صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2324 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ مائدہ آیت ۱۰۴۔ وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللہُ وَ اِلَی الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآء َنَا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,202

سوال (Question):

تفسیر سورہ مائدہ آیت ۱۰۴۔ وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللہُ وَ اِلَی الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآء َنَا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

منکرین حدیث قرآن کریم اورحدیث شریف کی عدالت میں

{وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللہُ وَ اِلَی الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآء َنَا اَوَ لَوْ کَانَ اٰبَآؤُہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْـًا وَّلَا یَہْتَدُوْنَ }(۱۰۴) ترجمہ کنزالایمان:اور جب ان سے کہا جائے آؤ اس طرف جو اللہ نے اُتارا اور رسول کی طرف کہیں ہمیں وہ بہت ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ جانیں نہ راہ پر ہوں۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور جب ان سے کہا جائے کہ جو اللہ تعالی نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف اورحضورتاجدارختم نبوتﷺ کی طرف آؤتو کہتے ہیں کہ ہمیں وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ جانتے ہوں اور نہ انہیں ہدایت ہو۔ آیت کریمہ کامعنی وَإِذا قِیلَ لَہُمْ ای للاکثر علی سبیل الہدایۃ والإرشاد تَعالَوْا إِلی ما أَنْزَلَ اللَّہُ من الکتاب المبین للحلال والحرام وَإِلَی الرَّسُولِ الذی انزل ہو علیہ لتقفوا علی حقیقۃ الحال وتمیزوا الحرام من الحلال قالُوا حَسْبُنا ما وَجَدْنا عَلَیْہِ آباء َنا بیان لعنادہم واستعصائہم علی الہادی الی الحق وانقیادہم للداعی الی الضلال. ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اورجب ان کے اکثرکوازروئے ہدایت ورہبری کہاجاتاہے {د تَعالَوْا إِلی ما أَنْزَلَ اللَّہ}آئواس کی طرف جو اللہ تعالی نے حلال وحرام کے متعلق کتاب مبین میں نازل فرمایاہے اور{ وَإِلَی الرَّسُولِ}اوراس رسول یعنی تاجدارختم نبوت ﷺکی طرف جن پریہ کلام پاک نازل کیاگیاتاکہ تم کو حقیقت حال معلوم ہواورحلال وحرام میںتمیزکرسکو{قالُوا حَسْبُنا ما وَجَدْنا عَلَیْہِ آباء َنا }توکہتے ہیں کہ ہمیں وہی کافی ہے جس پرہم نے اپنے آبائواجدادکوپایا، اس میں بتایاگیاہے کہ وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺسے کتنی دشمنی اورعناد رکھتے تھے اوران کی نافرمانی میں کتنی حدتک منہمک تھے اوراپنے گمراہ کرنے والے لیڈروں سے کیسے وابستہ تھے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۲:۴۵۲)

منکرین حدیث کے متعلق چندچشم کشاباتیں

جب سے مسلمانوں کااقتدار دنیامیں رو بزوا ل ہوا ہے اور یورپ کے اقتدار نے اسکی جگہ لی اس وقت سے مسلمانوں کو اس مرعوبیت نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے جوان کے ذہنوں پر مغربی افکار و تہذیب نے مسلط کرد ی ہے۔رفتہ رفتہ یہ مرعوبیت اس درجہ میں بڑھ گئی کہ اسلام کی جوتعلیمات مسلمانوں کے نوتعلیم یافتہ طبقے کو مغربی افکار سے متصادم معلوم ہوئیں ، ان کاانکار کرنے لگے اور یہ بات ان کے ذہنوں میں راسخ ہوگئی کہ دنیا کی کوئی ترقی تقلید مغرب کے بغیر ممکن نہیں ۔مرعوب ذہنیت کایہ طبقہ مختلف ممالک اسلامیہ میں مغرب سے ہمرکاب ہونے کے شوق میں اسلامی تعلیمات میں تحریف پر آمادہ ہوگیا اس طبقہ کو اہل تجدد کہا جاتا ہے۔ اس طبقے کے سرکردہ ترکی میں گوک الپ،مصر میںطہ حسین،اور ہندوستان میں سر سید احمد خان (مرتدووجال اعظم فی الہند)تھے۔مولوی چراغ علی بھی سر سید احمد خان کے ساتھی تھے ،ان کی قیادت میں یہ تحریک تجدد آگے بڑھی ۔انھوں نے کھل کر حجیت حدیث کاانکار تو نہیں کیا ،لیکن جو حدیث مغربی افکار سے متصادم نظر آئی اس کی صحت سے انکار کردیا خواہ اس کی سند کتنی ہی قوی ہو،کہیں کہیں دبے الفاظ میں یہ بھی کہا جانے لگا کہ اس زمانے میں حدیث حجت نہیں ہونی چاہئے ،مگر ساتھ ہی جو حدیث مفید طلب نظر آتی اس سے استدلال بھی کرتے تھے ان کے بعد یہ تحریک عبد اللہ چکڑالوی کی قیادت میں قدرے اور منظم ہوئی یہ خود کو اہل قرآن کہتے تھے اور حجیت حدیث کے منکر تھے اور اسلم جی رامپوری نے اس تحریک کو اور آگے بڑھایایہاں تک کہ ہمارے زمانے میں غلام احمد پرویز نے انکار حدیث کو ایک منظم نظریہ بناکر نو تعلیم یافتہ طبقہ میں پھیلادیا،اس کے رد میں علماء نے الحمد للہ چھوٹی بڑی کتابیں مختلف انداز میں تحریر کیں اردو عربی میں منکرین حدیث کے رد میں الحمد للہ ایک بڑاذخیرہ کتب تیار ہوچکا ہے۔یہاں اس فرقے کے باطل نظریات اور ان کے ابطال کے دلائل اصولی طور پر ذکر کئے جاتے ہیں۔ بنیادی طور پر منکرین حدیث میں تین نظریات پائے جاتے ہیں: (۱)قرآن کریم سمجھنے کیلئے حدیث کی ضرورت نہیں ،وحی صرف متلو میں منحصر ہے ،غیر متلو کوئی وحی نہیں اور رسول اللہ ﷺکی اطاعت من حیث الرسول واجب نہیں ۔نہ ہم پر نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر آپ ﷺکی اطاعت حاکم ہونے کی حیثیت سے واجب تھی نہ کہ من حیث الرسول۔ (۲) احادیث نبویہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیلئے حجت تھیں،ہمارے لئے نہیں۔ (۳)احادیث صحابہ کیلئے بھی حجت تھیں اور ہمارے لئے بھی ،لیکن ہم تک احادیث براہ راست نہیں پہنچیں،بلکہ بہت سے راویوں کے واسطے سے پہنچیںاور یہ واسطے قابل اعتماد نہیں ۔اس لئے اب ان احادیث کو حجت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ تینوں نظریات باہم متعارض ہیں ۔منکر حدیث کی تقریر یاتحریر میں ان میں سے کوئی ایک نظریہ ضرور پایاجاتا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ ایک شخص کے اقوال میں بھی یہ تینوں نظریات مختلف اوقات میں پائے جاتے ہیں ۔ہم یہاں ہر نظریہ کے ابطال پر کچھ دلائل پیش کرتے ہیں۔ پہلے نظریہ کارد وحی غیر متلو کاثبوت {وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآیِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآء ُ اِنَّہ عَلِیٌّ حَکِیْمٌ }( سورۃ الشوری :۵۱) ترجمہ کنزالایمان:اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر یا یوں کہ وہ بشر پر د ہ عظمت کے ادھر ہو یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے بیشک وہ بلندی و حکمت والا ہے۔ اس آیت میں بشر سے ہمکلام ہونے کی اللہ تعالی نے تین صورتیں بیان فرمائیں۔جن میں سے { یُرْسِلَ رَسُوْلًا}کے ساتھ وحی متلو یعنی قرآن کریم خاص ہے ،باقی دونوں صورتیں یعنی {وَحْیًا} اور {مِنْ وَّرَآیِ حِجَابٍ} کا تعلق غیر متلو سے ہے اور وہی حدیث ہے ،{ یُرْسِلَ رَسُوْلًا}کے ساتھ قرآن کے مخصوص ہونے کی دلیل خود سورہ شعراء کی یہ آیت {وَ اِنَّہ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ }(سورۃ الشعراء :۱۹۲){نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ }سورۃ الشعراء :۱۹۳)ترجمہ کنزالایمان :اور بیشک یہ قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے،اسے روح الا مین لے کر اترا۔ {وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْہَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ}( سورۃ البقرہ : ۱۴۳) ترجمہ کنزالایمان:اور اے محبوبﷺ! تم پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے ۔ یہ آیت تحویل قبلہ کے موقع پر نازل ہوئی{ الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْہَا}سے مراد بیت المقدس ہے{وَمَا جَعَلْنَا}میں اللہ تعالی نے بیت المقدس کو قبلہ قرار دینے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے جس سے یہ ثابت ہوا کہ بیت المقدس کو قبلہ بنانے کاحکم اللہ تعالی کی طرف سے تھا،مگر پورے قرآن میں یہ حکم کہیں مذکور نہیں،ظاہر ہے کہ یہ حکم وحی غیر متلو کے ذریعہ آیا اس سے وحی کا متلو میں منحصر نہ ہونااور وحی غیر متلو کا حجت ہونا بھی ثابت ہوا۔ {وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی }{اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی}سورۃ النجم :۳،۴) ترجمہ کنزالایمان:اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے ،وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے ۔ ا س آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے واضح فرمایا کہ آپﷺ اپنی طرف سے کچھ نہیں فرماتے بلکہ وہی کہتے ہیں جس کاآپﷺ کو حکم ہوا اس سے بھی ثابت ہوا کہ آپ ﷺکا ہر کلام وحی کے مطابق ہوتا تھا۔ {عَلِمَ اللہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ فَالْـٰنَ بٰشِرُوْہُن}( سورۃ البقرہ :۱۸۷) ترجمہ کنزالایمان: اللہ نے جانا کہ تم اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے تھے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف فرمایا تو اب ان سے صحبت کرو ۔ ابتداء اسلام میںرمضان المبارک کی راتوں میں جماع ممنوع تھا بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھول ہوئی تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں ممانعت کی خلاف ورزی کو خیانت سے تعبیر کیا گیا حالانکہ یہ ممانعت پورے قرآ ن میں کہیں بھی مذکور نہیں معلوم ہوا کہ یہ وحی غیر متلو کے ذریعہ سے تھی۔اور اس کی اطاعت واجب ہے۔ {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنٰزَعْتُمْ فِیْ شَیْء ٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا }( سورۃ النساء : ۵۹) ترجمہ کنزالایمان :اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کااور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیںپھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اُسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ و قیامت پر ایمان رکھتے ہویہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ۔ اس آیت کریمہ میں صراحۃً حضورتاجدارختم نبوتﷺکی اطاعت کا حکم ہے۔منکرین حدیث تو کہتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی اطاعت من حیث الرسول واجب نہیں بلکہ بحیثیت حاکم المسلمین واجب تھی اس کا بھی صراحۃً رد ہے وہ اس طرح کہ اول تو اس لئے کہ مشتق پر جب کوئی حکم لگتا ہے تو مادہ اشتقاق اس حکم کی علت ہوتی ہے یہاں رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور لفظ رسول مشتق ہے اور مادہ اشتقاق رسالت ہے تو معلوم ہوا کہ رسول کی اطاعت من حیث الرسول واجب ہے ،ثانیاً یہ کہ اس آیت میں حاکم المسلمین کی اطاعت اولی الامر سے مستقلًا بیان کی گئی ہے ۔ {لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ }( سورۃ آل عمران :۱۶۴) ترجمہ کنزالایمان:بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پراس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب و حکمت سکھاتاہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے ۔ اس آیت کریمہ میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکو معلم قرار دیا گیا اور ظاہر ہے کہ استاد کتاب کی تعلیم اپنے اقوال افعال ہی سے کرتا ہے اگر یہ اقوال و افعال معتبر نہ ہوں تو تعلیم بے کار ہی ہے تو ایسی بے کار تعلیم پرحضورتاجدارختم نبوتﷺکو مقرر کرنے کی نسبت الی اللہ لازم آتی ہے اور عبث کی نسبت الی اللہ محال ہے پس اس کے سوا چارہ نہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے اقوال و افعال جو کہ حدیث (وحی غیر متلو)ہیں اور قرآن کی تفسیر ہیں حجت قرار دیا جائے۔ قرآن کریم ایک جامع کتاب ہے اس میں قیامت تک کے تمام ضروری احکام اجمالی طورپر بیان کردئیے گئے ہیں، مگر ان کو سمجھنا محض لغت یا عقل سے ممکن نہیں اس کا ذریعہ صرف احادیث نبویہ ہی ہیں۔کیونکہ اگر تفسیر قرآن میں احادیث نبویہ سے قطع نظر کرکے محض لغت پر مدار رکھا جائے تو قرآن کریم ناقابل عمل کتاب ہوکر رہ جائے گی او ر ارکان اسلام کی تفصیلات تک اس سے معلوم نہ ہونگی مثلا نماز میں تعداد اور رکعات ترتیب ارکان کہیں بھی مذکور نہیں یہ باتیں صرف حدیث سے معلوم ہوئیں اور صلوٰۃ کے جو معنی شریعت میں معرو ف ہیں یہ بھی حدیث سے معلوم ہوئے۔ پھر چودہ سوسال سے پوری امت کے عوام و خواص حدیث کو حجت مانتے آرہے ہیں اب د و حال سے خالی نہیں یا تو ان سب کے سب نے دین کو سمجھا نہیں اگر یہ بات ہے تو ایسا دین معاذ اللہ کیسے قابل اتباع ہوسکتا ہے جسے چودہ سو سال تک نہ سمجھا جا سکا ہو اور اس کی کیا دلیل ہے کہ منکرین حدیث نے صحیح سمجھا اور پھر یہ سب لوگ دین کے نعوذ باللہ دشمن تھے جنہوں نے ایک غلط عقیدہ دین میں شامل کردیا پھر اس کی کیا دلیل ہے کہ پرویز ی دین کے مخلص دوست ہیں نیز ہم تک قرآن بھی پچھلی مسلم نسلوں ہی کے ذریعہ پہنچا اگر یہ دین کے دشمن تھے تو قرآن پہنچانے میں بھی قرآن دشمنی سے کام لیا ہوگا تو اس قرآ ن پر اعتماد ہی نہ رہا۔معاذ اللہ۔

منکرین حدیث کی دلیل کارد

منکرین حدیث یہ دلیل بہت زور و شور سے پیش کرتے ہیں کہ: { وَلَقَدْ یَسَّرْ نَا اْلقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرْ} اس سے معلوم ہو ا کہ قرآن خود صاف اور واضح آسان ہے اسے سمجھنے کیلئے کسی تفسیر یا حدیث کی حاجت نہیں ۔ اس کا الزامی جواب تو یہ ہے کہ اگر تفسیر کی حاجت نہیں تو پرویز نے تفسیر کیوں تصنیف کی ؟اور تحقیقی جواب یہ ہے کہ قرآن حکیم میں مضامین دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جن کا تعلق فکر آخرت ،اللہ تعالی کی یاد ،خو ف خدا ،ترغیب و ترہیب،عام نصیحتوں سے ہے اور دوسرے وہ جن کا تعلق احکام عملیہ سے ہے اس آیت میں قسم اول کے آسان ہونے کا ذکر ہے قسم ثانی کا نہیں جس کی دلیل یہ ہے کہ اس آیت میں{ وَلَقَدْ یَسَّرْ نَا اْلقُرْآن} کو{ لِلذِّکْر} کے ساتھ مقید کیا گیا ہے جس کے معنی نصیحت حاصل کرنے کے ہیں نیز اس آیت میں{ فَھَلْ} میں{ مُّدَّکِر} فرمایا گیا( فھل من مستنبط )نہیں فرمایا چنانچہ دوسری آیت میں صراحت کردی گئی کہ قرآن فہمی کیلئے معلم کی حاجت ہے ۔اور و ہ آیت ہم نے ماقبل میں بیان کردی ہے۔ منکرین حدیث کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے قرآنی آیات کو بینات فرمایا لہٰذا معلم کی حاجت نہیں ۔ اس کا الزامی جواب یہ ہے کہ پھر پرویز ی درس قرآن کیوں دیتے ہیں اور تفسیر قرآن کیوں لکھی۔۔؟۔اور تحقیقی جواب یہ ہے کہ آیات بینات ان مواقع پر فرمایا گیا جہاں اسلام کے بنیاد ی عقائد کا بیان ہے کہ ان بنیادی عقائد کو سمجھنے اور ان پر ایمان لانے کیلئے یہ آیات اس قدر واضح ہیں کہ عربی جاننے والا ہر شخص اس کو سمجھ سکتا ہے کیونکہ قرآن میں عموما ان آیات کیلئے نہایت سادہ اور عام مشاہدے میں آنے والے دلائل پیش کئے گئے ہیں۔اگر علی الاطلاق ہر قسم کے مضامین کی آیت خود بخود واضح ہوتیں تو حضورتاجدارختم نبوتﷺکے بارے میں یوں نہ فرمایا جاتا{ ویعلمھم الکتاب، تبین للناس مانزل الیھم}۔

سنت کی قانونی حیثیت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نظرمیں

یہ چیز نصف النہار کی طرح روشن ہے کہ حدیث قرآن کی تشریح ، تفسیر اور اس کا مصدر ثانی ہے اور یہ بھی متفق علیہ ہے کہ نص پر اعتماد کیا جائے اور نص (واضح حکم )کو ہر اس چیز پر ترجیح دی جائے اور مقدم رکھا جائے جو اس کے سواہے ،پس جس کسی مسئلہ کے بارے میں نص موجودہو تو اس سے تمسک کرنا شرعاً واجب ہے اورتمسک نہ کرنے والا حدود شرعیہ کو پھلانگ جانے والا ہو گا۔

جوقرآن کریم میں اپنی رائے سے بات کہے

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ فِی الْقُرْآنِ بِرَأْیِہِ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: جس آدمی نے قرآن کے بارے میں اپنی رائے سے کوئی بات کہی تو چاہیے کہ وہ اپنا گھر جہنم میں بنا لے ۔ (مشکاۃ المصابیح:محمد بن عبد اللہ الخطیب العمری، أبو عبد اللہ، ولی الدین، التبریزی (ا:۷۹)

اس نے خطاکی

عَنْ جُنْدُبٍ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ قَالَ فِی الْقُرْآنِ بِرَأْیِہِ فَأَصَابَ فقد أَخطَأ۔ ترجمہ :حضرت سیدناجندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: جس شخص نے اللہ تعالی کی کتاب کے متعلق کوئی بات اپنی رائے سے کہی اگرچہ وہ صحیح ہو تب بھی اس نے غلطی کی۔ مشکاۃ المصابیح:محمد بن عبد اللہ الخطیب العمری، أبو عبد اللہ، ولی الدین، التبریزی (ا:۷۹)

لونڈیوں کی اولاد دین میں فساد کاباعث بنتی ہے

وَعَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :لَمْ یَزَلْ أَمْرُ بَنِی إِسْرَائِیلَ مُعْتَدِلًا حَتَّی بَدَا فِیہِمْ أَبْنَاء ُ سَبَایَا الْأُمَمِ، فَأَفْتَوْا بِالرَّأْیِ، فَضَّلُوا وَأَضَلُّوا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: بنی اسرائیل کی دینی شیرازہ بندی اس وقت تک قائم رہی جب تک ان میں امت کی لونڈیوں کے بیٹوں نے جنم نہیں لیا۔ لہٰذا جب وہ پیدا ہوئے تو انہوں نے اپنی رائے سے فتوے جاری کیے تو وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کر ڈالا۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:أبو الحسن نور الدین علی بن أبی بکر بن سلیمان الہیثمی (۱:۱۸۰)

جب سنت کو چھوڑیں گے توگمراہ ہوجائیں گے

عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَعْمَلُ ہَذِہِ الْأُمَّۃُ بُرْہَۃً بِکِتَابِ اللَّہِ ثُمَّ بُرْہَۃً بِسُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بُرْہَۃً بِالرَّأْیِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:یہ امت کچھ عرصہ تو کتاب اللہ پرعمل پیرارہے گی بعد ازاں کچھ وقت حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنت پر عمل کرے گی ، پھر اس کے بعد اپنی رائے کی پیروی کرے گی ۔ جب اس نے اپنی رائے پر عمل کیا تو پھر یقیناً گمراہ ہو جائے گی۔ (المنتخب من علل الخلال:أبو محمد موفق الدین عبد اللہ بن أحمد بن محمد بن قدامۃ :۱۵۷)

حضرت سیدناابوبکرالصدیق رضی اللہ عنہ کاعمل شریف

أخبرنا محمد بن الصلت، ثنا زہیر، عن جعفر بن برقان، ثنا میمون بن مہران قال:کان أبو بکر إذا ورد علیہ الخصم نظر فی کتاب اللہ فإن وجد فیہ ما یقضی بہ بینہم قضی بہ و إن لم یکن فی الکتاب و علم من رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فی ذلک الأمر سنۃ قضی بہا فإن أعیاہ خرج فسأل المسلمین و قال :أتانی کذا و کذا فہل علمتم أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قضی فی ذلک بقضاء ؟ فربما اجتمع إلیہ النفر کلہم یذکر عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فیہ قضاء فیقول أبو بکر :الحمد للہ الذی جعل فینا من یحفظ عن نبینا فإن أعیاہ أن یجد فیہ سنۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جمع رؤوس الناس و خیارہم فاستشارہم فإن أجمع أمرہم علی رأی قضی بہ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامیمون بن مہران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابو بکررضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی مقدمہ آتا تو پہلے وہ اس کا حل قرآن میں تلاش فرماتے ، اگر اس میں پاتے تو قرآن ہی سے اس کافیصلہ کرتے ورنہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی راہنمائی کی تلاش کرتے ۔ اگر اس میں کامیابی نہ ہوتی تو پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجلاس بلاتے اور فرماتے کہ میں فلاں مسئلہ میں الجھ گیا ہوں لہٰذا اگرتم اس میں میری کوئی راہنمائی کر سکتے ہو تو ضر ور کرو۔ اور مجھے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی کوئی حدیث بتلاؤ تاکہ میں اس کے مطابق فیصلہ کر سکوں ۔ اگر کسی کے پاس کوئی حدیث ہوتی تو وہ بتا دیتا ، بصورت دیگر ان سے مشورہ کرنے کے بعد جس رائے پر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اتفاق ہوتا اس کے مطابق فیصلہ صادر فرماتے ۔ (القطوف الدانیۃ فیما انفرد بہ الدارمی عن الثمانیۃ:الدکتور مرزوق بن ہیاس الزہرانی(۱:۵۳)

حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کاعمل شریف

قَالَ ابْنُ وَہْبٍ:ثنا یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ إنَّ الرَّأْیَ إنَّمَا کَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُصِیبًا، إنَّ اللَّہَ کَانَ یُرِیہِ، وَإِنَّمَا ہُوَ مِنَّا الظَّنُّ وَالتَّکَلُّفُ. ترجمہ :حضرت سیدناابن شہاب رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبرپرجلوہ افروز ہوکرخطبہ دیتے ہوئے ارشادفرمایا:ـحضرات !جو حضورتاجدارختم نبوتﷺکافرمان شریف ہے وہ تو یقیناً وحی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کو دکھا دیتا تھا ۔ لیکن ہماری جو رائے ہے وہ محض ظن اور تکلف ہے ۔ (إعلام الموقعین عن رب العالمین:محمد بن أبی بکر شمس الدین ابن قیم الجوزیۃ (ا:۴۳)

سنت کے دشمن کون؟

وَقَالَ الشَّعْبِیُّ:عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ قَالَ:قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ :إیَّاکُمْ وَأَصْحَابَ الرَّأْیِ فَإِنَّہُمْ أَعْدَاء ُ السُّنَنِ، أَعْیَتْہُمْ الْأَحَادِیثُ أَنْ یَحْفَظُوہَا، فَقَالُوا بِالرَّأْیِ، فَضُلُّوا وَأَضَلُّوا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعمروبن الحارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ آپ لوگ اصحاب الرائے سے ضرور بچ کر رہیں کیونکہ وہ سنتوں کے دشمن ہیں ۔ ان کوحضورتاجدارختم نبوتﷺکی احادیث شریفہ نے تھکا دیا ۔ تو انہوں نے اپنی رائے پر عمل کیا ، پس خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کر دیا ۔ (مدارج السالکین :محمد بن أبی بکر بن أیوب بن سعد شمس الدین ابن قیم الجوزیۃ (۳:۴۰۷)

حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ کاعمل شریف

عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ، عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، قَالَ: لَوْ کَانَ الدِّینُ بِالرَّأْیِ لَکَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلَی بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلَاہُ، وَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَمْسَحُ عَلَی ظَاہِرِ خُفَّیْہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبدخیررضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر دین کی اساس رائے ہوتی تو موزوں پر مسح اوپر کے بجائے نیچے کرنا بہتر ہوتااورتحقیق میں نے خود حضورتاجدارختم نبوتﷺکودیکھاکہ آپ ﷺنے موزوں کے ظاہرپرمسح فرمایا۔ (سنن أبی داود:أبو داود سلیمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشیر (۱:۴۲) بحمداللہ تعالی سورۃ المائدہ شریف کااختتام ۴شوال المکرم ۱۴۴۱ھ/۲۷مئی ۲۰۲۰ئء) بروزبدھ ہوا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh