Fatwa #2358
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃالاعراف آیت ۸۰ تا ۸۴۔وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفٰحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
7,071
سوال (Question):
تفسیر سورۃالاعراف آیت ۸۰ تا ۸۴۔وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفٰحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
حضرت سیدنالوط علیہ السلام اوران کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخوں کاعبرت ناک انجام
{وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفٰحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ }(۸۰){اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَہْوَۃً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآء ِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ }(۸۱){وَمَاکَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ قَرْیَتِکُمْ اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوْنَ }(۸۲){فَاَنْجَیْنٰہُ وَاَہْلَہٓ اِلَّا امْرَاَتَہ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ }(۸۳){وَاَمْطَرْنَا عَلَیْہِمْ مَّطَرًا فَانْظُرْکَیْفَ کَانَ عٰقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ}(۸۴) ترجمہ کنزالایمان:اور لوط کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی۔تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے ۔اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں۔تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہوئی ۔اور ہم نے ان پر ایک مینھ برسایا تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور ہم نے لوط( علیہ السلام ) کو بھیجا، جب انہوںنے اپنی قوم سے فرمایا کیا تم وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے سارے جہان میں کسی نے نہیں کی۔بیشک تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو (مردوں سے شہوت پوری کرتے ہو)بلکہ تم لوگ حد سے بڑھے ہوئے ہو۔اور ان کی قوم کا اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ انہوں نے کہا:ان کو اپنی بستی سے نکال دو۔ یہ لوگ بڑے نیک پاک بنے پھرتے ہیں۔تو ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو نجات دی سوائے اس کی بیوی کے ۔وہ باقی رہنے والوں میں سے تھی۔ اور ہم نے ان پر بارش برسائی تو دیکھو ،مجرموں کاکیسا انجام ہوا؟۔ حضرت سیدنالوط علیہ السلام کی قوم کی عملی حالتاس عمل بدکی ابتداکیسے ہوئی ؟
عَن طَاوس أَنہ سُئِلَ عَن الرجل یَأْتِی الْمَرْأَۃ فِی عجیزتہا قَالَ:إِنَّمَا بَدْء قوم لوط ذَاک صَنعتہ الرِّجَال بِالنسَاء ثمَّ صَنعتہ الرِّجَال بِالرِّجَالِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناطائوس رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ان سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھاگیاجوعورت کے دبرکے راستے سے ملاپ کرتاتھا؟ توآپ رحمہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ اس کام کاآغاز قوم لوط نے کیاتھا، پہلے مردوں نے یہ فعل عورتوں کے ساتھ کیااورپھریہی فعل مردوں نے مردوں کے ساتھ کیا۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۳:۴۹۵)یہ عمل بدانہوں نے بطورسزاکے شروع کیا
عَن ابْن عَبَّاس قَالَ:کَانَ الَّذِی حملہمْ علی إتْیَان الرِّجَال دون النِّسَاء أَنہم کَانَت لَہُم ثمار فِی مَنَازِلہمْ وحوائطہم وثمار خَارِجَۃ علی ظہر الطَّرِیق وَإِنَّہُم أَصَابَہُم قحط وَقلۃ من الثِّمَار فَقَالَ بَعضہم لبَعض: إِنَّکُم إِن منعتم ثمارکم ہَذِہ الظَّاہِرَۃ من أَبنَاء السَّبِیل کَانَ لکم فِیہَا عَیْش قَالُوا:بِأَیّ شَیْء نمنعہا قَالُوا: اجعلوا سنتکم من أَخَذْتُم فِی بِلَادکُمْ غَرِیبا سننتم فِیہِ أَن تنکحوہ واغرموہ أَرْبَعَۃ دَرَاہِم فَإِن النَّاس لَا یظہرون ببلادکم إِذا فَعلْتُمْ ذَلِک فَذَلِک الَّذِی حملہمْ علی مَا ارتکبوا من الْأَمر الْعَظِیم الَّذِی لم یسبقہم إِلَیْہِ أحد من الْعَالمین۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ وہ شئی جس نے سدوم کو عورتوں کو چھوڑ کرمرد وں کے ساتھ بے حیائی کافعل کرنے پرابھارا،وہ یہ تھی کہ ان کے گھروں اوران کے باغات میں ان کے پھل پکے ہوئے تھے ، وہ پھل راستے کی جانب باہرکو لٹکے ہوئے تھے ، ایک باران پر قحط پڑااورپھلوں کی قلت آگئی ، توانہوںنے آپس میں ایک دوسرے کو کہاکہ اگرتم اس ظاہرسامنے والے پھلوں کو مسافروں سے محفوظ رکھوگے تواس میں تمھارے لئے عیش وخوشحالی ہوگی ، انہوںنے کہاکہ ہم کیسے اس پھل کو مسافروں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں ؟ توانہوںنے کہاکہ تم یہ اصول بنالوکہ تم اپنے شہر میں جس اجبنی شخص کو پکڑلواس کے بارے میں یہ طریقہ کرواس کے ساتھ بدفعلی کرو!اوراس پر چاردرہم جرمانہ لگادو!کیونکہ جب تم اس سے کروگے تولوگ تمھارے شہرکی طرف نہیں آئیں گے ، پس یہی وہ شئی ہے جس نے ان کو اتنی بڑی بے حیائی کے ارتکاب پر ابھارا۔ جس کاارتکاب ان سے قبل پوری دنیامیں کسی نے بھی نہیں کیاتھا۔ (الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۴:۴۹۶)عورتوں میں بھی ہم جنس پرستی
عَنْ أَبِی جَمْرَۃَ قَالَ:اللُّوَاطُ فِی قَوْمِ لُوطٍ فِی النِّسَاء ِ قَبْلَ أَنْ یَکُونَ فِی الرِّجَالِ بِأَرْبَعِینَ سَنَۃً۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوجمرہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہم جنس پرستی کاعمل مردوں میں شرو ع ہونے سے بھی پہلے عورتوں میں چالیس سال تک رہا۔ (شعب الإیمان:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (۷:۳۲۵)اس عمل کے متعلق سوال کرنے والے کو حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ کاجواب
عَنْ أَبِی الْمُعْتَمِرِ أَوْ عَنْ أَبِی الْجُوَیْرِیَۃِ، شَکَّ الصَّلْتُ، قَالَ:قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی الْمِنْبَرِ:سَلُوا، فَقَالَ ابْنُ الْکَوَا:تُؤْتَی النِّسَاء ُ فِی أَعْجَازِہِنَّ؟ فَقَالَ عَلِیٌّ:سَفِلْتَ سَفَلَ اللَّہُ بِکَ، أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَی قَوْلِہِ:(أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِینَ) (الأعراف: ۸۰) ترجمہ :حضر ت سیدناابوالجویریہ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ منبرپرجلوہ گرتھے توآپ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ مجھ سے سوال کرو!توابن الکواء نے پوچھاکہ کیامردعورت کے ساتھ پچھلے حصے سے ملاپ کرسکتاہے ؟ توآپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ گھٹیاکام ہے ، اللہ تعالی تجھے ذلیل کرے ، کیاتونے اللہ تعالی کایہ فرمان شریف{أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِینَ} (الأعراف: ۸۰)نہیں پڑھا؟ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس بن المنذر (۵:۱۵۱۷) خنزیراورگدھااس عمل بدمیں مبتلاء ہوتاہے عَنْ عُرْفُطٍ الْعَبْدِیِّ، قَالَ:سَمِعْتُ ابْنَ سِیرِینَ، یَقُولُ:لَیْسَ شَیْء ٌ مِنَ الدَّوَابِّ یَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ إِلَّا الْخِنْزِیرُ وَالْحِمَارُ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام بن سیرین رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جانوروں میں خنزیراورگدھے کے علاوہ کوئی اس عمل بدمیں مبتلاء نہیں ہے ۔ (شعب الإیمان:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (۷:۲۸۷)اس فعل بدکاموجد شیطان ملعون ہے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّمَا کَانَ بَدْء ُ عَمَلِ قَوْمِ لُوطٍ: أَنَّ إِبْلِیسَ جَاء َہُمْ فِی ہَیْئَۃِ صَبِیٍّ، أَجْمَلَ صَبِیٍّ رَآہُ النَّاسُ، فَدَعَاہُمْ إِلَی نَفْسِہِ فَنَکَحُوہُ ثُمَّ جَسَرُوا عَلَی ذَلِکَ۔ ترجمہ :امام الکلبی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے اغلام بازی ابلیس نے کرائی ، وہ اس طرح کہ قوم لوط کے پاس حسین وجمیل اوربے ریش لڑکے کی صورت میں آیااوران کو اس گندے فعل کی دعوت دی توان کو اس سے چسکاپڑگیا، اس کے بعد جو بے ریش لڑکاانہیں مل جاتااس کے ساتھ یہ بدفعلی کرتے تھے ۔ (تفسیر أبی السعود :أبو السعود العمادی محمد بن محمد بن مصطفی (۳:۲۴۵)امردکے ساتھ اٹھارہ شیطان ہوتے ہیں
قال القاضی سمعت الامام یقول ان مع کل امرأۃ شیطانین ومع کل غلام ثمانیۃ عشر شیطانا ۔ ترجمہ :حضرت قاضی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے امام صاحب رحمہ اللہ تعالی سے سناکہ ہرعورت کے ساتھ دوشیطان ہوتے ہیں جبکہ ہرامردکے ساتھ اٹھارہ شیطان ہوتے ہیں۔ (مکاشفۃ القلوب لامام محمدالغزالی :۵۰۲)قوم لوط کی گستاخیاں
أَخْرِجُوہُمْ ای لوطا ومن معہ من المؤمنین مِنْ قَرْیَتِکُمْ ای الا ہذا القول الذی یستحیل ان یکون جوابا لکلام لوط ولیس المراد لم یصدر عنہم بصدد الجواب عن مقالات لوط ومواعظہ الا ہذہ المقالۃ الباطلۃ کما ہو المتسارع الی الافہام بل انہ لم یصدر عنہم فی المرۃ الاخیرۃ من مرات المحاورات الجاریۃ بینہم وبینہ علیہ السلام الا ہذہ الکلمۃ الشنیعۃ والا فقد صدر عنہم قبل ذلک کثیر من الترہات حسبما حکی عنہم فی سائر السور الکریمۃ وہذا ہو الوجہ فی نظائرہ الواردۃ بطریق القصر وقولہ مِنْ قَرْیَتِکُمْ ای من بلدکم فان العرب تسمی المدینۃ قریۃ والمراد بلدۃ سدوم إِنَّہُمْ أُناسٌ یَتَطَہَّرُونَ ای یطلبون الطہارۃ من الفواحش قالوہ علی وجہ الاستہزاء والسخریۃ بہم۔ ترجمہ :حضرت سیدنالوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس فعل حرام سے منع فرمایاتوانہوںنے کہاکہ حضرت لوط علیہ السلام اوران کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس علاقہ سے نکال دو، یہ بکواس انہوںنے تب کی جب ان کے پاس حضرت سیدنالوط علیہ السلام کے دلائل کاجواب نہیں تھا اورنہ ہی ان کے مواعظ ونصائح کے مطابق پورے اترسکے ،تولڑائی پراترآئے ، وہی گستاخی کی جو پہلے مذکورہوئی ۔ لیکن حضرت سیدنالوط علیہ السلام کی ابتدائی تبلیغ سے نہیں بلکہ آخرمیں بہت عذاب کے وقوع کاوقت قریب آگیا، چنانچہ کلام کے سیاق وسباق سے معلو م ہوتاہے ، ہاں اس سے قبل جب حضرت سیدنالو ط علیہ السلام انہیں نصائح ومواعظ سناتے تووہ اورطریقے سے آپ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرتے اوردیگرطریقے کے ساتھ آپ علیہ السلام کی توہین کرتے ، لیکن یہ گستاخی ان کی آخری تھی ، چنانچہ جہاں بھی قرآن کریم میں ان کاقصہ بیان ہوااس کے آخرمیں ان کایہی قول مذکورہوا۔ اورانہوں نے کہاکہ { إِنَّہُمْ أُناسٌ یَتَطَہَّرُونَ}بے شک یہ ایسے ہیں جوخود کو پاکیزہ سمجھتے ہیں اورہمارے افعال کو قبیح جانتے ہیں لھذاایسے پاکباز لوگوں کو اپنے شہرسے نکال دو!یادرہے کہ یہ انہوں نے حضرت سیدنالوط علیہ السلام اورآپ علیہ السلام کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کامذاق اڑاتے ہوئے اورتوہین کرتے ہوئے کہا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۹۶)عذاب مسلط کرنے کی تفصیل
ثُمَّ أُمِرَ جِبْرِیلُ، عَلَیْہِ السَّلَامُ فَأَدْخَلَ جَنَاحَہُ تَحْتَ مَدَائِنِہِمْ فَاقْتَلَعَہَا وَرَفَعَہَا حَتَّی سَمِعَ أَہْلُ السَّمَاء ِ صِیَاحَ الدِّیَکَۃِ وَنُبَاحَ الْکِلَابِ، ثُمَّ جَعَلَ عَالِیَہَا سَافِلَہَا، وَأُمْطِرَتْ عَلَیْہِمْ حِجَارَۃٌ مِنْ سِجِّیلٍ۔ ترجمہ :حضرت سیدناجبریل امین علیہ السلام کو حکم دیاگیاتوانہوںنے اپناپران بستیوں کے نیچے داخل کیااوران تمام بستیوں کو نیچے سے اکھاڑ ڈالااوران کو اوپراٹھالیایہاں تک کہ اہل آسمان نے مرغوں کی پکاراورکتوں کے بھونکنے کی آواز سن لی اورپھران کے اوپروالے حصے کو نیچے کردیا(یعنی الٹاکرکے زمین پردے مارااوران پرکنکرکی پتھریاں برسائیں ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکرشمس الدین القرطبی (۷:۲۴۶) چالیس لاکھ لوگ عذاب سے تباہ ہوگئے وَأخرج أَبُو الشَّیْخ عَن سعید بن أبی عرُوبَۃ قَالَ:کَانَ قوم لوط أَرْبَعَۃ آلَاف ألف۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوعروبہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنالوط علیہ السلام کی قوم کی تعداد چالیس لاکھ تھی ۔ (الہدایۃ :أبو محمد مکی بن أبی طالب حَمّوش بن محمد بن مختار الأندلسی القرطبی المالکی (۶:۵۶۲۶)خدا کے لئے انبیاء کرام علیہم السلام کی گستاخی سے بچاجائے
غیر فِطری جِنسی اختلاط خصوصاً مرد کا کِسی مرد کے ساتھ۔ اغلام بازی اورسدومیت کا معنی ہوتا ہے کہ ایک مرد دوسرے مرد سے اپنی نفسانی خواہش پوری کرنے والی حرکت کرے۔ یہ حرکت اس قوم سدوم نے ایجاد کی تھی جس کی طرف حضرت سیدنالوط علیہ السلام کو بھیجاگیااورجس کے بعد اللہ تعالی کا عذاب بھی آ گیا۔ اس حرکت کی وجہ سے بہت سی بیماریوں کا سامنا پڑ سکتاہے۔ اسلامی ممالک میں یہ عمل غیر قانونی ہے حالانکہ بہت سے غیر اسلامی ممالک میں بھی سدومی کو قانونی طور پر تسلیم بھی کیا گیا ہے۔ لغت کی کتب میں ’’اغلام بازی‘‘ کامعنی یہ لکھاہے ’’اغلام بازی کرنا لڑکوں کے ساتھ بد فعلی کرنا ‘‘۔توپھراس فعل بدکو حضرت سیدنالوط علیہ السلام کے اسم شریف سے منسوب کرکے ’’لواطت ‘‘اورکہنااللہ تعالی کے نبی علیہ السلام کی بے ادبی کے زمرے میں آتاہے لھذااس طرح لکھنے اوربولنے سے پرہیزکرناچاہئے ۔ بلکہ اس فعل کے مرتکب کو لوطی کہنے کے بجائے اغلام باز اوراس فعل بدکو لواطت کہنے کے بجائے اغلام بازی کہااورلکھاجائے ۔ حضرت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ کی تفسیرکے تحت متعددباراس فعل شنیع کاذکرکیامگرہربارلفظ ’’اغلام بازی ‘‘لکھا۔ایک جگہ لکھتے ہیں کہ اغلام بازی قوم لوط کی ایجاد ہے ۔اوردوسری جگہ لکھتے ہیں: اغلام حرام قطعی ہے ، اس کامنکرکافرہے ۔ملاحظہ فرمائیں تفسیرنعیمی ( ۸:۵۶۹)معارف ومسائل
(۱)اغلام بازی کا عمل عقلی اور طبی دونوں اعتبار سے بھی انتہائی خبیث ہے، عقلی اعتبار سے ا س کی ایک خباثت یہ ہے کہ یہ عمل فطرت کے خلاف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فطری اعتبار سے مرد کو عمل کرنے والا اور عورت کو خاص مقام میں عمل قبول کرنے والا بنایا ہے اور اغلام بازی انسان تو انسان جانوروں کی بھی فطرت کے خلاف ہے کہ جانور بھی شہوت پوری کرنے کے لئے نر کی طرف یا مادہ کے خاص مقام کے علاوہ کسی طرف نہیں بڑھتا، اس لئے اغلام بازی کرنے والا اپنی فطرت کے خلاف چل رہا ہے اور فطرت کے خلاف چلنا عقلی اعتبار سے انتہائی قبیح ہے۔ دوسری خباثت :یہ ہے کہ ا س کی وجہ سے نسلِ انسانی میں اضافہ رک جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نسلِ انسانی میں اضافے کا یہ طریقہ مقرر فرمایا ہے کہ مرد اور عورت دونوں میں شہوت رکھی اور اس شہوت کی تسکین کے لئے جائز عورت کو ذریعہ بنایا، جب یہ اپنی شہوت پوری کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں عورت حاملہ ہوجاتی اور کچھ عرصے بعد اس کے ہاں ایک انسان کی پیدائش ہوتی ہے اور اس طرح انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اب اگر شہوت کو اس کے اصل ذریعے کی بجائے کسی اور ذریعے سے تسکین دی جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ نسلِ انسانی میں اضافہ رک جائے گا اور اس صورت میں انتہائی سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، جیسے وہ ممالک جن میں اغلام بازی کے عمل کو رواج دیا گیا ہے آج ان کا حال یہ ہو چکا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے لوگوں کو اپنے ہاں بلوا کر اور انہیں آسائشیں دے کر اپنے ملک کے لوگوں کی تعداد بڑھانے پر مجبور ہیں۔ تیسری خباثت: یہ ہے کہ ا س عمل کی وجہ سے انسانیت ختم ہو جاتی ہے کیونکہ مرد کا عورت سے اپنی شہوت کو پورا کرنا جانوروں کے شہوانی عمل سے مشابہت رکھتا ہے لیکن مرد و عورت کے اس عمل کو صرف اس لئے اچھا قرار دیا گیا ہے کہ وہ اولاد کے حصول کا سبب ہے اور جب کسی ایسے طریقے سے شہوت کو پورا کیا جائے جس میں اولاد حاصل ہونا ممکن نہ ہو تو یہ انسانیت نہ رہی بلکہ نری حیوانیت بن گئی اور کسی کا مرتبہِ انسانی سے گر کر حیوانوں میں شامل ہونا عقلی اعتبار سے انتہائی قبیح ہے۔ چوتھی خباثت :یہ ہے کہ اغلام بازی کا عمل ذلت و رسوائی اور آپس میں عداوت اور نفرت پیدا ہونے کا ایک سبب ہے جبکہ شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرنا عزت کاذریعہ اور ان میں الفت و محبت بڑھنے کا سبب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: { وَ مِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوٰجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْہَا وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً } اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کی طرف آرام پاو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی۔ اور عقلِ سلیم رکھنے والے کے نزدیک وہ عمل ضرور خبیث ہے جو ذلت و رسوائی اور نفرت و عداوت پیدا ہونے کا سبب بنے۔ طبی طور پر ا س کی خباثت کے لئے یہی کافی ہے کہ انسان کی قوتِ مُدافعت ختم کر کے اسے انتہائی کَرب کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دینے والا اور ابھی تک لا علاج مرض پھیلنے کا بہت بڑا سبب ا غلام بازی ہے اور جن ممالک میںاغلام بازی قانونی شکل دے کر عام کرنے کی کوشش کی گئی ہے ان میں دیگر ممالک کے مقابلے میں ایڈز کے مرض میں مبتلا افراد کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ اور ا س کی دوسری طبی خباثت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کے رحم میں منی کو جذب کرنے کی زبردست قوت رکھی ہے اور جب مرد اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرتا ہے تو ا س کے جسم کا جو حصہ عورت کے جسم میں جاتا ہے تو رحم اس سے منی کے تمام قطرات جذب کر لیتا ہے جبکہ عورت اور مرد کے پچھلے مقام میں منی جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھی گئی اور جب مرد اغلام بازی کا عمل کرتا ہے تو اِس کے بعداغلام بازی کے عمل کے لئے استعمال کئے گئے جسم کے حصے میں منی کے کچھ قطرات رہ جاتے ہیں اور بعض اوقات ان میں تَعَفُّن پیدا ہو جاتا ہے اور جسم کے اس حصے میں سوزاک وغیرہ مہلک قسم کے امراض پیدا ہو جاتے ہیں اور اس شخص کا جینا دشوار ہوجاتا ہے۔(تفسیرصراط الجنان (۳:۳۶۶) (۲)اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی کے دن برے آتے ہیں تو اسے اوندھی سوجھتی ہے کہ اسے اچھی چیزیں بری لگنا اور بری چیزیں اچھی نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ آج کل کے حالات دیکھے جائیں تو ہمارے معاشرے میں بھی لوگوں کی ایک تعداد ایسی ہے جن میں یہ وبا عام نظر آتی ہے اور یہ لوگ جب کسی کو دین کے احکام پر عمل کرتا دیکھتے ہیں تو ان کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے اور ا س خرابی کے باعث داڑھی رکھنے کو برا اور نہ رکھنے کو اچھا سمجھتے ہیں۔ داڑھی والے کو حقارت کی نظر سے اور داڑھی منڈے کو پسند کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ داڑھی والے کے ساتھ رشتہ کرنے کو باعث عار اور بغیر داڑھی والے سے رشتہ کرنے کو قابلِ فخر تصور کرتے ہیں۔ نماز روزے کی پابندی اور سنتوں پر عمل کرنے والے انہیں اپنی نگاہوں میں عجیب نظر آتے اور گانے باجوں ، فلموں ڈراموں میں مشغول لوگ زندگی کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں۔ عورتوں کا پردہ کرنا فرسودہ عمل اور بے پردہ ہونا جدید دور کا تقاضا سمجھتے ہیں۔ صرف اپنی بیوی کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کو تنگ ذہنی اور غیر عورتوں سے ناجائز تعلقات کو روشن خیالی کہتے ہیں۔ اپنی عورتوں کے غیر مردوں سے دور رہنے کو اپنی بے عزتی جبکہ ان کا غیر مردوں سے ملنے اور ان سے تعلقات قائم کرنے کو اپنی عزت تصور کرتے ہیں۔ حرام کمائی کو اپنا حق ا ور ضرورت جبکہ حلال کمائی کواپنی حق تلفی قرار دیتے ہیں۔ امانت و دیانت داری اور سچائی کو بھولا پن جبکہ خیانت، جھوٹ ،دھوکہ اور فریب کاری کو اپنی چالاکی اور مہارت سمجھتے ہیں۔(تفسیرصراط الجنان (۳:۳۶۶) (۳)اس شنیع فعل کی موجد قوم سدوم ہے ، جنہیں اللہ تعالی نے وہ سزادی اورتباہ کیاکہ ان کے مرداراجسام اورلاشوںسے زمین کے اوپروالے حصے کوہمیشہ کے لئے پاک فرمایا، یہ مردارعمل اس وقت دنیاکے بہت حصوں میں موجود ہے اوریورپ کی تہذیب یافتہ انسانی شرافت کے دشمن اسے پسندیدہ عمل قراردیتے ہوئے باقاعدہ اسے قانونی شکل اورتحفظ دے چکے ہیں ، حتی کہ برطانوی اورفرانسیسی پارلیمنٹ تویہ قانون تالیوں کی گونج میں فخریہ طورپرپاس کرچکے ہیں کہ اگردوبالغ مرد اوراسی طرح دوبالغہ عورتیں رضامندی سے ہم جنسی کااہتمام کرلیں تووہ کرسکتے ہیں ، ان پر کوئی جرم عائد نہیں ہوتا، البتہ اگرکسی کے ساتھ زبردستی کی جائے توپھرگناہ ہے اورقابل مواخذہ جرم ہے ، خنزیرکھانے والے اسی طرح بے غیرت ہوتے ہیں ، انگریز عیسائی ، سیکھ قومیں خنزیرپالنے اورکھانے میں مشہورہیں ، ان کاشماردنیاکے بدترین بے حیائوں اورکمینے لوگوں میں ہوتاہے ، سکھوںمیں یہ رواج عام ہے کہ چاربھائیوں کی ایک بیوی ہوتی ہے اورانگریزوں کامعاشرہ اورازدواجی قانون اتناغیرمہذب اورناپاک ہے کہ کتوں سے بدتراورمردارہے ۔ (۴)بارہویں صدی کے آخر میں یورپ کے مذہبی اور سیکولر اداروں میں امرد پرستی (ہم جنس پرستی)کو قابل نفرت سمجھا جاتا تھا، مسیحی مذہبی رہنما ایکونیاس سینٹ اور دیگر نے اپنی تحریروں میں ہم جنس پرستی کو غیر فطری قرار دیا اور اس کی مذمت کی۔ انیسویں صدی تک امرد پرستی (ہم جنس پرستی)کو فطرت کے خلاف بغاوت تصور کیا جاتا تھا۔ قانون کی نظر میں یہ گناہ نہ صرف قابل سزا تھا بلکہ اس جرم میں موت تک کی سزا دی جاتی تھی۔دین اسلام امرد پرستی (ہم جنس پرستی)کو گناہ اور حرام قرار دیتا ہے اور اس کے مرتکب کے لیے دنیا اور آخرت میں سخت تریں سزا ہے۔ دنیا میں انسان جوں جوں ترقی کی منزلیں سر کررہا ہے شیطان کے چنگل میں پھنس کر اتنے ہی گناہ کرتاچلا جارہا ہے۔ ان گناہوں میں سے ایک گناہ امرد پرستی (ہم جنس پرستی)کا بھی ہے جس میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ بے شمار ممالک میں ہم جنس پرستی کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے اور کئی ممالک میں ہم جنس پرستوں کو شادی کی بھی اجازت ہے۔ گناہوں میں لتھڑے ہوئے لوگ یہ موقف رکھتے ہیں کہ اتنے گناہ کرو کہ وہ قانون بن جائیں۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9