صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2552 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

تفسیر سورۃالانبیاء آیت ۳۶تا۴۱۔ وَ اِذَا رَاٰکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ہُزُوًا اَہٰذَا الَّذِیْ یَذْکُرُ اٰلِہَتَکُمْ وہَُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ہُمْ کٰفِرُوْنَ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,836

سوال (Question):

تفسیر سورۃالانبیاء آیت ۳۶تا۴۱۔ وَ اِذَا رَاٰکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ہُزُوًا اَہٰذَا الَّذِیْ یَذْکُرُ اٰلِہَتَکُمْ وہَُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ہُمْ کٰفِرُوْنَ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخوں کواللہ تعالی کی وعیدشدید

{وَ اِذَا رَاٰکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ہُزُوًا اَہٰذَا الَّذِیْ یَذْکُرُ اٰلِہَتَکُمْ وہَُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ہُمْ کٰفِرُوْنَ }(۳۶){خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ سَاُورِیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ}(۳۷){وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ }(۳۸){لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاحِیْنَ لَایَکُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْہِہِمُ النَّارَ وَلَاعَنْ ظُہُوْرِہِمْ وَلَاہُمْ یُنْصَرُوْنَ }(۳۹){بَلْ تَاْتِیْہِمْ بَغْتَۃً فَتَبْہَتُہُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّہَا وَلَا ہُمْ یُنْظَرُوْنَ }(۴۰){وَلَقَدِ اسْتُہْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْہُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِء ُوْنَ }(۴۱) ترجمہ کنزالایمان:اور جب کافر تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہیں نہیں ٹھہراتے مگر ٹھٹھا کیا یہ ہیں وہ جو تمہارے خداؤں کو برا کہتے ہیں اور وہ رحمن ہی کی یاد سے منکر ہیں۔آدمی جلد باز بنایا گیا اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا مجھ سے جلدی نہ کرو۔اور کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو۔ کسی طرح جانتے کافر اس وقت کو جب نہ روک سکیں گے اپنے مونہوں سے آگ اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد ہو۔بلکہ وہ ان پر اچانک آپڑے گی تو انہیں بے حواس کردے گی پھر نہ وہ اسے پھیرسکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔اور بیشک تم سے اگلے رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا تو مسخرگی کرنے والوں کا ٹھٹھا انہی کو لے بیٹھا۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے حبیب کریمﷺ!جب کافر آپ کو دیکھتے ہیں توآپ کامذاق اڑاتے ہیں ،(اورکہتے ہیں کہ)کیا یہ وہ آدمی ہے جو تمہارے خداؤں کو برا کہتا ہے اور وہ مشرکین جورحمن ہی کی یاد سے منکر ہیں۔ آدمی جلد باز بنایا گیا۔ اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تومجھ سے جلدی نہ کرو۔ اورکافر کہتے ہیں :اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب ہوگا ؟اگر کافر اس وقت کو جان لیتے جب وہ اپنے چہروں سے اور اپنی پیٹھوں سے آگ کو نہ روک سکیں گے اور نہ ان کی مددکی جائے گی۔ بلکہ وہ (قیامت)ان پر اچانک آپڑے گی تو انہیں حیران کردے گی پھر نہ وہ اسے رد کرسکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔اور بیشک تم سے اگلے رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو جس (عذاب ) کا مذاق اڑاتے تھے اسی نے ان کو گھیر لیا۔ شان نزول عَنِ السُّدِّیِّ قَالَ:مَرَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وسلّم علی أبی سفیان وأبی جہل وہما یَتَحَدَّثَانِ، فَلَمَّا رَآہُ أَبُو جَہْلٍ ضَحِکَ وَقَالَ لأبی سفیان: ہذا نبیّ عَبْدِ مَنَافٍ، فَغَضِبَ أَبُو سُفْیَانَ فَقَالَ:مَا تُنْکِرُونَ أَنْ یَکُونَ لِبَنِی عَبْدِ مَنَافٍ نَبِیٌّ؟!فسمعہا النبیّ صلّی اللہ علیہ وَسَلَّمَ، فَرَجَعَ إِلَی أَبِی جَہْلٍ فَوَقَعَ بِہِ وَخَوَّفَہُ وَقَالَ: مَا أَرَاکَ مُنْتَہِیًا حَتَّی یُصِیبَکَ مَا أَصَابَ عَمَّکَ، وَقَالَ لِأَبِی سُفْیَانَ: أَمَّا إِنَّکَ لَمْ تَقُلْ مَا قُلْتَ إِلَّا حَمِیَّۃً فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الْآیَۃُ۔ ترجمہ :الامام السدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺابوجہل اورابوسفیان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ آپس میں گفتگوکررہے تھے ،جب ابوجہل نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکودیکھاتوہنس پڑااورابوسفیان سے کہنے لگاکہ دیکھویہ بنوعبدمناف کانبی ہے ، ابوسفیان کو یہ سن کرغصہ آگیااورکہاکہ تم بنی عبدمناف کانبی ہونے کو ناپسندکرتے ہو؟۔حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ان کی گفتگوسن لی اورابوجہل کی طرف متوجہ ہوئے تواس پرخوف طاری ہوگیااورآپ ﷺنے فرمایا:شایدتوان گستاخیوں سے باز نہیں آئے گایہاں تک کہ تجھ پر وہی آفت آئے جوتیرے چچاپرآئی تھی ، ابوجہل نے ابوسفیان سے کہاکہ تونے یہ بات صرف حمیت کی وجہ سے کہی ہے ، پس اللہ تعالی نے اس وقت یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ۔ (تفسیر المراغی:أحمد بن مصطفی المراغی (۱۷:۲۹) اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی عبر ت ہے جو حضورتاجدارختم نبوتﷺکے لئے بے اَدبانہ انداز اپنا کر، آپ ﷺکی سیرت اور سنتوں کا مذاق اڑا کر،آپ ﷺکے اَعمال کو ہدفِ تنقید بنا کر،آپ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم پر انگشت ِاِعتراض اٹھا کر الغرض کسی بھی طریقے سے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے لئے اذیت اور تکلیف کاباعث بنتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت عطا فرمائے۔( تفسیرصراط الجنان( ۶:۳۲۱)

گستاخ گستاخیاں کیوں کرتے ہیں؟

وفی الآیۃ اشارۃ الی ان کل من کان محجوبا عن اللہ بالکفر لا ینظر الی خواص الحق إلا بعین الإنکار والاستہزاء لان خواص الحق من الأنبیاء والأولیاء یقبحون فی أعینہم إذ ما اتخذوا لہم آلہۃ من شہوات الدنیا من جاہہا ومالہا وغیر ذلک مما اتخذوہ آلہۃ کما قال تعالی أَفَرَأَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلہَہُ ہَواہُ وکل محب یغار علی محبوبہ ولذا یذکرونہم بعیب ونقصان والحال ان العیب والنقصان فیہم لا فی أضدادہم۔فعلی العاقل ان یصون لسانہ عن ذکر العیوب ویشتغل فی جمع الأوقات بذکر علام الغیوب فانہ الذی أفاض سجال الرحمۃ والشکر لازم لولی النعمۃ ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں اشارہ ہے جوشخص اللہ تعالی کے انوار وتجلیات سے محروم ہوتاہے وہ اللہ تعالی کے محبوبوں کی گستاخیاں کرتاہے اوران کاانکارکرتاہے کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام اوراولیاء کرام علیہم الرحمہ اللہ تعالی کے خاص بندے ہیں ، وہ منکرین اورگستاخوں کی نگاہ میں قبیح ہیں اورگستاخوں نے اپنی نفسانی خواہشات کو اپنامعبودبنارکھاہے ، ان پرمال ودولت کابھوت سوارہے ، اس لئے وہ اپنے باطل تصورات میں گرفتارہیں ، گویاکہ ان کی پرستش میں مشغول ہیں ۔اللہ تعالی نے فرمایا:{ أَفَرَأَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلہَہُ ہَواہ}ہرمحب اپنے محبوب کے لئے غیرت رکھتاہے ، اس لئے وہ غیروں سے محبت کی بجائے ان کی ان سے مذمت کرواتااورعیوب گنواتاہے اوران کی نظروں میں انہیں پرنقصان دکھاتاہے ، حالانکہ خود منکرین پرعیب اورخاسرہیں ۔ عاقل پرلازم ہے کہ وہ دوسروں کے عیوب بیان کرنے کے بجائے ہروقت اللہ کے ذکرمیں مشغول رہے کیونکہ وہ اپنے مخصوص بندوں پرہمہ وقت رحمت نازل فرماتاہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۵:۴۷۵) اللہ تعالی جسے ذلیل کرناچاہے وہ گستاخ بن جاتاہے

حضرت سیدنامولاناروم رحمہ اللہ تعالی مثنوی شریف میں فرماتے ہیں

آن دہان کژ کرد واز تسخر بخواند مر محمد را دہانش کژ بماند باز آمد کای محمد عفو کن ای ترا الطاف علم من لدن من ترا أفسوس میکردم ز جہل من بدم أفسوس را منسوب واہل چون خدا خواہد کہ پردہ کس درد میلش اندر طعنہ پاکان برد ور خدا خواہد کہ پوشد عیب کس کم زند در عیب معیوبان نفس ترجمہ :وہ شخص منہ ٹیڑھاکرکے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکانام لیتاتھا، اس کامنہ ٹیڑھاہی رہا، پھرحاضرہوکرمعافی طلب کی کیونکہ آپ ﷺکواللہ تعالی کی بارگاہ سے بہت لطف وکرم حاصل ہے ، میں نے غلطی سے آپ ﷺکی گستاخی کی اورمیں براہوں اوربہت بڑاجاہل ہوں ، جب اللہ تعالی کسی کوذلیل کرناچاہتاہے تواس کو اپنے پاک لوگوں کی گستاخی کی طرف پھیردیتاہے ، اگرکسی کے عیب ڈھانپناچاہتاہے توعیب داروں کے عیب بھی نہیں گنتا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۵:۴۷۵) ہرطرح کی پریشانی گستاخوں کی گستاخی کی وجہ سے آتے ہیں ہر چہـ بر تو آید از ظلمات وغم آن زبی شرمی وکستاخیست ہم ترجمہ :حضرت مولاناروم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جوتجھ پرغم اورمصائب نازل ہوتے ہیں وہ تیری بے شرمی اورگستاخی کی وجہ سے آتے ہیں۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۶:۴۳۸)

حضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخی پراللہ تعالی کاجلال

فیہ اشارۃ الی معان منہا أنتم تستعجلون فی طلب العذاب من جہلکم وضلالکم وذلک لانکم تؤذون حبیبی ونبیی بطریق الاستہزاء والعداوۃ ومن عادی لی ولیا فقد بارزنی فی الحرب فقد استعجل فی طلب العذاب لانی اغضب لاولیائی کما یغضب اللیث ذو الجرو لجروہ فکیف بمن یعادی حبیبی ونبیی علیہ السلام ویدل علی صحۃ ہذا التأویل قولہ سَأُرِیکُمْ آیاتِی ای عذابی فَلا تَسْتَعْجِلُونِ فی طلبہ بطریق إیذاء نبیی والاستہزاء بہ۔ ترجمہ :الشیخ العلامۃ محمد الأمین الشافعی رحمہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ کے تحت لکھتے ہیںکہ اے کافرو!تم اپنی جہالت اورضلالت کی وجہ سے عذاب کی طلب میں جلدی مچارہے ہو، وہ اس طرح کہ تم میرے حبیب کریمﷺکے ساتھ استہزاء کرتے ہواورانہیں ایذادیتے ہو، مجھے اس سے ناراضگی ہوتی ہے تومیں تمھیں عذاب میں مبتلاء کروں گاکیونکہ میراقانون ہے کہ جومیرے کسی بھی دوست کے ساتھ دشمنی کرتاہے وہ میرے ساتھ اعلان جنگ کرتاہے ، اسے یقین ہوکہ اس طرح سے میں اپنے دوست کے دشمن پرغضبناک ہوکر اسے عذاب میں مبتلاء کردیتاہوں جیسے ایک بکری کے بچے کامالک شیرپرغضبناک ہوتاہے کہ شیر اس کی بکری کے بچے کادشمن ہے ، ایک بکری کے بچے سے ناراض ہوناتومعمولی بات ہے میرے دوست سے دشمنی بڑاخطرناک امر ہے ، اس معنی کی تائید{سَاُورِیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ}سے ہوتی ہے کہ یہاں پرآیت سے مراد ہے {فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ}یعنی میرے حبیب کریم ﷺکے ساتھ استہزاء اوراسے ایذادیکرمجھ سے جلدی عذاب طلب نہ کرو۔ (تفسیر حدائق الروح والریحان:الشیخ العلامۃ محمد الأمین الشافعی(۱۸:۳۷)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh