Fatwa #2305
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ مائدہ آیت ۱۱۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَیْکُمْ اِذْ ہَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْٓا اِلَیْکُمْ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
10,711
سوال (Question):
تفسیر سورہ مائدہ آیت ۱۱۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَیْکُمْ اِذْ ہَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْٓا اِلَیْکُمْ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
دولت اسلام ملنے پراہل اسلام پرشکرکرناواجب ہے
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَیْکُمْ اِذْ ہَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْٓا اِلَیْکُمْ اَیْدِیَہُمْ فَکَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَاتَّقُوا اللہَ وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ}(۱۱) ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب ایک قوم نے چاہا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ تم پر سے روک دیئے اور اللہ سے ڈرو اور مسلمانوں کواللہ ہی پر بھروسہ چاہئے ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے اہل ایمان !اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو جب ایک قوم نے ارادہ کیا کہ تمہاری طرف اپنے ہاتھ دراز کریں تو اللہ تعالی نے ان کے ہاتھ تم سے روک دئیے اور اللہ تعالی سے ڈرو اور مسلمانوں کو اللہ تعالی ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ شان نزول قَالَ جَمَاعَۃٌ:نَزَلَتْ بِسَبَبِ فِعْلِ الْأَعْرَابِیِّ فِی غَزْوَۃِ ذَاتِ الرِّقَاعِ حِینَ اخْتَرَط سَیْفُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:مَنْ یَعْصِمُکَ مِنِّی یَا مُحَمَّدُ؟ کَمَا تَقَدَّمَ فِی’’النِّسَاء ِ‘‘وَفِی الْبُخَارِیِّ: أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَعَا النَّاسَ فَاجْتَمَعُوا وَہُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَمْ یُعَاقِبْہُ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ایک جماعت کاخیال ہے کہ یہ آیت کریمہ غزوہ ذات الرقاع میں اعرابی کے فعل کے سبب نازل ہوئی ۔ جب اس نے حضورتاجدارختم نبوتﷺپرتلوارسونت لی تھی اورکہاتھاکہ اے محمدﷺ!آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟جیساکہ سورۃ النساء میں بیان کیاجاچکاہے۔اوربخاری شریف میں ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے لوگوں کو بلایاوہ جمع ہوئے جب کہ وہ شخص حضورتاجدارختم نبوتﷺکے پاس بیٹھاہواتھاآپ ﷺنے اسے کوئی سزانہ دی۔الی آخرہ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر القرطبی (۶:۶۰)کفارکے مغلوب ہونے پر اللہ تعالی کاشکرکریں
أَنَّ الْمُشْرِکِینَ فِی أَوَّلِ الْأَمْرِ کَانُوا غَالِبِینَ، وَالْمُسْلِمِینَ کَانُوا مَقْہُورِینَ مَغْلُوبِینَ، وَلَقَدْ کَانَ الْمُشْرِکُونَ أَبَدًا یُرِیدُونَ إِیقَاعَ الْبَلَاء ِ وَالْقَتْلِ وَالنَّہْبِ بِالْمُسْلِمِینَ، واللَّہ تَعَالَی کَانَ یَمْنَعُہُمْ عَنْ مَطْلُوبِہِمْ إِلَی أَنْ قَوِیَ الْإِسْلَامُ وَعَظُمَتْ شَوْکَۃُ المسلمین فقال تعالی: اذْکُرُوا نِعْمَتَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ إِذْ ہَمَّ قَوْمٌ وَہُوَ الْمُشْرِکُونَ أَنْ یَبْسُطُوا إِلَیْکُمْ أَیْدِیَہُمْ بِالْقَتْلِ وَالنَّہْبِ وَالنَّفْیِ فَکَفَّ اللَّہ تَعَالَی بِلُطْفِہِ وَرَحْمَتِہِ أَیْدِیَ الْکُفَّارِ عَنْکُمْ أَیُّہَا الْمُسْلِمُونَ، وَمِثْلُ ہَذَا الْإِنْعَامِ الْعَظِیمِ یُوجِبُ عَلَیْکُمْ أَنْ تَتَّقُوا مَعَاصِیَہُ وَمُخَالَفَتَہُ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ابتداء میں مشرکین غالب اورمسلمان مغلوب ومقہورتھے اورمشرکین مسلمانوں کے اندرہمیشہ قتل وغارتگری کرتے اورڈاکہ زن رہتے تھے لیکن اللہ تعالی نے اس مطلوب میں انہیں روک رکھایہاں تک کہ اسلام غالب ہوگیااوراہل اسلام کو شوکت اورعظمت مل گئی تواللہ تعالی نے فرمایا: {اذْکُرُوا نِعْمَتَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ إِذْ ہَمَّ قَوْمٌ }اللہ تعالی کااحسان اپنے اوپریادکروجب ایک قوم نے چاہا۔ قوم سے مراد مشرکین ہیں { أَنْ یَبْسُطُوا إِلَیْکُمْ أَیْدِیَہُم}کہ تم پردست دارزی کریں ۔ قتل ، ڈاکہ اورملک بدری کے ساتھ مگراے مسلمانو!اللہ تعالی نے اپنے لطف ورحمت سے کفارکے ہاتھوں کو روکاتواس کاقدرعظیم انعام لازم کررہاہے کہ تم اس کی نافرمانی اوراس کی مخالفت سے بچو۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۱:۳۲۱)دولت اسلام ملنے پرشکرکرناواجب ہے
فان قیل ذکر نعمۃ الإسلام مشعر بسبق النسیان وکیف یعقل من المسلم ان ینساہا مع اشتغالہ باقامۃ وظائف الإسلام علی التوالی والدوام قلنا المواظبۃ علی وظائف الشیء تنزل منزلۃ الأمر الطبیعی المعتادفینسی کونہا نعمۃ الہیۃ فتکون اقامۃ وظائفہ اتباعا لمقتضی الطبیعۃ فلا تکون عبادۃ وانما تکون شکرا لو وقع اتباعا للامر۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوتاہے کہ انسان اسلام کو بھی بھول جاتاہے حالانکہ یہ ناممکن ہے کیونکہ مسلمان ہوکراسلام کیسے بھول سکتاہے ؟ جبکہ اسلام کے متعلقات ہروقت اس کے سامنے گھومتے رہتے ہیں؟ اس کاجواب یہ ہے کہ یہ ایک فطری اورطبعی امر ہے کہ جوشئی کسی کے بمنزلہ طبیعت کے بن جائے اوربارباراس سے واسطہ پڑے اگرچہ وہ کتنی ہی اعلی نعمت ہولیکن بوجہ طبیعت میں یکجان ہونے کے یہ یادنہیں رہتاہے کہ نعمت ہے یانہیں ، ا س فطری امرکی وجہ سے اللہ تعالی نے یاددہانی کروائی ہے اوراس کے علاوہ ایسی نعمت کاطبعی طورپرشکرکرناعبادت نہیں بنتابلکہ ایسی نعمت پرشکرکرنااس وقت عبادت بنتاہے جب اسے امرربی سمجھ کراداکیاجائے۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی ,(۲:۲۵۷)غزوہ ذات الرقاع کامختصرتعارف
جب حضورتاجدارختم نبوتﷺاحزاب کے تین لشکروںمیں سے دو مضبوط لشکروں کو توڑ کر فارغ ہو گئے تو تیسرے لشکر کی طرف توجہ کا بھر پور موقع مل گیا۔ تیسرا لشکر وہ بَدُّو تھے جو نجد کے صحرا میں خیمہ زن تھے اور رہ رہ کر لوٹ مار کی کاروائیاں کرتے رہتے تھے۔ چو نکہ یہ بدُّو کسی آبادی یا شہر کے باشندے نہ تھے اوران کا قیام مکانات اور قلعوں کے اندر نہ تھا، اس لیے اہل مکہ اور باشندگان ِ خیبر کی بہ نسبت ان پر پوری طرح قابو پالینا اور ان کے شروفساد کی آگ مکمل طور پر بجھادینا سخت دشوار تھا۔ لہٰذا ان کے حق میں صرف خوف زدہ کرنے والی تادیبی کاروائیاں ہی مفید ہوسکتی تھیں۔ چنانچہ ان بدوئوں پر رعب ودبدبہ قائم کرنے کی غرض سے اور بقول دیگر مدینہ کے اطراف میں چھاپہ مارنے کے ارادے سے جمع ہونے والے بدووں کو پراگندہ کرنے کی غرض سے حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ایک تادیبی حملہ فرمایا جو غزوہ ذات الرقاع کے نام سے معروف ہے۔ عام اہل مغازی نے اس غزوہ کا تذکرہ ۴ھ میں کیا ہے۔ لیکن امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے اس کا زمانہ وقوع ۷ھ بتایا ہے اور چونکہ اس غزوے میں حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے شرکت کی تھی ، لہٰذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غزوہ ، غزوہ خیبر کے بعد پیش آیا تھا۔ (مہینہ غالباً ربیع الاول کا تھا)کیونکہ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس وقت مدینہ پہنچ کر حلقہ بگوش اسلا م ہوئے تھے جب حضورتاجدارختم نبوت ﷺخیبر کے لیے مدینہ سے جاچکے تھے۔ پھر حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوکر سیدھے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی خدمت میں خیبر پہنچے اور جب پہنچے تو خیبر فتح ہوچکا تھا۔ اسی طرح حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ حبشہ سے اس وقت خدمت ِ نبویﷺمیں پہنچے تھے جب خیبر فتح ہوچکا تھا۔ لہٰذا غزوہ ذات الرقاع میں ان دونوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہماکی شرکت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غزوہ خیبر کے بعد ہی کسی وقت پیش آیا تھا۔ اہلِ سِیر نے اس غزوے کے متعلق جو کچھ ذکر کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے قبیلہ اَنمار یا بنو غطفان کی دوشاخوں بنی ثعلبہ اور بنی محارب کے اجتماع کی خبر سن کر مدینہ کا انتظام حضرت ابوذر یا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما کے حوالے کیا اور چار سو یا سات سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معیت میں بلادِ نجد کا رخ کیا۔ پھر مدینہ سے دودن کے فاصلے پر مقام نخل پہنچ کر بنو غطفان کی ایک جمعیت سے سامنا ہوا لیکن جنگ نہیں ہوئی۔ البتہ آپﷺنے اس موقع پر صلوٰۃ ِ خوف (حالتِ جنگ والی نماز)پڑھائی۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ نماز کی اقامت کہی گئی۔ اور آپﷺنے ایک گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی۔ پھر وہ پیچھے چلا گیا۔ اور آپﷺنے دوسرے گروہ کو دورکعت نماز پڑھائی۔ یوں حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی چار رکعتیں ہوئیں۔ اور قوم کی دورکعتیں۔ مشہور امام سیرت ابن سعدرحمہ اللہ تعالی کا قول بھی یہی ہے کہ سب سے پہلے اس غزوہ میںحضورتاجدارختم نبوتﷺنے صلوٰۃ الخوف پڑھی۔
یہ بھی ذہن میں رہے کہ مدینہ سے روانہ ہو کر مقامِ ذات الرقاع تک تشریف لے گئے لیکن حضورتاجدارختم نبوتﷺکی آمد کا حال سن کر یہ کفار پہاڑوں میں بھاگ کر چھپ گئے اس لیے کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ مشرکین کی چند عورتیں ملیں جن کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے گرفتارکرلیا۔ اس وقت مسلمان بہت ہی مفلس اور تنگ دستی کی حالت میں تھے۔ چنانچہ حضرت سیدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سواریوں کی اتنی کمی تھی کہ چھ چھ آدمیوں کی سواری کے لیے ایک ایک اونٹ تھا جس پر ہم لوگ باری باری سوار ہو کر سفر کرتے تھے پہاڑی زمین میں پیدل چلنے سے ہمارے قدم زخمی اور پاؤں کے ناخن جھڑ گئے تھے اس لیے ہم لوگوں نے اپنے پاؤں پر کپڑوں کے چیتھڑے لپیٹ لیے تھے یہی وجہ ہے کہ اس غزوہ کا نام غزوہ ذات الرقاع (پیوندوں والا غزوہ)ہو گیا۔بعض مؤرخین نے کہا کہ چونکہ وہاں کی زمین کے پتھر سفید و سیاہ رنگ کے تھے اور زمین ایسی نظر آتی تھی گویا سفید اور کالے پیوند ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہیں،لہٰذا اس غزوہ کو غزوہ ذات الرقاع کہا جانے لگااور بعض کا قول ہے کہ یہاں پر ایک درخت کا نام ذات الرقاع تھااس لیے لوگ اس کو غزوہ ذات الرقاع کہنے لگے،ہو سکتا ہے کہ یہ ساری باتیں ہوں۔نماز خوف اورغزوہ ذات الرقاع
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا:أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی بِأَصْحَابِہِ فِی الخَوْفِ فِی غَزْوَۃِ السَّابِعَۃِ، غَزْوَۃِ ذَاتِ الرِّقَاعِ قَاتلَ ابْنُ عَبَّاسٍ صَلَّی النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الخَوْفَ بِذِی قَرَدٍ۔ ترجمہ : حضرت سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت فرماتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز خوف ساتویں غزوہ میں پڑھی تھی۔ یعنی غزوہ ذات الرقاع میں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے نماز خوف ذی قرد میں پڑھی تھی۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۵:۱۱۳) امام بخاری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں وَہِیَ غَزْوَۃُ مُحَارِبِ خَصَفَۃَ مِنْ بَنِی ثَعْلَبَۃَ مِنْ غَطَفَانَ، فَنَزَلَ نَخْلًا، وَہِیَ بَعْدَ خَیْبَرَ، لِأَنَّ أَبَا مُوسَی جَاء َ بَعْدَ خَیْبَرَ۔ ترجمہ : یہ جنگ محارب قبیلے سے ہوئی تھی جو خصفہ کی اولاد تھے اور یہ خصفہ بنو ثعلبہ کی اولاد میں سے تھا۔ جو غطفان قبیلہ کی ایک شاخ ہیں۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اس غزوہ میں مقام نخل پر پڑاؤ کیا تھا۔ یہ غزوہ خیبر کے بعد واقع ہوا کیونکہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر کے بعد حبشہ سے مدینہ آئے تھے (اور غزوہ ذات الرقاع میں ان کی شرکت روایتوں سے ثابت ہے)۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۵:۱۱۳)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9