رسولہ ونبیہ محمد صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ یَا رب إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوا ہَذَا الْقُرْآنَ مَہْجُورًا وَذَلِکَ أَنَّ الْمُشْرِکِینَ کَانُوا لَا یُصْغُونَ لِلْقُرْآنِ وَلَا یستمعونہ، کَمَا قَالَ تَعَالَی:وَقالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِہذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِیہِ الآیۃ، فکانوا إِذَا تُلِیَ عَلَیْہِمُ الْقُرْآنُ أَکْثَرُوا اللَّغَطَ وَالْکَلَامَ فِی غَیْرِہِ حَتَّی لَا یَسْمَعُوہُ فَہَذَا مِنْ ہجرانہ وترک الإیمان بہ وترک تصدیقہ مِنْ ہُجْرَانِہِ، وَتَرْکُ تَدَبُّرِہِ وَتَفْہُّمِہِ مِنْ ہُجْرَانِہِ، وَتَرْکُ الْعَمَلِ بِہِ وَامْتِثَالِ أَوَامِرِہِ وَاجْتِنَابِ زَوَاجِرِہِ مِنْ ہُجْرَانِہِ، وَالْعُدُولُ عَنْہُ إِلَی غَیْرِہِ مَنْ شِعْرٍ أَوْ قَوْلٍ أَوْ غِنَاء ٍ أَوْ لَہْوٍ أَوْ کَلَامٍ أَوْ طَرِیقَۃٍ مَأْخُوذَۃٍ مِنْ غَیْرِہِ، مِنْ ہُجْرَانِہِ، فَنَسْأَلُ اللَّہَ الْکَرِیمَ الْمَنَّانَ الْقَادِرَ عَلَی مَا یَشَاء ُ، أَنْ یُخَلِّصَنَا مِمَّا یُسْخِطُہُ، وَیَسْتَعْمِلَنَا فِیمَا یُرْضِیہِ مِنْ حِفْظِ کِتَابِہِ وَفَہْمِہِ، وَالْقِیَامِ بِمُقْتَضَاہُ آنَاء َ اللَّیْلِ وَأَطْرَافَ النَّہَارِ عَلَی الْوَجْہِ الَّذِی یُحِبُّہُ وَیَرْضَاہُ، إِنَّہُ کَرِیمٌ وَہَّابٌ. ترجمہ :امام أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی المتوفی: ۷۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ قیامت والے دن اللہ تعالی کے سچے رسول کریم حضورتاجدارختم نبوتﷺاپنی امت کی اللہ تعالی کی بارگاہ میں شکایت کریں گے کہ نہ یہ لوگ قرآن کریم کی طرف مائل تھے نہ رغبت رکھتے تھے اورنہ ہی اس کوقبول کرنے کے لئے سنتے تھے بلکہ اوروں کو بھی روکتے تھے جیسے کفارکامقولہ خود قرآن کریم نے بیان کیاہے کہ وہ کہتے تھے کہ {وَقالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِہذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِیہ}( اس قرآن کونہ سنواوراس کے پڑھے جانے کے وقت شوروغل کرو) یہی اس کاچھوڑرکھناتھا، نہ اس پرایمان لاتے تھے ، نہ اسے سچاجانتے تھے ، نہ اس پرغورکرتے تھے ، نہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے ، نہ اس پرعمل کرتے تھے اورنہ ہی اس کے احکامات کو بجالاتے تھے ، نہ اس کے منع کردہ چیزوں سے رکتے تھے بلکہ اس کے علاوہ اورکاموں میں مشغول رہتے تھے جیسے شعراشعار، غزلیات گانے باجے ، راگ راگنیاں ، اسی طرح اورلوگوں کے کلام سے دلچسپی لیتے تھے اورانہیں پرہی عمل کرتے تھے ، یہی اس قرآن کریم کو چھوڑناتھا۔ ہماری دعاہے کہ کہ اللہ تعالی کرم ومنان جوہرچیز پرقادرہے ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے ناپسندیدہ کاموں سے باز آجائیں اوراس کے پسندیدہ کاموں پرعمل کرنے لگ جائیں ، وہ ہمیں اپنے کلام شریف کی سمجھ عطافرمائے اوردن رات اس پرعمل کرنے کی توفیق دے ۔ (تفسیر ابن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۶:۹۸) بحمدللہ تعالی سورۃ الفرقان کااختتام ۹ محرم الحرام ۱۴۴۲ھ/۲۹ اگست ۲۰۲۰ء) بوقت ۱۱ بج کر۲۶ منٹ )
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9