Fatwa #2379
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃالانفال آیت ۴۵۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,403
سوال (Question):
تفسیر سورۃالانفال آیت ۴۵۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
دوران قتال اللہ تعالی کاذکرکرنامومن کو بہادربنادیتاہے
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ }(۴۵) ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والوجب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کی یاد بہت کرو کہ تم مراد کو پہنچو۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اے اہل ایمان! جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو توثابت قدم رہو اور اللہ تعالی کو کثرت سے یادکرو تاکہ کامیابی پائو۔اہل معرفت ہی جہاد کے وقت رب تعالی کے ذکرمیں مصروف رہ سکتے ہیں
(فَاثْبُتُوا)أَمْرٌ بِالثَّبَاتِ عِنْدَ قِتَالِ الْکُفَّارِ، کَمَا فِی الْآیَۃِ قَبْلَہَا النَّہْیُ عَنِ الْفِرَارِ عَنْہُمْ، فَالْتَقَی الْأَمْرُ وَالنَّہْیُ عَلَی سَوَاء ٍوَہَذَا تَأْکِیدٌ عَلَی الْوُقُوفِ لِلْعَدُوِّ وَالتَّجَلُّدِ لَہُ قَوْلُہُ تَعَالَی:(وَاذْکُرُوا اللَّہَ کَثِیراً لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ) لِلْعُلَمَاء ِ فِی ہَذَا الذِّکْرِ ثَلَاثَۃَ أَقْوَالٍ:الْأَوَّلُ اذْکُرُوا اللَّہَ عِنْدَ جَزَعِ قُلُوبِکُمْ، فَإِنَّ ذِکْرَہُ یُعِینُ عَلَی الثَّبَاتِ فِی الشَّدَائِدِالثَّانِی اثْبُتُوا بِقُلُوبِکُمْ، وَاذْکُرُوہُ بِأَلْسِنَتِکُمْ، فَإِنَّ الْقَلْبَ لَا یَسْکُنُ عِنْدَ اللِّقَاء ِ وَیَضْطَرِبُ اللِّسَانُ، فَأَمَرَ بِالذِّکْرِ حَتَّی یَثْبُتَ الْقَلْبُ عَلَی الْیَقِینِ، وَیَثْبُتَ اللِّسَانُ عَلَی الذِّکْرِ، وَیَقُولَ مَا قَالَہُ أَصْحَابُ طَالُوتَ:رَبَّنا أَفْرِغْ عَلَیْنا صَبْراً وَثَبِّتْ أَقْدامَنا وَانْصُرْنا عَلَی الْقَوْمِ الْکافِرِینَ (البقرۃ: ۲۵۰)وَہَذِہِ الْحَالَۃُ لَا تَکُونُ إِلَّا عَنْ قُوَّۃِ الْمَعْرِفَۃِ، وَاتِّقَادِ الْبَصِیرَۃِ، وَہِیَ الشُّجَاعَۃُ الْمَحْمُودَۃُ فِی النَّاسِ الثَّالِثُ اذْکُرُوا مَا عِنْدَکُمْ مِنْ وَعْدِ اللَّہِ لَکُمْ فِی ابْتِیَاعِہِ أَنْفُسَکُمْ وَمُثَامَنَتِہِ لَکُمْ. ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں کفارکے ساتھ جنگ کے وقت ثابت قدم رہنے کاحکم ہے جیساکہ اس سے پہلی آیت کریمہ میں ان کے مقابلے سے فراراختیارکرنے سے منع کیاگیا، پس امرونہی بالکل برابرملے ہوئے ہیں ، اوریہ دشمن کے مقابلے میں ٹھہرے رہنے اوراس کے لئے مضبوطی دکھانے پر تاکیدہے ۔ {وَاذْکُرُوا اللَّہَ کَثِیراً لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ}اس ذکرکے بارے میں علماء کرام کے تین اقوال ہیں: پہلاقول: تم اپنے دلوںمیں گھبراہٹ کے وقت اللہ تعالی کاذکرکروکیونکہ اس کاذکرشدائد اورسختیوں میں ثابت قدمی اختیارکرنے پرمعاون ہوتاہے ۔ دوسراقول: تم اپنے دلوں کو مضبوط اورپختہ رکھواوراپنی زبانوں کے ساتھ اللہ تعالی کاذکرکرو!کیونکہ دل قتال کے وقت پرسکون نہیں رہتے اورزبان مضطرب ہوجاتی ہے ۔ پس ذکرکاحکم عطافرمایایہاں تک کہ دل یقین پرثابت اورپختہ ہوجائے اورزبان اللہ تعالی کے ذکرپرثابت ہوجائے اوروہ کچھ کہے جواصحاب طالوت نے کہا{رَبَّنا أَفْرِغْ عَلَیْنا صَبْراً وَثَبِّتْ أَقْدامَنا وَانْصُرْنا عَلَی الْقَوْمِ الْکافِرِین}(اے ہمارے رب !ہم پرصبرنازل فرمااورہمارے قدموں کوجمائے رکھ اورہمیں قوم کفارپرفتح عطافرما) یہ حالت صرف اورصرف قوت معرفت اورنورِ بصیرت سے ہی حاصل ہوسکتی ہے اوریہی وہ شجاعت اوربہادری ہے جو لوگوں میں قابل تعریف ہے ۔ تیسراقول : یادکرواسے جو اللہ تعالی کاتم سے وعدہ ہے ، اس بارے میں اس نے تمھارے نفوس کو خریداہے اوراسے تمھارے لئے عوض بنایا۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۸:۲۳)قتال کے دوآداب جورب تعالی نے تعلیم فرمائے
اعْلَمْ أَنَّہُ تَعَالَی لَمَّا ذَکَرَ أَنْوَاعَ نِعَمِہِ عَلَی الرَّسُولِ وَعَلَی الْمُؤْمِنِینَ یَوْمَ بَدْرٍ عَلَّمَہُمْ إِذَا الْتَقَوْا بِالْفِئَۃِ وَہِیَ الْجَمَاعَۃُ مِنَ الْمُحَارِبِینَ نَوْعَیْنِ مِنَ الْأَدَبِ: الْأَوَّلُ: الثَّبَاتُ وَہُوَ أَنْ یُوَطِّنُوا أَنْفُسَہُمْ عَلَی اللِّقَاء ِ وَلَا یُحَدِّثُوہَا بِالتَّوَلِّی وَالثَّانِی: أَنْ یَذْکُرُوا اللَّہ کَثِیرًا۔ ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ توجان لے کہ جب اللہ تعالی نے بدرکے دن حضورتاجدارختم نبوتﷺاوراہل ایمان پرنعمتوں کی انواع کاذکرکیاتوانہیں اس بات کی تعلیم دی کہ وہ جب کسی گروہ سے ملیںاورمقابل جماعت سے لڑیں تووہ ان آداب کو سامنے رکھیں :پہلاادب: استقامت ، اپنے آپ کواس طرح تیارکریں کہ پھرپیچھے ہٹنے کاتصورنہ ہو۔دوسراادب : اللہ تعالی کاذکربہت زیادہ کریں ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۵:۴۸۹)جہاد میں فلاح کیسے ممکن ہے ؟
لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ وَذَلِکَ لِأَنَّ مُقَاتَلَۃَ الْکَافِرِ إِنْ کَانَتْ لِأَجْلِ طَاعَۃِ اللَّہ تَعَالَی کَانَ ذَلِکَ جَارِیًا مَجْرَی بَذْلِ الرُّوحِ فِی طَلَبِ مَرْضَاۃِ اللَّہ تَعَالَی، وَہَذَا ہُوَ أَعْظَمُ مَقَامَاتِ الْعُبُودِیَّۃِ، فَإِنْ غَلَبَ الْخَصْمَ فَازَ بِالثَّوَابِ وَالْغَنِیمَۃِ، وَإِنْ صَارَ مَغْلُوبًا فَازَ بِالشَّہَادَۃِ وَالدَّرَجَاتِ الْعَالِیَۃِ، أَمَّا إِنْ کَانَتِ الْمُقَاتَلَۃُ لَا للَّہ بَلْ لِأَجْلِ الثَّنَاء ِ فِی الدُّنْیَا وَطَلَبِ الْمَالِ لَمْ یَکُنْ ذَلِکَ وَسِیلَۃً إِلَی الْفَلَاحِ وَالنَّجَاحِ. ترجمہ :امام فخرالدین الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ کفارسے جنگ اگراللہ تعالی کی اطاعت کی خاطرہے تویہ اللہ تعالی کی رضاکی طلب میں روح کو غذاملنے کی طرح ہے ،اگردشمن پرغلبہ ہوگیاتویہ ثواب اورغنیمت پائے گا، اگرمغلوب ہوگیاتوشہادت اوربلنددرجہ پائے گا، اگرقتال اللہ تعالی کی رضاکے لئے نہیں بلکہ دنیامیں تعریف اورطلب مال کے لئے کیاتوفلاح وکامیابی کاذریعہ نہیں بنے گا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۱۵:۴۸۹)حضورتاجدارختم نبوتﷺدوران قتال کیسے ذکرکرتے تھے؟
عَنْ سَالِمٍ أَبِی النَّضْرِ، مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ، وَکَانَ کَاتِبًا لَہُ، قَالَ:کَتَبَ إِلَیْہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی أَوْفَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا، فَقَرَأْتُہُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی بَعْضِ أَیَّامِہِ الَّتِی لَقِیَ فِیہَا، انْتَظَرَ حَتَّی مَالَتِ الشَّمْسُ،ثُمَّ قَامَ فِی النَّاسِ خَطِیبًا قَالَ:أَیُّہَا النَّاسُ، لاَ تَتَمَنَّوْا لِقَاء َ العَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّہَ العَافِیَۃَ، فَإِذَا لَقِیتُمُوہُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّیُوفِ، ثُمَّ قَالَ:اللَّہُمَّ مُنْزِلَ الکِتَابِ، وَمُجْرِیَ السَّحَابِ، وَہَازِمَ الأَحْزَابِ، اہْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ)پھر حضورتاجدارختم نبوتﷺلوگوں میں کھڑے ہوئے اور فرمایا:لوگو!دشمن سے مقابلے کی آرزونہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو۔ لیکن اگر دشمن سے مقابلہ ہو تو صبر کرو اورخوب جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ ’’پھر آپ نے یوں دعا کی‘‘:اے اللہ!کتاب کے نازل کرنے والے، بادلوں کو چلانے والے، (کافروں کے)لشکروں کو شکست دینے والے، انھیں شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۴:۵۱)جہاد میں اللہ تعالی کاذکرکرنے سے شجاعت پیداہوتی ہے
ہَذَا تَعْلِیمُ من اللہ تعالی لعبادہ الْمُؤْمِنِینَ آدَابَ اللِّقَاء ِ وَطَرِیقَ الشَّجَاعَۃِ عِنْدَ مُوَاجَہَۃِ الْأَعْدَاء ِ۔ ترجمہ :حافظ ابن کثیرالمتوفی : ۷۷۴ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے اہل ایمان کو دشمنوں کے ساتھ جہاد کے وقت جنگ کے آداب اوربہادری کاطریقہ سکھایا۔ (تفسیربن کثیر:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۴:۶۲)قتال کے دوران ذکراللہ کے محامل
وَالظَّاہِرُ أَنْ لَا یُعَیَّنَ ذِکْرٌ، وَقِیلَ ہُوَ قَوْلُ الْمُجَاہِدِینَ:اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ عِنْدَ لِقَاء ِ الْکُفَّارِ، وَقِیلَ الدُّعَاء ُ عَلَیْہِمُ: اللَّہُمَّ اخْذُلْہُمُ اللَّہُمَّ دَمِّرْہُمْ وَشَبَہُہُ، وَقِیلَ دُعَاء ُ الْمُؤْمِنِینَ لِأَنْفُسِہِمْ بِالنَّصْرِ وَالظَّفَرِ وَالتَّثْبِیتِ کَمَا فَعَلَ قَوْمُ طَالُوتَ فَقَالُوا رَبَّنا أَفْرِغْ عَلَیْنا صَبْراً وَثَبِّتْ أَقْدامَنا وَانْصُرْنا عَلَی الْقَوْمِ الْکافِرِینَ وقیل:حم لَا یُنْصَرُونَ وَکَانَ ہَذَا شِعَارَ الْمُؤْمِنِینَ عِنْدَ اللِّقَاء ِ۔ ترجمہ :امام أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان أثیر الدین الأندلسی المتوفی : ۷۴۵ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اوریہ بات ظاہرہے اس آیت کریمہ میں ذکرمعین نہیں کیاگیاکہ کونساذکرکرناہے۔پھرآپ رحمہ اللہ تعالی نے چنداقوال نقل فرمائے ہیں کہ (۱) …ذکرکے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ مجاہدین کافروں سے جنگ کے وقت اللہ اکبراللہ اکبرکہیں۔(۲)…اورایک قول یہ ہے کہ مجاہدین اسلام کافروں کے خلاف بددعاکریںجیسے {اللَّہُمَّ اخْذُلْہُمُ اللَّہُمَّ دَمِّرْہُمْ}اے اللہ !ان کافروں کو ذلیل ورسوافرمااوران کو تباہ فرما۔(۳)…اورایک قول یہ ہے کہ ذکرسے مراد خود اپنے لئے فتح ونصرت کی دعاکرناہے جس طرح حضرت سیدناطالوت رضی اللہ عنہ نے کی تھی{ فَقَالُوا رَبَّنا أَفْرِغْ عَلَیْنا صَبْراً وَثَبِّتْ أَقْدامَنا وَانْصُرْنا عَلَی الْقَوْمِ الْکافِرِینَ}(۴)…اورایک قول یہ ہے کہ ذکرسے مراد یہ الفاظ ہیں {حم لَا یُنْصَرُونَ }یہ جملہ حالت قتال میں اہل اسلام کاشعار(خاص علامت) ہے۔ (البحر المحیط فی التفسیر:أبو حیان محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان أثیر الدین الأندلسی (۵:۳۳۲) اس آیت کریمہ سے معلوم ہواکہ جہاد میں فتح اللہ تعالی کاذکرکرنے سے ہوتی ہے نہ کہ گانے بجانے سے ۔کیونکہ قتال کے دوران گانے بجانے اورعورتوں کے نغمات سننایہ کفارکاطریقہ ہے نہ کہ اہل اسلام کاکیونکہ اللہ تعالی نے اہل اسلام کودوران قتال اپناذکرکرنے کاحکم دیاہے ۔جیسے پاکستانی لبرل وسیکولر کشمیریوں کی مددکے بجائے کشمیریوں کے حق میں گانے چلادیتے ہیںاورپاکستانیوں نے جوایک جنگ کی تھی انڈیاکے ساتھ اس میں بھی انہوںنے ایک گلوکارہ کے گانے بجائے تھے ۔ تویہ ذہن میں رہے کہ اللہ تعالی نے اہل اسلام کے دلوں کی مضبوطی کے لئے جونسخہ کیمیادیاہے وہ ہے عین جہاد کے وقت اللہ تعالی کاذکرکرناکیونکہ بندہ مومن کادل تواللہ تعالی کے ذکرشریف سے ہی مضبوط ہوتاہے۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9