Fatwa #2275
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورہ نساء آیت ۵۹۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
7,372
سوال (Question):
تفسیر سورہ نساء آیت ۵۹۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ظالم حکمرانوں کی اطاعت کے حرام ہونے کابیان
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنٰزَعْتُمْ فِیْ شَیْء ٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا }(۵۹) ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اُسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ و قیامت پر ایمان رکھتے ہو یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے اہل ایمان:اللہ تعالی کی اطاعت کرو اورحضورتاجدارختم نبوتﷺ کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں حکمران ہیں۔ پھر اگر کسی بات میں تمہارا اختلاف ہوجائے تواگر اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو اس بات کو اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺ کی بارگاہ میں پیش کرو۔ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے بہترین ہے۔بدمذہب حاکم کی اطاعت اوراس کی تعظیم کرناجائزنہیں
وقال ابن خویز منداد:وأما طاعۃ السلطان فتجب فیما کان للہ فِیہِ طَاعَۃٌ،وَلَا تَجِبُ فِیمَا کَانَ لِلَّہِ فِیہِ مَعْصِیَۃٌ،وَلِذَلِکَ قُلْنَا:إِنَّ وُلَاۃَ زَمَانِنَا لَا تَجُوزُ طَاعَتُہُمْ وَلَا مُعَاوَنَتُہُمْ وَلَا تَعْظِیمُہُمْ، وَیَجِبُ الْغَزْوُ مَعَہُمْ مَتَی غَزَوْا،وَالْحُکْمُ مِنْ قِبَلِہِمْ،وَتَوْلِیَۃُ الْإِمَامَۃِ وَالْحِسْبَۃِ،وَإِقَامَۃُ ذَلِکَ عَلَی وَجْہِ الشَّرِیعَۃِ وَإِنْ صَلَّوْا بِنَا وَکَانُوا فَسَقَۃً مِنْ جِہَۃِ الْمَعَاصِی جَازَتِ الصَّلَاۃُ مَعَہُمْ، وَإِنْ کَانُوا مُبْتَدِعَۃً لَمْ تَجُزِ الصَّلَاۃُ مَعَہُمْ إِلَّا أَنْ یُخَافُوا فَیُصَلَّی مَعَہُمْ تَقِیَّۃً وَتُعَادُ الصَّلَاۃُ۔ ترجمہ :امام ابن خویزمندادرحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حاکم کی اطاعت ایسے کام میں واجب ہوتی ہے جس میں اللہ تعالی کی اطاعت ہواوراللہ تعالی کی معصیت میں اطاعت واجب نہیں ہے ، اسی وجہ سے ہم نے کہاکہ ہمارے زمانے کے حکمرانوں کی اطاعت،معاونت اورتعظیم جائز نہیں ہے اوران کے ساتھ جہاد ثابت ہوگا، اگروہ ہمیں نمازپڑھائیں توان کے ساتھ نماز جائز ہوگی ، جبکہ وہ گناہوں کے اعتبارسے فاسق ہی کیوں نہ ہوں۔ اگروہ بدعتی یعنی ان کاعقیدہ خراب ہو توان کے ساتھ نما ز جائزنہیں ہوگی۔ مگریہ کہ ان کاخوف ہوتوان کے ساتھ نما زاداکرلی جائے اورنماز کااعادہ کیاجائے۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۵:۲۵۹)حاکم کی اطاعت کب لازم ہے؟
رُوِیَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ:حَقٌّ عَلَی الْإِمَامِ أَنْ یَحْکُمَ بِالْعَدْلِ،وَیُؤَدِّیَ الْأَمَانَۃَ،فَإِذَا فَعَلَ ذَلِکَ وَجَبَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ أَنْ یُطِیعُوہُ، لِأَنَّ اللَّہَ تَعَالَی أَمَرَنَا بِأَدَاء ِ الْأَمَانَۃِ وَالْعَدْلِ، ثُمَّ أَمَرَ بِطَاعَتِہِ۔ ترجمہ ـ:حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ حاکم پر لازم ہے وہ عدل وانصاف پرمبنی فیصلہ کرے اورامانت اداکرے جب وہ ایساکرے تومسلمان پرواجب ہے کہ اس کی اطاعت کرے کیونکہ ہمیں اللہ تعالی نے امانتوں کے اداکرنے اورعدل کرنے کاحکم دیاپھرحاکم کی اطاعت کاحکم دیا۔ (بحر العلوم:أبو اللیث نصر بن محمد بن أحمد بن إبراہیم السمرقندی (ا۱:۳۱۲)ظالم حکمرانوں کی اطاعت حرام
أَنَّ طَاعَۃَ اللَّہ وَطَاعَۃَ رَسُولِہِ وَاجِبَۃٌ قَطْعًا، وَعِنْدَنَا أَنَّ طَاعَۃَ أَہْلِ الْإِجْمَاعِ وَاجِبَۃٌ قَطْعًا،وَأَمَّا طَاعَۃُ الْأُمَرَاء ِ وَالسَّلَاطِینِ فَغَیْرُ وَاجِبَۃٍ قَطْعًا،بَلِ الْأَکْثَرُ أَنَّہَا تَکُونُ مُحَرَّمَۃً لِأَنَّہُمْ لَا یَأْمُرُونَ إِلَّا بِالظُّلْمِ،وَفِی الْأَقَلِّ تَکُونُ وَاجِبَۃً بِحَسَبِ الظَّنِّ الضَّعِیفِ، فَکَانَ حَمْلُ الْآیَۃِ عَلَی الْإِجْمَاعِ أَوْلَی، لِأَنَّہُ أَدْخَلَ الرَّسُولَ وَأُولِی الْأَمْرِ فِی لَفْظٍ وَاحِدٍ وَہُوَ قَوْلُہُ:أَطِیعُوا اللَّہَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ وَأُولِی الْأَمْرِ فَکَانَ حَمْلُ أُولِی الْأَمْرِ الَّذِی ہُوَ مَقْرُونٌ بِالرَّسُولِ عَلَی الْمَعْصُومِ أَوْلَی مِنْ حَمْلِہِ عَلَی الْفَاجِرِ الْفَاسِقِ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی اطاعت قطعی طورپرلازم ہے اورہمارے نزدیک اہل اجماع کی اطاعت بھی قطعی طورپرلازم ہے لیکن حکمرانوں اورسربراہوں کی اطاعت قطعی طور پرلازم نہیں ہے بلکہ اکثرطورپران کی اطاعت کرناحرام ہوتاہے کیونکہ یہ توظلم کاحکم دیتے ہیںاوراقل یہ ہے کہ یہ ظن ضعیف کی وجہ سے لازم ہے توآیت کریمہ کو اجماع پر محمول کرناہی اولی ہے کیونکہ رسول علیہ السلام اوراولوالامرکو ایک ہی جملہ ارشادالہی {اَطِیعُوا اللَّہَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ وَأُولِی الْأَمْر}میں داخل کردیاگیاتواولوالامررسول علیہ السلام کے ساتھ متصل ہیںمعصوم پرمحمول کرنافاسق وفاجرپرمحمول کرنے سے بہترہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۰:۱۱۲)ظالم حکمرانوں کی کوئی عزت نہیں ہے
وہم أمراء الحق وولاۃ العدل کالخلفاء الراشدین ومن یقتدی بہم من المہتدین واما أمراء الجور فبمعزل من استحقاق العطف علی اللہ والرسول فی وجوب الطاعۃ فانہم اللصوص المتغلبۃ لاخذہم اموال الناس بالقہر والغلبۃ ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی حنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ حکمران ہیں جو عدل کرنے والے ہیں جیسے خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اورہدایت یافتہ بادشاہ جنہوںنے ان کی اقتداء کی ۔ وہ حکمران جنہوںنے اپنی عوام پر ظلم وستم کیاوہ اس آیت کریمہ کے تحت داخل نہیں ہیں کیونکہ وہ توشرعاً چوراورڈاکوہیں کیونکہ وہ توقہروجبراورظلم کرکے لوگوں سے مال ہتھیالیتے ہیں۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی(۲:۲۲۸)اطاعت صرف حاکم اسلام کی لازم ہے
وہذا الحکم یعنی وجوب إطاعۃ الأمیر مختص بما لم یخالف امرہ الشرع یدل علیہ سیاق الآیۃ فان اللہ تعالی امر الناس بطاعۃ اولی الأمر بعد ما أمرہم بالعدل فی الحکم تنبیہا علی ان طاعتہم واجبۃ ما داموا علی العدل ونصّ علی ذلک فیما بعد فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِی شَیْء ٍ فَرُدُّوہُ، الایۃ قال بعض الأفاضل صیغۃ اولی الأمر یفید ان متابعتہم واجبۃ فیما ولوہ من الأمر وجعلہم اللہ تعالی والیا فیہ وانما ہو العدل فی الحکم ولو جعلت الأمر علی الإیجاب لکان أشدّ دلالۃ علی ذلک فان وجوب طاعتہم فیما کان لہم علی الناس إیجابہ فان قال الأمیر أعط فلانا من مالک الفا لا یجب علیک اطاعتہ۔ ترجمہ :حضرت امام قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حاکم کی اطاعت صرف اس وقت واجب ہے کہ جب اس کاحکم شرع کے خلاف نہ ہو، آیت کے سیاق سے یہی معلوم ہوتاہے کیونکہ اللہ تعالی نے پہلے انصاف کرنے کاحکم دیا، اس کے بعد حکمرانوں کی اطاعت کاحکم دیا، اس سے معلوم ہواکہ جب تک حکمران عدل پرقائم ہوں توان کی اطاعت واجب ہے ، اس سے آگے خود صراحت فرمادی۔{ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِی شَیْء ٍ فَرُدُّوہ}اگرکسی مسئلہ میںتمھاراآپس کااختلاف ہوجائے توصحیح فیصلہ کے لئے اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے احکامات کی طرف رجوع کرو۔ بعض علما ء کرام کابیان ہے کہ اولوالامر کالفظ بتارہاہے کہ جن امورکاحکام کو اختیاردیاگیاہے اورجن چیزوں کاان کوحاکم بنایاگیاہے یعنی حکم میں اگروہ عدل کریں توان امورمیں اطاعت واجب ہے اورجن امورکو واجب کرنے کااللہ تعالی نے ان کو اختیارنہیں دیاہے ان امورمیں اطاعت واجب نہیں ہے بلکہ بعض صورتوں میں ان کی اطاعت حرام ہے ، اس لئے اگرکوئی حاکم کسی کوکوئی حکم دے کہ اپنے مال میں سے ایک ہزارروپیہ فلاں شخص کو دے دوتو حکم پرعمل کرناضروری نہیں ہے ۔ (التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۲:۱۵۰)انگریزی ججوں کافیصلہ بلادلیل مانناجائز نہیں ہے
إذا قال القاضی قضیت علی ہذا بالرجم فارجمہ او بالقطع فاقطعہ او بالضرب فاضربہ وسعک ان تفعل وعن محمد انہ رجع عن ہذا وقال لا یأخذ بقولہ حتی یعاین الحجّۃ واستحسن المشائخ ہذہ الروایۃ لفساد الحال فی اکثر القضاۃ ۔ ترجمہ :حضرت امام قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگرقاضی (جج) کسی کو کہے میں نے فلاں شخص کو سنگسارکرنے یامارنے یااس کاہاتھ کاٹ دینے کاحکم دے دیاہے تم یہ خدمت انجام دوتوجس شخص کو حکم دیاجارہاہے وہ بلاتحقیق حکم کی تعمیل کرسکتاہے لیکن ایک روایت میں آیاہے کہ امام محمدرضی اللہ عنہ نے اس فتوی سے رجو ع کرلیاتھااورفرمایاتھاکہ جب تک قاضی کے فیصلے کی اطمینان بخش دلیل نہ معلوم ہوجائے صرف حکم کی تعمیل جائز نہیں ہے ۔ مشائخ کرام علیہم الرحمہ نے اسی قول کوپسندکیاہے کیونکہ اس زمانے میں قاضیوں کے حالات بگڑگئے ہیں۔ (التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۲:۱۵۰)اولوالامرسے مراد کون؟
وَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَمُجَاہِدٌ:(أُولُو الْأَمْرِ)أَہْلُ الْقُرْآنِ وَالْعِلْمِ،وَہُوَ اخْتِیَارُ مَالِکٍ رَحِمَہُ اللَّہُ، وَنَحْوُہُ قَوْلُ الضَّحَّاکِ قَالَ:یَعْنِی الْفُقَہَاء َ وَالْعُلَمَاء َ فِی الدِّینِ وَحُکِیَ عَنْ مُجَاہِدٍ أَنَّہُمْ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَاصَّۃً وَحُکِیَ عَنْ عِکْرِمَۃَ أَنَّہَا إِشَارَۃٌ إِلَی أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا خَاصَّۃً۔ ترجمہ :(۱)…حضرت سیدناجابربن عبداللہ اورمجاہدرضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ {اُولُو الْأَمْرِ}سے مراد اہل قرآن اوراہل علم یعنی علماء کرام ہیں۔ یہی امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ کاپسندیدہ ہے ۔ اوریہی امام ضحاک رحمہ اللہ تعالی کاقول ہے ۔ (۲)…حضرت سیدناامام مجاہدرحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد فقہاء کرام اورعلماء دین ہیں ۔ (۳)…حضرت سیدناامام مجاہدرحمہ اللہ تعالی یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد خالصتاًحضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں۔ (۴)…حضرت سیدناعکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد حضرت سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ ہیں۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۵:۲۵۹)اصل حکمران علماء کرام ہی ہیں
الْمُرَادُ الْعُلَمَاء ُ الَّذِینَ یُفْتُونَ فِی الْأَحْکَامِ الشَّرْعِیَّۃِ وَیُعَلِّمُونَ النَّاسَ دِینَہُمْ۔ ترجمہ:امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اولوالامرسے مراد علماء کرام ہیں جو احکامات شرعیہ میں فتوی دیتے ہیں اورلوگوں کو اللہ تعالی کے دین کی تعلیم دیتے ہیں۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۰:۱۱۲)علماء کے فتوی پرعمل واجب ہے
وَأَمَّا الْقَوْلُ الثَّانِی فَیَدُلُّ عَلَی صِحَّتِہِ قَوْلُہُ تَعَالَی:(فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِی شَیْء ٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللَّہِ وَالرَّسُولِ(فَأَمَرَ تَعَالَی بِرَدِّ الْمُتَنَازَعِ فِیہِ إِلَی کِتَابِ اللَّہِ وَسُنَّۃِ نَبِیِّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَیْسَ لِغَیْرِ الْعُلَمَاء ِمَعْرِفَۃَ کَیْفِیَّۃِ الرَّدِّ إِلَی الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ، وَیَدُلُّ ہَذَا عَلَی صِحَّۃِ کَوْنِ سُؤَالِ الْعُلَمَاء ِوَاجِبًا،وَامْتِثَالِ فَتْوَاہُمْ لَازِمًاقَالَ سَہْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ رَحِمَہُ اللَّہُ:لَا یَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَا عَظَّمُوا السُّلْطَانَ وَالْعُلَمَاء َ،فَإِذَا عَظَّمُوا ہَذَیْنَ أَصْلَحَ اللَّہُ دُنْیَاہُمْ وَأُخْرَاہُمْ،وَإِذَا اسْتَخَفُّوا بہذین أفسد دنیاہم وَأَمَّا الْقَوْلُ الثَّانِی فَیَدُلُّ عَلَی صِحَّتِہِ قَوْلُہُ تَعَالَی: (فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِی شَیْء ٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللَّہِ وَالرَّسُولِ فَأَمَرَ تَعَالَی بِرَدِّ الْمُتَنَازَعِ فِیہِ إِلَی کِتَابِ اللَّہِ وَسُنَّۃِ نَبِیِّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،وَلَیْسَ لِغَیْرِ الْعُلَمَاء ِ مَعْرِفَۃَ کَیْفِیَّۃِ الرَّدِّ إِلَی الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ، وَیَدُلُّ ہَذَا عَلَی صِحَّۃِ کَوْنِ سُؤَالِ الْعُلَمَاء ِ وَاجِبًا، وَامْتِثَالِ فَتْوَاہُمْ وَأُخْرَاہُمْ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ رہادوسراقول تواس کی صحت پر اللہ تعالی کایہ فرمان شریف{فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِی شَیْء ٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللَّہِ وَالرَّسُولِ} دلالت کرتاہے کہ اللہ تعالی نے متنازع فی معاملہ کو کتاب اللہ اورحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی سنت کریمہ کی طرف لوٹانے کاحکم دیاہے اورعلماء کرام کے علاوہ کسی کو کتاب وسنت کی طرف لوٹانے کی طاقت نہیں ہے ، علماء کرام سے سوال کرنے کی رجوع کی صحت پریہ دلیل ہے اوران کے فتوی کی پیروی کے لزوم کی صحت پردلیل ہے ۔ حضرت سیدناسہل بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ لوگ خیرپررہیں گے جب تک حاکم وقت اورعلماء کرام کی تعظیم کرتے رہیں گے اورجب لوگ ان دوشخصیات کی تعظیم کرتے رہیں گے اللہ تعالی ان کی دنیاوآخرت میں اصلاح فرمادے گااورجب لوگ اپنے حاکم اورعلماء کرام کی تحقیرکریں گے توان کی دنیاوآخرت کو اللہ تعالی بربادکردے گا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۵:۲۵۹)سنت کی حجیت کامنکرمومن نہیں ہے
(فَرُدُّوہُ إِلَی اللَّہِ وَالرَّسُولِ)أَیْ رَدُّوا ذَلِکَ الْحُکْمَ إِلَی کِتَابِ اللَّہِ أَوْ إِلَی رَسُولِہِ بِالسُّؤَالِ فِی حَیَاتِہِ، أَوْ بِالنَّظَرِ فِی سُنَّتِہِ بَعْدَ وَفَاتِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ہَذَا قَوْلُ مُجَاہِدٍ وَالْأَعْمَشِ وَقَتَادَۃَ،وَہُوَ الصَّحِیحُ. وَمَنْ لَمْ یَرَ ہَذَا اخْتَلَّ إِیمَانُہُ، لِقَوْلِہِ تَعَالَی (إِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِوَفِی قَوْلِہِ تَعَالَی: (وَإِلَی الرَّسُولِ)دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ سُنَّتَہُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعْمَلُ بِہَا وَیُمْتَثَلُ مَا فِیہَا۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ {رُدُّوہُ إِلَی اللَّہِ وَالرَّسُولِ}یعنی یہ حکم کتاب اللہ اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی طرف لوٹائویعنی حضورتاجدارختم نبوتﷺکی ظاہری حیات مبارکہ میں توآپ ﷺسے سوال کرواورآپ ﷺکے وصال شریف کے بعد آپ ﷺکی سنن میں غوروفکرکے ساتھ مسئلہ کاحل نکالو!یہ حضرت سیدناامام مجاہداوراعمش اورقتادہ رضی اللہ عنہم کاقول ہے ۔ اوریہ صحیح ہے کہ جس نے ایسانظریہ نہیں رکھااس کے ایمان میں خلل ہے کیونکہ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے {إِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ}{وَإِلَی الرَّسُولِ}اللہ تعالی کے اس فرمان شریف میں دلیل ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سنت پرعمل کیاجائے گااورجوکچھ اس میں ہے اس کی پیروی کی جائے گی۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۵:۲۵۹)معارف ومسائل
(۱) آج حاکم تک کوئی بھی شخص نہیں پہنچ سکتا، وکیل کے بغیرکسی بھی مظلوم کاکیس پیش نہیں ہوسکتا، پہلے وہ وکیل کی فیس فراہم کرے ، پھراس کااستغاثہ دائرہو،پھرتاریخوں پر تاریخیں پڑتی رہتی ہیں ، جس سے اس کے پیسے اوروقت کالگاتارنقصان ہوتارہتاہے ، یہ دشمنان اسلام یہودونصاری کاطریقہ کارہے ، مجسٹریٹ اسی سے مانوس ہیں ، اوراسی پرچلتے رہتے ہیں اوراسی کی وجہ سے تنخواہیں اورمراعات لیتے ہیں ، مظلوم کی دادرسی کاذرہ بھرخیال نہیں ہوتا۔ یہ مغربی قانون کی کارستانیوں کااصلی چہرہ ہے جوایک عذاب ہے ، جوقوم اپنے رب تعالی کے حقیقی اوربنیادی عدل وانصاف کے قانون سے منحرف ہواوربیگانہ ہوپس تازیانہ عبرت کاکوڑااس کے سراورکندھوں پرایسے ہی مسلط ہوگا۔ (۲) آج توجتنے حکمران اوران کے نوکرہیں وہ بالکل نہیں دیکھتے کہ انہوںنے جوحکم دیاہے وہ شرعاً حرام ہے یاحلال ہے ، بس ان کو فکرہوتی ہے کہ اس کوپوراکرناچاہے وہ کسی پرظلم کرناہی کیوں نہ ہو، چاہے مساجد کی بے ادبی اورتوہین ہی کیوں نہ کرنی ہو، چاہے علماء کرام کو شہیدکرناپڑے ، یہ انگریزی فیکٹری کے تیارکردہ پرزے صرف اورصرف اپنی تنخواہ بچانے کے لئے کام کرتے ہیں ، ان کو نہ آخرت سے کوئی سروکارہے اورنہ ہی خداتعالی اوراس کے حبیب کریم ﷺکی تعلیمات سے کوئی لگائو۔ (۳) ظالم حکمرانوں کو تحفظ دینے والے اوران کے ظلم وستم پرپردہ ڈالنے والے ہی یہی لوگ ہیں ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9