Fatwa #2308
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ مائدہ آیت۲۴۔ ۲۵۔۲۶۔قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَہَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْہَا
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,082
سوال (Question):
تفسیر سورہ مائدہ آیت۲۴۔ ۲۵۔۲۶۔قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَہَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْہَا
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
بنی اسرائیل حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے جہاد کے حکم کاانکارکرکے گستاخ بنی اورعذاب کی مستحق ٹھہری
{قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَہَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْہَا فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقٰتِلَآ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوْنَ }(۲۴){قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ اِلَّا نَفْسِیْ وَاَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَاوَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ }(۲۵)قَالَ فَاِنَّہَا مُحَرَّمَۃٌ عَلَیْہِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً یَتِیْہُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَلَا تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ (۲۶) ترجمہ کنزالایمان: بولے اے موسیٰ ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں ہیں تو آپ جائیے اور آپ کا رب تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں۔موسیٰ نے عرض کی کہ اے رب میرے مجھے اختیار نہیں مگر اپنا اور اپنے بھائی کا تو تو ہم کو ان بے حکموں سے جدا رکھ۔فرمایا تو وہ زمین ان پر حرام ہے چالیس برس تک بھٹکتے پھریں زمین میں تو تم ان بے حکموں کا افسوس نہ کھاؤ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:پھر قوم ( بنی اسرائیل)نے کہا:اے موسیٰ! بیشک ہم تو وہاں ہرگز کبھی نہیں جائیں گے جب تک وہ وہاں ہیں تو آپ اور آپ کا رب دونوں جائو اورجہادکرو ،ہم تویہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔حضرت سیدناموسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالی کی بارگاہ میںعرض کی :اے میرے رب!مجھے صرف اپنی جان اور اپنے بھائی کا اختیار ہے تو تو ہمارے اور فاسق قوم کے درمیان تفریق ڈال دے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:پس چالیس سال تک وہ زمین ان پر حرام ہے یہ زمین میں بھٹکتے پھریں گے تو (اے موسیٰ!)آپ اس نافرمان قوم کی وجہ سے پریشان نہ ہوں۔بنی اسرائیل کاجہادسے انکارکرنااوراللہ تعالی کی گستاخی کرنا
ثُمَّ قَالُوا لِمُوسَی:(إِنَّا لَنْ نَدْخُلَہا أَبَداً مَا دامُوا فِیہا) وَہَذَا عناد وحید عن الْقِتَالِ، وَإِیَاسٌ مِنَ النَّصْرِثُمَّ جَہِلُوا صِفَۃَ الرَّبِّ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فَقَالُوافَاذْہَبْ أَنْتَ وَرَبُّکَ)وَصَفُوہُ بِالذَّہَابِ وَالِانْتِقَالِ، وَاللَّہُ مُتَعَالٍ عَنْ ذَلِکَ وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُمْ کَانُوا مُشَبِّہَۃً،وَہُوَ مَعْنَی قَوْلِ الْحَسَنِ، لِأَنَّہُ قَالَ:ہُوَ کُفْرٌ مِنْہُمْ بِاللَّہِ، وَہُوَ الْأَظْہَرُ فِی مَعْنَی الْکَلَامِ۔ ترجمہ :حضرت امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی: ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام کو کہاکہ آپ جائیں اورآپ کارب جائے قتال کرنے کے لئے ہم تویہاں بیٹھے ہیں ، ان کایہ قول جہادکی دشمنی اوراللہ تعالی کی مددسے مایوسی پردلالت کرتاہے ۔ پھروہ اللہ تعالی کی صفات سے بھی جاہل تھے کہ انہوںنے کہا{فَاذْہَبْ أَنْتَ وَرَبُّکَ}کہ آپ جائیں اورآپ کارب جائے ۔اس قول میں انہوںنے اللہ تعالی کے لئے آنے جانے کاوصف بیان کیاحالانکہ اللہ تعالی ا س سے بلندوبالاہے کہ اس کے لئے ایسی باتیں بیان کی جائیں اوریہ دلیل ہے اس بات پر کہ وہ مشبہ تھے ۔یہ امام حسن بصری رضی اللہ عنہ کافرمان شریف ہے ۔ ، امام حسن بصری رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ بنی اسرائیل کایہ قول اس بات پردلالت کرتاہے کہ انہوںنے اللہ تعالی کاہی انکارکردیاتھا۔ اس کلام کے معنی میں یہ ظاہرہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۶:۱۲۳)جہادسے انکارکے سبب زمین اللہ تعالی نے ان پرحرام فرمادی
والمراد بقولہ کتب اللہ لکم أی بشرط أن تجاہدوا أہلہا فلما أبوا الجہاد قیل فإنہا محرمۃ علیہم أو المراد فإنہا محرمۃ علیہم ۔ ترجمہ:امام أبو البرکات عبد اللہ بن أحمد بن محمود حافظ الدین النسفی المتوفی : ۷۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ پہلے فرمایاگیاکہ کتب اللہ لکم کہ یہ زمین اللہ تعالی نے تمھارے لئے لکھ دی ہے تواس سے مراد یہ تھاکہ اس شرط پرکہ تم وہاں کے لوگوں کے خلاف جہا دکروگے ، تمھارے لئے یہ زمین لکھ دی گئی ہے پھرجب انہوںنے جہاد سے ہی انکارکردیاتوانہیں کہہ دیاگیاکہ یہ زمین تم پر حرام ہے ۔ (تفسیر النسفی:أبو البرکات عبد اللہ بن أحمد بن محمود حافظ الدین النسفی (۱:۴۴۰)بنی اسرائیل کاحضرت سیدناموسی علیہ السلام کی گستاخی کرنا
وَقِیلَ: أَیْ أَنَّ نُصْرَۃَ رَبِّکَ (لَکَ) أَحَقُّ مِنْ نُصْرَتِنَا، وَقِتَالَہُ مَعَکَ إِنْ کُنْتَ رَسُولَہُ أَوْلَی مِنْ قِتَالِنَا، فَعَلَی ہَذَا یَکُونُ ذَلِکَ مِنْہُمْ کُفْرٌ، لِأَنَّہُمْ شَکُّوا فِی رِسَالَتِہِ وَقِیلَ الْمَعْنَی:اذْہَبْ أَنْتَ فَقَاتِلْ وَلْیُعِنْکَ رَبُّکَ۔ ترجمہ :علماء کرام علیہم الرحمہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام کو کہاکہ تیرے رب تعالی کاتیری مددکرناہماری مددکرنے سے زیادہ حق ہے اوراس کاتیرے ساتھ جاکرجہا دکرنااگرتواس کارسول ہے ہمارے قتال سے اولی ہے ۔ یہ ان کی طرف سے کفرتھاکیونکہ انہوںنے حضرت سیدناموسی علیہ السلام کی رسالت میں شک کیاتھا۔اوربعض علماء کرام نے یہ بھی بیان فرمایاہے کہ اس کامعنی یہ ہے کہ توجااورجہادکراورتیرارب تعالی تیری مددکرے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۶:۱۲۳)حضرت سیدناموسی علیہ السلام کادعائے جلال کرنا
یُقَالُ: بِأَیِ وَجْہٍ سَأَلَہُ الْفَرْقَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ ہَؤُلَاء ِ الْقَوْمِ؟ فَفِیہِ أَجْوِبَۃٌ، الْأَوَّلُ بِمَا یَدُلُّ عَلَی بُعْدِہِمْ عَنِ الْحَقِّ، وَذَہَابِہِمْ عَنِ الصَّوَابِ فِیمَا ارْتَکَبُوا مِنَ الْعِصْیَانِ، وَلِذَلِکَ أُلْقُوا فِی التِّیہِ الثَّانِی بِطَلَبِ التَّمْیِیزِ أَیْ مَیِّزْنَا عَنْ جَمَاعَتِہِمْ وَجُمْلَتِہِمْ وَلَا تُلْحِقْنَا بِہِمْ فِی الْعِقَابِ، وَقِیلَ الْمَعْنَی: فَاقْضِ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ بِعِصْمَتِکَ إِیَّانَا مِنَ الْعِصْیَانِ الَّذِی ابْتَلَیْتَہُمْ بِہِ، وَمِنْہُ قول تعالی:فِیہا یُفْرَقُ کُلُّ أَمْرٍ حَکِیمٍ)الدخان:۴) أَیْ یُقْضَی وَقَدْ فَعَلَ لَمَّا أَمَاتَہُمْ فِی التِّیہِ وَقِیلَ:إِنَّمَا أَرَادَ فِی الْآخِرَۃِ، أَیِ اجْعَلْنَا فِی الْجَنَّۃِ وَلَا تَجْعَلْنَا مَعَہُمْ فِی النَّارِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے اپنے اوراس قوم کے درمیان جدائی کاسوال کیوں کیا؟ اس کے کئی جوابات ہیں: (۱) …کیونکہ وہ حق سے بہت دورتھے اورانہوںنے اس عصیاں کاارتکاب کیاتھااس کی وجہ سے وہ راہ حق سے بہت دورچلے گئے تھے۔ اسی وجہ سے وہ تیہ میں ڈالے گئے ۔(۲)…تمیزطلب کرنے کے لئے یعنی ہمیں ان کی جماعت سے علیحدہ کردے اورہمیں ان کے ساتھ عذاب میں شامل نہ کر۔ بعض نے بیان کیااس کامعنی یہ ہے کہ ہمارے درمیان اوران کے درمیان فیصلہ فرمایاہمیں اپنی عصمت کے ساتھ اس نافرمانی سے محفوظ کرلے جس میں تونے انہیں مبتلاء فرمایاہے ، اسی سے اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے کہ {فِیہا یُفْرَقُ کُلُّ أَمْرٍ حَکِیمٍ}یفرق بمعنی یقضی ہے ، اللہ تعالی نے ایساہی فرمایا، جب انہیں تیہ میں مارڈالا۔ بعض علماء نے بیان فرمایاکہ اللہ تعالی نے آخرت میں یہ فیصلہ کرنے کاارادہ فرمایایعنی ہمیں جنت میں داخل فرمااوران کے ساتھ ہمیں دوزخ میں داخل نہ فرما۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۶:۱۲۳)حضرت سیدناموسی علیہ السلام کی گستاخی کی سزا
قالَ فَإِنَّہا مُحَرَّمَۃٌ عَلَیْہِمْ أَرْبَعِینَ سَنَۃً یَتِیہُونَ فِی الْأَرْضِ اسْتَجَابَ اللَّہُ دُعَاء َہُ وَعَاقَبَہُمْ فِی التِّیہِ أَرْبَعِینَ سَنَۃً فَکَانُوا یَسِیرُونَ فِی فَرَاسِخَ قَلِیلَۃٍ قِیلَ:فِی قَدْرِ سِتَّۃِ فَرَاسِخَ یَوْمَہُمْ وَلَیْلَتَہُمْ فَیُصْبِحُونَ حَیْثُ أَمْسَوْا وَیُمْسُونَ حَیْثُ أَصْبَحُوا، فَکَانُوا سَیَّارَۃً لَا قَرَارَ لَہُمْ وَاخْتُلِفَ ہَلْ کَانَ معہم موسی وہرون؟ فَقِیلَ: لَا، لِأَنَّ التِّیہَ عُقُوبَۃٌ، وَکَانَتْ سِنُو التِّیہِ بِعَدَدِ أَیَّامِ الْعِجْلِ، فَقُوبِلُوا عَلَی کُلِّ یَوْمٍ سَنَۃً، وَقَدْ قَالَ:فَافْرُقْ بَیْنَنا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفاسِقِینَ وَقِیلَ:کَانَا مَعَہُمْ لَکِنْ سَہَّلَ اللَّہُ الْأَمْرَ عَلَیْہِمَا کَمَا جَعَلَ النَّارَ بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَی إِبْرَاہِیمَ۔ ترجمہ :اللہ تعالی نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام کی دعاکو قبول فرمایااوربنی اسرائیل کو تیہ میں چالیس سال تک سزادی ۔ بنی اسرائیل تھوڑے سے فراسخ چلتے تھے ، بعض نے بیان فرمایاکہ چھے فراسخ کی مقدارچلتے تھے ، دن اوررات میں صبح وہیں ہوتے تھے جہاں شام کوہوتے تھے اورشام کووہیں ہوتے جہاں وہ صبح کو ہوتے تھے وہ چلتے رہتے تھے ان کو قرارنہیں ملتاتھا۔ اس میں اختلاف ہے کہ حضرت سیدناموسی علیہ السلام اورحضرت سیدناہارون علیہ السلام بھی ان کے ساتھ تھے یانہیں ؟ بعض نے یہ بیان کیاہے کہ وہ ان کے ساتھ نہیں تھے کیونکہ یہ سزاتھی اورتیہ کے سال بچھڑنے کے ایام کی تعدادکے برابرتھے ۔ ہردن کے مقابلے میں ایک سال رکھاگیا۔ اوربعض نے یہ بھی بیان کیاہے کہ حضرت سیدناموسی علیہ السلام اورحضرت سیدناہارون علیہ السلام بھی ان کے ساتھ تھے لیکن اللہ تعالی نے ان پرمعاملہ آسان فرمادیاتھاجیسے حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام پرآگ کو ٹھنڈااورسلامتی والابنادیاتھا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۶:۱۲۳) حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے جلال کی کیفیت أَنَّ مُوسَی عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ کان سریع الغضب، إذ غَضِبَ طَلَعَ الدُّخَانُ مِنْ قَلَنْسُوَتِہِ وَرَفَعَ شَعْرُ بَدَنِہِ جُبَّتَہُ، وَسُرْعَۃُ غَضَبِہِ کَانَتْ سَبَبًا لِصَکِّہِ مَلَکَ الْمَوْتِ. ترجمہ :حضرت سیدناموسی علیہ السلام بہت جلد جلال میں آنے والے تھے ، جب وہ جلال میں ہوتے تھے توان کی مبارک ٹوپی سے دھواں نکلتاتھا،اوران کے جسم شریف کے بال کھڑے ہوجاتے تھے ۔ غضب کے زیادہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے حضرت سیدناعزرائیل علیہ السلام کو طمانچہ ماردیاتھا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۶:۱۳۲)معارف ومسائل
(۱) اس سے معلوم ہواکہ حضرت سیدناموسی علیہ السلام کی گستاخی کی وجہ سے اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو چالیس سال تک سزادی ۔ (۲) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ انبیاء کرام علیہم السلام کے نافرمانوں اورگستاخوں کے خلاف دعاکرنارب تعالی کے انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت کریمہ ہے ۔ (۳) جہادکرناانبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے ۔ اورجہادسے روگردانی کرنایہودیوں کاشیوہ ہے۔ (۴) اللہ تعالی کے متعلق نازیباالفاظ بکنااورانبیاء کرام علیہم السلام کی گستاخی کرنابھی یہودیوں کاشیوہ ہے ۔ (۵) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اللہ تعالی کے احکامات کی خلاف ورزی ہونے پر غصہ کااظہاکرنابھی انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت کریمہ اوریہی غیرت ایمانی کاثبوت ہے نہ کہ اللہ تعالی کی نافرمانی دیکھ کرخاموش رہنا۔ (۶) جس کے دل میں اللہ تعالی کے نبی علیہ السلام کی عظمت نہ ہواس کے دل میں کفارکی ہیبت بیٹھ جاتی ہے کہ بنی اسرائیل کے دل میں قوم جبارین کی بغیردیکھے ہیبت بیٹھ گئی کیونکہ وہ اپنے نبی علیہ السلام کے بے ادب تھے ، دیکھوفرعونی جادوگرجنہوں نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام کاادب کیاکہ آپ علیہ السلام سے اجازت لے کرجادودکھایاان کو ایمان ملااورایمان کے ساتھ دل کی جرات کی ہمت نصیب ہوئی ۔ فرعون سے کہہ دیاکہ جوتجھ سے ہوسکتاہے کرلے ہم ایمان نہیں چھوڑ سکتے ۔ یہ فرق ہے بے ادب اورباادب کا۔ (۷) فتح ونصرت فوج کی کثرت ، ہتھیاروں کی فراوانی پرموقوف نہیں ہے ، یہ تورب تعالی کے کرم پرموقوف ہے ۔ اگروہ چاہے ابابیل سے ہاتھی مروادے ۔ (۸) خیال رہے کہ تیہ میں قید ہوتے وقت جن اسرائیلیوں کی عمربیس سال سے زائدتھی وہ تمام کے تمام مقام تیہ میں فوت ہوگئے ، یہی وہ لوگ تھے جنہوںنے جہاد سے انکارکیاتھا، جن کی عمر اس سے کم تھی یاجووہاں ہی پیداہوئے وہ ارض مقدس میں فاتحانہ شان سے داخل ہوئے جیساکہ تفاسیرسے معلوم ہوتاہے ۔ (۹) جس دل میں اللہ تعالی کے نبی علیہ السلام کی عزت وحرمت نہ ہواس میں اللہ تعالی کی عزت اوراس کے احکامات کاوقارکبھی نہیں آسکتا، دیکھوکہ بنی اسرائیل کے دلوں میں حضرت سیدناموسی علیہ السلام کاوقارنہ تھاتوان کے دلوں میں نہ رب تعالی کی عزت تھی اورنہ ہی اس کے احکامات کااحترام ۔ غورکروکہ انہوں نے اللہ تعالی کے حکم شریف کاکس بدتمیزی کے ساتھ مذاق اڑایا۔ اللہ تعالی کے نبی علیہ السلام کااحترام ایمان کی جان ہے ۔ (۱۰) جس کے دل میں اللہ تعالی اوراس کے رسول ﷺکی ہیبت نہیں اس کے دل میں کفارکی ہیبت ہوتی ہے اورجس کے دل میں اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی ہیبت ہواس کے دل میں کسی کاخوف نہیں آتا، دیکھوحضرت سیدناکالب اورحضرت سیدنایوشع بن نون علیہماالسلام کے دلوں میں جبارین کی ہیبت نہ آئی اوران سات لاکھ اسرائیلیوں کے دل مٹھی بھرعمالقہ سے ڈرگئے کیوں کہ صرف اس لئے کہ ان دونوں کے دلوں میں اللہ تعالی کاخوف تھا۔ ان تمام کے دل اس خوف سے خالی تھے ۔ (تفسیرنعیمی ( ۶: ۳۴۵) (۱۱) اس سے یہ بھی معلوم ہواجو لوگ اللہ تعالی کے انبیاء کرام علیہم السلام کے بے ادب اورگستاخ ہوں اورجہاد سے انکاری ہوں توجب ان پر اللہ تعالی کاعذاب آجائے توان پرافسوس کرنابھی منع ہے ۔ جیساکہ اس آیت کریمہ سے معلوم ہواکہ اللہ تعالی نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام کو ان پر افسوس کرنے سے منع فرمادیا۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہواکہ اگرگستاخ قتل ہوجائے تواس پرافسوس کرنااوراس کاجنازہ پڑھنااوراس کے لئے فاتحہ خوانی کرنااوراس کے لئے دعائے مغفرت کرنااوراس کی قبرپرجاناسب حرام حرام اشدحرام اورجہنم میں لے جانے والاکام ہے ۔ اورایساشخص خوددائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے اوراس کے کفرکی وجہ سے اس کانکاح بھی ٹوٹ جاتاہے ۔ (یہی وجہ ہے کہ جب گستاخ گورنرسلمان تاثیرواصل جہنم ہواتواس کاجنازہ اداکرنے سے تمام علماء اسلام نے منع کیااوریہ فتوی شریفہ جاری کیاتھاکہ جوبھی شخص اس کاجنازہ پڑھے گااس ایمان ونکاح جاتارہے گااوراللہ تعالی کافضل یہ ہواکہ انہوںنے بڑے بڑے علماء کو کہاکہ جنازہ پڑھادیں مگرسب نے انکارکردیا) بنی اسرائیل اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے غلاموں میں فرقحضورتاجدارختم نبوتﷺکے غلاموں نے بارگاہ اقدس میں کیاجواب دیا؟
عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ:شَہِدْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ مَشْہَدًا لِأَنْ أَکُونَ صَاحِبَہُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا عُدِلَ بِہِ، أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یَدْعُو عَلَی الْمُشْرِکِینَ، فَقَالَ:إِنَّا وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَا نَقُولُ کَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَی لِمُوسَی: (اذْہَبْ أَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ)وَلَکِنَّا نُقَاتِلُ عَنْ یَمِینِکَ، وَعَنْ شِمَالِکَ، وَمِنْ بَیْنَ یَدَیْکَ، وَمِنْ خَلْفِکَ، فَرَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُشْرِقُ لِذَلِکَ وَسَرَّہُ ذَلِکَ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن مسعو درضی اللہ عنہ ارشادفرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدنامقداد رضی اللہ عنہ کو ایسے مقام پردیکھاکہ اگرمیں اس مقام پر ہوتاتویہ مجھے ہردوسرے مقام سے محبوب ہوتا، وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی خدمت اقدس میں حاضرہوئے جب کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺدشمنوں کے خلاف جہاد کرنے کی دعوت دے رہے تھے ، عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!