Fatwa #2320
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ مائدہ آیت ۶۶۔ وَلَوْ اَنَّہُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰیۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِمْ مِّنْ رَّبِّہِمْ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,778
سوال (Question):
تفسیر سورہ مائدہ آیت ۶۶۔ وَلَوْ اَنَّہُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰیۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِمْ مِّنْ رَّبِّہِمْ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
دنیابھر کے مسائل حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دین کو تخت پرلائے بغیرحل نہیں ہوسکتے
{وَلَوْ اَنَّہُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰیۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِمْ مِّنْ رَّبِّہِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْ مِنْہُمْ اُمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃٌ وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ سَآء َ مَا یَعْمَلُوْنَ }(۶۶) ترجمہ کنزالایمان: اور اگر قائم رکھتے توریت اور انجیل اور جو کچھ ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے اترا تو انہیں رزق ملتا اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے ان میں کوئی گروہ اعتدال پر ہے اور ان میں اکثر بہت ہی برے کام کررہے ہیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور اگر وہ تورات اور انجیل اور جو کچھ ان کی طرف ان کے رب تعالی کی طرف سے نازل کیا گیا اسے قائم کرلیتے تو انہیں ان کے اوپر سے اور ان کے قدموں کے نیچے سے رزق عطاکیاجاتا۔ ان میں ایک گروہ اعتدال کی راہ پرہے اور ان میں اکثر بہت ہی برے کام کررہے ہیں۔حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دین کانفاذ ناگزیرکیوں؟
اسلام خداوند ِقدوس کی جانب سے مسلمانوں کو عطا کردہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ مگر یہی وہ نعمت ہے جس کی کمی اسلامی معاشروں میں سب سے زیادہ محسوس کی جاتی ہے۔ خلافت ِراشدہ کے بعد دورِ ملوکیت میں اگرچہ خلافت کا ادارہ عملاً سلاطین اور ملوک کے تصرف میں رہا، مگر ان ادوار میں بھی اسلامی قانون کسی نہ کسی صورت میں نافذ العمل رہا۔ قرآنی علوم، حدیث و فقہ اور دیگر الٰہیاتی مضامین میں جو معرکۃ الآرا ذخیرہ آج بھی موجود ہے، وہ بنواُمیہ، بنوعباس اور سلطنت ِعثمانیہ کے اَدوار کا مرہونِ منت ہے۔ جب کمال اتاترک نے خلافت ِعثمانیہ کے خاتمے کا اعلان کردیا تو اسلامی قانون کے ریاستی نفاذ کا تیرہ سو برس کا وہ تسلسل یک دم منقطع ہوگیا۔ اسلامی مرکزیت کا شیرازہ بکھر گیا۔ استعماری طاقتوں نے عربوں کو ترکوں کے خلاف لڑا کر بالآخر انہیں چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کردیا اور وہاں ایسے لوگوں کو اقتدار پر بٹھایا جو مغربی تہذیب سے مرعوب تھے اور اسلام سے برگشتہ تھے۔ مصر، اُردن، شام، عراق، مراکش، لیبیا، یمن، سوڈان اور دیگر مسلم ممالک کے دساتیر خالصتاًجدید مغربی ریاستوں کے دساتیر سے اخذ کئے گئے۔ اسلام کا ذکر اگرچہ ان دساتیر میں موجود تھا مگر اسے وہ مقام حاصل نہ تھا جو اسے ماضی میں رہا تھا۔ عملی اعتبار سے ان ممالک کے دساتیر سیکولر مزاج رکھتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والی دنیا کی اس منفرد اور مقدس ریاست کے حوالے سے ہمارا پہلا اور مقدم ترین کام یہ ہونا چاہیے تھا کہ انگریز کے بنائے ہوئے باطل نظام کی بساط لپیٹ کرحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے دین کو قائم و نافذ کرتے۔ لیکن اس اہم ترین قومی، دینی معاملے میں ہماری مجرمانہ غفلت کا یہ عالم ہے کہ آج ستر سال گزرنے کے باوجود بھی نظام مصطفی ﷺسے محرومی کے اعتبار سے ہم کم و بیش اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں انگریز ہمیں چھوڑ کر گیا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے اس کے مسلط کردہ ظلم و جبر پر مبنی باطل نظام کی حفاظت ایک مقدس امانت جانتے ہوئے دل و جان سے کی ہے لیکن المیہ کی انتہا یہ ہے کہ ہمیں اپنے اس جرم عظیم کا احساس تک نہیں ہے۔ وائے ناکامی متاعِ کاروان جاتا رہا کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا غور طلب بات یہ ہے کہ گزشتہ ستر سال میں اگر نظام مصطفی ﷺ کانفاذ نہیں کیا گیا تو یہ جرم کس کا ہے!رکاوٹ کون بنا ہوا ہے؟ یقیناًحکمران طبقہ اس حوالے سے سب سے بڑا مجرم ہے، لیکن درجہ بدرجہ پوری قوم مجرم ہے ۔ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ میں انتہائی واشگاف الفاظ میں نہایت دردِ دل کے ساتھ یہ عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ ہمارا یہ طرز عمل ربّ کائنات اور حضورتاجدارختم نبوتﷺسے بے وفائی ہی نہیں، صریحاً غداری پر مشتمل ہے۔ یہی وہ جرم عظیم ہے جس کی پاداش میں سابقہ مسلمان امتوں کو مغضوب علیھم اور ضالین قرار دیا گیا اور دنیا میں ذلت اور مسکنت کا عذاب ان پر مسلط کر دیا گیا۔ یہ امر واقعہ ہے کہ جب تک مسلمانوں کا اجتماعی نظام بحیثیت مجموعی اللہ اورحضورتاجدارختم نبوتﷺ کی تعلیمات کے تابع رہا، مسلمان پوری دنیا میں غالب و سربلند رہے۔ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ساری دنیا میں ذلت و خواری آج مسلمان کا مقدر نہیں ہے؟ سورۃ مائدہ میں تکمیل دین کے اعلان کے بعد فرمایا گیا:کیا یہ لوگ جاہلیت کا قانون چاہتے ہیں؟ کیا مسلمانان پاکستان آزادی اور ریاستی خودمختاری ملنے کے بعد اب بھی اللہ تعالی کے دشمن انگریز کے جاہلانہ طاغوتی نظام کی حکمرانی چاہتے ہیں؟ اور اسی سورۃ مائدہ کے ساتویں رکوع میں مسلمانوں کو شدید انداز میں تنبیہہ کی گئی ہے:جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں، یعنی ملکی اور ریاستی امور میں اللہ کے عطا کردہ قوانین اور ضابطوں کو اختیار نہ کریں، وہی تو کافر ہیں۔یہ آیت بتا رہی ہے کہ آج اللہ تعالی کی بارگاہ میں ہمارا اصل مقام کیا ہے۔ انگریز کا بنایا ہوا طاغوتی نظام ہمیں زیادہ عزیز ہے اللہ تعالی کے عادلانہ نظام کے مقابلے میں! بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے دنیا کی اقوام میں آج ہمارا کیا مقام ہے؟مذہب اسلام کے حامل پاکستان کو آج کس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے؟ خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت پسندانہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔علامہ اقبال رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: صورت شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب اللہ تعالی نے تو ہمیں آزادی کی نعمت کے ساتھ دنیا کی تمام نعمتیں عطا فرمائی ہیں، یہاں تک کہ ہمیں ایٹمی قوت بھی عطا کر دی ہے۔ جواباً ہم نے جب قومی سطح پر اللہ تعالی کے عطا کردہ دین یعنی نظام مصطفی ﷺسے مسلسل انحراف کی روش اختیار کی اور اس طرح اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺ کے ساتھ بے وفائی کی انتہا کر دی تو آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ آدھا ملک ہم گنوا چکے ہیں۔ معاشی طور پر ہم آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے غلام ہیں۔ سیاسی سطح پر بھی حقیقت میں ہم غلام ہیں۔ ہمارے ملک میں اختیار و اقتدار کس کو ملتا ہے، کب تک ملتا ہے، یہ فیصلے آسمان واشنگٹن میں ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی نے ہمیں دشمنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ امن و امان کے حوالے سے ہمارا ملک برس ہا برس سے بارود کے ڈھیر پر ہے۔ پاکستان میں بسنے والی ایک مسلمان قوم بے شمار قومیتوں اور مسلکوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہے۔ سیاسی، لسانی، مذہبی اور علاقائی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت گری عرصہ دراز تک ہمارا معمول بنا رہا۔ اب وقتی طور پر قدرے کمی آئی ہے، لیکن کس قیمت پر؟ بے لگام مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث غربت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ عدالتی نظام فرسودہ، بے معنی اور غیرموثر ہے۔ عوام کی ایک عظیم اکثریت کو بنیادی ضروریات زندگی میسر نہیں۔ کرپشن کا سرطان اعلیٰ سے نچلی سطح تک اپنی جڑیں جما چکا ہے۔ پورا اجتماعی نظام گل سڑ چکا ہے۔ چنانچہ دنیا ہمیں ایک ناکام قوم کے طور پر پہچانتی ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے دنیا میں ہماری ذلت و خواری الگ ہے۔ بم دھماکا بالی کے جزیرے میں ہو، انگلینڈ میں ہو، امریکا میں ہو یا فرانس میں، انگلی پاکستان ہی کی طرف اٹھائی جاتی ہے۔ مختصراًیہ کہ آزادی جیسی نعمت ملنے کے بعد بھی جب ہم نے اللہ تعالی اور اس کے دین سے بے وفائی کی روش اختیار کی تو اللہ تعالی نے بھی ہمیں اپنی رحمت، نصرت اور حمایت سے محروم کر دیا۔ چنانچہ خسر الدنیا کا نقشہ تو ہم دیکھ رہے ہیں، شدید اندیشہ ہے اس جرم عظیم پر آخرت کا خسارہ بھی ہمارا مقدر بنے گا۔اعاذنااللہ من ذٰلک
جس نظام مصطفی ﷺ کے قیام کی ضرورت و اہمیت پر آج علماء کرام زوردے رہے ہیں، وہ دنیا میں اللہ تعالی کی عظیم نعمتوں میں سے تو ہے ہی، حقیقت یہ ہے کہ وہ دنیا میں رحمت للعالمینﷺ کی رحمۃٌللعالمینی کا سب سے بڑا مظہر بھی ہے۔ یہ نظام کامل امن و امان کو یقینی بناتا ہے۔ اس نظام کی برکات میں رزق کی فراوانی کا ذکر خصوصیت سے قرآن میں ملتا ہے۔ یہ نظام ہر سطح پر ظلم و استحصال کا مکمل خاتمہ کرتا ہے۔ یہ نظام تمام رعایا کی بنیادی ضروریات کا ضامن اور کفیل ہے۔ یہ نظام سیاسی، معاشی اور معاشرتی ہر سطح پر حقیقی عدل و انصاف فراہم کرتا ہے۔ اس نظام کی برکات کی ہر اعتبار سے زندہ اور عملی مثال دور خلافت راشدہ ہے۔ تاریخ کے صفحات اس بات پر گواہ ہیں کہ اُس زمانے میں معاشی خوشحالی کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ لوگ زکوٰۃ لیے پھرتے تھے لیکن لینے والا نہیں ملتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نظام کی برکات کو دیکھ کر ہی چند سال میں کروڑوں لوگ مسلمان ہو گئے۔ ان پر یہ بات منکشف ہو گئی تھی کہ اسلام ہی واقعتا سچا دین ہے اور آپﷺ واقعی محسن انسانیت اور رحمۃ للعالمینﷺ ہیں اور ہماری بد نصیبی دیکھیے کہ خود کو اس عظیم ترین رحمت اور نعمت سے محروم کر رکھا ہے اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر حاصل کلام یہ ہے کہ نظام مصطفیﷺ کا قیام ہی اہلِ پاکستان کے تمام مسائل کا حل ہے۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9