صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2322 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ مائدہ آیت ۱۰۱۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْـَلُوْا عَنْ اَشْیَآء َ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَ اِنْ تَسْـَلُوْا عَنْہَا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,990

سوال (Question):

تفسیر سورہ مائدہ آیت ۱۰۱۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْـَلُوْا عَنْ اَشْیَآء َ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَ اِنْ تَسْـَلُوْا عَنْہَا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ اقدس میں کثرت سوال بھی بے ادبی ہے

{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْـَلُوْا عَنْ اَشْیَآء َ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَ اِنْ تَسْـَلُوْا عَنْہَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَلَکُمْ عَفَا اللہُ عَنْہَا وَاللہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ }(۱۰۱) ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو!ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر انہیں اس وقت پوچھو گے کہ قرآن اتر رہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی اللہ انہیں معاف فرما چکا ہے اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اے اہل ایمان! تم ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر تم انہیں اس وقت پوچھو گے جبکہ قرآن نازل کیا جارہا ہے تو تم پروہ چیزیں ظاہر کردی جائیں گی اور اللہ ان کو معاف کرچکا ہے اور اللہ بخشنے والا ،حلم والا ہے۔ شان نزول عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا، قَالَ:کَانَ قَوْمٌ یَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اسْتِہْزَاء ً، فَیَقُولُ الرَّجُلُ:مَنْ أَبِی؟ وَیَقُولُ الرَّجُلُ تَضِلُّ نَاقَتُہُ:أَیْنَ نَاقَتِی؟ فَأَنْزَلَ اللَّہُ فِیہِمْ ہَذِہِ الآیَۃَ:(یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْیَاء َ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ) (المائدۃ: ۱۰۱)حَتَّی فَرَغَ مِنَ الآیَۃِ کُلِّہَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ ایک قوم نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے بطوراستہزاء سوالات کئے ،ایک کہتاکہ میراباپ کون ہے ؟ ایک کہتاکہ میری اونٹنی گم ہوگئی ہے وہ کہاں ہے ؟ توان کے بارے میں اللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۶:۵۴)

مسائل میں تشکیک پیداکرنے کے لئے سوال کرنامنع ہے

قَالَ کَثِیرٌ مِنَ العلماء :المرادبِقَوْلِہِ)وَکَثْرَۃَ السُّؤَالِ (التَّکْثِیرُ مِنَ السُّؤَالِ فِی الْمَسَائِلِ الْفِقْہِیَّۃِ تَنَطُّعًا، وَتَکَلُّفًا فِیمَا لَمْ یُنَزَّلْ، وَالْأُغْلُوطَاتُ وَتَشْقِیقُ الْمُوَلَّدَاتِ، وَقَدْ کَانَ السَّلَفُ یَکْرَہُونَ ذَلِکَ وَیَرَوْنَہُ مِنَ التَّکْلِیفِ وَیَقُولُونَ: إِذَا نَزَلَتِ النَّازِلَۃُ وُفِّقَ الْمَسْئُولُ لَہَا۔ ترجمہ :بہت سے علماء کافرمان شریف ہے کہ کثرت سوال سے مراد خواہ مخواہ فقہی سوالات کرناہے ، غلط سوال کرنااورمسائل میں تشکیک پیداکرناہے اورجواحکام نازل نہیں ہوئے ان کاموجب بنناہے ، سلف صالحین اس صورت کو ناپسندفرمایاکرتے تھے ۔ اورفرمایاکرتے تھے یہ تکلیف کاباعث ہے ، جب ایسی صورت حال پیداہوگی تواللہ تعالی کی طرف اس کے حل کی توفیق بھی مل جائے گی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۶:۳۳۴) امام مالک رضی اللہ عنہ کاقول قَالَ مَالِکٌ: أَدْرَکْتُ أَہْلَ ہَذَا الْبَلَدِ وَمَا عِنْدَہُمْ عِلْمٌ غَیْرَ الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ، فَإِذَا نَزَلَتْ نَازِلَۃٌ جَمَعَ الْأَمِیرُ لَہَا مَنْ حَضَرَ مِنَ الْعُلَمَاء ِ فَمَا اتَّفَقُوا عَلَیْہِ أَنْفَذَہُ، وَأَنْتُمْ تُکْثِرُونَ الْمَسَائِلَ وَقَدْ کَرِہَہَا رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میںنے اس شہرکے باشندوں کودیکھاہے کہ ان کے پاس سوائے قرآن کریم اورحدیث شریف کے اورکوئی علم نہیں ، جب ان کوکوئی مسئلہ پیش آتاتوحاکم وقت علماء کرام کو جمع کرتااورجس پر علماء کرام متفق ہوجاتے اسے نافذ کردیاجاتاتوتم کثرت کے ساتھ سوال کرتے ہوحالانکہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے سوالات کی کثرت کو ناپسندفرمایاہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۶:۳۳۴)

حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کاعمل شریف

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ یَزِیدَ الْمِنْقَرِیُّ، حَدَّثَنِی أَبِی، قَالَ:جَاء َ رَجُلٌ یَوْمًا إِلَی ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا، فَسَأَلَہُ عَنْ شَیْء ٍ لَا أَدْرِی مَا ہُوَ، فَقَالَ لَہُ: ابْنُ عُمَرَ:لَا تَسْأَلْ عَمَّا لَمْ یَکُنْ، فَإِنِّی سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّہِ عَلَیْہِ یَلْعَنُ مَنْ سَأَلَ عَمَّا لَمْ یَکُنْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناحمادبن یزید المنقری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے اباجی نے بیان کیاکہ ایک دن ایک شخص حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماکی خدمت اقدس میں حاضرہوااوراس نے ایسامسئلہ دریافت کیاجس کومیں نہیں جانتاتھا، حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمانے فرمایا:ایسامسئلہ دریافت نہ کروجوواقع نہ ہواہو، بے شک میں نے حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ سے ایسے شخص پرلعنت بھیجتے ہوئے سناجوایسامسئلہ دریافت کرتاجوپیش نہ آیاہوتا۔ (سنن الدارمی:أبو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمن بن الفضل بن بَہرام بن عبد الصمد الدارمی السمرقندی (ا:۲۴۲)

حضرت سیدنازیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کاعمل شریف

وَذُکِرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ:بَلَغَنَا أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِیَّ کَانَ یَقُولُ إِذَا سُئِلَ عَنِ الْأَمْرِ:أَکَانَ ہَذَا؟ فَإِنْ قَالُوا:نَعَمْ قَدْ کَانَ حَدَّثَ فِیہِ بِالَّذِی یَعْلَمُ، وَإِنْ قَالُوا:لَمْ یَکُنْ قَالَ فَذَرُوہُ حَتَّی یَکُونَ أَسْنَدَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ وَقَدْ سُئِلَ عَنْ مسألۃ فقال ہَلْ کَانَ ہَذَا بَعْدُ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: دَعُونَا حَتَّی یَکُونَ، فَإِذَا کَانَ تَجَشَّمْنَاہَا لَکُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام الزہری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت سیدنازیدبن ثابت الانصاری رضی اللہ عنہ سے جب بھی کسی امرکے متعلق سوال کیاجاتاتوفرماتے تھے کہ کیایہ مسئلہ درپیش ہے ؟ اگرلوگ کہتے کہ ہاں۔ تواس کاحل بیان فرماتے تھے جواس کے متعلق جانتے تھے ، اگرلوگ کہتے کہ یہ مسئلہ درپیش تونہیں ہے توفرماتے کہ اس کو چھوڑدوحتی کہ یہ پیش آجائے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۶:۳۳۴)

حضرت سیدناعمار بن یاسررضی اللہ عنہ کاعمل شریف

عَنْ عَامِرٍ قَالَ سُئِلَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، عَنْ مَسْأَلَۃٍ فَقَالَ:ہَلْ کَانَ ہَذَا بَعْدُ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: دَعُونَا حَتَّی یَکُونَ، فَإِذَا کَانَ، تَجَشَّمْنَاہَا لَکُمْ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعامررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعمار بن یاسررضی اللہ عنہ سے کسی مسئلہ کے متعلق پوچھاجاتاتووہ فرماتے ،یہ مسئلہ ابھی پیش ہے ؟ تووہ کہتے کہ ابھی پیش نہیں آیاتوآپ رضی اللہ عنہ فرمایاکرتے تھے کہ ہمیں چھوڑے رکھویہاں تک کہ یہ مسئلہ پیش آئے ۔جب پیش آئے گاتواس وقت بیان کرنے کی کوشش کریں گے ۔ (سنن الدارمی:أبو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمن بن الفضل بن بَہرام بن عبد الصمد الدارمی السمرقندی (ا:۲۴۲)

آج کے دورمیں سوال کرنامنع نہیں ہے

قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ:السُّؤَالُ الْیَوْمَ لَا یُخَافُ مِنْہُ أَنْ یَنْزِلَ تَحْرِیمٌ وَلَا تَحْلِیلٌ مِنْ أَجْلِہِ، فَمَنْ سَأَلَ مُسْتَفْہِمًا رَاغِبًا فِی الْعِلْمِ وَنَفْیِ الْجَہْلِ عَنْ نَفْسِہِ، بَاحِثًا عَنْ مَعْنًی یَجِبُ الْوُقُوفُ فِی الدِّیَانَۃِ عَلَیْہِ، فَلَا بَأْسَ بِہِ، فَشِفَاء ُ الْعِیِّ السُّؤَالُ، وَمَنْ سَأَلَ مُتَعَنِّتًا غَیْرَ مُتَفَقِّہٍ وَلَا مُتَعَلِّمٍ فَہُوَ الَّذِی لَا یَحِلُّ قَلِیلُ سُؤَالِہِ وَلَا کَثِیرُہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام ابن عبدالبررحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ آج کے سوالات سے کوئی خوف نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے کوئی تحلیل وتحریم نازل ہوجو سمجھنے کے لئے علم میں رغبت کی وجہ سے اوراپنی ذات سے جہالت کو دورکرنے کے لئے اوراس معنی کوحاصل کرنے کیلئے دین میں اس پرواقف ہوناواجب ہے ، تواس میں کوئی حرج نہیں ہے ، جہا لت کاعلاج سوال ہی ہے ، جس نے عناد کی وجہ سے ، بغیر سیکھنے اورسمجھنے کی نیت کے سوال کیاتوایسے شخص کے لئے نہ توقلیل سوال کرناحلال ہے اورنہ ہی کثیرسوال کرنا۔ (التمہید:أبو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمری القرطبی (۲۱:۲۹۲)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کااس آیت کریمہ پرعمل

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کل تیرہ سوالات کئے عَنْ عَطَاء ٍ، عَنْ سَعِیدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا، قَالَ:مَا رَأَیْتُ قَوْمًا کَانُوا خَیْرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا سَأَلُوہُ إِلَّا عَنْ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ مَسْأَلَۃً حَتَّی قُبِضَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناسعیدبن جبیررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ میں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بہترقوم نہیں دیکھی ، انہوں نے حضورتاجدارختم نبوتﷺ سے صرف اورصرف تیرہ مسائل دریافت کئے حتی کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکاوصال شریف ہوگیا۔ (مسند الإمام الدارمی:أبو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمن الدارمی(۱:۹۷)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاآیت کریمہ کے نزول کے بعد سوا ل کرنے سے ہچکچانا

عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ:لَمَّا کَانَ حَجَّۃُ الْوَدَاعِ، قَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ مُرْدِفٌ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَہُوَ عَلَی جَمَلٍ، فَقَالَ:یَا أَیُّہَا النَّاسُ، خُذُوا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ یُقْبَضَ الْعِلْمُ، وَقَبْلَ أَنْ یُرْفَعَ الْعِلْمُ . وَقَدْ کَانَ أَنْزَلَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ:(یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمِنٌوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْیَاء َ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ)(المائدۃ: ۱۰۱)الْآیَۃَ، فَکُنَّا نَذْکُرُہَا کَثِیرًا، فَتَمْنَعُنَا مِنْ مَسْأَلَتِہِ. فَأَتَیْنَا أَعْرَابِیًّا فَرَشَوْنَاہُ بُرْدًا، فَأَعْتَمَ بِہِ حَتَّی رَأَیْتُ حَاشِیَۃَ الْبُرْدِ عَلَی حَاجِبِہِ الْأَیْمَنِ، ثُمَّ قُلْنَا:سَلِ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:یَا نَبِیَّ اللہِ کَیْفَ یُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا، وَبَیْنَ أَظْہُرِنَا الْمَصَاحِفُ قَدْ تَعَلَّمْنَا فِیہَا، وَعَلَّمْنَاہَا نِسَاء َنَا وَذَرَارِیَّنَا وَخَدَمَنَا، فَرَفَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأْسَہُ، وَقَدْ عَلَتْ وَجْہَہُ حُمْرَۃٌ مِنَ الْغَضَبِ، فَقَالَ:أَیْ ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ، وَہَذِہِ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی بَیْنَ أَظْہُرِہِمِ الْمَصَاحِفُ، لَمْ یُصْبِحُوا یَتَعَلَّقُوا بِالْحَرْفِ مِمَّا جَاء َتْہُمْ بِہِ أَنْبِیَاؤُہُمْ، أَلَا وَإِنَّ مِنْ ذَہَابِ الْعِلْمِ أَنْ یَذْہَبَ أَہْلُہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے عرفہ میں وقوف فرمایاجبکہ آپ ﷺکے اونٹ کے پیچھے حضرت سیدنافضل بن عباس رضی اللہ عنہمابیٹھے ہوئے تھے ، آپﷺنے فرمایا: اے لوگو!علم کے اٹھ جانے سے پہلے پہلے علم حاصل کرلو، اورسورۃ المائدہ کی اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد ہم سوال کرنے سے ڈرتے تھے ،ہم نے ایک دیہاتی کو آگے کیا، ہم نے سوال کرنے کے بدلہ میں اسے ایک چادردی ، اس نے عمامہ بنالیا، یہاں تک کہ چادرکاشملہ میں نے اس کے دائیں کندھے پردیکھا، ہم نے اس دیہاتی سے کہاکہ تم حضورتاجدارختم نبوتﷺسے سوال کروکہ علم کیسے اٹھ جائے گاجبکہ یہ قرآن کریم ہمارے درمیان ہے ، ہم نے اسے سیکھاہے اوراپنی عورتوں، بچوں اورغلاموں کو بھی سکھایاہے ؟ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اپناسرمبارک اٹھایاتوآپﷺکاچہرہ مبارک جلال کی وجہ سے سرخ ہورہاتھا، فرمایا: کیایہودیوں اورنصرانیوں کے درمیان آسمانی صحیفے موجود نہیں ہیں؟ ان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ انکے انبیاء کرام علیہم السلام جو پیغام لائے تھے اس میں ایک حرف ان کے پاس ہے اورنہ ہی ان کاان کی تعلیمات کے ساتھ کوئی تعلق ہے ۔ خبردار!علم کے چلے جانے کامطلب یہ ہے کہ علم والے چلے جائیں ۔ (المعجم الکبیر:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (۸:۲۱۵)

ہم توسوال کرنے سے ڈرتے تھے

عَنْ أَبِی مَالِکٍ الْأَشْعَرِیِّ، قَالَ:کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ(لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْیَاء َ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ)(المائدۃ: ۱۰۱)قَالَ:فَنَحْنُ نَسْأَلُہُ إِذْ قَالَ:إِنَّ لِلَّہِ عِبَادًا لَیْسُوا بِأَنْبِیَاء َ وَلَا شُہَدَاء َ یَغْبِطُہُمُ النَّبِیُّونَ وَالشُّہَدَاء ُ بِقُرْبِہمْ ومَقْعَدِہِمْ مِنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ:وَفِی نَاحِیَۃِ الْقَوْمِ أَعْرَابِیٌّ، فَقَامَ فَجَثَا عَلَی رُکْبَتَیْہِ وَرَمَی بِیَدَیْہِ، ثُمَّ قَالَ:حَدِّثْنَا یَا رَسُولَ اللہِ عَنْہُمْ مَنْ ہُمْ؟ قَالَ:فَرَأَیْتُ وَجْہَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْتَشِرُ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: عِبَادٌ مِنْ عِبَادِ اللہِ مِنْ بُلْدَانٍ شَتَّی وَقَبَائِلَ مِنْ شُعُوبِ أَرْحَامِ الْقَبَائِلِ، لَمْ یَکُنْ بَیْنَہُمْ أَرْحَامٌ یَتَوَاصَلُونَ بِہَا لِلَّہِ، لَا دُنْیَا یَتَبَادَلُونَ بِہَا، یَتَحَابُّونَ بِرُوحِ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ، یَجْعَلُ اللہُ وُجُوہَہُمْ نُورًا، یَجْعَلُ لَہُمْ مَنَابِرَ مِنْ لُؤْلُؤٍ قُدَّامَ الرَّحْمَنِ تَعَالَی، یَفْزَعُ النَّاسُ وَلَا یَفْزَعُونَ، وَیَخَافُ النَّاسُ وَلَا یَخَافُونَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابومالک الاشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ اقدس میں موجودتھایہ آیت کریمہ نازل ہوئی ، ہم سوالات کرتے تھے ، اسی اثناء میں حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: اللہ تعالی کے کچھ بندے ایسے ہیںوہ انبیاء کرام علیہم السلام اورشہداء کرام نہیں مگرقیامت کے دن اللہ تعالی کے قرب اوران کی نشست پر انبیاء کرام علیہم السلام اورشہداء کرام بھی فخرکریں گے ، ایک دیہاتی نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!وہ کون لوگ ہوں گے ؟ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: وہ مختلف ملکوں اورمختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے اللہ تعالی کے بندے ہوں گے انکے درمیان رشتہ داری نہیں ہوگی جس کے باعث وہ آپس میں وابستہ ہوں نہ ان کے درمیان دنیاوی تعلق ہوں گے جن کاوہ تبادلہ کرتے ہوں ، وہ اللہ تعالی کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرتے ہوں گے ، اللہ تعالی ان کے چہروں کو نوربنادے گااوراللہ تعالی اپنے سامنے ان کے موتیوں کے منبربنادے گا، لوگ خوف زدہ ہوں گے مگروہ نہ ڈریں گے لوگ خوف زدہ ہوں گے مگروہ خوف زدہ نہیں ہوں گے۔ (المعجم الکبیر:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (۳:۲۹۰) آیت کریمہ کے نزول کے بعد حضرت سیدناابوبکررضی اللہ عنہ کاعمل شریف وَأخرج أَبُو الشَّیْخ وَابْن مرْدَوَیْہ عَن عبد اللہ بن مَالک بن بُحَیْنَۃ قَالَ صلی رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم علی أہل الْمقْبرَۃ ثَلَاث مَرَّات وَذَلِکَ بعد نزُول ہَذِہ الْآیَۃ (یَا أَیہَا الَّذین آمنُوا لَا تسألوا عَن أَشْیَاء إِن تبد لکم تَسُؤْکُمْ)فاسکت الْقَوْم فَقَامَ أَبُو بکر فَأتی عَائِشَۃ فَقَالَ: أَن النَّبِی صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم صلی علی أہل الْمقْبرَۃ فَقَالَت عَائِشَۃ:صلیت علی أہل الْمقْبرَۃ فَقَالَ رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم: تِلْکَ مَقْبرَۃ بعسقلان یحْشر مِنْہَا سَبْعُونَ ألف شَہِید۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے قبرستان میں مدفون لوگوں کے لئے تین دفعہ دعاکی ، یہ واقعہ اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد کاہے ، لوگ خاموش ہوگئے کسی نے کوئی سوال نہ کیایہاں تک کہ حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اٹھے حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے پاس آئے اورفرمایاکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے مقبرہ والوں کے لئے دعاکی ہے ، حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ اقدس میں عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!آپ ﷺنے مقبرہ والوں کے لئے دعاکی ہے ؟ توحضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: یہ مقبرہ عسقلان میں ہے جس سے سترہزارشہیداٹھائے جائیں گے ۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۳:۲۱۰)

میرا دل کرتاہے کہ سوال کروں مگر۔۔

عَن معَاذ بن جبل قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِی صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم فتقدمت بِہِ رَاحِلَتہ ثمَّ إِن رَاحِلَتی لحقت براحلتہ حَتَّی تصْحَب رکبتی رکبتہ فَقلت:یَا رَسُول اللہ إِنِّی أُرِید أَن أَسأَلک عَن أَمر یَمْنعنِی مَکَان ہَذِہ الْآیَۃ (یَا أَیہَا الَّذین آمنُوا لَا تسألوا عَن أَشْیَاء إِن تبد لکم تَسُؤْکُمْ)قَالَ: مَا ہُوَ یَا معَاذ قلت:مَا الْعَمَل الَّذِی یدخلنی الْجنَّۃ وینجینی من النَّار قَالَ:قد سَأَلت عَن عَظِیم وَإنَّہُ یسیر شَہَادَۃ أَن لَا إِلَہ إِلَّا اللہ وَأَنِّی رَسُول اللہ واقام الصَّلَاۃ وایتاء الزَّکَاۃ وَحج الْبَیْت وَصَوْم رَمَضَان ثمَّ قَالَ:أَلا أخْبرک بِرَأْس الْأَمر وعمودہ وذروتہ أما رَأس الْأَمر فالإسلام وعمودہ الصَّلَاۃ وَأما ذروتہ فالجہاد ثمَّ قَالَ:الصّیام جنَّۃ وَالصَّدَََقَۃ تکفر الْخَطَایَا وَقیام اللَّیْل وَقَرَأَ (تَتَجَافَی جنُوبہم عَن الْمضَاجِع) إِلَی آخر الْآیَۃثمَّ قَالَ: أَلا أنبئکم مَا ہُوَ أملک بِالنَّاسِ من ذَلِک ثمَّ أخرج لِسَانہ فأمسکہ بَین أصبعیہ فَقلت:یَا رَسُول اللہ أکل مَا نتکلم بِہِ یکْتب علینا قَالَ: ثکلتک أمک وَہل یکب النَّاس علی مناخرہم فِی النَّار إِلَّا حصائد ألسنتہم إِنَّک لن تزَال سالما مَا أَمْسَکت فَإِذا تَکَلَّمت کتب عَلَیْک أَو لَک۔ ترجمہ :حضرت سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ساتھ تھے ، آپ ﷺکی سواری آپ ﷺکوآگے لے گئی ، پھرمیری سواری آپ ﷺکی سواری کے ساتھ جاکرملی یہاںتک کے میراگھٹناآپ ﷺکے مبارک گھٹنے کے ساتھ مل گیا، میں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!میں آپ ﷺسے ایک سوال کرناچاہتاہوں مگرمجھے یہ آیت کریمہ سوال کرنے سے منع کرتی ہے ۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: اے معاذ !بتائو!وہ کیاسوال ہے ؟ تومیں نے عرض کی کہ وہ کونساعمل ہے جومجھے جنت داخل کردے گااوردوزخ سے نجات دے دے گا؟ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: تونے بہت بڑی چیز کے بارے میں سوال کیاہے ، جبکہ وہ چیز چھوٹی سی ہے ، وہ عمل یہ ہے کہ ( لَا إِلَہ إِلَّا اللہ وَأَنِّی رَسُول اللہ)کی گواہی دینا،نمازقائم کرنا، زکوۃ اداکرنا، بیت اللہ کاحج کرنااوررمضان المبارک کے روزے رکھنا، پھر حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:کیامیں تجھے اس معاملے کے اوراسکے ستون اورچوٹی کے بارے میں نہ بتائوں؟ جہاں تک اس کے سرکاتعلق ہے وہ اسلام ہے ، اس کاستون نماز ہے ، اوراس کی چوٹی جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔ پھر حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: روزے ڈھال ہیں ، صدقہ گناہوں کو مٹادیتاہے اوررات کاقیام۔ پھریہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی {تَتَجَافَی جنُوبہم عَن الْمضَاجِع}پھرفرمایا: کیامیں تمھیں نہ بتائوں کہ کون سی چیز لوگوں پرغالب ہے ؟ پھرحضورتاجدارختم نبوتﷺنے اپنی زبان مبارک باہرنکالی ، اسے دوانگلیوں کے درمیان پکڑا، میں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!کیاہم جو باتیں کرتے ہیں انہیں لکھاجاتاہے ؟ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: تیری ماں تجھے روئے ، لوگ جہنم میں اپنی زبانوں کی کھیتی کی وجہ سے منہ کے بل گریں گے ، جب تواسے روکے رکھے گاتوسلامت رہے گا، جب توکوئی بات کرے گاتوتیرے خلاف لکھاجائے گایاتیرے حق میں لکھاجائے گا۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۳:۲۱۰)

معارف ومسائل

(۱)اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی صحیح مقصد کے بغیر سوال کرنا ممنوع ہے نیز فضول سوال کرنا بھی ممنوع ہے۔ لہٰذا عوام الناس کو چاہئے کہ اس بات کو پیش نظررکھیں کہ علماء اور مفتیانِ کرام سے وہی سوال کئے جائیں جن کی حاجت ہو، زمین پر بیٹھ کر خواہ مخواہ چاندپر رہائش کے سوال نہ کئے جائیں۔بعض لوگ علماء کو پریشان کرنے یا ان کا امتحان لینے یا ان کی لاعلمی ظاہر کرنے کیلئے سوال کرتے ہیں ،یہ سب ناجائز ہے۔از تفسیرصراط الجنان :سورۃ البقرہ :۱۰۸) (۲) اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسئلہ معلوم کرکے عمل کرنے کی بجائے خواہ مخواہ بال کی کھال اتارتے رہنا اور اپنے من پسند حکم کا مطالبہ کرنا یہودیوں اور مشرکوں کا طریقہ ہے۔ہمارے معاشرے میں بھی لوگوں کی ایک تعداد ایسی ہے جن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ معاملات یا عبادات میں جو صورت انہیں درپیش ہے اس میں فتویٰ ان کی مرضی اور پسند کے عین مطابق ملے اور اگر انہیں کہیں سے کوئی ایک ایسی دلیل مل جاتی ہے جو ان کے مقصد و مفادکو پورا کر رہی ہوتی ہے تو وہ اسی پر اڑ جاتے ہیں اگرچہ اس کے خلاف ہزار دلائل موجود ہوں لیکن وہ چونکہ ان کی مراد کے خلاف ہوتے ہیں اس لئے انہیں قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتے اور ان کے بارے میں طرح طرح کی الٹی سیدھی تاویلیں پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے۔ (۳)حضورتاجدارختم نبوتﷺکے عہدمبارک میں بعض اوقات ایسے سوالات بھی سامنے آئے جو اللہ تعالیٰ اور حضورتاجدارختم نبوتﷺکے مزاج کے خلاف تھے اور ان میں کوئی دینی یا دنیوی فائدہ نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے محدود پیمانے پر اس سلسلہ میں کچھ پابندی عائد کر دی۔اس کے بعد لوگوں پر پابندی عائد کر دی گئی کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺسے ایسے سوالات نہ کئے جائیں جن میں کوئی دینی یا دنیوی فائدہ نہ ہو کیونکہ خواہ مخواہ سوال پوچھنے سے انسان کو نقصان ہی ہوتا ہے یا اس پر کوئی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ ویسے بھی حضورتاجدارختم نبوتﷺنے بے فائدہ گفتگو کرنے، زیادہ سوالات پوچھنے سے منع فرمایا ہے۔ اوریہ بھی یادرہے کہ ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا جیسا کہ کچھ لوگ قرآنی آیات سے استدلال کر کے باطل چیزوں کے امکان پر بحث و سوال کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں مثلا اللہ تعالیٰ اگر سب کچھ جانتا ہے تو کیا جادو بھی جانتا ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے تو کیا وہ جھوٹ بولنے پر بھی قدرت رکھتا ہے؟ العیاذباللہ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh