صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2361 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃالاعراف آیت ۱۳۰۔ وَلَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُوْنَ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,389

سوال (Question):

تفسیر سورۃالاعراف آیت ۱۳۰۔ وَلَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُوْنَ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے گستاخوں پر آنے والے سات عذابوں کی تفصیل

{وَلَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُوْنَ }(۱۳۰) ترجمہ کنزالایمان:اور بیشک ہم نے فرعون والوں کو برسوں کے قحط اور پھلوں کے گھٹانے سے پکڑا کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور بیشک ہم نے فرعون کے پیروکاروں کو کئی سال کے قحط سالی اور پھلوں کی کمی میں گرفتار کردیا تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے گستاخ کاتعارف

وَأَخْرَجَ ابْنُ أَبِی حَاتِمٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ أَنَّ فِرْعَوْنَ کَانَ قِبْطِیًّا وَلَدَ زِنَا طُولُہُ سَبْعَۃُ أَشْبَارٍ ترجمہ :حضرت امام ابوحاتم رحمہ اللہ تعالی حضرت سیدناعلی بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیاہے کہ فرعون قبطی ولد الزناتھااوراس کاقدسات بالشت تھا۔ (فتح القدیر:محمد بن علی بن محمد بن عبد اللہ الشوکانی الیمنی (۲:۲۶۵)

ایک درخت پرصرف ایک کھجورلگتی تھی

عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنْ رَجَاء ِ بْنِ حَیْوَۃَ وَنَقْصٍ مِنَ الثَّمَرَاتِ قَالَ:حَتَّی لَا تَحْمِلُ النَّخْلَۃَ إِلَّا بُسْرَۃً واحدۃ. ترجمہ :حضرت سیدنارجابن حیوہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے گستاخوں پرایسی قحط سالی مسلط فرمائی کہ ان کے پھلوں میں اتنی کمی واقع ہوگئی کہ کھجورکے درخت پر صرف ایک کھجورلگتی تھی اوروہ بھی خشک ہوتی تھی ۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس بن المنذر التمیمی(۵:۱۵۴۲)

دریائے نیل تک خشک ہوگیا

عَنِ الضَّحَّاکِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:لَمَّا أَخَذَ اللَّہُ آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِینَ یَبِسَ کُلُّ شَجَرٍ لَہُمْ وَذَہَبَتْ مَوَاشِیہِمْ حَتَّی یَبِسَ نِیلُ مِصْرَ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے گستاخوں کو قحط سالی سے پکڑاتوان کی ہرچیز خشک ہوگئی ، ان کے مویشی (جانور)مرگئے ، یہاں تک کہ دریائے نیل خشک ہوگیا۔ (زاد المسیر فی علم التفسیر:جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی (۲:۱۴۷)

قحط سالی کی تفصیل

عَنْ قَتَادَۃَ قَوْلَہُ:وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فرعون بِالسِّنِینَ جَہَدَہُمُ اللَّہُ بِالسِّنِینَ بِالْجُوعِ عَامًا فَعَامًا، وَنَقْصٍ مِنَ الثَّمَرَاتِ، فَأَمَّا السِّنُونَ فَکَانَ ذَلِکَ فِی بَادِیَتِہِمْ، وَأَہْلِ مَوَاشِیہِمْ، وَأَمَّا نَقْصُ الثَّمَرَاتِ فَکَانَ فِی أَمْصَارِہِمْ وَقُرَاہُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے گستاخوں کوبہت سالوں تک قحط سالی میں پکڑے رکھااورپھلوں میں کمی کردی ، بھوک اورقحط سالی ان کے جنگل میں رہنے والے اورجانوررکھنے والوں کے لئے تھی اورپھلوں کی کمی ان کے شہروں اوردیہاتوں میں رہنے والوں کے لئے تھی ۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس بن المنذر التمیمی(۵:۱۵۴۲)

اس امت کے بے دین بھی یہ دن دیکھیں گے

وعن کعب یأتی علی الناس زمان لا تحمل النخلۃ الا تمرۃ۔ ترجمہ :حضرت سیدناکعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے قریب اس امت کے بے دینوں پر بھی یہ قحط سالی مسلط کی جائے گی کہ ان کی کھجوروں پر بھی صرف ایک دانہ اگاکرے گا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۲۱۷)

اس وقت تک قیامت قائم نہ ہوگی

عَنْ رَجَاء ِ بْنِ حَیْوَۃَ، قَالَ: لَا تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی لَا تَحْمِلَ النَّخْلَۃُ إِلَّا تَمْرَۃً۔ ترجمہ:حضرت سیدنارجابن حیوہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ اس وقت قیامت قائم نہ ہوگی جب تک اس امت میں بھی ایسی قحط سالی نہ ہوکہ ایک کھجورکے درخت پر صرف ایک کھجورلگاکرے گی۔ (مصنف ابی ابی شیبہ:أبو بکر بن أبی شیبۃ، عبد اللہ بن محمد (۷:۵۰۱)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh