Fatwa #2267
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ نساء آیت ۱۔۲۔ اَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وّٰحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَآء ً
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
6,524
سوال (Question):
تفسیر سورہ نساء آیت ۱۔۲۔ اَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وّٰحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَآء ً
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ڈارون کے نظریہ کارد
{یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وّٰحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَآء ً وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیْ تَسَآء َلُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامَ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا }( سورۃ النساء :۱) ترجمہ کنزالایمان:اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے لوگو !اپنے رب تعالی سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوںمیں سے کثرت سے مرد و عورت پیدافرمادیئے اور اللہ تعالی سے ڈرو جس کے نام پرایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتوں (کو توڑنے سے بچو۔)بیشک اللہ تعالی تم پر نگہبان ہے۔نظریہ ارتقائے انسانی
(۱۸۵۹ء) میں چارلس ڈارون نے نظریہ ارتقاء پیش کیا۔ اس نظریے کے مطابق حیاتی اجسام اپنی بقا کے لیے خود کو ماحول کے مطابق تبدیل کر لیتے ہیں۔ ڈارون کے نزدیک تمام جاندار اپنی ہیت کو تبدیل کرتے رہتے ہیں اپنے اطراف کے ماحول میں زندہ رہنے کے لیے۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ بعض پانی کے جانور کروڑوں سال پہلے چرندے تھے مگر کسی وجہ سے اُن کو اپنی زندگی طویل عرصہ تک پانی میں گزارنی پڑی تو ان کے پائوں غائب ہو گئے اور وہ مچھلی کی طرح کی شکل اختیار کر گئے۔ اسی طرح مچھلیوں کو جب زمین پر زندگی گزارنی پڑی تو ان کے پاؤں نکل آئے اور ان کی شکل پہلے مگرمچھ اور پھر بعد میں دیگر جانداروں کی سی ہو گئی۔ یعنی اپنی بقاء کے لیے قدرت (اللہ تعالٰیٰ نے نہیں)نے انکی جنس تبدیل کر دی۔ اسی طرح انسان کے بارے میں نظریہ ارتقا کے حامی کہتے ہیں کہ انسان بن مانس کی نسل سے تھا جو اپنے ماحول کی وجہ سے تبدیل ہو کر ویسا ہو گیا ۔ نظریہ ارتقاء قرآن کریم کی نظرمیں {اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ خَلَقَہ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہ کُنْ فَیَکُوْنُ}( سورۃ آل عمران: ۶۲) ترجمہ کنزالایمان:عیسیٰ کی کہاوت اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے اسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے۔ پھر یہ مٹی بھگوئی گئی حتی کہ وہ ہاتھوں سے چپکنے والے گارے کی صورت اختیار کر گئی جیساکہ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے : {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسٰنَ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ }( سورۃ المومنون: ۱۲) ترجمہ کنزالایمان:اور بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے بنایا۔ {فَاسْتَفْتِہِمْ اَہُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا اِنَّا خَلَقْنٰہُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ }( سورۃ الصافات : ۱۱) ترجمہ کنزالایمان:تو ان سے پوچھو کیا ان کی پیدائش زیادہ مضبوط ہے یا ہماری اور مخلوق آسمانوں اور فرشتوں وغیرہ کی بیشک ہم نے ان کو چپکتی مٹی سے بنایا ۔ پھر وہ سڑی ہوئی کیچڑ بن گئی جیساکہ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے : {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسٰنَ مِنْ صَلْصٰلٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ }( سورۃ الحجر:۲۶) ترجمہ کنزالایمان:اور بیشک ہم نے آدمی کو بَجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو اصل میں ایک سیاہ بودار گارا تھی۔ یہ گارا جب خشک ہوجائے تو مٹی کے برتن کی طرح کھنکنے لگاجیساکہ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے : {خَلَقَ الْاِنْسٰنَ مِنْ صَلْصٰلٍ کَالْفَخَّارِ }( سورۃ الرحمن : ۱۴) اس نے آدمی کو بنایا بجتی مٹی سے جیسے ٹھیکری ۔ اللہ تعالی نے اپنی مشیت اور ارادے کے مطابق اس کی صورت بنا کر اس میں جان ڈا ل دی جیساکہ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے : {وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ خٰلِقٌ بَشَرًا مِّنْ صَلْصٰلٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ }( سورۃ الحجر: ۲۸){فَاِذَا سَوَّیْتُہ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہ سٰجِدِیْنَ }(سورۃ الحجر: ۲۹) ترجمہ کنزالایمان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں آدمی کو بنانے والا ہوں بَجتی مٹی سے جو بدبودار سیاہ گارے سے ہے ۔تو جب میں اسے ٹھیک کرلوں اوراس میں اپنی طرف کی خاص معزّز روح پھونک دوں۔ یہ ہیں وہ مراحل جو ازروئے قرآن تخلیق آدم پر گزرے۔ اولاد آدم علیہ السلام کی تخلیق کے مراحل اس آیت مبارکہ میں ذکر کئے گئے ہیں : {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسٰنَ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ }{ثُمَّ جَعَلْنٰہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍمَّکِیْنٍ}{ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ فَتَبٰرَکَ اللہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ }( سورۃ المومنون:۱۲،۱۳،۱۴) ترجمہ کنزالایمان:اور بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے بنایا ،پھر اسے پانی کی بوند کیا ایک مضبوط ٹھہراؤ میں ،پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹک کیا پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں پھر ان ہڈیوں پر گوشت پہنایا پھر اسے اور صورت میں اٹھان دی تو بڑی برکت والا ہے اللہ سب سے بہتر بنانے والا ہے۔ حضرت سیدناآدم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت سیدتناحواء رضی اللہ عنہاکے متعلق اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہے کہ انہیں آدم علیہ السلام سے پیدا کیا گیا ہے۔ {یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وّٰحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَآء ً وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیْ تَسَآء َلُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامَ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا }( سورۃ النساء :۱) ترجمہ کنزالایمان:اے لوگو !اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلادیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھوبے شک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ مفتی محمدقاسم قادری لکھتے ہیں کہ یہ وہ معقول اور سمجھ میں آنے والا طریقہ ہے جس سے نسلِ انسانی کی ابتداء کا پتہ چلتا ہے۔ بقیہ وہ جو کچھ لوگوں نے بندروں والا طریقہ نکالا ہے کہ انسان بندر سے بنا ہے تویہ پرلے درجے کی نامعقول بات ہے۔ یہاں ہم سنجیدگی کے ساتھ چند سوالات سامنے رکھتے ہیں۔ آپ ان پر غور کرلیں ، حقیقت آپ کے سامنے آجائے گی۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسان بندر ہی سے بنا ہے تو کئی ہزار سالوں سے کوئی جدید بندر انسان کیوں نہ بن سکا اور آج ساری دنیا پوری کوشش کرکے کسی بندر کو انسان کیوں نہ بنا سکی؟ نیز بندروں سے انسان بننے کا سلسلہ کب شروع ہوا تھا ؟کس نے یہ بنتے دیکھا تھا؟ کون اس کا راوی ہے؟ کس پرانی کتاب سے یہ بات مطالعہ میں آئی ہے؟نیز یہ سلسلہ شروع کب ہوا اور کب سے بندروں پر پابندی لگ گئی کہ جناب!آئندہ آپ میں کوئی انسان بننے کی جرات نہ کرے۔ نیز بندر سے انسان بنا تو دُم کا کیا بنا تھا؟ کیا انسان بنتے ہی دُم جھڑ گئی تھی یا کچھ عرصے بعد کاٹی گئی یا گھسٹ گھسٹ کر ختم ہوگئی اور بہرحال جو کچھ بھی ہوا ،کیا اس بات کا ثبوت ہے کہ دُم والے انسان پائے جاتے تھے۔ الغرض بندروں والی بات بندر ہی کرسکتا ہے۔ حیرت ہے کہ دنیا بھر میں جس بات کا شور مچایا ہوا ہے اس کی کوئی کَل سیدھی نہیں ، اس کی کوئی کَڑی سلامت نہیں ، اس کی کوئی تاریخ نہیں۔ بس خیالی مفروضے قائم کرکے اچھے بھلے انسان کو بندر سے جاملایا۔( تفسیرصراط الجنان( ۲: ۱۴۰)ڈارونی نظریہ ارتقاء کے حامیوں پر حکم شرعی
چونکہ یہ نظریہ قرآن کریم کی بے شمارآیات اوراحادیث صحیحہ کے خلاف ہے اوراس میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی صریح گستاخی ہے کیونکہ اس نظریہ کو ماننے میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کوبھی نعوذباللہ من ذلک اس غیرفطری نظریہ کانتیجہ ماننالازم آتاہے لھذاایساعقیدہ رکھنے والاشخص مرتد اوردائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ اوریہ بھی ذہن میں رہے کہ پاکستان میں تمام سکولوں اوریونیورسٹیوں میں پروفیسریہی نظریہ بچوں کو پڑھاتے ہیں اوراس طرح بچپن سے ہی بچوں کوانبیاء کرام علیہم السلام کاگستاخ بنادیتے ہیں ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9