Fatwa #2382
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃالانفال آیت ۵۶۔۵۷۔ اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,721
سوال (Question):
تفسیر سورۃالانفال آیت ۵۶۔۵۷۔ اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
بنوقریظہ کے یہودیوں کو حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ساتھ غداری کرنے کی سزا
{اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ }(۵۵){اَلَّذِیْنَ عٰہَدْتَّ مِنْہُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَہْدَہُمْ فِیْ کُلِّ مَرَّۃٍ وَّہُمْ لَایَتَّقُوْنَ}(۵۶){فَاِمَّا تَثْقَفَنَّہُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِہِمْ مَّنْ خَلْفَہُمْ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُوْنَ }(۵۷) ترجمہ کنزالایمان:بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور ایمان نہیں لاتے۔ وہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر ہر با ر اپنا عہد توڑ دیتے ہیں اور ڈرتے نہیں۔ تو اگر تم کہیں انہیں لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسا قتل کرو جس سے ان کے پس ماندوں کو بھگاؤ اس امید پر کہ شاید انہیں عبرت ہو۔ ترجمہ ضیاء الایمان:بیشک جانوروں میں سب سے بدترین، اللہ تعالی کے نزدیک وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا تو وہ ایمان نہیں لاتے۔ وہ جن سے ا ٓپ نے معاہدہ کیا تھا پھر وہ ہر با ر اپنا عہد توڑ دیتے ہیں اور ڈرتے نہیں۔تو اگرآپ انہیں لڑائی میں پا ؤ تو انہیں ایسی مار مارو جس سے ان کے پچھلے بھی بھاگ جائیں ، اس امید پر ماروکہ شاید انہیں عبرت ہو۔ شان نزول قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:ہُمْ قُرَیْظَۃُ فَإِنَّہُمْ نَقَضُوا عَہْدِ رَسُولِ اللَّہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَعَانُوا عَلَیْہِ الْمُشْرِکِینَ بِالسِّلَاحِ فِی یَوْمِ بَدْرٍ، ثُمَّ قَالُوا:أَخْطَأْنَا فَعَاہَدَہُمْ مَرَّۃً أُخْرَی فَنَقَضُوہُ أَیْضًا یَوْمَ الْخَنْدَقِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیںکہ مراد اس سے بنوقریظہ کے یہودی ہیں ، کیونکہ انہوںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکے ساتھ کیاہواعہدتوڑااوربذریعہ اسلحہ بدرکے دن آپ ﷺکے خلاف مشرکین کی مددکی ۔پھرکہنے لگے کہ ہم سے غلطی ہوگئی ہے اس لئے دوبارہ عہد کرلیتے ہیں ، پھردوبارہ عہدکیاگیا، مگرپھرخندق کے دن انہوںنے توڑڈالا،تواللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۱۵:۴۹۷)بدترکون اوربدترین کون؟
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ شَرُّ النَّاسِ الْکُفَّارُ وَشَرُّ الْکُفَّارِ الْمُصِرُّونَ مِنْہُمْ وَشَرُّ الْمُصِرِّینَ النَّاکِثُونَ لِلْعُہُودِ فَأَخْبَرَ تَعَالَی أَنَّہُمْ جَامِعُونَ لِأَنْوَاعِ الشَّرِّ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ تمام لوگوں میں بدترین کافرہیں اورکافروں میں بھی بدترین وہ کافرہیں جو اپنے کفرمیں پکے ہیں ، اورپکے کافروں میں بھی جوعہدتوڑنے والے ہیںاوریہ یہودی وہ پلیدہیں کہ ان میں تمام شرموجود ہیں۔ (البحر المحیط فی التفسیر:أبو حیان محمد بن یوسف أثیر الدین الأندلسی (۵:۳۳۹)غزوہ بنوقریظہ
یہ تیسراقبیلہ تھایہودیوں کاجو اسلام دشمنی میں کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتاتھااورتھے انتہائی بدباطن اورانتہاء درجے کے ذلیل ۔اوریہ رسول اللہﷺ اورآپﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن کی گستاخیاں کرنے لگے تھے ۔ چونکہ انہوںنے خندق کے موقع پرغداری کی تھی ،معاہدہ کی خلاف ورزی کی تھی کہ انہوںنے ساتھ رسول اللہ ﷺکادیناتھامگرمشرکین کی حمایت میں نکل کھڑے ہوئے،ادھررسول اللہ ﷺخندق کے مقام پر کفارومشرکین کے ساتھ نبردآزماتھے کہ یہودیوں نے مدینہ منورہ میں ایک قلعہ میں موجود خواتین اسلام اوربچوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی یہ توحضرت سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہاکی بروقت کاروائی سے یہودیوں کو پسپاہوناپڑا۔حضرت صفیہ رضی اللہ عنہاکی بہادری
ٌ وَذَکَرَ حَدِیثَ حَسّانَ حِینَ جُعِلَ فِی الْآطَامِ مَعَ النّسَاء ِ وَالصّبْیَانِ وَمَاحَسّانُ بْنُ ثَابِتٍ مَعَنَا فِیہِ مَعَ النّسَاء ِ وَالصّبْیَانِ قَالَتْ صَفِیّۃُ فَمَرّ بِنَا رَجُلٌ مِنْ یَہُودَ فَجَعَلَ یُطِیفُ بِالْحِصْنِ وَقَدْ حَارَبَتْ بَنُو قُرَیْظَۃَ، وَقَطَعَتْ مَا بَیْنَہَا وَبَیْنَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَیْسَ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ أَحَدٌ یَدْفَعُ عَنّا وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ فِی نُحُورِ عَدُوّہِمْ لَا یَسْتَطِیعُونَ أَنْ یَنْصَرِفُوا عَنْہُمْ إلَیْنَا إنْ أَتَانَا آتٍ قَالَتْ فَقُلْت:یَا حَسّانُ إنّ ہَذَا الْیَہُودِیّ کَمَا تَرَی یُطِیفُ بِالْحِصْنِ وَإِنّی وَاَللہِ مَا آمَنُہُ أَنْ یَدُلّ عَلَی عَوْرَتِنَا مَنْ وَرَاء َنَا مِنْ یَہُودَ وَقَدْ شُغِلَ عَنّا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہُ فَانْزِلْ إلَیْہِ فَاقْتُلْہُ قَالَ یَغْفِرُ اللہُ لَک یَا ابْنَۃَ عَبْدِ الْمُطّلِبِ، وَاَللہِ لَقَدْ عَرَفْت مَا أَنَا بِصَاحِبِ ہَذَا:قَالَتْ فَلَمّا قَالَ لِی ذَلِکَ وَلَمْ أَرَ عِنْدَہُ شَیْئًا، احْتَجَزْت ثُمّ أَخَذْت عَمُودًا، ثُمّ نَزَلْت مِنْ الْحِصْنِ إلَیْہِ فَضَرَبْتہ بالعمود حَتَّی قتلتہ:قَالَتْ فَلَمّا فَرَغْت مِنْہُ رَجَعْت إلَی الْحِصْنِ فَقُلْت:یَا حَسّانُ انْزِلْ إلَیْہِ فَاسْلُبْہُ فَإِنّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی مِنْ سَلَبِہِ إلّا أَنّہُ رَجُلٌ قَالَ مَا لِی بِسَلَبِہِ مِنْ حَاجَۃٍ یَا ابْنَۃَ عبد الْمطلب. فقلت:یا حسان اسلبہ، فإنہ لم یمنعنی من سلبہ، إلا أنہ رجل قال ما لی بسلبہ من حاجۃ، فقلت: خذ الرأس وارم بہ إلی الیہود، قال: ما ذاک فی، قالت: فأخذت الرأس فرمیت بہ علی الیہود، فقالوا: قد علمنا