صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2510 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورہ نحل آیت ۷۶۔ وَضَرَبَ اللہُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُہُمَآ اَبْکَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْء ٍ وَّہُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوْلٰیہُ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,642

سوال (Question):

تفسیر سورہ نحل آیت ۷۶۔ وَضَرَبَ اللہُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُہُمَآ اَبْکَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْء ٍ وَّہُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوْلٰیہُ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

راہ حق پراستقامت کے ساتھ قائم رہنے والے اوردین کے دشمن کی مثال

{وَضَرَبَ اللہُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُہُمَآ اَبْکَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْء ٍ وَّہُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوْلٰیہُ اَیْنَمَا یُوَجِّہْہُّ لَایَاْتِ بِخَیْرٍ ہَلْ یَسْتَوِیْ ہُوَ وَمَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَہُوَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ }(۷۶) ترجمہ کنزالایمان:اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی دو مرد ایک گونگا جو کچھ کام نہیں کرسکتا اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے جدھر بھیجے کچھ بھلائی نہ لائے کیا برابر ہوجائے گا یہ اور وہ جو انصاف کا حکم کرتا ہے اور وہ سیدھی راہ پر ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان: اور اللہ تعالی نے دو مردوں کی مثال بیان فرمائی ، ان میں سے ایک گونگا ہے جو کسی شے پر قدرت نہیں رکھتااور وہ اپنے آقا پر فقط بوجھ ہے ، اس کا آقااسے جدھر بھیجتاہے وہ کوئی بھلائی لے کر نہیں آتا تو کیا وہ اور دوسرا وہ جو عدل کا حکم کرتا ہے اور وہ سیدھے راستے پر بھی ہے کیا دونوں برابر ہیں؟

جوحق کو قبول نہ کرے وہ کون؟

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:الْأَبْکَمُ عَبْدٌ کَانَ لِعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، وَکَانَ یَعْرِضُ عَلَیْہِ الْإِسْلَامَ فَیَأْبَی، وَیَأْمُرُ بِالْعَدْلِ عُثْمَانُ وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّہُ مَثَلٌ لِأَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ وَمَوْلًی لَہُ کَافِرٌوَقِیلَ:الْأَبْکَمُ أَبُو جَہْلٍ، وَالَّذِی یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ الْعَنْسِیُّ، وَعَنْسٌ (بِالنُّونِ)حَیٌّ مِنْ مَذْحِجٍ، وَکَانَ حَلِیفًا لِبَنِی مَخْزُومٍ رَہْطِ أَبِی جَہْلٍ، وَکَانَ أَبُو جَہْلٍ یُعَذِّبُہُ عَلَی الْإِسْلَامِ وَیُعَذِّبُ أُمَّہُ سُمَیَّۃَ، وَکَانَتْ مَوْلَاۃً لِأَبِی جَہْلٍ، وَقَالَ لَہَا ذَاتَ یَوْمٍ:إِنَّمَا آمَنْتِ بِمُحَمَّدٍ لِأَنَّکِ تُحِبِّینَہُ لِجَمَالِہِ، ثُمَّ طَعَنَہَا بِالرُّمْحِ فِی قُبُلِہَا فَمَاتَتْ، فَہِیَ أَوَّلُ شَہِیدٍ مَاتَ فِی الْإِسْلَامِ، رَحِمَہَا اللَّہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ ابکم سے مراد حضرت سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کاغلام ہے، آپ رضی اللہ عنہ اس پرسلام پیش کیاکرتے تھے مگروہ قبول نہ کرتاتھااورحضرت سیدناعثمان رضی اللہ عنہ عدل کے ساتھ حکم دیتے تھے ۔ حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے یہ بھی روایت ہے کہ یہ حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی اورآپ کے آزادہ کردہ غلام جوکہ کافرتھاکی مثال ہے اوریہ بھی بیان کیاگیاہے کہ ابکم سے مراد ابوجہل ہے اوروہ جوعدل کے ساتھ حکم دیتاہے وہ حضرت سیدناعماربن یاسررضی اللہ عنہ ہیں ، ابوجہل ان کو اسلام قبول کرنے پر ظلم وستم کرتاتھااوران کو اذیتیں دیتاتھا، ان کی والدہ حضرت سیدتناسمیہ رضی اللہ عنہاکوبھی بہت زیادہ ستاتاتھا، آپ رضی اللہ عنہاابوجہل کی کنیزتھیں ، ایک دن اس نے آپ رضی اللہ عنہاکو کہاکہ یقیناتومحمدﷺپرایمان لے آئی ہے ، اس لئے کہ توانہیں ان سے حسن وجمال کی وجہ سے پسندکرتی ہے ، پھراس ازلی بدبخت نے حضرت سیدناسمیہ رضی اللہ عنہاکی شرم گاہ میں نیزہ ماراجس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہاشہیدہوگئیں ، اورآپ رضی اللہ عنہاہی اسلام کی پہلی شہیدہ ہیں ، جنہوں نے حالت اسلام میں جام شہات نوش کیا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۰:۱۴۹)

حضورتاجدارختم نبوتﷺکادشمن گونگاہے

وَقَالَ مُقَاتِلٌ:نَزَلَتْ فِی ہِشَامِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، کَانَ کَافِرًا قَلِیلَ الْخَیْرِ یُعَادِی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقِیلَ:إِنَّ الْأَبْکَمَ الْکَافِرُ،وَالَّذِی یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ الْمُؤْمِنُ جُمْلَۃً بِجُمْلَۃٍ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامقاتل رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ہشام بن عمروبن الحارث کے بارے میں نازل ہوئی وہ کافرتھا، اوراس میں خیراوربھلائی بہت کم تھی اوریہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکادشمن تھااوریہ بھی بیان کیاگیاہے کہ بے شک ابکم سے مراد کافرہے اوروہ جو عدل کے ساتھ حکم دیتاہے وہ مومن ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۱۰:۱۴۹)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کادین حق کی راہ میں تکالیف برداشت کرنا

حضرت سیدناابوبکررضی اللہ عنہ کااسلام کے لئے سختیاں برداشت کرنا عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ:أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ، أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا، قَالَتْ: لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَیَّ قَطُّ إِلَّا وَہُمَا یَدِینَانِ الدِّینَ، وَلَمْ یَمُرَّ عَلَیْنَا یَوْمٌ إِلَّا یَأْتِینَا فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَرَفَیِ النَّہَارِ، بُکْرَۃً وَعَشِیَّۃً، فَلَمَّا ابْتُلِیَ المُسْلِمُونَ، خَرَجَ أَبُو بَکْرٍ مُہَاجِرًا قِبَلَ الحَبَشَۃِ، حَتَّی إِذَا بَلَغَ بَرْکَ الغِمَادِ لَقِیَہُ ابْنُ الدَّغِنَۃِ، وَہُوَ سَیِّدُ القَارَۃِ، فَقَالَ:أَیْنَ تُرِیدُ یَا أَبَا بَکْرٍ؟ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ:أَخْرَجَنِی قَوْمِی، فَأَنَا أُرِیدُ أَنْ أَسِیحَ فِی الأَرْضِ، فَأَعْبُدَ رَبِّی،قَالَ ابْنُ الدَّغِنَۃِ:إِنَّ مِثْلَکَ لاَ یَخْرُجُ وَلاَ یُخْرَجُ، فَإِنَّکَ تَکْسِبُ المَعْدُومَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الکَلَّ، وَتَقْرِی الضَّیْفَ، وَتُعِینُ عَلَی نَوَائِبِ الحَقِّ، وَأَنَا لَکَ جَارٌ، فَارْجِعْ فَاعْبُدْ رَبَّکَ بِبِلاَدِکَ، فَارْتَحَلَ ابْنُ الدَّغِنَۃِ، فَرَجَعَ مَعَ أَبِی بَکْرٍ، فَطَافَ فِی أَشْرَافِ کُفَّارِ قُرَیْشٍ، فَقَالَ لَہُمْ: إِنَّ أَبَا بَکْرٍ لاَ یَخْرُجُ مِثْلُہُ وَلاَ یُخْرَجُ، أَتُخْرِجُونَ رَجُلًا یُکْسِبُ المَعْدُومَ، وَیَصِلُ الرَّحِمَ، وَیَحْمِلُ الکَلَّ، وَیَقْرِی الضَّیْفَ، وَیُعِینُ عَلَی نَوَائِبِ الحَقِّ، فَأَنْفَذَتْ قُرَیْشٌ جِوَارَ ابْنِ الدَّغِنَۃِ، وَآمَنُوا أَبَا بَکْرٍ، وَقَالُوا لِابْنِ الدَّغِنَۃِ: مُرْ أَبَا بَکْرٍ، فَلْیَعْبُدْ رَبَّہُ فِی دَارِہِ، فَلْیُصَلِّ، وَلْیَقْرَأْ مَا شَاء َ، وَلاَ یُؤْذِینَا بِذَلِکَ، وَلاَ یَسْتَعْلِنْ بِہِ، فَإِنَّا قَدْ خَشِینَا أَنْ یَفْتِنَ أَبْنَاء َنَا وَنِسَاء َنَا، قَالَ ذَلِکَ ابْنُ الدَّغِنَۃِ لِأَبِی بَکْرٍ، فَطَفِقَ أَبُو بَکْرٍ یَعْبُدُ رَبَّہُ فِی دَارِہِ، وَلاَ یَسْتَعْلِنُ بِالصَّلاَۃِ، وَلاَ القِرَاء َۃِ فِی غَیْرِ دَارِہِ، ثُمَّ بَدَا لِأَبِی بَکْرٍ، فَابْتَنَی مَسْجِدًا بِفِنَاء ِ دَارِہِ وَبَرَزَ، فَکَانَ یُصَلِّی فِیہِ، وَیَقْرَأُ القُرْآنَ، فَیَتَقَصَّفُ عَلَیْہِ نِسَاء ُ المُشْرِکِینَ وَأَبْنَاؤُہُمْ، یَعْجَبُونَ وَیَنْظُرُونَ إِلَیْہِ، وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ رَجُلًا بَکَّاء ً، لاَ یَمْلِکُ دَمْعَہُ حِینَ یَقْرَأُ القُرْآنَ، فَأَفْزَعَ ذَلِکَ أَشْرَافَ قُرَیْشٍ مِنَ المُشْرِکِینَ، فَأَرْسَلُوا إِلَی ابْنِ الدَّغِنَۃِ، فَقَدِمَ عَلَیْہِمْ فَقَالُوا لَہُ:إِنَّا کُنَّا أَجَرْنَا أَبَا بَکْرٍ عَلَی أَنْ یَعْبُدَ رَبَّہُ فِی دَارِہِ، وَإِنَّہُ جَاوَزَ ذَلِکَ، فَابْتَنَی مَسْجِدًا بِفِنَاء ِ دَارِہِ، وَأَعْلَنَ الصَّلاَۃَ وَالقِرَاء َۃَ، وَقَدْ خَشِینَا أَنْ یَفْتِنَ أَبْنَاء َنَا وَنِسَاء َنَا، فَأْتِہِ، فَإِنْ أَحَبَّ أَنْ یَقْتَصِرَ عَلَی أَنْ یَعْبُدَ رَبَّہُ فِی دَارِہِ فَعَلَ، وَإِنْ أَبَی إِلَّا أَنْ یُعْلِنَ ذَلِکَ، فَسَلْہُ أَنْ یَرُدَّ إِلَیْکَ ذِمَّتَکَ، فَإِنَّا کَرِہْنَا أَنْ نُخْفِرَکَ، وَلَسْنَا مُقِرِّینَ لِأَبِی بَکْرٍ الِاسْتِعْلاَنَ، قَالَتْ عَائِشَۃُ:فَأَتَی ابْنُ الدَّغِنَۃِ أَبَا بَکْرٍ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتَ الَّذِی عَقَدْتُ لَکَ عَلَیْہِ، فَإِمَّا أَنْ تَقْتَصِرَ عَلَی ذَلِکَ، وَإِمَّا أَنْ تَرُدَّ إِلَیَّ ذِمَّتِی، فَإِنِّی لاَ أُحِبُّ أَنْ تَسْمَعَ العَرَبُ، أَنِّی أُخْفِرْتُ فِی رَجُلٍ عَقَدْتُ لَہُ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ:إِنِّی أَرُدُّ إِلَیْکَ جِوَارَکَ، وَأَرْضَی بِجِوَارِ اللَّہِ وَرَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَئِذٍ بِمَکَّۃَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَدْ أُرِیتُ دَارَ ہِجْرَتِکُمْ، رَأَیْتُ سَبْخَۃً ذَاتَ نَخْلٍ بَیْنَ لاَبَتَیْنِ، وَہُمَا الحَرَّتَانِ، فَہَاجَرَ مَنْ ہَاجَرَ قِبَلَ المَدِینَۃِ حِینَ ذَکَرَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَرَجَعَ إِلَی المَدِینَۃِ بَعْضُ مَنْ کَانَ ہَاجَرَ إِلَی أَرْضِ الحَبَشَۃِ، وَتَجَہَّزَ أَبُو بَکْرٍ مُہَاجِرًا، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: عَلَی رِسْلِکَ، فَإِنِّی أَرْجُو أَنْ یُؤْذَنَ لِی، قَالَ أَبُو بَکْرٍ:ہَلْ تَرْجُو ذَلِکَ بِأَبِی أَنْتَ؟ قَالَ:نَعَمْ، فَحَبَسَ أَبُو بَکْرٍ نَفْسَہُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِیَصْحَبَہُ، وَعَلَفَ رَاحِلَتَیْنِ کَانَتَا عِنْدَہُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ۔ ترجمہ :حضورتاجدارختم نبوت ﷺ کی زوجہ محترمہ اُم المومنین حضرت سیدتناعائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالااپنے والدین کو اسی دین اسلام پر پایا اور ہم پر کوئی دن نہیں گزرتا تھا مگرحضورتاجدارختم نبوت ﷺصبح و شام دونوں وقت ہمارے ہاں تشریف لاتے تھے۔ جب مسلمانوں کا ابتلا بہت شدید ہو گیا تو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے نکلے یہاں تک کہ جب وہ’’برک غماد‘‘پرپہنچے تو انھیں ابن دغنہ ملا جو قارہ قبیلے کا سردار تھا۔ اس نے پوچھا:اے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ !کہاں کا ارادہ ہے؟ حضرت سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالی کی زمین میں گھوم پھر کر اس کی عبادت کرتا رہوں۔ ابن دغنہ نے کہا:تم جیسا کوئی شخص نہ نکلتا ہے اور نہ ہی نکالا جا تا ہے کیونکہ تم غریبوں کی اعانت کرتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو، لوگوں کا بار(بوجھ)اٹھاتے ہو، مہمانوں کو کھانا کھلاتے ہواور حق پر ثابت رہنے کی وجہ سے کسی پر آنے والے مسائل ومشکلات میں ان کی مدد کرتے ہو۔ آؤ میں تمھیں پناہ دیتا ہوں۔ گھرواپس چلے آؤاور اپنے شہر میں اپنے رب کی عبادت کرو، چنانچہ ابن دغنہ وہاں سے روانہ ہوا اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ واپس آگیا۔ اس کے بعد ابن دغنہ گھوم پھر کر کفار قریش کے سرداروں سے ملااور ان سے کہنے لگا کہ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا انسان نہ خود نکل سکتا ہے اور نہ ہی اسے نکالا جا سکتا ہے۔ کیا تم ایسے شخص کو یہاں سے نکلنے پر مجبور کرتے ہو جو بے بس لوگوں کے لیے کمائی کرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے، عاجز اور مجبور لوگوں کا بوجھ اٹھاتا ہے، مہمانوں کو کھانا کھلاتا ہے اور حق پر ثابت قدم رہنے والے پر آنے والی مشکلات میں اس کی مددکرتا ہے؟چنانچہ قریش نے ابن دغنہ کی پناہ کو مان لیا اورحضرت سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امان دے دی لیکن ابن دغنہ سے انھوں نے کہا کہ آپ انھیں خبردار کردیں کہ وہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کریں، نماز پڑھیں اور جو چاہیں قرآء ت کریں مگر ہمیں اذیت نہ دیں اور نہ ہی اس کا اعلان کریں کیونکہ ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہمارے بچوں اور عورتوں کو فتنہ میں مبتلا کردیں گے۔ ابن دغنہ نے یہ سب کچھ حضرت سیدناابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہہ دیا۔ اس کے بعد حضرت سیدناابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر میں عبادت کرنے لگے اورا علانیہ اپنے گھرکے سواکسی دوسری جگہ نماز اور قرآن پڑھنا چھوڑدیا۔ پھر انھیں خیال آیا تو انھوں نے اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنا لی اور باہر نکل کروہاں نماز پڑھنا شروع کردی۔ وہ جب وہاں قرآن کریم پڑھتے تو ان کے پاس مشرکین کے بچوں اور عورتوں کا ہجوم ہوجاتا۔ وہ تعجب کرتے اور انھیں غور سے دیکھتے۔ حضرت سیدناابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت رونے والے انسان تھے۔ وہ جب قرآن پڑھتے تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکتے تھے، اس چیز نے مشرکین کے سرداروں کو گھبراہٹ میں ڈال دیا تو انھوں نے ابن دغنہ کو پیغام بھیجا۔ وہ آیا تو انھوں نے اس سے کہا:ہم نے ابو بکر کو اس شرط پر امان دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اپنے رب تعالی کی عبادت کریں۔ لیکن انھوں نے اس سے آگے ایک اور قدم بڑھا لیا ہے۔ اور اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنا لی ہے، اس میںا علانیہ طور پر نماز پڑھنے اور قرآن کی تلاوت کرنے لگے ہیں۔ ہمیں خطرہ ہے کہ وہ اس طرح ہمارے بچوں اور عورتوں کو فتنے میں مبتلا کردیں گے۔ تم ان کے پاس جاؤ اگر وہ اپنے گھر میں اپنے رب تعالی کی عبادت کرنے پر قناعت کریں تو ٹھیک ہے اور اگر وہ اس پر راضی نہیں اورا علانیہ عبادت کرنا چاہتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ وہ تمھیں تمھارا عہد(اور ذمہ) واپس کردیں کیونکہ ہمیں تمھاری امان توڑنا اچھا معلوم نہیں ہوتا اور نہ ہمیں ابو بکر کا اس طرح علانیہ عبادت کرنا ہی گواراہے۔ حضرت سیدتناعائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ابن دغنہ حضرت سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ جانتے ہیں کہ جس شرط پر میں نے آپ کا ذمہ لیا تھا یا تو آپ اسی شرط پر قائم رہیں بصورت دیگر میرا ذمہ میرے حوالے کردیں، کیونکہ یہ بات مجھے قطعاًگوارانہیں کہ اہل عرب کے ہاں اس بات کا چرچا ہو کہ میں نے ایک شخص کا ذمہ لیا تھا جس کو توڑدیا گیا۔ حضرت سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:میں تیرا ذمہ تیرے حوالے کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی پناہ پر راضی ہوں۔حضورتاجدارختم نبوت ﷺاس وقت مکہ ہی میں تھے، آپ ﷺنے فرمایا:مجھے تمھاری ہجرت کا مقام دکھایا گیا ہے۔ میں نے دو پتھریلے میدانوں کے درمیان کھجور کے درختوں پر مشتمل رنگ والی زمین دیکھی ہے۔ جب مسلمانوں نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی یہ بات سنی تو جن لوگوں (مسلمانوں )نے ہجرت کرنی چاہی وہ مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کر گئے اور بعض لوگ (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین )جو ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تھے وہ بھی مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔ حضرت سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ہجرت کی تیاری شروع کردی تو حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے انھیں فرمایا:ابھی ذراٹھہرو۔ (جلدی نہ کرو)کیونکہ امید ہے کہ مجھے بھی ہجرت کی اجازت مل جائے گی۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا:میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان ہوں!کیا آپﷺ بھی ہجرت کے امیدوار ہیں؟آپ ﷺنے فرمایا:ہاں۔ تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت کرنے کے لئے رک گئے۔ چنانچہ انھوں نے دو اونٹنیاں اس سفر کے لیے خاص طور پر رکھیں اور چار مہینے تک انھیں کیکر کے پتے بطور چارہ کھلاتے رہے۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۳:۹۸)

حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کااسلام قبول کرنے کے بعد سختیاں برداشت کرنا

قَالَ ابْنُ إسْحَاقَ:وَحَدّثَنِی نَافِعٌ مَوْلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمّا أَسْلَمَ أَبِی عُمَرُ قَالَ أَیّ قُرَیْشٍ أَنْقَلُ لِلْحَدِیثِ؟ فَقِیلَ لَہُ جَمِیلُ بْنُ مَعْمَرٍ الْجُمَحِیّ قَالَ فَغَدَا عَلَیْہِ قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ:فَعَدَوْت أَتّبِعُ أَثَرَہُ وَأَنْظُرُ مَا یَفْعَلُ وَأَنَا غُلَامٌ أَعْقِلُ کُلّ مَا رَأَیْت، حَتّی جَاء َہُ فَقَالَ لَہُ أَعَلِمْت یَا جَمِیلُ أَنّی قَدْ أَسْلَمْت: وَدَخَلْت فِی دِینِ مُحَمّدٍ؟ قَالَ فَوَاَللہِ مَا رَاجَعَہُ حَتّی قَامَ یَجُرّ رِدَاء َہُ وَاتّبَعَہُ عُمَرُ وَاتّبَعْت أَبِی، حَتّی إذَا قَامَ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ صَرَخَ بِأَعْلَی صَوْتِہِ یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ، وَہُمْ فِی أَنْدِیَتِہِمْ حَوْلَ بَابِ الْکَعْبَۃِ، أَلَا إنّ عُمَرَ بْنَ الْخَطّابِ قَدْ صَبَأَ قَالَ یَقُولُ عُمَرُ مِنْ خَلْفِہِ کَذَبَ وَلَکِنّی قَدْ أَسْلَمْت، وَشَہِدْت أَنْ لَا إلَہَ إلّا اللہُ وَأَنّ مُحَمّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ وَثَارُوا إلَیْہِ فَمَا بَرِحَ یُقَاتِلُہُمْ وَیُقَاتِلُونَہُ حَتّی قَامَتْ الشّمْسُ عَلَی رُء ُوسِہِمْ قَالَ وَطَلَحَ فَقَعَدَ وَقَامُوا عَلَی رَأْسِہِ وَہُوَ یَقُولُ افْعَلُوا مَا بَدَا لَکُمْ فَأَحْلِفُ بِاَللہِ أَنْ لَوْ قَدْ کُنّا ثَلَثَمِائَۃِ رَجُلٍ لَتَرَکْنَاہَا لَکُمْ أَوْ لَتَرَکْتُمُوہَا لَنَا، قَالَ فَبَیْنَمَا ہُمْ عَلَی ذَلِکَ إذْ أَقْبَلَ شَیْخٌ مِنْ قُرَیْشٍ، عَلَیْہِ حُلّۃٌ حَبِرَۃٌ وَقَمِیصٌ مُوَشّی، حَتّی وَقَفَ عَلَیْہِمْ فَقَالَ مَا شَأْنُکُمْ؟ قَالُوا:صَبَأَ عُمَرُ فَقَالَ فَمُہُ رَجُلٌ اخْتَارَ لِنَفْسِہِ أَمْرًا، فَمَاذَا تُرِیدُونَ؟ أَتَرَوْنَ بَنِی عَدِیّ بْنِ کَعْبٍ یُسَلّمُونَ لَکُمْ صَاحِبَہُمْ ہَکَذَا؟ خَلّوا عَنْ الرّجُلِ. قَالَ فَوَاَللہِ لَکَأَنّمَا کَانُوا ثَوْبًا کَشَطّ عَنْہُ قَالَ فَقُلْت لِأَبِی بَعْدَ أَنْ ہَاجِرَ إلَی الْمَدِینَۃِ:یَا أَبَتْ مَنْ الرّجُلُ الّذِی زَجَرَ الْقَوْمَ عَنْک بِمَکّۃَ یَوْمَ أَسْلَمْت، وَہُمْ یُقَاتِلُونَک؟ فَقَالَ ذَلِکَ أَیْ بُنَیّ الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ السّہْمِیّ. قَالَ ابْنُ ہِشَامٍ:حَدّثَنِی بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنّہُ قَالَ یَا أَبَتْ مَنْ الرّجُلُ الّذِی زَجَرَ الْقَوْمَ عَنْک یَوْمَ أَسْلَمْت، وَہُمْ یُقَاتِلُونَک، جَزَاہُ اللہُ خَیْرًا؟ قَالَ یَا بُنَیّ ذَاکَ الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ لَا جَزَاہُ اللہُ خَیْرًا. ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ جب حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ اسلام لائے توانہوںنے پوچھاکہ قریش میں سب سے زیادہ باتوں کونقل کرنے والاکون ہے ؟ توانہیں بتایاگیاکہ جمیل بن معمرجمحی ہے ، چنانچہ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے ، حضرت سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بھی حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کے پیچھے پیچھے گیا، میں یہ دیکھناچاہتاتھاکہ وہ کیاکرتے ہیں ، میں بچہ ضرورتھالیکن جس چیزکودیکھ لیتاتھااس کو سمجھ جاتاتھا، توحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے جمیل کے پاس جاکراسے کہاکہ اے جمیل !کیاتم کو معلوم ہے کہ میں نے کلمہ پڑھ لیاہے ؟اورمیں حضورتاجدارختم نبوتﷺپرایمان لے آیاہوں، حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ یہ سن کرجمیل نے حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کو کوئی جواب نہیں دیا،بلکہ کھڑے ہوکراپنی چادرگھسیٹتے ہوئے چل دیا، حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ بھی اس کے پیچھے چل دئیے اورمیں حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کے پیچھے چل دیایہاں تک کہ جمیل نے مسجد حرام شریف کے دروازے پرکھڑے ہوکرزورسے پکارکرکہا: اے جماعت قریش!غورسے سنو!خطاب کابیٹاعمربے دین ہوگیاہے ، قریش کعبہ مشرفہ کے اردگرداپنی اپنی مجالس میں بیٹھے ہوئے تھے ، حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے جمیل کے پیچھے سے کہا: یہ غلط کہہ رہاہے بلکہ میں تومسلمان ہوگیاہوں اورکلمہ شہادت پڑھا، یہ سنتے ہی وہ لوگ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کی طرف لپٹے اوروہ سب حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کے ساتھ لڑتے رہے یہاں تک کہ سورج سروں پرآگیااورحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ تھک کربیٹھ گئے اورسب مشرک حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کے سرپرکھڑے تھے اورحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ فرمارہے تھے کہ جوتمھارادل چاہتاہے کرلومیں اللہ تعالی کی قسم کھاکرکہتاہوں کہ ہم مسلمان تین سو ہوگئے تویاتوتم مکہ مکرمہ ہمارے لئے چھوڑ کریہاں سے نکل جائوگے یاپھرہم یہاں سے چلے جائیں گے ۔ حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمافرماتے ہیں یوں ابھی ہوہی رہاتھاکہ قریش کاایک بوڑھاشخص سامنے سے آیاجویمنی چادراوردھاری دارکرتاپہنے ہوئے تھا، ان کے پاس آکرکھڑاہوگیااوراس نے پوچھاکہ تم لوگوں کوکیاہوا؟ لوگوں نے کہاکہ عمربے دین ہوگیاہے ، اس بوڑھے نے کہا کہ اسے چھوڑدو، ایک آدمی نے ایک بات اپنے لئے پسندکی ہے تم اس سے کیاچاہتے ہو؟ تم یہ سمجھتے ہوکہ قبیلہ بنوعدی اپنے آدمی کو ایسے ہی تمھارے حوالے کردے گا، اس آدمی کو چھوڑدواورچلے جائو، حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کی قسم !اس بوڑھے کے کہتے ہی وہ ایسے حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ سے دورہوگئے جیسے ان کے اوپرسے کوئی چادراتارلی گئی ہو، جب میرے والد ماجد ہجرت کرکے مدینہ منورہ چلے گئے تومیں نے ان سے پوچھاکہ اے اباجان!جس دن آپ رضی اللہ عنہ اسلام لائے تھے تومکہ کے کافرآپ سے لڑرہے تھے توایک آدمی نے آکران لوگوں کو ڈانٹاتھا، جس پروہ لوگ آپ کو چھوڑکرچلے گئے تھے، وہ آدمی کون تھا؟ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بیٹے !وہ عاص بن وائل سہمی تھا۔ امام ابن ہشام رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں مجھے بعض اہل علم نے یہ بھی بیان کیاہے کہ حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمانے یہ بھی سوال کیاتھاکہ اے اباجان!جس دن آپ اسلام لائے تھے توسارے اہل مکہ آپ کے ساتھ لڑرہے تھے توجس نے شخص نے آپ سے ان کفارکودورکیاتھااس کے لئے یہ دعاکرناجائز ہے کہ اللہ تعالی اسے جزائے خیردے ؟ توحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ اے میرے بیٹے ، نہ کبھی بھی نہ کیونکہ وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکاگستاخ عاص بن وائل تھا، اللہ تعالی اسے جزائے خیرکبھی بھی نہ دے۔ (الروض الأنف:أبو القاسم عبد الرحمن بن عبد اللہ بن أحمد السہیلی (۳:۱۷۳) ا س سے معلوم ہواکہ گستاخ سے اچھاکام بھی ہوجائے توبھی اس کے لئے نیک جذبات رکھناحرام ہے ۔

مشرکین کاحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کے گھرپرحملہ کرنے کے لئے آنا

حَدَّثَنِی ابْنُ وَہْبٍ،قَالَ:حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ:فَأَخْبَرَنِی جَدِّی زَیْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: بَیْنَمَا ہُوَ فِی الدَّارِ خَائِفًا، إِذْ جَاء َہُ العَاصِ بْنُ وَائِلٍ السَّہْمِیُّ أَبُو عَمْرٍو،عَلَیْہِ حُلَّۃُ حِبَرَۃٍ وَقَمِیصٌ مَکْفُوفٌ بِحَرِیرٍ، وَہُوَ مِنْ بَنِی سَہْمٍ، وَہُمْ حُلَفَاؤُنَا فِی الجَاہِلِیَّۃِ، فَقَالَ لَہُ:مَا بَالُکَ؟ قَالَ:زَعَمَ قَوْمُکَ أَنَّہُمْ سَیَقْتُلُونِی إِنْ أَسْلَمْتُ، قَالَ:لاَ سَبِیلَ إِلَیْکَ، بَعْدَ أَنْ قَالَہَا أَمِنْتُ، فَخَرَجَ العَاصِ فَلَقِیَ النَّاسَ قَدْ سَالَ بِہِمُ الوَادِی، فَقَالَ:أَیْنَ تُرِیدُونَ؟ فَقَالُوا: نُرِیدُ ہَذَا ابْنَ الخَطَّابِ الَّذِی صَبَا،قَالَ:لاَ سَبِیلَ إِلَیْہِ فَکَرَّ النَّاسُ ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (اسلام لانے کے بعد قریش سے)ڈرے ہوئے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابوعمرو عاص بن وائل سہمی اندر آیا، ایک دھاری دار چادر اور ریشمی کرتہ پہنے ہوئے تھا۔ وہ قبیلہ بنو سہم سے تھا جو زمانہ جاہلیت میں ہمارے حلیف تھے۔ عاص نے حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ سے کہا کیا بات ہے؟ حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہاری قوم بنو سہم والے کہتے ہیں کہ اگر میں مسلمان ہوا تو وہ مجھ کو مار ڈالیں گے۔ عاص نے کہا تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا جب عاص نے یہ کلمہ کہہ دیا تو حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں بھی اپنے آپ کو امان میں سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد عاص باہر نکلا تو دیکھا کہ میدان لوگوں سے بھر گیا ہے۔ عاص نے پوچھا کدھر کا رخ ہے؟ لوگوں نے کہا ہم ابن خطاب کی خبر لینے جاتے ہیں جو بے دین ہو گیا ہے۔ عاص نے کہا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، یہ سنتے ہی لوگ لوٹ گئے۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۵:۴۸)

حضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ کاراہ حق میں سختیاں جھیلنا

قَالَ:أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ قَالَ:حَدَّثَنِی مُوسَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ حَارِثِ التَّیْمِیُّ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ:لَمَّا أَسْلَمَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَخَذَہُ عَمُّہُ الْحَکَمُ بْنُ أَبِی الْعَاصِ بْنِ أُمَیَّۃَ فَأَوْثَقَہُ رِبَاطًا وَقَالَ:أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّۃِ آبَائِکَ إِلَی دِینٍ مُحْدَثٍ؟ وَاللَّہِ لَا أَحُلُّکَ أَبَدًا حَتَّی تَدَعَ مَا أَنْتَ عَلَیْہِ مِنْ ہَذَا الدِّینِ، فَقَالَ عُثْمَانُ:وَاللَّہِ لَا أَدَعُہُ أَبَدًا وَلَا أُفَارِقُہُ فَلَمَّا رَأَی الْحَکَمُ صَلَابَتَہُ فِی دِینِہِ تَرَکَہُ قَالُوا:فَکَانَ عُثْمَانُ مِمَّنْ ہَاجَرَ مِنْ مَکَّۃَ إِلَی أَرْضِ الْحَبَشَۃِ الْہِجْرَۃَ الْأُولَی وَالْہِجْرَۃَ الثَّانِیَۃَ وَمَعَہُ فِیہِمَا جَمِیعًا امْرَأَتُہُ رُقْیَۃُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ صلّی اللہ علیہ وسلم وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلّی اللہ علیہ وسلم: إِنَّہُمَا لَأَوَّلُ مَنْ ہَاجَرَ إِلَی اللَّہِ بَعْدَ لُوطٍ۔ ترجمہ:حضرت سیدنامحمدبن ابراہیم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب حضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیاتوان کے چچاحکم بن ابی العاص بن امیہ نے پکڑکررسی سے مضبوطی کے ساتھ باندھ دیااورکہاکہ تم اپنے آبائواجدادکے دین کوچھوڑکرایک نئے دین کواختیارکرتے ہو؟ اللہ تعالی کی قسم !جب تک تم اس دین کو نہیں چھوڑوگے میں اس وقت تک تم کو بالکل نہیں کھولوں گا، حضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اللہ تعالی کی قسم !میں اس دین کو کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا، جب حکم نے دیکھاکہ حضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ اپنے دین پربڑے پختہ ہیں توان کو چھوڑدیا۔

حضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ سے حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کی

اوردوسری ہجرت میں ان کے ساتھ ان کی زوجہ محترمہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی شہزادی حضرت سیدتنارقیہ رضی اللہ عنہابھی ساتھ تھیں اورحضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: حضرت سیدنالوط علیہ السلام کے بعد یہ پہلاجوڑاہے جنہوںنے اللہ تعالی کے دین کی خاطرہجرت کی ہے ۔ (الطبقات الکبری:أبو عبد اللہ محمد بن سعد البغدادی المعروف بابن سعد (۳:۵۵) حضرت سیدناطلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کادین حق کی خاطرسختیاں برداشت کرنا اخبرنا أَبُو أُسَامَۃَ قَالَ حَدَّثَنِی طَلْحَۃُ بْنُ یَحْیَی قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو بُرْدَۃَ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ بَیْنَا أَنَا أَطُوفُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ إِذَا أُنَاسٌ کَثِیرٌ یَتْبَعُونَ إِنْسَانًا فَتَیً شَابًّا مُوثِقًا یَدُہُ إِلَی عُنُقِہِ قُلْتُ مَا شَأْنُہُ؟ قَالُواہَذَا طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ صَبَأَ، وَامْرَأَۃٌ وَرَاء َہُ تَذُمُّہُ وَتَسُبُّہُ قَالُوا ہَذِہِ أُمُّہُ الصَّعْبَۃُ بِنْتُ الْحَضْرَمِیِّ. ترجمہ :حضرت سیدنامسعود بن حراش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صفاومروہ کے درمیان سعی کررہے تھے کہ ہم نے دیکھاکہ ایک نوجوان آدمی کے ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں اورلوگوں کاایک بڑامجمع اس کے پیچھے چل رہاہے ، میں نے پوچھاکہ اس نوجوان کوکیاہواہے؟ لوگوں نے بتایاکہ یہ طلحہ بن عبیداللہ ہے جوبے دین ہوگیاہے اورحضرت سیدناطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے پیچھے ایک عورت تھی جوبڑے غصے سے بول رہی تھی اوران کو برابھلاکہہ رہی تھی ، میں نے پوچھاکہ یہ عورت کون ہے ؟ انہوںنے کہاکہ یہ صعبہ بنت الحضرمی ہے اوران کی ماں ہے۔ (التاریخ الکبیر:محمد بن إسماعیل بن إبراہیم بن المغیرۃ البخاری، أبو عبد اللہ (۷:۴۲۱)

حضرت سیدناابوبکروطلحہ رضی اللہ عنہماکورسیوں کے ساتھ باندھاجاتاتھا

عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ، حَدَّثَہُ مَخْرَمَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْوَالِبِیُّ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَۃَ قَالَ:قَالَ لِی طَلْحَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَضَرْتُ سُوقَ بُصْرَی، فَإِذَا رَاہِبٌ فِی صَوْمَعَتِہِ یَقُولُ: سَلُوا أَہْلَ ہَذَا الْمَوْسِمِ، أَفِیہِمْ أَحَدٌ مِنْ أَہْلِ الْحَرَمِ؟ قَالَ طَلْحَۃُ: قُلْتُ:نَعَمْ، أَنَا فَقَالَ:ہَلْ ظَہَرَ أَحْمَدُ بَعْدُ؟ قَالَ:قُلْتُ:وَمَنْ أَحْمَدُ؟ قَالَ:ابْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ہَذَا شَہْرُہُ الَّذِی یَخْرُجُ فِیہِ، وَہُوَ آخِرُ الْأَنْبِیَاء ِ مَخْرَجُہُ مِنَ الْحَرَمِ، وَمُہَاجِرُہُ إِلَی نَخْلٍ،وَحَرَّۃَ، وَسَبَاحَ فَإِیَّاکَ أَنْ تُسْبَقَ إِلَیْہِ، قَالَ طَلْحَۃُ:فَوَقَعَ فِی قَلْبِی مَا قَالَ، فَخَرَجْتُ سَرِیعًا حَتَّی قَدِمْتُ مَکَّۃَ، فَقُلْتُ:ہَلْ کَانَ مِنْ حَدَثٍ؟ قَالُوا:نَعَمْ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْأَمِینُ تَنَبَّأَ، وَقَدْ تَبِعَہُ ابْنُ أَبِی قُحَافَۃَ، قَالَ:فَخَرَجْتُ حَتَّی دَخَلْتُ عَلَی أَبِی بَکْرٍ فَقُلْتُ:اتَّبَعْتَ ہَذَا الرَّجُلَ؟ قَالَ:نَعَمْ، فَانْطَلِقْ إِلَیْہِ، فَادْخُلْ عَلَیْہِ فَاتَّبِعْہُ، فَإِنَّہُ یَدْعُو إِلَی الْحَقِّ، فَأَخْبَرَہُ طَلْحَۃُ بِمَا قَالَ الرَّاہِبُ:فَخَرَجَ أَبُو بَکْرٍ بِطَلْحَۃَ، فَدَخَلَ بِہِ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ طَلْحَۃُ،وَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَ الرَّاہِبُ، فَسَّرَہُ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَسْلَمَ أَبُو بَکْرٍ وَطَلْحَۃُ أَخَذَہُمَا نَوْفَلُ بْنُ خُوَیْلِدِ بْنِ الْعَدَوِیَّۃِ فَشَدَّہُمَا فِی حَبَلٍ وَاحِدٍ وَلَمْ یَمْنَعْہُمَا بَنُو تَیْمٍ، وَکَانَ نَوْفَلُ بْنُ خُوَیْلِدٍ یُدْعَی أَشَدَّ قُرَیْشٍ، فَلِذَلِکَ سُمَیَّ أَبُو بَکْرٍ وَطَلْحَۃُ: الْقَرِینَیْنِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابراہیم بن محمدبن طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ حضرت سیدناطلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیاکہ میںبصرہ کے بازاراورمیلے میں موجود تھا، وہاںایک پادری اپنے گرجاگھرکے بالاخانے میں موجودرہتاتھا، اس نے کہاکہ اس بازاراورمیلہ والوں میں سے پوچھوکہ کیاان میں کوئی حرم محترم کارہنے والاہے ؟ میںنے کہاکہ ہاں میں ہوں، اس نے پوچھاکہ کیااحمدﷺکاظہورہوگیاہے ؟ میںنے کہا: احمدﷺکون ہیں؟ اس نے کہاکہ عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہماکے بیٹے ہیں ۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ان کاظہورہوگااوروہ تاجدارختم نبوت ﷺہیں ۔ حرم مکہ میں ان کاظہورہوگااوروہ ہجرت کرکے ایسی جگہ جائیں گے جہاں کھجوروں کے باغات ہوں گے ، پتھریلی اورشوریلی زمین ہوگی ، کہیں ایسانہ ہوکہ اورلوگ ان کی اتباع کرلیں اورتم ان سے پیچھے رہ جائو، حضرت سیدناطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ اس کی بات میرے دل کولگی اورمیں وہاں سے تیزی کے ساتھ چلااورمکہ مکرمہ پہنچ گیااورمیں نے پوچھاکہ کوئی نئی بات پیش آئی ہے ؟ توانہوںنے کہاکہ ہاں حضرت سیدنامحمدﷺجوامین کے لقب سے مشہورہیں انہوںنے نبوت کااعلان کردیاہے اورابن ابی قحافہ ابوبکررضی اللہ عنہ نے ان کی اتباع کرلی ہے ، چنانچہ میں حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے کہاکہ کیاآپ نے حضورتاجدارختم نبوتﷺکی اتباع کرلی ہے ؟ توانہوں نے جواب دیاکہ ہاں ، تم بھی ان کی خدمت اقدس میں جائواوران کی اتباع کرلوکیونکہ وہ حق کی دعوت دیتے ہیں ، حضرت سیدناطلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کواس پادری کی بات بیان کی ، حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ حضرت سیدناطلحہ رضی اللہ عنہ کوحضورتاجدارختم نبوتﷺکی خدمت اقدس میں لے گئے ، جہاں حضرت سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کلمہ طیبہ پڑھا، انہوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکوبھی اس پادری کی بات بتائی جس سے حضورتاجدارختم نبوتﷺکوبہت خوشی ہوئی، جب حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناطلحہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوگئے تو ان دونوں کو نوفل بن خویلدبن العدویہ نے پکڑکرایک رسی سے باندھ دیااوربنو تیم نے ان دونوں کونہ بچایا، نوفل بن خویلدکومشیرقریش کہاجاتاتھا۔ ان کے ایک رسی میں باندھے جانے کی وجہ سے حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناطلحہ رضی اللہ عنہ کوقرنین یعنی دوساتھی کہاجاتاہے ۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے یہ دعامانگی : اے اللہ !ہمیں ابن العدویہ کے شرسے محفوظ فرما۔ (المستدرک علی الصحیحین:أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم(۳:۴۱۶)

حضرت سیدنازبیربن عوام رضی اللہ عنہ کاسختیاں برداشت کرنا

عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ:أَسْلَمَ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَہُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِینَ، وَہَاجَرَ وَہُوَ ابْنُ ثَمَانَ عَشْرَۃَ سَنَۃً، وَکَانَ عَمُّ الزُّبَیْرِ یُعَلِّقُ الزُّبَیْرَ فِی حَصِیرٍ، وَیُدَخِّنُ عَلَیْہِ بِالنَّارِ،وَیَقُولُ:ارْجِعْ إِلَی الْکُفْرِ، فَیَقُولُ الزُّبَیْرُ: لَا أَکْفُرُ أَبَدًا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعروہ بن الزبیررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سیدنازبیربن عوام رضی اللہ عنہ آٹھ سال کی عمرمیں اسلام لائے اوراٹھارہ سال کی عمرمیں انہوں نے ہجرت کی، ان کے چچاان کو چٹائی میں لپیٹ دیتے اورآگ کی دھونی دیتے اورکہتے کہ کفرکی طرف لوٹ آئو، حضرت سیدنازبیررضی اللہ عنہ فرماتے کہ میں کبھی بھی کافرنہیں بنوں گا۔ (المستدرک علی الصحیحین:أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم(۳:۴۰۶)

حضورتاجدارختم نبوتﷺکی معیت میں تلواروں کے زخم کھائے

ثَنَا حَفْصُ بْنُ خَالِدٍ،حَدَّثَنِی شَیْخٌ، قَدِمَ عَلَیْنَا مِنَ الْمَوْصِلِ، قَالَ:صَحِبْتُ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ، فَأَصَابَتْہُ جَنَابَۃٌ فِی أَرْضٍ قَفْرٍ، فَقَالَ:اسْتُرْنِی فَسَتَرْتُہُ، فَحَانَتْ مِنِّی الْتِفَاتَۃٌ إِلَیْہِ، فَرَأَیْتُہُ مُجَدَّعًا بِالسُّیُوفِ، فَقُلْتُ:وَاللَّہِ لَقَدْ رَأَیْتُ بِکَ آثَارًا مَا رَأَیْتُہَا بِأَحَدٍ قَطُّ،فَقَالَ:وَقَدْ رَأَیْتَ ذَاکَ؟ فَقَالَ:وَاللَّہِ مَا مِنْہَا جِرَاحَۃٌ إِلَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناحفص بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ موصل سے ایک بڑی عمرکے بزرگ ہمارے پاس تشریف لائے اورانہوںنے ہمیں بتایاکہ میں ایک سفرمیں حضرت سیدنازبیربن عوام رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ایک چٹیل میدان میں انہیں نہانے کی ضرورت پیش آئی ، جہاں نہ پانی تھااورنہ گھاس اورنہ ہی کوئی انسان ، انہوں نے فرمایاکہ میرے نہانے کے لئے ذرہ پردے کاانتظام کرو، میں نے ان کے لئے پردے کاانتظام کیا، نہانے کے دوران اچانک میری نظران کے جسم پرپڑ گئی تومیں نے دیکھاکہ ان کے سارے جسم پرتلوار کے نشانات ہیں ، میں نے ان سے کہاکہ میں نے آپ کے جسم پراتنے زخموں کے نشانات دیکھے ہیں کہ اتنے میں نے کسی کے جسم پرنہیں دیکھے ، حضرت سیدنازبیررضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیاتم نے دیکھ لیاہے ؟ میں نے کہاکہ جی ہاں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالی کی قسم !ان میں سے ہرہرزخم حضورتاجدارختم نبوتﷺکی معیت میں لگاہے اوراللہ تعالی کے ہی راستے میں لگاہے ۔ (المستدرک علی الصحیحین:أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم(۳:۴۰۶)

حضرت سیدنابلال رضی اللہ عنہ پرکفارکاظلم وستم

عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:کَانَ أَوَّلَ مَنْ أَظْہَرَ إِسْلَامَہُ سَبْعَۃٌ:رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَکْرٍ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّہُ سُمَیَّۃُ، وَصُہَیْبٌ، وَبِلَالٌ، وَالْمِقْدَادُ، فَأَمَّا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَہُ اللَّہُ بِعَمِّہِ أَبِی طَالِبٍ،وَأَمَّا أَبُو بَکْرٍ فَمَنَعَہُ اللَّہُ بِقَوْمِہِ، وَأَمَّا سَائِرُہُمْ فَأَخَذَہُمُ الْمُشْرِکُونَ، وَأَلْبَسُوہُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِیدِ، وَصَہَرُوہُمْ فِی الشَّمْسِ، فَمَا مِنْہُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاہُمْ عَلَی مَا أَرَادُوا، إِلَّا بِلَالًا، فَإِنَّہُ ہَانَتْ عَلَیْہِ نَفْسُہُ فِی اللَّہِ، وَہَانَ عَلَی قَوْمِہِ، فَأَخَذُوہُ فَأَعْطَوْہُ الْوِلْدَانَ، فَجَعَلُوا یَطُوفُونَ بِہِ فِی شِعَابِ مَکَّۃَ، وَہُوَ یَقُولُ: أَحَدٌ أَحَدٌ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:سب سے پہلے اسلام کا اظہار کرنے والے سات حضرات ہیں۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺ،حضرت سیدناابو بکر،حضرت سیدنا عمار، ان کی والدہ حضرت سیدتناسمیہ، حضرت سیدناصہیب ، حضرت سیدنابلال اور حضرت سیدنامقدادرضی اللہ عنہم ۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺ کو تو اللہ تعالی نے آپ ﷺکے چچا ابو طالب کے ذریعے سے (مشرکین کی اذیتوں سے )محفوظ رکھا، حضرت سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھی اللہ تعالی نے ان کی قوم کے ذریعے سے محفوظ رکھا، باقی جو حضرات تھے انہیں مشرکوں نے پکڑ لیا، انہیں لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں ڈال دیا، چنانچہ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جس نے(جان بچانے کے لئے زبان سے)مشرکین کے مطلب کی بات نہ کہہ دی ہو، سوائے حضرت سیدنابلا ل رضی اللہ عنہ کے۔ انہوں نے اللہ تعالی کی راہ میں اپنی جان کی پروا نہ کی اور ان کی قوم کی نظر میں بھی ان کی کوئی قدر نہ تھی(اس لئے کوئی ان کی حمایت میں نہیں بولتا تھا)کافروں نے انہیں پکڑ کر بچوں کے حوالے کر دیا۔ وہ انہیں مکہ کی گھاٹیوں میں لئے(گھسیٹتے)پھرتے تھے اور حضرت سیدنابلال رضی اللہ عنہ کہتے تھے:اَحد اَحد (اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے)۔ (حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفیاء :أبو نعیم أحمد بن عبد اللہ بن أحمد بن إسحاق بن موسی الأصبہانی (۱:۱۴۰)

ابوجہل ملعون کاگالیاں بکنا

ان مُجَاہِدٍ، قَالَ:أَوَّلُ مَنْ أَظْہَرَ الْإِسْلَامَ سَبْعَۃٌ:رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَکْرٍ، وَخَبَّابٌ، وَصُہَیْبٌ، وَبِلَالٌ، وَعَمَّارٌ، وَسُمَیَّۃُ أُمُّ عَمَّارٍفَأَمَّا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَہُ أَبُو طَالِبٍ، وَأَمَّا أَبُو بَکْرٍ فَمَنَعَہُ قَوْمُہُ، وَأَمَّا الْآخَرُونَ فَأَلْبَسُوہُمْ أَدْرُعَ الْحَدِیدِ ثُمَّ صَہَرُوہُمْ فِی الشَّمْسِ، فَبَلَغَ مِنْہُمُ الْجَہْدُ مَا شَاء َ اللہُ أَنْ یَبْلُغَ مِنْ حَرِّ الْحَدِیدِ وَالشَّمْسِ، فَلَمَّا کَانَ مِنَ الْعَشِیِّ أَتَاہُمْ أَبُو جَہْلٍ لَعَنَہُ اللہُ – وَمَعَہُ حَرْبَۃٌ فَجَعَلَ یَشْتُمُہُمْ وَیُوَبِّخُہُمْ ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامجاہدرضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:سب سے پہلے اسلام کا اظہار کرنے والے سات حضرات ہیں۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺ،حضرت سیدناابو بکر،حضرت سیدنا عمار، ان کی والدہ حضرت سیدتناسمیہ، حضرت سیدناصہیب ، حضرت سیدنابلال اور حضرت سیدنامقدادرضی اللہ عنہم ۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺ کو تو اللہ تعالی نے آپ ﷺکے چچا ابو طالب کے ذریعے سے (مشرکین کی اذیتوں سے )محفوظ رکھا، حضرت سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھی اللہ تعالی نے ان کی قوم کے ذریعے سے محفوظ رکھا، باقی جو حضرات تھے انہیں مشرکوں نے پکڑ لیا، انہیں لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں ڈال دیا، ان کے علاوہ جتنے حضرات تھے انہوں نے اللہ تعالی کی راہ میں اپنی جان کی پروا نہ کی اور ان کی قوم کی نظر میں بھی ان کی کوئی قدر نہ تھی(اس لئے کوئی ان کی حمایت میں نہیں بولتا تھا)ان حضرات رضی اللہ عنہم کو لوہے کے لباس پہناکردھوپ میں ڈال دیاجاتا،پس یہ سورج کی گرمی اورلوہے کی تپش برداشت کرتے رہتے تھے جب شام ہوتی توابوجہل ملعون آتااوران کو گالیاں دیتااوران کوڈانٹتاتھا۔ (حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفیاء :أبو نعیم أحمد بن عبد اللہ بن أحمد بن إسحاق بن موسی بن (ا:۱۴۰) اس سے معلوم ہواکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف بولنااوران کو گالیاں دیناابوجہل ملعون کاطریقہ ہے ۔ آج بھی بہت سے ابوجہل ہیں جوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف اپنے اندرکاگندباہرنکالتے رہتے ہیں۔

حضرت سیدناخالد رضی اللہ عنہ کااسلام کی خاطرسختیاں برداشت کرنا

جب حضرت سیدنا خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اسلام لانے کی اطلاع ان کے باپ ابو احیحہ کو ملی تو وہ سخت برہم ہوا۔ آپ باپ کے غضب سے بچنے کے لئے کہیں چھپ گئے۔ ابواحیحہ نے اپنے دوسرے بیٹوں کو ان کی تلاش کے لئے بھیجا، وہ انہیں پکڑ کر باپ کے پاس لے آئے۔ باپ نے خالدرضی اللہ تعالٰی عنہ کو سخت ملامت کرنے کے بعد اس بے دردی سے پیٹا کہ اس کے ہاتھ کی لکڑی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ جب مارتے مارتے تھک گیا، تو کہا:دین محمد(ﷺ)کو چھوڑ دے، ورنہ تیری خیر نہیں۔ آپ نے جواب دیا، ہرگز نہیں!چاہے میری جان چلی جائے، میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکا دامن اقدس ہاتھ سے نہ چھوڑوں گا۔ باپ نے بہت ڈرایا، دھمکایا لیکن آپ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ باپ نے مزید زدوکوب کرنے کے بعد کہا، تو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ محمدﷺنے ساری قوم سے الگ راستہ اختیار کر لیا ہے، وہ ہمارے معبودوں کی مذمت کرتا ہے اور ہمارے آباو اجداد کو گمراہ قرار دیتا ہے، تجھے شرم نہیں آتی کہ ان باتوں میں اس کا ساتھ دیتا ہے ؟ آپ نے بلاجھجک جواب دیا، خدا تعالی کی قسم!وہ جو کچھ فرماتے ہیں، میں ہر حالت میں ان کی پیروی کروں گا۔ باپ نے تنگ آ کر کہا، میری نظروں سے دور ہو جا، میرے گھر میں تجھے کھانا نہ ملے گا۔ آپ نے اطمینان سے کہا، آپ میرا رزق بند کر دیں گے تو اللہ تعالی مجھے رزق عطا فرمائے گا۔ پھر آپ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺکے ساتھ رہنے لگے۔ ایک روز آپ مکہ مکرمہ کے نواح میں سنسان جگہ پر نماز پڑھ رہے تھے کہ باپ کو خبر ہو گئی۔ اس نے آپ کو بلوا کر پھر ورغلانے کی کوشش کی لیکن آپ نے کہا، میں مرتے دم تک اسلام ترک نہ کروں گا۔ یہ سن کر باپ نے ان کے سر پر اس زور سے لکڑی ماری کہ وہ دو ٹکڑے ہو گئی، پھر اس نے آپ کو قید کر دیا اور کھانا پینا بند کر دیا۔ حضرت سیدنا خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ تین دن تک بھوکے پیاسے مکہ کی ہولناک گرمی میں قیدو تنہائی کی مصیبتیں جھیلتے رہے۔ چوتھے دن موقع پا کر بھاگ نکلے اور نواح مکہ میں چھپ گئے۔کچھ عرصہ بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دوسرے قافلے کے ہمراہ حبشہ کی جانب ہجرت فرما گئے۔ (مدارج النبوت لامام عبدالحق محدث دہلوی ( ۲: ۴۳۲)

حضرت سیدناعبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کادین اسلام کی خاطرمصائب برداشت کرنا

عَنْ أَبِی رَافِعٍ،قَالَ:وَجَّہَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ جَیْشًا إِلَی الرُّومِ، وَفِیہِمْ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ عَبْدُ اللہِ بْنُ حُذَافَۃَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأَسَرَہُ الرُّومُ فَذَہَبُوا بِہِ إِلَی مَلِکِہِمْ، فَقَالُوا:إِنَّ ہَذَا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ لَہُ الطَّاغِیَۃُ:ہَلْ لَکَ أَنْ تَتَنَصَّرَ وَأُشِرِکُکَ فِی مُلْکِی وَسُلْطَانِی؟ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللہِ:لَوْ أَعْطَیْتَنِی جَمِیعَ مَا تَمْلِکُ، وَجَمِیعَ مَا مَلَکَتْہُ الْعَرَبُ وَفِی رِوَایَۃِ الْقَطَّانِ:وَجَمِیعَ مَمْلَکَۃِ الْعَرَبِ عَلَی أَنْ أرْجِعَ عَنْ دِینِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَرْفَۃَ عَیْنٍ، مَا فَعَلْتُ ،قَالَ:إِذًا أَقَتُلُکَ، قَالَ:أَنْتَ وَذَاکَ ،قَالَ:فَأَمَرَ بِہِ فَصُلِبَ، وَقَالَ لِلرُّمَاۃِ:ارْمُوہُ قَرِیبًا مِنْ یَدَیْہِ قَرِیبًا مِنْ رِجْلَیْہِ وَہُوَ یَعْرِضُ عَلَیْہِ، وَہُوَ یَأْبَی، ثُمَّ أَمَرَ بِہِ فَأُنْزِلَ، ثُمَّ دَعَا بِقِدْرٍ وَصَبَّ فِیہَا مَاء ً حَتَّی احْتَرَقَتْ، ثُمَّ دَعَا بِأَسِیرَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ، فَأَمَرَ بِأَحَدِہِمَا فَأُلْقِیَ فِیہَا وَہُوَ یَعْرِضُ عَلَیْہِ النَّصْرَانِیَّۃَ وَہُوَ یَأْبَی، ثُمَّ أَمَرَ بِہِ أَنْ یُلْقَی فِیہَا، فَلَمَّا ذُہِبَ بِہِ بَکَی، فَقِیلَ لَہُ: إِنَّہُ بَکَی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh