Fatwa #2375
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃالانفال آیت ۲۵۔ وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
8,979
سوال (Question):
تفسیر سورۃالانفال آیت ۲۵۔ وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ترک جہاد بھی ایک فتنہ ہے اوراس کاعذاب عام وخاص سب کوپہنچتاہے
{وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ }(۲۵) ترجمہ کنزالایمان:اور اس فتنہ سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں ہی کو نہ پہنچے گا اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور اس فتنے سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں کو ہی نہیں پہنچے گا اور جان لو کہ اللہ تعالی کاعذاب بڑاسخت ہے ۔فتنہ سے مراد کیاہے ؟
اللہم الا ان یقال المراد بالفتنۃ ما ذکرنا من ترک الجہاد والفرار من الزحف بقرینۃ السیاق والمراد باصابتہا إصابۃ وبالہا فی الدنیا واللہ اعلم۔ ترجمہ :حضرت قاضی ثناء اللہ حنفی پانی پتی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ لامحالہ یہی مانناپڑے گاکہ اس آیت کریمہ میں فتنہ سے مراد ترک جہاداورمیدان جہادسے بھاگناہے اوردنیامیں ترک جہاد اورجہاد کے میدان سے فرارکی مصیبت عام مسلمانوں پرپڑنافتنہ پہنچنے سے مراد ہے ۔ (التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۴:۵۰)فتنہ سے مرادجہادسے سستی کرنا
والمراد بالفتنۃ الذنب وفسر بنحو إقرار المنکر والمداہنۃ فی الأمر بالمعروف والنہی عن المنکر وافتراق الکلمۃ وظہور البدع والتکاسل فی الجہاد حسبما یقتضیہ المعنی۔ ترجمہ :امام شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الحسینی الألوسی المتوفی: ۱۲۷۰ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ فتنہ سے مراد گناہ ہے اوراس گناہ کی تفسیرموقع کے اعتبارسے کی جاتی ہے مثلاًگناہوں پرراضی رہنا، امربالمعروف ونہی عن المنکرمیں مداہنت اختیارکرنا، آپس میں نزاع ڈالنااوربدعات کاظہوراورجہاد میں سستی کرنا۔ (روح المعانی :شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الحسینی الألوسی(۵:۱۸۰)دار الکتب العلمیۃ بیروتمعارف ومسائل
اس آیت کریمہ کی تفسیرسے معلوم ہواکہ اس میں فتنہ سے مراد ترک جہاد ہے اورترک جہاد کی و جہ سے فتنہ نے عوام وخواص سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیاہے اوروجہ اس کی یہ ہے کہ دین وشعائردین کی حفاظت اورعامۃ المسلمین کی حفاظت جہاد قائم رکھنے میں ہے ۔ مسلمانوں پر فرض کفایہ ہے کہ وہ ہرلمحہ جہاد ہی کرتے رہیں ، اگرچہ کافرحملہ آورنہ ہوں ۔ اگروہ حملہ آورہوں توپھرکسی کوبھی جہاد سے پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ جہاد کاسلسلہ جاری نہ رکھنے کی وجہ سے دشمن کو آگے بڑھنے کی ہمت ہوتی ہے ، جب دشمن چڑھ آتے ہیں توبچوں ، عورتوں ، اوربوڑھوں ، مساجد،مدارس ، اورخانقاہوں کی حفاظت کے لئے فکرمندہوناپڑتاہے۔ سقوط اندلس ، غرناطہ ، سقوط بغداد اورسقوط سمرقند، تاشقندوبخارا اورسقوط کابل ، کشمیر، فلسطین ، یمن وشام کی تباہی سب کی سب ہمارے سامنے ہے اوریہ سب کچھ اس لئے کہ مسلمانوں میں جہادجیسے فریضہ کوترک کرکے تن آسانی اورعیاشی میں غرق ہوگئے ، جس کانتیجہ ہماری نظروں کے سامنے نہایت خوفناک اورہولناک صورت میں ظاہرہوا، اگرجہاد کاعمل جاری ہوتاتومختلف محاذوں پر ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ، عیسائیت ویہودیت شیطان کے ساتھ اتحاد ومصالحت کرنے سے نہیں شرماتے ، بلکہ انہوںنے ابلیس کے ساتھ صلح کررکھی ہے مگرمسلمانوں کے ساتھ اوراسلام کے ساتھ کسی قیمت پرصلح کرنے کے لئے تیارنہیں ہیں ، جہاد مقدس کو دہشت گردی کانام دے کرپورے عالم میں واویلاکررہے ہیں، دراصل ان کو اسلام کے ہرحکم شرعی سے چڑہے مگرسب سے زیادہ جہاد اوراسلامی نظام حکومت ( خلافت ) سے ، وہ جب بھی جہاد کانام سنتے ہیں توبڑے بے قرارہوتے ہیں ، اوران کے محلات میں آگ لگ جاتی ہے ، ستم ظریفی یہ ہے کہ سارے اسلامی ممالک اورمسلمان حکمران بھی ان کی تقلید میں جہاد کو دہشت گردی کانام دے کرمجاہدین اسلام کے دشمن بنے ہوئے ہیں ، مگررب تعالی نے تکوینی طورپران کو اتنابزدل اورخوفزدہ بنایاہواہے کہ ہاتھی کی طاقت رکھنے کے باوجود چیونٹی نے ان کو ایساسبق سکھایاکہ ان کی نینداڑگئی ہے اوراسی طرح پوری دنیاکامیڈیاامیرالمجاہدین مولاناحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کیونکہ اس وقت پورے عالم اسلام میں صرف آپ ہی ہیں جو جہاد کانام لیتے ہیں اورمسلم امہ کی نشاط ثانیہ کی بات کرتے ہیں اورامت کو بیدارکرنے کی بات کرتے ہیں ، آج دنیاکابڑابدمعاش ڈونلڈٹرنپ اوراسرائیل کایہودی اورانڈیاکامشرک اگرکسی مسلمان شخصیت سے ڈرتاہے اوراگراس کی نیندمیں کوئی شخصیت اس کو ڈراتی ہے وہ امیرالمجاہدین حفظہ اللہ تعالی کی ذات ہے ۔آج ڈونلڈٹرنپ امیرالمجاہدین حفظہ اللہ تعالی کی ایک تقریرسن لے توکئی کئی دن تک اس کی نیندحرام ہوجاتی ہے ۔وجہ کیاہے کہ ساری دنیاکے کافراس قدرڈرے ہوئے ہیں توجواب یہی آئے گاکہ آپ جہاد کی بات کرتے ہیں ۔ اگرمسلمان حکمران اپنے دین متین پر کاربنداورپختہ ایمان رکھے ہوئے ہوتے توآج دنیاکایہ موجودہ نقشہ سراسرتبدیل ہوچکاہوتا، ہرمحاذ پراسلام کی حکمرانی نظرآتی مگربدقسمی سے ہمارے ہی ملک کے حکمران یہودونصاری کے ایجنٹ بنے ہوئے ہیں ، کچھ بدقسمت حکمران اورکچھ علماء سو ان کی دنیابنانے پراپناایمان بیچ کریورپ اورانگریزوں کے گیت گانے میں مصروف ہیں، چاہئے تھاکہ ہم رب تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی اطاعت اورغلامی کادم بھرکرسچے اورحقیقی مسلمانی کاثبوت پیش کرتے توبہترہوتا۔ پس یہ بات ثابت ہوگئی کہ جہاد ہی دین کی بقا اور دینداروں کی اپنی عبادات میں آزادی کا واحد راستہ ہے جب جہاد کا یہ مقام ہے تو وہ اس بات کا حقدار ہے کہ وہ ارکان ایمان میں سے ایک رکن ہو اور مسلمانوں کو چاہئے کہ جس قدر ہو سکے وہ اپنے اندر جہاد کرنے کی حد درجہ حرص پیدا کریں۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9