أن محمدًا لم یترک أہلہ خلوا لیس معہم أحد فتفرقوا. ترجمہ :یہودیوں کی پانچ پانچ دس دس آدمیوں کی ٹولیوں نے اس اثناء میں ان قلعوں کے اردگرد چکرلگانے شروع کردئیے ،جہاں مسلم خواتین اوربچے ٹھہرے ہوئے تھے ،کیونکہ یہودیوں کے قبیلہ بنوقریظہ نے ہی سب سے پہلے معاہدہ کو توڑااورجنگ میں حصہ لیا، رسول اللہ ﷺکی پھوپھی جان حضرت سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ میں نے ایک یہودی کومشکوک حالت میں قلعہ کے گردگھومتے ہوئے دیکھا۔ میں نے حضرت سیدناحسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو کہاکہ آپ اس یہودی کو باربارادھرآتاہوادیکھ رہے ہیں ،مجھے اندیشہ ہے کہ یہ دوسروں کو جاکربتائے گاکہ خواتین اوربچوں پر کوئی پہرہ دارمقررنہیں ہے کہیں دوسرے بھی اس کے ساتھ آکرہم پر حملہ نہ کردیں۔کیونکہ رسول اللہ ﷺاورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم تودشمنوں کے خلاف صف آراہیں، بہترہے کہ آپ نیچے اتریں اوراس کاکام تمام کردیں ۔حضرت سیدناحسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عبدالمطلب کی شہزادی ! اللہ تعالی آپ کی مغفرت فرمائے !خداتعالی کی قسم !آپ جانتی ہیں کہ یہ کام میرے بس میں نہیں ہے ۔ ان کاجواب سناتومیں نے اپناکمربندکس لیا۔ایک شہتیرپڑاہواتھا،اسے اٹھالیااورنیچے اترآئی ، جب وہ یہودی میرے پاس سے گزراتو میں نے وہ شہتیراس کے سرمیں دے مارااسی وقت اس کی جان نکل گئی ۔اس سے فارغ ہوکرمیں آئی اورحضرت سیدناحسان رضی اللہ عنہ کو بتایاکہ میں نے اس کاکام تمام کردیاہے ،اگروہ مردنہ ہوتاتومیں اسکا لباس اتارلیتی ،آپ جائیں اوراس کالباس اتارکرلے آئیں،انہوںنے کہا:مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیںہے ۔میںنے کہاچلوجاکراس کاسرہی کاٹ کریہودیوںکیطرف پھینک دو،انہوںنے یہ کرنے سے بھی انکارکردیا، میں خود گئی اور جاکر اس کاسرکاٹ کر یہودیوں کی بستی کی طرف پھینک دیا،جب یہودیوں نے اپنے عزیزکاکٹاہواسردیکھاتوانہیں یقین ہوگیاکہ واقعی اس قلعہ میں بہت سے مجاہدین موجود ہیں ۔اگرکسی نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش بھی کی تواس کایہی حال ہوگا،بس اس کے بعدکو ئی بھی یہودی ہمارے قلعے کی طرف نہیں آیا۔ (شرح الزرقانی أبو عبد اللہ محمد بن عبد الباقی بن یوسف بن أحمد الزرقانی المالکی (۳:۳۷) (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام:عبد الملک بن ہشام بن أیوب الحمیری المعافری، أبو محمد، جمال الدین (۲:۲۲۸)بنوقریظہ پر لشکرکشی
اہل اسلام ابھی غزوہ خندق سے واپس آئے ہی تھے کہ رسول اللہﷺ نے ان کو حکم دیاکہ ابھی اپنے ہتھیارنہ اتاریں کیونکہ بنوقریظہ کو ان کی غداری کی سزادیناابھی باقی ہے ،مسلمان ان کے قلعوں کے قریب پہنچے تووہ بھی لڑائی کے لئے آمادہ ہوگئے ، بنونضیرکارئیس حی ابن اخطب نے انہیں غداری اورعہدشکنی پر آمادہ کیاتھا۔اہل اسلام نے بنوقریظہ کے قلعوں کامحاصرہ کرلیا۔بنوقریظہ کی روانگی کامنظر
أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ کَامِلٍ الْقَاضِی، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِیُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْمُسَیَّبِیُّ، ثنا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ، ثنا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَخِیہِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ عِنْدَہَا فَسَلَّمَ عَلَیْنَا رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْبَیْتِ، وَنَحْنُ فِی الْبَیْتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَزِعًا فَقُمْتُ فِی أَثَرِہِ، فَإِذَا دِحْیَۃُ الْکَلْبِیُّ، فَقَالَ: ہَذَا جِبْرِیلُ یَأْمُرُنِی أَنْ أَذْہَبَ إِلَی بَنِی قُرَیْظَۃَ ، فَقَالَ: قَدْ وَضَعْتُمُ السِّلَاحَ لَکِنَّا لَمْ نَضَعْ قَدْ طَلَبْنَا الْمُشْرِکِینَ حَتَّی بَلَغَنَا حَمْرَاء ُ الْأَسَدُ ، وَذَلِکَ حِینَ رَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ فَقَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَزِعًا، فَقَالَ لِأَصْحَابِہِ:عَزَمْتُ عَلَیْکُمْ أَنْ لَا تُصَلُّوا صَلَاۃَ الْعَصْرِ حَتَّی تَأْتُوا بَنِی قُرَیْظَۃَ فَغَرَبَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ یَأْتُوہُمْ، فَقَالَتْ طَائِفَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ: إِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یُرِدْ أَنْ یَدَعُوا الصَّلَاۃَ فَصَلُّوا، وَقَالَتْ طَائِفَۃٌ: إِنَّا لَفِی عَزِیمَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَا عَلَیْنَا مِنْ إِثْمٍ، فَصَلَّتْ طَائِفَۃٌ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا، وَتَرَکَتْ طَائِفَۃٌ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا وَلَمْ یَعِبِ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحَدًا مِنَ الْفَرِیقَیْنِ، وَخَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِمَجَالِسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ قُرَیْظَۃَ، فَقَالَ: ہَلْ مَرَّ بِکُمْ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالُوا: مَرَّ عَلَیْنَا دِحْیَۃُ الْکَلْبِیُّ عَلَی بَغْلَۃٍ شَہْبَاء َ تَحْتَہُ قَطِیفَۃُ دِیبَاجٍ، قَالَ: لَیْسَ ذَلِکَ بِدِحْیَۃَ وَلَکِنَّہُ جِبْرِیلُ أُرْسِلَ إِلَی بَنِی قُرَیْظَۃَ لَیُزَلْزِلَہُمْ وَیَقْذِفَ فِی قُلُوبِہِمُ الرُّعْبَ ، فَحَاصَرَہُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ أَصْحَابَہُ أَنْ یَسْتَتِرُوا بِالْحَجَفِ حَتَّی یُسْمِعَہُمْ کَلَامَہُ، فَنَادَاہُمْ: یَا إِخْوَۃَ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیرِ قَالُوا: یَا أَبَا الْقَاسِمِ، لَمْ تَکُ فَحَّاشًا، فَحَاصَرَہُمْ حَتَّی نَزَلُوا عَلَی حُکْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَکَانُوا حُلَفَاء َہُ فَحَکَمَ فِیہِمْ أَنْ یُقْتَلَ مُقَاتِلَتُہُمْ، وَتُسْبَی ذَرَارِیَّہُمْ وَنِسَاؤُہُمْ ہَذَا حَدِیثٌ صَحِیحٌ عَلَی شَرْطِ الشَّیْخَیْنِ. فَإِنَّہُمَا قَدِ احْتَجَّا بِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِیِّ فِی الشَّوَاہِدِ، وَلَمْ یُخَرِّجَاہُ ۔ ترجمہ:حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں رسول اللہﷺ میرے پاس تھے، ہمارے گھروالوں میں سے کسی نے سلام کیا، ہم بھی اس وقت گھرمیں تھے ،رسول اللہ ﷺگھبراکراٹھے،میں بھی آپ ﷺکے پیچھے آئی ، تووہ حضرت سیدنادحیہ کلبی رضی اللہ عنہ تھے ، آپ ﷺنے فرمایا:یہ حضرت جبریل امین علیہ السلام ہیں اورمجھے بنوقریظہ کی طرف روانگی کاکہہ رہے ہیں ،اورکہہ رہے ہیں کہ آپﷺ نے ہتھیاراتاردئیے ہیں لیکن ہم نے ابھی تک نہیں اتارے ،ہم مشرکین کاپیچھاکرتے کرتے حمراالاسدتک جاپہنچے ،یہ واقعہ اس وقت کاہے جب رسول اللہ ﷺخندق سے واپس لوٹے ، نبی کریم ﷺگھبراکراٹھے اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایامیں تم پر یہ لازم کرتاہوں کہ تم بنوقریظہ تک پہنچنے سے پہلے نماز مت پڑھنالیکن ان کے بنوقریظہ تک پہنچنے سے پہلے پہلے سورج غروب ہوگیا،سورج غروب ہونے سے پہلے مسلمانوں کی ایک جماعت نے کہا: رسول اللہ ﷺکامقصدیہ نہیں تھاکہ تم نماز ہی چھوڑ دینا،اس لئے انہوں نے نماز پڑھ لی ، دوسری جماعت نے کہاکہ ہم تورسول اللہ ﷺکے حکم شریف کے پابندہیں ،ہمیں اس کاکوئی گناہ نہیں ہوگا، چنانچہ ایک جماعت نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے نماز اداکرلی اوردوسری جماعت نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے نماز چھوڑ دی۔ جبکہ نبی کریم ﷺنے ان میں سے کسی کوبھی برانہیں کہا۔ پھررسول اللہ ﷺبھی نکلے ،آپ ﷺکاگزران کے اوربنوقریظہ کے بیچ میںسے کئی مجالس پر ہوا، آپ ﷺنے پوچھاکہ کیایہاں سے کوئی گزراہے ؟ انہوں نے جواب دیاکہ یہاں سے حضرت سیدنادحیہ کلبی رضی اللہ عنہ سیاہی مائل سفید رنگ کے گھوڑے پر سوارہوکرگزرے ہیں،جن کے نیچے ریشم کی زین تھی ، آپ ﷺنے فرمایاکہ وہ دحیہ کلبی نہیں تھے بلکہ حضرت جبریل امین علیہ السلام تھے ، ان کو بنوقریظہ کی جانب بھیجاگیاہے تاکہ ان پر زلزلہ طاری کردیں ، اوران کے دلوں میں رعب ڈال دیں ، نبی کریم ﷺنے ان کامحاصرہ کرلیا، اوراپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیاکہ وہ اپنی ڈھالوں میں چھپے رہیں ، یہاں تک کہ ان کو ان کی آوا زسنائی دے، پھرآپ ﷺنے ان کو پکارا!اے خنزیروںاوربندروں کے بھائیو!انہوںنے جواباًکہا: اے ابوالقاسم !آپﷺ تواس طرح فحش گفتگونہیں کرتے تھے ؟ توآپ ﷺنے ان کامحاصرہ کرلیا، حتی کہ حضرت سیدناسعدرضی اللہ عنہ کے فیصلے کو نافذ فرمادیا، کیونکہ حضرت سیدناسعد رضی اللہ عنہ ان کے حلیف تھے ، ان کے بارے میں فیصلہ یہ ہواکہ ان کے جوانوںکو قتل کردیاجائے اوران کی عورتوں اوربچوں کو قیدی بنالیاجائے ۔ (المستدرک علی الصحیحین: أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم (۳:۳۷)یہودیوں کو بندروںاورخنزیروں کابھائی کیوں قراردیا؟
فَحَدّثَنِی ابْنُ أَبِی سَبْرَۃَ، عَنْ أُسَیْدِ بْنِ أَبِی أُسَیْدٍ، عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ، قَالَ:انْتَہَیْنَا إلَیْہِمْ فَلَمّا رَأَوْنَا أَیْقَنُوا بِالشّرّ، وَغَرَزَ عَلِیّ عَلَیْہِ السّلَامُ الرّایَۃَ عِنْدَ أَصْلِ الْحِصْنِ، فَاسْتَقْبَلُونَا فِی صَیَاصِیِہِمْ یَشْتُمُونَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجَہُ قَالَ أَبُو قَتَادَۃَ:وَسَکَتْنَا وَقُلْنَا:السّیْفُ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ وَطَلَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمّا رَآہُ عَلِیّ عَلَیْہِ السّلَامُ رجع إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَنِی أَنْ أَلْزَمَ اللّوَاء َ فَلَزِمْتہ، وَکَرِہَ أَنْ یَسْمَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَذَاہُمْ وَشَتْمَہُمْ:فَسَارَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَیْہِمْ، وَتَقَدّمَہُ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ فَقَالَ:یَا أَعْدَاء َ اللہِ، لَا نَبْرَحُ حِصْنَکُمْ حَتّی تَمُوتُوا جُوعًا:إنّمَا أَنْتُمْ بِمَنْزِلَۃِ ثَعْلَبٍ فِی جُحْرٍ:قَالُوا:یَا ابْنَ الْحُضَیْرِ، نَحْنُ مَوَالِیکُمْ دُونَ الْخَزْرَجِ وَخَارُوا، وَقَالَ:لَا عَہْدَ بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَلَا إلّ وَدَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْہُمْ، وَتَرّسْنَا عنہ، فقال:یَا إخْوَۃَ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیرِ وَعَبَدَۃَ الطّوَاغِیتِ، أَتَشْتُمُونَنِی؟۔ ترجمہ:حضرت سیدناابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم بنوقریظہ کے پاس پہنچے توان کو یقین ہوگیااس کاجوکچھ ان کے ساتھ ہونے والاتھا، حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ نے جھنڈالیکر نیچے جاکرگاڑ دیا، جب ہم ان کے صحنوں میں پہنچے تووہ رسول اللہ ﷺاورآپ ﷺکی ازواج مطہرات کو گالیاں دینے لگے ۔ حضرت سیدناابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم خاموش رہے ، ہم نے کہاکہ اب ہمارے اورتمھارے درمیان فیصلہ تلوارہی کرے گی ،اتنے میں رسول اللہ ﷺسامنے سے تشریف لاتے ہوئے دکھائی دئیے توحضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ نے مجھے جھنڈادیامیں نے وہ جھنڈاتھام لیا،اورحضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ جلدی سے گئے اورجاکر رسول اللہ ﷺکی خدمت میں عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! آپ ابھی نہ آئیں ۔ حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ یہ اس لئے کہ رہے تھے کہ اگرانہوںنے رسول اللہ ﷺکے سامنے آپ ﷺکو گالی دے دی تو رسول اللہ ﷺکو تکلیف ہوگی ، اتنے میں رسول اللہ ﷺتشریف لے آئے، حضرت اسیدبن حضیررضی اللہ عنہ آگے بڑھے اوریہودیوں کوکہا: اب تم لومڑی کی طرح اپنے بلوں میں پڑے رہو،تب تک ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے جب تک تم بھوکے نہ مرجائو،حضرت سیدنااسید بن حضیررضی اللہ عنہ نے فرمایا:اب ہمارے اورتمھارے درمیان کوئی عہدنہیںہے ،اتنے میںرسول اللہ ﷺقریب تشریف لائے اورفرمایا:اے بندروںاورخنزیروںکے بھائیو!اوربتوں کے پجاریوں! تم مجھے گالیاں دیتے ہو؟ ( کنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال: علاء الدین علی بن حسام الدین ابن قاضی خان القادری الشاذلی الہندی(۱۰:۵۹۹) (المغازی: محمد بن عمر بن واقد السہمی الأسلمی بالولاء ، المدنی، أبو عبد اللہ، الواقدی (۲:۴۹۹) اس حدیث پاک سے اندازہ لگاناکوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ یہودی کتنے پلیدتھے کہ رسول اللہ ﷺاورآپ ﷺکی ازواج مطہرات کے گستاخ تھے اورسرعام غداری کرنے والے اورمعاہدہ کو پس پشت ڈال کرمشرکین کی حمایت کرنے والے تھے ۔ یہ بات بھی بڑی قابل غورہے کہ جب انہوںنے گستاخی کی تورسول اللہ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے برملاکہاکہ اب ہمارے اورتمھارے درمیان تلوارہی فیصلہ کرے گی ۔اس سے معلوم ہواکہ ناموس رسالتﷺ کامسئلہ اتناحساس ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسی بات پر جنگ کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اوریہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جب یہودی رسول اللہ ﷺاورآپ ﷺکی ازواج مطہرات کو گالیاں دے رہے تھے تو تب یہودیوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی لیکن جب رسول اللہ ﷺنے ان کو جوابی طورپرفرمایاکہ تم بندراورخنزیرکے بھائی ہوتوان کو تکلیف ہوئی ۔ اس سے ثابت ہواکہ کافرہمیشہ رسول اللہ ﷺکی گستاخی پرخاموش رہتاہے لیکن جب اہل اسلام ان کو جواب دیں توپھران کو اخلاق یادآجاتے ہیں ۔ اس سے مسئلہ واضح ہواکہ رسول اللہ ﷺکی گستاخی پر خاموش رہنااورکافروں کی پکڑپر بول پڑنایہ مسلمانوں کاطریقہ نہیں بلکہ بنوقریظہ کے یہودیوں کاطریقہ ہے ۔بنوقریظہ کاخاتمہ
حَتَّی نَزَلُوا عَلَی حُکْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَکَانُوا حُلَفَاء َہُ، فَحَکَمَ فِیہِمْ أَنْ یُقْتَلَ مُقَاتِلَتُہُمْ، وَتُسْبَی ذَرَارِیُّہُمْ وَنِسَاؤُہُمْ۔ ترجمہ :امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ بنوقریظہ کے یہودی چونکہ حضرت سیدناسعد رضی اللہ عنہ کے حلیف تھے انہوںنے حضرت سیدناسعد رضی اللہ عنہ کو اپناحاکم مقررکیاتوآپ رضی اللہ عنہ کے کہنے پر وہ سارے یہودی اپنے قلعوں سے باہر آگئے ،پھرحضرت سیدناسعد رضی اللہ عنہ نے ان کافیصلہ کیاکہ ان کے مردوں کو قتل کردیاجائے اوران کی خواتین اوربچوں کو غلام بنالیاجائے ۔ (دلائل النبوۃ:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (۴:۸)چھے سویہودی ایک ہی دن میں قتل کئے گئے
أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِسَعْدٍ:لَقَدْ حَکَمْتَ فِیہِمْ بِحُکْمِ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَتَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُقَاتِلَتَہُمْ، وَکَانُوا زَعَمُوا سِتَّمِائَۃِ مُقَاتِلٍ، فَزَعَمُوا أَنَّ دِمَاء َہُمْ بَلَغَتْ أَحْجَارَ الزَّیْتِ الَّتِی کَانَتْ بِالسُّوقِ، وَسَبَی نِسَاء َہُمْ وَذَرَارِیَّہُمْ، وَقَسَّمَ أَمْوَالَہُمْ بَیْنَ مَنْ حَضَرَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ۔ ترجمہ :امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت سیدناسعد رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیاتورسول اللہ ﷺنے فرمایا:اے سعد ! آج تم نے اللہ تعالی کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیاہے۔پھررسول اللہ ﷺنے ان یہودیوں کو قتل کروایااورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاخیال ہے کہ ان کی تعداد چھے سوتھی ، اوراس دن ان کاخون احجار زیت تک پہنچ گیاتھا۔ان کی عورتوںاوربچوں کو غلام بنالیاگیااوران کے ا موال کو ان اہل اسلام میں تقسیم کردیاگیاجو اس دن جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ (دلائل النبوۃ:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (۴:۸) اس سے اندازہ لگائیں کہ ایک ہی دن میں رسول اللہ ﷺنے چھے سویہودی قتل کروائے،اب وہ لوگ غورکریں جو بات بات پر کہتے ہیں کہ ریاست مدینہ کی بات کرو۔رسول اللہ ﷺنے یہودیوں کے ساتھ معاہدہ کیاتھالیکن جب انہوںنے اس معاہدہ سے روگردانی کی اوررسول اللہ ﷺکے خلاف کھلی جنگ کااعلان کردیاتوپھران کے ساتھ جوہواوہ بھی بیان کریں ۔معارف ومسائل
(۱)کفار کو جانوروں سے بھی بدتر فرمائے جانے کی مفسرین نے کئی وجوہات بیان فرمائی ہیں ، ان کا خلاصہ کلام یہ ہے کہ جانور اللہ تعالیٰ کی آیات سننے، سمجھنے اور دیکھنے کی قوت سے خالی ہیں ، اپنا نفع و نقصان نہیںپہچانتے ہیں اور اپنے مالک کی اطاعت کرتے ہیں جبکہ کفار اپنے اعضاء میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیات سننے، سمجھنے اور دیکھنے کی قوت رکھنے کے باوجود ان سے کام نہیں لیتے، کفر اختیار کر کے خود اپنا نقصان کرتے ہیں اور اپنے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کے نافرمان ہیں اس لئے سب جانوروں سے بدتر ہیں۔(تفسیرصراط الجنان( ۴: ۳۱) (۲)اس سے معلوم ہواکہ سزانہایت ہی سخت ہونی چاہئے ، جن سے دوسروں کو عبرت ہواورجرائم بندہوں ۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺرحمت العالمین ہیں مگرآپ ﷺنے مجرمین کو سخت سے سخت سزائیں دیںکہ دنیاکومجرمین سے خالی کرکے امن وامان قائم کردینابھی رحمت ہے ۔ آج قوانین نہایت نرم اورپھران کی گرفت بہت ڈھیلی ہے جس کاانجام دیکھاجارہاہے کہ بدامنی ، غنڈہ گردی کادوردورہ ہے ۔ کسی بھی شریف انسان کی عزت محفوظ نہیں ہے اورکوئی شریف مظلوم انصاف نہیں پاسکتا۔ (۳) اوراس سے یہ بھی معلوم ہواکہ کفارکے ساتھ جنگ میں ہروہ جائز طریقہ استعمال کرنادرست ہے جوکفارکی ہمت توڑدے ،ان کے جانورہلاک کرنااوران کے باغات اورکھیتوں میں آگ لگانااوران کی جائیدادوں کوتباہ کرناوغیرہ ۔ہاں عورتوں اوربچوں کاقتل حرام ہے ۔ آجکل کی جنگوں میں پہلے عورتیں اوربچے ہلاک کئے جاتے ہیں ۔(تفسیرنعیمی ( ۱۰: ۶۹)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9