ہم وہ بات نہیں کریں گے جو بنی اسرائیل نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام سے کہی تھی بلکہ ہم آپ ﷺکے دائیں اورآپﷺکی دل والی طر ف سے بھی کھڑے ہوکراور آپ ﷺکے سامنے ، اورآپ ﷺکے پیچھے جنگ کریں گے ، میں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکاچہرہ انوردیکھاکہ وہ اس بات کی وجہ سے چمک اٹھااورخوش ہوگیا۔ (المستدرک علی الصحیحین: أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم(۳:۳۹۲)ہم وہ بات نہیں کریں گے جو بنی اسرائیل نے کی تھی
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَال:اسْتَشَارَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَخْرَجَہُ إِلَی بَدْرٍ ، فَأَشَارَ عَلَیْہِ أَبُو بَکْرٍ، ثُمَّ اسْتَشَارَ عُمَرَ، فَأَشَارَ عَلَیْہِ عُمَرُ، ثُمَّ اسْتَشَارَہُمْ فَقَالَ بَعْضُ الْأَنْصَارِ: إِیَّاکُمْ یُرِیدُ نَبِیُّ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ قَائِلُ الْأَنْصَارِ: تَسْتَشِیرُنَا یَا نَبِیَّ اللَّہِ، إِنَّا لَا نَقُولُ لَکَ کَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِیلَ لِمُوسَی عَلَیْہِ السَّلَامُ: اذْہَبْ أَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا، إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ، وَلَکِنْ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ، لَوْ ضَرَبْتَ أَکْبَادَہَا إِلَی بَرْکٍ، قَالَ ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ: إِلَی بَرْکِ الْغِمَادِ لَاتَّبَعْنَاکَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺجب بدرشریف کی طرف روانہ ہوئے تواہل اسلام سے مشورہ طلب کیاتوحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے عرض کی تو حضورتاجدارختم نبوتﷺنے پھرمشورہ طلب کیاتوانصارکرام نے کہاکہ اے انصارکی جماعت ! حضورتاجدارختم نبوتﷺتمھاراارادہ کرتے ہیں ۔ توایک انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم وہ بات نہیں کریں گے جو بنی اسرائیل نے کی تھی ، اس ذات کی قسم !جس نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکو حق کے ساتھ مبعوث فرمایااگرآپﷺاس کے جگرکے ٹکڑوں کو برک غمادلے جائیں توہم آپ ﷺکی پیروی کریں گے ۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۲۰:۲۸۰)ہم وہ نہیں ہیں
عَن عتبَۃ بن عبد السّلمِیّ قَالَ: قَالَ النَّبِی صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم لاصحابہ ألاتقاتلون قَالُوا: نعم ولانقول کَمَا قَالَت بَنو إِسْرَائِیل لمُوسَی (فَاذْہَبْ أَنْت وَرَبک فَقَاتلا إِنَّا ہَا ہُنَا قَاعِدُونَ) وَلَکِن اذْہَبْ أَنْت وَرَبک فَقَاتلا إِنَّا مَعکُمْ مُقَاتِلُونَ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعتبہ بن عبدالسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فرمایاکہ کیاتم جہاد نہیں کروگے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!کیوں نہیں۔ ہم وہ بات نہیں کریں گے جو بنی اسرائیل نے کی تھی ’’ آپ اورآپ کارب جائے اورقتال کرے‘‘بلکہ ہم توآپﷺکی معیت میں جہادکریں گے ۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۴:۱۸۴)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9