Fatwa #2398
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
تفسیر سورۃالتوبہ آیت ۱۹۔ اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,523
سوال (Question):
تفسیر سورۃالتوبہ آیت ۱۹۔ اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اگراہل ایمان نے اپنی ترجیحات نہ بدلیں توغیرمعمولی نقصان پہنچنے کاخدشہ ہے
{اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ لَایَسْتَونَ عِنْدَ اللہِ وَاللہُ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ}(۱۹) ترجمہ کنزالایمان:تو کیا تم نے حا جیوں کی سبیل اور مسجد حرام کی خدمت اس کے برابر ٹھہرا لی جو اللہ اور قیامت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا۔ ترجمہ ضیاء الایمان:تو کیا تم نے حا جیوں کی سبیل اور مسجد حرام کی خدمت اس کے برابر ٹھہرا لی جو اللہ اور قیامت پر ایمان لایا اور اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کیا وہ اللہ تعالی کے نزدیک برابر نہیں اور اللہ تعالی ظالموں کو راہ نہیں دیتا۔ شان نزول عَنْ زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ:حَدَّثَنِی النُّعْمَانُ بْنُ بَشِیرٍ، قَالَ:کُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ:مَا أُبَالِی أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أُسْقِیَ الْحَاجَّ، وَقَالَ آخَرُ:مَا أُبَالِی أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَقَالَ آخَرُ:الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللہِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ، فَزَجَرَہُمْ عُمَرُ، وَقَالَ:لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، وَلَکِنْ إِذَا صَلَّیْتُ الْجُمُعَۃَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَیْتُہُ فِیمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیہِ، فَأَنْزَلَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ:(أَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ)(التوبۃ: ۱۹)الْآیَۃَ إِلَی آخِرِہَا۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوتوبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا:ہمیں حضرت سیدنامعاویہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنازید بن سلام رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوسلام سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے حضرت سیدنانعمان بن بشیررضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا:میں حضورتاجدارختم نبوتﷺکے منبرشریف کے پاس تھا کہ ایک شخص نے کہا:اسلام لانے کے بعد اگر میں صرف حاجیوں کو پانی پلاؤں اور اس کے سوا کوئی دوسرا عمل نہ کروں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ دوسرے نے کہا:اسلام لانے کے بعد اگر میں صرف مسجد حرام کو آباد کروں اور اس کے سوا اور کوئی دوسرا عمل نہ کروں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ تیسرے نے کہا:جو تم سب نے کہا اس سے اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنا افضل ہے۔ حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا اور فرمایا:حضورتاجدارختم نبوتﷺکے منبر کے پاس آواز اونچی نہ کرو۔ (پھر بتایا کہ)وہ جمعے کا دن تھا۔ لیکن (جمعے سے پہلے گفتگو کرنے کے بجائے)جب میں نے جمعہ پڑھ لیا تو حاضر خدمت ہوں گا اور جس کے بارے میں تم جھگڑ رہے ہو اس کے بارے میں آپ ﷺسے پوچھوں گا، تو (اس موقع پر)اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (ہوئی)تھی (جو آپ نے سنائی)کیا تم حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس شخص کے (عمل)جیسا سمجھتے ہو جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لایا (اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا؟)آیت کے آخر تک) (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۳:۱۴۹۹)معارف ومسائل
(۱)اس سے معلوم ہواکہ مسلمان مسجد شریف میں بیٹھ کرذکروفکرکرنے اوران کے آبادرکھنے کوترک جہاد کاعذرنہیں بناسکتے ۔ (۲) ایمان اورجہاد میں سے ہر ایک افضل ہے ، حاجیوں کو پانی پلانے اورمسجد حرام شریف کی تعمیرہرایک سے یعنی ایمان بھی دونوں سے افضل ہے اوراس سے جواب ہوگیاکہ مشرکین میں ایمان نہ تھااورجہاد بھی دونوں سے افضل ہے ، اس سے جواب ہوگیابعض مومنین کاجو ایمان کے بعد حاجیوں کو پانی پلانے اورمسجد حرام شریف کی تعمیرکو جہاد سے افضل سمجھتے تھے ۔ (۴) مذکورہ آیات کریمہ میں ابتدائی تعلیم یعنی بنیادی احکامات پرزوردیاگیاتھا، اب ایک شخص اسی کو اپنی زندگی کاانتہائی مقصدبنالیتاہے اورکہتاہے کہ نماز اداکرنااوردوسرے لوگوں کو چنداعمال کاپابندکرناہی حقیقت ِاسلام ہے ۔ انہیں باتوں کووہ اعلی تعلیم خیال کرتاہے یعنی مکمل دین اوران کی وجہ سے اپنے آپ کوحقیقی جہاد فی سبیل اللہ سے مستثنی کرناچاہتاہے ۔ (۵) اسی طرح یقین کرلوکہ مساجد کی تعمیراورجہاد فی سبیل اللہ میں برابری کی کوئی نسبت نہیں ہے اورجویہ خیا ل کرے گاکہ دونوں برابرہیں توقرآن کریم ان کو’’ظالم ‘‘ کے نام سے یادکرتاہے ، اس لئے کہ قوموں کی حیات وممات کے راز سے وہ واقف نہیں ہے ، اگرتم کو خیال ہوکہ حدیث میں افضل الاعمال ’’نماز ‘‘ کوکہاگیاہے تووہ بھی اپنے درجے میں درست ہے یعنی انفرادی حیثیت میں وہی بہترین عمل ہے مگرجب اہل اسلام کی زندگی اورموت کاسوال ہوگااو ردین کی عزت ونامو س کی بات ہوگی تواس وقت اعلی ترین عمل یہی جہاد فی سبیل اللہ قرارپائے گا۔ (۶) آج اگرایک مسلمان کویہ سعادت نصیب ہوجائے کہ وہ اپنے مال سے مسجد حرام اورخانہ کعبہ کی تعمیرکرے اوردیکھ بھال کرے اورحجاج کرام کی خدمت کرے توایسے مسلمان کو کتناخوش نصیب سمجھاجائے گااوربے شک وہ ہے بھی خوش نصیب مگرجہاد فی سبیل اللہ کاعمل اس شخص کے عمل سے بھی اعلی وافضل ہے، پس مجاہد فی سبیل اللہ کی خوش نصیبی کاخوداندازہ لگالیں۔ (۷)یادرہے کہ آجکل ہمارے علماء کرام جو دین دشمنوں کے ساتھ برسرپیکارہیں اوران کاتحریری اورتقریری ہرلحاظ سے جواب دیتے ہیں اورہمہ وقت لبرل وسیکولر طبقہ کے پھیلائے ہوئے اوہام باطلہ کارد کرتے ہیں ایسے علماء حقہ بھی مجاہد فی سبیل اللہ کادرجہ رکھتے ہیں اوران کی خدمت کرنابھی جہاد فی سبیل اللہ پراپنامال خرچ کرنے کے برابرہے ۔ اوراس کاثواب بھی کعبہ مشرفہ کی تعمیرسے زائدہے ۔ (۸)ایک وقت تھا جب مساجدکو مسلمانوںکے عظیم روحانی مراکزکا درجہ حاصل تھاپانچ وقت باجماعت نماز اداکرنے کا بھی فلسفہ یہی ہے کہ ایک دوسرے کے مسائل سے آگاہی ہوتی رہے اس کے تناظرمیں کچھ تجاویزہیں جن کی روشنی میں مسلمانوں کو اب مساجد میں کچھ تبدیلی کرناناگزیرہوگیاہے ضروری ہے کہ مساجد کو صرف نماز پڑھنے کی جگہ ہی نہ بنائیں بلکہ اسلامی مرکزکی حیثیت سے تیارکریں ہماری مساجد میں ایک شاندارکتب خانہ ہو، جہاں پر غیرمتنازعہ مکمل اسلامی کتابیں مطالعہ کے لئے دستیاب ہوں۔بہت ہو چکا مساجد کے در و دیوارکے رنگ و روغن پر، بیت الخلاء کے سنگ مرمرپر، قمقموں فانوس و جھومر پر، ائیرکنڈیشن اور کولروں پراور نفیس قالینوں پر خرچ ،مناسب حد تک وہ بھی کرتے رہیں مگراب وقت آگیا ہے کہ ترجیحات بدل کر کچھ ضروری جگہوں پربھی اپنا مال خرچ کیا کریں۔ مگر کیسے؟اپنی اپنی مساجد میں جہاد ،غلبہ دین ، حضورتاجدارختم نبوتﷺکی سیرت مبارکہ ، خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین کی سیرت، قرآن کریم کی معتبرتفاسیر، احادیث شریفہ کی کتب معہ شروحات رکھی جائیں اورلوگوں کو ان کے پڑھنے کی ترغیب دی جائے ۔ اوربچوں کواس طرف راغب کیاجائے ۔اوربچوں کو اپنی جیب خاص سے کچھ پیسے دے کران کو کتب بینی کی جانب راغب کیاجائے ۔خدارا اب رک جائیں، سوچیں اور اپنی ترجیحات بدل لیں۔ آج یہی وجہ ہے کہ لوگ دین کے لئے قربانی دینے کوتیارنہیں ہوتے ، آخرکس چیز نے ہم کو ہمارے دین سے اس قدردورکردیا، ہمارااسلام کی تعلیمات کے ساتھ تعلق ہی نہیں رہااورتعلق ختم ہونے کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اسلام کو پڑھانہیں ہے ۔ کاش کہ مساجد کی انتظامیہ جوہرسال مسجد کاقالین تبدیل کرتی ہے مسجد کے مصارف میں مسجد کے لئے کتب خانہ کے قیام کے لئے بھی کچھ رقم مختص کرے یہی سبب ہے کہ آج جب دین کوضرورت ہوتی ہے قربانی کی اوردین کے غلبہ کے لئے آواز بلندکرنے کی توانسان جو ہر جگہ مصلحت پرست اور ترجیحات کو بدل لیتے ہیں کبھی زندگی بچانے کی خاطر کبھی رزق کی خاطر کبھی رتبے کی خواہش میں تو کبھی تعریف و تحسین کے گھٹیا چونچلے پورے کرنے کی خاطروہ اپنے مقام سے ہٹ جاتا ہے بجائے سامنا کرنے کے ہٹ جانے کو وہ صبر کہتا ہے جب کہ صبر تو ڈٹ جانا تھا نہ کہ اپنے دین کے دفاع سے دستبردار ہونا۔ (۹)آج علماء کرام کو بھی چاہئے کہ وہ بھی اپنی ترجیحات کی پڑتال کریں کہ ان کی ترجیحات کیاہیں۔ المیہ تویہ ہے کہ ہمار ے علماء جب لا یعنی موضوعات اور بے نتیجہ ابحاث میں اپنی فکری و تحقیقی قوت صرف کر رہے ہوں تو سمجھ جاؤ دین کے دشمنوں کے لیے میدان خالی ہے ۔دشمن جہاں سے چاہے وار کرے۔ہمیشہ دین کے دشمنوں نے مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر کامیابی حاصل کی ہے۔کیوں کہ وہ اتحادِ بین المسلمین کی قوت سے آگاہ ہیںمگر آج کا دین دار طبقہ اتحاد بین المسلمین تو کجا اتحاد بین العلماء ،بین المشائخ،بین الخطباء کی فضا بھی قائم نہ کر سکا ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9