صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2312 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ مائدہ آیت ۴۴۔۴۵۔۴۶۔اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰیۃَ فِیْہَا ہُدًی وَّنُوْرٌ یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ہَادُوْا وَ الرَّبَّانِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,506

سوال (Question):

تفسیر سورہ مائدہ آیت ۴۴۔۴۵۔۴۶۔اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰیۃَ فِیْہَا ہُدًی وَّنُوْرٌ یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ہَادُوْا وَ الرَّبَّانِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

خلاف ماانزل اللہ فیصلے کرنے والے حکمرانوں کے متعلق رب تعالی کے قرآن کریم کے فیصلے

اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰیۃَ فِیْہَا ہُدًی وَّنُوْرٌ یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ہَادُوْا وَ الرَّبَّانِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اللہِ وَکَانُوْا عَلَیْہِ شُہَدَآء َ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ }(۴۴){وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہٖ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہ وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ }(۴۵){وَلْیَحْکُمْ اَہْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فِیْہِ وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ }(۴۷) ترجمہ کنزالایمان:بیشک ہم نے توریت اتاری اس میں ہدایت اور نور ہے، اس کے مطابق یہود کو حکم دیتے تھے ہمارے فرمانبردار نبی اور عالم اور فقیہ کہ ان سے کتابُ اللہ کی حفاظت چاہی گئی تھی اور وہ اس پر گواہ تھے تو لوگوں سے خوف نہ کرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کے بدلے ذلیل قیمت نہ لو اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے وہی لوگ کافر ہیں۔ اور ہم نے توریت میں ان پر واجب کیا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے پھر جو دل کی خوشی سے بدلہ کراوے تو وہ اس کا گناہ اتار دے گا اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔اور چاہئے کہ انجیل والے حکم کریں اس پر جو اللہ نے اس میں اتارا اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کریں تو وہی لوگ فاسق ہیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان:بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور نور ہے، فرمانبردار نبی اور ربانی علماء اور فقہاء یہودیوں کو اسی کے مطابق حکم دیتے تھے کیونکہ انہیں اللہ تعالی کی اس کتاب کا محافظ بنایا گیا تھااور وہ اس کے خودگواہ تھے۔ تو لوگوں سے خوف نہ کرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی ذلیل قیمت نہ لو اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ تعالی نے نازل کیا تو وہی لوگ کافر ہیں۔ اور ہم نے تورات میں ان پرلازم کردیاتھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت (کا قصاص لیا جائے گا)اور تمام زخموں کا قصاص ہوگا پھر جو دل کی خوشی سے (خود کو)قصاص کے لئے پیش کر دے تویہ اس کا کفارہ بن جائے گا اور جواس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ تعالی نے نازل کیا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔اور انجیل والوں کو بھی اسی کے مطابق حکم کرنا چاہیے جو اللہ تعالی نے اس میں نازل فرمایا ہے اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا تووہی لوگ نافرمان ہیں۔ خلاف شرع فیصلے کرنے والے حکام کے متعلق ائمہ اسلام کے اقوال مبارکہ ان اصولوں کی بنیاد پر ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ جمیع سلف صالحین نے ما انزل اللہ کے غیر کے مطابق فیصلہ کرنے کو عملی یا مجازی کفر قرار دیا ہے یعنی یہ ایسا کفر ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث نہیں بنتا ہے جب تک کہ فاعل اس فعل کو حلال اور جائز نہ سمجھتا ہو۔

حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکافرمان شریف

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُہُ: (وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ فَأُولَئِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ)(المائدۃ:۴۴) قَالَ:مَنْ جَحَدَ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ فَقَدْ کَفَرَ وَمَنْ أَقَرَّ بِہِ وَلَمْ یَحْکُمْ فَہُوَ ظَالِمٌ فَاسِقٌ وَأَوْلَی ہَذِہِ الْأَقْوَالِ عِنْدِی بِالصَّوَابِ ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمااس آیت کریمہ {وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ فَأُولَئِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ}کے تحت فرماتے ہیں کہ جس نے جان بوجھ کر{ ما أنزل اللہ} کا انکار کیا تو اس نے کفر کیا اور جس نے{ ما أنزل اللہ} کو تو مان لیا لیکن اس کے مطابق فیصلہ نہ کیا تو وہ ظالم اور فاسق ہے۔ (تفسیر الطبری :محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۸:۴۶۷) امام ابوجعفرالطبری المتوفی :۳۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی کاقول إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی عَمَّمَ بِالْخَبَرِ بِذَلِکَ عَنْ قَوْمٍ کَانُوا بِحُکْمِ اللَّہِ الَّذِی حَکَمَ بِہِ فِی کِتَابِہِ جَاحِدِینَ فَأَخْبَرَ عَنْہُمْ أَنَّہُمْ بِتَرْکِہِمُ الْحُکْمَ عَلَی سَبِیلِ مَا تَرَکُوہُ کَافِرُونَ. وَکَذَلِکَ الْقَوْلُ فِی کُلِّ مَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ جَاحِدًا بِہِ ,ہُوَ بِاللَّہِ کَافِرٌ کَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ۔ ترجمہ :بلاشبہ اللہ تعالی نے اس حکم کے ذریعے اس خبر کو عام کیا ہے کہ اہل کتاب اللہ کے اس حکم کا جانتے بوجھتے انکار کرنے والے تھے جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں بیان کیا تھا۔ پس اللہ تعالی نے ان کے بارے یہ خبر دی ہے کہ جس طرح انہوں نے اللہ کے حکم کو چھوڑا ہے (یعنی انکار کے رستے سے)تو اس سے وہ کافر ہو گئے ہیں۔ پس اسی طرح کا معاملہ ہر اس شخص کا بھی ہے جو اللہ کے حکم کا جانتے بوجھتے انکار کر دے تواس کا یہ فعل اللہ کے انکار کے مترادف ہے جیسا کہ ابن عباس کا قول ہے۔ (تفسیر الطبری :محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۸:۴۶۷) جوخداتعالی اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے فیصلے کوردکرے؟ وَقِیلَ:فِیہِ إِضْمَارٌ، أَیْ وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ رَدًّا لِلْقُرْآنِ، وَجَحْدًا لِقَوْلِ الرَّسُولِ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ فَہُوَ کَافِرٌ۔ ترجمہ :اوربعض علماء کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس میں اضمارہے یعنی جو قرآن کریم کو ردکرتے ہوئے اللہ تعالی کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتااورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے حکم کے انکارکی وجہ سے اللہ تعالی کے نازل کردہ قرآن کریم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتاوہ کافرہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۶:۱۹۰) مزیداقوال قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَالْحَسَنُ: ہِیَ عَامَّۃٌ فِی کُلِّ مَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَالْیَہُودِ وَالْکُفَّارِ أَیْ مُعْتَقِدًا ذَلِکَ وَمُسْتَحِلًّا لَہُ، فَأَمَّا مَنْ فَعَلَ ذَلِکَ وَہُوَ مُعْتَقِدٌ أَنَّہُ رَاکِبُ مُحَرَّمٍ فَہُوَ مِنْ فُسَّاقِ الْمُسْلِمِینَ، وَأَمْرُہُ إِلَی اللَّہِ تَعَالَی إِنْ شَاء َ عَذَّبَہُ، وَإِنْ شَاء َ غَفَرَ لَہُ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِی رِوَایَۃٍ:وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ فَقَدْ فَعَلَ فِعْلًا یُضَاہِی أَفْعَالَ الْکُفَّارِوَقِیلَ: أَیْ وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِجَمِیعِ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ فَہُوَ کَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ حَکَمَ بِالتَّوْحِیدِ وَلَمْ یَحْکُمْ بِبَعْضِ الشَّرَائِعِ فَلَا یَدْخُلُ فِی ہَذِہِ الْآیَۃِ۔ ترجمہ: حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ یہ ہر اس شخص کو عام ہے جو مسلمان ، یہودی اورکفارمیں سے اللہ تعالی کے نازل کردہ حکم شریف کے مطابق فیصلہ نہیں کرتایعنی وہ یہ اعتقاد رکھتاہواورقرآن کریم کے فیصلے کے خلاف فیصلہ کرناحلال جانتاہو۔ مگروہ شخص جس نے ایساکیالیکن یہ اعتقاد رکھتاہوکہ وہ حرام کاارتکاب کررہاہے تووہ فاسق مسلمانوں میں سے ہے ، اس کامعاملہ اللہ تعالی کے سپردہے ، اللہ تعالی چاہے تواسے عذاب دے چاہے تواس کو معاف کردے ۔ حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایاکہ جس نے اللہ تعالی کے نازل کردہ قرآن کریم کے مطابق فیصلہ نہیں کیااس نے ایسافعل کیاجو کفارکے افعال کے مشابہ ہے ۔ بعض علماء کرام نے فرمایاہے کہ جو اللہ تعالی نے تمام نازل فرمایااس کے مطابق فیصلہ نہ کریںوہ کافرہے اورجس نے توحیدکافیصلہ کیااوربعض شرائع کافیصلہ نہ کیاتووہ اس آیت کریمہ میں داخل نہیں ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۶:۱۹۰) محدث ابن قیم الجوزیہ المتوفی : ۷۵۱ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں وَالصَّحِیحُ أَنَّ الْحُکْمَ بِغَیْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ یَتَنَاوَلُ الْکُفْرَیْنِ، الْأَصْغَرَ وَالْأَکْبَرَ بِحَسَبِ حَالِ الْحَاکِمِ، فَإِنَّہُ إِنِ اعْتَقَدَ وُجُوبَ الْحُکْمِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ فِی ہَذِہِ الْوَاقِعَۃِ، وَعَدَلَ عَنْہُ عِصْیَانًا، مَعَ اعْتِرَافِہِ بِأَنَّہُ مُسْتَحِقٌّ لِلْعُقُوبَۃِ، فَہَذَا کُفْرٌ أَصْغَرُ، وَإِنِ اعْتَقَدَ أَنَّہُ غَیْرُ وَاجِبٍ، وَأَنَّہُ مُخَیَّرٌ فِیہِ، مَعَ تَیَقُّنِہِ أَنَّہُ حُکْمُ اللَّہِ، فَہَذَا کُفْرٌ أَکْبَرُ، وَإِنْ جَہِلَہُ وَأَخْطَأَہُ فَہَذَا مُخْطِئٌ، لَہُ حُکْمُ الْمُخْطِئِینَ. ترجمہ :صحیح قول یہ ہے کہ ما أنزل اللہ کے بغیر فیصلہ کرنا دو قسم کے کفر پر مشتمل ہوتا ہے:کفر اصغر اور کفر اکبر۔(ان دونوں میں کسی ایک کا حکم)فیصلہ کرنے والے کے حالات کے مطابق عائد ہو گا۔ پس اگر کوئی حکمران کسی مسئلہ میں ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ کو واجب سمجھتا ہے لیکن اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتااور اپنے آپ کو گناہ گار بھی سمجھتا ہے تواس حکمران کا کفر ’’کفر اصغر ‘‘ہے ۔ اور اگر حکمران کا عقیدہ یہ ہو کہ ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ کرنا لازم نہیں ہے یا اختیاری معاملہ ہے چاہے وہ اسے یقینی طور پر اللہ تعالی کا حکم ہی سمجھتا ہو تو یہ ’’کفر اکبر ‘‘ہے ۔ اور اگر حکمران نے کوئی فیصلہ جہالت (یعنی شرع حکم سے عدم واقفیت)کی بنیاد پر کیا تو وہ خطاکار ہے اور اس کے لیے خطاکاروں کا حکم ہے(یعنی اگر مجتہد تھا تو ایک گناہ اجر وثواب ملے گا ورنہ خطا کی جزا ہو گی)۔ (مدارج السالکین:محمد بن أبی بکر بن أیوب بن سعد شمس الدین ابن قیم الجوزیۃ(۱:۳۴۶) امام سمعانی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں وَاعْلَم أَن الْخَوَارِج یستدلون بِہَذِہِ الْآیَۃ، وَیَقُولُونَ:من لم یحکم بِمَا أنزل اللہ فَہُوَ کَافِر،وَأہل السّنۃ قَالُوا: لَا یکفر بترک الحکم، وللآیۃ تَأْوِیلَانِ:أَحدہمَا مَعْنَاہُ:وَمن لم یحکم بِمَا أنزل اللہ ردا وجحدا فَأُولَئِک ہم الْکَافِرُونَ وَالثَّانِی مَعْنَاہُ:وَمن لم یحکم بِکُل مَا أنزل اللہ فَأُولَئِک ہم الْکَافِرُونَ،وَالْکَافِر ہُوَ الَّذِی یتْرک الحکم بِکُل مَا أنزل اللہ دون الْمُسلم. ترجمہ :امام منصور بن محمد بن عبد الجبار ابن أحمد المروزی السمعانی التمیمی المتوفی : ۴۸۹ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ جان لیں!کہ خوارج اس آیت مبارکہ سے استدلال کرتے ہیں اور کہتے ہیں :جو ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا وہ کافر ہے۔ جبکہ اہل سنت کا یہ قول ہے کہ صرف ما أنزل اللہ کو ترک کر دینے سے کافر نہیں ہوگا(جب تک اس کا عقیدہ نہ رکھے)۔اور اس آیت کے دو معنی ہو سکتے ہیں ۔ ایک معنی تو یہ ہے کہ جو شخص ماأنزل اللہ کے مطابق اس کا انکار اور رد کرتے ہوئے فیصلہ نہ کرے تو یہ کافر ہے اور دوسرا معنی یہ ہے کہ جو ماأنزل اللہ کے مطابق کلی طور پر فیصلہ نہ کرے تو وہ کافر ہے کیونکہ کافر اپنی زندگی میں اللہ کے حکم کو کلی طور پر چھوڑ دیتا ہے جبکہ مسلمان کا معاملہ ایسا نہیں ہوتاہے۔ (تفسیر القرآن:أبو المظفر، منصور بن محمد بن عبد الجبار ابن أحمد المروزی السمعانی التمیمی(۲:۴۲) محدث ابن جوزی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں أن من لم یحکم بما أنزل اللہ جاحداً لہ، وہو یعلم أن اللہ أنزلہ، کما فعلت الیہود، فہو کافر، ومن لم یحکم بہ میلاً إِلی الہوی من غیر جحود، فہو ظالم وفاسِق۔ ترجمہ :امام جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی المتوفی : ۵۹۷ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ جو ما أنزل اللہ کے مطابق اس کا انکار کرتے ہوئے فیصلہ نہ کرے جبکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتا ہو کہ اس حکم کو اللہ نے نازل کیا ہے جیسا کہ یہود کا معاملہ تھا تو وہ کافر ہے اور جو ما أنزل اللہ کے مطابق اپنی خواہش نفس کی اتباع میں فیصلہ نہ کرے اور اس کا انکار کرنے والا نہ ہو تو وہ ظالم اور فاسق ہے۔ (زاد المسیر فی علم التفسیر: جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی (۱:۵۲۳) امام ابن العربی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں إنْ حَکَمَ بِمَا عِنْدَہُ عَلَی أَنَّہُ مِنْ عِنْدِ اللَّہِ؛ فَہُوَ تَبْدِیلٌ لَہُ یُوجِبُ الْکُفْرَ، وَإِنْ حَکَمَ بِہِ ہَوًی وَمَعْصِیَۃً فَہُوَ ذَنْبٌ تُدْرِکُہُ الْمَغْفِرَۃُ عَلَی أَصْلِ أَہْلِ السُّنَّۃِ فِی الْغُفْرَانِ لِلْمُذْنِبِینَ.۔ ترجمہ :القاضی محمد بن عبد اللہ أبو بکر بن العربی المعافری الاشبیلی المالکی المتوفی : ۵۴۳ھ)فرماتے ہیں کہ اگر کوئی حکمران اپنی کسی رائے کا اس طرح فیصلہ کرے کہ اسے اللہ کی طرف منسوب کرتا ہو تو یہ اللہ کی شریعت کو تبدیل کرنے کے مترادف ہے اور سبب ِکفر ہے۔ اور اگر اس نے اپنی خواہش یا نافرمانی میں ماأنزل اللہ کے بغیر فیصلہ کیا تو یہ ایسا گناہ ہے جو قابل مغفرت ہے جیسا کہ گناہ گاروں کے لیے مغفرت کے بارے اہل سنت کا اصول ہے۔ (أحکام القرآن: القاضی محمد بن عبد اللہ أبو بکر بن العربی المعافری الاشبیلی المالکی (۲:۱۸۷) امام بیضاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِما أَنْزَلَ اللَّہُ مستہیناً بہ منکراً لہ فَأُولئِکَ ہُمُ الْکافِرُونَ لاستہانتہم بہ وتمردہم بأن حکموا بغیرہ۔ ترجمہ :امام ناصر الدین أبو سعید عبد اللہ بن عمر بن محمد الشیرازی البیضاوی المتوفی : ۶۸۵ھ)رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اور جس نے ماأنزل اللہ کے مطابق اس کا انکار کرتے ہوئے اور اسے حقیر سمجھتے ہوئے فیصلہ نہ کیاتو وہ لوگ کافر ہیں ۔ (تفسیرالبیضاوی:ناصر الدین أبو سعید عبد اللہ بن عمر بن محمد الشیرازی البیضاوی(۲:۱۲۸) امام ابن کثیر فرماتے ہیں وَلِہَذَا قَالَ ہُنَاکَ وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِما أَنْزَلَ اللَّہُ فَأُولئِکَ ہُمُ الْکافِرُونَ لِأَنَّہُمْ جَحَدُوا حُکْمَ اللَّہِ قَصْدًا مِنْہُمْ وَعِنَادًا وَعَمْدًا۔ ترجمہ :امام أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی المتوفی : ۷۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے یہاں یہ کہا ہے کہ جو ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا وہ کافر ہے کیونکہ انہوں(یعنی اہل کتاب)نے اللہ کے حکم کا جانتے بوجھتے عمداً اور سرکشی سے انکار کر دیاتھا۔ (تفسیر القرآن العظیم:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۳:۱۰۹) امام ابو البرکات نسفی حنفی رحمہ اللہ تعالی کاقول یجوز أن یحمل علی الجحود فی الثلاث فیکون کافراً ظالماً فاسقاً لأن الفاسق المطلق والظالم المطلق ہو الکافر وقیل ومن لم یحکم بما أنزل اللہ فہو کافر بنعمۃ اللہ ظالم فی حکمہ فاسق فی فعلہ۔ ترجمہ :امام أبو البرکات عبد اللہ بن أحمد بن محمود حافظ الدین النسفی المتوفی : ۷۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ یہ جائز ہے کہ ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کرنے کو تینوں مقامات(یعنی کافرون ظالمون اور فاسقون)پر انکار کے ساتھ فیصلہ نہ کرنے پر محمول کیا جائے۔ پس اس صورت میں فیصلہ نہ کرنے والا کافر ، ظالم اور فاسق تینوں صفات کا حامل ہو گا کیونکہ مطلق طور پر فاسق اور ظالم سے مراد بھی کافر ہی ہوتا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ جو ماأنزل اللہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا وہ اللہ کی نعمت کا کافر (یعنی ناشکرا)اور اپنے حکم میں ظالم اور اپنے عمل میں فاسق ہے۔ (مدارک التنزیل وحقائق التأویل:أبو البرکات عبد اللہ بن أحمد بن محمود حافظ الدین النسفی (۱:۴۵۱) امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں قَالَتِ الْخَوَارِجُ: کُلُّ مَنْ عَصَی اللَّہ فَہُوَ کَافِرٌوَقَالَ جُمْہُورُ الْأَئِمَّۃِ:لَیْسَ الْأَمْرُ کَذَلِکَ، أَمَّا الْخَوَارِجُ فَقَدِ احْتَجُّوا بِہَذِہِ الْآیَۃِ وَقَالُوا:إِنَّہَا نَصٌّ فِی أَنَّ کُلَّ مَنْ حَکَمَ بِغَیْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّہ فَہُوَ کَافِرٌ، وَکُلُّ مَنْ أَذْنَبَ فَقَدْ حَکَمَ بِغَیْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّہ، فَوَجَبَ أَنْ یَکُونَ کَافِرًاوَذَکَرَ الْمُتَکَلِّمُونَ وَالْمُفَسِّرُونَ أَجْوِبَۃً عَنْ ہَذِہِ الشُّبْہَۃِ:وَالْخَامِسُ:قَالَ عِکْرِمَۃُ:قَوْلُہُ وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِما أَنْزَلَ اللَّہُ إِنَّمَا یَتَنَاوَلُ مَنْ أَنْکَرَ بِقَلْبِہِ وَجَحَدَ بِلِسَانِہِ، أَمَّا مَنْ عَرَفَ بِقَلْبِہِ کَوْنَہُ حُکْمَ اللَّہ وَأَقَرَّ بِلِسَانِہِ کَوْنَہُ حُکْمَ اللَّہ، إِلَّا أَنَّہُ أَتَی بِمَا یُضَادُّہُ فَہُوَ حَاکِمٌ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہ تَعَالَی،وَلَکِنَّہُ تَارِکٌ لَہُ، فَلَا یَلْزَمُ دُخُولُہُ تَحْتَ ہَذِہِ الْآیَۃِ، وَہَذَا ہُوَ الْجَوَابُ الصَّحِیحُ واللَّہ أعلم. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میںدوسر امسئلہ یہ ہے کہ خوارج کا کہنا یہ ہے کہ جس نے بھی اللہ کی نافرمانی کی وہ کافر ہے۔ جبکہ جمہور أئمہ کا قول یہ ہے کہ ایسا معاملہ نہیں ہے۔ خوارج نے اپنے موقف کے حق میں اس آیت کو بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت مبارکہ اس بارے نص ہے کہ جو شخص بھی ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا (چاہے وہ اپنی نجی زندگی میں ہی ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کرتا ہو اور اللہ کا نافرمان ہو)تو وہ کافر ہے اور جس نے بھی کوئی گناہ کا کام کیا (یعنی اللہ کی شریعت کی بجائے اپنی خواہش نفس کو حَکم بنا لیا)تو اس نے ماأنزل اللہ کے مطابق فیصلہ نہیں کیا۔ پس ایسے شخص کا کافر ہونا لازم ٹھہرا۔ متکلمین اور مفسرین نے خوارج کے اس استدلال کے کئی ایک جوابات نقل کیے ہیں(ان جوابات میں سے)پانچواں جواب یہ ہے کہ حضرت عکرمہ نے کہا ہے اللہ تعالی کا قول کہ جو ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کرتا، اس کے بارے ہے جو اپنے دل سے اللہ کے حکم کا انکار کردے اور اپنی زبان سے بھی منکر ہوجائے۔ پس جو شخص اپنے دل اور زبان سے اسے اللہ کا حکم مانتا ہو اور پھر بھی اس کے خلاف چلے تو یہ ما أنزل اللہ کے مطابق ہی فیصلہ کرنے والا ہے ۔ اگرچہ وہ ما أنزل اللہ کو چھوڑنے والا ضرور ہے۔ پس ایسا شخص اس آیت کے مفہوم میں داخل نہیں ہے اور یہی جواب صحیح ہے ۔ واللہ أعلم۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۲:۳۶۷) ڈاکٹر وہبہ الزحیلی فرماتے ہیں والخلاصۃ:أن التکفیر ہو لمن استحل الحکم بغیر ما أنزل اللہ، وأنکر بالقلب حکم اللہ، وجحد باللسان، فہذا ہو الکافرأما من لم یحکم بما أنزل اللہ، وہو مخطء ومذنب، فہو مقصر فاسق، مؤاخذ علی رضاہ الحکم بغیر ما أنزل اللہ. ترجمہ :خلاصہ کلام یہی ہے تکفیر اس شخص کی ہو گی جوما أنزل اللہ کے غیر کے مطابق فیصلہ کرنے کو حلال سمجھتا ہو اور دل و زبان سے اللہ کے حکم کا انکاری بھی ہو تو پس ایسا شخص کافر ہے ۔ اور (اس یعنی انکار کے علاوہ)جو شخص ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا تو وہ گناہ گار خطاکار اور فاسق ہے اور اس سے اس بات کا مواخذہ ہو گا کہ وہ ماأنزل اللہ کے غیر کے مطابق فیصلہ کرنے پر کیوں راضی تھا۔ (التفسیر المنیر فی العقیدۃ والشریعۃ والمنہج :د وہبۃ بن مصطفی الزحیلی(۶:۷۰۷) اللہ تعالی کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ لیکن کبیرہ گناہ کے بسبب کسی مسلمان کو اسلام سے خارج نہیں کہہ سکتے جب تک کہ وہ اپنے اس کیے گئے فعل کے صحیح ہونے یا برحق ہونے کا عقیدہ نہیں رکھتا۔ کیونکہ آجکل بہت سے لبرل وسیکولرلوگ قرآن کریم کے احکامات شریفہ کو نعوذ باللہ من ذلک وحشیانہ قانون کہتے ہیں اوراسی طرح ظالمانہ قانون کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جیسے سلمان تاثیرملعون نے ناموس رسالت قانون کو ظالمانہ اورکالاقانون کہاتھااسی طرح تمام لبرل وسیکولر لوگ قرآن کریم اوراحادیث شریفہ میں بیان کردہ قوانین کے متعلق یہی نظریہ رکھتے ہیں ، ان کے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ ایسے تمام لوگ زندیق ہیں اورزندیق کاحکم مرتدسے بھی سخت ہے۔ معارف ومسائل قسط عدل کے معنی دیتاہے اور حقیقی عدل یہی ہے کہ حکم اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺ کا ہی ہو۔ان کے علاوہ کا حکم ظلم وزیادتی کفروگمراہی اور فسق وفجور کے علاوہ کچھ نہیں ۔اسی لیے بعد میں یہ بھی کہا گیا: {وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـہُ فَأُولَـٰئِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ }{وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـہُ فَأُولَـٰئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ }{وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـہُ فَأُولَـٰئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ } کہ جو{بِمَا أَنزَلَ اللّہ}کے فیصلہ نہ کرے تو یہی لوگ کافر ہیں۔۔۔ظالم ہیں۔۔۔اوریہی لوگ فاسق ہیں۔ ملاحظہ کیجئے کہ اللہ تعالی نے غیر اللہ کے ساتھ فیصلہ کرنے والوں کو کافر،ظالم اورفاسق ہونے سے تعبیر کیا ہے اور یہ محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کافر کہے اور وہ کافر نہ ہو۔بلاشبہ مطلقاً کافر ہے اور کفر عملی واعتقادی دونوں اس میں پائے جاتے ہیں۔ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں(بروایت طاؤس وغیرہ)حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ’’حاکم بغیر اللہ‘‘ پر کفر کی ہر دو قسم کا اطلاق ہے یا تو کفر اعتقادی ہے، جو ملت سے خروج کاموجب ہے وگرنہ کفر عملی کا مرتکب ہے جو اسلام سے خروج کو لازمی نہیں کرتا۔ کفر اعتقادی کی متعدد اقسام ہیں جن میں ایک صورت یہ ہے کہ۔۔۔غیر ماانزل اللہ سے فیصلہ کرنے والا اللہ اور حضورتاجدارختم نبوتﷺکے حکم کے حق ہونے کا ہی انکار کردے۔حضرت سیدناعبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جوروایت ہے اس کا بھی یہ مفہوم ہے اوراسی کو ہی امام ابن جریررحمہ اللہ تعالی نے اختیار کیا ہے کہ یہ اللہ کی شریعت کے انکار کو مستلزم ہے۔اہل علم کے مابین اس میں کوئی اختلاف نہیں اور متفق علیہ اصولوں کی روشنی میں یہ بات طے شدہ ہے کہ جو شخص دین کی کسی اصل یامتفق علیہ فرع کا انکار کرے یاجو حضورتاجدارختم نبوتﷺلائے ہیں اسکے کسی ایک حرف کا بھی انکار کرے تو وہ ایسا کافر ہے جو خارج عن الملہ ہے۔ جوحاکم خلاف شرع فیصلے کرے اس کے عزل کے متعلق شرعی حکم کابیان پاکستان کی غلیظ ترین پارلیمنٹ میں ممبران اسمبلی کی طرف سے اسلامی حدودوتعزیرات کو انتہائی وحشیانہ سزائیں کہاگیاہے ، سپریم کورٹ نے سودکی حرمت کافیصلہ کیاحکومت پاکستان کی جانب سے اس کے خلاف اپیل دائرکی ، توہین رسالت کے قانون میں باربارتبدیلی کی کوشش کی گئی ، اسی طرح حدودوآرڈینیس میں ترمیم کی کوشش کی گئی ۔ اوراب کچھ عرصے سے ان دونوں قوانین یعنی توہین رسالت اورحدودوتعزیرات میں ترمیم کے لئے باقاعدہ مہم چلائی گئی ہے ۔ جس میں اہم کردارامریکہ اوریورپ کے ایماء پر این جی اوز اداکررہی ہیں ، اوربعض سیاسی جماعتیں ان کی مکمل حمایت اورپشت پناہی کررہی ہیں ۔ اسلامی تعلیمات کو محدوداورختم کرنے کے لئے دینی مدارس کے خلاف باقاعدہ کاروائیاں جاری ہیں ۔ دینی مدارس کے تعلیمی نصاب میں تبدیلیوں کے لئے مدارس پر مسلسل دبائوڈالاجارہاہے ۔ اس کے علاوہ نئی نسل کو دین سے برگشتہ کرنے اوران کوملحدوبے دین بنانے کے لئے حکومتی سرپرستی میں میڈیاکے ذریعے فحاشی وعریانی کاسیلاب لایاجارہاہے جو کمزورایمان والوں کو تنکوں کی طرح بہاکرلے جارہاہے ۔ حاکم کے عزل کی ایک صورت یہ ہے کہ اسلامی نظام حیات اورقانون شریعت کو یک لخت منسوخ قراردے دے اوراسلامی نظام خلافت کی جگہ جمہوریت ، آمریت ، بادشاہت ، سرمایہ داری اوراشتراکیت یاکوئی بھی اسلام کے مخالف کافرانہ نظام نافذکردے یاملک میں جاری قوانین اسلام میں غیرشرعی ترمیم کرے یاایساقانون نافذ کرے جو صراحۃً غیرشرعی ہو۔ اگرمذکورہ صورتوں میں حاکم اسلامی نظام حیات کو باوجودیہ جانتے ہوئے کہ وہ اللہ تعالی کے نازل کردہ قوانین ہیں نہیں مانتاتووہ کافرہے ، اگران کاانکارتونہیں کرتامگران کے نفاذ میں سستی اورکاہلی اختیارکرتاہے توفاسق وظالم ہے ۔ ان دونوں صورتوں میں عزل کامستحق ہے ۔ امت مسلمہ پرواجب ہے کہ اسے اس منصب سے علیحدہ کردیں حتی کہ اس کے لئے طاقت کااستعمال یعنی مسلح خروج فرض ہے ۔ باری تعالی کے عطاکردہ قوانین سے انحراف اورسرکشی خلاف فطرت ظلم ، فسق اورکفرہے ۔

حضورتاجدارختم نبوتﷺکافرمان شریف

عَنْ أُمِّ الحُصَیْنِ الأَحْمَسِیَّۃِ، قَالَتْ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ فِی حَجَّۃِ الوَدَاعِ، وَعَلَیْہِ بُرْدٌ قَدِ التَفَعَ بِہِ مِنْ تَحْتِ إِبْطِہِ، قَالَتْ:فَأَنَا أَنْظُرُ إِلَی عَضَلَۃِ عَضُدِہِ تَرْتَجُّ، سَمِعْتُہُ یَقُولُ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّہَ، وَإِنْ أُمِّرَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ مُجَدَّعٌ فَاسْمَعُوا لَہُ، وَأَطِیعُوا مَا أَقَامَ لَکُمْ کِتَابَ اللَّہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدتناام الحصین رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکوحجۃ الوداع کے موقع پرخطبہ ارشادفرماتے ہوئے سناکہ اے لوگو! اللہ تعالی سے ڈرو!اگرتم پرحبشی کان کٹاہواامیربنادیاجائے تواس کاحکم سنواوراس کی اطاعت کروجب تک وہ کتاب اللہ یعنی قرآن کریم کو قائم رکھے۔ (سنن الترمذی:محمد بن عیسی بن سَوْرۃ بن موسی بن الضحاک، الترمذی، أبو عیسی (۳:۲۶۱)

جب تک کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کرے؟

عَنْ یَحْیَی بْنِ حُصَیْنٍ، قَالَ:سَمِعْتُ جَدَّتِی، تُحَدِّثُ، أَنَّہَا سَمِعَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، وَہُوَ یَقُولُ:وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ یَقُودُکُمْ بِکِتَابِ اللہِ، فَاسْمَعُوا لَہُ وَأَطِیعُوا۔ ترجمہ حضرت سیدنایحی بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی دادی اماں سے سناوہ بیان کرتی تھیں کہ انہوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکو فرماتے ہوئے سناکہ اگرتم پرغلام حاکم بنادیاجائے جوکتاب اللہ کے مطابق تم کو چلائے تواس کاحکم سنواوراس کی اطاعت کرو۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۳:۱۴۶۸)

جب کفربواح نافذ کردیاجائے پھرخاموش رہناجائز نہیں ہے

عَنْ جُنَادَۃَ بْنِ أَبِی أُمَیَّۃَ، قَالَ:دَخَلْنَا عَلَی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَہُوَ مَرِیضٌ، فَقُلْنَا:حَدِّثْنَا أَصْلَحَکَ اللہُ، بِحَدِیثٍ یَنْفَعُ اللہُ بِہِ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:دَعَانَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَبَایَعْنَاہُ، فَکَانَ فِیمَا أَخَذَ عَلَیْنَا:أَنْ بَایَعَنَا عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی مَنْشَطِنَا وَمَکْرَہِنَا، وَعُسْرِنَا وَیُسْرِنَا، وَأَثَرَۃٍ عَلَیْنَا،وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَہْلَہُ، قَالَ:إِلَّا أَنْ تَرَوْا کُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَکُمْ مِنَ اللہِ فِیہِ بُرْہَانٌ۔ ترجمہ :حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:الایہ کہ تم حاکم میں کفربواح ( واضح کفر) دیکھوجس کی تمھارے پاس اللہ تعالی کی طرف سے واضح دلیل ہوتوتم اس کی مخالفت کرسکتے ہو۔ ملخصاً۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۳:۱۴۷۰)

جب حاکم حکم شرع کو تبدیل کرے تواس کو معزول کرناواجب ہے

فَلَوْ طَرَأَ عَلَیْہِ کُفْرٌ وَتَغْیِیرٌ لِلشَّرْعِ أَوْ بِدْعَۃٌ خَرَجَ عَنْ حُکْمِ الْوِلَایَۃِ وَسَقَطَتْ طَاعَتُہُ وَوَجَبَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ الْقِیَامُ عَلَیْہِ وَخَلْعُہُ وَنَصْبُ إِمَامٍ عَادِلٍ إِنْ أَمْکَنَہُمْ ذَلِکَ فَإِنْ لَمْ یَقَعْ ذَلِکَ إِلَّا لِطَائِفَۃٍ وَجَبَ عَلَیْہِمُ الْقِیَامُ بِخَلْعِ الْکَافِرِ۔ ترجمہ :امام أبو زکریا محیی الدین یحیی بن شرف النووی المتوفی :۶۷۶ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ اگرخلیفہ پرکفرطاری ہویاشریعت کے کسی حکم شریف کو تبدیل کردے یابدعت کاارتکاب کرے توحکمرانی کے حکم سے خارج ہوجاتاہے ، اس کی اطاعت ساقط ہوجاتی ہے ، اہل اسلام پر اس کے خلاف قیام یعنی خروج کرنا، اسے اس منصب سے ہٹانااوراگرممکن ہوتو عادل امام کاتقررکرناواجب ہے ۔ (المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج:أبو زکریا محیی الدین یحیی بن شرف النووی (۵:۲۲۹) مندرجہ بالااحادیث شریفہ میں بالکل واضح کردیاگیاکہ حاکم کی سمع واطاعت مطلقاً نہیں بلکہ مشروط ہے ، اگرکتاب اللہ ، اسلامی نظام خلافت کے مطابق حکومت کرتاہے توٹھیک ہے وگرنہ اگرقانون شریعت کو مانتے ہوئے بھی نافذ نہیں کرتاتووہ فاسق اورمستحق عزل ہے ، اگروہ انکارکرتاہے توپھروہ کافرہے ، جس کاعزل کرنافرض ہے ، اگروہ اقتدارنہ چھوڑے تومسلح خروج کرکے اسے معزول کرکے از سرنوخلیفہ کاتقررفرض ہے ۔ ہمارے دورمیں کسی بھی اسلامی ملک میں اسلامی نظام حکومت قائم نہیں ہے ، اکثرممالک میں جمہوریت ، کچھ میں بادشاہت اورکچھ میں آمریت ہے ۔ الغرض کسی بھی ملک میں بماانزل اللہ کی حکومت نہیں ہے ، بلکہ کفریہ نظام ہائے باطلہ کاراج ہے ۔ درحقیقت مسلم ممالک کے حکمران کٹھ پتلیاں ہیں اورحقیقی اقتداروحکومت کفریہ طاقتوں کاہے ۔یعنی نظام بھی کفریہ اورحقیقی حکمرانی بھی کفرکی ہی ہے یعنی حکومتی نظام کافرانہ تو حقیقی حاکم بھی کفارہیں ۔ یہ کفاراپنی عالمی حکومت یعنی اقوام متحدہ ( اقوام مرتدہ) کے ذریعے تمام اسلامی ممالک پر حکمرانی کررہے ہیں۔

لبرل وسیکولرطبقہ کی ایک خلاف شرع بکواس کررد

امت مسلمہ کے انحطاط اوراسلامی نظام خلافت کے خاتمے کے بعد یورپی مفکرین نے امت مسلمہ کے عصری تعلیم یافتہ ( لبرل وسیکولر) طبقہ کو یہ باورکروایاہے کہ عصرحاضرمیں اسلامی نظام ناقابل عمل ہے ، اس دورمیں اگرکوئی قابل عمل نظام ہے تواشتراکی یاسرمایہ دارانہ جمہوریت ہے یہی وجہ ہے مغربی تعلیم وتربیت پانے والالبرل طبقہ اسلامی نظام خلافت کو ناقابل عمل تصورکرتاہے ۔ ان کاکہناہے کہ یہ نظام چودہ صدیاں قبل غیرترقی یافتہ زمانے کے لئے تھااورموجودہ ترقی یافتہ جدیددورمیں اس پرعمل نہیں ہوسکتا۔ مثلاً اسلام کاعدالتی نظام پراناہے جوکہ ناقابل عمل ہے ، اسی طرح اقتصادی نظام بھی ناقابل عمل ہے ، جدیددورنے جوجدیدمسائل پیداکئے ہیں ، اسلام ان کاحل پیش نہیں کرتالھذاجدیددورمیں مغربی اقتصادی نظام ہی قابل عمل اوروقت کاتقاضہ ہے۔ اسی طرح موجودہ ترقی یافتہ دورمیں اسلامی معاشرتی نظام بھی قابل عمل نہیں ہے کیونکہ تہذیب وتمدن نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ اب اس پرعمل کرناممکن نہیں ہے ، الغرض مذکورہ طبقہ اسلام کے تمام نظاموں معاشرتی ، عدالتی ، خارجی ، حکومتی وغیرہ کو ناقابل عمل جانتاہے ، اسلامی نظام قرآن کریم اورسنت شریفہ پر مشتمل ہے ۔ اس کاانکارقرآن کریم اورسنت شریفہ کاانکارہے اورقرآن وسنت کاانکاروحی الہی کاانکارہے اوروحی الہی کاانکارچاہے وہ قول سے ہویافعل سے یاتحریرسے ہرحال میں کفرہے کیونکہ اسلامی نظام کو ناقابل عمل تصورکرنے کامطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قیامت تک کے لئے ایسے احکامات لاگوکردئیے ہیں جن پر توکچھ عرصہ تک عمل کیاجاسکتاہے لیکن ہرزمانے میں ایسانہیں ہوسکتایعنی نعوذبا اللہ من ذلک اللہ تعالی کو آنے والے ترقی یافتہ دورکاعلم اورادراک نہیں تھا۔ اللہ تعالی کے بارے میں ایساخیال کرناکفرہے اوریہ نتیجہ ہے اس بات کاکہ اسلامی نظام کو ناقابل عمل متصورکیاگیاہے ۔ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں واضح طورپرارشادفرمادیاہے کہ اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی حاکمیت کو تسلیم نہ کرنے والامومن نہیں ہے ۔ یعنی ایسے آدمی کے ایمان کی نفی کی گئی ہے۔

جو شخص حضورتاجدارختم نبوتﷺکے فیصلے کوقبول نہ کرے؟

وَفِی ہَذِہِ الْآیَۃِ دَلَالَۃٌ عَلَی أَنَّ مَنْ رَدَّ شَیْئًا مِنْ أَوَامِرِ اللَّہِ تَعَالَی أَوْ أَوَامِرِ رَسُولِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَہُوَ خَارِجٌ مِنْ الْإِسْلَامِ سَوَاء ٌ رَدَّہُ مِنْ جِہَۃِ الشَّکِّ فِیہِ أَوْ مِنْ جِہَۃِ تَرْکِ الْقَبُولِ وَالِامْتِنَاعِ مِنْ التَّسْلِیمِ وَذَلِکَ یُوجِبُ صِحَّۃَ مَا ذَہَبَ إلَیْہِ الصَّحَابَۃُ فِی حُکْمِہِمْ بِارْتِدَادِ مَنْ امْتَنَعَ مِنْ أَدَاء ِ الزَّکَاۃِ وَقَتْلِہِمْ وَسَبْیِ ذَرَارِیِّہِمْ لِأَنَّ اللَّہَ تَعَالَی حَکَمَ بِأَنَّ مَنْ لَمْ یُسَلِّمْ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَضَاء َہُ وَحُکْمَہُ فَلَیْسَ مِنْ أَہْلِ الْإِیمَانِ۔ ترجمہ :امام أحمد بن علی أبو بکر الرازی الجصاص الحنفی المتوفی : ۳۷۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ {فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ فِیمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوا فِی أَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوا تَسْلِیمًا}یہ آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو آدمی اللہ تعالی کے احکامات یاحضورتاجدارختم نبوتﷺکے احکامات میں سے کسی ایک حکم کابھی ردکرے تووہ اسلام سے خارج اورمرتدہے ، چاہے یہ ردشک کی بناپرکرے یاقبول نہ کرے یاتسلیم نہ کرے ،اسی سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے موقف کاثبوت ملتاہے کہ انہوں نے زکوۃ ادانہ کرنے والوں کو مرتدقراردیاہے ، ان کو قتل کیااوران کی اولادوں کو گرفتارکیا، اسی لئے اللہ تعالی نے یہ حکم دیاہے کہ جوآدمی اپنے فیصلے اورحکم کو حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے سپردنہ کرے وہ اہل ایمان میں سے نہیں ہے ۔ (أحکام القرآن: أحمد بن علی أبو بکر الرازی الجصاص الحنفی(۳:۸۱)

جوحاکم خلاف ماانزل اللہ فیصلہ کرے اس کو معزول کردیاجائے

وفصل الخطاب:أن من لم یحکم بما أنزل اللہ جاحداً لہ، وہو یعلم أن اللہ أنزلہ،کما فعلت الیہود، فہو کافر، ومن لم یحکم بہ میلاً إِلی الہوی من غیر جحود، فہو ظالم وفاسِق وقد روی علی بن أبی طلحۃ عن ابن عباس أنہ قال:من جحد ما أنزل اللہ فقد کفر، ومَن أقرَّ بہ ولم یحکم بہ فہو فاسق وظالم. ترجمہ :امام جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی المتوفی : ۵۹۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ فیصلہ کن بات یہ ہے کہ جو شخص ماانزل اللہ کے ساتھ حکومت نہ کرے ، اس کاانکارکرتے ہوئے ، حالانکہ وہ جانتاہے کہ اللہ تعالی نے ہی اسے نازل فرمایاہے جیساکہ یہودیوں نے کیاتھاتووہ کافرہے ۔ جوشخص بغیرانکارکے محض خواہشات نفسانی کے میلان کی وجہ سے ماانز ل اللہ کے ساتھ حکومت نہ کرے تووہ ظالم وفاسق ہے ۔ حضرت سیدناعلی بن ابی طلحہ حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ انہوںنے فرمایاکہ جس شخص نے ماانزل اللہ کاانکارکیاوہ کافرہے ۔ جو شخص اس کااقرارکرے لیکن اس کاحکم نہ کرے تووہ فاسق اورظالم ہے ۔ (زاد المسیر فی علم التفسیر:جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی(۱:۵۵۳)

حضورتاجدارختم نبوتﷺکے سامنے گردن جھکانے کانام ایمان ہے

فَالْوَاجِبُ کَمَالُ التَّسْلِیمِ لِلرَّسُولِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَالْانْقِیَادُ لِأَمْرِہِ، وَتَلَقِّی خَبَرِہِ بِالْقَبُولِ وَالتَّصْدِیقِ، دُونَ أَنْ یُعَارِضَہُ بِخَیَالٍ بَاطِلٍ یُسَمِّیہِ مَعْقُولًا، أَوْ نُحَمِّلَہُ شُبْہَۃً أَوْ شَکًّا، أَوْ یُقَدِّمَ عَلَیْہِ آرَاء َ الرِّجَالِ وَزُبَالَۃَ أَذْہَانِہِمْ، فَیُوَحِّدَہُ بِالتَّحْکِیمِ وَالتَّسْلِیمِ وَالْانْقِیَادِ وَالْإِذْعَانِ، کَمَا وَحَّدَ الْمُرْسِلَ بِالْعِبَادَۃِ وَالْخُضُوعِ وَالذُّلِّ وَالْإِنَابَۃِ وَالتَّوَکُّلِ.فَہُمَا تَوْحِیدَانِ، لَا نَجَاۃَ لِلْعَبْدِ مِنْ عَذَابِ اللَّہِ إِلَّا بِہِمَا:تَوْحِیدُ الْمُرْسِلِ، وَتَوْحِیدُ مُتَابَعَۃِ الرَّسُولِ، فَلَا یُحَاکِمُ إِلَی غَیْرِہِ، وَلَا یَرْضَی بِحُکْمِ غَیْرِہِ۔ ترجمہ :صدر الدین محمد بن علاء الدین علیّ بن محمد ابن أبی العز الحنفی المتوفی : ۷۹۲ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ پس واجب ہے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے سامنے کامل طورپرجھک جانااوران کے حکم شریف کی پیروی اوران کے حکم شریف کو قبول کرنااوراس کی تصدیق کرناہے نہ یہ کہ ہم باطل خیال کے ساتھ اس کامقابلہ کریں اوراسے معقولی بات کانام دیں یااس میں شبہ پیداکریں ، پس یہ دوتوحیدیں ہیں یعنی مرسل ( اللہ تعالی )کی توحیداورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی اتباع کی وحدت ، پس نہ توان کے علاوہ کسی کے پاس فیصلے کے لئے جائیں اورنہ غیرکے حکم پرراضی ہوں۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ:صدر الدین محمد بن علاء الدین علیّ بن محمد ابن أبی العز الحنفی:۱۶۶)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh