صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2527 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ مریم آیت ۱۰۔ قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةًؕ-قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,921

سوال (Question):

تفسیر سورہ مریم آیت ۱۰۔ قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةًؕ-قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةًؕ-قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا(10)

ترجمہ: کنزالعرفان
عرض کی: اے میرے رب! میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما دے۔ فرمایا: تیری نشانی یہ ہے کہ تم بالکل تندرست ہوتے ہوئے بھی تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرسکو گے۔
  تفسیر: ‎صراط الجنان

{قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً:عرض کی: اے میرے رب!میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرمادے۔} حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوجب یہ بتا دیا گیا کہ اسی عمر میں  بیٹا عطا ہوگا تو آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مزید عرض کی :اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، میری بیوی کے حاملہ ہونے کی کوئی نشانی بتادی جائے تاکہ میں  اس وقت سے تیری ا س عظیم نعمت کا شکرادا کرنے میں  مشغول ہو جاؤں ۔  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آپ کے لئے آپ کی زوجہ کے حاملہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ آپ صحیح سالم ہونے کے باوجود اور گونگا ہونے کے بغیرتین دن رات لوگوں  سے کلام نہ کرسکیں  گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ان ایام میں  آپ لوگوں  سے کلام کرنے پر قادر نہ ہوئے ، البتہ جب  اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہتے تو زبان کھل جاتی تھی۔( روح البیان، مریم، تحت الآیۃ۱۰، ۵ / ۳۱۷-۳۱۸، خازن، مریم، تحت الآیۃ۱۰، ۳ / ۲۳۰، ملتقطاً)

حقیقی مُؤثِّر  اللہ تعالیٰ ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ آپ کو گُنگ کی بیماری نہ ہوگی کیونکہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس بیماری سے محفوظ ہیں ۔ نیز یہ نشانی بھی بڑی دلچسپ تھی کہ ذِکْرُ اللہ کریں  تو بالکل آسانی سے ہوجائے اور لوگوں  سے کلام فرمانا چاہیں  تو نہ کرسکیں ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مُؤثِّرِ حقیقی  اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے اور بقیہ اَشیاء صرف اَسبابِ ظاہری ہیں  ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو آگ سے پیاس بجھے اور پانی سے آگ لگے ۔ آگ کا جلانا اور پانی کا پیاس بجھانا سب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے کرنے سے ہے۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh