Fatwa #2349
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃالانعام آیت ۱۲۵۔ فَمَنْ یُّرِدِ اللہُ اَنْ یَّہْدِیَہ یَشْرَحْ صَدْرَہ لِلْاِسْلٰم
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
6,064
سوال (Question):
تفسیر سورۃالانعام آیت ۱۲۵۔ فَمَنْ یُّرِدِ اللہُ اَنْ یَّہْدِیَہ یَشْرَحْ صَدْرَہ لِلْاِسْلٰم
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
لبرل منافق کادل اسلام اوراس کے احکامات سے ہمہ وقت تنگ کیوں رہتاہے؟
{فَمَنْ یُّرِدِ اللہُ اَنْ یَّہْدِیَہ یَشْرَحْ صَدْرَہ لِلْاِسْلٰم وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّہ یَجْعَلْ صَدْرَہ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآء ِکَذٰلِکَ یَجْعَلُ اللہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ }(۱۲۵) ترجمہ کنزالایمان: اور جسے اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہے اس کا سینہ تنگ خوب رکا ہوا کر دیتا ہے گویا کہ وہ زبردستی آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ اللہ یونہی عذاب ڈالتا ہے ایمان نہ لانے والوں کو۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور جسے اللہ تعالی ہدایت دینا چاہتا ہے تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ تنگ، بہت ہی تنگ کردیتا ہے گویا کہ وہ زبردستی آسمان پر چڑھ رہا ہے۔یونہی اللہ تعالی ایمان نہ لانے والوں پر عذاب مسلط فرمادیتا ہے۔شرح صدرکی تعریف
عَنْ، عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: تَلَا رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ یُرِدِ اللَّہُ أَنْ یَہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلْإِسْلَامِ فَقَالُوا:یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَا ہَذَا الشَّرْحُ؟ قَالَ:نُورٌ یُقْذَفُ بِہِ فِی الْقَلْبِ فَیَنْفَسِحُ لَہُ الْقَلْبُ قَالَ:فَقِیلَ:فَہَلْ لِذَلِکَ مِنْ أَمَارَۃٍ یُعْرَفُ بِہَا؟ قَالَ: نَعَمْ قِیلَ:وَمَا ہِیَ؟ قَالَ:الْإِنَابَۃُ إِلَی دَارِ الْخُلُودِ وَالتَّجَافِی عَنْ دَارِ الْغُرُورِ وَالِاسْتِعْدَادُ لِلْمَوْتِ قَبْلَ لِقَاء ِ الْمَوْتِ۔ ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے یہ آیت تلاوت فرمائی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی:اس کھولنے سے کیا مراد ہے؟ا رشاد فرمایا: اس سے مراد وہ نور ہے جو مومن کے دل میں ڈالا جاتا ہے جس سے اس کا دل کھل جاتا ہے۔ عرض کی گئی:کیا اس کی کوئی نشانی ہے جس سے اس کی پہچان ہو سکے؟ ارشاد فرمایا:ہاں ، (اس کی تین علامتیں ہیں )(۱)آخرت کی طرف رغبت(۲)دنیا سے نفرت ، اور (۳)موت سے پہلے اس کی تیاری۔ (مصنف ابن ابی شیبہ :أبو بکر بن أبی شیبۃ، عبد اللہ بن محمد (۷:۷۷)جس کے دل میں اسلام کے متعلق شک پیداہوجائے ؟
عَن ابْن عَبَّاس فِی قَوْلہ (فَمن یرد اللہ أَن یہدیہ یشْرَح صَدرہ للإِسلام)یَقُول یُوسع قلبہ للتوحید والإِیمان بِہِ (وَمن یرد أَن یضلہ یَجْعَل صَدرہ ضیقا حرجاً)یَقُول:شاکاً (کَأَنَّمَا یصّعَّد فِی السَّمَاء ) یَقُول:کَمَا لَا یَسْتَطِیع ابْن آدم أَن یبلغ السَّمَاء فَکَذَلِک لَا یقدر علی أَن یدْخل التَّوْحِید والإِیمان قلبہ حَتَّی یدْخلہُ اللہ فِی قلبہ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اس کادل توحید اوراس پر ایمان لانے کے ساتھ وسیع کردیاجاتاہے اورجسے اللہ تعالی گمراہ کرنے کاارادہ فرماتاہے اس کے دل میں اسلا م کے عقائد کے بارے میں شک پیدافرمادیتاہے ۔ اورآپ رضی اللہ عنہ اس آیت کریمہ کے اس حصہ {کَأَنَّمَا یصّعَّد فِی السَّمَاء}کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جس طرح ابن آدم آسمان تک پہنچنے کی طاقت نہیں رکھتااسی طرح وہ اس پر بھی قدرت نہیں رکھتاکہ وہ اپنے دل میں توحید اورایمان کو داخل کرلے ۔یہاں تک کہ اللہ تعالی اس کے دل میں اسے داخل فرماتاہے ۔ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدریس (۴:۱۳۸۵)لبرل منافق ہر بھلائی سے محروم رہتاہے
وَقَرَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ہَذِہِ الْآیَۃَ، فَسَأَلَ أَعْرَابِیًّا مِنْ کِنَانَۃَ:مَا الْحَرِجَۃُ فِیکُمْ؟ قَالَ: الْحَرِجَۃُ فِینَا الشَّجَرَۃُ تَکُونُ بَیْنَ الْأَشْجَارِ الَّتِی لَا تَصِلُ إِلَیْہَا رَاعِیَۃٌ وَلَا وَحْشِیَّۃٌ وَلَا شَیْء ٌ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: کَذَلِکَ قَلْبُ الْمُنَافِقِ لَا یَصِلُ إِلَیْہِ شَیْء ٌ مِنَ الْخَیْرِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی اورکنانہ قبیلہ کے ایک دیہاتی سے پوچھاکہ تمھاری لغت میں ’’حرج‘‘کاکیامعنی ہے ؟ تو اس نے کہاکہ ایک ایسادرخت جو درختوں کے اتنے گھنے جھنڈ میں ہوکہ نہ اس تک کوئی چرواہاپہنچ سکے اورنہ ہی کوئی وحشی جانوراورنہ ہی کوئی چیز اس تک پہنچ سکے ۔ توحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسی طرح منافق ہوتاہے کہ اس تک بھی کوئی خیرنہیں پہنچتی۔ (تفسیر البغوی :محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (۲:۱۵۷)رب تعالی کے ذکرسے جس کادل تنگ ہو؟
قال ابْنُ عَبَّاسٍ:إِذَا سَمِعَ ذِکْرَ اللَّہِ اشْمَأَزَّ قَلْبُہُ، وَإِذَا ذَکَرَ شیء مِنْ عِبَادَۃِ الْأَصْنَامِ ارْتَاحَ إِلَی ذَلِکَ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ جب منافق اللہ تعالی کاذکرکوسنتاہے تو اس کادل تنگ ہوجاتاہے اورجب بتوں کی عبادت کاذکرہوتوپھرراحت محسوس کرتاہے ۔ (الوسیط فی تفسیر القرآن المجید:أبو الحسن علی بن أحمد بن محمد بن علی الواحدی، النیسابوری، الشافعی (۲:۳۲۱) یہی حال آجکل کے نام نہادمسلمانوں کابھی ہے اللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے ذکرشریف سے ان کی طبیعتوں میں ملال آجاتاہے یاپھراللہ تعالی اورا س کے حبیب کریم ﷺکے ذکرسے ان پروجد طاری نہیں ہوتامگرجیسے ان کے سامنے ان کے پیرکاذکرہوتواچھلناکودناشروع کردیتے ہیں۔ اسی طرح ایک مسجد شریف میں جمعۃ المبارک کے خطبہ کے دوران حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی عظمت وشان پر بیان کیاتوبعد میں ایک نامی گرامی پیرکامریدآکرگلے پڑگیااورکہنے لگاکہ آپ کے بیان کاہمیں توکوئی مزانہیں آیااورنہ ہی کوئی سمجھ ، جب وجہ معلوم کی توگویا ہوئے کہ ہمارے پیرصاحب کاآپ نے ذکرنہیں کیا۔ نعوذ اللہ من ذلک۔ اوراسی طرح سیاسی لیڈروں کے غلام ہیں وہ بھی خداتعالی اوراس کے حبیب کریم ﷺکے ذکرسے خوش نہیں ہوتے لیکن جیسے ان کے نام نہاد لیڈرکاذکرہوتوخوشی سے ان کی باچھیں کھل جاتی ہیں۔ یہ تمام کی تمام منافقت کی علامتیں ہیں۔اللہ تعالی شرح صدرکیسے فرماتاہے ؟
روی ان عمر بن الخطاب جہز جیشا الی فتح بعض حصون دیار العجم اربعۃ آلاف فارس وامر علیہم ابنہ عبد اللہ رضی اللہ عنہما قال فسرنا حتی حاصرنا قلعۃ علی جبل عال لا یصل الیہ أسلحتنا فحاصرناہا وکان فیہا جیش من الکفار وکانت امیرتہم امرأۃ حسناء فحصل لنا تعب شدید ففی ذات یوم نظرت امیرتہم من المنظرۃ عسکرنا فرأت شابا حسنا من شبان العرب وکان شابا فارسا ماہرا فی الحرب فلما وقع نظرہا علیہ تأوہت فقالت لہا بعض جواریہا لم تأوہت یا ملکۃ وأنت فی حصار ومنعۃ فقالت ان حصننا ہذا یفتحہ ہذا الشاب قالت وکیف ذلک قالت سترین بعد ساعۃ ثم أرسلت الیہ الملکۃ رسولا تقول ہل أجد إلیک سبیلا فتکون لی وأکون لک فقال الشاب نعم بشرطین ان تسلمی الحصن الخارج إلینا والداخل الیہ فارسلت مع الرسول تستفہم اما الخارج فعرفنا واما الداخل فما عرفنا قال لہا تسلمی قلبک الی اللہ تعالی وتقرین لہ بالوحدانیۃ فارسلت الیہ قوما ادخل بعسکرک فانی قد فتحت لک الباب فلما دخل الحصن عرض علیہا الإسلام فقالت اعلم انی ملکۃ ذات ہمۃ عالیۃ فہل فی عسکرک من ہو اکبر منک حتی اسلم علی یدیہ قال نعم أمیرنا وکبیرنا وہو ابن امیر المؤمنین فلما حضرت بین یدی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عرض علیہا الإسلام فقالت کالاول ہل أحد اکبر منک فی المسلمین حتی اسلم بین یدیہ فقال لہا نعم والدی امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ فقالت أرسلنی الیہ حتی اسلم بین یدیہ فارسلہا ومعہا عسکر واموال جزیلۃ أخرجتہا معہا من الحصار فلا زالت حتی وصلت الی عمر رضی اللہ عنہ فقالت لہ یا امیر المؤمنین ہل ہنا أحد اکبر منک قال نعم محمد رسول اللہ وہذا قبرہ الشریف وأشار الی الروضۃ المطہرۃ فقالت لا اسلم الا بین یدیہ فاجابہا لما قالت فلما أتت الروضۃ المنورۃ سلمت وجلست بأدب ووقار فی حضرۃ النبی علیہ السلام وقالت اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ ثم قالت خرجت من الظلمات الی النور وانا أخشی یا رسول اللہ ان یدنس إیمانی المعاصی فاسأل ربک الذی أرسلک إلینا بالحق ان یقبض روحی قبل ان أعصیہ مرۃ اخری ثم وضعت رأسہا علی عتبۃ المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فماتت من ساعتہا فبکی عمر رضی اللہ عنہ من حسن حالہا وامر بغسلہا وتجہیزہا ودفنہا بالبقیع بین الصحابۃ رضی اللہ عنہم ترجمہ:مروی ہے حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے دیارعجم کے ایک قلعہ کو فتح کرنے کے لئے ایک لشکرروانہ کیااوراس میں چارہزارگھڑسوارتھے،ا ن کاامیرلشکراپنے صاحبزادے حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماکومقررفرمایا۔ اہل لشکرچلتے رہے یہاںتک کہ اس قلعے کے قریب پہنچے ، وہ ایک بلندپہاڑی پرتھا، اہل لشکرفرماتے ہیں کہ ہم نے اس کامحاصرہ کرلیا، لیکن وہاں تک ہتھیارپہنچانے کاکوئی سبب نہ تھا، اس قلعہ کے اندرکفارکالشکرتھااورلشکرکی امیرایک عورت تھی جو نہایت ہی حسین وجمیل تھی ، حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ ہم اس قلعہ کے محاصرے میںبہت زیادہ تھک گئے کیونکہ کفارپر ہتھیاراستعمال کرنے کاموقع نہیں ملتاتھا، ایک دن کفارکی امیرلشکرنے ایک دریچے سے جھانک کرہمارے لشکرکی جانب دیکھاتواس کی نظرایک نوجوان پر پڑی جو کہ نہایت ہی حسین وجمیل تھا، جنگی مہارت بھی اس کوخوب حاصل تھی ، وہ ایک گھوڑے پر سوارتھا، کفارکی امیرلشکرہمارے نوجوا ن کو دیکھتے ہی اس پر فریفتہ ہوگئی اورروز بروز اس کے عشق میں پگھلنے لگی ، اس کی محرم راز نوکرانی نے اس کاسبب پوچھااورکہاکہ آپ ہماری ملکہ ہیں اورقلعہ کے اندرمحصورہیں ، آپ پر فوجیوں کازبردست پہرہ ہے ، پھربھی آپ آہیں بھرتی ہیں؟ توا س نے کہاکہ میراخیال ہے کہ اس قلعہ کو فلاں نوجوان فتح کرلے گا، نوکرانی نے کہاکہ وہ کیسے؟ اس نے کہاکہ دیکھ لے ابھی چندمنٹوں کی بات ہے کہہ کرملکہ نے اپنے قاصد کواس نوجوان کے ہاں بھیجا، اورکہاکہ کوئی ایسی صورت بھی ہے کہ تیری اورمیری ملاقات ہوجائے ، اس کے بعد تم میرے اورمیں تیری ہوجائوں ؟ نوجوان نے قاصدکوجواب دیاکہ اس کو جاکرکہو!دوشرطوںپر تیری اورمیری ملاقات ممکن ہے ۔ باہروالاقلعہ ہمیں دے دواوراندروالااس کو ۔ملکہ کوجب جواب پہنچاتواس نے دوبارہ قاصدبھیج کروضاحت چاہی کہ باہروالاقلعہ تومیں سمجھ گئی کہ میں اپنی شاہی تمھارے سپردکردوں لیکن اندروالے قلعے سے کیامراد ہے اورکس کو دیناہے ؟ اس نوجوان نے سمجھایاکہ اندروالے قلعے سے مراد تمھارادل ہے اوراسے اللہ تعالی کے سپردکرناہے ۔ ملکہ نے یہ سن کرکہاکہ اس نوجوان کو کہوکہ وہ اپنالشکراندرقلعے میں لائے ، میں یہ قلعہ تمھارے قبضہ میں دے چکی ۔ جب اسلام کالشکراندرپہنچاتواس نوجوا ن نے اس ملکہ کو اسلام پیش کیا، اس نے کہاکہ چونکہ میں ایک بڑی ملکہ ہوں تومیں اسلام بھی اس کے سامنے قبول کرونگی جو تمھاراامیرہو۔ اس نوجوان نے کہاکہ اس وقت توہمارے امیرحضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماہیں جو ہمارے خلیفہ کے شہزادے ہیں۔ ملکہ حضرت سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اوران کو بھی یہی سوال کیا، اس نے کہاکہ اس وقت ہمارے امیرمیرے والد ماجد رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ملکہ نے کہاکہ مجھے ان کے ہاں بھیج دو!جب وہ ملکہ حضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ کی خدمت اقدس میں حاضرہوئی توان سے بھی یہی سوال کیا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ ہم سب کے بڑے توحضورتاجدارختم نبوتﷺہیں ، یہ ان کامزارپرانوارہے ۔ ملکہ نے کہاکہ میں ان کی خدمت میں حاضرہوکراسلام قبول کرناچاہتی ہوں۔ چنانچہ یہ کہہ کرحضورتاجدارختم نبوتﷺکے روضہ منورہ کی طرف چلی اورسلام عرض کیااورنہایت ہی باادب اورپرسکون ہوکربیٹھ گئی اورپڑھا( اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ )اورکہاکہ اب میں ظلمات سے نکل کرنورمیں داخل ہوگئی ،یارسول اللہ ﷺ!مجھے خوف ہے کہ ایمان قبول کرنے کے بعد گناہوں میں ملوث نہ ہوجائوں۔ لھذامیری درخواست ہے کہ آپ ﷺمیرے لئے دعاکریںچونکہ آپﷺکو اللہ تعالی نے اپناسچارسول بناکربھیجاہے ، آپ ْﷺاپنے رب تعالی سے دعاکریں تاکہ اللہ تعالی مجھے گناہوں کے ارتکاب سے پہلے ہی موت دے دے !یہ کہہ کرحضورتاجدارختم نبوت ﷺکی چوکھٹ پر سررکھ دیااوروہیں ان کی وفات ہوگئی۔ حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ اس کے حسن خاتمہ کودیکھ کرروپڑے ، اوراس کی تجہیزوتکفین کاحکم دیااوراس کی تجہیزوتکفین کرکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان جنت البقیع میں دفن کیاگیا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۱۰۲)شیطان لوگوں کو راہ حق سے کیسے ہٹاتاہے ؟
فمن خلق للجنۃ یسرت لہ أسباب الطاعات ومن خلق للنار یسرت لہ أسباب المعاصی وسلط علیہ أقران السوء وألقی فی قلبہ حکم الشیطان فإنہ بأنواع الحکم یغر الحمقی بقولہ إن اللہ رحیم فلا تبال وإن الناس کلہم ما یخافون اللہ فلا تخالفہم وإن العمر طویل فاصبر حتی تتوب غداً یعدہم ویمنیہم وما یعدہم الشیطان إلا غروراً یعدہم التوبۃ ویمنیہم المغفرۃ فیہلکہم بإذن اللہ تعالی بہذہ الحیل وما یجری مجراہا فیوسع قلبہ لقبول الغرور ویضیقہ عن قبول الحق وکل ذلک بقضاء من اللہ وقدر فمن یرد اللہ أن یہدیہ یشرح صدرہ للإسلام ومن یرد أن یضلہ یجعل صدرہ ضیقاً حرجاً کأنما یصعد فی السماء إن ینصرکم اللہ فلا غالب لکم وإن یخذلکم فمن ذا الذی ینصرکم من بعدہ فہو الہادی والمضل یفعل ما یشاء ویحکم ما یرید لا راد لحکمہ ولا معقب لقضائہ خلق الجنۃ وخلق لہا أہلاً فاستعملہم بالطاعۃ وخلق النار وخلق لہا أہلا فاستعملہ بالمعاصی ۔ ترجمہ :امام أبو حامد محمد بن محمد الغزالی الطوسی المتوفی : ۵۰۵ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ جسے جنت کے لیے پیدا کیا گیا اس کے لیے عبادت کے اسباب آسان کردیئے جاتے ہیں اور جسے جہنم کے لیے پیدا کیا گیا اس کے لیے گناہ کے اسباب آسان کردیئے جاتے ہیں اور اس کے دل میں شیطان کا حکم مُسلَّط کیا جاتا ہے کیونکہ وہ طرح طرح کی باتوں سے بیوقوف لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمت والا ہے لہٰذا تمہیں کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہیے، تمام لوگ اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے لہٰذا تم ان کی مخالفت نہ کرو، زندگی بہت طویل ہے لہٰذا انتظار کرو کل توبہ کرلینا، جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: { یَعِدُہُمْ وَیُمَنِّیْہِمْ وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا }( سورۃ النساء :۱۲۰) شیطان انہیں وعدے دیتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان انہیں صرف فریب کے وعدے دیتا ہے۔ یعنی وہ ان کو توبہ کا وعدہ دیتا اور مغفرت کی تمنا دلاتا ہے اور ان حیلوں سے اِذنِ خداوندی سے ان کوہلاک کردیتا ہے، اس کے دل کو دھوکے کی قبولیت کے لیے کشادہ اور قبولِ حق سے تنگ کردیتا ہے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضا اور تقدیر سے ہوتا ہے۔ ہدایت و گمراہی کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے، وہ جو چاہے کرتا ہے اور جو ارادہ فرمائے حکم دیتا ہے اس کے حکم کو کوئی رد نہیں کرسکتا اور نہ کوئی اس کے فیصلے کو موخر کرسکتا ہے اس نے جنت اور اہلِ جنت کو پیدا کیا اور ان کو عبادت پر لگایا نیز جہنم اور اہلِ جہنم کو پید اکیا اور ان کو گناہوں پر لگادیا۔ (إحیاء علوم الدین:أبو حامد محمد بن محمد الغزالی الطوسی (۳:۴۸)معارف ومسائل
(۱)اس سے معلوم ہوا کہ دینی کام بھاری معلوم ہونا اور دنیاوی کام آسان محسوس ہونا، سینے کی تنگی کی علامت ہے اور سینے کی تنگی یہ ہے کہ اسباب ِ کفرجمع ہو جائیں اور اسلام کے اسباب نہ مہیا ہو سکیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے محفوظ فرمائے۔ بعض پر ایمان بھاری ہوتا ہے، بعض پر نیک اعمال بھاری اور بعض پر عشق اور وجدان بھاری ہے۔ خیال رہے کہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ بندہ کفر کرنے پر مجبور ہے بلکہ وہ جو کفر و سرکشی کرتا ہے وہ اپنے اختیار سے کرتا ہے اور آدمی کی بد کرداریوں سے دل میں یہ حال پیدا ہوتا ہے جیسے لوہا زنگ لگ کر بیکار ہو جاتا ہے اسی طرح گناہوں کی وجہ سے دل زنگ آلود ہو کر حق قبول کرنے سے محروم ہو جاتا ہے۔(تفسیرصراط الجنان ( ۳: ۲۰۵) (۲) دل کی تنگی اللہ تعالی کاقہرہے ، اس کی علامت یہ ہے کہ انسان کو بدعملیاں اورگناہ آسان معلوم ہوتے ہیں اورنیک کام سخت بھاری ، بعض لوگ دیکھے گئے ہیں کہ ممبری ( الیکشن )سینما، شادی بیاہ کی حرام رسموں ، نام ونمود کے لئے فضول خرچیوں بلکہ شرعی محرمات میں بے دریغ روپیہ برباد کرتے ہیں ، مسجد مدرسہ یاکسی نیک کام میں دوآنہ نہیں دے سکتے ، وہاں اپنی معذوری ظاہرکرتے ہیں ، یہ ہے دل کی تنگی۔ تفسیرنعیمی ( ۸: ۹۰) (۳) اوراسی طرح یہ بھی دل ہی تنگی ہے کہ جہاں نام ونمود نہ ہووہاں نہ خرچ کرنااورجہاں نام ونمود ہو وہاں بے دریغ پیسہ لگادینا، جیسے لوگوں کو محافل کروانے کابہت شوق ہے اوراس پر بہت زیادہ پیسہ بھی لگاتے ہیں اگران کو کہاجائے کہ فلاں مدرسہ میں لگادیاجائے یافلاں عالم دین کو کتب دینیہ کی حاجت ہے وہ لیکر دے دوتوکبھی بھی ایساکام نہیں کریں گے کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ محفل پرخرچ کرنے سے سارے محلے کومعلوم ہوگااوراگریہی پیسہ کسی عالم دین کو کتب کی خریداری کے لئے دے دیاتو وہ کسی کو معلوم نہیں ہوگالھذادینے کاکوئی فائدہ نہیں ہے ۔ ذہن میں رہے یہ بھی دل کی تنگی کی علامت ہے ۔ پیسہ تونیکی کی راہ میں خرچ ہورہاہے مگرجہاں ضرورت ہے وہاں نہیں لگایاجارہا۔ (۴) کسی بھی عالم دین کے خلاف باتیں کرنااورجیساکہ لبرل سیکولر طبقہ توہرایک عالم دین کے ساتھ نفرت کااظہاکرتاہے یہ بھی ان کی اسلام سے نفرت کااظہارہے اوریہ بھی دل کی تنگی کے باعث ہوتاہے ۔ ہمارے ہی محلے میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر قیام پذیرہیں وہ ہمہ وقت حضورامیرالمجاہدین حفظہ اللہ تعالی کو اوراس فقیرکو گالیاں دیتے رہتے ہیں اورگالیاں بھی حیاسوز ، وجہ صرف اورصرف یہ ہے کہ یہ دین بیان کرتے ہیں ،ان کااپناحال یہ ہے کہ زناکاری میں ملوث ہیں ۔ یہ ذہن میں رہے کہ بدکاری بھی انسان کوآہستہ آہستہ دین کادشمن بنادیتی ہے ۔ اوراس کادل اسلام سے تنگ ہونے لگتاہے ۔ (۵) علماء کرام سے نفرت کااظہاریوں بھی کرتے ہیں کہ (۱)…اذان نماز اور جنازے وغیرہ کے سوا مولوی کی قابلیت کیا ہے؟(۲)…جواباً عرض کیا کہ ہتھیار چلانے کے علاوہ فوجی کی قابلیت کیا ہے؟(۳)…جہاز اڑانے کے علاوہ پائیلٹ کی قابلیت کیا ہے(۴)…پڑھانے کے علاوہ پروفیسر کی قابلیت کیا ہے(۵)…سرجری کے علاوہ سرجن کی قابلیت کیا ہے؟(۶)…دوائی دینے کے علاوہ ڈاکٹر کی قابلیت کیا ہے؟ یادرہے لبرل کا اصل مسئلہ علماء کی قابلیت نہیں بلکہ خواہ مخواہ کا شیطانی بغض و عناد اور تعصب ہے اوریہ تعصب ان کے دل کی تنگی کی وجہ سے پیداہواہے ،سب سے بہتر تو کام ہی علماء کا ہے جو بندے کی آخرت بناتے ہیں۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9