Fatwa #2364
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃالبقرہ آیت ۱۴۶۔۱۴۷۔ سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
7,707
سوال (Question):
تفسیر سورۃالبقرہ آیت ۱۴۶۔۱۴۷۔ سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اللہ تعالی حضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخوں کو قرآن کریم کی فہم سے محروم کردیتاہے
{سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اِنْ یَّرَوْا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّایُؤْمِنُوْا بِہَا وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْہُ سَبِیْلًا وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْہُ سَبِیْلًا ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَکَانُوْا عَنْہَا غٰفِلِیْنَ }(۱۴۶)وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآء ِ الْاٰخِرَۃِحَبِطَتْ اَعْمٰلُہُمْ ہَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ }(۱۴۷) ترجمہ کنزالایمان:اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑا ئی چاہتے ہیں اور اگر سب نشانیاں دیکھیں ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کی راہ دیکھیں اس میں چلنا پسند نہ کریں اور گمراہی کا راستہ نظر پڑے تو اس میں چلنے کو موجود ہوجائیں یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان سے بے خبر بنے۔ اور جنہوں نے ہماری آیتیں اور آخرت کے دربار کو جھٹلایا ان کا سب کیا دھرا اَکارت گیا انہیں کیا بدلہ ملے گا مگر وہی جو کرتے تھے۔ ترجمہ ضیاء الایمان:اور میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کوپھیردوں گا (اپنی آیتوں پر ایمان لانے سے ان کو روک دوں گا)جو زمین میں ناحق اپنی بڑا ئی چاہتے ہیں اور اگر وہ سب نشانیاں دیکھ لیں تو بھی ان پر ایمان نہیں لاتے اور اگر وہ ہدایت کی راہ دیکھ بھی لیں تواسے اپنا راستہ نہیں بناتے اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھ لیں تو اسے اپنا راستہ بنالیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غافل رہے۔اور جنہوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے دن کی ملاقات کو جھٹلایا تو ان کے تمام اعمال برباد ہوئے، انہیں ان کے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اس آیت کریمہ کامعنی قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:یُرِیدُ الَّذِینَ یَتَجَبَّرُونَ عَلَی عِبَادِی وَیُحَارِبُونَ أَوْلِیَائِی حَتَّی لَا یُؤْمِنُوا بِی، یَعْنِی:سَأَصْرِفُہُمْ عَنْ قَبُولِ آیَاتِی وَالتَّصْدِیقِ بِہَا عُوقِبُوا بِحِرْمَانِ الْہِدَایَۃِ لِعِنَادِہِمْ لِلْحَقِّ،کَقَوْلِہِ:(فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّہُ قُلُوبَہُمْ)۔ ترجمہ :حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں :اس آیت کریمہ کا معنی یہ ہے کہ جو لوگ میرے بندوں پر غرور کرتے ہیں اور میرے اولیاء کرام علیہم الرحمہ سے لڑتے ہیں میں انہیں اپنی آیتیں قبول کرنے اور ان کی تصدیق کرنے سے پھیردوں گا تاکہ وہ مجھ پر ایمان نہ لائیں۔یہ اُن کے عناد کی سزا ہے کہ انہیں ہدایت سے محروم کیا گیا۔ (تفسیر البغوی:محیی السنۃ، أبو محمد الحسین بن مسعود البغوی (۳:۲۸۲) جوشخص حضورتاجدارختم نبوتﷺکی امت کے اولیاء کرام کے سامنے اکڑے اللہ تعالی اس کو قرآن کریم کے فہم سے محروم فرمادیتاہے جو حضورتاجدارختم نبوت ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے اکڑے اوران کی گستاخیاں کرے اوراسی طرح جو شخص حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دین کے سامنے اکڑجائے اوردین متین کی گستاخیاں کرے اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکی گستاخیاں کرے اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے گستاخوں کی حمایت کرے اس کاکیابنے گا؟۔جو لوگ حضورتاجدارختم نبوتﷺکے دین کے سامنے اکڑیں۔۔
اخبر بہ رسول اللہ انہ حرم المتکبرین من أمتہ فہم معانی القرآن والتدبر فیہا۔ ترجمہ :حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: کہ میری امت کے متکبرین کو اللہ تعالی نے قرآن کریم کے معانی کی فہم سے محروم کردیاہے اوران کے اندرتدبرکاموقع ہی نہیں دیتا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۲۴۰) امام اسماعیل حقی حنفی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ کما قیل ابی اللہ تعالی ان یکرم قلوب الظالمین بتمکینہم من فہم حکمۃ القرآن والاطلاع علی عجائبہ ۔ ترجمہ :یہ مثال مشہورہے کہ اللہ تعالی کااٹل فیصلہ ہے کہ ظالمین کے قلوب قرآن کریم کی حکمت کے فہم سے محروم رہتے ہیں اسی طرح انہیں قرآن کریم کے عجائبات سے محروم فرماتاہے ۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۳:۲۴۰)حبیب کریم ﷺکی دشمنی دل میں ہوتونورقرآن کریم اس میں داخل نہیں ہوتا
والمعنی ساصرف عن التفکر فی آیاتی التی فی الآفاق والأنفس وعن الاعتبار بہا وقیل معناہ ساصرفہم عن ابطال آیاتی المنزلۃ والمعجزات وان یطفئوا نور اللہ بأفواہہم کما فعل فرعون فعاد علیہ باعلائہا او باہلاکہم،لا یُؤْمِنُوا بِہا لعنادہم او اختلال عقلہم بسبب انہماکہم فی الہوی والتقلید وبما طبع اللہ علی قلوبہم وَإِنْ یَرَوْا سَبِیلَ الرُّشْدِ ای الہدی والسداد بإراء ۃ الأنبیاء والعلماء لا یَتَّخِذُوہُ لانفسہم سَبِیلًا لاستیلاء الشیطنۃ علیہم۔ ترجمہ :حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کامعنی یہ ہے کہ اپنے حبیب کریمﷺکے مقابلے میں تکبرکرنے والوں کوآیات کریمہ میں اندرونی ، بیرونی اورانفسی اورآفاقی آیات پرغورکرنے اوران سے عبرت حاصل کرنے سے روک دوں گا۔ یااپنی نازل کردہ آیات اورمعجزات کو باطل کرنے اورنورالہی کو پھونکیں مارکربجھانے سے روک دوں گا، مطلب یہ کہ اپنی آیات کابول بالاکروں گااوران گستاخوں کو ہلاک کروں گاجیسے فرعون اوراس کے حواریوں کوہلاک کردیا۔ اورحبیب کریم ﷺکے گستاخ اوران کے دشمن آیات الہیہ کو نہیں مانیں گے کیونکہ ان کے دلوں میں قرآن کریم اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے متعلق دشمنی ہے یااس وجہ سے کہ یہ اندھی تقلیداورخواہش پرستی میں غرق ہونے کے سبب ان کی عقلیں بگڑگئیں ہیں یاایمان نہ لانے کی وجہ سے صرف یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان کے دلوں پرگمراہی کی مہرلگادی ہے اوراگرانبیاء کرام علیہم السلام اورعلماء کرام کی رہنمائی کی وجہ سے ہدایت کاراستہ ان کے سامنے واضح ہوبھی جائے توچونکہ شیطنت ان پرغالب آچکی ہے ۔ (التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۳:۴۰۹)سائینسدان ملحد کیوں ہوجاتے ہیں ؟
عَن ابْن جریج فِی قَوْلہ (سأصرف عَن آیاتی)قَالَ:عَن خلق السَّمَوَات وَالْأَرْض والآیات الَّتِی فِیہَا سأصرفہم عَن أَن یتفکروا فِیہَا أَو یعتبروا فِیہَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناابن جریج رحمہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ کامعنی یوں بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا: میں ان کی توجہ پھیردوں گاآسمان اورزمین کی تخلیق سے اوران نشانیوں سے جوان میں پائی جاتی ہیں کہ وہ ان میں غوروفکرکریں یاان میں تدبرکرتے ہوئے ان سے عبرت ودرس حاصل کریں ۔ (کتاب تفسیر القرآن:أبو بکر محمد بن إبراہیم بن المنذر النیسابوری (۲:۳۲۴) حالانکہ ہوناتویہ چاہئے کہ جتنااللہ تعالی کی تخلیقات میں تدبرزیادہ ہواتناہی اللہ تعالی کی معرفت اوراس پرایمان کامل ہوتاجائے مگرسائینسدان جتناجتنااللہ تعالی کی تخلیق کردہ آسمان وزمین میں گھستے جاتے ہیں اتناہی اللہ تعالی کے منکربنتے جاتے ہیں ۔ آج بھی جتنے سائینسدان ہیں ان میں تقریباًملحدہیں اوروہ اللہ تعالی کے وجود کے ہی منکرہیں۔تکبرکی اقسام اوران کاحکم
امام محمد غزالی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :تکبر کی تین قسمیں ہیں : (۱)…وہ تکبر جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ہو جیسے ابلیس، نمرود اور فرعون کا تکبر یا ایسے لوگوں کا تکبر جو خدائی کا دعویٰ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بندوں سے نفرت کے طور پر منہ پھیرتے ہیں۔ (۲)…وہ تکبر جو اللہ تعالیٰ کے رسول کریم ﷺ کے مقابلے میں ہو ،جس طرح کفارِ مکہ نے کیا اور کہا کہ ہم آپ جیسے بشر کی اطاعت نہیں کریں گے ،ہماری ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے کوئی فرشتہ یا سردار کیوں نہیں بھیجا، آپﷺ تو ایک یتیم شخص ہیں۔(نعوذباللہ من ذلک ) (۳)…وہ تکبر جو آدمی عام انسانوں پر کرے، جیسے انہیں حقارت سے دیکھے ،حق کو نہ مانے اور خود کو بہتر اور بڑا جانے۔ (کیمیائے سعادت، از امام محمدغزالی (۲:۷۰۷) تکبر کی تینوں اقسام کا حکم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریمﷺ کی جناب میں تکبر کرنا کفر ہے جبکہ عام بندوں پر تکبر کرنا کفر نہیں لیکن اس کا گناہ بھی بہت بڑا ہے۔ معارف ومسائل (۱)تکبراورغروربدترین عیب ہے ، اس کی وجہ سے انسان ایمان ، ہدایت وغیرہ تمام ربانی انعامات سے محروم ہوجاتاہے ۔ (۲) تکبرحق بھی ہوتاہے اورناحق بھی ، ناحق تکبرحرام ہے ، یاکفرہے ، مگرحق تکبرعبادت ہے ، اس سے انسان میں کافروں کے مقابلے میں لڑائی اورجہاد کی ہمت اوردنیامیں خوداری پیداہوتی ہے۔مسلمانوںکے مقابلے میں تکبرکرناحرام ہے اوراللہ تعالی اورحضورتاجدارختم نبوتﷺکے مقابل تکبرکرناکفرہے ۔مگرجہاد میں کافروں کے مقابلے میں مجاہد اورغازی کاتکبرکرناعین عبادت ہے ۔ (۳) اگرحضورتاجدارختم نبوتﷺکافیضان دل پرواردنہ ہوتووہاں قرآن کریم اورآیات قرآن نہیں پہنچتے ، پہلے حضورتاجدارختم نبوت ﷺکافیضان آتاہے پھرقرآن کریم ، اس لئے کافروں کو کلمہ پڑھاکرمسلمان بناتے ہیں پھرقرآن کریم پڑھاتے ہیں۔ (تفسیرنعیمی ( ۹: ۱۹۸)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9