صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2317 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ مائدہ آیت ۵۷۔۵۸۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,460

سوال (Question):

تفسیر سورہ مائدہ آیت ۵۷۔۵۸۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

شعائراسلامی کامذاق اڑانے والے کافرہیں

{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَ اَوْلِیَآء َ وَاتَّقُوا اللہَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ }(۵۷){وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْہَا ہُزُوًا وَّلَعِبًا ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ }(۵۸) ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنالیا ہے وہ جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے اور کافر ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان رکھتے ہو۔اور جب تم نماز کے لئے اذان دو تو اسے ہنسی کھیل بناتے ہیں یہ اس لئے کہ وہ نرے بے عقل لوگ ہیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے اہل ایمان !جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ان میں سے وہ لوگ جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اورکھیل بنالیا ہے انہیں اور کافر وں کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اگر ایمان رکھتے ہوتواللہ سے ڈرتے رہو۔اور جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو تویہ اس کو ہنسی مذاق اورکھیل بنالیتے ہیں۔ یہ اس لئے ہے کہ وہ بالکل بے عقل لوگ ہیں۔ شان نزول رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ قَوْمًا مِنَ الْیَہُودِ وَالْمُشْرِکِینَ ضَحِکُوا مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَقْتَ سُجُودِہِمْ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی:یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِینَ اتَّخَذُوا دِینَکُمْ ہُزُواً وَلَعِباً إِلَی آخِرِ الْآیَاتِ. ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ یہودی اورمشرک اہل ایمان کو سجدہ کرتے دیکھ کر ہنستے اورمذاق اڑاتے تھے تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۶:۲۲۳)

یہودومشرکین کے ساتھ دوستی نہ لگانے کی وجہ ان کاگستاخ ہوناہے

فَنَہَاہُمُ اللَّہُ أَنْ یَتَّخِذُوا الْیَہُودَ وَالْمُشْرِکِینَ أَوْلِیَاء َ،وَأَعْلَمَہُمْ أَنَّ الْفَرِیقَیْنِ اتَّخَذُوا دِینَ الْمُؤْمِنِینَ ہُزُوًا وَلَعِبًا. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی: ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اہل اسلام کو یہودونصاری اورمشرکین کے مددگاربنانے سے منع فرمایااوراہل ایمان کو بتایاکہ یہ دونوں گروہ اہل ایمان کے دین کامذاق اڑاتے ہیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۶:۲۲۳) کسی بھی گستاخ کے ساتھ دوستی لگانامنع ہے وَقِیلَ:الْمَعْنَی لَا تَتَّخِذُوا الْمُشْرِکِینَ وَالْمُنَافِقِینَ أولیاء ، بدلیل قولہم:إِنَّما نَحْنُ مُسْتَہْزِؤُنَ) البقرۃ: ۱۴)وَالْمُشْرِکُونَ کُلُّہُمْ کُفَّارٌ۔ ترجمہ :بعض علماء کرام نے یہ بھی بیان کیاہے کہ اس آیت کریمہ کامعنی یہ ہے کہ تم منافقین ، مشرکین کودوست نہ بنائواس کی دلیل یہ ہے کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم اہل اسلام کامذاق اڑاتے ہیں اورتما م مشرکین کفارہیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۶:۲۲۳) دوسری آیت کریمہ کاشان نزول قَالَ الْکَلْبِیُّ:کَانَ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَقَامَ الْمُسْلِمُونَ إِلَی الصَّلَاۃِ قَالَتِ الْیَہُودُ:قَدْ قَامُوا لَا قَامُوا، وَکَانُوا یَضْحَکُونَ إِذَا رَکَعَ الْمُسْلِمُونَ وَسَجَدُوا وَقَالُوا فِی حَقِّ الْأَذَانِ:لَقَدِ ابْتَدَعْتَ شَیْئًا لَمْ نَسْمَعْ بِہِ فِیمَا مَضَی مِنَ الْأُمَمِ، فَمِنْ أَیْنَ لَکَ صِیَاحٌ مِثْلُ صِیَاحِ الْعِیرِ؟ فَمَا أَقْبَحَہُ مِنْ صَوْتٍ، وَمَا أَسْمَجَہُ مِنْ أَمْرٍوَقِیلَ:إِنَّہُمْ کَانُوا إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِلصَّلَاۃِ تَضَاحَکُوا فِیمَا بَیْنَہُمْ وَتَغَامَزُوا عَلَی طَرِیقِ السُّخْفِ وَالْمُجُونِ، تَجْہِیلًا لِأَہْلِہَا، وَتَنْفِیرًا لِلنَّاسِ عَنْہَا وَعَنِ الدَّاعِی إِلَیْہَاوَقِیلَ:إِنَّہُمْ کَانُوا یَرَوْنَ الْمُنَادِیَ إِلَیْہَا بِمَنْزِلَۃِ اللَّاعِبِ الْہَازِئِ بِفِعْلِہَا، جَہْلًا مِنْہُمْ بِمَنْزِلَتِہَا، فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ۔ ترجمہ :امام الکلبی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب موذن اذان دیتااورمسلمان نما زکے لئے کھڑے ہوتے تویہودی کہتے تھے کہ وہ کھڑے ہوئے بھی کھڑے نہ ہوں ، وہ ہنستے تھے جب مسلمان رکوع کرتے یاسجدہ کرتے تھے وہ اذان کے بارے میں کہتے کہ اہل اسلام نے نئی بدعت نکال لی ہے ، ہم نے پچھلی قوموں میں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی ، یہ تیرے لئے قافلہ کے چیخنے کی طرح چیخناکہاں سے آیاہے ، یہ کتنی قبیح آواز ہے اوریہ معاملہ کتنابراہے ۔ بعض علماء کرام نے یہ بھی فرمایاہے کہ جب موذن اذان دیتاتھاوہ آپس میں ہنستے اورمذاق اڑاتے تھے اوربطوراستہزاء اشارے کرتے تھے اورمسلمانوں کوبے وقوف اورجاہل کہتے تھے اورلوگوں کو اس سے نفرت دلاتے تھے اورنماز کی طرف بلانے والے سے دورکرتے تھے ۔ بعض علماء کرام نے فرمایاہے کہ وہ نماز کی طرف دعوت دینے والے کو نماز کے ساتھ استہزاء اورمذاق کرنے والے کی طرح دیکھتے تھے کیونکہ وہ نماز کی قدرومنزلت سے جاہل تھے پس اللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۶:۲۲۳) شان نزول کے متعلق دوسراقول وَقَالَ الْآخَرُونَ:إِنَّ الْکُفَّارَ لَمَّا سَمِعُوا الْأَذَانَ حَسَدُوا الْمُسْلِمِینَ فَدَخَلُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَالُوایَا مُحَمَّدُ لِقَدْ أَبْدَعْتَ شَیْئًا لَمْ نَسْمَعْ بِہِ فِیمَا مَضَی مِنَ الْأُمَمِ فَإِنْ کُنْتَ تَدَّعِی النُّبُوَّۃَ فَقَدْ خَالَفْتَ فِیمَا أَحْدَثْتَ الْأَنْبِیَاء َ قَبْلَکَ وَلَوْ کَانَ فِیہِ خَیْرٌ لَکَانَ أَوْلَی النَّاسِ بِہِ الْأَنْبِیَاء ُ، فَمِنْ أین لک صیاح کصیاح العیر، فَمَا أَقْبَحَ مِنْ صَوْتٍ وَمَا أَسْمَجَ مِنْ أَمْرٍ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تعالی ہذہ الآیۃ: وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعا إِلَی اللَّہِ۔ ترجمہ :محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی المتوفی : ۵۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ دوسرے ائمہ کرام نے یہ فرمایاہے کہ کافروں نے جب اذان سنی تومسلمانوں سے حسدکرنے لگے اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی بارگاہ اقدس میں حاضرہوئے اورکہنے لگے کہ اے محمد(ﷺ) !آپ نے یہ کیاایجاد کرلیاہے ہم نے پہلی امتو ں میں توایسی کوئی بات نہیں سنی ۔ اگرآپﷺ نبوت کے دعوے دارہیں توآپ ﷺنے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کے طریقہ کو کیوں ترک کردیاہے اوران کی مخالفت کیوں کی ؟ اوراس کام یعنی اذان دینے میں کوئی بھلائی ہوتی توپہلے انبیاء کرام علیہم السلام اس کے زیادہ حقدارتھے توآپ ﷺنے یہ چیخنااوربری آوازیں نکالناکہاں سے لے لیاہے تواللہ تعالی نے موذن کی شان میںیہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (تفسیر البغوی :محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (۲:۶۴)

اذان کی گستاخی کرنے والایہودی آگ میں جل کرمرا

وَکَانَ رَجُلٌ مِنَ الْیَہُودِ تَاجِرًا إِذَا سَمِعَ الْمُنَادِی یُنَادِی بِالْأَذَانِ قَالَ:أَحْرَقَ اللَّہُ الْکَاذِبَ قَالَ:فَبَیْنَمَا ہُوَ کَذَلِکَ إِذْ دَخَلَتْ جَارِیَتُہُ بِشُعْلَۃٍ مِنْ نَارٍ، فَطَارَتْ شرارۃ منہا فی البیت فأحرقتہ. ترجمہ :مدینہ منورہ میں ایک یہودی تاجرتھاجب وہ موذن کو اذان دیتے ہوئے سنتاتوکہتاکہ اللہ تعالی اس جھوٹے کو جلادے ، ایک دن اس کی خادمہ اس کے پاس آگ کاشعلہ لے کرآرہی تھی کہ اس میں سے ایک شعلہ اڑااوراس پرجاپڑاجس نے اس کوجلاکرخاکسترکردیا۔ (فتح القدیر:محمد بن علی بن محمد بن عبد اللہ الشوکانی الیمنی (۲:۶۴) حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخ نصرانی کو آگ نے جلاڈالا رُوِیَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ النَّصَارَی وَکَانَ بِالْمَدِینَۃِ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ یَقُولُ:أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ:قَالَ: حُرِقَ الْکَاذِبُ، فَسَقَطَتْ فِی بَیْتِہِ شَرَارَۃٌ مِنْ نَارٍ وَہُوَ نَائِمٌ فَتَعَلَّقَتْ بِالْبَیْتِ فَأَحْرَقَتْہُ وَأَحْرَقَتْ ذَلِکَ الْکَافِرَ مَعَہُ، فَکَانَتْ عِبْرَۃً لِلْخَلْقِ۔ ترجمہ :اوریہ روایت کیاگیاہے کہ مدینہ منورہ میں ایک نصرانی رہتاتھاوہ جب بھی موذن کو اذان کے دوران (أََشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہ)کہتے ہوئے سنتاتوکہتا:جھوٹاآگ سے جلایاگیا، پس اس نصرانی کے گھرمیں آگ کاایک شعلہ گراجب وہ سویاہواتھا، اس شعلہ نے اس کے سارے کے سارے گھرکوجلادیا، یہ مخلوق کے لئے عبرت تھی ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۶:۲۲۳)

گانے کی طرز پراذان دینے والے سے نفرت

وکرہ اللحن فی الاذان لما روی ان رجلا جاء الی ابن عمر رضی اللہ عنہما فقال انی أحبک فقال انی أبغضک فی اللہ فقال لم فقال لانہ بلغنی انک تغنی فی اذانک یعنی تلحن ۔ ترجمہ :اورگانے کی طرز پراذان دینامکروہ ہے کیونکہ ایک شخص حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماکے پاس حاضرہوااورعرض کرنے لگاکہ میں آپ کے ساتھ محبت کرتاہوں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تیرے ساتھ نفرت کرتاہوں اوروہ بھی اللہ تعالی کے لئے اس نے کہا: وہ کیوں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ تواذان گانے کی طرز پردیتاہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی (۲:۴۰۸)

شعائراسلامیہ کامذاق اڑانے والے کے جنازے کاحکم

دین کامذاق اڑانا تو نہایت خطرے کی بات ہے۔انسان اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، اور اگر اسی حالت میں اس کا انتقال ہو جائے تو اس کی نمازِ جنازہ ادا نہیں کی جائے گی۔ اگرکوئی شخص اس قسم کا مذاق اڑاتا ہے جس سے انسان دین سے خارج ہوجائے تو رشتہ داری کے باوجود اس کی جنازہ کی نماز نہیں پڑھی جائے گی اور نہ ہی اس میں شرکت جائز ہوگی۔ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے {مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِینَ آمَنُوا أَنْ یَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِینَ وَلَوْ کَانُوا أُولِی قُرْبَی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُمْ أَصْحَابُ الْجَحِیمِ }( سورۃ التوبہ: ۱۱۳) ترجمہ ضیاء الایمان:نبی اور ایمان لانے والوں کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے یہ معلوم ہونے کے بعد بھی استغفار کریں کہ وہ جہنمی ہیں، چاہے وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے {وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَی قَبْرِہِ إِنَّہُمْ کَفَرُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَمَاتُوا وَہُمْ فَاسِقُونَ }(سورۃ التوبہ: ۸۴) ترجمہ ضیاء الایمان:اور آپ ان میں سے کسی کا کبھی بھی جنازہ مت پڑھیں، اور نہ کسی کی قبر پر کھڑے ہوں، بلاشبہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کریمﷺکے ساتھ کفر کیا اور وہ اسی فسق پر مرے۔

معارف ومسائل

(۱) کسی بھی دینی چیز کامذاق اڑاناکفرہے ، یہاں رب تعالی نے اذان کامذا ق اڑانے والوں کو کافرقراردیاہے لھذاعالم دین ، مسجد شریف ، کعبہ معظمہ ،نماز ، روزہ ، رمضان المبارک کسی بھی چیز کامذاق اڑانایاانہیں ہلکاجانناکفرہے ، پھرحضورتاجدارختم نبوتﷺکی شان کے کیاپوچھنے جن کے دم کی یہ ساری بہارہے۔ (۲) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جب نماز اوراذان کے گستاخ کے ساتھ دوستی لگانامنع ہے توپھرحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے گستاخوں کے ساتھ دوستی لگاناکیسے جائز ہوسکتاہے ؟۔ (۳) یادرہے کہ آجکل لبرل وسیکولربے دین طبقہ شعائراسلامیہ کامذاق اڑاتاہے ان سے بھی قطع تعلقی فرض ہے اوران کے ساتھ تعلق رکھناحرام اشدحرام اورجہنم میں لے جانے والاکام ہے ۔ (۴)دین کی کسی چیز کا مذاق اڑانا کفر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اذان کا مذاق اڑانے والوں کو کافر قرار دیاہے۔ ایسے ہی عالم ، مسجد، خانہ کعبہ، نماز، روزہ وغیرہا میں سے کسی کا مذاق اڑانا کفر ہے۔دینی چیزوں کا مذاق اڑانے والے احمق و بے عقل ہیں جو ایسے سَفِیہانہ اور جاہلانہ حرکات کرتے ہیں۔اس آیت میں دینی چیزوں کا مذاق اڑانے والوں کا کتنا شدید رد ہے ۔ افسوس کہ جو کام یہودی اور منافق کیا کرتے تھے وہی کام مسلمان کہلانے والوں میں آتے جارہے ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، فرشتے، جنت، حوریں ، دوزخ، اس کے عذاب، قرآنی آیات، احادیث ِ نَبوی، دینی کتابوں ، دینی شَعائر، عمامہ، داڑھی، مسجد، مدرسے، دیندار آدمی، دینی لباس، دینی جملے، مقدس کلمات الغرض وہ کونسی مذہبی چیز ہے کہ جس کا اِس زمانے میں کھلے عام فلموں ، ڈراموں ، خصوصاً مزاحیہ ڈراموں ، عام بول چال، دوستوں کی مجلسوں ، دنیاوی تقریروں ، ہنسی مذاق کی نشستوں اور باہمی گپ شپ میں مذاق نہیں اُڑایا جاتا۔ افسوس کہ مسلمان کہلانے والے اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں۔ مسلمان کہلانے والوں کو داڑھی، عمامہ، مذہبی حُلیے سے نفرت ہے۔ مسلمان کہلانے والے کو اذان سن کر تکلیف ہوتی ہے۔ قرآن وحدیث کی باتیں اسے پرانی باتیں لگتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ دینی شَعائِر کا مذاق اڑانا کفر ہے۔(تفسیرصراط الجنان ( ۲: ۴۵۷) (۵)ربوبیت، رسالت، وحی اور دین کے پہلو بہت ہی محترم پہلو ہیں۔ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ محض دل لگی یا ہنسنے ہنسانے کے طور پر ان کا مذاق اڑائے، ایسا کرنے والا کافر ہو جاتاہے کیونکہ اس کا یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول کرام علیہم السلام، اس کی کتابوں اور اس کی شریعت کی توہین کر رہا ہے، لہٰذا جس شخص سے اس طرح کی حرکت سرزد ہوگئی ہو اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرنی چاہیے کیونکہ یہ نفاق ہے، اس لئے واجب ہے کہ ایسا شخص توبہ واستغفار کرے، اوراپنے عمل کی اصلاح کرے اور اپنے دل میں اللہ عزوجل کی خشیت، اس کی تعظیم، اس کا خوف اور اس کی محبت پیدا کرے۔ (۶)طنز ومزاح لطافت وظرافت انسانی مزاج کا خاصہ ہے ۔ایک حد تک شریعتِ مطہّرہ نے اس کی اجازت بھی دی ہے ۔ لیکن جب یہ چیز مقدّساتِ اسلام اور شعائر دین تک پہنچ جائے تو خطرناک صورت حال اختیار کرلیتی ہے ۔ اور بسا اوقات انسان ایمان جیسی عظیم دولت سے ہاتھ دھو بیٹھتاہے ۔دین یا دین کے کسی شعا ئرسے مذاق بہت بڑا گناہ ، اللہ تعالیٰ کی حدود کی پامالی، اور کفر کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے جس میں جاہل، ہیچ اور لاعلم لوگ گرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح کیا ہے کہ یہ کفار اور منافقین کا عمل ہے ۔ (۷)افسوس ناک امر یہ ہے جو کام یہودیوں اور منافقوںکا ہواکرتاتھا وہی کام خودکو مسلمان کہلانے والوں میں آتے جارہے ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، فرشتے، جنت، حوریں ، دوزخ، اللہ کے عذاب، قرآنی آیات، احادیثِ نبویہ، دینی کتابوں ، دینی شَعائر، عمامہ، داڑھی، مسجد، مدرسے، دیندار آدمی، دینی لباس، دینی جملے، مقدس کلمات الغرض وہ کونسی مذہبی چیز ہے کہ جس کا اِس زمانے میں کھلے عام فلموں ، ڈراموں ، خصوصاً مزاحیہ ڈراموں ، عام بول چال، دوستوں کی مجلسوں ، دنیاوی تقریروں ، ہنسی مذاق کی نشستوںاور باہمی گپ شپ میں مذاق نہیں اُڑایا جاتا!؟۔ اور یہ مذاق اڑانے والے کوئی غیر نہیں بلکہ خود مسلمان ہیں۔خود کو مسلمان کہنے والے داڑھی، عمامہ،ٹخنوں سے اونچی شلواررکھنے اور مذہبی حُلیے سے نفرت کرتے ہیں،اور اسے کراہت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اور کئی مقامات اور دفاتر میں تو یہاں تک مشاہدہ کیا گیاہے کہ وہاں السلام علیکم کہنابھی لوگوںکوانتہائی ناگوار گزرتاہے، اذان سن کر تکلیف ہوتی ہے۔ قرآن وحدیث کی باتیں انہیں پرانی باتیں لگتی ہیں۔یقیناً یہ انتہائی قبیح اور برا فعل ہے ۔ (۸)موجودہ دور میں استہزا ء ومذاق کی صورتوں میں یہ صورت بھی بہت عام دیکھی گئی ہے کہ لوگ بے دریغ جنت وجہنم اور فرشتوں کے حوالے سے لطیفے بناتے ، سناتے اور لوگوں میں انہیں آگے ارسال کرتے ہیں یہ بھی دین سے استہزاء ہے ۔ جس میں سے ایک لطیفہ بطور مثال یہ مقولہ سامنے رکھتے ہوئے کہ نقل ِکفر کفر نہ باشد یہاں ذکر کر رہے ہیں ۔ کسی احمق نے یہ عام کیا کہ جہنم میں باقی سب قوموں کے اوپر داروغہ مسلط تھے ان میں سے اگر کوئی نکلنے کی کوشش کرتا تو وہ داروغہ انہیں اندر دھکیل دیتا ۔ جبکہ جہاں پاکستانی قوم تھی وہاں کوئی داروغہ نہیں تھا کسی نے پوچھا تو جواب دیا گیاکہ پاکستانی دراصل ٹانگ کھینچنے کے ماہر ہیں اس لئے ان میں سے اگر کوئی اوپر نکلنے کی کوشش کرتاہے تو اس کے دوسرے ساتھی اس کی ٹانگ کھینچ کر اسے دوبارہ جہنم میں گرا دیتے ہیں اس لئے پاکستانیوں کے ٹھکانے پر داروغہ کی ضرورت نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ (۹)ہر مسلمان کو یہ چیز بخوبی سمجھ لینی چاہئے کہ جنت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہے ۔ اور اس کے حقدار اللہ کے نیک بندے ہیں ۔جنت جیسی عظیم نعمت کو احمقوں سے منسوب کرنا بہت بڑی حماقت اور دین سے بہت بڑا مذاق ہے ۔ اعاذنا اللہ منہ ۔ (۱۰)لکھے مُوسیٰ پڑھے خُدا (کہاوت) یہ کہاوت اس موقع پر بولی جاتی ہے جب کسی شخص کی لکھی ہوئی خراب تحریرصاف پڑھی نہ جا رہی ہو۔ اب پتہ نہیں نالائق لوگوں کی خراب لکھائی کا تعلّق سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جوڑنے کا مطلب اور مقصد کیا تھا؟ وضاحت : یہ کہاوت جس طرح بولی اور لکھی جاتی ہے ایسے نہیں بلکہ اصل کہاوت اس طرح ہے: لکھے مُو(بال) سا، پڑھے خود آ۔یعنی جو شخص بال کی طرح باریک لکھتا ہے کہ دُوسروں کے لیے اسے پڑھنا دُشوار ہو تو اسے خود ہی آکر پڑھے، کوئی اور تو اسے پڑھنے اور سمجھنے سے رہا۔ تعجب ہے کہ اُردو کی بڑی بڑی لُغات اور قواعد کی کُتب میں یہ کہاوت عنوان کے مطابق غلط طور پر لکھی ہوئی پائی گئی ہے، جس سے آپ علم کی نشرواشاعت کے ان نام نہاد مدعیوں اور ذمہ داروں کی علمی سطح کا اندازہ بخوبی کر سکتے ہیں۔ (۱۱)صلوا تیں سُنانا: (محاورہ) صلاۃ کا معنی اور مفہوم ہے: برکتیں اور رحمتیں، جوحضورتاجدارختم نبوتﷺ کے حق میں ہوں۔ جس کی جمع صلوات ہے اور اس کے معانی درود، دُعا اور نمازکے بھی ہیں۔ مگر اردو محاروے میں اسے گالی اور دُشنام کے معنیٰ میں استعمال کیا جاتاہے لہٰذا صلواتیں سُنانا کا مطلب ٹھہرا گالیاں دینا، بُرا بھلا کہنا۔ ایک اسلامی شعیرہ کے الفاظ کو کن گمراہ کن غلیظ معانی کیلئے استعمال کیا جاتاہے۔ والعیاذ باللہ (۱۲)نمازیں بخشوانے گئے اور روزے گلے پڑ ے:(کہاوت) مفہوم ایک کام سے جان چھُڑانے گئے تھے اور دوسری مصیبت گلے پڑ گئی ۔ اِسلام کی بُنیادی عبادات کے متعلق ایسا گُستاخانہ تصور اورطرز تکلّم بہت بڑی جسارت کے زُمرے میں آتا ہے، جو ہمارے دین کے ان دو ارکان کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے۔ (۱۳)خُدا واسطے کا بَیر:(محاورہ) جس کا مطلب کُچھ اس طرح ہے کہ جب کوئی شخص کِسی سے خواہ مخواہ رنجیدہ خاطر ہو، جس کی کوئی ظاہری اور معقول وجہ بھی نہ ہو تو کہا جاتا ہے کہ فلاں کو فلاں کے ساتھ تو خُدا واسطے کا بَیر ہے۔ یعنی شریعت کی اصطلاح الحب فی اللہ اور البغض فی اللہ کو کس طرح باہمی چپقلش اور عناد میں بطور محاورہ استعمال کیا گیا اور یہ احساس بھی نہ رہا کہ اللہ تعالی کیلئے بیر کون رکھتاہے اور کس لئے رکھا جاتاہے اور اس کے فوائد وثمرات کیا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سب کو دین حنیف کی سمجھ عطا فرمائے ۔ (۱۴)مُوسیٰ بھاگا گور سے اور آگے گور کھڑی:(کہاوت) یعنی حضرت سیدناموسیٰ علیہ السلام موت سے بھاگے اور موت آگے کھڑی تھی ۔ ملاحظہ کیجئے کہ حضرت سیدنا مُوسیٰ علیہ السلام کو کیسے ظاہر کیا گیا کہ وہ موت سے اتنے خوف زدہ اور لرزہ براندام تھے کہ اس فنا ہو جانے والی دُنیا میں زندہ رہنے کی خاطر موت سے چھُپتے اور بھاگتے پھرے مگر موت نے پھر بھی اُنھیں آلیا؟ اس کہاوت میں کیسے اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ رسول جن کا شماراولوالعزم مِنَ الرسل میں ہوتا ہے انہیں موت سے خائف اور جان بچاتے بھاگنے کا تصور دیا ۔ والعیاذ باللہ۔ تمام انبیاء ورسولوں کے تقدس کا لحاظ ہرمسلمان کا فرض ہے ۔اورنصّ شرعی سے یہ امر ثابت ہے کہ جس نے بھی اللہ تعالیٰ سے ، یا فرشتوں میں سے کسی فرشتے ، یا انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی بھی نبی علیہ السلام یا قرآن کریم کی کسی آیت یا فرائضِ دین میں سے کسی فریضہ کا مذاق اڑایا استہزا اور تمسخر کیا بعد اس کے کہ حجت ودلیل اس تک پہنچ چکی تھی تو وہ شخص کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کو توفیق دے کہ ہم شعائرِ اسلام کی تعظیم بجا لائیں ، حرمات ومقدسات اسلام کی عزت وتکریم کریں اور کسی بھی صورت ان کی تنقیص وتحقیر کرنے سے خود کو محفوظ رکھے۔آمین بجاہ النبی الامین الکریم وصلی اللہ تعالی علیہ والہ واصحابہ اجمعین ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh