صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2356 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃالاعراف آیت ۶۵تا۷۲۔ وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًا قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,806

سوال (Question):

تفسیر سورۃالاعراف آیت ۶۵تا۷۲۔ وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًا قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حضرت سیدناہودعلیہ السلام کے گستاخوں کاانجام

{وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًا قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ }(۶۵){قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖٓ اِنَّا لَنَرٰیکَ فِیْ سَفَاہَۃٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکٰذِبِیْن}(۶۶){قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاہَۃٌ وَّلٰکِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ }(۶۷){اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ }(۶۸){اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَآء َکُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْکُمْ لِیُنْذِرَکُمْ وَ اذْکُرُوْٓا اِذْجَعَلَکُمْ خُلَفَآء َ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّزَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْطَۃً فَاذْکُرُوْٓا اٰلَآء َ اللہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ}(۶۹){قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللہَ وَحْدَہ وَنَذَرَ مَاکَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ }(۷۰){قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ رِجْسٌ وَّغَضَبٌ اَتُجٰدِلُوْنَنِیْ فِیْٓ اَسْمَآء ٍ سَمَّیْتُمُوْہَآ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُکُمْ مَّا نَزَّلَ اللہُ بِہَا مِنْ سُلْطٰنٍ فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ }(۷۱){فَاَنْجَیْنٰہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَمَاکَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ }(۷۲) ترجمہ کنزالایمان:اور عاد کی طرف ان کی برادری سے ہود کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تمہیں ڈر نہیں۔اس کی قوم کے سردار بولے بیشک ہم تمہیں بیوقوف سمجھتے ہیں اور بیشک ہم تمہیں جھوٹوں میں گمان کرتے ہیں۔کہا اے میری قوم مجھے بے وقوفی سے کیا علاقہ میں تو پروردگارِ عالم کا رسول ہوں۔تمہیں اپنے رب کی رسالتیں پہنچاتا ہوں اور تمہارا معتمد خیرخواہ ہوں۔اور کیا تمہیں اس کا اچنبھا ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں کے ایک مرد کی معرفت کہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کا جانشین کیا اور تمہارے بدن کا پھیلاؤ بڑھایا تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو کہ کہیں تمہارا بھلا ہو۔ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم ایک اللہ کو پوجیں اور جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے انہیں چھوڑ دیں تو لاؤ جس کا ہمیں وعدہ دے رہے ہو اگر سچے ہو۔کہا ضرور تم پر تمہارے رب کا عذاب اور غضب پڑ گیا کیا مجھ سے خالی ان ناموں میں جھگڑ رہے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری تو راستہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ دیکھتا ہوں۔تو ہم نے اسے اور اس کے ساتھ والوں کو اپنی ایک بڑی رحمت فرما کر نجات دی اور جو ہماری آیتیں جھٹلاتے تھے ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان والے نہ تھے ۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور قومِ عاد کی طرف ان کے ہم قوم ہود( علیہ السلام) کو بھیجا ۔ (ہود علیہ السلام)نے)فرمایا:اے میری قوم ! اللہ تعالی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی الہ نہیں۔ تو کیا تمہیں ڈر نہیں؟ ان کی قوم کے کافر سردار بولے ،بیشک ہم تمہیں بیوقوف سمجھتے ہیں اور بیشک ہم تمہیں جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔حضرت سیدناہودعلیہ السلام نے فرمایا:اے میری قوم!مجھ سے بے وقوفی کا کوئی تعلق نہیں۔ میں تو ربُّ العالمین کا رسول ہوں۔میں تمہیں اپنے رب تعالی کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور میں تمہارامخلص خیرخواہ ہوں۔ اور کیا تم کو اس بات پر تعجب ہورہاہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب تعالی کی طرف سے تمہیں میں سے ایک مرد کے ذریعے نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرسنائے اور یاد کرو! جب اس نے تمہیں قومِ نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور تمہاری جسامت میں قوت اور وسعت زیادہ کی تو اللہ تعالی کی نعمتیں یاد کروتا کہ تم فلاح پاو۔ قوم عادنے کہا:کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم ایک اللہ تعالی کی عبادت کریں اور جن چیزوں کی عبادت ہمارے آبائواجدادکیا کرتے تھے انہیں چھوڑ دیں۔ اگر تم سچے ہو تو لے آئو وہ (عذاب)جس کی تم ہمیں وعیدیں سناتے ہو۔ حضرت سیدناہودعلیہ السلام نے فرمایا:بیشک تم پر تمہارے رب تعالی کا عذاب اور غضب لازم ہوگیا۔ کیا تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں جھگڑ رہے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں ، جن کی کوئی دلیل اللہ تعالی نے نہیں اتاری تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔تو ہم نے حضرت ہودعلیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو اپنی رحمت کے ساتھ نجات دی اور جو ہماری آیتیں جھٹلاتے تھے ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان والے نہ تھے۔

قوم عاد کی جسمانی ہئیت

عَنْ وَہْبٍ قَالَ:کَانَ الرَّجُلُ مِنْ عَادٍ سِتِّینَ ذِرَاعًا بِذِرَاعِہِمْ، وَکَانَ ہَامَۃُ الرَّجُلِ مِثْلَ الْقُبَّۃِ الْعَظِیمَۃِ، وَکَانَ عَیْنُ الرَّجُلِ لَتُفْرِخُ فِیہَا السِّبَاعُ، وَکَذَلِکَ مَنَاخِرُہُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناوہب رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ قوم عاد کاایک آدمی ان کے ہاتھوں کے مطابق ساٹھ ہاتھ لمباتھا، اوراس آدمی کی کھوپڑی یعنی سربہت بڑے قبے یعنی گنبدکی مثل تھی اورآنکھیں اتنی بڑی تھیں کہ درندے ان میں بچے جن سکتے تھے اوران کے نتھنے بھی اسی طرح بڑے بڑے تھے ۔ (فتح القدیر:محمد بن علی بن محمد بن عبد اللہ الشوکانی الیمنی (۲:۳۴۹)

قوم عاد کا قد اسی باع تھا

وَرُوِیَ عَن ابْن عَبَّاس رَضِی اللہ عَنْہُمَا أَن الْبرۃ فیہم کَانَت ککلوۃ الْبَقر والرمانۃ الْوَاحِدَۃ یقْعد فِی قشرہا عشر نفر وَالرجل فِی خلقہ ثَمَانُون باعا فَصَارَت الْأَعْمَار مَا بَین السِّتین إِلَی السّبْعین والبرۃ ہَکَذَا والخلقۃ ہَکَذَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ قوم عاد کے ایک آدمی کاقد اسی باع تھا( باع کی مقدار چھے فٹ ہے ) ان کی گندم کاایک دانہ گائے کے ایک گردے کی مثل تھااورایک انارکے چھلکے میں دس افراد بیٹھ سکتے تھے ۔ (نوادر الأصول:محمد بن علی بن الحسن بن بشر، أبو عبد اللہ، الحکیم الترمذی (ا:۱۵۱)

قوم عاد میں شرح اموات

وَأخرج الزبیر بن بکار عَن زید بن أسلم قَالَ: کَانَ فِی الزَّمن الأول تمْضِی أَرْبَعمِائَۃ سنۃ وَلم یسمع فِیہَا بِجنَازَہ۔ ترجمہ :حضرت سیدنازیدبن اسلم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ پہلے زمانے میں چارسوسال گزرجاتے تھے اورکسی ایک جنازے کے بارے میں سنائی نہیں دیتاتھا۔ (الأخبار الموفقیات للزبیر بن بکار:الزبیر بن بکار بن عبد اللہ القرشی الأسدی المکی:۱۸۴)

قوم عاد کی تعداد

عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ خَثْعَمٍ، قَالَ:عَادَ مَا بَیْنَ الْیَمَنِ إِلَی الشَّامِ مِثْلُ الذَّرِّ۔ ترجمہ :حضرت سیدناالربیع بن خثعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قوم عاد یمن سے شام تک چیونٹیوں کی طرح پھیلی ہوئی تھی ۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس بن المنذر ابن أبی حاتم (۸:۲۷۹۲)

قوم عاد نے حضرت سیدناہود علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی

إِنَّا لَنَراکَ فِی سَفاہَۃٍ ای متمکنا فی خفۃ عقل راسخا فیہا حیث فارقت دین آبائک۔ ترجمہ :قوم عاد کے لیڈروں نے حضرت سیدناہود علیہ السلام کوکہاکہ ہم تجھے بے وقوف دیکھتے ہیںاوروہ بے وقوفی تم میں ایسی راسخ ہوچکی ہے کہ اب ا سکاہٹنامشکل ہے ، کیونکہ تم اپنے آبائواجدادکے دین کو ترک کربیٹھے ہو۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۱۸۵)

قوم عاد کی دوسری گستاخی

وَإِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکاذِبِینَ ای فیما ادعیت من الرسالۃ وفیہ اشارۃ الی ان قلوب قوم ہود وسخۃ خبیثۃ کقلوب قوم نوح لم یخرج منہا الخبث الا نکدا فلما أراد ہود علیہ السلام ان یبذر فیہا بذر التوحید والمعرفۃ ولم تکن صالحۃ وقلما خرج منہا إلا نبت التسفیہ والتکذیب سلکوا طریق سلفہم وإخوانہم وصنعوا مثل حالتہم۔ ترجمہ :{وَإِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکاذِبِین}قوم عاد کے لیڈروں نے حضرت سیدناہود علیہ السلام کوکہاکہ جس چیز کی آپ علیہ السلام ہم کو دعوت دیتے ہیں ہم اس میں آپ کو جھوٹاجانتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت سیدنانوح علیہ السلام کی قوم کی طرح قوم عادکے دل کھوٹے اورخبیث تھے اوراس لئے کہ جب حضر ت سیدناہود علیہ السلام نے ان سے کھوٹ نکالاتوان سے معمولی طور پر ثمرہ نکلا، یعنی تھوڑے بندوںنے دین حق کو قبول کیا، چونکہ ان کی زمین اچھی نہیں ، اس لئے جب حضرت سیدناہود علیہ السلام نے توحیدکابیج بویا توخراب زمین والوںنے سوائے خبث اورپاگل پن اورتکذیب کے کچھ نہ نکالا۔اس لئے انہوں نے اپنے اسلاف اوراپنے ہم جنسوں کے طریقے کو ہی اختیارکرکے وہی کہاجو اوپرمذکورہوا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۱۸۵)

قوم عاد پر عذاب کی کیفیت

أخرج اسحق بن بشر وَابْن عَسَاکِر من طَرِیق عَمْرو بن شُعَیْب عَن أَبِیہ عَن جدہ قَالَ: لما أوحی اللہ إِلَی الْعَقِیم أَن تخرج علی قوم عَاد فتنتقم لَہُ مِنْہُم فَخرجت بِغَیْر کیل علی قدر منخر ثَوْر حَتَّی رجفت الأَرْض مَا بَین الْمشرق وَالْمغْرب فَقَالَ الْخزَّان: رب لن نطیقہا وَلَو خرجت علی حَالہَا لأہلکت مَا بَین مَشَارِق الأَرْض وَمَغَارِبہَا فَأوحی اللہ إِلَیْہَا: أَن ارجعی فَرَجَعت فَخرجت علی قدر خرق الْخَاتم وَہِی الْحلقَۃ فَأوحی اللہ إِلَی ہود: أَن یعتزل بِمن مَعَہ من الْمُؤمنِینَ فِی حَظِیرَۃ فاعتزلوا وخطَّ عَلَیْہِم خطا وَأَقْبَلت الرّیح فَکَانَت لَا تدخل حَظِیرَۃ ہود وَلَا تجَاوز الْخط إِنَّمَا یدْخل عَلَیْہِم مِنْہَا بِقدر مَا تلذ بِہِ أنفسہم وتلین عَلَیْہِ الْجُلُود وَإِنَّہَا لَتَمَرُّ من عَاد بالظعن بَین السَّمَاء وَالْأَرْض وتدمغہم بِالْحِجَارَۃِ وَأوحی اللہ إِلَی الْحَیَّات والعقارب:أَن تَأْخُذ عَلَیْہِم الطّرق فَلم تدع عادیاً یجاوزہم ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعمروبن شعب رحمہ اللہ تعالی اپنے داداجان رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے’’ عقیم ‘‘تباہ وبرباد کردینے والی ہواکی طرف وحی فرمائی کہ وہ قوم عاد پر چلے اوران سے حضرت سیدناہودعلیہ السلام کی گستاخی کاانتقام لے ، وہ بیل کے نتھنے کی مقداربغیرکیل سے نکلی ، یہاں تک کہ مشرق ومغرب کے درمیان ساری زمین کانپ گئی ، توخازن نے کہا: اے ہمارے رب !ہم اسے ہرگزبرداشت نہیں کرسکتے ، اگریہ اسی حالت پرنکلتی رہے توزمین کے مشارق ومغارب کے مابین ہرچیز کو ہلاک اورتباہ وبربادکردے گی ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے اس کی طرف وحی فرمائی کہ واپس لوٹ آ، تووہ واپس لوٹ گئی پھرانگوٹھی کے ہلکے سے سراخ کی مقدارجتنی نکلی تواللہ تعالی نے حضرت سیدناہود علیہ السلام کی طرف یہ وحی فرمائی کہ وہ اپنے مومنین کولیکر ایک باڑے میں علیحدگی اختیارکرلیں ، چنانچہ وہ اپنے ساتھیوں سمیت قوم سے علیحدہ ہوگئے ، اورآپ علیہ السلام نے ان کے اردگردایک خط کھینچ دیا، پھرہواآئی مگرحضرت سیدناہود علیہ السلام کے باڑے میں بالکل داخل نہ ہوئی اورنہ ہی اس نے خط سے تجاوزکیا، ان اہل ایمان پر صرف اتنے مقدارمیں ہواچلی جس سے ان کے نفوس لطف اندوز ہوں اوران کی جسمانی جلدیں نرم رہیں لیکن قوم عاد سے زمین وآسمان کے درمیان پوری شدت کے ساتھ چلتے ہوئے گزری اوران کو پتھروں کے ساتھ زخمی کرتی گئی اوراللہ تعالی نے سانپوں اوربچھوئوں کو حکم دیاکہ وہ ان کے راستوں پربیٹھ جائیں اورقوم عاد کے کسی بھی فرد کو وہاں سے گزرنے نہ دیں ۔ (تاریخ دمشق:أبو القاسم علی بن الحسن بن ہبۃ اللہ المعروف بابن عساکر (۶۲:۲۸۸)

دینی عقائد میں شک کرنے والابھی کافرہے

وَقَالَ الْحَسَنُ وَالزَّجَّاجُ: کَانَ تَکْذِیبُہُمْ إِیَّاہُ عَلَی الظَّنِّ لَا عَلَی الْیَقِینِ فَکَفَرُوا بِہِ ظَانِّینَ لَا مُتَیَقِّنِینَ وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّ حُصُولَ الشَّکِّ وَالتَّجْوِیزِ فِی أُصُولِ الدِّینِ یُوجِبُ الْکُفْرَ. ترجمہ :امام حسن بصری رحمہ اللہ اورامام الزجاج رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ انہوںنے حضر ت سیدناہود علیہ السلام کی تکذیب بطورظن کی تھی نہ کہ بطوریقین ، انہوںنے آپ علیہ السلام کے ساتھ ظن کی بنیادپرکفرکیاتھا، نہ کہ یقین کی بنیادپر، یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ اصول دین میں شک اورجواز کاحصول کفرکاموجب ہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۴:۲۹۹)

معارف ومسائل

(۱)حضرت سیدناہود علیہ السلام نے قوم کی ھدایت کے لیے نہایت کوشش کی مگر چند افراد کو چھوڑ کر کسی نے ان کی تصدیق نہیں کی اور ان کی نصیحتوں پر یقین نہیں کیا اور انہیں خود سے دور کیا۔ قوم عاد نے حضرت سیدناہود علیہ السلام کی نصیحتوں کو قبول کرنے کی بجائے بت پرستی اختیار کی اور خدا پرستی چھوڑ دی اور حضرت سیدناہود علیہ السلام کا انکار اور ہر دن انھیں اذیت پہنچاتے تھے۔ یہاں تک کہ آسمان پر کالے بادل چھاگئے اور قوم عاد کے جاہل لوگ کہنے لگے اس سے ہمارے لیے مفید بارش برسے گی۔ مگرحضرت سیدنا ہودعلیہ اسلام نے ان سے کہا کہ یہ بادل رحمت کے نہیں بلکہ غضب کے ہیں۔ مگر انہوں نے حضرت سیدناہود علیہ السلام کی ایک بھی نہ سنی ۔ کچھ دیر بعد ہود کا کہا سچائی میں بدلتا گیااور تیز ہوائیں چلنے لگی جن کی رفتار اتنی زیادہ تھی کہ گھوڑوں، مال مویشیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ دے مارتی تھی۔ (۲)اس ہوا کے لیے جو قومِ عاد پر چلی، قرآن میں ریح صرصر کے الفاظ بیان کیے گئے ہیں۔ یہ لفظ بہت تیز طوفانی ہوا کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ دوسرے مقام پر اس ہوا کے لیے لفظ عقیم استعمال ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بے خیر ہوا تھی نہ خوشگوار تھی، نہ بارش لانے والی، نہ درختوں کو پھل دینے والی تھی، بس اچانک زور کی آندھی اُٹھی۔ یہ لوگ دور سے اس کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھ کر سمجھے کہ گھٹا چھائی ہے۔ خوشیاں منانے لگے کہ اب خوب بارش ہوگی۔ مگر وہ اللہ کا عذاب تھا۔ آٹھ دن اور سات راتوں تک مسلسل ایسی طوفانی ہوا چلتی رہی جس نے ہر چیز کو تباہ کرڈالا۔ اس کے زور کا یہ عالم تھا کہ اس نے آدمیوں کو اُٹھا اُٹھا کر پھینک دیا۔ اس کی گرمی و خشکی کا یہ حال تھا کہ جس چیز پر گزر گئی اسے بوسیدہ کرکے رکھ دیا۔ اور یہ طوفان اُس وقت تک نہ تھما جب تک اس ظالم قوم کا ایک ایک متنفس ختم نہ ہوگیا۔ بس ان کی بستیوں کے کھنڈر ہی ان کے انجام کی داستان سنانے کے لیے کھڑے رہ گئے۔ اور آج کھنڈر بھی باقی نہیں ہیں۔ پورا علاقہ ایک خوفناک ریگستان بن چکا ہے جہاں کسی کو آج بھی جانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ قرآن مجید میں اس عذاب کی جو تفصیل آئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ہوا مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک چلتی رہی۔ اس کے زور سے لوگ اس طرح گر گر کر مرگئے اور مر مر کر گر پڑے جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے گرے پڑے ہوں جس چیز پر سے بھی یہ ہوا گزر ی، اس کو بوسیدہ کرکے رکھ دیا ۔ جس وقت یہ ہوا آرہی تھی اُس وقت عاد کے لوگ خوشیاں منا رہے تھے کہ خوب گھٹا گِھر کر آئی ہے، بارش ہوگی اور سوکھے دھانوں میں پانی پڑ جائے گا۔ مگر وہ آئی تو اس طرح آئی کہ اس نے ان کے پورے علاقے کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ (۳)یادرہے کہ یہ سزائیں خود ان کے کرتوتوں کے لازمی نتائج کے طور پر وقوع پذیر ہوئیں۔ ان سزاؤں کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالی نے ان پر ظلم کیا ہو۔ یہاں اہل مکہ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تم تاریخ کے اس مکافات عمل سے مستثنیٰ نہیں ہو۔ تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ ہونے والا ہے۔ (۴)یادرہے کہ تاریخ میں عاد کے دو قبیلے مشہور تھے ایک کو عادِ اِرم یا عاد اولیٰ کہا جاتا ہے اور دوسرے کو عادِ اخریٰ-عاد اولیٰ کا نسب نامہ یہ ہے، عاد بن ارم بن طوص بن سام بن نوح اسی عاد کی اولاد قوم عاد کے نام سے مشہور ہوئی حضرت سیدناہود علیہ السلام انہی کی طرف مبعوث ہوئے لیکن انہوں نے ان کی دعوت کو مسترد کردیا اسی لئے تباہ کر دیئے گئے اس قبیلہ کے جو لوگ عذاب سے بچ گئے اور پھر ان کی نسل بڑھی وہ بھی قومِ عاد ہی کہلائی دونوں میں امتیاز کرنے کیلئے پہلی کوعادِ اولیٰ یا عادِ ارم کہا جاتا ہے او ردوسری کو عادِ اخریٰ کہا ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh