صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2365 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃالاعراف آیت ۱۷۵ تا ۱۷۷۔ وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَاَ الَّذِیْٓ اٰتَیْنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّیْطٰنُ فَکَانَ مِنَ الْغَاوِیْنَ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,813

سوال (Question):

تفسیر سورۃالاعراف آیت ۱۷۵ تا ۱۷۷۔ وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَاَ الَّذِیْٓ اٰتَیْنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّیْطٰنُ فَکَانَ مِنَ الْغَاوِیْنَ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حضرت سیدناموسی علیہ السلام کے گستاخ بلعم بن باعوراکاانجام بد

{وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَاَ الَّذِیْٓ اٰتَیْنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّیْطٰنُ فَکَانَ مِنَ الْغَاوِیْنَ }(۱۷۵){وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا وَلٰکِنَّہٓ اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوٰیہُ فَمَثَلُہ کَمَثَلِ الْکَلْبِ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْہَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَثْ ذٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ }(۱۷۶){سَآء َ مَثَلَا الْقَوْمُ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاَنْفُسَہُمْ کَانُوْا یَظْلِمُوْنَ }(۱۷۷) ترجمہ کنزالایمان:اور اے محبوب انہیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہوگیا۔اور ہم چاہتے تو آیتوں کے سبب اسے اٹھالیتے مگر وہ تو زمین پکڑ گیا اور اپنی خواہش کا تابع ہوا تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے یہ حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو تم نصیحت سناؤ کہ کہیں وہ دھیان کریں۔ کیا بری کہاوت ہے ان کی جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور اپنی ہی جان کا برا کرتے تھے۔ ترجمہ ضیا ء الایمان: اور اے محبوب کریم ﷺ!اپنے صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم )کو اس آدمی کا حال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیات عطا فرمائیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا پھر شیطان اس کے پیچھے پڑگیا تووہ شخص گمراہوں سے ہوگیا۔اوراگر ہم چاہتے تو آیتوں کے سبب اسے بلند مرتبہ دیتے مگر وہ تو دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کا تابعدار ہوگیا تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پرسختی کرے تو زبان نکالے اور تو اسے چھوڑ دے توبھی زبان نکالے ۔یہ ان لوگوں کا حال ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھوٹاکہا۔تو اے حبیب کریم ﷺ!آپ ﷺیہ واقعات بیان کریں تا کہ وہ غوروفکر کریں۔ کتنی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھوٹاکہا اور وہ اپنی جانوں پر ہی ظلم کیا کرتے تھے۔

بلعم بن باعوراکاحضرت سیدناموسی علیہ السلام کی مخالفت پرتباہ ہونا

وَکَانَتْ قِصَّتُہُ عَلَی مَا ذَکَرَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ إِسْحَاقَ وَالسُّدِّیُّ وَغَیْرُہُم أَنْ مُوسَی لَمَّا قَصَدَ حَرْبَ الْجَبَّارِینَ وَنَزَلَ أَرْضَ بَنِی کَنْعَانَ مِنْ أَرْضِ الشَّامِ أَتَی قَوْمُ بَلْعَمَ إِلَی بَلْعَمَ وَکَانَ عِنْدَہُ اسْمُ اللَّہِ الْأَعْظَمُ -فَقَالُوا: إِنَّ مُوسَی رَجُلٌ حَدِیدٌ وَمَعَہُ جُنْدٌ کَثِیرٌ، وَإِنَّہُ جَاء َ یُخْرِجُنَا مِنْ بِلَادِنَا وَیَقْتُلُنَا وَیُحِلُّہَا بَنِی إِسْرَائِیلَ، وَأَنْتَ رَجُلٌ مُجَابُ الدَّعْوَۃِ، فَاخْرُجْ فَادْعُ اللَّہَ أَنْ یَرُدَّہُمْ عَنَّا، فَقَالَ: وَیْلَکُمْ نَبِیُّ اللَّہِ وَمَعَہُ الْمَلَائِکَۃُ وَالْمُؤْمِنُونَ کَیْفَ أَدْعُو عَلَیْہِمْ وَأَنَا أَعْلَمُ مِنَاللَّہِ مَا أَعْلَمُ، وَإِنِّی إِنْ فَعَلْتُ ہَذَا ذَہَبَتْ دُنْیَایَ وَآخِرَتِی، فَرَاجَعُوہُ وَأَلَحُّوا عَلَیْہِ فَقَالَ:حَتَّی أُؤَامِرَ رَبِّی، وَکَانَ لَا یَدْعُوہُ حَتَّی یَنْظُرَ مَا یُؤْمَرُ بِہِ فِی الْمَنَامِ فَآمَرَ فِی الدُّعَاء ِ عَلَیْہِمْ، فَقِیلَ لَہُ فِی الْمَنَامِ لَا تَدْعُ عَلَیْہِمْ، فَقَالَ لِقَوْمِہِ:إِنِّی قَدْ آمَرْتُ رَبِّی وَإِنِّی قَدْ نُہِیتُ فَأَہْدَوْا إِلَیْہِ ہَدِیَّۃً فَقَبِلَہَا، ثُمَّ رَاجَعُوہُ فَقَالَ:حَتَّی أُؤَامِرَ، فَآمَرَ، فَلَمْ یُوحَ إِلَیْہِ شَیْء ٌ، فَقَالَ:قَدْ آمَرْتُ فَلَمْ یُجَزْ إِلَیَّ شَیْء ٌ، فَقَالُوا:لَوْ کَرِہَ رَبُّکَ أَنْ تَدْعُوَ عَلَیْہِمْ لَنَہَاکَ کَمَا نَہَاکَ فِی الْمَرَّۃِ الْأُولَی، فَلَمْ یَزَالُوا یَتَضَرَّعُونَ إِلَیْہِ حَتَّی فَتَنُوہُ فَافْتَتَنَ فَرَکِبَ أَتَانًا لَہُ مُتَوَجِّہًا إِلَی جَبَلٍ یُطْلِعُہُ عَلَی عَسْکَرِ بَنِی إِسْرَائِیلَ یُقَالُ لَہُ حُسْبَانُ، فلما سارعَلَیْہَا غَیْرَ کَثِیرٍ رَبَضَتْ بِہِ، فَنَزَلَ عَنْہَا فَضَرَبَہَا حَتَّی إِذَا أَذْلَقَہَا قَامَتْ فَرَکِبَہَا، فَلَمْ تَسِرْ بِہِ کَثِیرًا حَتَّی رَبَضَتْ، فَفَعَلَ بِہَا مِثْلَ ذَلِکَ فَقَامَتْ، فَرَکِبَہَا فَلَمْ تَسِرْ بِہِ کَثِیرًا حَتَّی رَبَضَتْ، فَضَرَبَہَا حَتَّی أَذْلَقَہَا، أَذِنَ اللَّہُ لَہَا بِالْکَلَامِ فَکَلَّمَتْہُ حُجَّۃً عَلَیْہِ، فَقَالَتْ:وَیْحَکَ یَا بَلْعَمُ أَیْنَ تَذْہَبُ بِی؟ أَلَا تَرَی الْمَلَائِکَۃَ أَمَامِی تَرُدُّنِی عَنْ وَجْہِی ہَذَا؟ أَتَذْہَبُ بِی إِلَی نَبِیِّ اللَّہِ وَالْمُؤْمِنِینَ تَدْعُو عَلَیْہِمْ؟ فَلَمْ یَنْزِعْ، فَخَلَّی اللَّہُ سَبِیلَہَا فَانْطَلَقَتْ حَتَّی إِذَا أَشْرَفَتْ بِہِ عَلَی جَبَلِ حُسْبَانَ جَعَلَ یَدْعُو عَلَیْہِمْ وَلَا یَدْعُو عَلَیْہِمْ بِشَیْء ٍ إِلَّا صَرَفَ اللَّہُ بِہِ لِسَانَہُ إِلَی قَوْمِہِ، وَلَا یَدْعُو لِقَوْمِہِ بِخَیْرٍ إِلَّا صَرَفَ اللَّہُ بِہِ لِسَانَہُ إِلَی بَنِی إِسْرَائِیلَ. فَقَالَ لَہُ قَوْمُہُ: یَا بَلْعَمُ أَتَدْرِی مَاذَا تَصْنَعُ إِنَّمَا تَدْعُو لَہُمْ عَلَیْنَا؟!فَقَالَ:ہَذَا مَا لَا أَمْلِکُہُ، ہَذَا شَیْء ٌ قَدْ غَلَبَ اللَّہُ عَلَیْہِ، فَانْدَلَعَ لِسَانُہُ فَوَقَعَ عَلَی صَدْرِہِ، فَقَالَ لَہُمْ: قَدْ ذَہَبَتِالْآنَ مِنِّی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃُ فَلَمْ یَبْقَ إِلَّا الْمَکْرُ وَالْحِیلَۃُ، فَسَأَمْکُرُ لَکُمْ وَأَحْتَالُ، جَمِّلُوا النِّسَاء َ وَزَیِّنُوہُنَّ وَأَعْطُوہُنَّ لسِّلَعَ، ثُمَّ أَرْسِلُوہُنَّ إِلَی الْعَسْکَرِ یَبِعْنَہَا فِیہِ، وَمُرُوہُنَّ فَلَا تَمْنَعُ امْرَأَۃٌ نَفْسَہَا مِنْ رَجُلٍ أَرَادَہَا، فَإِنَّہُمْ إِنْ زِنَا رَجُلٌ وَاحِدٌ مِنْہُمْ کُفِیتُمُوہُمْ، فَفَعَلُوا فَلَمَّا دَخَلَ النِّسَاء ُ الْعَسْکَرَ مَرَّتِ امْرَأَۃٌ مِنَ الْکَنْعَانِیِّینَ، اسْمُہَا کَسْتَی بِنْتُ صُورَ، بِرَجُلٍ مِنْ عُظَمَاء ِ بَنِی إِسْرَائِیلَ یُقَالُ لَہُ زَمْرِیُّ بْنُ شَلُومَ رَأْسُ سِبْطِ شَمْعُونَ بْنِ یَعْقُوبَ، فَقَامَ إِلَیْہَا فَأَخَذَ بِیَدِہَا حِینَ (أَعْجَبَہُ جَمَالُہَا ثُمَّ أَقْبَلَ بِہَا حَتَّی وَقَفَ بِہَا عَلَی مُوسَی، فَقَالَ:إِنِّی أَظُنُّکَ سَتَقُولُ ہَذِہِ حَرَامٌ عَلَیْکَ؟ قَالَ: أَجَلْ ہِیَ حَرَامٌ عَلَیْکَ لَا تَقْرَبْہَا، قَالَ: فَوَاللَّہِ لَا أُطِیعُکَ فِی ہَذَا، ثُمَّ دَخَلَ بِہَا قُبَّتَہُ فَوَقَعَ عَلَیْہَا فَأَرْسَلَ اللَّہُ الطَّاعُونَ عَلَی بَنِی إِسْرَائِیلَ فِی الْوَقْتِ، وَکَانَ فِنْحَاصُ بْنُ الْعَیْزَارِ بْنِ ہَارُونَ صَاحِبَ أَمْرِ مُوسَی، وَکَانَ رَجُلًا قَدْ أُعْطِیَ بَسْطَۃً فِی الْخَلْقِ وَقُوَّۃً فِی الْبَطْشِ، وَکَانَ غَائِبًا حِینَ صَنَعَ زَمْرِیُّ بْنُ شَلُومَ مَا صَنَعَ، فَجَاء َ وَالطَّاعُونُ یَجُوسُ بَنِی إِسْرَائِیلَ، فَأُخْبِرَ الْخَبَرَ، فَأَخَذَ حَرْبَتَہُ وَکَانَتْ مِنْ حَدِیدٍ کُلِّہَا، ثُمَّ دَخَلَ عَلَیْہِمَا الْقُبَّۃَ، وَہُمَا مُتَضَاجِعَانِ فَانْتَظَمَہُمَا بِحَرْبَتِہِ، ثُمَّ خَرَجَ بِہِمَا رَافِعَہُمَا إِلَی السَّمَاء ِ، وَالْحَرْبَۃُ قَدْ أَخَذَہَا بِذِرَاعِہِ وَاعْتَمَدَ بِمِرْفَقِہِ عَلَی خَاصِرَتِہِ، وَأَسْنَدَ الْحَرْبَۃَ إِلَی لِحْیَتِہِ وَکَانَ بِکْرَ الْعَیْزَارِ، وَجَعَلَ یَقُولُ: اللَّہُمَّ ہَکَذَا نَفْعَلُ بِمَنْ یَعْصِیکَ، وَرُفِعَ الطَّاعُونُ، فَحُسِبَ مَنْ ہَلَکَ مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ فِی الطَّاعُونِ فِیمَا بَیْنَ أَنْ أَصَابَ زَمْرِیُّالْمَرْأَۃَ إِلَی أَنْ قَتَلَہُ فِنْحَاصُ، فَوَجَدُوا قَدْ ہَلَکَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا فِی سَاعَۃٍ مِنَ النَّہَارِ۔ ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں: حضرت موسی علیہ السلام نے جب جبارین سے جنگ کاارادہ فرمایااورسرزمین شام میں تشریف لائے توبلعم بن باعوراء کی قوم اس کے پاس آئی اورکہنے لگی:حضرت موسی علیہ السلام بہت ہی تیز مزاج ہیںاوران کے ساتھ بہت بڑالشکر ہے، وہ یہاں ہمارے ساتھ جنگ کرنے ،ہم کویہاں سے نکالنے اوراپنی قوم کوآباد کرنے آئے ہیں اورتیرے پاس اسم اعظم ہے تیر ی ہر دعاقبول ہوتی ہے۔ تم نکلواوردعاکرو اللہ تعالی سے، اللہ تعالی ان کویہاں سے نکال دے، قوم کی بات سن کر بلعم نے کہا : تم پر افسوس ہے حضرت موسی علیہ السلام اللہ تعالی کے نبی ہیں اوران کے ساتھ فرشتے اورمومن لوگ ہیںمیں ان کے خلاف کیسے بددعاکرسکتاہوں ۔مجھے اللہ تعالی کی طرف سے جوعلم ملاہے اس کاتقاضہ ہے کہ اگرمیں نے حضرت موسی علیہ السلام کے خلاف دعاکی تومیری دنیاوآخرت تباہ ہوجائے گی۔ قوم نے جب گریہ زاری کے ساتھ مسلسل اصرارکیاتوبلعم نے کہا:اچھااللہ تعالی کی مرضی معلوم کرلوں اوربلعم کاطریقہ ہی یہی تھاجب بھی کوئی دعاکرتاتوپہلے اللہ تعالی کی مرضی معلوم کرتا۔تواللہ تعالی کی طرف سے اس کوجواب مل جاتا۔چنانچہ اس بار بھی اس نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں رجوع کیا،تواللہ تعالی نے اس کومنع فرمادیاکہ حضرت موسی علیہ السلام اوران کی قوم کے خلاف دعانہ کرنا۔تواس نے اپنی قوم کوکہہ دیاکہ اللہ تعالی نے مجھے اجازت نہیں دی ۔پھر اس قوم نے اس کوتحفے دئیے جن کواس نے قبول کرلیااسکی قوم نے دوبارہ دعاکرنے کی درخواست کی تواس نے پھر اجازت لینے کاکہاکہ میں اللہ تعالی سے اجازت مانگتاہوں پھر بتاتاہوں۔ اس نے پھر اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کی۔ اللہ تعالی نے کوئی جواب نہ دیا،اس نے اپنی قوم کوکہا :کہ مجھے کوئی جواب نہیں ملاتومیں دعانہیں کرسکتا،تولوگوں نے اس کوکہا:اگراللہ تعالی کومنظورنہ ہوتاتواللہ تعالی تم کومنع فرمادیتا،لوگوں کے باربار کے اصرار پر وہ فتنہ میں مبتلاہوگیابلعم اپنی گدھی پر بیٹھ کر پہاڑ کی جانب روانہ ہوا۔گدھی نے اس کوکئی بار گرایااوروہ پھر سوارہوجاتاحتی کہ اللہ تعالی کے حکم سے گدھی نے اس کے ساتھ کلام کیا۔اس نے کہا :مجھے کہاں لے کر جارہے ہو ؟تم کہتے ہوکہ چلو،مگر فرشتے مارتے ہیں،وہ آگے جانے نہیں دیتے۔ شرم کروتم اللہ تعالی کے نبی اورمومنین کے خلاف دعاکرنے جارہے ہو۔بلعم پھر بھی باز نہیں آیاوہ اپنی قوم کے ساتھ پہاڑ پر چڑھا۔اب بلعم جوبھی بددعاکرتااللہ تعالی اس کی زبان پھسلادیتا۔یہ حضرت موسی علیہ السلام کانام لینے کی بجائے اپنی قوم کانام لے دیتااورجب رحمت کی دعاکرنے لگتااپنی قوم کے لئے تواللہ تعالی اس کی زبان پرحضرت موسی علیہ السلام کانام جاری فرمادیتا۔تولوگ چیخ اٹھے کہ یہ کیاکررہے ہوہمارے لئے بددعااوران کیلئے دعایہ کیاطریقہ ؟تواس نے کہامیرابس نہیں چل رہااورمجھے سمجھ نہیں آرہی اصل میں مجھ پر اللہ تعالی کی قدرت غالب آگئی ہے اتناکہنے کے ساتھ اس کی زبان لٹک کراس کے سینے تک آگئی۔ اس نے اپنی قوم سے کہا :میری دنیااورآخرت دونوں خراب ہوگئیں ہیںمیں تم کوایک طریقہ بتاتاہوں تم حسین وجمیل عورتوں کوتیارکر کے ان کے لشکر میںبھیج دوکسی ایک شخص نے بھی زناکر لیاتوتمھاراکام ہوجائے گا۔کیونکہ جس قوم میں زناہواس قوم سے اللہ تعالی ناراض ہوجاتاہے اوران کوکامیاب نہیں ہونے دیتا۔بلعم کی قوم نے خواتین کوتیارکرکے روانہ کردیااوروہ لشکر میں داخل ہوگئیں۔ ایک کنعانی عورت ایک سردار کے پاس سے گزری تواس کوحضرت موسی علیہ السلام نے اس کام سے منع بھی فرمایامگر اس نے اس کے ساتھ بدکاری کرلی۔ اس پر اللہ تعالی نے طاعون میں مبتلاکردیاتوسترہزار لوگ فوت ہوگئے ۔حضرت موسی علیہ السلام کامشیر اس وقت کسی کام کوگیاہواتھاجب واپس آیاتواس نے ان دونوں کوقتل کردیاتب طاعون ختم ہوا۔ (تفسیر البغوی:محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (۳:۳۰۲) سبحان اللہ کیاوہ غیرت والی گدھی تھی کہ اللہ تعالی کے پیارے نبی علیہ السلام کے خلاف بدعاکرنے جارہاہے تو وہ اس کاساتھ دینے کو تیار نہیں ہے ،اس کو گرادیتی ہے مار کھارہی ہے مگر ساتھ نہیں چلتی ۔آج کے نام نہاد پیر جو کہ کافروں کو اپنی خدمات پیش کرنے کی دعوتیں دے رہے ہیں کہ اگر تم کو تمھارے حقوق نہیں مل رہے تو ہم تم کو حقوق دلوائیں گے۔ کاش کہ یہ لوگ اس گدھی سے ہی سبق سیکھ لیتے اس گدھی نے یہ سوچاہوگاکہ اگر میں اس کے ساتھ چلی گئی تو کہیں اللہ تعالی کے عذاب کی گرفت میں نہ آجائوں۔ کاش آج لوگ بھی ذراغور کرتے کہ وہ کفار کے ساتھ تعاون تو نہیں کررہے ۔اگر کر رہے ہیں تو اس گدھی سے ہی سبق حاصل کریں اور توبہ کریں ۔

ہربے دین شخص کتاہے

قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ:الْکَلْبُ مُنْقَطِعُ الْفُؤَادِ، لَا فُؤَادَ لَہُ، إِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْہَثْ أَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَثْ، کَذَلِکَ الَّذِی یَتْرُکُ الْہُدَی لَا فُؤَادَ لَہُ، وَإِنَّمَا فُؤَادُہُ مُنْقَطِعٌ۔ ترجمہ :حضر ت سیدناامام ابن جریج رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ کتامنقطع الفواد ہوتاہے یعنی اس کادل نہیں ہوتا، اگرتواس پر حملہ کرے تووہ ہانپتاہے اورگرتواسے چھوڑ دے توتب بھی ہانپتاہے ، اسی طرح وہ بے دین شخص جو ہدایت کوترک کردیتاہے اس کابھی دل نہیں ہوتابلاشبہ اس کادل بھی کٹ جاتاہے ۔ (تفسیر الطبری:محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری (۱۰:۵۸۶)

کتے کادل گستاخی کی وجہ سے مردہ ہوا

إِنَّمَا شَبَّہَہُ بِالْکَلْبِ مِنْ بَیْنِ السِّبَاعِ لِأَنَّ الْکَلْبَ مَیِّتُ الْفُؤَادِ، وَإِنَّمَا لُہَاثُہُ لِمَوْتِ فُؤَادِہِ وَسَائِرُ السِّبَاعِ لَیْسَتْ کَذَلِکَ فَلِذَلِکَ لَا یَلْہَثْنَ وَإِنَّمَا صَارَ الْکَلْبُ کَذَلِکَ لِأَنَّہُ لَمَّا نَزَلَ آدَمُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْأَرْضِ شَمِتَ بِہِ الْعَدُوُّ، فَذَہَبَ إِلَی السِّبَاعِ فَأَشْلَاہُمْ عَلَی آدَمَ، فَکَانَ الْکَلْبُ مِنْ أَشَدِّہِمْ طَلَبًا۔الی آخرہ ۔ ترجمہ :امام حکیم الترمذی نوادرالاصول میں فرماتے ہیں کہ بلعم بن باعوراجس نے حضر ت سیدناموسی علیہ السلام کی گستاخی کی تواس کو کتے کے ساتھ تشبیہ دی گئی اس کی وجہ یہ ہے کہ کتے کادل مردہ ہوتاہے اوربلاشبہ اس کاہانپنااس کے دل کی موت کی وجہ سے ہے چونکہ بقیہ تمام درندے اس طرح نہیں ہیں ، اس لئے وہ نہیں ہانپتے ، اورکتااس لئے اس طرح ہوگیاکیونکہ جب حضرت سیدناآدم علیہ السلام زمین پرتشریف لائے توآپ علیہ السلام کادشمن سب سے زیادہ خوش ہوااوردرندوں کی طرف گیااوران کوحضرت سیدناآدم علیہ السلام کی مخالفت اوردشمنی پرابھارا، پس حضرت سیدناآدم علیہ السلام کے خلاف کتے میں سب سے زیادہ دشمنی پیداہوگئی ۔ اس لئے اللہ تعالی نے اس کے دل کومردہ کردیا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۷:۳۲۳)

دین فروش ملاں اورکتے کے اخلاق میں مماثلت

وَقِیلَ:مِنْ أَخْلَاقِ الْکَلْبِ الْوُقُوعُ بِمَنْ لَمْ یُخِفْہُ عَلَی جِہَۃِ الِابْتِدَاء ِ بِالْجَفَاء ِ، ثُمَّ تَہْدَأُ طَائِشَتُہُ بِنَیْلِ کُلِّ عِوَضٍ خَسِیسٍ ضَرَبَہُ اللَّہُ مَثَلًا لِلَّذِی قَبِلَ الرِّشْوَۃَ فِی الدِّینِ حَتَّی انْسَلَخَ مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ فَدَلَّتِ الْآیَۃُ لِمَنْ تَدَبَّرَہَا عَلَی أَلَّا یَغْتَرَّ أَحَدٌ بِعَمَلِہِ وَلَا بِعِلْمِہِ، إِذْ لَا یَدْرِی بِمَا یُخْتَمُ لَہُ وَدَلَّتْ عَلَی مَنْعِ أَخْذِ الرِّشْوَۃِ لِإِبْطَالِ حَقٍّ أَوْ تَغْیِیرِہِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ کتے کے اخلاق میں سے یہ بھی ہے کہ جب کوئی اس پر سختی کرے تویہ اس پرسختی کے ساتھ حملہ کردیتاہے لیکن جیسے ہی کوئی چھوٹاساٹکڑاہی ڈال دے تواس کاساراغصہ ختم ہوجاتاہے اوراس سے مانوس ہونے لگتاہے ۔ اللہ تعالی نے اسے اس کے لئے بطورتمثیل بیان فرمایاجودین کے معاملے میں رشوت لیتاہے ، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالی کی آیات کریمہ سے بھی نکل جاتاہے ۔ پس یہ آیت کریمہ اس بات پردلالت کرتی ہے کہ جس نے اس اعتبارسے تدبراورغوروفکرکیا کہ کوئی نہ اپنے عمل کے ساتھ دھوکہ کھائے اورنہ اپنے علم کے ساتھ دھوکہ کھائے کیونکہ وہ اس بارے میں نہیں جانتاکہ جس پر اس کاخاتمہ ہوگا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۷:۳۲۳)

دین فروش اورکتے میں مماثلت کی ایک اوروجہ

والنعمۃ انما تسلب ممن لا یعرف قدرہا وہو الکفور الذی لا یؤدی شکرہا وکما ان الکلب لا یعرف الإکرام من الاہانۃ والرفعۃ والشرف من الحقارۃ وانما الکرامۃ کلہا عندہ فی کسرۃ یطعمہا او عراق مائدۃ یرمی الیہ سواء تقعدہ علی سریر معک او فی التراب والقذر فکذا العبد السوء لا یعرف قدر الکرامۃ ویجہل حق النعمۃ فینسلخ عن لباس الفضل والکرم ویرتدی برداء القہر والمکر ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جوشخص اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمت پرشکرادانہیں کرتااسے ناشکراکہاجاتاہے ، پھراس سے نعمت چھن جاتی ہے جیسے کتاعزت وشرافت اوربزرگی صرف روٹی کے ٹکڑے کو جانتاہے ۔ اسے جس سے ٹکڑاملے اسی کاغلام ہے ، جواسے روٹی کاٹکڑاکھلا دے یاہڈی ڈالے خواہ وہ اسے مٹی پرلٹوائے یاگندگی پریابہترین تخت پربٹھائے اس کے لئے برابرہے اسی طرح وہ انسان جواپنے دین کاوفادارنہیں ہے اوردین پردنیاکو مقدم کرتاہے اسے بزرگی وشرافت سے کیامطلب اورنہ ہی وہ کسی نعمت کاحق جانتاہے بلکہ وہ فضل وکرامت اورشرافت کالباس پھینک کرقہراورتکبرکی چادراوڑھ لیتاہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۳۷۹)

دین فروش ملااورکتے میں مماثلت کی تیسری وجہ

وَاعْلَمْ أَنَّ ہَذَا التَّمْثِیلَ مَا وَقَعَ بِجَمِیعِ الْکِلَابِ، وَإِنَّمَا وَقَعَ بِالْکَلْبِ اللَّاہِثِ، وَأَخَسُّ الْحَیَوَانَاتِ ہُوَ الْکَلْبُ، وَأَخَسُّ الْکِلَابِ ہُوَ الْکَلْبُ اللَّاہِثُ، فَمَنْ آتَاہُ اللَّہ الْعِلْمَ وَالدِّینَ فَمَالَ إِلَی الدُّنْیَا، وَأَخْلَدَ إِلَی الْأَرْضِ، کَانَ مُشَبَّہًا بِأَخَسِّ الْحَیَوَانَاتِ، وَہُوَ الْکَلْبُ اللاہث، ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ واضح رہے کہ یہ مثال تمام کتوں کے ساتھ نہیں دی گئی بلکہ زبان نکالنے والے کتے کے ساتھ دی گئی ہے ، سب سے گھٹیاحیوان کتاہے اورکتوں سے بھی گھٹیازبان نکالنے والاکتاہے توجسے اللہ تعالی نے علم دین دیااوروہ دنیاکی جانب مائل ہوگیااورزمین کی طرف جھک گیاتووہ سب سے گھٹیاترین حیوان کے مشابہ ہوگیااوروہ زبان نکالنے والاکتاہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۵:۴۰۵)

یہودونصاری اورہرہرکافرکتے کی مثل ہے

قال مجاہد ہو مثل الذی یقرأ القران ولا یعمل بہ والمعنی ان ہذا الکافران زجرتہ ووعظتہ لم ینزجر وان ترکتہ لم یہتد فہو ضال ابدا ذلیل مثل ذلۃ الکلب لاہتا ابدا ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام مجاہد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ حالت اس شخص کی ہے جوقرآن کریم پڑھتاہے مگراس پرعمل نہیں کرتامطلب یہ کہ کافر کوتم تنبیہ کرونصیحت کرویا جوکچھ کرووہ کفرسے باز نہیں آتا، کچھ نہ کروتب بھی ہدایت نہیں پاتاہمیشہ ہرحال میں ذلیل ہی رہتاہے اوروہ ذلت میں ایساہوتاہے جیسے کتاجوہمیشہ زبان لٹکائے رہتاہے ۔ (التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۳:۴۳۴)

درباری ملاں حضرات دین کے لئے فتنہ کاسبب ہیں

حق بات کو لگی لپٹی اور خوشنما الفاظی و خطابت کی آڑ میں ’’خوش رہے رحمٰن بھی راضی رہے شیطان بھی‘‘کے اصول پہ کارفرماہوتاہے ،حقیقت یہ ہے کہ فرقہ اور فتنہ پیدا کرنا نہ تو کسی جاہل آدمی کا کام ہے اور نہ ہی کوئی سیدھا سادہ عالم یہ کام انجام دے سکتا ہے، یہ کام ہوتے ہیں نہایت ہی ذہین چالاک اور عیار و مکار علماء سوء کے ۔ وہ لوگوں سے اپنی پرستش کرانے کی خاطر اور اپنی پیری مریدی کی خاطر اپنے حلوے مانڈے نذرانے اور بڑے بڑے مفادات کی خاطر طرح طرح کے عقیدے گھڑتے ہیں،طرح طرح کے مسائل ایجاد کرتے ہیں، طرح طرح کے فتوے جاری کرتے ہیں ۔ طرح طرح کے رسوم و رواج کو فروغ دیتے ہیں ۔ اور اسی طرح وہ اپنے حمایتیوں ،مریدوں اور متبعین کا ایک گروہ اور ایک جماعت تیار کرلیتے ہیں ۔ اور پھر یہ سلسلہ آہستہ آستہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جاتا ہے ۔ اور پھر جس فرقے، گروہ کے قائد اور سرکردہ لوگ جتنے زیادہ عیار مکار چالاک دجل و فریب کے ماہر اور مکرو فریب کے جال میں سیدھے سادے بھولے بھالے عوام کو پھسانے والے ہوتے ہیں۔ اتنے ہی زیادہ اس گروہ کی تعداد تیزی سے بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ دنیاوی اعتبار سے یہ گروہ کافی کامیاب نظر آتا ہے ۔ اعدادی اعتبار سے بھی ہر طرف ان کا غلبہ نظر آتا ہے ۔ لیکن حقیقی معنوں میں اس گروہ کی حیثیت خس و خاشاک کوڑے کچرے کے ڈھیر سے زیادہ کی نہیں۔

گمراہ کرنے والے لیڈر

عَنْ ثَوْبَانَ رضی اللہ عنہ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ:إِنَّمَا اَخَافُ عَلٰی اُمَّتِی الْاَئِمَّۃَ الْمُضِلِّیْنَ، وَإِذَا وُضِعَ فِی اُمَّتِی السَّیْفُ لَمْ یُرْفَعْ عَنْہُمْ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:بیشک مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے نام نہاد لیڈروں کا ڈر ہے، جب میری امت میں ایک بار تلوار چل گئی تو قیامت تک نہیں رک سکے گی۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۳۷:۷۹) حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ارشاد اور اس کے علاوہ اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث کا مطلب یہ ہے کہ دجال کی آمد سے قبل ایک زمانہ ایسا آئے گاکہ ایسے گمراہ کرنے والے قائدین، دانشور اور نام نہاد محققین پیدا ہوں گے کہ ان کی فتنہ پراندازی اور شرانگیزی دجال کے فتنہ سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوگی، لہٰذا حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اپنی امت کو اس خطرناک فتنے سے خبردار کیا ہے۔ یہاں یہ امر واضح رہے اور عامۃ الناس بھی اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ یہ ائمۃ المضلّین گمراہ کرنے والے آئمہ سے صرف وہ رہنما ،قائدین اور دانشور مراد نہیں جوکہ کھلم کھلا اور واضح طور پر اسلام سے بیزار ہوں اور اسلام کے احکام و قوانین سے اور اس کے نفاذ سے شدید بغض و عناد رکھتے ہوں ،کیونکہ ایسے لوگوں کی اسلام دشمنی عوام الناس پر واضح ہوتی ہے اور ان سے بہت کم ہی لوگ گمراہی کی طرف جاتے ہیں،بلکہ ان سے مراد وہ رہنما ،قائدین ،دانشور ،اسکالر ،محققین اور وارثین انبیاء کے دعوے دار وہ علماء سوء ہیں جو بظاہر تو اپنا ناطہ و رشتہ قرآن وحدیث سے جوڑنے کے دعوے دار ہوتے ہیں ،اس کے ساتھ عقل ودانش ،فصاحت و بلاغت اور خطیبانہ انداز میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے، مگر شریعت اسلامی کے وہ احکام و قوانین جن پر امت کے عروج وزوال بلکہ موت و زندگی کا سوال ہے اور جن کے بارے میں قرآن و حدیث کے نصوص بالکل واضح و مبین ہیں اورجن میں کسی کلام یا رائے کی گنجائش نہیں،اُن کو بھی : خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں کس قدر بے توفیق ہوئے فقیہانِ حرم کے مصداق علمائے یہودکی طرح : وہ کلمات(شریعت)کو اپنے مقامات سے پھیر دیتے ہیں ۔ اور ان تمام افعال سے ان کا مقصود ومطلوب صر ف یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کی تمام مادّی و مالی فوائد سے مستفیض ہوسکیں،اور اپنی جاہ ومسند کو بچانے کی خاطراُن حکمرانوں کے مسلمان ہونے اور ان کی حکمرانی کے جائز ہونے کے جھوٹے اور گمراہ کن دلائل ڈھونڈیں جواللہ تعالی کی نازل کردہ شریعت کے خلاف اپنا حکم نافذ کررہے ہوں اور جن کی اسلام و مسلمان دشمنی اوریہود ونصاریٰ سے دوستی کسی سے پوشیدہ نہ ہو ۔اس کے باوجودوہ اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے ہمدرد اور غم خوارکے طور پر اپنی عظیم الشان مسندوں اور عہدوں پر قائم رہیں۔ایسے ا ئمۃ المضلّین کے بارے میںحضورتاجدارختم نبوتﷺنے امت کو پہلے ہی خبردار کردیا تھا: أَخْبَرَنِی أَبُو تَمِیمٍ الْجَیْشَانِیُّ، قَالَ:أَخْبَرَنِی أَبُو ذَرٍّ، قَالَ:کُنْتُ أَمْشِی مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:لَغَیْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِی عَلَی أُمَّتِی :قَالَہَا ثَلَاثًاقَالَقُلْتُ:یَا رَسُولَ اللہِ، مَا ہَذَا الَّذِی غَیْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُکَ عَلَی أُمَّتِکَ؟ قَالَ:أَئِمَّۃً مُضِلِّینَ ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میںحضورتاجدارختم نبوتﷺکے ساتھ جارہا تھا کہ آپﷺ نے فرمایا :اپنی امت کے اوپر دجال کے علاوہ ایک اور چیز سے ڈرتا ہوں ۔آپﷺنے یہ بات تین دفعہ دہرائی ۔میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ!دجال کے علاوہ وہ کون سی چیز ہے جس کے تعلق سے اپنی امت کے بارے میں آپ ﷺڈرتے ہیں ۔آپ ﷺنے فرمایا: ائمۃ المضلّین( گمراہ کرنے والے قائدین)۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۳۵:۲۲۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِی سَیَتَفَقَّہُونَ فِی الدِّینِ، وَیَقْرَء ُونَ الْقُرْآنَ، وَیَقُولُونَ: نَأْتِی الْأُمَرَاء َ فَنُصِیبُ مِنْ دُنْیَاہُمْ، وَنَعْتَزِلُہُمْ بِدِینِنَا، وَلَا یَکُونُ ذَلِکَ، کَمَا لَا یُجْتَنَی مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْکُ، کَذَلِکَ لَا یُجْتَنَی مِنْ قُرْبِہِمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا میرے کچھ امتی دین کی سمجھ حاصل کریں گے اور قرآن پڑھیں گے اور کہیں گے کہ ہم حکمرانوں کے پاس جاتے ہیں تاکہ ہمیں ان سے دنیا مل جائے اور ہم اپنا دین ان سے بچا لیں گے حالانکہ ایسا نہیں ہوسکتا جیسے ببول کے درخت سے کانٹوں کے سوا کچھ نہیں ملتا اسی طرح ان حکمرانوں کے قریب ہونے سے سوائے خطاؤں کے کچھ نہیں ملتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید (ا:۹۳) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: تَعَوَّذُوا بِاللَّہِ مِنْ جُبِّ الْحُزْنِ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ، وَمَا جُبُّ الْحُزْنِ؟ قَالَ:وَادٍ فِی جَہَنَّمَ، یُتَعَوَّذُ مِنْہُ جَہَنَّمُ کُلَّ یَوْمٍ أَرْبَعَمِائَۃِ مَرَّۃٍ ،قَالُوا:یَا رَسُولَ اللَّہِ مَنْ یَدْخُلُہُ؟ قَالَ أُعِدَّ لِلْقُرَّاء ِ الْمُرَائِینَ بِأَعْمَالِہِمْ، وَإِنَّ مِنْ أَبْغَضِ الْقُرَّاء ِ إِلَی اللَّہِ الَّذِینَ یَزُورُونَ الْأُمَرَاء َ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا اللہ تعالی سے پناہ مانگو (جُبِّ الحُزنِ )(غم کے کنویں)سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا :یا رسول اللہ ﷺ!غم کا کنواں کیا ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا جہنم میں ایک وادی (کا نام)ہے جس سے جہنم بھی روزانہ چار سو بار پناہ مانگتی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا :یا رسول اللہ ﷺ!اس میں کون جائیں گے ؟فرمایا :یہ ان قاریوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اپنے اعمال میں ریاکار ہوں اور اللہ کو سب سے ناپسند قاریوں میں سے ایک وہ ہیں جو ظالم حکمرانوں کے پاس جاتے ہیں (دنیا کی خاطر) (سنن ابن ماجہ:ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید (ا:۹۳) ویسے تو ہر زمانہ میں ہر با اثر اور ہر حکمران نے مطلب کے علماء تلاش کرنے اور ثقہ علماء کوکی راہِ حق سے منحرف کرنے کے لئے جال پھیلائے ہیں، لیکن دورِ حاضر میں منظم طریقے کے ساتھ جس طرح علماء کو خریدنے اور استعمال کرنے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں، اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھیں۔ دھن، دھونس اور دھاندلی کے علاوہ مستقل ایک شعبہ ان کو اغوا کرنے کے لئے تگ و دو میں مصروف ہے۔ ’’سیاسی داشتہ‘‘کے طور پر باقاعدہ نام نہاد ’’مولانا‘‘رکھے جاتے ہیں جو لطیف حیلوں کے ذریعے ان پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، چنانچہ اس سلسلے میں ان کو کچھ کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔ جیسی کچھ صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔ اس کے پیشِ نظر ہم مجبور ہو گئے ہیں کہ علمائے حق کو اسی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لئے غور و فکر کرنے کی دعوت دیں۔ اگر وقت پر انہوں نے اس فتنہ کا احساس نہ کیا تو اندیشہ ہے کہ، کل ان کا برا حشر ہو اور اس کے ساتھ ساتھ خود ’’دین حق‘‘بھی ناحق بدنام ہو۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بڑے بڑے جبہ و دستار اور علم و فضل میں اونچی شہرت رکھنے والے ایسے بدنام شکاریوں کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں اور ہتھیار ڈالتے جارہے ہیں کہ کرسی سے علیحدہ ہونے کے بعد اس سے سلام کرنا بھی وہ گوارا نہ کریں۔ اب ضرورت ہے کہ کوئی امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ ، کوئی امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ ، کوئی امام مالک رضی اللہ عنہ ،، کوئی امام عزالدین بن عبدالسلام رحمہ اللہ تعالی ، کوئی الشیخ الامام عبدالقادرالجیلانی رضی اللہ عنہ اور کوئی ابن الجوزی رحمہ اللہ تعالی پھر اُٹھے اور دگرگوں حالات کے دھاروں کا رخ بدل دے۔ اور یہ کچھ بعید بھی نہیں ہے۔ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ جب علماء اپنے بلند مقام پر فائز تھے تو دبکے نہیں تھے بلکہ حکمرانوں کو جنسِ بازار کی طرح بیچ ڈالا تھا۔ ابھی ہماری آنکھوں دیکھی مثال حضورامیرالمجاہدین حضرت شیخ الحدیث مولاناحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی کی ہے اللہ تعالی نے آپ کوصحیح جانشین بنایاہے مذکورۃ الصدرائمہ کا، جب بولتے ہیں مجددالف ثانی رضی اللہ عنہ کی للکارلگتے ہیںاورجب دین دشمن حکمرانوں کی گرفت فرماتے ہیں تولگتاہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی روحانی مددسے کلام فرمارہے ہیں اورجب دین حق کی خاطرقیدوبندکی صعوبتیں جھیل رہے ہوں توپھران کے پائے مبارک کی استقامت سے امام احمدبن حنبل رضی اللہ عنہ کی یادتازہ ہوجاتی ہے ۔

اب وقت ہے کہ آپ بھی اسلامی حکومت کے قیام میں کوئی تاریخ ساز کردار پیش کریں۔

اورحضورامیرالمجاہدین حفظہ اللہ تعالی کے دست وبازوبنیں، ان بے دین حکمرانوں سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں، یقین کیجئے جو لوگ اسلامی کردار اور روح سے خالی ہیں ان کا جال تارِ عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ وہ آپ کی زد میں ہیں بشرطیکہ آپ خود قائم رہیں۔ یہ بت صرف آپ کے سہارے پر قائم ہیں۔ اپنے آپ کو ان کے سہارے پر نہ چھوڑیں! ہاں جائز کاموں میں حکومت سے ضرور تعاون کیا جائے لیکن اس سے ان کے باطل نظامِ سیاست اور پروگرام کی عمر دراز نہ ہونے پائے اور ان کے جو گماشتے آپ کا کاروبار کرنے کے لئے آپ کی طرف بڑھ رہے ہیں، ان کو آپ کے سامنے پیش ہوتے ہوئے آپ کی غیرت اور ثبات علی الحق سے خوف آئے۔ اگر آپ نے خود اپنے منصب اور مقام و مرتبہ کا احترام نہ کیا تو یقین کیجئے:کل آپ کی وہی حیثیت ہو گی جو آج ملک میں چماروں کی ہے۔ آپ اس سے بچیں کہ آپ پر حضور تاجدارختم نبوتﷺکا یہ ارشاد صادق آئے۔کچھ لوگ دین حاصل کریں گے کہ بادشاہوں کا قرب حاصل ہو گا، دنیا کمائیں گے مگر اپنا دین بچا کے رکھیں گے مگر ایسا ممکن نہ ہو گا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں مسلمان حکومتیں، ان تمام ذرائع اور وسائل پر قبضے کرتی جا رہی ہیں، جن سے کسی طور علماء کرام کا تعلق ہو سکتا ہے، پھر ان کو جاہ و منصب اور مادی منفعت کے لالچ دیئے جا رہے ہیں چنانچہ کچھ خام اور ناہنجار لوگ کچے دھاگے سے ادھر کو کھنچے چلے جا رہے ہیں۔ خاص کر اہل سنت وجماعت کے اکابر کے لئے یہ مقامِ غور ہے، بعض پوری جماعتیں، بعض افراد، اور بعض علماء حکمرانوں کی گود میں پناہ لیتے ہیں، ان کو ہوش میں آنا چاہئے، اس سے غرض:حکومت یا حکمرانوں کی مخالفت نہیں کیونکہ یہ مطلوب نہیں ہے۔ بلکہ صرف یہ ہے کہ ان کی غلط کاریوں میں ان کا ساتھ نہ دیا جائے اور یہ احساس کیا جائے کہ ان کی حاشیہ نشینی اور چوبداری کے فرائض اور خدمات آپ کا منصب نہیں ہے۔ تبلیغ اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے سوا ان کی طرف رخ کرنا، آپ کی ذات اور آپ کی آخرت کے لئے خطرناک ہے۔ اگر آپ کے ’’قرب سلطان‘‘کی وجہ سے عوام گمراہ ہو سکتے ہیں اور اس سے غلط کار حکمرانوں کے اغراض سیئہ اور باطل نظامِ حکومت کو غذا مل سکتی ہے۔ تو پھر خوفِ خدا سے کام لیجیے! خدا کے ہاں آپ سے اس کی بڑی باز پرس ہو گی، باقی رہی دنیا؟ سو اس کا بھی کچھ پتہ نہیں کہ وفا کرے یا نہ کرے۔ کیونکہ یہ لوگ عموماً چوس کر پھینک دیا کرتے ہیں، سوچ لیجئے، کہیں کل آپ کا بھی یہی حشر نہ ہو۔ یہ ایک تاریخی تجربہ ہے کہ سچی اسلامی حکومت اور خلافت علی منہاج النبوۃ کے سوا اور کسی بھی طرز کی حکومت ’’علماء حق‘‘کے لئے سازگار فضا مہیا نہیں کر سکتی اور جو بھی حکومت آئی ہے، عموماً اس نے علمائے سوء ہی پیدا کیے ہیں۔ اور کرتی چلی جائے گی۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh